بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
25
6 hadith
Narrated by Sahl bin Bakkar
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ـ قَالَ وَنَحَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ سَبْعَ بُدْنٍ قِيَامًا، وَضَحَّى بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ‏.‏ مُخْتَصَرًا‏.‏
Narrated Sahl bin Bakkar:The narration of Anas abridged, saying, "The Prophet (ﷺ) slaughtered seven Budn (camels) while standing, with his own hands. On the day of `Id-ul-Adha he slaughtered (sacrificed) two horned rams, black and white in color
ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے مختصر حدیث بیان کی اور یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹ کھڑے کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کئے اور مدینہ میں دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کی۔
Narrated by Suwaid bin An-Nu`man
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ ـ وَهْىَ مِنْ خَيْبَرَ وَهْىَ أَدْنَى خَيْبَرَ ـ فَصَلَّوُا الْعَصْرَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالأَطْعِمَةِ، فَلَمْ يُؤْتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ بِسَوِيقٍ، فَلُكْنَا فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، وَصَلَّيْنَا‏.‏
Narrated Suwaid bin An-Nu`man:That he went out in the company of the Prophet (ﷺ) during the year of Khaibar (campaign) till they reached a place called As-Sahba', the lower part of Khaibar. They offered the `Asr prayer (there) and the Prophet asked for the food. Nothing but Sawiq was brought to the Prophet. So, they chewed it and ate it and drank water. After that the Prophet (ﷺ) got up, washed his mouth, and they too washed their mouths and then offered the prayer
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے بشیر بن یسار نے خبر دی اور انہیں سوید بن نعمان نے خبر دی کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تھے۔ جب لشکر مقام صہباء پر پہنچا جو خیبر کا نشیبی علاقہ ہے تو لوگوں نے عصر کی نماز پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگوایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی اور ہم نے وہی ستو کھایا اور پیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی۔ ہم نے بھی کلی کی اور نماز پڑھی۔
Narrated by Masruq
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا، يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ وَقَالَ: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ لَكِنَّكَ لَسْتَ كَذَلِكَ‏.‏ قَالَ مَسْرُوقٌ فَقُلْتُ لَهَا لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكِ‏.‏ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ‏}‏‏.‏ فَقَالَتْ وَأَىُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى‏.‏ قَالَتْ لَهُ إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ ـ أَوْ يُهَاجِي ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated Masruq:We went to `Aisha while Hassan bin Thabit was with her reciting poetry to her from some of his poetic verses, saying "A chaste wise lady about whom nobody can have suspicion. She gets up with an empty stomach because she never eats the flesh of indiscreet (ladies)." `Aisha said to him, "But you are not like that." I said to her, "Why do you grant him admittance, though Allah said:-- "and as for him among them, who had the greater share therein, his will be a severe torment." (24.11) On that, `Aisha said, "And what punishment is more than blinding?" She, added, "Hassan used to defend or say poetry on behalf of Allah's Messenger (ﷺ) (against the infidels)
مجھ سے بشر بن خالد نے بیان کیا ‘ ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے ‘ انہیں سلیمان نے ‘ انہیں ابوالضحیٰ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے یہاں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ موجود تھے اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اپنے اشعار سنا رہے تھے۔ ایک شعر تھا جس کا ترجمہ یہ ہے۔ وہ سنجیدہ اور پاک دامن ہیں جس پر کبھی تہمت نہیں لگائی گئی ‘ وہ ہر صبح بھوکی ہو کر نادان بہنوں کا گوشت نہیں کھاتی۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا لیکن تم تو ایسے نہیں ثابت ہوئے۔ مسروق نے بیان کیا کہ پھر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا ‘ آپ انہیں اپنے یہاں آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرما چکا ہے «والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم‏» ”اور ان میں وہ شخص جو تہمت لگانے میں سب سے زیادہ ذمہ دار ہے اس کے لیے بڑا عذاب ہو گا۔“ اس پر ام المؤمنین نے فرمایا کہ نابینا ہو جانے سے سخت عذاب اور کیا ہو گا ( حسان رضی اللہ عنہ کی بصارت آخر عمر میں چلی گئی تھی ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ حسان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کیا کرتے تھے۔
Narrated by Abu Mas`ud
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ لَمَّا أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ كُنَّا نَتَحَامَلُ فَجَاءَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ، وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِأَكْثَرَ مِنْهُ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا، وَمَا فَعَلَ هَذَا الآخَرُ إِلاَّ رِئَاءً‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{‏الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ‏}‏ الآيَةَ‏.‏
