بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
25
6 hadith
Narrated by `Abdullah bin `Amr bin Al-`As
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، شَهِدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا‏.‏ ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ‏.‏ وَأَشْبَاهَ ذَلِكَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏ لَهُنَّ كُلِّهِنَّ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As:I witnessed the Prophet (ﷺ) when he was delivering the sermon on the Day of Nahr. A man stood up and said, "I thought that such and such was to be done before such and such. I got my hair shaved before slaughtering." (Another said), "I slaughtered the Hadi before doing the Rami." So, the people asked about many similar things. The Prophet (ﷺ) said, "Do it (now) and there is no harm in all these cases." Whenever the Prophet (ﷺ) was asked about anything on that day, he replied, "Do it (now) and there is no harm in it
ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ بن طلحہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ دے رہے تھے تو وہ وہاں موجود تھے۔ ایک شخص نے اس وقت کھڑے ہو کر پوچھا کہ میں اس خیال میں تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے پھر دوسرا کھڑا ہوا اور کہا کہ میرا خیال تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے، چنانچہ میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا، رمی جمار سے پہلے قربانی کر لی، اور مجھے اس میں شک ہوا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب کر لو۔ ان سب میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح کے دوسرے سوالات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے جواب میں یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کر لو۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ، وَلاَ تُسَافِرَنَّ امْرَأَةٌ إِلاَّ وَمَعَهَا مَحْرَمٌ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا، وَخَرَجَتِ امْرَأَتِي حَاجَّةً‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:That he heard the Prophet (ﷺ) saying, "It is not permissible for a man to be alone with a woman, and no lady should travel except with a Mahram (i.e. her husband or a person whom she cannot marry in any case for ever; e.g. her father, brother, etc.)." Then a man got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have enlisted in the army for such-and-such Ghazwa and my wife is proceeding for Hajj." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Go, and perform the Hajj with your wife
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے ‘ ان سے ابومعبد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مرد کسی ( غیر محرم ) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے اور کوئی عورت اس وقت تک سفر نہ کرے جب تک اس کے ساتھ کوئی اس کا محرم نہ ہو۔ اتنے میں ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! میں نے فلاں جہاد میں اپنا نام لکھوا دیا ہے اور ادھر میری بیوی حج کے لیے جا رہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو بھی جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر۔
Narrated by Zahir Al-Aslami
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ـ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الشَّجَرَةَ ـ قَالَ إِنِّي لأُوقِدُ تَحْتَ الْقِدْرِ بِلُحُومِ الْحُمُرِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ‏.‏
Narrated Zahir Al-Aslami:(who was one of those who had witnessed (the Pledge of allegiance beneath) the Tree) While I was making fire beneath the cooking pots containing donkey's meat, the announcer of Allah's Messenger (ﷺ) announced, "Allah's Messenger (ﷺ) forbids you to eat donkey's meat
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا ‘ ان سے مجزاۃ بن زاہر اسلمی نے اور ان سے ان کے والد زاہر بن اسود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں ہانڈی میں گدھے کا گوشت ابال رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک منادی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں گدھے کے گوشت کے کھانے سے منع فرماتے ہیں۔
Narrated by `Abdullah (bin Mas`ud)
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا أَبْطَئُوا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالإِسْلاَمِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ ‏"‏ فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَىْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا مِثْلَ الدُّخَانِ قَالَ اللَّهُ ‏{‏فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ‏}‏ قَالَ اللَّهُ ‏{‏إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلاً إِنَّكُمْ عَائِدُونَ‏}‏ أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَقَدْ مَضَى الدُّخَانُ وَمَضَتِ الْبَطْشَةُ‏.‏
