Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ فَتَلْتُ قَلاَئِدَ هَدْىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا ـ أَوْ قَلَّدْتُهَا ـ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَىْءٌ كَانَ لَهُ حِلٌّ.
Narrated `Aisha:I twisted the garlands for the Hadis of the Prophet (ﷺ) and then he marked and garlanded them (or I garlanded them) and then made them proceed to the Ka`ba but he remained in Medina and no permissible thing was regarded as illegal for him then
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے قلادے خود بٹے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشعار کیا اور ہار پہنایا، یا میں نے ہار پہنایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے لیے انہیں بھیج دیا اور خود مدینہ میں ٹھہر گئے لیکن کوئی بھی ایسی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حرام نہیں ہوئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال تھی۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَاعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمُدَبَّرَ.
Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) sold a Mudabbar (on behalf of his master who was still living and in need of money)
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کہیل نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام بیچا تھا۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ، فَقَالَ " مَا رَأَيْنَا مِنْ شَىْءٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ".
Narrated Anas bin Malik:Once there was a feeling of fright at Medina, so Allah's Messenger (ﷺ) rode a horse belonging to Abu Talha and (on his return) he said, "We have not seen anything (fearful), but we found this horse very fast
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ میں ایک دفعہ کچھ دہشت پھیل گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر سوار ہو کر ( حالات معلوم کرنے کے لیے سب سے آگے تھے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تو کوئی بات نہیں دیکھی۔ البتہ اس گھوڑے کو ہم نے دوڑنے میں دریا کی روانی جیسا تیز پایا ہے ( باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے ) ۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، فَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، فَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَامَ هَؤُلاَءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ، وَقَامَ هَؤُلاَءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) led the Fear-prayer with one of the two batches of the army while the other (batch) faced the enemy. Then the first batch went away and took places of their companions (i.e. second batch) and the second batch came and he led his second rak`a with them. Then he (i.e. the Prophet: finished his prayer with Taslim and then each of the two batches got up and completed their remaining one rak`a)
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معمر نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کے ساتھ نماز ( نماز خوف ) پڑھی اور دوسری جماعت اس عرصہ میں دشمن کے مقابلے پر کھڑی تھی۔ پھر یہ جماعت جب اپنے دوسرے ساتھیوں کی جگہ ( نماز پڑھ کر ) چلی گئی تو دوسری جماعت آئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت نماز پڑھائی۔ اس کے بعد آپ نے اس جماعت کے ساتھ سلام پھیرا۔ آخر اس جماعت نے کھڑے ہو کر اپنی ایک رکعت پوری کی اور پہلی جماعت نے بھی کھڑے ہو کر اپنی ایک رکعت پوری کی۔
Narrated by Humaid bin `Abdur-Rahman
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَأَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ فِي مُؤَذِّنِينَ، بَعَثَهُمْ يَوْمَ النَّحْرِ يُؤَذِّنُونَ بِمِنًى أَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ. قَالَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِبَرَاءَةَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِيٌّ يَوْمَ النَّحْرِ فِي أَهْلِ مِنًى بِبَرَاءَةَ، وَأَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ.
Narrated Humaid bin `Abdur-Rahman:Abu Huraira said, "During that Hajj (in which Abu Bakr was the chief of the pilgrims) Abu Bakr sent me along with announcers on the Day of Nahr ( 10th of Dhul-Hijja) in Mina to announce: "No pagans shall perform, Hajj after this year, and none shall perform the Tawaf around the Ka`ba in a naked state." Humaid bin `Abdur Rahman added: Then Allah's Messenger (ﷺ) sent `Ali bin Abi Talib (after Abu Bakr) and ordered him to recite aloud in public Surat Bara'a. Abu Huraira added, "So `Ali, along with us, recited Bara'a (loudly) before the people at Mina on the Day of Nahr and announced; "No pagan shall perform Hajj after this year and none shall perform the Tawaf around the Ka`ba in a naked state
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے (کہا) اور مجھے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس حج کے موقع پر ( جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امیر بنایا تھا ) مجھے بھی اعلان کرنے والوں میں رکھا تھا، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر میں اس لیے بھیجا تھا کہ اعلان کر دیں کہ آئندہ سال سے کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر نہ کرے۔ حمید بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے سے بھیجا اور انہیں سورۃ برات کے احکام کے اعلان کرنے کا حکم دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، چنانچہ ہمارے ساتھ علی رضی اللہ عنہ نے بھی یوم نحر ہی میں سورۃ برات کا اعلان کیا اور اس کا کہ آئندہ سال سے کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی ننگے ہو کر طواف کرے۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَطَالَ أَحَدُكُمُ الْغَيْبَةَ فَلاَ يَطْرُقْ أَهْلَهُ لَيْلاً ".
Narrated Jabir bin `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When anyone of you is away from his house for a long time, he should not return to his family at night
ہم سے محمد بن مقاتل مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو عاصم بن سلیمان نے خبر دی، انہیں عامر شعبی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص زیادہ دنوں تک اپنے گھر سے دور ہو تو یکایک رات کو اپنے گھر میں نہ آ جائے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، مَاذَا أَذْنَبْتُ قَالَ " مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ ". فَقَالَتِ اشْتَرَيْتُهَا لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ـ وَقَالَ ـ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ الْمَلاَئِكَةُ ".
