Narrated by Abu Jamra
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ الْمُتْعَةِ، فَأَمَرَنِي بِهَا، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْهَدْىِ، فَقَالَ فِيهَا جَزُورٌ أَوْ بَقَرَةٌ أَوْ شَاةٌ أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ قَالَ وَكَأَنَّ نَاسًا كَرِهُوهَا، فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ إِنْسَانًا يُنَادِي حَجٌّ مَبْرُورٌ، وَمُتْعَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ. فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَقَالَ آدَمُ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَغُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ.
Narrated Abu Jamra:I asked Ibn `Abbas about Hajj-at-Tamattu`. He ordered me to perform it. I asked him about the Hadi (sacrifice). He said, "You have to slaughter a camel, a cow or a sheep, or you may share the Hadi with the others." It seemed that some people disliked it (Hajj-at-Tamattu`). I slept and dreamt as if a person was announcing: "Hajj Mabrur and accepted Mut'ah (Hajj-at-Tamattu`)" I went to Ibn `Abbas and narrated it to him. He said, "Allah is Greater. (That was) the tradition of Abu Al-Qasim (i.e. Prophet). Narrated Shu`ba that the call in the dream was. "An accepted `Umra and Hajj-Mabrur
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہیں نضر بن شمیل نے خبر دی، انہیں شعبہ نے خبر دی، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو آپ نے مجھے اس کے کرنے کا حکم دیا، پھر میں نے قربانی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تمتع میں ایک اونٹ، یا ایک گائے یا ایک بکری ( کی قربانی واجب ہے ) یا کسی قربانی ( اونٹ، یا گائے بھینس کی ) میں شریک ہو جائے، ابوجمرہ نے کہا کہ بعض لوگ تمتع کو ناپسندیدہ قرار دیتے تھے۔ پھر میں سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص پکار رہا ہے یہ حج مبرور ہے اور یہ مقبول تمتع ہے۔ اب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے خواب کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ اکبر! یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ کہا کہ وہب بن جریر اور غندر نے شعبہ کے حوالہ سے یوں نقل کیا ہے «عمرة متقبلة، وحج مبرور» ( اس میں عمرہ کا ذکر پہلے ہے یعنی یہ عمرہ مقبول اور حج مبرور ہے ) ۔
Narrated by `Urwa bin Az-Zubair
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ ـ أَوْ أَتَحَنَّتُ بِهَا ـ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صِلَةٍ وَعَتَاقَةٍ وَصَدَقَةٍ، هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ قَالَ حَكِيمٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ ".
Narrated `Urwa bin Az-Zubair:Hakim bin Hizam said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I used to do good deeds in the Pre-Islamic period of Ignorance, e.g., keeping good relations with my Kith and kin, manumitting slaves and giving alms. Shall I receive a reward for all that?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "You embraced Islam with all the good deeds which you did in the past
ہم سے ابوالولیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی انہیں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ان نیک کاموں کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے، جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں صلہ رحمی، غلام آزاد کرنے اور صدقہ دینے کے سلسلہ میں کیا کرتا تھا کیا ان اعمال کا بھی مجھے ثواب ملے گا؟ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنی نیکیاں تم پہلے کر چکے ہو ان سب کے ساتھ اسلام لائے ہو۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ حَقٌّ، مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِالْمَعْصِيَةِ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَةَ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet said, "It is obligatory for one to listen to and obey (the ruler's orders) unless these orders involve one of disobedience (to Allah); but if an act of disobedience (to Allah) is imposed, he should not listen to or obey it
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے۔ (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( خلیفہ وقت کے احکام ) سننا اور انہیں بجا لانا ( ہر مسلمان کے لیے ) واجب ہے، جب تک کہ گناہ کا حکم نہ دیا جائے۔ اگر گناہ کا حکم دیا جائے تو پھر نہ اسے سننا چاہئے اور نہ اس پر عمل کرنا چاہئے۔“
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ، فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْفَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ، وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ ". ثُمَّ أَمَرَ بِصَوْمِهِ.
Narrated Ibn `Abbas:When the Prophet (ﷺ) arrived at Medina he found that the Jews observed fast on the day of 'Ashura'. They were asked the reason for the fast. They replied, "This is the day when Allah caused Moses and the children of Israel to have victory over Pharaoh, so we fast on this day as a sign of glorifying it." Allah's Messenger (ﷺ) said, "We are closer to Moses than you." Then he ordered that fasting on this day should be observed
ہم سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبشر جعفر نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ اس کے متعلق ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون پر فتح عنایت فرمائی تھی چنانچہ ہم اس دن کی تعظیم میں روزہ رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام سے تمہاری بہ نسبت زیادہ قریب ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِحَسَّانَ " اهْجُهُمْ ـ أَوْ هَاجِهِمْ ـ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ ".
