Narrated by `Abbad bin Tamim from his uncle
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَرَجَ يَسْتَسْقِي قَالَ فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ يَدْعُو، ثُمَّ حَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ صَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ.
Narrated `Abbad bin Tamim from his uncle:"I saw the Prophet (ﷺ) on the day when he went out to offer the Istisqa' prayer. He turned his back towards the people and faced the Qibla and asked Allah for rain. Then he turned his cloak inside out and led us in a two rak`at prayer and recited the Qur'an aloud in them
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے زہری سے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے باہر نکلے، دیکھا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیٹھ صحابہ کی طرف کر دی اور قبلہ رخ ہو کر دعا کی۔ پھر چادر پلٹی اور دو رکعت نماز پڑھائی جس کی قرآت قرآن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہر کیا تھا۔
وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ، فَحَمِدَ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ ".
And this was narrated by Asma' who said, "Allah's Messenger (ﷺ) finished the eclipse prayer and by then the sun (eclipse) had cleared. Then he delivered the Khutba (religious talk) and praised Allah as He deserved and then said Amma ba'du
اور ابواسامہ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے فاطمہ بنت منذر نے خبر دی، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب سورج صاف ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی تعریف کی اس کے بعد فرمایا «أما بعد» ۔
Narrated by Anas bin Seereen
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ اسْتَقْبَلْنَا أَنَسًا حِينَ قَدِمَ مِنَ الشَّأْمِ، فَلَقِينَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَوَجْهُهُ مِنْ ذَا الْجَانِبِ، يَعْنِي عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ. فَقُلْتُ رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ. فَقَالَ لَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَلَهُ لَمْ أَفْعَلْهُ. رَوَاهُ ابْنُ طَهْمَانَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Anas bin Seereen:We went to receive Anas bin Malik when he returned from Sham and met him at a place called 'Ain at-Tamr. I saw him praying riding the donkey, with his face to this direction, i.e. to the left of the Qibla. I said to him, "I have seen you offering the prayer in a direction other than that of the Qibla." He replied, "If I had not seen Allah's Messenger (ﷺ) doing it, I would not have done it
ہم سے احمد بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبان بن ہلال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن سیرین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ شام سے جب ( حجاج کی خلیفہ سے شکایت کر کے ) واپس ہوئے تو ہم ان سے عین التمر میں ملے۔ میں نے دیکھا کہ آپ گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا منہ قبلہ سے بائیں طرف تھا۔ اس پر میں نے کہا کہ میں نے آپ کو قبلہ کے سوا دوسری طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھتا تو میں بھی نہ کرتا۔ اس روایت کو ابراہیم ابن طہمان نے بھی حجاج سے، انہوں نے انس بن سیرین سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔
Narrated by Masruq
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ. فَقَالَتْ سَبْعٌ وَتِسْعٌ وَإِحْدَى عَشْرَةَ سِوَى رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ.
Narrated Masruq:I asked Aisha about the night prayer of Allah's Messenger (ﷺ) and she said, "It was seven, nine or eleven rak`at besides the two rak`at of the Fajr prayer (i.e. Sunna)
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں اسرائیل نے خبر دی، انہیں ابوحصین عثمان بن عاصم نے، انہیں یحییٰ بن وثاب نے، انہیں مسروق بن اجدع نے، آپ نے کہا کہ میں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات، نو اور گیارہ تک رکعتیں پڑھتے تھے۔ فجر کی سنت اس کے سوا ہوتی۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَيَرُدُّ عَلَىَّ، فَلَمَّا رَجَعْنَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ وَقَالَ " إِنَّ فِي الصَّلاَةِ شُغْلاً ".
Narrated `Abdullah:I used to greet the Prophet (ﷺ) while he was in prayer and he would return my greeting, but when we returned (from Ethiopia) I greeted the Prophet (while he was praying) but he did not return the greeting, and (after finishing the prayer) he said, "In the prayer one is occupied (with a more serious matter)
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( ابتداء اسلام میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں ہوتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے تھے۔ مگر جب ہم ( حبشہ سے جہاں ہجرت کی تھی ) واپس آئے تو میں نے ( پہلے کی طرح نماز میں ) سلام کیا۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا ( کیونکہ اب نماز میں بات چیت وغیرہ کی ممانعت نازل ہو گئی تھی ) اور فرمایا کہ نماز میں اس سے مشغولیت ہوتی ہے۔
Narrated by Muhammad
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ، فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ". قَالَتْ فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ ". وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ـ رضى الله عنهما ـ بِنَحْوِهِ وَقَالَتْ إِنَّهُ قَالَ " اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ". قَالَتْ حَفْصَةُ قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ ـ رضى الله عنها ـ وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ.
Narrated Muhammad:Um 'Atiyya said, "One of the daughters of the Prophet (ﷺ) died and he came out and said, 'Wash her three or five times or more, if you think it necessary, with water and Sidr, and last of all put camphor (or some camphor) and when you finish, inform me.' " Um Atiyya added, "When we finished we informed him and he gave us his waist-sheet and said, 'Shroud her in it.' " And Um 'Atiyya (in another narration) added, "The Prophet (ﷺ) said, 'Wash her three, five or seven times or more, if you think it necessary.' " Hafsa said that Um 'Atiyya had also said, "We entwined her hair into three braids
Narrated by Abu Mas`ud Al-Ansari
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ انْطَلَقَ أَحَدُنَا إِلَى السُّوقِ فَتَحَامَلَ فَيُصِيبُ الْمُدَّ، وَإِنَّ لِبَعْضِهِمُ الْيَوْمَ لَمِائَةَ أَلْفٍ.
Narrated Abu Mas`ud Al-Ansari:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) ordered us to give in charity, we used to go to the market and work as porters and get a Mudd (a special measure of grain) and then give it in charity. (Those were the days of poverty) and today some of us have one hundred thousand
ہم سے سعید بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو ہم میں سے بہت سے بازار جا کر بوجھ اٹھانے کی مزدوری کرتے اور اس طرح ایک مد ( غلہ یا کھجور وغیرہ ) حاصل کرتے۔ ( جسے صدقہ کر دیتے ) لیکن آج ہم میں سے بہت سوں کے پاس لاکھ لاکھ ( درہم یا دینار ) موجود ہیں۔
Narrated by Nafi`
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا. وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
Narrated Nafi`:`Abdullah bin `Umar' said, "Allah's Messenger (ﷺ) made his camel sit (i.e. he dismounted) at Al-Batha' in Dhul-Hulaifa and offered the prayer." `Abdullah bin `Umar used to do the same
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ذوالحلیفہ کے پتھریلے میدان میں اپنی سواری روکی اور پھر وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
Narrated by Abu Qatada
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَأْخُذَنَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلاَ يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ، وَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ ".
Narrated Abu Qatada:The Prophet (ﷺ) said, "Whenever anyone of you makes water he should not hold his penis or clean his private parts with his right hand. (And while drinking) one should not breathe in the drinking utensil
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے یحییٰ بن کثیر کے واسطے سے بیان کیا، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنا عضو اپنے داہنے ہاتھ سے نہ پکڑے، نہ داہنے ہاتھ سے طہارت کرے، نہ ( پانی پیتے وقت ) برتن میں سانس لے۔
Narrated by Abu Musa Al-Ash`ari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْبَطْحَاءِ وَهُوَ مُنِيخٌ فَقَالَ " أَحَجَجْتَ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " بِمَا أَهْلَلْتَ ". قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَحْسَنْتَ. طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَحِلَّ ". فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَيْسٍ، فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ. فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ، حَتَّى كَانَ فِي خِلاَفَةِ عُمَرَ فَقَالَ إِنْ أَخَذْنَا بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ أَخَذْنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ.
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:I came to the Prophet (ﷺ) at Al-Batha' while his camel was kneeling down and he asked me, "Have you intended to perform the Hajj?" I replied in the affirmative. He asked me, 'With what intention have you assumed Ihram?" I replied, "I have assumed Ihram with the same intention as that of the Prophet. He said, "You have done well. Perform the Tawaf of the Ka`ba and (the Sai) between As-Safa and Al- Marwa and then finish the Ihram." So, I performed the Tawaf around the Ka`ba and the Sai) between As-Safa and Al-Marwa and then went to a woman of the tribe of Qais who cleaned my head from lice. Later I assumed the Ihram for Hajj. I used to give the verdict of doing the same till the caliphate of `Umar who said, "If you follow the Holy Book then it orders you to remain in the state of Ihram till you finish from Hajj, if you follow the Prophet (ﷺ) then he did not finish his Ihram till the Hadi (sacrifice) had reached its place of slaughtering (Hajj-al-Qiran)
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ان سے غندر بن محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قیس بن مسلم نے بیان کیا، ان سے طارق بن شہاب نے بیان کیا، اور ان سے ابوموسیٰ اشعری نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطحاء میں حاضر ہوا آپ وہاں ( حج کے لیے جاتے ہوئے اترے ہوئے تھے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارا حج ہی کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا، جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اور احرام کس چیز کا باندھا ہے؟ میں نے کہا میں نے اسی کا احرام باندھا ہے، جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اچھا کیا، اب بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کر لے پھر احرام کھول ڈال، چنانچہ میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کی سعی، پھر میں بنو قیس کی ایک عورت کے پاس آیا اور انہوں نے میرے سر کی جوئیں نکالیں، اس کے بعد میں نے حج کا احرام باندھا۔ میں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ) اسی کے مطابق لوگوں کو مسئلہ بتایا کرتا تھا، جب عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں کتاب اللہ پر عمل کرنا چاہے کہ اس میں ہمیں ( حج اور عمرہ ) پورا کرنے کا حکم ہوا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا چاہیے کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام نہیں کھولا تھا جب تک ہدی کی قربانی نہیں ہو گئی تھی۔ لہٰذا ہدی ساتھ لانے والوں کے واسطے ایسا ہی کرنے کا حکم ہے۔
Narrated by `Abdullah bin Hunain
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْعَبَّاسِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ. وَقَالَ الْمِسْوَرُ لاَ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ. فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ، وَهُوَ يُسْتَرُ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ، أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْسِلُ رَأْسَهُ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ، فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ اصْبُبْ. فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُهُ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ.
