بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
25
6 hadith
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَلِلْمُقَصِّرِينَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَلِلْمُقَصِّرِينَ‏.‏ قَالَهَا ثَلاَثًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلِلْمُقَصِّرِينَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Allah! Forgive those who get their heads shaved." The people asked. "Also those who get their hair cut short?" The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Forgive those who have their heads shaved." The people said, "Also those who get their hair cut short?" The Prophet (invoke Allah for those who have their heads shaved and) at the third time said, "also (forgive) those who get their hair cut short
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما! صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اور کتروانے والوں کے لیے بھی ( یہی دعا فرمائیے ) لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت کر۔ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اور کتروانے والوں کی بھی! تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کتروانے والوں کی بھی مغفرت فرما۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ نَدَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ ‏"‏‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ الْحَوَارِيُّ النَّاصِرُ‏.‏
Narrated Jabir bin `Abdullah:On the day of the battle of the Trench, the Prophet (ﷺ) wanted somebody from amongst the people to volunteer to be a reconnoitre. Az-Zubair volunteered. He demanded the same again and Az-Zubair volunteered again. Then he repeated the same demand (thrice) and Az-Zubair volunteered once more. The Prophet (ﷺ) then said, " Every prophet has a disciple and my disciple is Az-Zubair
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا کہ ہم سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک کام کے لیے ) غزوہ خندق کے موقع پر صحابہ کو پکارا، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے کہا کہ میں حاضر ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو پکارا، اور اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے کو پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پکارا اور پھر زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔ سفیان نے کہا کہ حواری کے معنی معاون، مددگار کے ہیں ( یا وفادار محرم راز کو حواری کہا گیا ہے ) ۔
Narrated by Sa`id bin Al-Musaiyab
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا طَارِقٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهَا الْعَامَ الْمُقْبِلَ فَعَمِيَتْ عَلَيْنَا‏.‏
Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab:That his father was amongst those who had given the Pledge of allegiance (to the Prophet (ﷺ) ) beneath the Tree, and the next year when they went towards the Tree, they were not able to recognize it
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے ‘ کہا ہم سے طارق بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ان کے والد نے کہ انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے کہ جب ہم دوسرے سال ادھر گئے تو ہمیں پتہ نہیں چلا کہ وہ کون سا درخت تھا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ ـ وَقَالَ ـ يَدُ اللَّهِ مَلأَى لاَ تَغِيضُهَا نَفَقَةٌ، سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ـ وَقَالَ ـ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَدِهِ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَبِيَدِهِ الْمِيزَانُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ ‏"‏‏.‏ ‏{‏اعْتَرَاكَ‏}‏ افْتَعَلْتَ مِنْ عَرَوْتُهُ أَىْ أَصَبْتُهُ، وَمِنْهُ يَعْرُوهُ وَاعْتَرَانِي ‏{‏آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا‏}‏ أَىْ فِي مِلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ‏.‏ عَنِيدٌ وَعَنُودٌ وَعَانِدٌ وَاحِدٌ، هُوَ تَأْكِيدُ التَّجَبُّرِ، ‏{‏اسْتَعْمَرَكُمْ‏}‏ جَعَلَكُمْ عُمَّارًا، أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ فَهْىَ عُمْرَى جَعَلْتُهَا لَهُ‏.‏ ‏{‏نَكِرَهُمْ‏}‏ وَأَنْكَرَهُمْ وَاسْتَنْكَرَهُمْ وَاحِدٌ ‏{‏حَمِيدٌ مَجِيدٌ‏}‏ كَأَنَّهُ فَعِيلٌ مِنْ مَاجِدٍ‏.‏ مَحْمُودٌ مِنْ حَمِدَ‏.‏ سِجِّيلٌ الشَّدِيدُ الْكَبِيرُ‏.‏ سِجِّيلٌ وَسِجِّينٌ وَاللاَّمُ وَالنُّونُ أُخْتَانِ، وَقَالَ تَمِيمُ بْنُ مُقْبِلٍ وَرَجْلَةٍ يَضْرِبُونَ الْبَيْضَ ضَاحِيَةً ضَرْبًا تَوَاصَى بِهِ الأَبْطَالُ سِجِّينَا
