بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
25
13 hadith
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ أَنَا مِمَّنْ، قَدَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:I was among those whom the Prophet (ﷺ) sent on the night of Al-Muzdalifa early being among the weak members of his family
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن ابی یزید نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور لوگوں کے ساتھ مزدلفہ کی رات ہی میں منیٰ بھیج دیا تھا۔
Narrated by Hisham bin `Urwa from his father
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ فَرْقَدٍ، قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ ‏{‏وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ‏}‏ أُنْزِلَتْ فِي وَالِي الْيَتِيمِ الَّذِي يُقِيمُ عَلَيْهِ، وَيُصْلِحُ فِي مَالِهِ، إِنْ كَانَ فَقِيرًا أَكَلَ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ‏.‏
Narrated Hisham bin `Urwa from his father:who heard Aisha saying, "The Holy Verse; 'Whoever amongst the guardians is rich, he should take no wages (from the property of the orphans) but If he is poor, let him have for himself what is just and reasonable (according to his labors)' (4.6) was revealed concerning the guardian of the orphans who looks after them and manages favorably their financial affairs; If the guardian Is poor, he could have from It what Is just and reasonable, (according to his labors)
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ہشام نے خبر دی (دوسری سند) اور مجھ سے محمد نے بیان کیا کہا کہ میں نے عثمان بن فرقد سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن عروہ سے سنا، وہ اپنے باپ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی تھیں کہ ( قرآن کی آیت ) «ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف‏» جو شخص مالدار ہو وہ ( اپنی زیر پرورش یتیم کا مال ہضم کرنے سے ) اپنے کو بچائے۔ اور جو فقیر ہو وہ نیک نیتی کے ساتھ اس میں سے کھا لے۔“ یہ آیت یتیموں کے ان سر پرستوں کے متعلق نازل ہوئی تھی جو ان کی اور ان کے مال کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتے ہوں کہ اگر وہ فقیر ہیں تو ( اس خدمت کے عوض ) نیک نیتی کے ساتھ اس میں سے کھا سکتے ہیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ، إِلاَّ بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ عُمَرُ وَابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Apostle said, " I have been ordered to fight with the people till they say, 'None has the right to be worshipped but Allah,' and whoever says, 'None has the right to be worshipped but Allah,' his life and property will be saved by me except for Islamic law, and his accounts will be with Allah, (either to punish him or to forgive him)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا ہم سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ اس کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، پس جس نے اقرار کر لیا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں تو اس کی جان اور مال ہم سے محفوظ ہے سوا اس حق کے جس کی بناء پر قانوناً اس کی جان و مال زد میں آئے اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ اس کی روایت عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔
Narrated by `Abdur-Rahman bin Humaid Az-Zuhri
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَسْأَلُ السَّائِبَ ابْنَ أُخْتِ النَّمِرِ مَا سَمِعْتَ فِي، سُكْنَى مَكَّةَ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلاَءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ثَلاَثٌ لِلْمُهَاجِرِ بَعْدَ الصَّدَرِ ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdur-Rahman bin Humaid Az-Zuhri:I heard `Umar bin `Abdul-Aziz asking As-Sa'ib, the nephew of An-Namir, "What have you heard about residing in Mecca?" The other said, "I heard Al-Ala bin Al-Hadrami saying, Allah's Messenger (ﷺ) said: An Emigrant is allowed to stay in Mecca for three days after departing from Mina (i.e. after performing all the ceremonies of Hajj)
مجھ سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن حمید زہری نے بیان کیا، انہوں نے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز سے سنا، وہ نمر کندی کے بھانجے سائب بن یزید سے دریافت کر رہے تھے کہ تم نے مکہ میں ( مہاجر کے ) ٹھہرنے کے مسئلہ میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مہاجر کو ( حج میں ) طواف وداع کے بعد تین دن ٹھہرنے کی اجازت ہے۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ، أَعَزَّ جُنْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ، فَلاَ شَىْءَ بَعْدَهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) used to say, "None has the right to be worshipped except Allah Alone (Who) honored His Warriors and made His Slave victorious, and He (Alone) defeated the (infidel) clans; so there is nothing after Him
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن ابی سعید نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے جس نے اپنے لشکر کو فتح دی۔ اپنے بندے کی مدد کی ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ) اور احزاب ( یعنی افواج کفار ) کو تنہا بھگا دیا پس اس کے بعد کوئی چیز اس کے مدمقابل نہیں ہو سکتی۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ، وَذَلِكَ حِينَ لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ الآيَةَ‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The hour will not be established till the sun rises from the West; and when it rises (from the West) and the people see it, they all will believe. And that is (the time) when no good will it do to a soul to believe then." Then he recited the whole Verse
