بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
25
12 hadith
Narrated by Nafi`
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهم ـ لأَبِيهِ أَقِمْ، فَإِنِّي لاَ آمَنُهَا أَنْ سَتُصَدُّ عَنِ الْبَيْتِ‏.‏ قَالَ إِذًا أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ قَالَ اللَّهُ ‏{‏لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ‏}‏ فَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عَلَى نَفْسِي الْعُمْرَةَ‏.‏ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، قَالَ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَقَالَ مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلاَّ وَاحِدٌ‏.‏ ثُمَّ اشْتَرَى الْهَدْىَ مِنْ قُدَيْدٍ، ثُمَّ قَدِمَ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا، فَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا‏.‏
Narrated Nafi`:`Abdullah (bin `Abdullah) bin `Umar said to his father, "Stay here, for I am afraid that it (affliction between Ibn Az-Zubair and Al-Hajjaj) might prevent you from reaching the Ka`ba." Ibn `Umar said, "(In this case) I would do the same as Allah's Messenger (ﷺ) did, and Allah has said, 'Verily, in Allah's Messenger (ﷺ), you have a good example (to follow).' So, I make you, people, witness that I have made `Umra compulsory for me." So he assumed Ihram for `Umra. Then he went out and when he reached Al- Baida', he assumed Ihram for Hajj and `Umra (together) and said, "The conditions (requisites) of Hajj and `Umra are the same." He, then brought a Hadi from Qudaid. Then he arrived (at Mecca) and performed Tawaf (between Safa and Marwa) once for both Hajj and `Umra and did not finish the Ihram till he had finished both Hajj and `Umra
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے کہا (جب وہ حج کے لیے نکل رہے تھے) کہ آپ نہ جائیے کیوں کہ میرا خیال ہے کہ ( بدامنی کی وجہ سے ) آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا جائے گا۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر میں بھی وہی کام کروں گا جو ( ایسے موقعہ پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے“ میں اب تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے، چنانچہ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا، انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ نکلے اور جب بیداء پہنچے تو حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا اور فرمایا کہ حج اور عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں اس کے بعد قدید پہنچ کر ہدی خریدی پھر مکہ آ کر دونوں کے لیے طواف کیا اور درمیان میں نہیں بلکہ دونوں سے ایک ہی ساتھ حلال ہوئے۔
Narrated by Sa`id bin Abu Al-Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنِّي إِنْسَانٌ، إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي، وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ أُحَدِّثُكَ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ مُعَذِّبُهُ، حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا ‏"‏‏.‏ فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ‏.‏ فَقَالَ وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلاَّ أَنْ تَصْنَعَ، فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ، كُلِّ شَىْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ سَمِعَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ مِنَ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ هَذَا الْوَاحِدَ‏.‏
Narrated Sa`id bin Abu Al-Hasan:While I was with Ibn `Abbas a man came and said, "O father of `Abbas! My sustenance is from my manual profession and I make these pictures." Ibn `Abbas said, "I will tell you only what I heard from Allah's Messenger (ﷺ) . I heard him saying, 'Whoever makes a picture will be punished by Allah till he puts life in it, and he will never be able to put life in it.' " Hearing this, that man heaved a sigh and his face turned pale. Ibn `Abbas said to him, "What a pity! If you insist on making pictures I advise you to make pictures of trees and any other unanimated objects
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہیں عوف بن ابی حمید نے خبر دی، انہیں سعید بن ابی حسن نے، کہا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا، اور کہا کہ اے ابوعباس! میں ان لوگوں میں سے ہوں، جن کی روزی اپنے ہاتھ کی صنعت پر موقوف ہے اور میں یہ مورتیں بناتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس پر فرمایا کہ میں تمہیں صرف وہی بات بتلاؤں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس نے بھی کوئی مورت بنائی تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک عذاب کرتا رہے گا جب تک وہ شخص اپنی مورت میں جان نہ ڈال دے اور وہ کبھی اس میں جان نہیں ڈال سکتا ( یہ سن کر ) اس شخص کا سانس چڑھ گیا اور چہرہ زرد پڑ گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ افسوس! اگر تم مورتیں بنانی ہی چاہتے ہو تو ان درختوں کی اور ہر اس چیز کی جس میں جان نہیں ہے مورتیں بنا سکتے ہو۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ سعید بن ابی عروبہ نے نضر بن انس سے صرف یہی ایک حدیث سنی ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَتِ الأَنْصَارُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ تَقُولُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا حَيِينَا أَبَدَا فَأَجَابَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَهْ فَأَكْرِمِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