Narrated `Abdullah bin Hunain:`Abdullah bin Al-Abbas and Al-Miswar bin Makhrama differed at Al-Abwa'; Ibn `Abbas said that a Muhrim could wash his head; while Al-Miswar maintained that he should not do so. `Abdullah bin `Abbas sent me to Abu Aiyub Al-Ansari and I found him bathing between the two wooden posts (of the well) and was screened with a sheet of cloth. I greeted him and he asked who I was. I replied, "I am `Abdullah bin Hunain and I have been sent to you by Ibn `Abbas to ask you how Allah's Messenger (ﷺ) used to wash his head while in the state of Ihram." Abu Aiyub Al-Ansari caught hold of the sheet of cloth and lowered it till his head appeared before me, and then told somebody to pour water on his head. He poured water on his head, and he (Abu Aiyub) rubbed his head with his hands by bringing them from back to front and from front to back and said, "I saw the Prophet (ﷺ) doing like this
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں زید بن اسلم نے، انہیں ابراہیم بن عبداللہ بن حنین نے، انہیں ان کے والد نے کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم کا مقام ابواء میں ( ایک مسئلہ پر ) اختلاف ہوا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ابوایوب رضی اللہ عنہ کے یہاں ( مسئلہ پوچھنے کے لیے ) بھیجا، میں جب ان کی خدمت میں پہنچا تو وہ کنوئیں کے دو لکڑیوں کے بیچ غسل کر رہے تھے، ایک کپڑے سے انہوں نے پردہ کر رکھا تھا میں نے پہنچ کر سلام کیا تو انہوں نے دریافت فرمایا کہ کون ہو؟ میں نے عرض کی کہ میں عبداللہ بن حنین ہوں، آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے یہ دریافت کرنے کے لیے کہ احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک کس طرح دھوتے تھے۔ یہ سن کر انہوں نے کپڑے پر ( جس سے پردہ تھا ) ہاتھ رکھ کر اسے نیچے کیا۔ اب آپ کا سر دکھائی دے رہا تھا، جو شخص ان کے بدن پر پانی ڈال رہا تھا، اس سے انہوں نے پانی ڈالنے کے لیے کہا۔ اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا، پھر انہوں نے اپنے سر کو دونوں ہاتھ سے ہلایا اور دونوں ہاتھ آگے لے گئے اور پھر پیچھے لائے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( احرام کی حالت میں ) اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَنَظَرَ إِلَى جُدُرَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ، حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا.
Narrated Anas:Whenever the Prophet (ﷺ) returned from a journey and observed the walls of Medina, he would make his Mount go fast, and if he was on an animal (i.e. a horse), he would make it gallop because of his love for Medina
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کی دیواروں کو دیکھتے تو اپنی سواری تیز فرما دیتے اور اگر کسی جانور کی پشت پر ہوتے تو مدینہ کی محبت میں اسے ایڑ لگاتے۔
Narrated by Um Salama
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم آلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا أَوْ رَاحَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ شَهْرًا. فَقَالَ " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا ".
Narrated Um Salama:The Prophet (ﷺ) vowed to keep aloof from his wives for a period of one month, and after the completion of 29 days he went either in the morning or in the afternoon to his wives. Someone said to him "You vowed that you would not go to your wives for one month." He replied, "The month is of 29 days
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے، ان سے عکرمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج سے ایک مہینہ تک جدا رہے پھر انتیس دن پورے ہو گئے تو صبح کے وقت یا شام کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اس پر کسی نے کہا آپ نے تو عہد کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ان کے یہاں تشریف نہیں لے جائیں گے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
Narrated by `Amra bint `Abdur-Rahman from `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ فَأَذِنَ لَهَا، وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا فَفَعَلَتْ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ أَمَرَتْ بِبِنَاءٍ فَبُنِيَ لَهَا قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى انْصَرَفَ إِلَى بِنَائِهِ فَبَصُرَ بِالأَبْنِيَةِ فَقَالَ " مَا هَذَا ". قَالُوا بِنَاءُ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَزَيْنَبَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آلْبِرَّ أَرَدْنَ بِهَذَا مَا أَنَا بِمُعْتَكِفٍ ". فَرَجَعَ، فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ.
Narrated `Amra bint `Abdur-Rahman from `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) mentioned that he would practice I`tikaf in the last ten days of Ramadan. `Aisha asked his permission to perform I`tikaf and he permitted her. Hafsa asked `Aisha to take his permission for her, and she did so. When Zainab bint Jahsh saw that, she ordered a tent to be pitched for her and it was pitched for her. Allah's Messenger (ﷺ) used to proceed to his tent after the prayer. So, he saw the tents and asked, "What is this?" He was told that those were the tents of Aisha, Hafsa, and Zainab. Allah's Apostle said, "Is it righteousness which they intended by doing so? I am not going to perform I`tikaf." So he returned home. When the fasting month was over, he performed I`tikaf for ten days in the month of Shawwal
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بنت عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کے لیے ذکر کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی۔ آپ نے انہیں اجازت دے دی، پھر حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ان کے لیے بھی اجازت لے دیں چنانچہ انہوں نے ایسا کر دیا۔ جب زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے بھی خیمہ لگانے کے لیے کہا، اور ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے بعد اپنے خیمہ میں تشریف لے جاتے آج آپ کو بہت خیمے دکھائی دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ، حفصہ رضی اللہ عنہا ، اور زینب رضی اللہ عنہا کے خیمے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، بھلا کیا ان کی ثواب کی نیت ہے اب میں بھی اعتکاف نہیں کروں گا۔ پھر جب ماہ رمضان ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں اعتکاف کیا۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ رِزْقُهُ أَوْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ".
Narrated Anas bin Malik:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "whoever desires an expansion in his sustenance and age, should keep good relations with his Kith and kin
ہم سے محمد بن یعقوب کرمانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسان بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے محمد بن مسلم نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کیا کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ جو شخص اپنی روزی میں کشادگی چاہتا ہو یا عمر کی دارازی چاہتا ہو تو اسے چاہئیے کہ صلہ رحمی کرے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَحْتَجِمُ، وَلَمْ يَكُنْ يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) used to get cupped and would never withhold the wages of any person
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے عمرو بن عامر نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی مزدوری کے معاملے میں کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے۔
Narrated by Rafi` bin Khadij
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَمِّهِ، ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ قَالَ ظُهَيْرٌ لَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا. قُلْتُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهْوَ حَقٌّ. قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ ". قُلْتُ نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ. قَالَ " لا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا أَوْ أَمْسِكُوهَا ". قَالَ رَافِعٌ قُلْتُ سَمْعًا وَطَاعَةً.
Narrated Rafi` bin Khadij:My uncle Zuhair said, "Allah's Messenger (ﷺ) forbade us to do a thing which was a source of help to us." I said, "Whatever Allah's Messenger (ﷺ) said was right." He said, "Allah's Messenger (ﷺ) sent for me and asked, 'What are you doing with your farms?' I replied, 'We give our farms on rent on the basis that we get the yield produced at the banks of the water streams (rivers) for the rent, or rent it for some Wasqs of barley and dates.' Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Do not do so, but cultivate (the land) yourselves or let it be cultivated by others gratis, or keep it uncultivated.' I said, 'We hear and obey
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں امام اوزاعی نے خبر دی، انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے غلام ابونجاشی نے، انہوں نے رافع بن خدیج بن رافع رضی اللہ عنہ سے سنا، اور انہوں نے اپنے چچا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ سے، ظہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا تھا جس میں ہمارا ( بظاہر ذاتی ) فائدہ تھا۔ اس پر میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بھی فرمایا وہ حق ہے۔ ظہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور دریافت فرمایا کہ تم لوگ اپنے کھیتوں کا معاملہ کس طرح کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہم اپنے کھیتوں کو ( بونے کے لیے ) نہر کے قریب کی زمین کی شرط پر دے دیتے ہیں۔ اسی طرح کھجور اور جَو کے چند وسق پر۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ یا خود اس میں کھیتی کیا کرو یا دوسروں سے کراؤ۔ ورنہ اسے یوں خالی ہی چھوڑ دو۔ رافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ) میں نے سنا اور مان لیا۔
Narrated by Zaid bin Khalid
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلاَّ فَشَأْنَكَ بِهَا ". قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ " هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ". قَالَ فَضَالَّةُ الإِبِلِ قَالَ " مَالَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ".
Narrated Zaid bin Khalid:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and asked about Al-Luqata (a fallen thing). The Prophet (ﷺ) said, "Recognize its container and its tying material and then make a public announcement about it for one year and if its owner shows up, give it to him; otherwise use it as you like." The man said, "What about a lost sheep?" The Prophet (ﷺ) said, "It is for you, your brother or the wolf." The man said "What about a lost camel?" The Prophet (ﷺ) said, "Why should you take it as it has got its water-container (its stomach) and its hooves and it can reach the places of water and can eat the trees till its owner finds it?
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے، ان سے منبعت کے غلام یزید نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور آپ سے لقطہ ( راستے میں کسی کی گم ہوئی چیز جو پا گئی ہو ) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کی خوب جانچ کر لو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اس عرصے میں اگر اس کا مالک آ جائے ( تو اسے دے دو ) ورنہ پھر وہ چیز تمہاری ہے۔ سائل نے پوچھا، اور گمشدہ بکری؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا پھر بھیڑئیے کی ہے۔ سائل نے پوچھا اور گمشدہ اونٹ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہیں اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ اسے سیراب رکھنے والی چیز ہے اور اس کا گھر ہے، پانی پر بھی وہ جا سکتا ہے اور درخت ( کے پتے ) بھی کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا جائے۔
Narrated by Abu Hurairah (ra)
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلاً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
Narrated Abu Hurairah (ra):Allah's Messenger (ﷺ) mentioned an Israeli man who asked another Israeli to lend him money, and the latter gave it to him for a fixed period. (Abu Hurairah mentioned the rest of narration) [See chapter: Kafala in loans and debts. Hadith]
لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اسرائیلی شخص کا تذکرہ فرمایا جس نے دوسرے اسرائیلی شخص سے قرض مانگا تھا اور اس نے ایک مقررہ مدت کے لیے اسے قرض دے دیا۔ ( جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ) ۔
Narrated by `Abdullah bin `Amr
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا، أَوْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْ أَرْبَعَةٍ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ، حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ".
Narrated `Abdullah bin `Amr:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever has (the following) four characters will be a hypocrite, and whoever has one of the following four characteristics will have one characteristic of hypocrisy until he gives it up. These are: (1 ) Whenever he talks, he tells a lie; (2) whenever he makes a promise, he breaks it; (3) whenever he makes a covenant he proves treacherous; (4) and whenever he quarrels, he behaves impudently in an evil insulting manner." (See Hadith No. 33 Vol)
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا کہا ہم کو محمد نے خبر دی شعبہ سے، انہیں سلیمان نے، انہیں عبداللہ بن مرہ نے، انہیں مسروق نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی وہ ہوں گی، وہ منافق ہو گا۔ یا ان چار میں سے اگر ایک خصلت بھی اس میں ہے تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے۔ یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ جب بولے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے، جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے، اور جب جھگڑے تو بد زبانی پر اتر آئے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي عَبْدٍ، أُعْتِقَ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، وَإِلاَّ يُسْتَسْعَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever manumits his share of a jointly possessed slave, it is essential for him to manumit the slave completely if he has sufficient money. Otherwise he should look for some work for the slave (to earn what would enable him to emancipate himself), without overburdening him with work
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے نضر بن انس نے، ان سے بشیر بن نہیک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی ( ساجھے کے ) غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر اس کے پاس مال ہے تو پورا غلام آزاد ہو جائے گا۔ ورنہ باقی حصوں کو آزاد کرانے کے لیے اس سے محنت مزدوری کرائی جائے۔ لیکن اس سلسلے میں اس پر کوئی دباو نہ ڈالا جائے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلاَءَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ ". فَأَعْتَقْتُهَا، فَدَعَاهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا فَقَالَتْ لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا ثَبَتُّ عِنْدَهُ. فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا.