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) said to Hassan, "Abuse them (with your poems), and Gabriel is with you (i.e, supports you)." (Through another group of sub narrators) Al-Bara bin Azib said, "On the day of Quraiza's (besiege), Allah's Messenger (ﷺ) said to Hassan bin Thabit, 'Abuse them (with your poems), and Gabriel is with you (i.e. supports you)
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو کر یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بجائے ) «هاجهم» فرمایا جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
Narrated by Sa`id bin Jubair
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ سُورَةُ الأَنْفَالِ قَالَ نَزَلَتْ فِي بَدْرٍ. الشَّوْكَةُ الْحَدُّ {مُرْدَفِينَ} فَوْجًا بَعْدَ فَوْجٍ، رَدِفَنِي وَأَرْدَفَنِي جَاءَ بَعْدِي {ذُوقُوا} بَاشِرُوا وَجَرِّبُوا وَلَيْسَ هَذَا مِنْ ذَوْقِ الْفَمِ {فَيَرْكُمَهُ} يَجْمَعُهُ. {شَرِّدْ} فَرِّقْ {وَإِنْ جَنَحُوا} طَلَبُوا {يُثْخِنَ} يَغْلِبَ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ {مُكَاءً} إِدْخَالُ أَصَابِعِهِمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ وَ{تَصْدِيَةً} الصَّفِيرُ {لِيُثْبِتُوكَ} لِيَحْبِسُوكَ.
Narrated Sa`id bin Jubair:I asked Ibn `Abbas regarding Surat-al-Anfal. He said, "It was revealed in connection with the Battle of Badr
مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشیم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابوبشر نے خبر دی، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ الانفال کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتلایا کہ غزوہ بدر میں نازل ہوئی تھی۔ «الشوكة» کا معنی دھار نوک۔ «مردفين» کے معنی فوج در فوج۔ کہتے ہیں «ردفني وأردفني» یعنی میرے بعد آیا۔ «ذلكم فذوقوه ذوقوا» کا معنی یہ ہے کہ یہ عذاب اٹھاؤ اس کا تجربہ کرو، منہ سے چکھنا مراد نہیں ہے۔ «فيركمه» کا معنی اس کا جمع کرے۔ «شرد» کا معنی جدا کر دے ( یا سخت سزا دے ) ۔ «جنحوا» کے معنی طلب کریں۔ «يثخن» کا معنی غالب ہوا اور مجاہد نے کہا «مكاء» کا معنی انگلیاں منہ پر رکھنا۔ «تصدية» سیٹی بجانا۔ «يثبتوك» تاکہ تجھ کو قید کر لیں۔
Narrated by `Amr bin Maimun [??]
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ السُّرْمَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ، وَجَمْعُ قُرَيْشٍ فِي مَجَالِسِهِمْ إِذْ قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ أَلاَ تَنْظُرُونَ إِلَى هَذَا الْمُرَائِي أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى جَزُورِ آلِ فُلاَنٍ، فَيَعْمِدُ إِلَى فَرْثِهَا وَدَمِهَا وَسَلاَهَا فَيَجِيءُ بِهِ، ثُمَّ يُمْهِلُهُ حَتَّى إِذَا سَجَدَ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَانْبَعَثَ أَشْقَاهُمْ، فَلَمَّا سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، وَثَبَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَاجِدًا، فَضَحِكُوا حَتَّى مَالَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ مِنَ الضَّحِكِ، فَانْطَلَقَ مُنْطَلِقٌ إِلَى فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ وَهْىَ جُوَيْرِيَةٌ، فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى وَثَبَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَاجِدًا حَتَّى أَلْقَتْهُ عَنْهُ، وَأَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَسُبُّهُمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ قَالَ " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ـ ثُمَّ سَمَّى ـ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ، ثُمَّ سُحِبُوا إِلَى الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأُتْبِعَ أَصْحَابُ الْقَلِيبِ لَعْنَةً ".
