Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ،. وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ الْغَنَمِ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيَبْعَثُ بِهَا، ثُمَّ يَمْكُثُ حَلاَلاً.
Narrated Aisha:I used to twist the garlands for the sheep of the Prophet (ﷺ) and he would send them (to the Ka`ba), and stay as a non-Muhrim
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے حماد نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے (دوسری سند) اور ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہیں سفیان نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بکریوں کے قلادے خود بٹا کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ( بیت اللہ کے لیے ) بھیج دیتے اور خود حلال ہی ہونے کی حالت میں اپنے گھر ٹھہر رہتے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا، وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا، حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الرَّوْحَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ ". فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ، حَتَّى تَرْكَبَ.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) came to Khaibar and when Allah made him victorious and he conquered the town by breaking the enemy's defense, the beauty of Safiya bint Huyai bin Akhtab was mentioned to him and her husband had been killed while she was a bride. Allah's Messenger (ﷺ) selected her for himself and he set out in her company till he reached Sadd-ar-Rawha' where her menses were over and he married her. Then Hais (a kind of meal) was prepared and served on a small leather sheet (used for serving meals). Allah's Messenger (ﷺ) then said to me, "Inform those who are around you (about the wedding banquet)." So that was the marriage banquet given by Allah's Messenger (ﷺ) for (his marriage with) Safiya. After that we proceeded to Medina and I saw that Allah's Messenger (ﷺ) was covering her with a cloak while she was behind him. Then he would sit beside his camel and let Safiya put her feet on his knees to ride (the camel)
ہم سے عبدالغفار بن داؤد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے حسن کی تعریف کی گئی۔ ان کا شوہر قتل ہو گیا تھا۔ وہ خود ابھی دلہن تھیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے پسند کر لیا۔ پھر روانگی ہوئی۔ جب آپ سد الروحاء پہنچے تو پڑاؤ ہوا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں ان کے ساتھ خلوت کی۔ پھر ایک چھوٹے دستر خوان پر حیس تیار کر کے رکھوایا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے قریب کے لوگوں کو ولیمہ کی خبر کر دو۔ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا یہی ولیمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر جب ہم مدینہ کی طرف چلے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباء سے صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے پردہ کرایا۔ اور اپنے اونٹ کو پاس بٹھا کر اپنا ٹخنہ بچھا دیا۔ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹخنے پر رکھ کر سوار ہو گئیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ، وَلَكِنْ لاَ أَجِدُ حَمُولَةً، وَلاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، وَيَشُقُّ عَلَىَّ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقُتِلْتُ، ثُمَّ أُحْيِيتُ ثُمَّ قُتِلْتُ، ثُمَّ أُحْيِيتُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Were it not for the fear that it would be difficult for my followers, I would not have remained behind any Sariya, (army-unit) but I don't have riding camels and have no other means of conveyance to carry them on, and it is hard for me that my companions should remain behind me. No doubt I wish I could fight in Allah's Cause and be martyred and come to life again to be martyred and come to life once more
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوصالح نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میری امت پر یہ امر مشکل نہ گزرتا تو میں کسی سریہ ( یعنی مجاہدین کا ایک چھوٹا سا دستہ جس کی تعداد زیادہ سے زیادہ چالیس ہو ) کی شرکت بھی نہ چھوڑتا۔ لیکن میرے پاس سواری کے اتنے اونٹ نہیں ہیں کہ میں ان کو سوار کر کے ساتھ لے چلوں اور یہ مجھ پر بہت مشکل ہے کہ میرے ساتھی مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔ میری تو یہ خوشی ہے کہ اللہ کے راستے میں میں جہاد کروں، اور شہید کیا جاؤں۔ پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں۔“
وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَخْلٍ فَصَلَّى الْخَوْفَ. وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ نَجْدٍ صَلاَةَ الْخَوْفِ. وَإِنَّمَا جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَيَّامَ خَيْبَرَ.