Narrated `Aisha:I bought Barirah but her masters put the condition that her Wala' would be for them. I told the Prophet (ﷺ) about it. He said (to me), "Manumit (free) her as her Wala' will be for the one who pays the price." So, I manumitted (freed) her. The Prophet (ﷺ) called Barirah and gave her the option of either staying with her husband or leaving him. She said, "Even if he gave me so much money, I would not stay with him," and so she preferred her freedom to her husband
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو میں نے خریدا تو ان کے مالکوں نے ولاء کی شرط لگائی ( کہ آزادی کے بعد وہ انہیں کے حق میں قائم رہے گی ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم انہیں آزاد کر دو، ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو قیمت دے کر کسی غلام کو آزاد کر دے۔ پھر میں نے انہیں آزاد کر دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کے شوہر کے سلسلے میں انہیں اختیار دیا۔ بریرہ نے کہا کہ اگر وہ مجھے فلاں فلاں چیز بھی دیں تب بھی میں اس کے پاس نہ رہوں گی۔ چنانچہ وہ اپنے شوہر سے جدا ہو گئیں۔
Narrated by An-Nu`man bin Bashir
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا. فَقَالَ " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ ". قَالَ لاَ. قَالَ " فَارْجِعْهُ ".
Narrated An-Nu`man bin Bashir:that his father took him to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "I have given this son of mine a slave." The Prophet asked, "Have you given all your sons the like?" He replied in the negative. The Prophet (ﷺ) said, "Take back your gift then
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابن شہاب سے، وہ حمید بن عبدالرحمٰن اور محمد بن نعمان بن بشیر سے اور ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے کہا ان کے والد انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام بطور ہبہ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا ایسا ہی غلام اپنے دوسرے لڑکوں کو بھی دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، تو آپ نے فرمایا کہ پھر ( ان سے بھی ) واپس لے لے۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ـ أَوْ قَالَ حَتَّى تَسْمَعُوا ـ أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ". وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلاً أَعْمَى، لاَ يُؤَذِّنُ حَتَّى يَقُولَ لَهُ النَّاسُ أَصْبَحْتَ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "Bilal pronounces the Adhan when it is still night (before dawn), so eat and drink till the next Adhan is pronounced (or till you hear Ibn Um Maktum's Adhan)." Ibn Um Maktum was a blind man who would not pronounce the Adhan till he was told that it was dawn
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی سالم بن عبداللہ سے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلال رضی اللہ عنہ رات میں اذان دیتے ہیں۔ اس لیے تم لوگ سحری کھا پی سکتے ہو یہاں تک کہ ( فجر کے لیے ) دوسری اذان پکاری جائے۔“ یا ( یہ فرمایا ) یہاں تک کہ ”عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سن لو۔“ عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے اور جب تک ان سے کہا نہ جاتا صبح ہو گئی ہے، وہ اذان نہیں دیتے تھے۔
Narrated by Muhammad bin Al-Muntathir
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ ذَكَرْتُهُ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَيَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا.
Narrated Muhammad bin Al-Muntathir:on the authority of his father that he had asked `Aisha (about the Hadith of Ibn `Umar). She said, "May Allah be Merciful to Abu `Abdur-Rahman. I used to put scent on Allah's Messenger (ﷺ) and he used to go round his wives, and in the morning he assumed the Ihram, and the fragrance of scent was still coming out from his body
ہم سے محمد بن بشار نے حدیث بیان کی، کہا ہم سے ابن ابی عدی اور یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے، وہ ابراہیم بن محمد بن منتشر سے، وہ اپنے والد سے، انہوں نے کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس مسئلہ کا ذکر کیا۔ تو آپ نے فرمایا، اللہ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج ( مطہرات ) کے پاس تشریف لے گئے اور صبح کو احرام اس حالت میں باندھا کہ خوشبو سے بدن مہک رہا تھا۔
Narrated by Sa'd
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَى رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ، فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً هُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَىَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا. فَقَالَ " أَوْ مُسْلِمًا ". فَسَكَتُّ قَلِيلاً، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي فَقُلْتُ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ " أَوْ مُسْلِمًا ". ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي وَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " يَا سَعْدُ، إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ". وَرَوَاهُ يُونُسُ وَصَالِحٌ وَمَعْمَرٌ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
Narrated Sa'd: Allah's Messenger (ﷺ) distributed (Zakat) amongst (a group of) people while I was sitting there but Allah's Messenger (ﷺ) left a man whom I thought the best of the lot. I asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Why have you left that person? By Allah I regard him as a faithful believer." The Prophet (ﷺ) commented: "Or merely a Muslim." I remained quiet for a while, but could not help repeating my question because of what I knew about him. And then asked Allah's Messenger (ﷺ), "Why have you left so and so? By Allah! He is a faithful believer." The Prophet (ﷺ) again said, "Or merely a Muslim." And I could not help repeating my question because of what I knew about him. Then the Prophet (ﷺ) said, "O Sa'd! I give to a person while another is dearer to me, for fear that he might be thrown on his face in the Fire by Allah
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہیں عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے سن کر یہ خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو کچھ عطیہ دیا اور سعد وہاں موجود تھے۔ ( وہ کہتے ہیں کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہ دیا۔ حالانکہ وہ ان میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں کو کچھ نہ دیا حالانکہ میں اسے مومن گمان کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن یا مسلمان؟ میں تھوڑی دیر چپ رہ کر پھر پہلی بات دہرانے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوبارہ وہی جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے سعد! باوجود یہ کہ ایک شخص مجھے زیادہ عزیز ہے ( پھر بھی میں اسے نظر انداز کر کے ) کسی اور دوسرے کو اس خوف کی وجہ سے یہ مال دے دیتا ہوں کہ ( وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اسلام سے پھر جائے اور ) اللہ اسے آگ میں اوندھا ڈال دے۔ اس حدیث کو یونس، صالح، معمر اور زہری کے بھتیجے عبداللہ نے زہری سے روایت کیا۔
Narrated by `Abdullah bin Ka`b
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ،. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي بَيْتٍ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ، فَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ " يَا كَعْبُ ". فَقَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ. فَقَالَ كَعْبٌ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُمْ فَاقْضِهِ ".
Narrated `Abdullah bin Ka`b:That Ka`b bin Malik told him that in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) he demanded his debt from Ibn Abu Hadrad in the Mosque. Their voices grew louder till Allah's Messenger (ﷺ) heard them while he was in his house. So he lifted the curtain of his room and called Ka`b bin Malik saying, "O Ka`b!" He replied, "Labbaik! O Allah's Messenger (ﷺ)!" He beckoned to him with his hand suggesting that he deduct half the debt. Ka`b said, "I agree, O Allah's Messenger (ﷺ)!" Allah's Messenger (ﷺ) then said (to Ibn Abu Hadrad), "Get up and pay him the rest
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور انہیں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنا قرض طلب کیا، جو ان کے ذمہ تھا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا واقعہ ہے۔ مسجد کے اندر ان دونوں کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے حجرے میں تشریف رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور اپنے حجرہ کا پردہ اٹھا کر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو آواز دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا اے کعب! انہوں نے کہا یا رسول اللہ، میں حاضر ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا معاف کر دے۔ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کر دیا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا کہ اب اٹھو اور قرض ادا کر دو۔
Narrated by Az-Zuhri
وَقَالَ عُقَيْلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْتَحِنُهُنَّ، وَبَلَغَنَا أَنَّهُ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَرُدُّوا إِلَى الْمُشْرِكِينَ مَا أَنْفَقُوا عَلَى مَنْ هَاجَرَ مِنْ أَزْوَاجِهِمْ، وَحَكَمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، أَنْ لاَ يُمَسِّكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ، أَنَّ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَيْنِ قَرِيبَةَ بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، وَابْنَةَ جَرْوَلٍ الْخُزَاعِيِّ، فَتَزَوَّجَ قَرِيبَةَ مُعَاوِيَةُ، وَتَزَوَّجَ الأُخْرَى أَبُو جَهْمٍ، فَلَمَّا أَبَى الْكُفَّارُ أَنْ يُقِرُّوا بِأَدَاءِ مَا أَنْفَقَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى أَزْوَاجِهِمْ، أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {وَإِنْ فَاتَكُمْ شَىْءٌ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ إِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ} وَالْعَقِبُ مَا يُؤَدِّي الْمُسْلِمُونَ إِلَى مَنْ هَاجَرَتِ امْرَأَتُهُ مِنَ الْكُفَّارِ، فَأَمَرَ أَنْ يُعْطَى مَنْ ذَهَبَ لَهُ زَوْجٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَا أَنْفَقَ مِنْ صَدَاقِ نِسَاءِ الْكُفَّارِ اللاَّئِي هَاجَرْنَ، وَمَا نَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ ارْتَدَّتْ بَعْدَ إِيمَانِهَا. وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَصِيرِ بْنَ أَسِيدٍ الثَّقَفِيَّ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُؤْمِنًا مُهَاجِرًا فِي الْمُدَّةِ، فَكَتَبَ الأَخْنَسُ بْنُ شَرِيقٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُهُ أَبَا بَصِيرٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
Narrated Az-Zuhri:`Urwa said, "Aisha told me that Allah's Messenger (ﷺ) used to examine the women emigrants. We have been told also that when Allah revealed the order that the Muslims should return to the pagans what they had spent on their wives who emigrated (after embracing Islam) and that the Muslims should not keep unbelieving women as their wives, `Umar divorced two of his wives, Qariba, the daughter of Abu Umayyah and the daughter of Jarwal Al-Khuza`i. Later on Mu`awiya married Qariba and Abu Jahm married the other." When the pagans refused to pay what the Muslims had spent on their wives, Allah revealed: "And if any of your wives have gone from you to the unbelievers and you have an accession (by the coming over of a woman from the other side) (then pay to those whose wives have gone) the equivalent of what they had spent (on their Mahr)." (60.11) So, Allah ordered that the Muslim whose wife has gone, should be given, as a compensation of the Mahr he had given to his wife, from the Mahr of the wives of the pagans who had emigrated deserting their husbands. We do not know any of the women emigrants who deserted Islam after embracing it. We have also been told that Abu Basir bin Asid Ath-Thaqafi came to the Prophet (ﷺ) as a Muslim emigrant during the truce. Al-Akhnas bin Shariq wrote to the Prophet (ﷺ) requesting him to return Abu Basir
عقیل نے زہری سے بیان کیا ‘ ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کا ( جو مکہ سے مسلمان ہونے کی وجہ سے ہجرت کر کے مدینہ آتی تھیں ) امتحان لیتے تھے ( زہری نے ) بیان کیا کہ ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مسلمان وہ سب کچھ ان مشرکوں کو واپس کر دیں جو انہوں نے اپنی ان بیویوں پر خرچ کیا ہو جو ( اب مسلمان ہو کر ) ہجرت کر آئی ہیں اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ رکھیں تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو بیویوں قریبہ بنت ابی امیہ اور ایک جرول خزاعی کی لڑکی کو طلاق دے دی۔ بعد میں قریبہ سے معاویہ رضی اللہ عنہ نے شادی کر لی تھی ( کیونکہ اس وقت معاویہ رضی اللہ عنہ مسلمان نہیں ہوئے تھے ) اور دوسری بیوی سے ابوجہم نے شادی کر لی تھی لیکن جب کفار نے مسلمانوں کے ان اخراجات کو ادا کرنے سے انکار کیا جو انہوں نے اپنی ( کافرہ ) بیویوں پر کئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «وإن فاتكم شىء من أزواجكم إلى الكفار فعاقبتم» ”اور تمہاری بیویوں میں سے کوئی کافروں کے ہاں چلی گئی تو وہ معاوضہ تم خود ہی لے لو۔“ یہ وہ معاوضہ تھا جو مسلمان کفار میں سے اس شخص کو دیتے جس کی بیوی ہجرت کر کے ( مسلمان ہونے کے بعد کسی مسلمان کے نکاح میں آ گئی ہو ) پس اللہ نے اب یہ حکم دیا کہ جس مسلمان کی بیوی مرتد ہو کر ( کفار کے یہاں ) چلی جائے اس کے ( مہر و نفقہ کے ) اخراجات ان کفار کی عورتوں کے مہر سے ادا کر دئیے جائیں جو ہجرت کر کے آ گئی ہیں ( اور کسی مسلمان نے ان سے نکاح کر لیا ہے ) اگرچہ ہمارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ کوئی مہاجرہ بھی ایمان کے بعد مرتد ہوئی ہوں اور ہمیں یہ روایت بھی معلوم ہوئی کہ ابوبصیر بن اسید ثقفی رضی اللہ عنہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مومن و مہاجر کی حیثیت سے معاہدہ کی مدت کے اندر ہی حاضر ہوئے تو اخنس بن شریق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تحریر لکھی جس میں اس نے ( ابوبصیر رضی اللہ عنہ کی واپسی کا ) مطالبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔ پھر انہوں نے حدیث پوری بیان کی۔
Narrated by Ka`b bin Malik
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه. قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ " أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ". قُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ.
