Narrated by `Amr bin Maimun
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، يَقُولُ شَهِدْتُ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ صَلَّى بِجَمْعٍ الصُّبْحَ، ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لاَ يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَيَقُولُونَ أَشْرِقْ ثَبِيرُ. وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَالَفَهُمْ، ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ.
Narrated `Amr bin Maimun:I saw `Umar, offering the Fajr (morning) prayer at Jam'; then he got up and said, "The pagans did not use to depart (from Jam') till the sun had risen, and they used to say, 'Let the sun shine on Thabir (a mountain).' But the Prophet (ﷺ) contradicted them and departed from Jam' before sunrise
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، انہوں نے عمرو بن میمون کو یہ کہتے سنا کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھی تو میں بھی موجود تھا، نماز کے بعد آپ ٹھہرے اور فرمایا کہ مشرکین ( جاہلیت میں یہاں سے ) سورج نکلنے سے پہلے نہیں جاتے تھے کہتے تھے اے ثبیر! تو چمک جا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے وہاں سے روانہ ہو گئے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ بِسَارَةَ، فَدَخَلَ بِهَا قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ، أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَقِيلَ دَخَلَ إِبْرَاهِيمُ بِامْرَأَةٍ، هِيَ مِنْ أَحْسَنِ النِّسَاءِ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ، مَنْ هَذِهِ الَّتِي مَعَكَ قَالَ أُخْتِي. ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا، فَقَالَ لاَ تُكَذِّبِي حَدِيثِي فَإِنِّي أَخْبَرْتُهُمْ أَنَّكِ أُخْتِي، وَاللَّهِ إِنْ عَلَى الأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ. فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي فَقَالَتِ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي، إِلاَّ عَلَى زَوْجِي فَلاَ تُسَلِّطْ عَلَىَّ الْكَافِرَ. فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ ". قَالَ الأَعْرَجُ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَتِ اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ يُقَالُ هِيَ قَتَلَتْهُ. فَأُرْسِلَ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ تُصَلِّي، وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي، إِلاَّ عَلَى زَوْجِي، فَلاَ تُسَلِّطْ عَلَىَّ هَذَا الْكَافِرَ، فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَتِ اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ فَيُقَالُ هِيَ قَتَلَتْهُ، فَأُرْسِلَ فِي الثَّانِيَةِ، أَوْ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَرْسَلْتُمْ إِلَىَّ إِلاَّ شَيْطَانًا، ارْجِعُوهَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ، وَأَعْطُوهَا آجَرَ. فَرَجَعَتْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ فَقَالَتْ أَشَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ كَبَتَ الْكَافِرَ وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The Prophet Abraham (ﷺ) emigrated with Sarah and entered a village where there was a king or a tyrant. (The king) was told that Abraham had entered (the village) accompanied by a woman who was one of the most charming women. So, the king sent for Abraham and asked, 'O Abraham! Who is this lady accompanying you?' Abraham replied, 'She is my sister (i.e. in religion).' Then Abraham returned to her and said, 'Do not contradict my statement, for I have informed them that you are my sister. By Allah, there are no true believers on this land except you and I.' Then Abraham sent her to the king. When the king got to her, she got up and performed ablution, prayed and said, 'O Allah! If I have believed in You and Your Apostle, and have saved my private parts from everybody except my husband, then please do not let this pagan overpower me.' On that the king fell in a mood of agitation and started moving his legs. Seeing the condition of the king, Sarah said, 'O Allah! If he should die, the people will say that I have killed him.' The king regained his power, and proceeded towards her but she got up again and performed ablution, prayed and said, 'O Allah! If I have believed in You and Your Apostle and have kept my private parts safe from all except my husband, then please do not let this pagan overpower me.' The king again fell in a mood of agitation and started moving his legs. On seeing that state of the king, Sarah said, 'O Allah! If he should die, the people will say that I have killed him.' The king got either two or three attacks, and after recovering from the last attack he said, 'By Allah! You have sent a satan to me. Take her to Abraham and give her Ajar.' So she came back to Abraham and said, 'Allah humiliated the pagan and gave us a slave-girl for service