Narrated `Amr bin Maimun [??]:`Abdullah bin Mas`ud said, "While Allah's Messenger (ﷺ) was praying beside the Ka`ba, there were some Quraish people sitting in a gathering. One of them said, 'Don't you see this (who does deeds just to show off)? Who amongst you can go and bring the dung, blood and the Abdominal contents (intestines, etc.) of the slaughtered camels of the family of so and so and then wait till he prostrates and put that in between his shoulders?' The most unfortunate amongst them (`Uqba bin Abi Mu'ait) went (and brought them) and when Allah's Messenger (ﷺ) prostrated, he put them between his shoulders. The Prophet remained in prostration and they laughed so much so that they fell on each other. A passerby went to Fatima, who was a young girl in those days. She came running and the Prophet (ﷺ) was still in prostration. She removed them and cursed upon the Quraish on their faces. When Allah's Messenger (ﷺ) completed his prayer, he said, 'O Allah! Take revenge on Quraish.' He said so thrice and added, 'O Allah! take revenge on `Amr bin Hisham, `Utba bin Rabi`a, Shaiba bin Rabi`a, Al-Walid bin `Utba, Umaiya bin Khalaf, `Uqba bin Abi Mu'ait and `Umara bin Al-Walid." `Abdullah added, "By Allah! I saw all of them dead in the battle field on the day of Badr and they were dragged and thrown in the Qalib (a well) at Badr: Allah's Messenger (ﷺ) then said, 'Allah's curse has descended upon the people of the Qalib (well)
ہم سے احمد بن اسحاق سرماری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسرائیل نے ابواسحاق کے واسطہ سے بیان کیا۔ انہوں نے عمرو بن میمون سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پاس کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ قریش اپنی مجلس میں ( قریب ہی ) بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ان میں سے ایک قریشی بولا اس ریاکار کو نہیں دیکھتے؟ کیا کوئی ہے جو فلاں قبیلہ کے ذبح کئے ہوئے اونٹ کا گوبر، خون اور اوجھڑی اٹھا لائے۔ پھر یہاں انتظار کرے۔ جب یہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) سجدہ میں جائے تو گردن پر رکھ دے ( چنانچہ اس کام کو انجام دینے کے لیے ) ان میں سے سب سے زیادہ بدبخت شخص اٹھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک پر یہ غلاظتیں ڈال دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی کی حالت میں سر رکھے رہے۔ مشرکین ( یہ دیکھ کر ) ہنسے اور مارے ہنسی کے ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ ایک شخص ( غالباً ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ وہ ابھی بچہ تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا دوڑتی ہوئی آئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی سجدہ ہی میں تھے۔ پھر ( فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ) ان غلاظتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر سے ہٹایا اور مشرکین کو برا بھلا کہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر کے فرمایا ”یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر۔ یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر۔ یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر۔“ پھر نام لے کر کہا یا اللہ! عمرو بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ ابن ولید کو ہلاک کر۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ کی قسم! میں نے ان سب کو بدر کی لڑائی میں مقتول پایا۔ پھر انہیں گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنویں والے اللہ کی رحمت سے دور کر دئیے گئے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَلاَ بِهَا فَقَالَ " وَاللَّهِ إِنَّكُنَّ لأَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ ".
Narrated Anas bin Malik:An Ansari woman came to the Prophet (ﷺ) and he took her aside and said (to her). "By Allah, you (Ansar) are the most beloved people to me
ہم سے محمد بن بشار نے حدیث بیان کی، ان سے غندر نے حدیث بیان کی، ان سے شعبہ نے حدیث بیان کی، ان سے ہشام نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے لوگوں سے ایک طرف ہو کر تنہائی میں گفتگو کی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ ( یعنی انصار ) مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز ہو۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الَّذِينَ يَصْنَعُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Those who make these pictures will be punished on the Day of Resurrection, and it will be said to them. 'Make alive what you have created
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ یہ مورتیں بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جس کو تم نے بنایا ہے اب اس میں جان بھی ڈالو۔“
Narrated by `Abdur-Rahman bin Abu Bakr
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، تَضَيَّفَ رَهْطًا فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ دُونَكَ أَضْيَافَكَ فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَافْرُغْ مِنْ قِرَاهُمْ قَبْلَ أَنْ أَجِيءَ. فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَتَاهُمْ بِمَا عِنْدَهُ فَقَالَ اطْعَمُوا. فَقَالُوا أَيْنَ رَبُّ مَنْزِلِنَا قَالَ اطْعَمُوا. قَالُوا مَا نَحْنُ بِآكِلِينَ حَتَّى يَجِيءَ رَبُّ مَنْزِلِنَا. قَالَ اقْبَلُوا عَنَّا قِرَاكُمْ، فَإِنَّهُ إِنْ جَاءَ وَلَمْ تَطْعَمُوا لَنَلْقَيَنَّ مِنْهُ. فَأَبَوْا فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يَجِدُ عَلَىَّ، فَلَمَّا جَاءَ تَنَحَّيْتُ عَنْهُ فَقَالَ مَا صَنَعْتُمْ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ. فَسَكَتُّ ثُمَّ قَالَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ. فَسَكَتُّ فَقَالَ يَا غُنْثَرُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي لَمَّا جِئْتَ. فَخَرَجْتُ فَقُلْتُ سَلْ أَضْيَافَكَ. فَقَالُوا صَدَقَ أَتَانَا بِهِ. قَالَ فَإِنَّمَا انْتَظَرْتُمُونِي، وَاللَّهِ لاَ أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ. فَقَالَ الآخَرُونَ وَاللَّهِ لاَ نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ. قَالَ لَمْ أَرَ فِي الشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ، وَيْلَكُمْ مَا أَنْتُمْ لِمَ لاَ تَقْبَلُونَ عَنَّا قِرَاكُمْ هَاتِ طَعَامَكَ. فَجَاءَهُ فَوَضَعَ يَدَهُ فَقَالَ بِاسْمِ اللَّهِ، الأُولَى لِلشَّيْطَانِ. فَأَكَلَ وَأَكَلُوا.