Jabir added, "We were with the Prophet (ﷺ) at Nakhl and he offered the Fear prayer." Abu Huraira said, "I offered the Fear prayer with the Prophet (ﷺ) during the Ghazwa (i.e. the battle) of Najd." Abu Huraira came to the Prophet (ﷺ) during the day of Khaibar
اور ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام نخل میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف غزوہ نجد میں پڑھی تھی۔ یہ یاد رہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( سب سے پہلے ) غزوہ خیبر کے موقع پر حاضر ہوئے تھے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The Kanz (money, the Zakat of which is not paid) of anyone of you will appear in the form of bald-headed poisonous male snake on the Day of Resurrection
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمہارا خزانہ جس میں زکوٰۃ نہ دی گئی ہو قیامت کے دن گنجے ناگ کی شکل اختیار کرے گا۔
Narrated by Abu Hazim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ اخْتَلَفَ النَّاسُ بِأَىِّ شَىْءٍ دُووِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ، فَسَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَكَانَ مِنْ آخِرِ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ وَمَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، كَانَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلاَمُ تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، وَعَلِيٌّ يَأْتِي بِالْمَاءِ عَلَى تُرْسِهِ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ، فَحُرِّقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ.
Narrated Abu Hazim:The people differed about the type of treatment which had been given to Allah's Messenger (ﷺ) on the day (of the battle) of Uhud. So they asked Sahl bin Sa`d As-Sa`id who was the only surviving Companion (of the Prophet) at Medina. He replied, "Nobody Is left at Medina who knows it better than I. Fatima was washing the blood off his face and `Ali was bringing water in his shield, and then a mat of datepalm leaves was burnt and (the ash) was inserted into the wound
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا کہ اس واقعہ میں لوگوں میں اختلاف تھا کہ احد کی جنگ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کون سی دوا استعمال کی گئی تھی۔ پھر لوگوں نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، وہ اس وقت آخری صحابی تھے جو مدینہ منورہ میں موجود تھے۔ انہوں نے بتلایا کہ اب کوئی شخص ایسا زندہ نہیں جو اس واقعہ کو مجھ سے زیادہ جانتا ہو۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے خون دھو رہی تھیں اور علی رضی اللہ عنہ اپنے ڈھال میں پانی بھر کر لا رہے تھے۔ ( جب بند نہ ہوا تو ) ایک بوریا جلا کر آپ کے زخم میں بھر دیا گیا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ اسْتَقْبَلَهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَالآخَرَ خَلْفَهُ.
Narrated Ibn `Abbas:When the Prophet (ﷺ) arrived at Mecca, the children of Bani `Abdul Muttalib received him. He then mounted one of them in front of him and the other behind him
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے ( فتح کے موقع پر ) تو عبدالمطلب کی اولاد نے ( جو مکہ میں تھی ) آپ کا استقبال کیا۔ ( یہ سب بچے ہی تھے ) آپ نے از راہ محبت ایک بچے کو اپنے سامنے اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ); said, "It is better for anyone of you that the inside of his body be filled with pus which may consume his body, than it be filled with poetry
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوصالح سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ”اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھر لے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھر جائے۔“
Narrated by Asma 'bint Abu Bakr
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرُ مَنْ يَرِدُ عَلَىَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي. فَيُقَالُ هَلْ شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ". فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا. {أَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُونَ} تَرْجِعُونَ عَلَى الْعَقِبِ.