Narrated `Abdullah (bin Mas`ud):When the Prophet (ﷺ) realized that the Quraish had delayed in embracing Islam, he said, "O Allah! Protect me against their evil by afflicting them with seven (years of famine) like the seven years of (Prophet) Joseph." So they were struck with a year of famine that destroyed everything till they had to eat bones, and till a man would look towards the sky and see something like smoke between him and it. Allah said:-- "Then watch you (O Muhammad) for the day when the sky will produce a kind of smoke plainly visible." (44.10) And Allah further said:-- "Verily! We shall withdraw the punishment a little, Verily you will return (to disbelief)." (44.15) (Will Allah relieve them from torture on the Day of Resurrection?) (The punishment of) the smoke had passed and Al-Batsha (the destruction of the pagans in the Badr battle) had passed too
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ قریش نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے میں تاخیر کی تو آپ نے ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ کا سا قحط نازل فرما۔ چنانچہ ایسا قحط پڑا کہ کوئی چیز نہیں ملتی تھی اور وہ ہڈیوں کے کھانے پر مجبور ہو گئے تھے۔ لوگوں کی اس وقت یہ کیفیت تھی کہ آسمان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھتے تھے تو بھوک و پیاس کی شدت سے دھواں سا نظر آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين‏» ”تو آپ انتظار کیجئے اس روز کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو۔“ اور فرمایا «إنا كاشفو العذاب قليلا إنكم عائدون‏» ”بیشک ہم اس عذاب کو ہٹا لیں گے اور تم بھی ( اپنی پہلی حالت پر ) لوٹ آؤ گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عذاب سے یہی قحط کا عذاب مراد ہے کیونکہ آخرت کا عذاب کافروں سے ٹلنے والا نہیں ہے۔
Narrated by Sahl
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ وُلِدَ، فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ، فَلَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ فَاحْتُمِلَ مِنْ فَخِذِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَفَاقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ الصَّبِيُّ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ قَلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا اسْمُهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ فُلاَنٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلَكِنْ أَسْمِهِ الْمُنْذِرَ ‏"‏‏.‏ فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرَ‏.‏
Narrated Sahl:When Al-Mundhir bin Abu Usaid was born, he was brought to the Prophet (ﷺ) who placed him on his thigh. While Abu Usaid was sitting there, the Prophet (ﷺ) was busy with something in his hands so Abu Usaid told someone to take his son from the thigh of the Prophet (ﷺ) . When the Prophet (ﷺ) finished his job (with which he was busy), he said, "Where is the boy?" Abu Usaid replied, "We have sent him home." The Prophet (ﷺ) said, "What is his name?" Abu Usaid said, "(His name is) so-and-so. " The Prophet (ﷺ) said, "No, his name is Al-Mundhir." So he called him Al-Mundhir from that day
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ منذر بن ابی اسید رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ کو اپنی ران پر رکھ لیا۔ ابواسید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز میں جو سامنے تھی مصروف ہو گئے ( اور بچہ کی طرف توجہ ہٹ گئی ) ۔ ابواسید رضی اللہ عنہ نے بچہ کے متعلق حکم دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے اٹھا لیا گیا۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے تو فرمایا کہ بچہ کہاں ہے؟ ابواسید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے اسے گھر بھیج دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس کا نام کیا ہے؟ عرض کیا کہ فلاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بلکہ اس کا نام منذر ہے۔ چنانچہ اسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہی نام منذر رکھا۔
Narrated by Thabit
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ إِنِّي لاَ آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِنَا‏.‏ قَالَ ثَابِتٌ كَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ‏.‏ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ‏.‏
Narrated Thabit:Anas said, "I will leave no stone unturned in making you offer the prayer as I have seen the Prophet (ﷺ) making us offer it." Anas used to do a thing which I have not seen you doing. He used to stand after the bowing for such a long time that one would think that he had forgotten (the prostrations) and he used to sit in-between the prostrations so long that one would think that he had forgotten the second prostration
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ثابت سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تھا بالکل اسی طرح تم لوگوں کو نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا ہوں۔ ثابت نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک ایسا عمل کرتے تھے جسے میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھتے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں۔