Narrated `Abdur-Rahman bin Abu Bakr:Abu Bakr invited a group of people and told me, "Look after your guests." Abu Bakr added, I am going to visit the Prophet (ﷺ) and you should finish serving them before I return." `Abdur-Rahman said, So I went at once and served them with what was available at that time in the house and requested them to eat." They said, "Where is the owner of the house (i.e., Abu Bakr)?" `Abdur-Rahman said, "Take your meal." They said, "We will not eat till the owner of the house comes." `Abdur-Rahman said, "Accept your meal from us, for if my father comes and finds you not having taken your meal yet, we will be blamed severely by him, but they refused to take their meals . So I was sure that my father would be angry with me. When he came, I went away (to hide myself) from him. He asked, "What have you done (about the guests)?" They informed him the whole story. Abu Bakr called, "O `Abdur Rahman!" I kept quiet. He then called again. "O `Abdur-Rahman!" I kept quiet and he called again, "O ignorant (boy)! I beseech you by Allah, if you hear my voice, then come out!" I came out and said, "Please ask your guests (and do not be angry with me)." They said, "He has told the truth; he brought the meal to us." He said, "As you have been waiting for me, by Allah, I will not eat of it tonight." They said, "By Allah, we will not eat of it till you eat of it." He said, I have never seen a night like this night in evil. What is wrong with you? Why don't you accept your meals of hospitality from us?" (He said to me), "Bring your meal." I brought it to him, and he put his hand in it, saying, "In the name of Allah. The first (state of fury) was because of Satan." So Abu Bakr ate and so did his guests
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید الجریری نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی میزبانی کی اور عبدالرحمٰن سے کہا کہ مہمانوں کا پوری طرح خیال رکھنا کیونکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا، میرے آنے سے پہلے انہیں کھانا کھلا دینا۔ چنانچہ عبدالرحمٰن کھانا مہمانوں کے پاس لائے اور کہا کہ کھانا کھائیے۔ انہوں نے پوچھا کہ ہمارے گھر کے مالک کہاں ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ لوگ کھانا کھا لیں۔ مہمانوں نے کہا کہ جب تک ہمارے میزبان نہ آ جائیں ہم کھانا نہیں کھائیں گے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہماری درخواست قبول کر لیجئے کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آنے تک اگر آپ لوگ کھانے سے فارغ نہیں ہو گئے تو ہمیں ان کی خفگی کا سامنا ہو گا۔ انہوں نے اس پر بھی انکار کیا۔ میں جانتا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ پر ناراض ہوں گے۔ اس لیے جب وہ آئے میں ان سے بچنے لگا۔ انہوں نے پوچھا: تم لوگوں نے کیا کیا؟ گھر والوں نے انہیں بتایا تو انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو پکارا! میں خاموش رہا۔ پھر انہوں نے پکارا! عبدالرحمٰن! میں اس مرتبہ بھی خاموش رہا۔ پھر انہوں نے کہا ارے پاجی میں تجھ کو قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آواز سن رہا ہے تو باہر آ جا، میں باہر نکلا اور عرض کیا کہ آپ اپنے مہمانوں سے پوچھ لیں۔ مہمانوں نے بھی کہا عبدالرحمٰن سچ کہہ رہا ہے۔ وہ کھانا ہمارے پاس لائے تھے۔ آخر والد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگوں نے میرا انتظار کیا، اللہ کی قسم! میں آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا۔ مہمانوں نے بھی قسم کھا لی اللہ کی قسم جب تک آپ نہ کھائیں ہم بھی نہ کھائیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا بھائی میں نے ایسی خراب بات کبھی نہیں دیکھی۔ مہمانو! تم لوگ ہماری میزبانی سے کیوں انکار کرتے ہو۔ خیر عبدالرحمٰن کھانا لا، وہ کھانا لائے تو آپ نے اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا، اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، پہلی حالت ( کھانا نہ کھانے کی قسم ) شیطان کی طرف سے تھی۔ چنانچہ انہوں نے کھانا کھایا اور ان کے ساتھ مہمانوں نے بھی کھایا۔
Narrated by `Abdullah bin `Amr
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهَا فَلاَ يَظْمَأُ أَبَدًا ".
