بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
25
11 hadith
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏‏.‏ ثَلاَثًا‏.‏
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) saw a man driving a Badana. He said, "Ride on it." The man replied, "It is a Badana." The Prophet (ﷺ) said (again), "Ride on it." He (the man) said, "It is a Badana." The Prophet (ﷺ) said thrice, "Ride on it
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام اور شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کا جانور لیے جا رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا اس نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوا ر ہو جا اس نے پھر عرض کیا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پھر فرمایا کہ سوار ہو جا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my soul is, son of Mary (Jesus) will shortly descend amongst you people (Muslims) as a just ruler and will break the Cross and kill the pig and abolish the Jizya (a tax taken from the non-Muslims, who are in the protection, of the Muslim government). Then there will be abundance of money and nobody will accept charitable gifts
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن مسیب نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ آنے والا ہے جب ابن مریم ( عیسیٰ علیہ السلام ) تم میں ایک عادل اور منصف حاکم کی حیثیت سے اتریں گے۔ وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، سوروں کو مار ڈالیں گے اور جزیہ کو ختم کر دیں گے۔ اس وقت مال کی اتنی زیادتی ہو گی کہ کوئی لینے والا نہ رہے گا۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ رَجَعْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَمَا اجْتَمَعَ مِنَّا اثْنَانِ عَلَى الشَّجَرَةِ الَّتِي بَايَعْنَا تَحْتَهَا، كَانَتْ رَحْمَةً مِنَ اللَّهِ‏.‏ فَسَأَلْتُ نَافِعًا عَلَى أَىِّ شَىْءٍ بَايَعَهُمْ عَلَى الْمَوْتِ قَالَ لاَ، بَايَعَهُمْ عَلَى الصَّبْرِ‏.‏
Narrated Ibn `Umar:When we reached (Hudaibiya) in the next year (of the treaty of Hudaibiya), not even two men amongst us agreed unanimously as to which was the tree under which we had given the pledge of allegiance, and that was out of Allah's Mercy. (The sub narrator asked Naf'i, "For what did the Prophet (ﷺ) take their pledge of allegiance, was it for death?" Naf'i replied "No, but he took their pledge of allegiance for patience
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ( صلح حدیبیہ کے بعد ) جب ہم دوسرے سال پھر آئے، تو ہم میں سے ( جنہوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ) دو شخص بھی اس درخت کی نشان دہی پر متفق نہیں ہو سکے۔ جس کے نیچے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اور یہ صرف اللہ کی رحمت تھی۔ جویریہ نے کہا، میں نے نافع سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے کس بات پر بیعت کی تھی، کیا موت پر لی تھی؟ فرمایا کہ نہیں، بلکہ صبر و استقامت پر بیعت لی تھی۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ هُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ، جَزَّءُوهُ أَجْزَاءً، فَآمَنُوا بِبَعْضِهِ وَكَفَرُوا بِبَعْضِهِ‏.‏ ‏{‏يَعْنِي قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ ‏}‏
Narrated Ibn `Abbas:They, the people of the Scriptures, divided this Scripture into parts, believing in some portions of it and disbelieving the others. (See 15:)
مجھ سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا کہا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا کہا، ہم کو ابوبشر (جابر بن ابی وحشیہ) نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ وہ اہل کتاب ہی تو ہیں جنہوں نے آسمانی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، بعض باتوں پر ایمان لائے اور بعض باتوں کا انکار کیا۔
Narrated by Jabir bin Abdullah (ra)
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ فِي غَزْوَةِ السَّابِعَةِ غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْخَوْفَ بِذِي قَرَدٍ‏.‏
Narrated Jabir bin Abdullah (ra):The Prophet (ﷺ) led his Companions in the Fear Prayer in the seventh Ghazwa i.e. the Ghazwa of Dhat-ur-Riqa. Ibn Abbas said, "The Prophet (ﷺ) offered the Fear Prayer at a place called Dhi-Qarad
اور عبداللہ بن رجاء نے کہا ‘ انہیں عمران قطان نے خبر دی ‘ انہیں یحییٰ بن کثیر نے ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز خوف ساتویں غزوہ میں پڑھی تھی۔ یعنی غزوہ ذات الرقاع میں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف ذو قرد میں پڑھی تھی۔
Narrated by Abu Sa`id bin Al-Mu'alla