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابراہیم علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ( نمرود کے ملک سے ) ہجرت کی تو ایک ایسے شہر میں پہنچے جہاں ایک بادشاہ رہتا تھا یا ( یہ فرمایا کہ ) ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا۔ اس سے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق کسی نے کہہ دیا کہ وہ ایک نہایت ہی خوبصورت عورت لے کر یہاں آئے ہیں۔ بادشاہ نے آپ علیہ السلام سے پچھوا بھیجا کہ ابراہیم! یہ عورت جو تمہارے ساتھ ہے تمہاری کیا ہوتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہے۔ پھر جب ابراہیم علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آئے تو ان سے کہا کہ میری بات نہ جھٹلانا، میں تمہیں اپنی بہن کہہ آیا ہوں۔ اللہ کی قسم! آج روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کو بادشاہ کے یہاں بھیجا، یا بادشاہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا۔ اس وقت سارہ رضی اللہ عنہا وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑی ہو گئی تھیں۔ انہوں نے اللہ کے حضور میں یہ دعا کی کہ ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول ( ابراہیم علیہ السلام ) پر ایمان رکھتی ہوں اور اگر میں نے اپنے شوہر کے سوا اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے، تو تو مجھ پر ایک کافر کو مسلط نہ کر۔“ اتنے میں بادشاہ تھرایا اور اس کا پاؤں زمین میں دھنس گیا۔ اعرج نے کہا کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے حضور میں دعا کی کہ اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے۔ چنانچہ وہ پھر چھوٹ گیا اور سارہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھا۔ سارہ رضی اللہ عنہا وضو کر کے پھر نماز پڑھنے لگی تھیں اور یہ دعا کرتی جاتی تھیں ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے شوہر ( ابراہیم علیہ السلام ) کے سوا اور ہر موقع پر میں نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر۔“ چنانچہ وہ پھر تھرایا، کانپا اور اس کے پاؤں زمین میں دھنس گئے۔ عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ ابوسلمہ نے بیان کیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی دعا کی کہ ”اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے۔“ اب دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ بھی وہ بادشاہ چھوڑ دیا گیا۔ آخر وہ کہنے لگا کہ تم لوگوں نے میرے یہاں ایک شیطان بھیج دیا۔ اسے ابراہیم ( علیہ السلام ) کے پاس لے جاؤ اور انہیں آجر ( ہاجرہ ) کو بھی دے دو۔ پھر سارہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں اور ان سے کہا کہ دیکھتے نہیں اللہ نے کافر کو کس طرح ذلیل کیا اور ساتھ میں ایک لڑکی بھی دلوا دی۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلاَ نُرَى إِلاَّ الْحَجَّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ. قَالَتْ عَائِشَةُ فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالَ نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَزْوَاجِهِ. قَالَ يَحْيَى فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَقَالَ أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
Narrated `Aisha:We set out in the company of Allah's Messenger (ﷺ) five days before the end of Dhul Qa'da intending to perform Hajj only. When we approached Mecca Allah's Messenger (ﷺ) ordered those who did not have the Hadi (i.e. an animal for sacrifice) with them, to perform the Tawaf around the Ka`ba, and between Safa and Marwa and then finish their Ihram. Beef was brought to us on the day of Nahr (i.e. the days of slaughtering) and I asked, "What is this?" Somebody said, Allah's Messenger (ﷺ) has slaughtered (a cow) on behalf of his wives
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا امام مالک سے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ سے ( حجۃ الوداع کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم اس وقت نکلے جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ہفتہ کے دن ہمارا مقصد حج کے سوا اور کچھ بھی نہ تھا۔ جب ہم مکہ سے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو جب وہ بیت اللہ کے طواف اور صفا اور مروہ کی سعی سے فارغ ہو جائے تو احرام کھول دے۔ ( پھر حج کے لیے بعد میں احرام باندھے ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ دسویں ذی الحجہ کو ہمارے یہاں گائے کا گوشت آیا، میں نے پوچھا کہ گوشت کیسا ہے؟ تو بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے جو گائے قربانی کی ہے یہ اسی کا گوشت ہے۔ یحییٰ نے بیان کیا کہ میں نے اس کے بعد اس حدیث کا ذکر قاسم بن محمد سے کیا تو انہوں نے بتایا کہ قسم اللہ کی! عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے تم سے یہ حدیث ٹھیک ٹھیک بیان کی ہے۔
Narrated by Abu Al-Minhal `AbdurRahman bin Mut`im
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُطْعِمٍ، قَالَ بَاعَ شَرِيكٌ لِي دَرَاهِمَ فِي السُّوقِ نَسِيئَةً فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ أَيَصْلُحُ هَذَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَهُ أَحَدٌ، فَسَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ، فَقَالَ " مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَلاَ يَصْلُحُ ". وَالْقَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْظَمَنَا تِجَارَةً، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقَالَ مِثْلَهُ. وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَقَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ، وَقَالَ نَسِيئَةً إِلَى الْمَوْسِمِ أَوِ الْحَجِّ.