Narrated Ka`b bin Malik:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! For the acceptance of my repentance I wish to give all my property in charity for Allah's sake through His Apostle ." He said, "It is better for you to keep some of the property for yourself." I said, "Then I will keep my share in Khaibar
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میری توبہ ( غزوہ تبوک میں نہ جانے کی ) قبول ہونے کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں دیدوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اپنے مال کا ایک حصہ اپنے پاس ہی باقی رکھو تو تمہارے حق میں یہ بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا کہ پھر میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے پاس محفوظ رکھتا ہوں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ـ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my soul is! Whoever is wounded in Allah's Cause....and Allah knows well who gets wounded in His Cause....will come on the Day of Resurrection with his wound having the color of blood but the scent of musk
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابوالزناد سے ‘ انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ہے ‘ وہ قیامت کے دن اس طرح سے آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا ‘ رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہو گی۔“
Narrated by Ibn Al-Hanafiya
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ لَوْ كَانَ عَلِيٌّ ـ رضى الله عنه ـ ذَاكِرًا عُثْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ ذَكَرَهُ يَوْمَ جَاءَهُ نَاسٌ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ، فَقَالَ لِي عَلِيٌّ اذْهَبْ إِلَى عُثْمَانَ فَأَخْبِرْهُ أَنَّهَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَمُرْ سُعَاتَكَ يَعْمَلُونَ فِيهَا. فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ أَغْنِهَا عَنَّا. فَأَتَيْتُ بِهَا عَلِيًّا فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ضَعْهَا حَيْثُ أَخَذْتَهَا.
Narrated Ibn Al-Hanafiya:If `Ali had spoken anything bad about `Uthman then he would have mentioned the day when some persons came to him and complained about the Zakat officials of `Uthman. `Ali then said to me, "Go to `Uthman and say to him, 'This document contains the regulations of spending the Sadaqa of Allah's Apostle so order your Zakat officials to act accordingly." I took the document to `Uthman. `Uthman said, "Take it away, for we are not in need of it." I returned to `Ali with it and informed him of that. He said, "Put it whence you took it
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سوقہ نے ‘ ان سے منذر بن یعلیٰ نے اور ان سے محمد بن حنفیہ نے ‘ انہوں نے کہا کہ اگر علی رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ کو برا کہنے والے ہوتے تو اس دن ہوتے جب کچھ لوگ عثمان رضی اللہ عنہ کے عاملوں کی ( جو زکوٰۃ وصول کرتے تھے ) شکایت کرنے ان کے پاس آئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا اور یہ زکوٰۃ کا پروانہ لے جا۔ ان سے کہنا کہ یہ پروانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھوایا ہوا ہے۔ تم اپنے عاملوں کو حکم دو کہ وہ اسی کے مطابق عمل کریں۔ چنانچہ میں اسے لے کر عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں پیغام پہنچا دیا ‘ لیکن انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ( کیونکہ ہمارے پاس اس کی نقل موجود ہے ) میں نے جا کر علی رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ بیان کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا کہ اچھا ‘ پھر اس پروانے کو جہاں سے اٹھایا ہے وہیں رکھ دو۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنَ الأَنْصَارِ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ أَغْتَسِلُ مِنَ الْمَحِيضِ قَالَ " خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَوَضَّئِي ثَلاَثًا ". ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَحْيَا فَأَعْرَضَ بِوَجْهِهِ أَوْ قَالَ " تَوَضَّئِي بِهَا " فَأَخَذْتُهَا فَجَذَبْتُهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated `Aisha:An Ansari woman asked the Prophet (ﷺ) how to take a bath after finishing from the menses. He replied, "Take a piece of cloth perfumed with musk and clean the private parts with it thrice." The Prophet (ﷺ) felt shy and turned his face. So I pulled her to me and told her what the Prophet (ﷺ) meant
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے اپنی والدہ صفیہ سے، وہ عائشہ سے کہ انصاریہ عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں حیض کا غسل کیسے کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مشک میں بسا ہوا کپڑا لے اور پاکی حاصل کر، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شرمائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا، یا فرمایا کہ اس سے پاکی حاصل کر۔ پھر میں نے انہیں پکڑ کر کھینچ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو بات کہنی چاہتے تھے وہ میں نے اسے سمجھائی۔
Narrated by `Abdullah bin `Amr
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْبَعُ خِلاَلٍ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا ".
Narrated `Abdullah bin `Amr:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever has (the following) four characteristics will be a pure hypocrite: "If he speaks, he tells a lie; if he gives a promise, he breaks it, if he makes a covenant he proves treacherous; and if he quarrels, he behaves in a very imprudent evil insulting manner (unjust). And whoever has one of these characteristics, has one characteristic of a hypocrite, unless he gives it up
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے عبداللہ بن مرہ نے، ان سے مسروق نے، ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، چار عادتیں ایسی ہیں کہ اگر یہ چاروں کسی ایک شخص میں جمع ہو جائیں تو وہ پکا منافق ہے۔ وہ شخص جو بات کرے تو جھوٹ بولے، اور جب وعدہ کرے، تو وعدہ خلافی کرے، اور جب معاہدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے۔ اور جب کسی سے لڑے تو گالی گلوچ پر اتر آئے اور اگر کسی شخص کے اندر ان چاروں عادتوں میں سے ایک ہی عادت ہے، تو اس کے اندر نفاق کی ایک عادت ہے جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَتَابَعَهُ أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحْبِبْهُ. فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ. فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الأَرْضِ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "If Allah loves a person, He calls Gabriel saying, 'Allah loves so and-so; O Gabriel! Love him.' Gabriel would love him and make an announcement amongst the inhabitants of the Heaven. 'Allah loves so-and-so, therefore you should love him also,' and so all the inhabitants of the Heaven would love him, and then he is granted the pleasure of the people on the earth
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مخلد نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہوں نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور اس روایت کی متابعت ابوعاصم نے ابن جریج سے کی ہے کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی انہیں نافع نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے۔ تم بھی اس سے محبت رکھو، چنانچہ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں۔ پھر جبرائیل علیہ السلام تمام اہل آسمان کو پکار دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت رکھتا ہے۔ اس لیے تم سب لوگ اس سے محبت رکھو، چنانچہ تمام آسمان والے اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد روئے زمین والے بھی اس کو مقبول سمجھتے ہیں۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ {فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ }.
Narrated `Abdullah:I heard the Prophet (ﷺ) reciting: "Fahal Min Muddakir." (See Hadith No)
ہم سے خالد بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے ان سے اسود نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ آیت «فهل من مدكر» کی تلاوت فرما رہے تھے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا مِنْ هَذَا الْحَىِّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، فَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي كُلِّ شَهْرٍ حَرَامٍ، فَلَوْ أَمَرْتَنَا بِأَمْرٍ، نَأْخُذُهُ عَنْكَ، وَنُبَلِّغُهُ مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، الإِيمَانِ بِاللَّهِ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا إِلَى اللَّهِ خُمْسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ ".
