Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ ـ رضى الله عنهم ـ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ ".
Narrated Ibn `Umar:Hafsa said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What is wrong with the people; they finished their Ihram after performing `Umra, but you have not finished it after your `Umra?" He replied, "I matted my hair and have garlanded my Hadi. So, I cannot finish my Ihram till I slaughter (my Hadi)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وجہ ہوئی کہ اور لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کر لیا اور حلال نہ ہوئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے تھے اور قربانی کے گلے میں قلادہ پہنا کر میں ( اپنے ساتھ ) لایا ہوں، اس لیے جب تک میں نحر نہ کر لوں گا میں احرام نہیں کھولوں گا۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا، وَإِذَا تَصَوَّبْنَا سَبَّحْنَا.
Narrated Jabir:Whenever we went up a place we would say Takbir, and whenever we went down we would say, "Subhan Allah
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے سالم نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم بلندی پر چڑھتے تو «الله اكبر» کہتے اور نشیب میں اترتے تو «سبحان الله» کہتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ إِلَى السُّوقِ، فَلَحِقَتْ عُمَرَ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ فَقَالَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلَكَ زَوْجِي وَتَرَكَ صِبْيَةً صِغَارًا، وَاللَّهِ مَا يُنْضِجُونَ كُرَاعًا، وَلاَ لَهُمْ زَرْعٌ وَلاَ ضَرْعٌ، وَخَشِيتُ أَنْ تَأْكُلَهُمُ الضَّبُعُ، وَأَنَا بِنْتُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ الْغِفَارِيِّ، وَقَدْ شَهِدَ أَبِي الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَوَقَفَ مَعَهَا عُمَرُ، وَلَمْ يَمْضِ، ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِنَسَبٍ قَرِيبٍ. ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَعِيرٍ ظَهِيرٍ كَانَ مَرْبُوطًا فِي الدَّارِ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ غِرَارَتَيْنِ مَلأَهُمَا طَعَامًا، وَحَمَلَ بَيْنَهُمَا نَفَقَةً وَثِيَابًا، ثُمَّ نَاوَلَهَا بِخِطَامِهِ ثُمَّ قَالَ اقْتَادِيهِ فَلَنْ يَفْنَى حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِخَيْرٍ. فَقَالَ رَجُلٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَكْثَرْتَ لَهَا. قَالَ عُمَرُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لأَرَى أَبَا هَذِهِ وَأَخَاهَا قَدْ حَاصَرَا حِصْنًا زَمَانًا، فَافْتَتَحَاهُ، ثُمَّ أَصْبَحْنَا نَسْتَفِيءُ سُهْمَانَهُمَا فِيهِ.
(Narrated Aslam:Once I went with `Umar bin Al-Khattab to the market. A young woman followed `Umar and said, "O chief of the believers! My husband has died, leaving little children. By Allah, they have not even a sheep's trotter to cook; they have no farms or animals. I am afraid that they may die because of hunger, and I am the daughter of Khufaf bin Ima Al-Ghafari, and my father witnessed the Pledge of allegiance) of Al-Hudaibiya with the Prophet.' `Umar stopped and did not proceed, and said, "I welcome my near relative." Then he went towards a strong camel which was tied in the house, and carried on to it, two sacks he had loaded with food grains and put between them money and clothes and gave her its rope to hold and said, "Lead it, and this provision will not finish till Allah gives you a good supply." A man said, "O chief of the believers! You have given her too much." "`Umar said disapprovingly. "May your mother be bereaved of you! By Allah, I have seen her father and brother besieging a fort for a long time and conquering it, and then we were discussing what their shares they would have from that war booty
Narrated by Muhammad bin `Abbas bin Ja`far
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقْرَأُ {أَلاَ إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ} قَالَ سَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ أُنَاسٌ كَانُوا يَسْتَحْيُونَ أَنْ يَتَخَلَّوْا فَيُفْضُوا إِلَى السَّمَاءِ، وَأَنْ يُجَامِعُوا نِسَاءَهُمْ فَيُفْضُوا إِلَى السَّمَاءِ، فَنَزَلَ ذَلِكَ فِيهِمْ.
Narrated Muhammad bin `Abbas bin Ja`far:That he heard Ibn `Abbas reciting: "No doubt! They fold up their breasts." (11.5) and asked him about its explanation. He said, "Some people used to hide themselves while answering the call of nature in an open space lest they be exposed to the sky, and also when they had sexual relation with their wives in an open space lest they be exposed to the sky, so the above revelation was sent down regarding them
ہم سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد اعور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو محمد بن عباد بن جعفر نے خبر دی اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ آپ آیت کی قرآت اس طرح کرتے تھے «ألا إنهم تثنوني صدورهم» میں نے ان سے آیت کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس میں حیاء کرتے تھے کہ کھلی ہوئی جگہ میں حاجت کے لیے بیٹھنے میں، آسمان کی طرف ستر کھولنے میں، اس طرح صحبت کرتے وقت آسمان کی طرف کھولنے میں پروردگار سے شرماتے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي. وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي ".
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "None of you should say Khabuthat Nafsi, but he is recommended to say 'Laqisat Nafsi
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس پلید ہو گیا ہے بلکہ یہ کہے کہ میرا دل خراب یا پریشان ہو گیا۔“
Narrated by Abu Wail
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، رَأَى رَجُلاً لاَ يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلاَ سُجُودَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ مَا صَلَّيْتَ ـ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ـ وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ سُنَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu Wail:Hudhaifa said, "I saw a person not performing his bowing and prostrations perfectly. When he completed the prayer, I told him that he had not prayed." I think that Hudhaifa added (i.e. said to the man), "Had you died, you would have died on a tradition other than that of the Prophet Muhammad (ﷺ)
ہم سے صلت بن محمد بصریٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے واصل سے بیان کیا، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں کرتا تھا۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ تو نے نماز ہی نہیں پڑھی۔ ابووائل نے کہا کہ مجھے یاد آتا ہے کہ حذیفہ نے یہ فرمایا کہ اگر تم مر گئے تو تمہاری موت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق پر نہیں ہو گی۔