Narrated Abu Al-Minhal `AbdurRahman bin Mut`im:A partner of mine sold some Dirhams on credit in the market. I said, "Glorified be Allah! Is this legal?" He replied, "Glorified be Allah! By Allah, when I sold them in the market, nobody objected to it." Then I asked Al-Bara' bin `Azib (about it) he said, "We used to make such a transaction when the Prophet came to Medina. So he said, 'There is no harm in it if it is done from hand to hand, but it is not allowed on credit.' Go to Zaid bin Al- Arqam and ask him about it for he was the greatest trader of all of us." So I asked Zaid bin Al-Arqam., and he said the same (as Al-Bara) did
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، وَحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم النَّخَلاَتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ، وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْأَلَهُ الَّذِينَ كَانُوا أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ. وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي تَقُولُ كَلاَّ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ لاَ يُعْطِيكَهُمْ وَقَدْ أَعْطَانِيهَا، أَوْ كَمَا قَالَتْ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَكِ كَذَا ". وَتَقُولُ كَلاَّ وَاللَّهِ. حَتَّى أَعْطَاهَا، حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ " عَشَرَةَ أَمْثَالِهِ ". أَوْ كَمَا قَالَ.
Narrated Anas:Some (of the Ansar) used to present date palm trees to the Prophet (ﷺ) till Banu Quraiza and Banu An- Nadir were conquered (then he returned to the people their date palms). My people ordered me to ask the Prophet (ﷺ) to return some or all the date palms they had given to him, but the Prophet (ﷺ) had given those trees to Um Aiman. On that, Um Aiman came and put the garment around my neck and said, "No, by Him except Whom none has the right to be worshipped, he will not return those trees to you as he (i.e. the Prophet (ﷺ) ) has given them to me." The Prophet (ﷺ) said (to her), "Return those trees and I will give you so much (instead of them)." But she kept on refusing, saying, "No, by Allah," till he gave her ten times the number of her date palms
ہم سے عبداللہ ابی الاسود نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ‘ کہ میں نے اپنے والد سے سنا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بطور ہدیہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے باغ میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چند کھجور کے درخت مقرر کر دیئے تھے یہاں تک کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے قبائل فتح ہو گئے ( تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہدایا کو واپس کر دیا ) میرے گھر والوں نے بھی مجھے اس کھجور کو، تمام کی تمام یا اس کا کچھ حصہ لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجور ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی۔ اتنے میں وہ بھی آ گئیں اور کپڑا میری گردن میں ڈال کر کہنے لگیں ‘ قطعاً نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ پھل تمہیں نہیں ملیں گے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عنایت فرما چکے ہیں۔ یا اسی طرح کے الفاظ انہوں نے بیان کئے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم مجھ سے اس کے بدلے میں اتنے لے لو۔ ( اور ان کا مال انہیں واپس کر دو ) لیکن وہ اب بھی یہی کہے جا رہی تھیں کہ قطعاً نہیں، خدا کی قسم! یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں، میرا خیال ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس کا دس گنا دینے کا وعدہ فرمایا ( پھر انہوں نے مجھے چھوڑا ) یا اسی طرح کے الفاظ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کئے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ أَخِيهِ الْحُرِّ بْنِ قَيْسٍ، وَكَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيهِمْ عُمَرُ، وَكَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ مَجَالِسِ عُمَرَ وَمُشَاوَرَتِهِ كُهُولاً كَانُوا أَوْ شُبَّانًا. فَقَالَ عُيَيْنَةُ لاِبْنِ أَخِيهِ يَا ابْنَ أَخِي، لَكَ وَجْهٌ عِنْدَ هَذَا الأَمِيرِ فَاسْتَأْذِنْ لِي عَلَيْهِ. قَالَ سَأَسْتَأْذِنُ لَكَ عَلَيْهِ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَاسْتَأْذَنَ الْحُرُّ لِعُيَيْنَةَ فَأَذِنَ لَهُ عُمَرُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ هِيْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَوَاللَّهِ مَا تُعْطِينَا الْجَزْلَ، وَلاَ تَحْكُمُ بَيْنَنَا بِالْعَدْلِ. فَغَضِبَ عُمَرُ حَتَّى هَمَّ بِهِ، فَقَالَ لَهُ الْحُرُّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ} وَإِنَّ هَذَا مِنَ الْجَاهِلِينَ. وَاللَّهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ حِينَ تَلاَهَا عَلَيْهِ، وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللَّهِ.