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah said, 'Spend (O man), and I shall spend on you." He also said, "Allah's Hand is full, and (its fullness) is not affected by the continuous spending night and day." He also said, "Do you see what He has spent since He created the Heavens and the Earth? Nevertheless, what is in His Hand is not decreased, and His Throne was over the water; and in His Hand there is the balance (of justice) whereby He raises and lowers (people)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندو! ( میری راہ میں ) خرچ کرو تو میں بھی تم پر خرچ کروں گا اور فرمایا، اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ رات اور دن مسلسل کے خرچ سے بھی اس میں کم نہیں ہوتا اور فرمایا تم نے دیکھا نہیں جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے، مسلسل خرچ کئے جا رہا ہے لیکن اس کے ہاتھ میں کوئی کمی نہیں ہوئی، اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں میزان عدل ہے جسے وہ جھکاتا اور اٹھاتا رہتا ہے۔ «اعتراك‏» باب «افتعال» سے ہے «عروته» سے یعنی میں نے اس کو پکڑ پایا اسی سے ہے۔ «يعروه» مضارع کا صیغہ اور «اعتراني آخذ بناصيتها‏» یعنی اس کی حکومت اور قبضہ قدرت میں ہیں۔ «عنيد»،‏‏‏‏ «عنود» اور «عاند» سب کے معنی ایک ہی ہیں یعنی سرکش مخالف اور یہ «جبار» کی تاکید ہے۔ «استعمركم‏» تم کو بسایا، آباد کیا۔ عرب لوگ کہتے ہیں «أعمرته الدار فهى عمرى» یعنی یہ گھر میں نے اس کو عمر بھر کے لیے دے ڈالا۔ «نكرهم‏»،‏‏‏‏ «أنكرهم» اور «استنكرهم» سب کے ایک ہی معنی ہیں۔ یعنی ان کو پردیسی سمجھا۔ «حميد»،‏‏‏‏ «فعيل» کے وزن پر ہے بہ معنی «محمود» میں سراہا گیا اور «مجيد‏»،‏‏‏‏ «ماجد‏.‏» کے معنی میں ہے ( یعنی کرم کرنے والا ) ۔ «سجيل» اور «سجين» دونوں کے معنی سخت اور بڑا کے ہیں۔ «لام» اور «نون» بہنیں ہیں ( ایک دوسرے سے بدلی جاتی ہیں ) ۔ تمیم بن مقبل شاعر کہتا ہے۔ بعضے پیدل دن دھاڑے خود پر ضرب لگاتے ہیں ایسی ضرب جس کی سختی کے لیے بڑے بڑے پہلوان اپنے شاگردوں کو وصیت کیا کرتے ہیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ، وَلاَ تَقُولُوا خَيْبَةَ الدَّهْرِ‏.‏ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Don't call the grapes Al-Karm, and don't say 'Khaibat-ad-Dahri, for Allah is the Dahr. (See Hadith No)
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انگور «عنب» کو «كرم» نہ کہو اور یہ نہ کہو کہ ہائے زمانہ کی نامرادی۔ کیونکہ زمانہ تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔“
Narrated by Al-Bara' bin `Azib
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ـ وَهْوَ غَيْرُ كَذُوبٍ ـ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ‏.‏ لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَبْهَتَهُ عَلَى الأَرْضِ‏.‏
Narrated Al-Bara' bin `Azib:(He was not a liar) We used to pray behind the Prophet (ﷺ) and when he said, "Sami`a l-lahu liman hamidah", none of us would bend his back (to go for prostration) till the Prophet (ﷺ) had placed his, forehead on the ground
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسرائیل نے ابواسحاق سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے، انہوں نے کہا کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ جھوٹ نہیں بول سکتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ «سمع الله لمن حمده‏» کہتے ( یعنی رکوع سے سر اٹھاتے ) تو ہم میں سے کوئی اس وقت تک اپنی پیٹھ نہ جھکاتا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ دیتے۔