Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرْدَفَ الْفَضْلَ، فَأَخْبَرَ الْفَضْلُ أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) made Al-Fadl ride behind him, and Al-Fadl informed that he (the Prophet (ﷺ) ) kept on reciting Talbiya till he did the Rami of the Jamra. (Jamrat-Al-`Aqaba)
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں عطاء نے، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مزدلفہ سے لوٹتے وقت ) فضل ( بن عباس رضی اللہ عنہما ) کو اپنے پیچھے سوار کرایا تھا۔ فضل رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمی جمرہ تک برابر لبیک پکارتے رہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتِ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلاَمٍ، فَقَالَ سَعْدٌ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلَىَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ. وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ. فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ ". فَلَمْ تَرَهُ سَوْدَةُ قَطُّ.
Narrated `Aisha:Sa`d bin Abi Waqqas and 'Abu bin Zam`a quarreled over a boy. Sa`d said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This boy is the son of my brother (`Utba bin Abi Waqqas) who took a promise from me that I would take him as he was his (illegal) son. Look at him and see whom he resembles." 'Abu bin Zam`a said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This is my brother and was born on my father's bed from his slave-girl." Allah's Apostle cast a look at the boy and found definite resemblance to `Utba and then said, "The boy is for you, O 'Abu bin Zam`a. The child goes to the owner of the bed and the adulterer gets nothing but the stones (despair, i.e. to be stoned to death). Then the Prophet (ﷺ) said, "O Sauda bint Zama! Screen yourself from this boy." So, Sauda never saw him again
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کا ایک بچے کے بارے میں جھگڑا ہوا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے۔ اس نے وصیت کی تھی کہ یہ اب اس کا بیٹا ہے۔ آپ خود میرے بھائی سے اس کی مشابہت دیکھ لیں۔ لیکن عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو میرا بھائی ہے۔ میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ اور اس کی باندی کے پیٹ کا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کی صورت دیکھی تو صاف عتبہ سے ملتی تھی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کے اے عبد! یہ بچہ تیرے ہی ساتھ رہے گا، کیونکہ بچہ فراش کے تابع ہوتا ہے اور زانی کے حصہ میں صرف پتھر ہے اور اے سودہ بنت زمعہ! اس لڑکے سے تو پردہ کیا کر، چنانچہ سودہ رضی اللہ عنہا نے پھر اسے کبھی نہیں دیکھا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ أَفْطَرَ. قَالَ سُفْيَانُ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
Narrated Ibn `Abbas:Once the Prophet (ﷺ) set out in the month of Ramadan. He observed fasting till he reached a place called Kadid where he broke his fast
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا مجھ سے زہری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح مکہ کے لیے مدینہ سے ) رمضان میں نکلے اور روزے سے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام کدید پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیا۔ سفیان نے کہا کہ زہری نے بیان کیا، انہیں عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پھر یہی حدیث بیان کی۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ آمَنَ بِي عَشَرَةٌ مِنَ الْيَهُودِ لآمَنَ بِي الْيَهُودُ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Had only ten Jews (amongst their chiefs) believed me, all the Jews would definitely have believed me
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر دس یہودی ( احبار و علماء ) مجھ پر ایمان لے آتے تو تمام یہود مسلمان ہو جاتے۔“
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى سَعْدٍ، فَأَتَى عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ لِلأَنْصَارِ " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ ـ أَوْ ـ خَيْرِكُمْ ". فَقَالَ " هَؤُلاَءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ ". فَقَالَ تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِي ذَرَارِيَّهُمْ. قَالَ " قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ ". وَرُبَّمَا قَالَ " بِحُكْمِ الْمَلِكِ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The people of (Banu) Quraiza agreed to accept the verdict of Sa`d bin Mu`adh. So the Prophet (ﷺ) sent for Sa`d, and the latter came (riding) a donkey and when he approached the Mosque, the Prophet (ﷺ) said to the Ansar, "Get up for your chief or for the best among you." Then the Prophet (ﷺ) said (to Sa`d)." These (i.e. Banu Quraiza) have agreed to accept your verdict." Sa`d said, "Kill their (men) warriors and take their offspring as captives, "On that the Prophet (ﷺ) said, "You have judged according to Allah's Judgment," or said, "according to the King's judgment
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ انہوں نے ابوامامہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ بنو قریظہ نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب اس جگہ کے قریب آئے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے لیے منتخب کر رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ اپنے سردار کے لینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ) اپنے سے بہتر شخص کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو قریظہ نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ جتنے لوگ ان میں جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے اللہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا یا یہ فرمایا کہ جیسے بادشاہ ( یعنی اللہ ) کا حکم تھا۔
Narrated by `Abdullah bin Az-Zubair
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ} قَالَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلاَّ فِي أَخْلاَقِ النَّاسِ.
Narrated `Abdullah bin Az-Zubair:(The Verse) "Hold to forgiveness; command what is right..." was not revealed by Allah except in connection with the character of the people
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آیت «خذ العفو وأمر بالعرف» ”معافی اختیار کیجئے اور نیک کام کا حکم دیتے رہئیے۔“ لوگوں کے اخلاق کی اصلاح کے لیے ہی نازل ہوئی ہے۔
Narrated by Maimuna
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ، تَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ نَائِمَةٌ، فَإِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي ثَوْبُهُ، وَأَنَا حَائِضٌ. وَزَادَ مُسَدَّدٌ عَنْ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، وَأَنَا حَائِضٌ.