Narrated Ibn `Abbas:'Uyaina bin Hisn bin Hudhaifa came and stayed with his nephew Al-Hurr bin Qais who was one of those whom `Umar used to keep near him, as the Qurra' (learned men knowing Qur'an by heart) were the people of `Umar's meetings and his advisors whether they were old or young. 'Uyaina said to his nephew, "O son of my brother! You have an approach to this chief, so get for me the permission to see him." Al-Hurr said, "I will get the permission for you to see him." So Al-Hurr asked the permission for 'Uyaina and `Umar admitted him. When 'Uyaina entered upon him, he said, "Beware! O the son of Al-Khattab! By Allah, you neither give us sufficient provision nor judge among us with justice." Thereupon `Umar became so furious that he intended to harm him, but Al-Hurr said, "O chief of the Believers! Allah said to His Prophet: "Hold to forgiveness; command what is right; and leave (don't punish) the foolish." (7.199) and this (i.e. 'Uyaina) is one of the foolish." By Allah, `Umar did not overlook that Verse when Al-Hurr recited it before him; he observed (the orders of) Allah's Book strictly
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عیینہ بن حصن بن حذیفہ نے اپنے بھتیجے حر بن قیس کے یہاں آ کر قیام کیا۔ حر، ان چند خاص لوگوں میں سے تھے جنہیں عمر رضی اللہ عنہ اپنے بہت قریب رکھتے تھے جو لوگ قرآن مجید کے زیادہ عالم اور قاری ہوتے۔ عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں انہیں کو زیادہ نزدیکی حاصل ہوتی تھی اور ایسے لوگ آپ کے مشیر ہوتے۔ اس کی کوئی قید نہیں تھی کہ وہ عمر رسیدہ ہوں یا نوجوان۔ عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا کہ تمہیں اس امیر کی مجلس میں بہت نزدیکی حاصل ہے۔ میرے لیے بھی مجلس میں حاضری کی اجازت لے دو۔ حر بن قیس نے کہا کہ میں آپ کے لیے بھی اجازت مانگوں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ چنانچہ انہوں نے عیینہ کے لیے بھی اجازت مانگی اور عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں مجلس میں آنے کی اجازت دے دی۔ مجلس میں جب وہ پہنچے تو کہنے لگے: اے خطاب کے بیٹے! اللہ کی قسم! نہ تو تم ہمیں مال ہی دیتے ہو اور نہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی اس بات پر بڑا غصہ آیا اور آگے بڑھ ہی رہے تھے کہ حر بن قیس نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے خطاب کر کے فرمایا ہے ”معافی اختیار کر اور نیک کام کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کش ہو جایا کیجئے۔“ اور یہ بھی جاہلوں میں سے ہیں۔ اللہ کی قسم! کہ جب حر نے قرآن مجید کی تلاوت کی تو عمر رضی اللہ عنہ بالکل ٹھنڈے پڑ گئے اور کتاب اللہ کے حکم کے سامنے آپ کی یہی حالت ہوتی تھی۔
Narrated by Maimuna bint Al-Harith
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي خَالَتِي، مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ قَالَتْ كَانَ فِرَاشِي حِيَالَ مُصَلَّى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرُبَّمَا وَقَعَ ثَوْبُهُ عَلَىَّ وَأَنَا عَلَى فِرَاشِي.
Narrated Maimuna bint Al-Harith:My bed was beside the praying place (Musalla) of the Prophet (ﷺ) and sometimes his garment fell on me while I used to lie in my bed
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے شیبانی کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن شداد بن ہاد سے، کہا مجھے میری خالہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ میرا بستر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلے کے برابر میں ہوتا تھا۔ اور بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا ( نماز پڑھتے میں ) میرے اوپر آ جاتا اور میں اپنے بستر پر ہی ہوتی تھی۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ غَيْرِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَكْثُرَ الْجَهْلُ وَيَكْثُرَ الزِّنَا، وَيَكْثُرَ شُرْبُ الْخَمْرِ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ ".
