Narrated by `Amra
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ، قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلاَ نَرَى إِلاَّ الْحَجَّ، حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ يَحِلُّ. قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقِيلَ ذَبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَزْوَاجِهِ. قَالَ يَحْيَى فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ. فَقَالَ أَتَتْكَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
Narrated `Amra:I heard `Aisha saying, "We set out (from Medina) along with Allah's Messenger (ﷺ) five days before the end of Dhul-Qa'da with the intention of performing Hajj only. When we approached Mecca, Allah's Apostle ordered those who had no Hadi along with them to finish the Ihram after performing Tawaf of the Ka`ba, (Safa and Marwa). `Aisha added, "Beef was brought to us on the Day of Nahr and I said, 'What is this?' Somebody said, 'The Prophet (ﷺ) has slaughtered (cows) on behalf of his wives
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا، کہا مجھ سے عمرہ نے بیان کیا، کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ ہم مدینہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تھے، ہمارا ارادہ صرف حج ہی کا تھا، پھر جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ بیت اللہ کا طواف کر کے حلال ہو جائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پھر ہمارے پاس بقر عید کے دن گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس وقت معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے اس حدیث کا قاسم بن محمد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ عمرہ نے تم سے ٹھیک ٹھیک حدیث بیان کر دی ہے۔ ( ہر دو احادیث سے مقصد باب ظاہر ہے ) کہ قربانی کا گوشت کھانے اور بطور توشہ رکھنے کی عام اجازت ہے، خود قرآن مجید میں «فكلوا منها» کا صیغہ موجود ہے کہ اسے غرباء مساکین کو بھی تقسیم کرو اور خود بھی کھاؤ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ سُلاَمَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ، يَعْدِلُ بَيْنَ الاِثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَيُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ، فَيَحْمِلُ عَلَيْهَا، أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خَطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلاَةِ صَدَقَةٌ، وَيُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is a (compulsory) Sadaqa (charity) to be given for every joint of the human body (as a sign of gratitude to Allah) everyday the sun rises. To judge justly between two persons is regarded as Sadaqa, and to help a man concerning his riding animal by helping him to ride it or by lifting his luggage on to it, is also regarded as Sadaqa, and (saying) a good word is also Sadaqa, and every step taken on one's way to offer the compulsory prayer (in the mosque) is also Sadaqa and to remove a harmful thing from the way is also Sadaqa
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے۔ ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر اگر وہ انسانوں کے درمیان انصاف کرے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور کسی کو سواری کے معاملے میں اگر مدد پہنچائے، اس طرح پر کہ اسے اس پر سوار کرائے یا اس کا سامان اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور اچھی بات منہ سے نکالنا بھی ایک صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور اگر کوئی راستے سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دے تو وہ بھی ایک صدقہ ہے۔“
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ " أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الأَرْضِ ". وَكُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ، وَلَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ الْيَوْمَ لأَرَيْتُكُمْ مَكَانَ الشَّجَرَةِ. تَابَعَهُ الأَعْمَشُ سَمِعَ سَالِمًا سَمِعَ جَابِرًا أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:On the day of Al-Hudaibiya, Allah's Messenger (ﷺ) said to us' "You are the best people on the earth!" We were 1400 then. If I could see now, I would have shown you the place of the Tree (beneath which we gave the Pledge of Allegiance)." Salim said, "Our number was
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حدیبیہ کے موقع پر فرمایا تھا کہ تم لوگ تمام زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔ ہماری تعداد اس موقع پر چودہ سو تھی۔ اگر آج میری آنکھوں میں بینائی ہوتی تو میں تمہیں اس درخت کا مقام دکھاتا۔ اس روایت کی متابعت اعمش نے کی، ان سے سالم نے سنا اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ چودہ سو صحابہ غزوہ حدیبیہ میں تھے۔
Narrated by `Abdullah bin Ka`b
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبٍ ـ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ ـ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، فِي حَدِيثِهِ {وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا} قَالَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ، فَهْوَ خَيْرٌ لَكَ ".