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک سورج مغرب سے نہ طلوع ہو لے۔ جب مغرب سے سورج طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لائیں گے لیکن یہ وقت ہو گا جب کسی کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ ـ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ ـ عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهَا مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ فَقَالُوا يَقْطَعُهَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ‏.‏ قَالَتْ قَدْ جَعَلْتُمُونَا كِلاَبًا، لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ يُصَلِّي، وَإِنِّي لَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ عَلَى السَّرِيرِ، فَتَكُونُ لِي الْحَاجَةُ، فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ فَأَنْسَلُّ انْسِلاَلاً‏.‏ وَعَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ‏.‏
Narrated `Aisha:The things which annul the prayers were mentioned before me. They said, "Prayer is annulled by a dog, a donkey and a woman (if they pass in front of the praying people)." I said, "You have made us (i.e. women) dogs. I saw the Prophet (ﷺ) praying while I used to lie in my bed between him and the Qibla. Whenever I was in need of something, I would slip away. for I disliked to face him
ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا سلیمان اعمش کے واسطہ سے، انہوں نے مسلم بن صبیح سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ان کے سامنے ذکر ہوا کہ نماز کو کیا چیزیں توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کہا کہ کتا، گدھا اور عورت ( بھی ) نماز کو توڑ دیتی ہے۔ ( جب سامنے آ جائے ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم نے ہمیں کتوں کے برابر بنا دیا۔ حالانکہ میں جانتی ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کے درمیان ( سامنے ) چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی۔ مجھے ضرورت پیش آتی تھی اور یہ بھی اچھا نہیں معلوم ہوتا تھا کہ خود کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دوں۔ اس لیے میں آہستہ سے نکل آتی تھی۔ اعمش نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ سے اسی طرح یہ حدیث بیان کی۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا طَعَامٌ، فَضَرَبَتِ الَّتِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِهَا يَدَ الْخَادِمِ فَسَقَطَتِ الصَّحْفَةُ فَانْفَلَقَتْ، فَجَمَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِلَقَ الصَّحْفَةِ، ثُمَّ جَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ الَّذِي كَانَ فِي الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ ‏ "‏ غَارَتْ أُمُّكُمْ ‏"‏، ثُمَّ حَبَسَ الْخَادِمَ حَتَّى أُتِيَ بِصَحْفَةٍ مِنْ عِنْدِ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا، فَدَفَعَ الصَّحْفَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ صَحْفَتُهَا، وَأَمْسَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْ فِيه.‏
Narrated Anas:While the Prophet (ﷺ) was in the house of one of his wives, one of the mothers of the believers sent a meal in a dish. The wife at whose house the Prophet (ﷺ) was, struck the hand of the servant, causing the dish to fall and break. The Prophet (ﷺ) gathered the broken pieces of the dish and then started collecting on them the food which had been in the dish and said, "Your mother (my wife) felt jealous." Then he detained the servant till a (sound) dish was brought from the wife at whose house he was. He gave the sound dish to the wife whose dish had been broken and kept the broken one at the house where it had been broken
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے، ان سے حمید نے، ان سے انس نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے یہاں تشریف رکھتے تھے۔ اس وقت ایک زوجہ ( زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک پیالے میں کچھ کھانے کی چیز بھیجی جن کے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے خادم کے ہاتھ پر ( غصہ میں ) مارا جس کی وجہ سے کٹورہ گر کر ٹوٹ گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کٹورا لے کر ٹکڑے جمع کئے اور جو کھانا اس برتن میں تھا اسے بھی جمع کرنے لگے اور ( خادم سے ) فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے۔ اس کے بعد خادم کو روکے رکھا۔ آخر جن کے گھر میں وہ کٹورہ ٹوٹا تھا ان کی طرف سے نیا کٹورہ منگایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نیا کٹورہ ان زوجہ مطہرہ کو واپس کیا جن کا کٹورہ توڑ دیا گیا تھا اور ٹوٹا ہوا کٹورہ ان کے یہاں رکھ لیا جن کے گھر میں وہ ٹوٹا تھا۔
Narrated by Ibn Mas`ud
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ، مَا لِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ‏.‏
Narrated Ibn Mas`ud:Allah has cursed those women who practise tattooing or get it done for themselves, and those who remove hair from their faces, and those who create spaces between their teeth artificially to look beautiful, such ladies as change the features created by Allah. Why then shall I not curse those whom Allah's Messenger (ﷺ) has cursed and who are cursed in Allah's Book too?
مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نخعی نے، انہیں علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے سامنے کے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والیوں پر جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں، لعنت بھیجی ہے پھر میں کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور وہ اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، حَدَّثَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ‏.‏ أَنَّهُ، اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ ‏"‏ ائْذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ‏"‏‏.‏ أَوْ ‏"‏ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا دَخَلَ أَلاَنَ لَهُ الْكَلاَمَ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ مَا قُلْتَ، ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ فِي الْقَوْلِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَىْ عَائِشَةُ، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ تَرَكَهُ ـ أَوْ وَدَعَهُ ـ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Aisha:A man asked permission to see the Prophet. He said, "Let Him come in; What an evil man of the tribe he is! (Or, What an evil brother of the tribe he is). But when he entered, the Prophet (ﷺ) spoke to him gently in a polite manner. I said to him, "O Allah's Apostle! You have said what you have said, then you spoke to him in a very gentle and polite manner? The Prophet (ﷺ) said, "The worse people, in the sight of Allah are those whom the people leave (undisturbed) to save themselves from their dirty language
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے ابن المنکدر نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اندر بلا لو، یہ اپنی قوم کا بہت ہی برا آدمی ہے۔ جب وہ شخص اندر آ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ابھی اس کے متعلق کیا فرمایا تھا اور پھر اتنی نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ اللہ کے نزدیک مرتبہ کے اعتبار سے وہ شخص سب سے برا ہے جسے لوگ اس کی بدخلقی کی وجہ سے چھوڑ دیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ ‏ "‏ لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْ لاَ يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْكَ، لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْحَدِيثِ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ خَالِصًا مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who will be the luckiest person who will gain your intercession on the Day of Resurrection?" The Prophet (ﷺ) said, "O Abu Huraira! I have thought that none will ask me about this Hadith before you, as I know your longing for the (learning of) Hadiths. The luckiest person who will have my intercession on the Day of Resurrection will be the one who said, 'None has the right to be worshipped but Allah,' sincerely from the bottom of his heart
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ کی شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ کون حاصل کرے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوہریرہ! میرا بھی خیال تھا کہ یہ حدیث تم سے پہلے اور کوئی مجھ سے نہیں پوچھے گا، کیونکہ حدیث کے لینے کے لیے میں تمہاری بہت زیادہ حرص دیکھا کرتا ہوں۔ قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اسے حاصل ہو گی جس نے کلمہ «لا إله إلا الله» خلوص دل سے کہا۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَنْ سَلَفَ مِنَ الأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلاَةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، أُوتِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا بِهَا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ، ثُمَّ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، ثُمَّ أُوتِيَ أَهْلُ الإِنْجِيلِ الإِنْجِيلَ فَعَمِلُوا بِهِ حَتَّى صُلِّيَتِ الْعَصْرُ، ثُمَّ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، ثُمَّ أُوتِيتُمُ الْقُرْآنَ فَعَمِلْتُمْ بِهِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأُعْطِيتُمْ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَقَالَ أَهْلُ الْكِتَابِ هَؤُلاَءِ أَقَلُّ مِنَّا عَمَلاً وَأَكْثَرُ أَجْرًا‏.‏ قَالَ اللَّهُ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا قَالُوا لاَ‏.‏ قَالَ فَهْوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Your stay (in this world) in comparison to the stay of the nations preceding you, is like the period between `Asr prayer and the sun set (in comparison to a whole day). The people of the Torah were given the Torah and they acted on it till midday and then they were unable to carry on. And they were given (a reward equal to) one Qirat each. Then the people of the Gospel were given the Gospel and they acted on it till `Asr Prayer and then they were unable to carry on, so they were given la reward equal to) one Qirat each. Then you were given the Qur'an and you acted on it till sunset, therefore you were given (a reward equal to) two Qirats each. On that, the people of the Scriptures said, 'These people (Muslims) did less work than we but they took a bigger reward.' Allah said (to them). 'Have I done any oppression to you as regards your rights?' They said, "No." Then Allah said, 'That is My Blessing which I grant to whomsoever I will
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گذشتہ امتوں کے مقابلہ میں تمہارا وجود ایسا ہے جیسے عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت، اہل توریت کو توریت دی گئی تو انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ دن آدھا ہو گیا اور وہ عاجز ہو گئے۔ پھر انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی اور انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا، انہیں بھی ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر تمہیں قرآن دیا گیا اور تم نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہو گیا، تمہیں دو دو قیراط دئیے گئے، اس پر کتاب نے کہا کہ یہ ہم سے عمل میں کم ہیں اور اجر میں زیادہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا میں نے تمہارا حق دینے میں کوئی ظلم کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں دوں۔
Narrated by Marwan bin Al-Hakam
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارٍ، وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِطُولِ الطُّولَيَيْنِ
Narrated Marwan bin Al-Hakam:Zaid bin Thabit said to me, "Why do you recite very short Suras in the Maghrib prayer while I heard the Prophet (ﷺ) reciting the longer of the two long Suras?
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انہوں نے عبدالملک ابن جریج سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ (زہیر بن عبداللہ) سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے مروان بن حکم سے، اس نے کہا زید بن ثابت نے مجھے ٹوکا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے ہو۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو لمبی سورتوں میں سے ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا۔