بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
25
6 hadith
Narrated by `Ikrima
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ‏.‏ أَىُّ يَوْمٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَوْمٌ حَرَامٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَىُّ بَلَدٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا بَلَدٌ حَرَامٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَىُّ شَهْرٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا شَهْرٌ حَرَامٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ‏"‏‏.‏ فَأَعَادَهَا مِرَارًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَوَصِيَّتُهُ إِلَى أُمَّتِهِ ـ ‏"‏ فَلْيُبْلِغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏
Narrated `Ikrima:Ibn `Abbas said: "Allah's Messenger (ﷺ) delivered a sermon on the Day of Nahr, and said, 'O people! (Tell me) what is the day today?' The people replied, 'It is the forbidden (sacred) day.' He asked again, 'What town is this?' They replied, 'It is the forbidden (Sacred) town.' He asked, 'Which month is this?' They replied, 'It is the forbidden (Sacred) month.' He said, 'No doubt! Your blood, your properties, and your honor are sacred to one another like the sanctity of this day of yours, in this (sacred) town (Mecca) of yours, in this month of yours.' The Prophet (ﷺ) repeated his statement again and again. After that he raised his head and said, 'O Allah! Haven't conveyed (Your Message) to them'. Haven't I conveyed Your Message to them?' " Ibn `Abbas added, "By Him in Whose Hand my soul is, the following was his will (Prophet's will) to his followers:--It is incumbent upon those who are present to convey this information to those who are absent Beware don't renegade (as) disbelievers (turn into infidels) after me, Striking the necks (cutting the throats) of one another
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے فضل بن غزوان نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ دسویں تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں خطبہ دیا، خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لوگو! آج کون سا دن ہے؟ لوگ بولے یہ حرمت کا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا اور یہ شہر کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت کا شہر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت کا مہینہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس تمہارا خون تمہارے مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس دن کی حرمت، اس شہر اور اس مہینہ کی حرمت ہے، اس کلمہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار دہرایا اور پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہا اے اللہ! کیا میں نے ( تیرا پیغام ) پہنچا دیا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وصیت اپنی تمام امت کے لیے ہے، لہٰذا حاضر ( اور جاننے والے ) غائب ( اور ناواقف لوگوں کو اللہ کا پیغام ) پہنچا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا دیکھو میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ أُتِيَ بِأُسَارَى، وَأُتِيَ بِالْعَبَّاسِ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ ثَوْبٌ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَهُ قَمِيصًا فَوَجَدُوا قَمِيصَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ يَقْدُرُ عَلَيْهِ، فَكَسَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهُ، فَلِذَلِكَ نَزَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَمِيصَهُ الَّذِي أَلْبَسَهُ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يُكَافِئَهُ‏.‏
Narrated Jabir bin `Abdullah:When it was the day (of the battle) of Badr, prisoners of war were brought including Al-Abbas who was undressed. The Prophet (ﷺ) looked for a shirt for him. It was found that the shirt of `Abdullah bin Ubai would do, so the Prophet (ﷺ) let him wear it. That was the reason why the Prophet (ﷺ) took off and gave his own shirt to `Abdullah. (The narrator adds, "He had done the Prophet (ﷺ) some favor for which the Prophet liked to reward him
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی سے قیدی ( مشرکین مکہ ) لائے گئے۔ جن میں عباس ( رضی اللہ عنہ ) بھی تھے۔ ان کے بدن پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے قمیص تلاش کروائی۔ ( وہ لمبے قد کے تھے ) اس لیے عبداللہ بن ابی ( منافق ) کی قمیص ہی ان کے بدن پر آ سکی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ قمیص پہنا دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عبداللہ بن ابی کی موت کے بعد ) اپنی قمیص اتار کر اسے پہنائی تھی۔ ابن عیینہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اس کا احسان تھا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اسے ادا کر دیں۔
Narrated by Suwaid bin An-Nu`man
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ـ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ أُتُوا بِسَوِيقٍ فَلاَكُوهُ‏.‏ تَابَعَهُ مُعَاذٌ عَنْ شُعْبَةَ‏.‏