Narrated Anas:On the day (of the battle) of the Trench, the Ansar were saying, "We are those who have sworn allegiance to Muhammad for Jihad (for ever) as long as we live." The Prophet (ﷺ) replied to them, "O Allah! There is no life except the life of the Hereafter. So honor the Ansar and emigrants with Your Generosity
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا۔ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ بیان کرتے تھے کہ انصار خندق کھودتے ہوئے ( غزوہ خندق کے موقع پر ) کہتے تھے «نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما حيينا أبدا» ”ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جہاد پر بیعت کی ہے ہمیشہ کے لیے، جب تک ہمارے جسم میں جان ہے۔“
Narrated by Salman
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ فَتْرَةٌ بَيْنَ عِيسَى وَمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم سِتُّمِائَةِ سَنَةٍ‏.‏
Narrated Salman:The interval between Jesus and Muhammad was six hundred years
مجھ سے حسن بن مدرک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، انہیں عاصم احول نے، انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں «فترة» کا زمانہ ( یعنی جس میں کوئی پیغمبر نہیں آیا ) چھ سو برس کا وقفہ گزرا ہے۔
Narrated by Abu Burda
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ، فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا وَنَقِبَتْ قَدَمَاىَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي، وَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ، فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ، لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ مِنَ الْخِرَقِ عَلَى أَرْجُلِنَا، وَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا، ثُمَّ كَرِهَ ذَاكَ، قَالَ مَا كُنْتُ أَصْنَعُ بِأَنْ أَذْكُرَهُ‏.‏ كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَىْءٌ مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ‏.‏
Narrated Abu Burda:Abu Musa said, "We went out in the company of the Prophet (ﷺ) for a Ghazwa and we were six persons having one camel which we rode in rotation. So, (due to excessive walking) our feet became thin and my feet became thin and my nail dropped, and we used to wrap our feet with the pieces of cloth, and for this reason, the Ghazwa was named Dhat-ur-Riqa as we wrapped our feet with rags." When Abu- Musa narrated this (Hadith), he felt regretful to do so and said, as if he disliked to have disclosed a good deed of his
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوامامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کے لیے نکلے۔ ہم چھ ساتھی تھے اور ہم سب کے لیے صرف ایک اونٹ تھا ‘ جس پر باری باری ہم سوار ہوتے تھے۔ ( پیدل طویل اور پر مشقت سفر کی وجہ سے ) ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے بھی پاؤں پھٹ گئے تھے۔ ناخن بھی جھڑ گئے تھے۔ چنانچہ ہم قدموں پر کپڑے کی پٹی باندھ باندھ کر چل رہے تھے۔ اسی لیے اس کا نام غزوہ ذات الرقاع پڑا ‘ کیونکہ ہم نے قدموں کو پٹیوں سے باندھ رکھا تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث تو بیان کر دی ‘ لیکن پھر ان کو اس کا اظہار اچھا نہیں معلوم ہوا۔ فرمانے لگے کہ مجھے یہ حدیث بیان نہ کرنی چاہیے تھی۔ ان کو اپنا نیک عمل ظاہر کرنا برا معلوم ہوا۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَجُلاً، جَاءَهُ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلاَ تَسْمَعُ مَا ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ، فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ لاَ تُقَاتِلَ كَمَا ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ‏.‏ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَغْتَرُّ بِهَذِهِ الآيَةِ وَلاَ أُقَاتِلُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَغْتَرَّ بِهَذِهِ الآيَةِ الَّتِي يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا‏}‏ إِلَى آخِرِهَا‏.‏ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ ‏{‏وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ‏}‏‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ قَدْ فَعَلْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ كَانَ الإِسْلاَمُ قَلِيلاً، فَكَانَ الرَّجُلُ يُفْتَنُ فِي دِينِهِ، إِمَّا يَقْتُلُوهُ وَإِمَّا يُوثِقُوهُ، حَتَّى كَثُرَ الإِسْلاَمُ، فَلَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ، فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُ لاَ يُوَافِقُهُ فِيمَا يُرِيدُ قَالَ فَمَا قَوْلُكَ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ مَا قَوْلِي فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ أَمَّا عُثْمَانُ فَكَانَ اللَّهُ قَدْ عَفَا عَنْهُ، فَكَرِهْتُمْ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُ، وَأَمَّا عَلِيٌّ فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَخَتَنُهُ‏.‏ وَأَشَارَ بِيَدِهِ وَهَذِهِ ابْنَتُهُ أَوْ بِنْتُهُ حَيْثُ تَرَوْنَ‏.‏