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَعَانِي فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ‏}‏ ثُمَّ قَالَ لأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ ‏"‏‏.‏ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيَخْرُجَ فَذَكَرْتُ لَهُ‏.‏ وَقَالَ مُعَاذٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبٍ، سَمِعَ حَفْصًا، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ، رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا، وَقَالَ هِيَ ‏{‏الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏}‏ السَّبْعُ الْمَثَانِي‏.‏
Narrated Abu Sa`id bin Al-Mu'alla:While I was praying, Allah's Messenger (ﷺ) passed me and called me, but I did not go to him until I had finished the prayer. Then I went to him, and he said, "What prevented you from coming to me? Didn't Allah say:-- "O you who believe! Answer the call of Allah (by obeying Him) and His Apostle when He calls you?" He then said, "I will inform you of the greatest Sura in the Qur'an before I leave (the mosque)." When Allah's Messenger (ﷺ) got ready to leave (the mosque), I reminded him. He said, "It is: 'Praise be to Allah, the Lord of the worlds.' (i.e. Surat-al-Fatiha) As-sab'a Al-Mathani (the seven repeatedly recited Verses)
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے حفص بن عاصم سے سنا اور ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نہ پہنچ سکا بلکہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ آنے میں دیر کیوں ہوئی؟ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم نہیں دیا ہے «يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم» کہ ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو، جبکہ وہ ( یعنی رسول ) تم کو بلائیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تمہیں قرآن کی عظیم ترین سورۃ سکھاؤں گا۔ تھوڑی دیر بعد آپ باہر تشریف لے جانے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا۔ اور معاذ بن معاذ عنبری نے اس حدیث کو یوں روایت کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب نے، انہوں نے حفص سے سنا اور انہوں نے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، سنا اور انہوں نے بیان کیا وہ ( سورۃ فاتحه ) «الحمد لله رب العالمين» ہے جس میں سات آیتیں ہیں جو ہر نماز میں مکرر پڑھی جاتی ہیں۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ عِيسَى، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَسْأَمُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ‏.‏
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) was screening me with his Rida' (garment covering the upper part of the body) while I was looking at the Ethiopians who were playing in the courtyard of the mosque. (I continued watching) till I was satisfied. So you may deduce from this event how a little girl (who has not reached the age of puberty) who is eager to enjoy amusement should be treated in this respect
ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے اپنی چادر سے پردہ کئے ہوئے ہیں۔ میں حبشہ کے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں ( جنگی ) کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے، آخر میں ہی اکتا گئی۔ اب تم سمجھ لو ایک کم عمر لڑکی جس کو کھیل تماشہ دیکھنے کا بڑا شوق ہے کتنی دیر تک دیکھتی رہی ہو گی۔
Narrated by Abu Zur'a
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ فَرَأَى أَعْلاَهَا مُصَوِّرًا يُصَوِّرُ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً، وَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً ‏"‏‏.‏ ثُمَّ دَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ حَتَّى بَلَغَ إِبْطَهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَشَىْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ مُنْتَهَى الْحِلْيَةِ‏.‏
Narrated Abu Zur'a:l entered a house in Medina with Abu Huraira, and he saw a man making pictures at the top of the house. Abu Huraira said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying that Allah said, 'Who would be more unjust than the one who tries to create the like of My creatures? Let them create a grain: let them create a gnat.' "Abu Huraira then asked for a water container and washed his arms up to his armpits. I said, "0 Abu i Huraira! Is this something you have heard I from Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "The limit for ablution is up to the place where the ornaments will reach on the Day of Resurrection