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) I bought a cushion having pictures on it. When Allah's Messenger (ﷺ) saw it, he stopped at the gate and did not enter. I noticed the signs of hatred (for that) on his face! I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I turn to Allah and His Apostle in repentance! What sin have I committed?" He said, "What about this cushion?" I said, 'I bought it for you to sit on and recline on." Allah's Messenger (ﷺ) said, "The makers of these pictures will be punished (severely) on the Day of Resurrection and it will be said to them, 'Make alive what you have created.'" He added, "Angels do not enter a house in which there are pictures
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے نافع نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس میں مورتیں تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر نہیں آئے۔ میں آپ کے چہرے سے ناراضگی پہچان گئی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ سے اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا غلطی کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گدا کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ہی اسے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان مورتوں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اب ان میں جان بھی ڈالو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں مورت ہوتی ہے اس میں ( رحمت کے ) فرشتے نہیں داخل ہوتے۔
Narrated by Al-Haitham bin Abu Sinan
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ الْهَيْثَمَ بْنَ أَبِي سِنَانٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، فِي قَصَصِهِ يَذْكُرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ أَخًا لَكُمْ لاَ يَقُولُ الرَّفَثَ ". يَعْنِي بِذَاكَ ابْنَ رَوَاحَةَ قَالَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْكَافِرِينَ الْمَضَاجِعُ تَابَعَهُ عُقَيْلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَالأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
Narrated Al-Haitham bin Abu Sinan:that he heard Abu Huraira in his narration, mentioning that the Prophet (ﷺ) said, "A Muslim brother of yours who does not say dirty words." and by that he meant Ibn Rawaha, "said (in verse): 'We have Allah's Messenger (ﷺ) with us who recites the Holy Qur'an in the early morning time. He gave us guidance and light while we were blind and astray, so our hearts are sure that whatever he says, will certainly happen. He does not touch his bed at night, being busy in worshipping Allah while the pagans are sound asleep in their beds
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ہشیم بن ابی سنان نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حالات اور قصص کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کر رہے تھے۔ کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ایک بھائی نے کوئی بری بات نہیں کہی۔ آپ کا اشارہ ابن رواحہ کی طرف تھا ( اپنے اشعار میں ) انہوں نے یوں کہا تھا ”اور ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، اس وقت جب فجر کی روشنی پھوٹ کر پھیل جاتی ہے۔ ہمیں انہوں نے گمراہی کے بعد ہدایت کا راستہ دکھایا۔ پس ہمارے دل اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا وہ ضرور واقع ہو گا۔ آپ رات اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کا پہلو بستر سے جدا رہتا ہے ( یعنی جاگ کر ) جب کہ کافروں کے بوجھ سے ان کی خواب گاہیں بوجھل ہوئی رہتی ہیں۔“ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا اور محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عبدالرحمٰن اعرج سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا۔
Narrated by Jundab
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكَ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَنَا فَرَطُكُمْ، عَلَى الْحَوْضِ ".
Narrated Jundab:I heard the Prophet, saying, "I am your predecessor at the Lake-Fount. (Al-Kauthar)
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، ان سے عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حوض پر تم سے پہلے موجود ہوں گا۔
Narrated by `Ali
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالأَعْمَشِ، سَمِعَا سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ فِي جِنَازَةٍ فَأَخَذَ عُودًا فَجَعَلَ يَنْكُتُ فِي الأَرْضِ فَقَالَ " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ أَوْ مِنَ الْجَنَّةِ ". قَالُوا أَلاَ نَتَّكِلُ. قَالَ " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى} ". الآيَةَ.
Narrated `Ali:While the Prophet (ﷺ) was in a funeral procession, he took a stick and started scraping the earth with it and said, "There is none of you but has his place assigned either in Hell or in Paradise." They (the people) said, "Shall we not depend upon that (and give up doing any deeds)?' He said, " Carry on doing (good deeds) for everybody will find it easy to do such deeds as will lead him to his destined place for which he has been created ." (And then the Prophet (ﷺ) recited the Verse):-- 'As for him who gives (in charity) and keeps his duty to Allah
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور اور اعمش نے، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن اسلمیٰ سے اور انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے پھر آپ نے ایک لکڑی لی اور اس سے زمین کریدنے لگے۔ پھر فرمایا تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا ٹھکانہ جہنم میں یا جنت میں لکھا نہ جا چکا ہو۔ صحابہ نے کہا: پھر ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فأما من أعطى واتقى» کہ ”جس شخص نے بخشش کی اور تقویٰ اختیار کیا“ آخر آیت تک۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَالَ الإِمَامُ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} فَقُولُوا آمِينَ. فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنُعَيْمٌ الْمُجْمِرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Say Amen when the Imam says 'Ghairi l-maghdubi `alaihim wala d-daalleen' (not the path of those who earn Your Anger (such as Jews) nor of those who go astray (such as Christians)); all the past sins of the person whose saying (of Amin) coincides with that of the angels, will be forgiven
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی سے، انہوں نے ابوصالح سمان سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم بھی «آمين» کہو کیونکہ جس نے فرشتوں کے ساتھ «آمين» کہی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ سمی کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ اور نعیم مجمر نے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