Narrated Maimuna:The Prophet (ﷺ) used to pray while I used to sleep beside him during my periods (menses) and in prostration his garment used to touch me
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن شداد بن ہاد نے بیان کیا، کہا ہم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر میں سوتی رہتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا مجھے چھو جاتا حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
Narrated by `Uqba bin 'Amir
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ. قَالَ " الْحَمْوُ الْمَوْتُ ".
Narrated `Uqba bin 'Amir:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Beware of entering upon the ladies." A man from the Ansar said, "Allah's Apostle! What about Al-Hamu the in-laws of the wife (the brothers of her husband or his nephews etc.)?" The Prophet (ﷺ) replied: The in-laws of the wife are death itself
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں میں جانے سے بچتے رہو اس پر قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دیور کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ ( وہ اپنی بھاوج کے ساتھ جا سکتا ہے یا نہیں؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیور یا ( جیٹھ ) کا جانا ہی تو ہلاکت ہے۔
Narrated by Abu Talha
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ تَصَاوِيرُ ". وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu Talha:The Prophet (ﷺ) said, "Angels do not enter a house in which there is a dog or there are pictures
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مورتیں ہوں۔ اور لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever believes in Allah and the Last Day, should serve his guest generously; and whoever believes in Allah and the Last Day, should unite the bond of kinship (i.e. keep good relation with his kith and kin); and whoever believes in Allah and the Last Day, should talk what is good or keep quiet
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیئے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیئے کہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ چپ رہے۔“
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَمَامَكُمْ حَوْضٌ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "There will be a tank (Lake-Fount) in front of you as large as the distance between Jarba and Adhruh (two towns in Sham)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہارے سامنے ہی میرا حوض ہو گا وہ اتنا بڑا ہے جتنا جرباء اور اذرحاء کے درمیان فاصلہ ہے۔“
Narrated by Shu`ba
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ، أَوْ مِنْ سُورَةِ الْفَتْحِ ـ قَالَ ـ فَرَجَّعَ فِيهَا ـ قَالَ ـ ثُمَّ قَرَأَ مُعَاوِيَةُ يَحْكِي قِرَاءَةَ ابْنِ مُغَفَّلٍ وَقَالَ " لَوْلاَ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيْكُمْ لَرَجَّعْتُ كَمَا رَجَّعَ ابْنُ مُغَفَّلٍ ". يَحْكِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ كَيْفَ كَانَ تَرْجِيعُهُ قَالَ آ آ آ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ.
Narrated Shu`ba:Mu'awiya bin Qurra reported that `Abdullah bin Al-Maghaffal Al-Muzani said, "I saw Allah's Messenger (ﷺ) on the day of the Conquest of Mecca, riding his she-camel and reciting Surat-al-Fath (48) or part of Surat-al-Fath. He recited it in a vibrating and pleasant voice. Then Mu'awiya recited as `Abdullah bin Mughaffal had done and said, "Were I not afraid that the people would crowd around me, I would surely recite in a vibrating pleasant voice as Ibn Mughaffal did, imitating the Prophet." I asked Muawiya, "How did he recite in that tone?" He said thrice, "A, A , A
ہم سے احمد بن ابی سریح نے بیان کیا، کہا ہم کو شبابہ نے خبر دی، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن قرہ نے، ان سے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے اور سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے یا سورۃ الفتح میں سے کچھ آیات پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ نے اس میں ترجیع کی۔ شعبہ نے کہا یہ حدیث بیان کر کے معاویہ نے اس طرح آواز دہرا کر قرآت کی جیسے عبداللہ بن مغفل کیا کرتے تھے اور معاویہ نے کہا اگر مجھ کو اس کا خیال نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے پاس جمع ہو کر ہجوم کریں گے تو میں اسی طرح آواز دہرا کر قرآت کرتا جس طرح عبداللہ بن مغفل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح آواز دہرانے کو نقل کیا تھا۔ شعبہ نے کہا میں نے معاویہ سے پوچھا ابن مغفل کیوں کر آواز دہراتے تھے؟ انہوں نے کہا آآآ تین تین بار مد کے ساتھ آواز دہراتے تھے۔
Narrated by Saiyar bin Salama
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلاَمَةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي، عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ، فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ وَيَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، وَلاَ يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَلاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ جَلِيسَهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ إِحْدَاهُمَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ.
Narrated Saiyar bin Salama:My father and I went to Abu Barza-al-Aslami to ask him about the stated times for the prayers. He replied, "The Prophet (ﷺ) used to offer the Zuhr prayer when the sun just declined from its highest position at noon; the `Asr at a time when if a man went to the farthest place in Medina (after praying) he would find the sun still hot (bright). (The sub narrator said: I have forgotten what Abu Barza said about the Maghrib prayer). The Prophet (ﷺ) never found any harm in delaying the `Isha' prayer to the first third of the night and he never liked to sleep before it and to talk after it. He used to offer the morning prayer at a time when after finishing it one could recognize the person sitting beside him and used to recite between 60 to 100 verses in one or both the rak`at
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سیار ابن سلامہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ ہم نے آپ سے نماز کے وقتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے۔ عصر جب پڑھتے تو مدینہ کے انتہائی کنارہ تک ایک شخص چلا جاتا۔ لیکن سورج اب بھی باقی رہتا۔ مغرب کے متعلق جو کچھ آپ نے کہا وہ مجھے یاد نہیں رہا اور عشاء کے لیے تہائی رات تک دیر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے اور آپ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ جب نماز صبح سے فارغ ہوتے تو ہر شخص اپنے قریب بیٹھے ہوئے کو پہچان سکتا تھا۔ آپ دونوں رکعات میں یا ایک میں ساٹھ سے لے کر سو تک آیتیں پڑھتے۔