Narrated Ibn `Umar:That a man came to him (while two groups of Muslims were fighting) and said, "O Abu `Abdur Rahman! Don't you hear what Allah has mentioned in His Book: 'And if two groups of believers fight against each other...' (49.9) So what prevents you from fighting as Allah has mentioned in His Book?"' Ibn `Umar said, "O son of my brother! I would rather be blamed for not fighting because of this Verse than to be blamed because of another Verse where Allah says: 'And whoever kills a believer intentionally..." (4.93) Then that man said, "Allah says:-- 'And fight them until there is no more afflictions (worshipping other besides Allah) and the religion (i.e. worship) will be all for Allah (Alone)" (8.39) Ibn `Umar said, "We did this during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) when the number of Muslims was small, and a man was put to trial because of his religion, the pagans would either kill or chain him; but when the Muslims increased (and Islam spread), there was no persecution." When that man saw that Ibn `Umar did not agree to his proposal, he said, "What is your opinion regarding `Ali and `Uthman?" Ibn `Umar said, "What is my opinion regarding `Ali and `Uthman? As for `Uthman, Allah forgave him and you disliked to forgive him, and `Ali is the cousin and son-in-law of Allah's Messenger (ﷺ) ." Then he pointed out with his hand and said, "And that is his daughter's (house) which you can see
ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن یحییٰ نے، کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے، انہوں نے بکر بن عمرو سے، انہوں نے بکیر سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ ایک شخص ( حبان یا علاء بن عرار نامی ) نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! آپ نے قرآن کی یہ آیت نہیں سنی «وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا‏» کہ ”جب مسلمانوں کی دو جماعتیں لڑنے لگیں“ الخ، اس آیت کے بموجب تم ( علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں سے ) کیوں نہیں لڑتے جیسے اللہ نے فرمایا «فقاتلوا التي تبغيإ» ۔ انہوں نے کہا میرے بھتیجے! اگر میں اس آیت کی تاویل کر کے مسلمانوں سے نہ لڑوں تو یہ مجھ کو اچھا معلوم ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ میں اس آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا‏» کی تاویل کروں۔ وہ شخص کہنے لگا اچھا اس آیت کو کیا کرو گے جس میں مذکور ہے «وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة‏» کہ ”ان سے لڑو تاکہ فتنہ باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ کا ہو جائے۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ( واہ، واہ ) یہ لڑائی تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کر چکے، اس وقت مسلمان بہت تھوڑے تھے اور مسلمان کو اسلام اختیار کرنے پر تکلیف دی جاتی۔ قتل کرتے، قید کرتے یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا۔ مسلمان بہت ہو گئے اب فتنہ جو اس آیت میں مذکور ہے وہ کہاں رہا۔ جب اس شخص نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کسی طرح لڑائی پر اس کے موافق نہیں ہوتے تو کہنے لگا اچھا بتلاؤ علی رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں تمہارا کیا اعتقاد ہے؟ انہوں نے کہا ہاں یہ کہو تو سنو، علی اور عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں اپنا اعتقاد بیان کرتا ہوں۔ عثمان رضی اللہ عنہ کا جو قصور تم بیان کرتے ہو ( کہ وہ جنگ احد میں بھاگ نکلے ) تو اللہ نے ان کا یہ قصور معاف کر دیا مگر تم کو یہ معافی پسند نہیں ( جب تو اب تک ان پر قصور لگاتے جاتے ہو ) اور علی رضی اللہ عنہ تو ( سبحان اللہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور آپ داماد بھی تھے اور ہاتھ سے اشارہ کر کے بتلایا یہ ان کا گھر ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَىَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ ‏"‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ‏.‏ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَةِ‏.‏
Narrated `Aisha:My foster uncle came and asked permission (to enter) but I refused to admit him till I asked Allah's Apostle about that. He said, "He is your uncle, so allow him to come in." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have been suckled by a woman and not by a man." Allah's Messenger (ﷺ) said, "He is your uncle, so let him enter upon you." And that happened after the order of Al-Hijab (compulsory veiling) was revealed. All things which become unlawful because of blood relations are unlawful because of the corresponding foster suckling relations
