بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
25
6 hadith
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى، فَيَقُولُ ‏"‏ لاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْبَحْ، وَلاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) was asked (as regards the ceremonies of Hajj) at Mina on the Day of Nahr and he replied that there was no harm. Then a man said to him, "I got my head shaved before slaughtering." He replied, "Slaughter (now) and there is no harm in it." (Another) man said, "I did the Rami (of the Jimar) after midday." The Prophet (ﷺ) replied, "There was no harm in it
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم سے یوم نحر میں منیٰ میں مسائل پوچھے جاتے اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم فرماتے جاتے کہ کوئی حرج نہیں ، ایک شخص نے پوچھا تھا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے تو آپ نے اس کے جواب میں بھی یہی فرمایا کہ جاؤ قربانی کر لو کوئی حرج نہیں اور اس نے یہ بھی پوچھا کہ میں نے کنکریاں شام ہونے کے بعد ہی مار لی ہیں ، تو بھی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ۔
Narrated by `Abdullah bin `Amr
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ ـ وَكَانَ لاَ يُتَّهَمُ فِي حَدِيثِهِ ـ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ ‏"‏ أَحَىٌّ وَالِدَاكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Amr:A man came to the Prophet (ﷺ) asking his permission to take part in Jihad. The Prophet (ﷺ) asked him, "Are your parents alive?" He replied in the affirmative. The Prophet (ﷺ) said to him, "Then exert yourself in their service
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے کہا، ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوالعباس (شاعر ہونے کے ساتھ) روایت حدیث میں بھی ثقہ اور قابل اعتماد تھے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا ”کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟“ انہوں نے کہا کہ جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر انہیں میں جہاد کرو۔ ( یعنی ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرو ) ۔“
Narrated by Abu Qilaba
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ـ هُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ ـ عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَايَعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَحْتَ الشَّجَرَةِ‏.‏
Narrated Abu Qilaba:that Thabit bin Ad-Dahhak had informed him that he was one of those who had given the Pledge of allegiance (of Al-Hudaibiya) beneath the Tree
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا ‘ وہ سلام کے بیٹے ہیں ‘ ان سے یحییٰ نے ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور انہیں ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔
Narrated by Um Ruman
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَسْرُوقُ بْنُ الأَجْدَعِ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ، وَهْىَ أُمُّ عَائِشَةَ قَالَتْ بَيْنَا أَنَا وَعَائِشَةُ أَخَذَتْهَا الْحُمَّى، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَعَلَّ فِي حَدِيثٍ تُحُدِّثَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ وَقَعَدَتْ عَائِشَةُ قَالَتْ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَيَعْقُوبَ وَبَنِيهِ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ‏.‏
Narrated Um Ruman:Who was `Aisha's mother: While I was with `Aisha, `Aisha got fever, whereupon the Prophet (ﷺ) said, "Probably her fever is caused by the story related by the people (about her)." I said, "Yes." Then `Aisha sat up and said, "My example and your example is similar to that of Jacob and his sons:--'Nay, but your minds have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. It is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you assert
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے، کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہو گا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلاَمٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقَالُوا لاَ نَكْنِيكَ بِأَبِي الْقَاسِمِ، وَلاَ نُنْعِمُكَ عَيْنًا‏.‏ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏ "‏ أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ‏"‏‏.‏
Narrated Jabir bin `Abdullah:A man among us begot a boy whom he named Al-Qasim. The people said (to him), "We will not call you Abul-l-Qasim, nor will we please you by calling you so." The man came to the Prophet (ﷺ) and mentioned that to him. The Prophet (ﷺ) said to him, "Name your son `Abdur-Rahman
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محمد بن المنکدر سے سنا کہ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ہم میں سے ایک آدمی کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ صحابہ نے کہا کہ ہم تمہاری کنیت ابوالقاسم نہیں رکھیں گے اور نہ تیری آنکھ اس کنیت سے پکار کر ٹھنڈی کریں گے۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے لڑکے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لو۔
Narrated by Abu Qilaba
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ لأَصْحَابِهِ أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَذَاكَ فِي غَيْرِ حِينِ صَلاَةٍ، فَقَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَكَبَّرَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ هُنَيَّةً، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ هُنَيَّةً، فَصَلَّى صَلاَةَ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ شَيْخِنَا هَذَا‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ كَانَ يَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ أَرَهُمْ يَفْعَلُونَهُ، كَانَ يَقْعُدُ فِي الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ‏.‏ قَالَ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ فَقَالَ ‏ "‏ لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى أَهْلِيكُمْ صَلُّوا صَلاَةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، صَلُّوا صَلاَةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ ‏"‏
Narrated Abu Qilaba:Once Malik bin Huwairith said to his friends, "Shall I show you how Allah's Messenger (ﷺ) used to offer his prayers?" And it was not the time for any of the compulsory congregational prayers. So he stood up (for the prayer) bowed and said the Takbir, then he raised his head and remained standing for a while and then prostrated and raised his head for a while (sat up for a while). He prayed like our Sheikh `Amr Ibn Salama. (Aiyub said, "The latter used to do a thing which I did not see the people doing i.e. he used to sit between the third and the fourth rak`a). Malik bin Huwairith said, "We came to the Prophet (after embracing Islam) and stayed with him. He said to us, 'When you go back to your families, pray such and such a prayer at such and such a time, pray such and such a prayer at such and such a time, and when there is the time for the prayer then only of you should pronounce the Adhan for the prayer and the oldest of you should lead the prayer