Narrated Asma 'bint Abu Bakr:The Prophet (ﷺ) said, "I will be standing at the Lake-Fount so that I will see whom among you will come to me; and some people will be taken away from me, and I will say, 'O Lord, (they are) from me and from my followers.' Then it will be said, 'Did you notice what they did after you? By Allah, they kept on turning on their heels (turned as renegades).' " The sub-narrator, Ibn Abi Mulaika said, "O Allah, we seek refuge with You from turning on our heels, or being put to trial in our religion
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے نافع بن عمر نے، کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں حوض پر موجود رہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا کہ اے میرے رب! یہ تو میرے ہی آدمی ہیں اور میری امت کے لوگ ہیں۔ مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم بھی ہے انہوں نے تمہارے بعد کیا کام کئے تھے؟ واللہ یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے۔ ( دین اسلام سے پھر گئے ) ابن ابی ملیکہ ( جو کہ یہ حدیث اسماء سے روایت فرماتے ہیں ) کہا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں ( دین سے ) لوٹ جائیں یا اپنے دین کے بارے میں فتنہ میں ڈال دئیے جائیں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ سورۃ مومنون میں جو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «أعقابكم تنكصون» اس کا معنی بھی یہی ہے کہ تم دین سے اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پھر گئے تھے یعنی اسلام سے مرتد ہو گئے تھے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ، قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّا لاَ نَصِلُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي أَشْهُرٍ حُرُمٍ، فَمُرْنَا بِجُمَلٍ مِنَ الأَمْرِ، إِنْ عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ، وَنَدْعُو إِلَيْهَا مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، آمُرُكُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ، وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَتُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ لاَ تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالظُّرُوفِ الْمُزَفَّتَةِ، وَالْحَنْتَمَةِ ".
Narrated Ibn `Abbas:The delegates of `Abdul Qais came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "The pagans of the tribe of Mudar intervene between you and us therefore we cannot come to you except in the Holy months. So please order us to do something good (Religious deeds) by which we may enter Paradise (by acting on them) and we may inform our people whom we have left behind to observe it." The Prophet (ﷺ) said, "I order you to do four things and forbid you from four things: I order you to believe in Allah. Do you know what is meant by belief in Allah? It is to testify that none has the right to be worshipped except Allah, to offer prayers perfectly, to give Zakat, and to give Al-Khumus (one-fifth of the war booty) (in Allah's Cause). And I forbid you four things, (i.e., Do not drink alcoholic drinks) Ad-Dubba, An- Naqir, (pitched water skins), Az-Zuruf, Al-Muzaffat and Al--Hantam (names of utensils used for the preparation of alcoholic drinks)." (See Hadith No. 50, Vol)
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، ان سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابوجمرہ ضبعی نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: تو آپ نے فرمایا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے مشرکین حائل ہیں اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں ہی آ سکتے ہیں۔ اس لیے آپ کچھ ایسے جامع احکام ہمیں بتا دیجئیے کہ اگر ہم ان پر عمل کریں تو جنت میں جائیں اور ان کی طرف ان لوگوں کو دعوت دیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار کاموں کا حکم دیتا ہوں اور چار کاموں سے روکتا ہوں۔ میں تمہیں ایمان باللہ کا حکم دیتا ہوں۔ تمہیں معلوم ہے کہ ایمان باللہ کیا ہے؟ اس کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینے اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ دینے کا حکم دیتا ہوں اور تمہیں چار کاموں سے روکتا ہوں، یہ کہ کدو کی تونبی اور لکڑی کے کریدے ہوئے برتن اور روغنی برتنوں اور سبز لاکھی برتنوں میں مت پیا کرو۔
Narrated by Mutarrif bin `Abdullah
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ،، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ أَخَذَ بِيَدِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَقَالَ قَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم. أَوْ قَالَ لَقَدْ صَلَّى بِنَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Mutarrif bin `Abdullah:`Imran bin Husain and I offered the prayer behind `Ali bin Abi Talib. When `Ali prostrated, he said the Takbir, when he raised his head, he said the Takbir and when he got up for the third rak`a he said the Takbir. On completion of the prayer `Imran took my hand and said, "This (i.e. `Ali) made me remember the prayer of Muhammad" Or he said, "He led us in a prayer like that of Muhammad
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے غیلان بن جریر سے بیان کیا، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے، انہوں نے کہا کہ میں نے اور عمران بن حصین نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ تو وہ جب بھی سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے۔ اسی طرح جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ جب دو رکعات کے بعد اٹھتے تو تکبیر کہتے۔ جب نماز ختم ہوئی تو عمران بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ علی رضی اللہ عنہ نے آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلائی، یا یہ کہا کہ اس شخص نے ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح آج نماز پڑھائی۔