Narrated Abu Mas`ud:When we were ordered to give alms, we began to work as porters (to earn something we could give in charity). Abu `Aqil came with one half of a Sa` (special measure for food grains) and another person brought more than he did. So the hypocrites said, "Allah is not in need of the alms of this (i.e. Abu `Aqil); and this other person did not give alms but for showing off." Then Allah revealed:-- 'Those who criticize such of the Believers who give charity voluntarily and those who could not find to give in charity except what is available to them
مجھ سے ابو محمد بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان اعمش نے، انہیں ابووائل نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں خیرات کرنے کا حکم ہوا تو ہم مزدوری پر بوجھ اٹھاتے ( اور اس کی مزدوری صدقہ میں دے دیتے ) چنانچہ ابوعقیل اسی مزدوری سے آدھا صاع خیرات لے کر آئے اور ایک دوسرے صحابی عبدالرحمٰن بن عوف اس سے زیادہ لائے۔ اس پر منافقوں نے کہا کہ اللہ کو اس ( یعنی عقیل ) کے صدقہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور اس دوسرے ( عبدالرحمٰن بن عوف ) نے تو محض دکھاوے کے لیے اتنا بہت سا صدقہ دیا ہے۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم‏» کہ ”یہ ایسے لوگ ہیں جو صدقات کے بارے میں نفل صدقہ دینے والے مسلمانوں پر طعن کرتے ہیں اور خصوصاً ان لوگوں پر جنہیں بجز ان کی محنت مزدوری کے کچھ نہیں ملتا۔“ آخر آیت تک۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَيْحَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَعْتِقْ رَقَبَةً ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا أَجِدُهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ أَسْتَطِيعُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا أَجِدُ‏.‏ فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فَقَالَ ‏"‏ خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَى غَيْرِ أَهْلِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَيْنَ طُنُبَىِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنِّي‏.‏ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ قَالَ ‏"‏ خُذْهُ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَيْلَكَ‏.‏
Narrated Abu Huraira:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I am ruined!" The Prophet (ﷺ) said, "Waihaka (May Allah be merciful to you) !" The man said, "I have done sexual intercourse with my wife while fasting in Ramadan." The Prophet (ﷺ) said, "Manumit a slave." The man said, " I cannot afford that. " The Prophet (ﷺ) said; "Then fast for two successive months." The man said, " I have no power to do so." The Prophet (ﷺ) said, "Then feed sixty poor persons." The man said, "I have nothing (to feed sixty persons). Later a basket full of dates were brought to the Prophet (ﷺ) and he said (to the man), "Take it and give it in charity." The man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall I give it to people other than my family? By Him in Whose Hand my life is, there is nobody poorer than me in the whole city of Medina." The Prophet (ﷺ) smiled till his premolar teeth became visible, and said, "Take it." Az-Zuhri said (that the Prophet (ﷺ) said). "Wailaka
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو امام اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ مجھ کو ابن شہاب نے خبر دی، بیان کیا ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس ( کیا بات ہوئی؟ ) انہوں نے کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس غلام ہے ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ۔ اس نے کہا کہ اس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ کہا کہ اتنا بھی میں اپنے پاس نہیں پاتا۔ اس کے بعد کھجور کا ایک ٹوکرا آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور کو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! سارے مدینہ کے دونوں طنابوں یعنی دونوں کناروں میں مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اتنا ہنس دیئے کہ آپ کے آگے کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے۔ فرمایا کہ جاؤ تم ہی لے لو۔ اوازاعی کے ساتھ اس حدیث کو یونس نے بھی زہری سے روایت کیا اور عبدالرحمٰن بن خالد نے زہری سے اس حدیث میں بجائے لفظ «ويحك» کے لفظ «ويلك‏.‏» روایت کیا ہے ( معنی دونوں کے ایک ہی ہیں ) ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ‏"‏‏.‏ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ يُكَبِّرُ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:When the Prophet (ﷺ) said, "Sami`a l-lahu liman hamidah," (Allah heard those who sent praises to Him), he would say, "Rabbana wa laka l-hamd." On bowing and raising his head from it the Prophet (ﷺ) used to say Takbir. He also used to say Takbir on rising after the two prostrations. (See Hadith No)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے سعید مقبری سے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو اس کے بعد «اللهم ربنا ولك الحمد» بھی کہتے۔ اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے اور سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم «الله أكبر» کہا کرتے تھے۔