Narrated `Abdullah bin Ka`b:I heard Ka`b bin Malik talking about the Verse:-- 'And to the three (He also forgave) who remained behind.' (9.118) saying in the last portion of his talk, "(I said), 'As a part (sign) of my repentance, I would like to give up all my property in the cause of Allah and His Apostle,' The Prophet (ﷺ) said to me, 'Keep some of your wealth as it is good for you." (To the three (He also forgave) who remained behind till for them the earth, vast as it is, was straitened
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی (دوسری سند) احمد بن صالح نے بیان کیا کہ ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبدالرحمٰن بن کعب نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبداللہ بن کعب نے خبر دی کہ ( ان کے والد ) کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں یہی ان کو راستے میں ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک سے ان کے واقعہ کے سلسلے میں سنا جس کے بارے میں آیت «وعلى الثلاثة الذين خلفوا» نازل ہوئی تھی۔ آپ نے آخر میں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) عرض کیا تھا کہ اپنی توبہ کے قبول ہونے کی خوشی میں اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں خیرات کرتا ہوں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اپنا کچھ تھوڑا مال اپنے پاس ہی رہنے دو۔ یہ تمہارے حق میں بھی بہتر ہے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاِبْنِ صَائِدٍ " قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا فَمَا هُوَ ". قَالَ الدُّخُّ. قَالَ " اخْسَأْ ".
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) said to Ibn Saiyad "I have hidden something for you in my mind; What is it?" He said, "Ad-Dukh." The Prophet (ﷺ) said, "Ikhsa
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن زریر نے بیان کیا، کہا میں نے ابورجاء سے سنا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا ”میں نے اس وقت اپنے دل میں ایک بات چھپا رکھی ہے، وہ کیا ہے؟“ وہ بولا «الدخ.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چل دور ہو جا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلاَةٍ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ وَغَيْرِهَا فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ، فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. ثُمَّ يَقُولُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ. حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْجُلُوسِ فِي الاِثْنَتَيْنِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلاَةِ، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلاَتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا.
Narrated Abu Bakr bin `Abdur Rahman Ibn Harith bin Hisham and Abu Salama bin `Abdur Rahman:Abu Huraira used to say Takbir in all the prayers, compulsory and optional -- in the month of Ramadan or other months. He used to say Takbir on standing for prayer and on bowing; then he would say, "Sami`a l-lahu liman hamidah," and before prostrating he would say "Rabbana wa laka lhamd." Then he would say Takbir on prostrating and on raising his head from the prostration, then another Takbir on prostrating (for the second time), and on raising his head from the prostration. He also would say the Takbir on standing from the second rak`a. He used to do the same in every rak`a till he completed the prayer. On completion of the prayer, he would say, "By Him in Whose Hands my soul is! No doubt my prayer is closer to that of Allah's Messenger (ﷺ) than yours, and this was His prayer till he left this world
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تمام نمازوں میں تکبیر کہا کرتے تھے۔ خواہ فرض ہوں یا نہ ہوں۔ رمضان کا مہینہ ہو یا کوئی اور مہینہ ہو، چنانچہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے۔ پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے اور اس کے بعد «ربنا ولك الحمد» سجدہ سے پہلے، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو «الله أكبر» کہتے۔ پھر سجدہ سے سر اٹھاتے تو «الله أكبر» کہتے۔ پھر دوسرا سجدہ کرتے وقت «الله أكبر» کہتے۔ اسی طرح سجدہ سے سر اٹھاتے تو «الله أكبر» کہتے۔ دو رکعات کے بعد قعدہ اولیٰ کرنے کے بعد جب کھڑے ہوتے تب بھی تکبیر کہتے اور آپ ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہونے تک۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرماتے کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم میں سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ ہوں۔ اور آپ اسی طرح نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