Narrated by Ibn `Abbas.
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، مَوْلَى وَالِبَةَ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَرَفَةَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَاءَهُ زَجْرًا شَدِيدًا وَضَرْبًا وَصَوْتًا لِلإِبِلِ فَأَشَارَ بِسَوْطِهِ إِلَيْهِمْ وَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالإِيضَاعِ ". أَوْضَعُوا أَسْرَعُوا. خِلاَلَكُمْ مِنَ التَّخَلُّلِ بَيْنَكُمْ، وَفَجَّرْنَا خِلاَلَهُمَا. بَيْنَهُمَا.
Narrated Ibn `Abbas.:I proceeded along with the Prophet (ﷺ) on the day of `Arafat (9th Dhul-Hijja). The Prophet (ﷺ) heard a great hue and cry and the beating of camels behind him. So he beckoned to the people with his lash, "O people! Be quiet. Hastening is not a sign of righteousness
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سوید نے بیان کیا، کہا مجھ سے مطلب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، انہیں والیہ کوفی کے غلام سعید بن جبیر نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنما نے بیان کیا کہ عرفہ کے دن ( میدان عرفات سے ) وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سخت شور ( اونٹ ہانکنے کا ) اور اونٹوں کی مار دھاڑ کی آواز سنی تو آپ نے ان کی طرف اپنے کوڑے سے اشارہ کیا اور فرمایا کہ لوگو! آہستگی و وقار اپنے اوپر لازم کر لو، ( اونٹوں کو ) تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ( سورۃ البقرہ میں ) «أوضعوا» کے معنی ریشہ دوانیاں کریں، «خلالكم» کا معنی تمہارے بیچ میں، اسی سے ( سورۃ الکہف ) میں آیا ہے «وفجرنا خلالهما» یعنی ان کے بیچ میں۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَ نَخْلاً بِتَمْرٍ كَيْلاً، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلاً أَوْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ، وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ.
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) forbade Al-Muzabana, i.e. to sell ungathered dates of one's garden for measured dried dates or fresh ungathered grapes for measured dried grapes; or standing crops for measured quantity of foodstuff. He forbade all such bargains
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ یعنی باغ کے پھلوں کو اگر وہ کھجور ہیں تو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں ناپ کر بیچا جائے۔ اور اگر انگور ہیں تو اسے خشک انگور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے اور اگر وہ کھیتی ہے تو ناپ کر غلہ کے بدلے میں بیچا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام قسموں کے لین دین سے منع فرمایا ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ، قِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ لاَ يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلاَّ أَنْ يَكُونَ مَخْتُومًا. فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ.
Narrated Anas:When the Prophet (ﷺ) intended to write a letter to the ruler of the Byzantines, he was told that those people did not read any letter unless it was stamped with a seal. So, the Prophet (ﷺ) got a silver ring-- as if I were just looking at its white glitter on his hand ---- and stamped on it the expression "Muhammad, Apostle of Allah
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی قتادہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ بیان کرتے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ روم کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ وہ لوگ کوئی خط اس وقت تک قبول نہیں کرتے جب تک وہ سربمہر نہ ہو، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ گویا دست مبارک پر اس کی سفیدی میری نظروں کے سامنے ہے۔ اس انگوٹھی پر ”محمد رسول اللہ“ کھدا ہوا تھا۔
Narrated by Abu Mas'ud
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ إِذَا لَمْ تَسْتَحِي فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ ".
Narrated Abu Mas'ud:The Prophet (ﷺ) said, "One of the sayings of the prophets which the people have got is, 'If you do not feel ashamed, then do whatever you like
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ان سے منصور نے بیان کیا انہوں نے کہا میں نے ربعی بن حراش سے سنا وہ ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگلے پیغمبروں کے کلام میں سے لوگوں نے جو پایا یہ بھی ہے کہ جب تجھ میں حیاء نہ ہو پھر جو جی چاہے کر۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ مِنْكَ كَثِيرًا فَأَنْسَاهُ. قَالَ " ابْسُطْ رِدَاءَكَ ". فَبَسَطْتُ فَغَرَفَ بِيَدِهِ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ " ضُمَّهُ " فَضَمَمْتُهُ، فَمَا نَسِيتُ حَدِيثًا بَعْدُ.
Narrated Abu Huraira:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I hear many narrations from you but I forget them." He said, "Spread your covering sheet." I spread my sheet and he moved both his hands as if scooping something and emptied them in the sheet and said, "Wrap it." I wrapped it round my body, and since then I have never forgotten
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا مجھ سے محمد بن اسماعیل ابن ابی الفدیک نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن ابن ابی ذئب نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ سے بہت سی احادیث اب تک سنی ہیں لیکن میں انہیں بھول جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے چادر پھیلا دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لپ بھر کر ڈال دی اور فرمایا کہ اسے اپنے بدن سے لگا لو۔ چنانچہ میں نے لگا لیا اور اس کے بعد کبھی کوئی حدیث نہیں بھولا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلاَلٌ ـ قَالَتْ ـ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ وَيَا بِلاَلُ، كَيْفَ تَجِدُكَ قَالَتْ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلاَلٌ إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ الْحُمَّى يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ وَيَقُولُ أَلاَ لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ ".