Narrated Ibn `Abbas:The delegates of `Abd-ul-Qais came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are from the tribe of Rabi`a and the infidels of Mudar tribe stand between us and you, so that we cannot come to you except in the Sacred Months. Therefore we would like you to give us some instructions which we may follow and convey to our people staying behind us." The Prophet (ﷺ) said, "I order you to observe four things and forbid you (to do) four things: (I order you) to believe in Allah testifying that None has the right to be worshipped except Allah; to offer the prayer perfectly; to pay the Zakat; and to give one-fifth of the war booty to Allah. And I forbid you to use Ad-Dubba, Al-Hantam, An-Naqir and Al- Muzaffat." (These are names of utensils in which alcoholic drinks were served)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہتے تھے کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان ( راستے میں ) کفار مضر کا قبیلہ پڑتا ہے، اس لیے ہم آپ کی خدمت اقدس میں صرف حرمت کے مہینوں میں ہی حاضر ہو سکتے ہیں۔ مناسب ہوتا اگر آپ ہمیں ایسے احکام بتلا دیتے جن پر ہم خود بھی مضبوطی سے قائم رہتے اور جو لوگ ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں انہیں بھی بتا دیتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں، اول اللہ پر ایمان لانے کا، یعنی اس کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور نماز قائم کرنے کا اور زکوٰۃ ادا کرنے کا اور اس بات کا کہ جو کچھ بھی تمہیں مال غنیمت ملے اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کو ( یعنی امام وقت کے بیت المال کو ) ادا کرو اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت ( کے استعمال ) سے منع کرتا ہوں۔
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ شَخَصَ بَصَرُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى ". ثَلاَثًا، وَقَصَّ الْحَدِيثَ، قَالَتْ فَمَا كَانَتْ مِنْ خُطْبَتِهِمَا مِنْ خُطْبَةٍ إِلاَّ نَفَعَ اللَّهُ بِهَا، لَقَدْ خَوَّفَ عُمَرُ النَّاسَ وَإِنَّ فِيهِمْ لَنِفَاقًا، فَرَدَّهُمُ اللَّهُ بِذَلِكَ. ثُمَّ لَقَدْ بَصَّرَ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ الْهُدَى وَعَرَّفَهُمُ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ وَخَرَجُوا بِهِ يَتْلُونَ {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ} إِلَى {الشَّاكِرِينَ}
Aisha said (in another narration), ("When the Prophet (ﷺ) was on his death-bed) he looked up and said thrice, (Amongst) the Highest Companion (See Qur'an 4.69)' Aisha said, Allah benefited the people by their two speeches. 'Umar frightened the people some of whom were hypocrites whom Allah caused to abandon Islam because of 'Umar's speech. Then Abu Bakr led the people to True Guidance and acquainted them with the right path they were to follow so that they went out reciting:-- "Muhammad is no more than an Apostle and indeed many Apostles have passed away before him
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعَتَيْنِ عَنِ اللِّمَاسِ وَالنِّبَاذِ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) forbade two kinds of sales i.e. Al-Limais and An-Nibadh (the former is a kind of sale in which the deal is completed if the buyer touches a thing, without seeing or checking it properly and the latter is a kind of a sale in which the deal is completed when the seller throws a thing towards the buyer giving him no opportunity to see, touch or check it) and (the Prophet (ﷺ) forbade) also Ishtimal-As-Samma' and Al-Ihtiba' in a single garment
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، جو ابوالزناد سے نقل کرتے ہیں، وہ اعرج سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع و فروخت سے منع فرمایا۔ ایک تو چھونے کی بیع سے، دوسرے پھینکنے کی بیع سے اور اشتمال صماء سے ( جس کا بیان اوپر گزرا ) اور ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَةِ، فَأَصْلِحِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ ". وَعَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ، وَقَالَ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ.
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is no life except the life of the Hereafter; so, O Allah! Improve the state of the Ansar and the Muhajirun." And Anas added that the Prophet (ﷺ) also said, "O Allah! Forgive the Ansar
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوایاس نے بیان کیا ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خندق کھودتے وقت ) فرمایا ”حقیقی زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے، پس اے اللہ! انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما۔“ اور قتادہ سے روایت ہے ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح، اور انہوں نے بیان کیا اس میں یوں ہے ”پس انصار کی مغفرت فرما دے۔“
Narrated by `Ali
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ـ كَانَ يَنْزِلُ فِي بَنِي ضُبَيْعَةَ وَهْوَ مَوْلًى لِبَنِي سَدُوسَ ـ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ ـ رضى الله عنه فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ }
Narrated `Ali:The following Holy Verse:-- "These two opponents (believers and disbelievers) dispute with each other about their Lord." (22.19) was revealed concerning us
ہم سے اسحاق بن ابراہیم صواف نے بیان کیا، ہم سے یوسف بن یعقوب نے بیان کیا، ان کا بنی ضبیعہ کے یہاں آنا جانا تھا اور وہ بنی سدوس کے غلام تھے۔ کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ان سے ابومجلز نے اور ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ بَيْنَا النَّاسُ فِي الصُّبْحِ بِقُبَاءٍ إِذْ جَاءَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، فَأُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ، فَاسْتَقْبِلُوهَا. وَاسْتَدَارُوا كَهَيْئَتِهِمْ، فَتَوَجَّهُوا إِلَى الْكَعْبَةِ وَكَانَ وَجْهُ النَّاسِ إِلَى الشَّأْمِ.
Narrated Ibn `Umar:While some people were at Quba (offering) morning prayer, a man came to them and said, "Last night Qur'anic Verses have been revealed whereby the Prophet (ﷺ) has been ordered to face the Ka`ba (at Mecca), so you too should face it." So they, keeping their postures, turned towards the Ka`ba. Formerly the people were facing Sham (Jerusalem) (Allah said):-- "And from whence-so-ever you start forth (for prayers), turn your face in the direction of the Sacred Mosque of Mecca (Al-Masjid-ul-Haram), and whence-so-ever you are, turn your face towards it (when you pray)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک صاحب آئے اور کہا کہ رات قرآن نازل ہوا ہے اور کعبہ کی طرف منہ کر لینے کا حکم ہوا ہے۔ اس لیے آپ لوگ بھی کعبہ کی طرف منہ کر لیں اور جس حالت میں ہیں، اسی طرح اس کی طرف متوجہ ہو جائیں ( یہ سنتے ہی ) تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کعبہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اس وقت لوگوں کا منہ شام کی طرف تھا۔
Narrated by Abu-Huraira
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ يَعْرِضُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْقُرْآنَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً، فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ، وَكَانَ يَعْتَكِفُ كُلَّ عَامٍ عَشْرًا فَاعْتَكَفَ عِشْرِينَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ {فِيهِ}
Narrated Abu-Huraira:Gabriel used to repeat the recitation of the Qur'an with the Prophet (ﷺ) once a year, but he repeated it twice with him in the year he died. The Prophet (ﷺ) used to stay in I`tikaf for ten days every year (in the month of Ramadan), but in the year of his death, he stayed in I`tikaf for twenty days
ہم سے خالد بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر سال ایک مرتبہ قرآن مجید کا دورہ کیا کرتے تھے لیکن جس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو مرتبہ دورہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے لیکن جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِبِلَ صَالِحُو نِسَاءِ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The best women are the riders of the camels and the righteous among the women of Quraish. They are the kindest women to their children in their childhood and the more careful women of the property of their husbands
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والی ( عرب ) عورتوں میں بہترین عورت قریش کی صالح عورت ہوتی ہے جو اپنے بچے سے بہت زیادہ محبت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال اسباب میں اس کی بہت عمدہ نگہبان و نگراں ثابت ہوتی ہے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَسْلَمَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ زَنَى. فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَتَنَحَّى لِشِقِّهِ الَّذِي أَعْرَضَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، فَدَعَاهُ فَقَالَ " هَلْ بِكَ جُنُونٌ هَلْ أُحْصِنْتَ ". قَالَ نَعَمْ. فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّى أُدْرِكَ بِالْحَرَّةِ فَقُتِلَ.
Narrated Jabir:A man from the tribe of Bani Aslam came to the Prophet (ﷺ) while he was in the mosque and said, "I have committed illegal sexual intercourse." The Prophet (ﷺ) turned his face to the other side. The man turned towards the side towards which the Prophet (ﷺ) had turned his face, and gave four witnesses against himself. On that the Prophet (ﷺ) called him and said, "Are you insane?" (He added), "Are you married?" The man said, 'Yes." On that the Prophet (ﷺ) ordered him to be stoned to the death in the Musalla (a praying place). When the stones hit him with their sharp edges and he fled, but he was caught at Al- Harra and then killed
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں ابن شہاب نے، کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ماعز نامی مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ انہوں نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا لیکن پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گئے ( اور زنا کا اقرار کیا ) پھر انہوں نے اپنے اوپر چار مرتبہ شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم پاگل تو نہیں ہو، کیا واقعی تم نے زنا کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، پھر آپ نے پوچھا کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا کہ جی ہاں ہو چکی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عیدگاہ پر رجم کرنے کا حکم دیا۔ جب انہیں پتھر لگا تو وہ بھاگنے لگے لیکن انہیں حرہ کے پاس پکڑا گیا اور جان سے مار دیا گیا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ هِنْدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِينِي وَبَنِيَّ قَالَ " خُذِي بِالْمَعْرُوفِ ".
Narrated `Aisha:Hind (bint `Utba) said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Abu Sufyan is a miser. Is there any harm if I take of his property what will cover me and my children's needs?" The Prophet (ﷺ) said, "Take (according to your needs) in a reasonable manner
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہند نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوسفیان بخیل ہیں۔ اگر میں ان کے مال سے اتنا ( ان سے پوچھے بغیر ) لے لیا کروں جو میرے اور میرے بچوں کو کافی ہو تو کیا اس میں کوئی گناہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دستور کے مطابق لے لیا کرو۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " طَعَامُ الاِثْنَيْنِ كَافِي الثَّلاَثَةِ، وَطَعَامُ الثَّلاَثَةِ كَافِي الأَرْبَعَةِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The food for two persons is sufficient for three, and the food of three persons is sufficient for four persons
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے کافی ہے اور تین کا چار کے لیے کافی ہے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ. فَقَالَ أَيُّوبُ لَعَلَّهُ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ. قَالَ عَسَى.
Narrated Ibn `Abbas:"The Prophet (ﷺ) prayed eight rak`at for the Zuhr and `Asr, and seven for the Maghrib and `Isha prayers in Medina." Aiyub said, "Perhaps those were rainy nights." Anas said, "May be
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا عمرو بن دینار سے۔ انہوں نے جابر بن زید سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں رہ کر سات رکعات ( ایک ساتھ ) اور آٹھ رکعات ( ایک ساتھ ) پڑھیں۔ ظہر اور عصر ( کی آٹھ رکعات ) اور مغرب اور عشاء ( کی سات رکعات ) ایوب سختیانی نے جابر بن زید سے پوچھا شاید برسات کا موسم رہا ہو۔ جابر بن زید نے جواب دیا کہ غالباً ایسا ہی ہو گا۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ بَعَثَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَمِائَةِ رَاكِبٍ وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، فَسُمِّيَ جَيْشَ الْخَبَطِ وَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا يُقَالُ لَهُ الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا بِوَدَكِهِ حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا قَالَ فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِهِ فَنَصَبَهُ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ، وَكَانَ فِينَا رَجُلٌ فَلَمَّا اشْتَدَّ الْجُوعُ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ ثَلاَثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ.
Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) sent us as an army unit of three hundred warriors under the command of Abu 'Ubaida to ambush a caravan of the Quraish. But we were struck with such severe hunger that we ate the Khabat (desert bushes), so our army was called the Army of the Khabat. Then the sea threw a huge fish called Al-`Anbar and we ate of it for half a month and rubbed our bodies with its fat till our bodies became healthy. Then Abu Ubaida took one of its ribs and fixed it over the ground and a rider passed underneath it. There was a man amongst us who slaughtered three camels when hunger became severe, and he slaughtered three more, but after that Abu 'Ubaida forbade him to do so
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سوار روانہ کئے۔ ہمارے امیر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ہمیں قریش کے تجارتی قافلہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھنی تھی پھر ( کھانا ختم ہو جانے کی وجہ سے ) ہم سخت بھوک اور فاقہ کی حالت میں تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ہم سلم کے پتے ( خبط ) کھا کر وقت گزارتے تھے۔ اسی لیے اس مہم کا نام ”جیش الخبط“ پڑ گیا اور سمندر نے ایک مچھلی باہر ڈال دی۔ جس کا نام عنبر تھا۔ ہم نے اسے آدھے مہینہ تک کھایا اور اس کی چربی تیل کے طور پر اپنے جسم پر ملی جس سے ہمارے جسم تندرست ہو گئے۔ بیان کیا کہ پھر ابو عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی کی ہڈی لے کر کھڑی کی تو ایک سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ ہمارے ساتھ ایک صاحب ( قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما ) تھے جب ہم بہت زیادہ بھوکے ہوئے تو انہوں نے یکے بعد دیگر تین اونٹ ذبح کر دیئے۔ بعد میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اس سے منع کر دیا۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَتِهِمَا، وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) used to offer as sacrifices, two horned rams, black and white in color, and used to put his foot on their sides and slaughter them with his own hands
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا پاؤں ان کی گردنوں کے اوپر رکھتے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے۔
Narrated by `Ali
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا.
Narrated `Ali:the Prophet (ﷺ) forbade the use of Ad-Dubba' and Al Muzaffat. A'mash also narrated this
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، کہ ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت ( خاص قسم کے برتن جن میں شراب بنتی تھی ) کے استعمال کی بھی ممانعت کر دی تھی۔ ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، کہا ان سے اعمش نے یہی حدیث بیان کی۔
Narrated by `Abdullah bin Mas`ud
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ ". فَقُلْتُ ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَجَلْ ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ إِلاَّ حَطَّ اللَّهُ لَهُ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا ".
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:I visited Allah's Messenger (ﷺ) while he was suffering from a high fever. I touched him with my hand and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You have a high fever." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Yes, I have as much fever as two men of you have." I said, "Is it because you will get a double reward?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Yes, no Muslim is afflicted with harm because of sickness or some other inconvenience, but that Allah will remove his sins for him as a tree sheds its leaves
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے بیان کیا، ان سے حارث بن سوید نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بخار آیا ہوا تھا میں نے اپنے ہاتھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم چھوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو تو بڑا تیز بخار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مجھے تم میں کے دو آدمیوں کے برابر بخار چڑھتا ہے۔ میں نے عرض کیا یہ اس لیے ہو گا کہ آپ کو دگنا اجر ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بھی مسلمان کو مرض کی تکلیف یا کوئی اور کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو اس طرح گراتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کو گرا دیتا ہے۔
Narrated by `Abdullah bin Buhaina
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ بِلَحْىِ جَمَلٍ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ، وَهْوَ مُحْرِمٌ، فِي وَسَطِ رَأْسِهِ. وَقَالَ الأَنْصَارِيُّ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ فِي رَأْسِهِ.
Narrated `Abdullah bin Buhaina:Allah's Messenger (ﷺ) was cupped on the middle of his head at Lahl Jamal on his way to Mecca while he was in a state of Ihram. Narrated Ibn `Abbas: Allah's Messenger (ﷺ) was cupped on his head
Narrated by Mu'tamir
وَقَالَ لِي مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، رَأَيْتُ عَلَى أَنَسٍ بُرْنُسًا أَصْفَرَ مِنْ خَزٍّ.
Narrated Mu'tamir:I heard my father saying, "I saw Anas wearing a yellow hooded cloak of Khazz
اور کہا مجھ سے مسدد نے اور کہا ہم سے معتمر نے کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، کہا انہوں نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ پر ریشمی زرد ٹوپی کو دیکھا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الرَّحِمُ شِجْنَةٌ، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعْتُهُ ".
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) The Prophet (ﷺ) said, "The word 'Ar-Rahm' (womb) derives its name from 'Ar- Rahman' (i.e. Allah). So whosoever keeps good relations with it (womb i.e. Kith and kin), Allah will keep good relations with him, and whosoever will sever it (i.e. severs his bonds of Kith and kin) Allah too will sever His relations with him
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے، انہوں نے کہا مجھ کو معاویہ بن ابی مزرد نے خبر دی، انہوں نے یزید بن رومان سے، انہوں نے عروہ سے، ام المؤمنین انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحم ( رشتہ داری رحمن سے ملی ہوئی ) شاخ ہے جو شخص اس سے ملے میں اس سے ملتا ہوں اور جو اس سے قطع تعلق کرے میں اس سے قطع تعلق کرتا ہوں۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ،. وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ. ح وَحَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ".
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "Bilal pronounces the Adhan at night, so eat and drink (Suhur) till Ibn Um Maktum pronounces the Adhan
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ،. وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، أَخْبَرَنَا مُجَاهِدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ فَقَالَ " أَبَا هِرٍّ الْحَقْ أَهْلَ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ إِلَىَّ ". قَالَ فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَقْبَلُوا فَاسْتَأْذَنُوا فَأُذِنَ لَهُمْ، فَدَخَلُوا.
Narrated Abu Huraira:I entered (the house) along with Allah's Messenger (ﷺ) . There he found milk in a basin. He said, "O Abu Hirr! Go and call the people of Suffa to me." I went to them and invited them. They came and asked permission to enter, and when it was given, they entered. (See Hadith No. 459 for details)
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن ذر نے بیان کیا (دوسری سند) اور ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو مجاہد نے خبر دی، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( آپ کے گھر میں ) داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑے پیالے میں دودھ پایا تو فرمایا ”ابوہریرہ! اہل صفہ کے پاس جا اور انہیں میرے پاس بلا لا۔ میں ان کے پاس آیا اور انہیں بلا لایا۔ وہ آئے اور ( اندر آنے کی ) اجازت چاہی پھر جب اجازت دی گئی تو داخل ہوئے۔“
Narrated by Shaddad bin 'Aus
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَيِّدُ الاِسْتِغْفَارِ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ. إِذَا قَالَ حِينَ يُمْسِي فَمَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ ـ أَوْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ـ وَإِذَا قَالَ حِينَ يُصْبِحُ فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ ". مِثْلَهُ.
Narrated Shaddad bin 'Aus:The Prophet (ﷺ) said, "The most superior way of asking for forgiveness from Allah is: 'Allahumma anta Rabbi la ilaha illa anta. Khalaqtani wa ana `Abduka, wa ana 'ala 'ahdika wa Wa'dika mastata'tu abu'u Laka bi ni 'matika wa abu'u Laka bidhanbi; faghfirli fa'innahu la yaghfiru-dh-dhunuba ill a ant a. A'uidhu bika min sharri ma sana'tu.' If somebody recites this invocation during the night, and if he should die then, he will go to Paradise (or he will be from the people of Paradise). And if he recites it in the morning, and if he should die on the same day, he will have the same fate
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، ان سے بشیر بن کعب نے اور ان سے شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے عمدہ استغفار یہ ہے «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك، وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، أبوء لك بنعمتك، وأبوء لك بذنبي، فاغفر لي، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، أعوذ بك من شر ما صنعت.» ”اے اللہ! تو میرا پالنے والا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں تیرے عہد پر قائم ہوں اور تیرے وعدہ پر۔ جہاں تک مجھ سے ممکن ہے۔ تیری نعمت کا طالب ہو کر تیری پناہ میں آتا ہوں اور اپنے گناہوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں، پس تو میری مغفرت فرما کیونکہ تیرے سوا گناہ اور کوئی نہیں معاف کرتا۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے برے کاموں سے۔ اگر کسی نے رات ہوتے ہی یہ کہہ لیا اور اسی رات اس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنت میں جائے گا۔ یا ( فرمایا کہ ) وہ اہل جنت میں ہو گا اور اگر یہ دعا صبح کے وقت پڑھی اور اسی دن اس کی وفات ہو گئی تو بھی ایسا ہی ہو گا۔
Narrated by Qais
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ أَتَيْتُ خَبَّابًا وَهْوَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ فَقَالَ إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ مَضَوْا لَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا شَيْئًا، وَإِنَّا أَصَبْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ شَيْئًا، لاَ نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلاَّ التُّرَابَ.
Narrated Qais:I came to Khabbab while he was building a wall, and he (Khabbab) said, "Our companions who have left this world, did not enjoy anything of their reward therein, while we have collected after them, much wealth that we cannot spend but on earth (i.e., on building)
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے کہا کہ میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اپنے مکان کی دیوار بنوا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی جو گزر گئے دنیا نے ان کے نیک اعمال میں سے کچھ کمی نہیں کی لیکن ان کے بعد ہم کو اتنا پیسہ ملا کہ ہم اس کو کہاں خرچ کریں بس اس مٹی اور پانی یعنی عمارت میں ہم کو اسے خرچ کا موقع ملا ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ. قَالَ لَهُ آدَمُ يَا مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلاَمِهِ، وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَ اللَّهُ عَلَىَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً. فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى " ثَلاَثًا. قَالَ سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Adam and Moses argued with each other. Moses said to Adam. 'O Adam! You are our father who disappointed us and turned us out of Paradise.' Then Adam said to him, 'O Moses! Allah favored you with His talk (talked to you directly) and He wrote (the Torah) for you with His Own Hand. Do you blame me for action which Allah had written in my fate forty years before my creation?' So Adam confuted Moses, Adam confuted Moses," the Prophet (ﷺ) added, repeating the Statement three times
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے عمرو سے اس حدیث کو یاد کیا، ان سے طاؤس نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”آدم اور موسیٰ نے مباحثہ کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا: آدم! آپ ہمارے باپ ہیں مگر آپ ہی نے ہمیں محروم کیا اور جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے برگزیدہ کیا اور اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے تورات کو لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا۔ آخر آدم علیہ السلام بحث میں موسیٰ علیہ السلام پر غالب آئے۔ تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔ سفیان نے اسی اسناد سے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث نقل کی۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ إِنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ مِمَّا عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَهْلُ أَخْبَاءٍ ـ أَوْ خِبَاءٍ ـ أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ أَخْبَائِكَ ـ أَوْ خِبَائِكَ، شَكَّ يَحْيَى ـ ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ أَهْلُ أَخْبَاءٍ ـ أَوْ خِبَاءٍ ـ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ أَخْبَائِكَ أَوْ خِبَائِكَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ". قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ، فَهَلْ عَلَىَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ قَالَ " لاَ إِلاَّ بِالْمَعْرُوفِ ".