Narrated Suwaid bin An-Nu`man:who was one of those who witnessed (the Pledge of allegiance beneath) the Tree: Allah's Messenger (ﷺ) and his companions were given Sawiq and they chewed it
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن ابی عدی نے ‘ ان سے شعبہ نے ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے کہ گویا اب بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے ستو لایا گیا۔ جسے ان حضرات نے پیا۔ اس روایت کی متابعت معاذ نے شعبہ سے کی ہے۔
Narrated by `Urwa bin Az-Zubair
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَهُ وَهُوَ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ‏}‏ قَالَ قُلْتُ أَكُذِبُوا أَمْ كُذِّبُوا قَالَتْ عَائِشَةُ كُذِّبُوا‏.‏ قُلْتُ فَقَدِ اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ كَذَّبُوهُمْ فَمَا هُوَ بِالظَّنِّ قَالَتْ أَجَلْ لَعَمْرِي لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِكَ‏.‏ فَقُلْتُ لَهَا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا قَالَتْ مَعَاذَ اللَّهِ لَمْ تَكُنِ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِكَ بِرَبِّهَا‏.‏ قُلْتُ فَمَا هَذِهِ الآيَةُ‏.‏ قَالَتْ هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَصَدَّقُوهُمْ، فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْبَلاَءُ، وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمُ النَّصْرُ حَتَّى اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ مِمَّنْ كَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ وَظَنَّتِ الرُّسُلُ أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ قَدْ كَذَّبُوهُمْ جَاءَهُمْ نَصْرُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ‏.‏
Narrated `Urwa bin Az-Zubair:That when he asked `Aisha about the statement of Allah "Until when the Apostles gave up hope (of their people)." (12.110) she told him (its meaning), `Urwa added, "I said, 'Did they (Apostles) suspect that they were betrayed (by Allah) or that they were treated as liars by (their people)?' `Aisha said, '(They suspected) that they were treated as liars by (their people),' I said, 'But they were sure that their people treated them as liars and it was not a matter of suspicion.' She said, 'Yes, upon my life they were sure about it.' I said to her. 'So they (Apostles) suspected that they were betrayed (by Allah).' She said, "Allah forbid! The Apostles never suspected their Lord of such a thing.' I said, 'What about this Verse then?' She said, 'It is about the Apostles' followers who believed in their Lord and trusted their Apostles, but the period of trials was prolonged and victory was delayed till the Apostles gave up all hope of converting those of the people who disbelieved them and the Apostles thought that their followers treated them as liars; thereupon Allah's help came to them
Narrated by Sa`id bin Al-Musaiyab
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، قَالَ جَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَحَدَّثَنِي أَنَّ جَدَّهُ حَزْنًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَا اسْمُكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ اسْمِي حَزْنٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا أَنَا بِمُغَيِّرٍ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي‏.‏ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ فَمَا زَالَتْ فِينَا الْحُزُونَةُ بَعْدُ‏.‏
Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab:That when his grandfather, Hazn visited the Prophet (ﷺ) the Prophet (ﷺ) said (to him), "What is your name?" He said, "My name is Hazn." The Prophet (ﷺ) said, " But you are Sahl." He said, "I will not change my name with which my father named me." Ibn Al-Musaiyab added: So we have had roughness (in character) ever since
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا مجھ کو عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ نے خبر دی، کہا کہ میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے دادا حزن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا نام حزن ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سہل ہو، انہوں نے کہا کہ میں تو اپنے باپ کا رکھا ہوا نام نہیں بدلوں گا۔ سعید بن مسیب نے کہا اس کے بعد سے اب تک ہمارے خاندان میں سختی اور مصیبت ہی رہی۔ «حزونة» سے صعوبت مراد ہے۔
Narrated by Malik bin Huwairith Al-Laithi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي، فَإِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلاَتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا‏.‏
Narrated Malik bin Huwairith Al-Laithi:I saw the Prophet (ﷺ) praying and in the odd rak`at, he used to sit for a moment before getting up
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشیم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں خالد حذاء نے خبر دی، ابوقلابہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے مالک بن حویرث لیثی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک تھوڑی دیر بیٹھ نہ لیتے۔