Narrated `Aisha:When Allah's Messenger (ﷺ) came to Medina, Abu Bakr and Bilal got fever, and I went to both of them and said, "O my father, how do you feel? O Bilal, how do you feel?" Whenever Abu Bakr's fever got worse, he would say, "Every man will meet his death once in one morning while he will be among his family, for death is really nearer to him than his leather shoe laces (to his feet)." And whenever fever deserted Bilal, he would say aloud, "Would that I know whether I shall spend a night in the valley (of Mecca) with Idhkhir and Jalil (i.e. kinds of grass) around me, and whether I shall drink one day the water of Majannah, and whether I shall see once again the hills of Shamah and Tafil?" Then I went to Allah's Messenger (ﷺ) and told him of that. He said, "O Allah, make us love Medina as much as or more than we used to love Mecca, O Allah, make it healthy and bless its Sa' and Mud (i.e. measures), and take away its fever to Al-Juhfa
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما کو بخار چڑھ آیا، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: والد صاحب! آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب بخار چڑھا تو یہ شعر پڑھنے لگے۔ ”ہر شخص اپنے گھر والوں کے ساتھ صبح کرتا ہے اور موت تو جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے.“ اور بلال رضی اللہ عنہ کے بخار میں جب کچھ تخفیف ہوتی تو زور زور سے روتے اور یہ شعر پڑھتے ”کاش مجھے یہ معلوم ہو جاتا کہ کبھی میں ایک رات بھی وادی مکہ میں گزار سکوں گا جب کہ میرے اردگرد ( خوشبودار گھاس ) اذخر اور جلیل ہوں گی، اور کیا ایک دن بھی مجھے ایسا مل سکے گا جب میں مقام مجنہ کے پانی پر جاؤں گا اور کیا شامہ اور طفیل کی پہاڑیوں کو ایک نظر دیکھ سکوں گا۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة أو أشد، وصححها وبارك لنا في صاعها ومدها، وانقل حماها فاجعلها بالجحفة» ”اے اللہ! مدینہ کی محبت ہمارے دل میں اتنی پیدا کر دے جتنی مکہ کی تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ، یہاں کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا۔ ہمارے لیے یہاں کے صاع اور مد ( اناج ناپنے کے پیمانے ) میں برکت عنایت فرما اور یہاں کے بخار کو مقام جحفہ میں بھیج دے۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ـ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ـ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَوَّلُ يَوْمٍ شَهِدْتُهُ يَوْمُ الْخَنْدَقِ.
Narrated Ibn `Umar:The first day (i.e. Ghazwa) I participated in, was the day of Al-Khandaq (i.e. Trench)
مجھ سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سب سے پہلا غزوہ جس میں میں نے شرکت کی وہ غزوہ خندق ہے۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} قَالَ أَصْحَابُهُ وَأَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ فَنَزَلَتْ {إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ}
Narrated `Abdullah:When:"...and confuse not their belief with wrong." (6.82) was revealed, the Prophet's companions said, "Which of us has not done wrong?" Then there was revealed:-- "Verily joining others in worship with Allah is a tremendous wrong indeed
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عدی نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» نازل ہوئی صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، ہم میں کون ہو گا جس کا دامن ظلم سے پاک ہو۔ اس یہ آیت اتری «إن الشرك لظلم عظيم» ”بیشک شرک ظلم عظیم ہے۔“
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَبِلاَلٌ، فَأَطَالَ ثُمَّ خَرَجَ، وَكُنْتُ أَوَّلَ النَّاسِ دَخَلَ عَلَى أَثَرِهِ فَسَأَلْتُ بِلاَلاً أَيْنَ صَلَّى قَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ.
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) entered the Ka`ba along with Usama bin Zaid, `Uthman bin Talha and Bilal and remained there for a long time. When they came out, I was the first man to enter the Ka`ba. I asked Bilal "Where did the Prophet (ﷺ) pray?" Bilal replied, "Between the two front Pillars
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے اور اسامہ بن زید عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک اندر رہے۔ پھر باہر آئے۔ اور میں سب لوگوں سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہی وہاں آیا۔ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ آگے کے دو ستونوں کے بیچ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ ـ رضى الله عنهم ـ دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَقَالَ يَا بُنَيَّةِ لاَ يَغُرَّنَّكِ هَذِهِ الَّتِي أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهَا ـ يُرِيدُ عَائِشَةَ ـ فَقَصَصْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَبَسَّمَ.