Narrated `Aisha:Hind bint `Utba bin Rabi`a said, "O Allah's Apostle! (Before I embraced Islam), there was no family on the surface of the earth, I wish to have degraded more than I did your family. But today there is no family whom I wish to have honored more than I did yours." Allah's Messenger (ﷺ) said, "I thought similarly, by Him in Whose Hand Muhammad's soul is!" Hind said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (My husband) Abu Sufyan is a miser. Is it sinful of me to feed my children from his property?" The Prophet said, "No, unless you take it for your needs what is just and reasonable
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، انہوں نے یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ ( معاویہ رضی اللہ عنہ کی ماں ) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ساری زمین پر جتنے ڈیرے والے ہیں ( یعنی عرب لوگ جو اکثر ڈیروں اور خیموں میں رہا کرتے تھے ) میں کسی کا ذلیل و خوار ہونا مجھ کو اتنا پسند نہیں تھا جتنا آپ کا۔ یحییٰ بن بکیر راوی کو شک ہے ( کہ ڈیرے کا لفظ بہ صیغہ مفرد کہا یا بہ صیغہ جمع ) اب کوئی ڈیرہ والا یا ڈیرے والے ان کو عزت اور آبرو حاصل ہونا مجھ کو آپ کے ڈیرے والوں سے زیادہ پسند نہیں ہے ( یعنی اب میں آپ کی اور مسلمانوں کی سب سے زیادہ خیرخواہ ہوں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی کیا ہے تو اور بھی زیادہ خیرخواہ بنے گی۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے۔ پھر ہند کہنے لگی یا رسول اللہ! ابوسفیان تو ایک بخیل آدمی ہے مجھ پر گناہ تو نہیں ہو گا اگر میں اس کے مال میں سے ( اپنے بال بچوں کو کھلاؤں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اگر تو دستور کے موافق خرچ کرے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَرِيضٌ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ نَضَحَ عَلَىَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا لِي أَخَوَاتٌ. فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ.
Narrated Jabir:While I was sick, the Prophet (ﷺ) entered upon me and asked for some water to perform ablution, and after he had finished his ablution, he sprinkled some water of his ablution over me, whereupon I became conscious and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have sisters." Then the Divine Verses regarding the laws of inheritance were revealed
ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ بن حجاج نے خبر دی، ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور میں بیمار تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وضو کیا، پھر اپنے وضو کے پانی سے مجھ پر چھینٹا ڈالا تو مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہنیں ہیں؟ اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ حَدَّثَتْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُقْطَعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ ".
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "The hand should be cut off for stealing a quarter of a Dinar
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسین نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن انصاری نے بیان کیا، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چوتھائی دینار پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔“
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَتْ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ قِصَاصٌ، وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ فَقَالَ اللَّهُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى} إِلَى هَذِهِ الآيَةِ {فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌ}. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ، قَالَ {فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ} أَنْ يَطْلُبَ بِمَعْرُوفٍ وَيُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ.
Narrated Ibn `Abbas:For the children of Israel the punishment for crime was Al-Qisas only (i.e., the law of equality in punishment) and the payment of Blood money was not permitted as an alternate. But Allah said to this nation (Muslims): 'O you who believe! Qisas is prescribed for you in case of murder, .....(up to) ...end of the Verse. (2.178) Ibn `Abbas added: Remission (forgiveness) in this Verse, means to accept the Blood-money in an intentional murder. Ibn `Abbas added: The Verse: 'Then the relatives should demand Blood-money in a reasonable manner.' (2.178) means that the demand should be reasonable and it is to be compensated with handsome gratitude
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے مجاہد بن جبیر نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنی اسرائیل میں صرف قصاص کا رواج تھا، دیت کی صورت نہیں تھی۔ پھر اس امت کے لیے یہ حکم نازل ہوا «كتب عليكم القصاص في القتلى» الخ۔ ابن عباس نے کہا «فمن عفي له من أخيه شىء» سے یہی مراد ہے کہ مقتول کے وارث قتل عمد میں دیت پر راضی ہو جائیں اور «فاتباع بالمعروف» سے یہ مراد ہے کہ مقتول کے وارث دستور کے موافق قاتل سے دیت کا تقاضا کریں «وآداء اليه باحسان» سے یہ مراد ہے کہ قاتل اچھی طرح خوش دلی سے دیت ادا کرے۔
Narrated by `Itban bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ غَدَا عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَجُلٌ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَّا ذَلِكَ مُنَافِقٌ لاَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ تَقُولُوهُ يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ يَبْتَغِي. بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ". قَالَ بَلَى. قَالَ " فَإِنَّهُ لاَ يُوَافَى عَبْدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِهِ إِلاَّ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ ".
Narrated `Itban bin Malik:Once Allah's Messenger (ﷺ) came to me in the morning, and a man among us said, "Where is Malik bin Ad- Dukhshun?" Another man from us replied, "He is a hypocrite who does not love Allah and His Apostle." The Prophet (ﷺ) said, "Don't you think that he says: None has the right to be worshipped but Allah, only for Allah's sake?" They replied, "Yes" The Prophet (ﷺ) said, "Nobody will meet Allah with that saying on the Day of Resurrection, but Allah will save him from the Fire
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں محمود بن الربیع نے خبر دی، کہا کہ میں نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے پھر ایک صاحب نے پوچھا کہ مالک بن الدخشن کہاں ہیں؟ ہمارے قبیلہ کے ایک شخص نے جواب دیا کہ وہ منافق ہے، اللہ اور اس کے رسول سے اسے محبت نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کیا تم ایسا نہیں سمجھتے کہ وہ کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار کرتا ہے اور اس کا مقصد اس سے اللہ کی رضا ہے۔ اس صحابی نے کہا کہ ہاں یہ تو ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جو بندہ بھی قیامت کے دن اس کلمہ کو لے کر آئے گا، اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرام کر دے گا۔
Narrated by `Abdullah bin 'Amir bin Rabi`a
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ خَرَجَ إِلَى الشَّأْمِ، فَلَمَّا جَاءَ بِسَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ وَقَعَ بِالشَّأْمِ فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا سَمِعْتُمْ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ ". فَرَجَعَ عُمَرُ مِنْ سَرْغَ. وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ إِنَّمَا انْصَرَفَ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
Narrated `Abdullah bin 'Amir bin Rabi`a:`Umar bin Al-Khattab left for Sham, and when he reached a placed called Sargh, he came to know that there was an outbreak of an epidemic (of plague) in Sham. Then `AbdurRahman bin `Auf told him that Allah's Messenger (ﷺ) said, "If you hear the news of an outbreak of an epidemic (plague) in a certain place, do not enter that place: and if the epidemic falls in a place while you are present in it, do not leave that place to escape from the epidemic." So `Umar returned from Sargh
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعبنی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبداللہ ابن عامر بن ربیعہ نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( سنہ 18 ھ ماہ ربیع الثانی میں ) شام تشریف لے گئے۔ جب مقام سرغ پر پہنچے تو ان کو یہ خبر ملی کہ شام وبائی بیماری کی لپیٹ میں ہے۔ پھر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ کسی سر زمین میں وبا پھیلی ہوئی ہے تو اس میں داخل مت ہو، لیکن اگر کسی جگہ وبا پھوٹ پڑے اور تم وہیں موجود ہو تو وبا سے بھاگنے کے لیے تم وہاں سے نکلو بھی مت۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ مقام سرغ سے واپس آ گئے۔ اور ابن شہاب سے روایت ہے، ان سے سالم بن عبداللہ نے کہ عمر رضی اللہ عنہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث سن کر واپس ہو گئے تھے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ، وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهْوَ يَضْحَكُ. قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ ". شَكَّ إِسْحَاقُ. قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهْوَ يَضْحَكُ. فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". كَمَا قَالَ فِي الأُولَى. قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ " أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ ". فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، فَهَلَكَتْ.
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) used to visit Um Haram bint Milhan she was the wife of 'Ubada bin As-Samit. One day the Prophet (ﷺ) visited her and she provided him with food and started looking for lice in his head. Then Allah's Messenger (ﷺ) slept and afterwards woke up smiling. Um Haram asked, "What makes you smile, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "Some of my followers were presented before me in my dream as fighters in Allah's Cause, sailing in the middle of the seas like kings on the thrones or like kings sitting on their thrones." (The narrator 'Is-haq is not sure as to which expression was correct). Um Haram added, 'I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah, to make me one of them;" So Allah's Messenger (ﷺ) invoked Allah for her and then laid his head down (and slept). Then he woke up smiling (again). (Um Haram added): I said, "What makes you smile, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "Some people of my followers were presented before me (in a dream) as fighters in Allah's Cause." He said the same as he had said before. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to make me from them." He said, "You are among the first ones." Then Um Haram sailed over the sea during the Caliphate of Muawiya bin Abu Sufyan, and she fell down from her riding animal after coming ashore, and died
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ ان کے یہاں گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے کھانے کی چیز پیش کی اور آپ کا سر جھاڑنے لگیں۔ اس عرصہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔
Narrated by Um Salama
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً فَزِعًا يَقُولُ " سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْخَزَائِنِ وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ ـ يُرِيدُ أَزْوَاجَهُ ـ لِكَىْ يُصَلِّينَ، رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا، عَارِيَةٍ فِي الآخِرَةِ ".
Narrated Um Salama:(the wife of the Prophet) Allah's Messenger (ﷺ) woke up one night in a state of terror and said, "Subhan Allah, How many treasures Allah has sent down! And how many afflictions have been sent down! Who will go and wake the lady dwellers (wives of the Prophet) up of these rooms (for prayers)?" He meant his wives, so that they might pray. He added, "A well-dressed (soul) in this world may be naked in the Hereafter
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے۔ (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن عقیق نے، ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے ہند بنت الحارث الفراسیہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایا اللہ کی ذات پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا خزانے نازل کئے ہیں اور کتنے فتنے اتارے ہیں ان حجرہ والیوں کو کوئی بیدار کیوں نہ کرے آپ کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ بہت سے دنیا میں کپڑے باریک پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ قُرَّةَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ وَأَتْبَعَهُ بِمُعَاذٍ.