Narrated `Abdullah bin `Amr:The Prophet (ﷺ) said, "My Lake-Fount is (so large that it takes) a month's journey to cross it. Its water is whiter than milk, and its smell is nicer than musk (a kind of Perfume), and its drinking cups are (as numerous) as the (number of) stars of the sky; and whoever drinks from it, will never be thirsty
ہم سے سعید بن مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو نافع بن عمر نے خبر دی، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرا حوض ایک مہینے کی مسافت کے برابر ہو گا۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہو گی اور اس کے کوزے آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے۔ جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ پھر کبھی بھی ( میدان محشر میں ) پیاسا نہ ہو گا۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ، وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لأَهْلِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ، وَلاَ تُكَذِّبُوهُمْ وَ{قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ} الآيَةَ ".
Narrated Abu Huraira:The people of the Scripture used to read the Torah in Hebrew and explain it to the Muslims in Arabic. Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not believe the people of the Scripture, and do not disbelieve them, but say, 'We believe in Allah and whatever has been revealed
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں علی بن مبارک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل کتاب توریت کو عبرانی میں پڑھتے اور مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے تھے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نہ اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ اس کی تکذیب، بلکہ کہو کہ ہم اللہ اور اس کی تمام نازل کی ہوئی کتابوں پر ایمان لائے۔ الآیہ۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ. فَقَالُوا مَا لَكُمْ فَقَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ. قَالُوا مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ شَىْءٌ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ فَانْصَرَفَ أُولَئِكَ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ بِنَخْلَةَ، عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهْوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلاَةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ فَقَالُوا هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ. فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ وَقَالُوا يَا قَوْمَنَا {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا * يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا} فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم {قُلْ أُوحِيَ إِلَىَّ} وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) set out with the intention of going to Suq `Ukaz (market of `Ukaz) along with some of his companions. At the same time, a barrier was put between the devils and the news of heaven. Fire commenced to be thrown at them. The Devils went to their people, who asked them, "What is wrong with you?" They said, "A barrier has been placed between us and the news of heaven. And fire has been thrown at us." They said, "The thing which has put a barrier between you and the news of heaven must be something which has happened recently. Go eastward and westward and see what has put a barrier between you and the news of heaven." Those who went towards Tihama came across the Prophet at a place called Nakhla and it was on the way to Suq `Ukaz and the Prophet (ﷺ) was offering the Fajr prayer with his companions. When they heard the Qur'an they listened to it and said, "By Allah, this is the thing which has put a barrier between us and the news of heaven." They went to their people and said, "O our people; verily we have heard a wonderful recital (Qur'an) which shows the true path; we believed in it and would not ascribe partners to our Lord." Allah revealed the following verses to his Prophet (Sura 'Jinn') (72): "Say: It has been revealed to me." And what was revealed to him was the conversation of the Jinns
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے ابوبشر سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف گئے۔ ان دنوں شیاطین کو آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے ( شہاب ثاقب ) پھینکے جانے لگے تھے۔ تو وہ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بات کیا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا ہے اور ( جب ہم آسمان کی طرف جاتے ہیں تو ) ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ شیاطین نے کہا کہ آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کی کوئی نئی وجہ ہوئی ہے۔ اس لیے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف پھیل جاؤ اور اس سبب کو معلوم کرو جو تمہیں آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کا سبب ہوا ہے۔ وجہ معلوم کرنے کے لیے نکلے ہوئے شیاطین تہامہ کی طرف گئے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عکاظ کے بازار کو جاتے ہوئے مقام نخلہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر پڑھ رہے تھے۔ جب قرآن مجید انہوں نے سنا تو غور سے اس کی طرف کان لگا دئیے۔ پھر کہا، اللہ کی قسم! یہی ہے جو آسمان کی خبریں سننے سے روکنے کا باعث بنا ہے۔ پھر وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور کہا قوم کے لوگو! ہم نے حیرت انگیز قرآن سنا جو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی «قل أوحي إلى» ( آپ کہیئے کہ مجھے وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہے ) اور آپ پر جنوں کی گفتگو وحی کی گئی تھی۔