Narrated Ibn `Abbas:that `Umar entered upon Hafsa and said, "O my daughter! Do not be misled by the manners of her who is proud of her beauty because of the love of Allah's Messenger (ﷺ) for her." By 'her' he meant `Aisha. `Umar added, "Then I told that to Allah's Messenger (ﷺ) and he smiled (on hearing that)
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبید بن حنین نے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہ آپ حفصہ کے یہاں گئے اور ان سے کہا کہ بیٹی اپنی اس سوکن کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آ جانا جسے اپنے حسن پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ناز ہے۔ آپ کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا ( عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ) کہ پھر میں نے یہی بات آپ کے سامنے دہرائی آپ مسکرا دیئے۔
Narrated by Asma
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنِ امْرَأَتِهِ، فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ لَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ.
Narrated Asma':(the daughter of Abu Bakr) Allah's Messenger (ﷺ) has cursed such a lady as artificially lengthening (her or someone else's) hair or gets her hair lengthened
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کی بیوی فاطمہ نے، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی پر لعنت بھیجی ہے۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ لَهُمَا " يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا ". قَالَ أَبُو مُوسَى يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ، يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ، وَشَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ، يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ".
Narrated Abu Musa:that when Allah's Messenger (ﷺ) sent him and Mu`adh bin Jabal to Yemen, he said to them, "Facilitate things for the people (treat the people in the most agreeable way), and do not make things difficult for them, and give them glad tidings, and let them not have aversion (i.e. to make the people hate good deeds) and you should both work in cooperation and mutual understanding, obey each other." Abu Musa said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are in a land in which a drink named Al Bit' is prepared from honey, and another drink named Al-Mizr is prepared from barley." On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "All intoxicants (i.e. all alcoholic drinks) are prohibited
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں سعید بن ابی بردہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ان کے دادا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل کو ( یمن ) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانیاں پیدا کرنا، تنگی میں نہ ڈالنا، انہیں خوشخبری سنانا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے «بتع» کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے «مزر.» کہا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔
Narrated by An-Nu`man bin Bashir
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ عَلَى أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ، كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ وَالْقُمْقُمُ".
Narrated An-Nu`man bin Bashir:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "The least punished person of the (Hell) Fire people on the Day of Resurrection will be a man under whose arch of the feet two smoldering embers will be placed, because of which his brain will boil just like Al-Mirjal (copper vessel) or a Qum-qum (narrow-necked vessel) is boiling with water
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخیوں میں عذاب کے اعتبار سے سب سے ہلکا عذاب پانے والا وہ شخص ہو گا جس کے دونوں پیروں کے نیچے دو انگارے رکھ دئیے جائیں گے جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا جس طرح ہانڈی اور کیتلی جوش کھاتی ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا} فِي الدُّعَاءِ.
Narrated `Aisha:The Verse:-- '(O Muhammad!) Neither say your prayer aloud nor say it in a low tone.' (17.110) was revealed in connection with the invocations
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آیت «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» دعا کے بارے میں نازل ہوئی، یعنی دعا نہ بہت چلا کر مانگ نہ آہستہ بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کر۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ وَقَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ". فَرَجَعَ يُصَلِّي كَمَا صَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " ثَلاَثًا. فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَهُ فَعَلِّمْنِي. فَقَالَ " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) entered the mosque and a person followed him. The man prayed and went to the Prophet and greeted him. The Prophet (ﷺ) returned the greeting and said to him, "Go back and pray, for you have not prayed." The man went back prayed in the same way as before, returned and greeted the Prophet who said, "Go back and pray, for you have not prayed." This happened thrice. The man said, "By Him Who sent you with the Truth, I cannot offer the prayer in a better way than this. Please, teach me how to pray." The Prophet (ﷺ) said, "When you stand for Prayer say Takbir and then recite from the Holy Qur'an (of what you know by heart) and then bow till you feel at ease. Then raise your head and stand up straight, then prostrate till you feel at ease during your prostration, then sit with calmness till you feel at ease (do not hurry) and do the same in all your prayers
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ عمری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے باپ ابوسعید مقبری سے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اس کے بعد ایک اور شخص آیا۔ اس نے نماز پڑھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا کہ واپس جاؤ اور پھر نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ شخص واپس گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھی اور پھر آ کر سلام کیا۔ لیکن آپ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ واپس جا اور دوبارہ نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ نے اس طرح تین مرتبہ کیا۔ آخر اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ میں اس کے علاوہ اور کوئی اچھا طریقہ نہیں جانتا، اس لیے آپ مجھے نماز سکھا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے کھڑا ہو تو پہلے تکبیر تحریمہ کہہ۔ پھر آسانی کے ساتھ جتنا قرآن تجھ کو یاد ہو اس کی تلاوت کر۔ اس کے بعد رکوع کر، اچھی طرح سے رکوع ہو لے تو پھر سر اٹھا کر پوری طرح کھڑا ہو جا۔ اس کے بعد سجدہ کر پورے اطمینان کے ساتھ۔ پھر سر اٹھا اور اچھی طرح بیٹھ جا۔ اسی طرح اپنی تمام نماز پوری کر۔