Narrated Anas:I will narrate to you a Habith I heard from Allah's Messenger (ﷺ) and none other than I will tell you of it. I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "From among the portents of the Hour are the following: Religious knowledge will be taken away; General ignorance (in religious matters) will increase; illegal Sexual intercourse will prevail: Drinking of alcoholic drinks will prevail. Men will decrease in number, and women will increase in number, so much so that fifty women will be looked after by one man
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، میرے سوا یہ حدیث تم سے کوئی اور نہیں بیان کرنے والا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ قرآن و حدیث کا علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت بڑھ جائے گی۔ زنا کی کثرت ہو جائے گی اور شراب لوگ زیادہ پینے لگیں گے۔ مرد کم ہو جائیں گے اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔ حالت یہ ہو جائے گی کہ پچاس پچاس عورتوں کا سنبھالنے والا ( خبر گیر ) ایک مرد ہو گا۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ. مَا لِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ.
Narrated `Abdullah:Allah has cursed those women who practise tattooing and those who get it done for themselves, and those who remove hair from their faces, and those who artificially create spaces between their teeth to look beautiful, such women as alter the features created by Allah. Why should I not then curse those whom Allah's Messenger (ﷺ) has cursed and that is in Allah's Book?
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر، بال اکھاڑنے والیوں پر اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والیوں پر جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے لعنت بھیجی ہے پھر میں بھی کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور وہ کتاب اللہ میں بھی موجود ہے۔
Narrated by `Uqba bin 'Amir
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلاَ يَقْرُونَنَا فَمَا تَرَى، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ ".
Narrated `Uqba bin 'Amir:We said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You send us out and it happens that we have to stay with such people as do not entertain us. What do you think about it?" Allah's Messenger (ﷺ) said to us, "If you stay with some people and they entertain you as they should for a guest, accept is; but if they do not do then you should take from them the right of the guest, which they ought to give
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں ( تبلیغ وغیرہ کے لیے ) بھیجتے ہیں اور راستے میں ہم بعض قبیلوں کے گاؤں میں قیام کرتے ہیں لیکن وہ ہماری مہمانی نہیں کرتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سلسلے میں کیا ارشاد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہم سے فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کے پاس جا کر اترو اور وہ جیسا دستور ہے مہمانی کے طور پر تم کو کچھ دیں تو اسے منظور کر لو اگر نہ دیں تو مہمانی کا حق قاعدے کے موافق ان سے وصول کر لو۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "أَنَا فَرَطُكُمْ، عَلَى الْحَوْضِ، وَلَيُرْفَعَنَّ رِجَالٌ مِنْكُمْ ثُمَّ لَيُخْتَلَجُنَّ دُونِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي. فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ". تَابَعَهُ عَاصِمٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ. وَقَالَ حُصَيْنٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Abdullah added:The Prophet (ﷺ) said, "I am your predecessor at the Lake-Fount, and some of you will be brought in front of me till I will see them and then they will be taken away from me and I will say, 'O Lord, my companions!' It will be said, 'You do not know what they did after you had left
(دوسری سند) اور مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے مغیرہ نے، کہا کہ میں نے ابووائل سے سنا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے حوض پر تم سے پہلے ہی موجود رہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔ اس روایت کی متابعت عاصم نے ابووائل سے کی، ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ،. وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ قَالَ " لاَ يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنَّهُ خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ". وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said that his Lord said: "It does not befit a slave that he should say that he is better than Jonah (Yunus) bin Matta
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے خلفیہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے روایت کیا پروردگار نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں اور آپ نے یونس علیہ السلام کو ان کے باپ کی طرف نسبت دی۔
Narrated by Jabir bin Samura
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ لَقَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى الصَّلاَةِ. قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، وَلاَ آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ صَدَقْتَ، ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ، أَوْ ظَنِّي بِكَ.
Narrated Jabir bin Samura:`Umar said to Sa`d, "The people complained against you in everything, even in prayer." Sa`d replied, "Really I used to prolong the first two rak`at and shorten the last two and I will never shorten the prayer in which I follow Allah's Messenger (ﷺ)." `Umar said, "You are telling the truth and that is what I think about you
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے ابوعون محمد بن عبداللہ ثقفی سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن سمرہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ امیرالمؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کی شکایت کوفہ والوں نے تمام ہی باتوں میں کی ہے، یہاں تک کہ نماز میں بھی۔ انہوں نے کہا کہ میرا عمل تو یہ ہے کہ پہلی دو رکعات میں قرآت لمبی کرتا ہوں اور دوسری دو میں مختصر جس طرح میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کرتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سچ کہتے ہو۔ تم سے امید بھی اسی کی ہے۔