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے، کہا ہم سے عمارہ نے، کہا ہم سے ابوزرعہ نے، کہا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ( مروان بن حکم کے گھر میں ) گیا تو انہوں نے چھت پر ایک مصور کو دیکھا جو تصویر بنا رہا تھا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ) اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو میری مخلوق کی طرح پیدا کرنے چلا ہے اگر اسے یہی گھمنڈ ہے تو اسے چاہیئے کہ ایک دانہ پیدا کرے، ایک چیونٹی پیدا کرے۔ پھر انہوں نے پانی کا ایک طشت منگوایا اور اپنے ہاتھ اس میں دھوئے۔ جب بغل دھونے لگے تو میں نے عرض کیا ابوہریرہ! کیا ( بغل تک دھونے کے بارے میں ) تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے انہوں نے کہا میں نے جہاں تک زیور پہنا جا سکتا ہے وہاں تک دھویا ہے۔
Narrated by Rafi` bin Khadij and Sahl bin Abu Hathma
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، مَوْلَى الأَنْصَارِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَيَا خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَحُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَتَكَلَّمُوا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَبِّرِ الْكُبْرَ ‏"‏‏.‏ ـ قَالَ يَحْيَى لِيَلِيَ الْكَلاَمَ الأَكْبَرُ ـ فَتَكَلَّمُوا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَسْتَحِقُّونَ قَتِيلَكُمْ ـ أَوْ قَالَ صَاحِبَكُمْ ـ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْرٌ لَمْ نَرَهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ فِي أَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ‏.‏ فَوَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ قِبَلِهِ‏.‏ قَالَ سَهْلٌ فَأَدْرَكْتُ نَاقَةً مِنْ تِلْكَ الإِبِلِ، فَدَخَلَتْ مِرْبَدًا لَهُمْ فَرَكَضَتْنِي بِرِجْلِهَا‏.‏ قَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ بُشَيْرٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ يَحْيَى حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مَعَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ بُشَيْرٍ عَنْ سَهْلٍ وَحْدَهُ‏.‏
Narrated Rafi` bin Khadij and Sahl bin Abu Hathma:`Abdullah bin Sahl and Muhaiyisa bin Mas`ud went to Khaibar and they dispersed in the gardens of the date-palm trees. `Abdullah bin Sahl was murdered. Then `Abdur-Rahman bin Sahl, Huwaiyisa and Muhaiyisa, the two sons of Mas`ud, came to the Prophet (ﷺ) and spoke about the case of their (murdered) friend. `Abdur-Rahman who was the youngest of them all, started talking. The Prophet (ﷺ) said, "Let the older (among you) speak first." So they spoke about the case of their (murdered) friend. The Prophet (ﷺ) said, "Will fifty of you take an oath whereby you will have the right to receive the blood money of your murdered man," (or said, "..your companion"). They said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The murder was a thing we did not witness." The Prophet (ﷺ) said, "Then the Jews will release you from the oath, if fifty of them (the Jews) should take an oath to contradict your claim." They said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! They are disbelievers (and they will take a false oath)." Then Allah's Messenger (ﷺ) himself paid the blood money to them
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَحَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ إِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ قُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ‏.‏ فَإِذَا طِينُهُ ـ أَوْ طِيبُهُ ـ مِسْكٌ أَذْفَرُ ‏"‏‏.‏ شَكَّ هُدْبَةُ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said: "While I was walking in Paradise (on the night of Mi'raj), I saw a river, on the two banks of which there were tents made of hollow pearls. I asked, "What is this, O Gabriel?' He said, 'That is the Kauthar which Your Lord has given to you.' Behold! Its scent or its mud was sharp smelling musk!" (The sub-narrator, Hudba is in doubt as to the correct expression)
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند) اور ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں جنت میں چل رہا تھا کہ میں ایک نہر پر پہنچا اس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے گنبد بنے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو دیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس کی خوشبو یا مٹی تیز مشک جیسی تھی۔ راوی ہدبہ کو شک تھا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَىْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:that he heard the Prophet (ﷺ) saying, "Allah does not listen to anything as He listens to the recitation of the Qur'an by a Prophet who recites it in attractive audible sweet sounding voice
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے یزید نے بیان کیا ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے اچھی آواز سے پڑھنے پر نبی کے قرآن مجید کو سنتا ہے۔