Narrated Abu Musa:that the Prophet (ﷺ) sent him and sent Mu`adh after him (as rulers to Yemen)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قرہ نے، ان سے حمید بن ہلال نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا تھا اور ان کے ساتھ معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا تھا۔
Narrated by `Abdullah bin Zaid
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا ". تَابَعَهُ أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الشِّعْبِ.
Narrated `Abdullah bin Zaid:The Prophet (ﷺ) said, "But for the emigration, I would have been one of the Ansar; and if the people took their way in a valley (or a mountain pass), I would take Ansar's valley or their mountain pass
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ اس روایت کی متابعت ابوالتیاح نے کی، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اس میں بھی درے کا ذکر ہے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ،. وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ فَقَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ الْوَفْدُ ". قَالُوا رَبِيعَةُ. قَالَ " مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ وَالْقَوْمِ، غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ نَدَامَى ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارَ مُضَرَ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَنُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا فَسَأَلُوا عَنِ الأَشْرِبَةِ، فَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ وَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ قَالَ " هَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ـ وَأَظُنُّ فِيهِ ـ صِيَامُ رَمَضَانَ، وَتُؤْتُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ ". وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ، وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ. قَالَ " احْفَظُوهُنَّ، وَأَبْلِغُوهُنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ ".
Narrated Ibn `Abbas:When the delegate of `Abd Al-Qais came to Allah's Messenger (ﷺ), he said, "Who are the delegate?" They said, "The delegate are from the tribe of Rabi`a." The Prophet (ﷺ) said, "Welcome, O the delegate, and welcome! O people! Neither you will have any disgrace nor will you regret." They said, "O Allah's Apostle! Between you and us there are the infidels of the tribe of Mudar, so please order us to do something good (religious deeds) that by acting on them we may enter Paradise, and that we may inform (our people) whom we have left behind, about it." They also asked (the Prophet) about drinks. He forbade them from four things and ordered them to do four things. He ordered them to believe in Allah, and asked them, "Do you know what is meant by belief in Allah?" They said, "Allah and His Apostle know best." He said, ''To testify that none has the right to be worshipped except Allah, the One, Who has no partners with Him, and that Muhammad is Allah's Messenger (ﷺ); and to offer prayers perfectly and to pay Zakat." (the narrator thinks that fasting in Ramadan is included), "and to give one-fifth of the war booty (to the state)." Then he forbade four (drinking utensils): Ad-Duba', Al56 Hantam, Al-Mazaffat and An-Naqir, or probably, Al-Muqaiyar. And then the Prophet (ﷺ) said, "Remember all these things by heart and preach it to those whom you have left behind
ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو نضر بن شمیل نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما مجھے خاص اپنے تخت پر بٹھا لیتے تھے۔ انہوں نے ایک بار بیان کیا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد آیا جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کس قوم کا وفد ہے؟ انہوں نے کہا کہ ربیعہ قبیلہ کا ( عبدالقیس اسی قبیلے کا ایک شاخ ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مبارک ہو اس وفد کو یا یوں فرمایا کہ مبارک ہو بلا رسوائی اور شرمندگی اٹھائے آئے ہو۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے بیچ میں مضر کافروں کا ملک پڑتا ہے۔ آپ ہمیں ایسی بات کا حکم دیجئیے جس سے ہم جنت میں داخل ہوں اور پیچھے رہ جانے والوں کو بھی بتائیں۔ پھر انہوں نے شراب کے برتنوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار چیزوں سے روکا اور چار چیزوں کا حکم دیا۔ آپ نے ایمان بااللہ کا حکم دیا۔ دریافت فرمایا جانتے ہو ایمان باللہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا کہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنے کا ( حکم دیا ) اور زکوٰۃ دینے کا۔ میرا خیال ہے کہ حدیث میں رمضان کے روزوں کا بھی ذکر ہے اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ ( بیت المال ) میں دینا اور آپ نے انہیں دباء، حنتم، مزفت اور نقیر کے برتن ( جن میں عرب لوگ شراب رکھتے اور بناتے تھے ) کے استعمال سے منع کیا اور بعض اوقات مقیر کہا۔ فرمایا کہ انہیں یاد رکھو اور انہیں پہنچا دو جو نہیں آ سکے ہیں۔
Narrated by Sa`d bin Abi Waqqas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَىْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ ".
Narrated Sa`d bin Abi Waqqas:The Prophet (ﷺ) said, "The most sinful person among the Muslims is the one who asked about something which had not been prohibited, but was prohibited because of his asking
ہم سے عبداللہ بن یزید المقری نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق پوچھا جو حرام نہیں تھی اور اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام کر دی گئی۔“
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَكْثَرُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَحْلِفُ " لاَ وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ ".
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) frequently used to swear, "No, by the One Who turns the hearts
مجھ سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ ابن مبارک نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم اس طرح کھاتے ”قسم اس کی جو دلوں کا پھیر دینے والا ہے۔“
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ، خَالِدُ بْنُ خَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ قَالَ الأَوْزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى، فَمَرَّ بِهِمَا أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ شَأْنَهُ فَقَالَ أُبَىٌّ نَعَمْ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ شَأْنَهُ يَقُولُ " بَيْنَمَا مُوسَى فِي مَلإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَتَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ قَالَ مُوسَى لاَ. فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مُوسَى بَلَى، عَبْدُنَا خَضِرٌ، فَسَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ الْحُوتَ آيَةً، وَقِيلَ لَهُ إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعْ، فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ، فَكَانَ مُوسَى صلى الله عليه وسلم يَتَّبِعُ أَثَرَ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ. فَقَالَ فَتَى مُوسَى لِمُوسَى أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ، وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلاَّ الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ. قَالَ مُوسَى ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي. فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، فَوَجَدَا خَضِرًا، فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ ".
Narrated Ibn `Abbas:that he differed with Hur bin Qais bin Hisn Al-Fazari regarding the companion of the Prophet Moses (ﷺ). Meanwhile, Ubai bin Ka`b passed by them and Ibn `Abbas called him saying, "My friend (Hur) and I have differed regarding Moses' companion whom Moses asked the way to meet. Have you heard Allah's Messenger (ﷺ) mentioning something about him?" Ubai bin Ka`b said: "Yes, I heard the Prophet (ﷺ) mentioning something about him (saying) while Moses was sitting in the company of some Israelites, a man came and asked him: "Do you know anyone who is more learned than you?" Moses replied: "No." So Allah sent the Divine Inspiration to Moses: '--Yes, Our slave Khadir is more learned than you.' Moses asked Allah how to meet him (Al-Khadir). So Allah made the fish a sign for him and he was told when the fish was lost, he should return (to the place where he had lost it) and there he would meet him (Al-Khadir). So Moses went on looking for the sign of the fish in the sea. The servant-boy of Moses said: 'Do you remember when we betook ourselves to the rock, I indeed forgot the fish, none but Satan made me forget to remember it. On that Moses said, 'That is what we have been seeking.' So they went back retracing their footsteps, and found Khadir. (and) what happened further about them is narrated in the Holy Qur'an by Allah." (18.54 up to)
ہم سے ابوالقاسم خالد بن خلی قاضی حمص نے بیان کیا، ان سے محمد بن حرب نے، اوزاعی کہتے ہیں کہ ہمیں زہری نے عبیداللہ ابن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے خبر دی، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اور حر بن قیس بن حصن فزاری موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں جھگڑے۔ ( اس دوران میں ) ان کے پاس سے ابی بن کعب گزرے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلا لیا اور کہا کہ میں اور میرے ( یہ ) ساتھی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں بحث کر رہے ہیں جس سے ملنے کی موسیٰ علیہ السلام نے ( اللہ سے ) دعا کی تھی۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ان کا ذکر فرماتے ہوئے سنا ہے؟ ابی نے کہا کہ ہاں! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا حال بیان فرماتے ہوئے سنا ہے۔ آپ فرما رہے تھے کہ ایک بار موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں آپ سے بھی بڑھ کر کوئی عالم موجود ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ نہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کی کہ ہاں ہمارا بندہ خضر ( علم میں تم سے بڑھ کر ) ہے۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملنے کی راہ دریافت کی، اس وقت اللہ تعالیٰ نے ( ان سے ملاقات کے لیے ) مچھلی کو نشانی قرار دیا اور ان سے کہہ دیا کہ جب تم مچھلی کو نہ پاؤ تو لوٹ جانا، تب تم خضر علیہ السلام سے ملاقات کر لو گے۔ موسیٰ علیہ السلام دریا میں مچھلی کے نشان کا انتظار کرتے رہے۔ تب ان کے خادم نے ان سے کہا۔ کیا آپ نے دیکھا تھا کہ جب ہم پتھر کے پاس تھے، تو میں ( وہاں ) مچھلی بھول گیا۔ اور مجھے شیطان ہی نے غافل کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ہم اسی ( مقام ) کے تو متلاشی تھے، تب وہ اپنے ( قدموں کے ) نشانوں پر باتیں کرتے ہوئے واپس لوٹے۔ ( وہاں ) خضر علیہ السلام کو انہوں نے پایا۔ پھر ان کا قصہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The taking of a bath on Friday is compulsory for every Muslim who has attained the age of puberty
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے صفوان بن سلیم نے، ان سے عطاء بن یسار نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بالغ کے اوپر جمعہ کے دن غسل واجب ہے۔
Narrated by Um `Atiya
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ كُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نَخْرُجَ يَوْمَ الْعِيدِ، حَتَّى نُخْرِجَ الْبِكْرَ مِنْ خِدْرِهَا، حَتَّى نُخْرِجَ الْحُيَّضَ فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ، فَيُكَبِّرْنَ بِتَكْبِيرِهِمْ، وَيَدْعُونَ بِدُعَائِهِمْ يَرْجُونَ بَرَكَةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَطُهْرَتَهُ.
Narrated Um `Atiya:We used to be ordered to come out on the Day of `Id and even bring out the virgin girls from their houses and menstruating women so that they might stand behind the men and say Takbir along with them and invoke Allah along with them and hope for the blessings of that day and for purification from sins
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے عاصم بن سلیمان سے بیان کیا، ان سے حفصہ بنت سیرین نے، ان سے ام عطیہ نے، انہوں نے فرمایا کہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ) میں ہمیں عید کے دن عیدگاہ میں جانے کا حکم تھا۔ کنواری لڑکیاں اور حائضہ عورتیں بھی پردہ میں باہر آتی تھیں۔ یہ سب مردوں کے پیچھے پردہ میں رہتیں۔ جب مرد تکبیر کہتے تو یہ بھی کہتیں اور جب وہ دعا کرتے تو یہ بھی کرتیں۔ اس دن کی برکت اور پاکیزگی حاصل کرنے کی امید رکھتیں۔