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے دودھ چچا ( رضاعی چچا، افلح ) آئے اور میرے پاس اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن میں نے کہا کہ جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، اجازت نہیں دے سکتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے رضاعی چچا ہیں، انہیں اندر بلا لو۔ میں نے اس پر کہا کہ یا رسول اللہ! عورت نے مجھے دودھ پلایا تھا کوئی مرد نے تھوڑا ہی پلایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہیں تو وہ تمہارے چچا ہی ( رضاعی ) اس لیے وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں، یہ واقعہ ہمارے لیے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ خون سے جو چیزیں حرام ہوتی ہیں رضاعت سے بھی وہ حرام ہو جاتی ہیں۔
وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ‏.‏
Aisha added:The Prophet (ﷺ) and I used to take a bath from one container (of water)
اور میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل جنابت کیا کرتے تھے۔
Narrated by Jundub
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، سَمِعْتُ جُنْدَبًا، يَقُولُ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي إِذْ أَصَابَهُ حَجَرٌ فَعَثَرَ فَدَمِيَتْ إِصْبَعُهُ فَقَالَ ‏ "‏ هَلْ أَنْتِ إِلاَّ إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ ‏"‏‏.‏
Narrated Jundub:While the Prophet (ﷺ) was walking, a stone hit his foot and stumbled and his toe was injured. He then (quoting a poetic verse) said, "You are not more than a toe which has been bathed in blood in Allah's Cause
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے جندب بن عبداللہ بجلی سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ آپ کو پتھر سے ٹھوکر لگی اور آپ گر پڑے، اس سے آپ کی انگلی سے خون بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا ”تو تو اک انگلی ہے اور کیا ہے جو زخمی ہو گئی… کیا ہوا اگر راہ مولیٰ میں تو زخمی ہو گئی۔“
قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَنِي النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ، فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتَ مِنْ، سَهْلٍ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ وَهْوَ يَزِيدُ فِيهَا ‏ "‏ فَأَقُولُ إِنَّهُمْ مِنِّي‏.‏ فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ‏.‏ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِي ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سُحْقًا بُعْدًا، يُقَالُ سَحِيقٌ بَعِيدٌ، وَأَسْحَقَهُ أَبْعَدَهُ‏.‏
Abu Hazim added:An-Nu`man bin Abi `Aiyash, on hearing me, said. "Did you hear this from Sahl?" I said, "Yes." He said, " I bear witness that I heard Abu Sa`id Al-Khudri saying the same, adding that the Prophet (ﷺ) said: 'I will say: They are of me (i.e. my followers). It will be said, 'You do not know what they innovated (new things) in the religion after you left'. I will say, 'Far removed, far removed (from mercy), those who changed (their religion) after me
ابوحازم نے بیان کیا کہ یہ حدیث مجھ سے نعمان بن ابی عیاش نے سنی اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اسی طرح سنی تھی اور وہ اس حدیث میں کچھ زیادتی کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ ( یعنی یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ) میں کہوں گا کہ یہ تو مجھ میں سے ہیں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔ اس پر میں کہوں گا کہ دور ہو وہ شخص جس نے میرے بعد دین میں تبدیلی کر لی تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ «سحقا» بمعنی «بعدا» ہے، «سحيق» یعنی «بعيد»،‏‏‏‏ «أسحقه» یعنی «أبعده‏.‏» ۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُتَوَارِيًا بِمَكَّةَ، وَكَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ، فَإِذَا سَمِعَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا‏}‏
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) was hiding himself in Mecca and used to recite the (Qur'an) in a loud voice. When the pagans heard him they would abuse the Qur'an and the one who brought it, so Allah said to His Prophet: 'Neither say your prayer aloud, nor say it in a low tone
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں چھپ کر تبلیغ کرتے تھے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے، مشرکین جب سنتے تو قرآن کو برا بھلا کہتے اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ”اپنی نماز میں نہ آواز بلند کرو اور نہ بہت پست۔“
Narrated by Abu Ma`mar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قُلْتُ لِخَبَّابٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ عَلِمْتَ قَالَ بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ‏.‏
Narrated Abu Ma`mar:We said to Khabbab "Did Allah's Messenger (ﷺ) used to recite in Zuhr and `Asr prayers?" He replied in the affirmative. We said, "How did you come to know about it?" He said, "By the movement of his beard
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے اعمش سے بیان کیا، وہ عمارہ بن عمیر سے، وہ ابومعمر عبداللہ بن مخبرہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآن مجید پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! ہم نے پوچھا کہ آپ کو معلوم کس طرح ہوتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کے ہلنے سے۔