Narrated by `Ali
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ، أَنَّ مُجَاهِدًا، أَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا، لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلاَلَهَا، وَلاَ يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا شَيْئًا.
Narrated `Ali:The Prophet (ﷺ) ordered me to supervise the (slaughtering) of Budn (Hadi camel) and to distribute their meat, skins and covering sheets in charity and not to give anything (of their bodies) to the butcher as wages for slaughtering
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا کہ، ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حسن بن مسلم اور عبدالکریم جزری نے خبر دی کہ مجاہد نے ان دونوں کو خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے خبر دی، انہیں علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کریں اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کی ہر چیز گوشت چمڑے اور جھول خیرات کر دیں اور قصائی کی مزدوری اس میں سے نہ دیں۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ، وَإِنَّهُمْ لَيَصْرُخُونَ بِهِمَا جَمِيعًا الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ.
Narrated Anas:I was riding behind Abu Talha (on the same) riding animal and (the Prophet's companions) were reciting Talbiya aloud for both Hajj and `Umra
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ تمام صحابہ حج اور عمرہ دونوں ہی کے لیے ایک ساتھ لبیک کہہ رہے تھے۔
Narrated by Al-Bara bin Azib
حَدَّثَنِي فَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ أَوْ أَكْثَرَ، فَنَزَلُوا عَلَى بِئْرٍ فَنَزَحُوهَا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَى الْبِئْرَ، وَقَعَدَ عَلَى شَفِيرِهَا ثُمَّ قَالَ " ائْتُونِي بِدَلْوٍ مِنْ مَائِهَا ". فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ فَدَعَا ثُمَّ قَالَ " دَعُوهَا سَاعَةً ". فَأَرْوَوْا أَنْفُسَهُمْ وَرِكَابَهُمْ حَتَّى ارْتَحَلُوا.
Narrated Al-Bara bin Azib:That they were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) on the day of Al-Hudaibiya and their number was 1400 or more. They camped at a well and drew its water till it was dried. When they informed Allah's Apostle of that, he came and sat over its edge and said, "Bring me a bucket of its water." When it was brought, he spat and invoked (Allah) and said, "Leave it for a while." Then they quenched their thirst and watered their riding animals (from that well) till they departed
مجھ سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا ‘ ہم سے حسن بن محمد بن اعین ابوعلی حرانی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا کہ ہمیں براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ لوگ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہزار چار سو کی تعداد میں تھے یا اس سے بھی زیادہ۔ ایک کنویں پر پڑاؤ ہوا لشکر نے اس کا ( سارا ) پانی کھینچ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کے پاس تشریف لائے اور اس کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ ایک ڈول میں اسی کنویں کا پانی لاؤ۔ پانی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر فرمایا کہ کنویں کو یوں ہی تھوڑی دیر کے لیے رہنے دو۔ اس کے بعد سارا لشکر خود بھی سیراب ہوتا رہا اور اپنی سواریوں کو بھی خوب پلاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہاں سے انہوں نے کوچ کیا۔
Narrated by `Abdullah bin Ka`b
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ تَبُوكَ، وَاللَّهِ، مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنْ نِعْمَةٍ بَعْدَ إِذْ هَدَانِي أَعْظَمَ مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ أَكُونَ كَذَبْتُهُ فَأَهْلِكَ كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوا حِينَ أُنْزِلَ الْوَحْىُ {سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ} إِلَى {الْفَاسِقِينَ}.
Narrated `Abdullah bin Ka`b:I heard Ka`b bin Malik at the time he remained behind and did not join (the battle of) Tabuk, saying, "By Allah, no blessing has Allah bestowed upon me, besides my guidance to Islam, better than that of helping me speak the truth to Allah's Messenger (ﷺ) otherwise I would have told the Prophet (ﷺ) a lie and would have been ruined like those who had told a lie when the Divine Inspiration was revealed:-- "They will swear by Allah to you (Muslims) when you return to them.. the rebellious people
ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے بیان کیا کہ انہوں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکنے کا واقعہ سنا۔ انہوں نے بتلایا، اللہ کی قسم! ہدایت کے بعد اللہ نے مجھ پر اتنا بڑا اور کوئی انعام نہیں کیا جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ بولنے کے بعد ظاہر ہوا تھا کہ اس نے مجھے جھوٹ بولنے سے بچایا، ورنہ میں بھی اسی طرح ہلاک ہو جاتا جس طرح دوسرے لوگ جھوٹی معذرتیں بیان کرنے والے ہلاک ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں وحی نازل کی تھی «سيحلفون بالله لكم إذا انقلبتم إليهم» کہ ”عنقریب یہ لوگ تمہارے سامنے، جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے۔ اللہ کی قسم کھا جائیں گے۔“ آخر آیت «الفاسقين» تک۔
Narrated by `Abdullah bin Mas`ud
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ". تَابَعَهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ وَأَبُو عَوَانَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you say about a man who loves some people but cannot catch up with their good deeds?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Everyone will be with those whom he loves
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود نے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن ان سے میل نہیں ہو سکا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ اس روایت کی متابعت جریر بن حازم، سلیمان بن قرم اور ابوعوانہ نے اعمش سے کی، ان سے ابووائل نے، ان سے عبداللہ بن مسعود نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
Narrated by Thabit
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ كَانَ أَنَسٌ يَنْعَتُ لَنَا صَلاَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ يُصَلِّي وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى نَقُولَ قَدْ نَسِيَ.
Narrated Thabit:Anas used to demonstrate to us the prayer of the Prophet (ﷺ) and while demonstrating, he used to raise his head from bowing and stand so long that we would say that he had forgotten (the prostration)
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ثابت بنانی سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بتلاتے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ ہم سوچنے لگتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں۔