Narrated by Usama bin Zaid
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الشِّعْبَ الأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ أَنَاخَ، فَبَالَ ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا. فَقُلْتُ الصَّلاَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " الصَّلاَةُ أَمَامَكَ ". فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَصَلَّى ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ جَمْعٍ. قَالَ كُرَيْبٌ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ الْفَضْلِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ.
Narrated Usama bin Zaid:I rode behind Allah's Messenger (ﷺ) from `Arafat and when Allah's Messenger (ﷺ) reached the mountain pass on the left side which is before Al-Muzdalifa he made his camel kneel and then urinated, and then I poured water for his ablution. He performed light ablution and then I said to him: (Is it the time for) the prayer, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He replied, "The (place of) prayer is ahead of you (i.e. at Al- Muzdalifa)." So Allah's Messenger (ﷺ) rode till he reached Al-Muzdalifa and then he offered the prayer (there) . Then in the morning (10th Dhul-Hijja) Al-Faql (bin `Abbas) rode behind Allah's Messenger (ﷺ). Kuraib, (a sub-narrator) said that `Abdullah bin `Abbas narrated from Al-Fadl, "Allah's Messenger (ﷺ) kept on reciting Talbiya (during the journey) till he reached the Jamra." (Jamrat-Al-`Aqaba)
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ، إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If somebody sells pollinated date palms, the fruits will be for the seller unless the buyer stipulates that they will be for himself (and the seller agrees)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی نے کھجور کے ایسے درخت بیچے ہوں جن کو پیوندی کیا جا چکا تھا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا رہتا ہے۔ البتہ اگر خریدنے والے نے شرط لگا دی ہو۔ ( کہ پھل سمیت سودا ہو رہا ہے تو پھل بھی خریدار کی ملکیت میں آ جائیں گے ) ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه قَدِمَ طُفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ دَوْسًا عَصَتْ وَأَبَتْ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا. فَقِيلَ هَلَكَتْ دَوْسٌ. قَالَ " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ ".
Narrated Abu Huraira:Tufail bin `Amr Ad-Dausi and his companions came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The people of the tribe of Daus disobeyed and refused to follow you; so invoke Allah against them." The people said, "The tribe of Daus is ruined." The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Give guidance to the people of Daus, and let them embrace Islam
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! قبیلہ دوس کے لوگ سرکشی پر اتر آئے ہیں اور اللہ کا کلام سننے سے انکار کرتے ہیں۔ آپ ان پر بددعا کیجئے! بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اب دوس کے لوگ برباد ہو جائیں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم اهد دوسا وائت بهم» ”اے اللہ! دوس کے لوگوں کو ہدایت دے اور انہیں ( دائرہ اسلام میں ) کھینچ لا۔“
Narrated by Abu Masud
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ زُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، عُقْبَةُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ، إِذَا لَمْ تَسْتَحِي فَافْعَلْ مَا شِئْتَ ".
Narrated Abu Masud: `Uqba said:The Prophet (ﷺ) said, "One of the sayings of the prophets which the people have got is, 'If you do not feel ashamed, then do whatever you like
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ان سے زہیر نے کہا ہم سے منصور نے بیان کیا ان سے ربعی بن حراش نے کہا ہم سے ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں نے اگلے پیغمبروں کے کلام جو پائے ان میں یہ بھی ہے کہ جب تجھ میں حیاء نہ ہو تو پھر جو جی چاہے کر۔“
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ بُكْرَةً وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ. وَأَحَالُوا إِلَى الْحِصْنِ يَسْعَوْنَ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ وَقَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ".
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) reached Khaibar in the early morning and the people of Khaibar came out with their spades, and when they saw the Prophet (ﷺ) they said, "Muhammad and his army!" and returned hurriedly to take refuge in the fort. The Prophet (ﷺ) raised his hands and said, "Allah is Greater! Khaibar is ruined ! If we approach a nation, then miserable is the morning of those who are warned
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں صبح سویرے ہی پہنچ گئے۔ خیبر کے یہودی اس وقت اپنے پھاوڑے لے کر ( کھیتوں میں کام کرنے کے لیے ) جا رہے تھے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور یہ کہتے ہوئے کہ محمد لشکر لے کر آ گئے، وہ قلعہ کی طرف بھاگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا ”اللہ اکبر خیبر تو برباد ہوا کہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں ( جنگ کے لیے ) اتر جاتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔“
Narrated by Al-Bara bin Azib
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَا يُقْرِئَانِ النَّاسَ، فَقَدِمَ بِلاَلٌ وَسَعْدٌ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، ثُمَّ قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَىْءٍ فَرَحَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، حَتَّى جَعَلَ الإِمَاءُ يَقُلْنَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا قَدِمَ حَتَّى قَرَأْتُ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى} فِي سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ.
Narrated Al-Bara bin Azib:The first people who came to us (in Medina) were Mus`ab bin `Umair and Ibn Um Maktum who were teaching Qur'an to the people. Then there came Bilal, Sa`d and `Ammar bin Yasir. After that `Umar bin Al-Khattab came along with twenty other companions of the Prophet. Later on the Prophet (ﷺ) himself came (to Medina) and I had never seen the people of Medina so joyful as they were on the arrival of Allah's Apostle, for even the slave girls were saying, "Allah's Messenger (ﷺ) has arrived!" And before his arrival I had read the Sura starting with:-- "Glorify the Name of your Lord, the Most High" (87.1) together with other Suras of Al-Mufassal
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ سب سے پہلے ہمارے یہاں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ( نابینا ) آئے یہ دونوں ( مدینہ کے ) مسلمانوں کو قرآن پڑھنا سکھاتے تھے۔ اس کے بعد بلال، سعد اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم آئے۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس صحابہ کو ساتھ لے کر آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عامر بن فہیرہ کو ساتھ لے کر ) تشریف لائے۔ مدینہ کے لوگوں کو جتنی خوشی اور مسرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے ہوئی میں نے کبھی انہیں کسی بات پر اس قدر خوش نہیں دیکھا۔ لونڈیاں بھی ( خوشی میں ) کہنے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو اس سے پہلے میں مفصل کی دوسری کئی سورتوں کے ساتھ «سبح اسم ربك الأعلى» بھی سیکھ چکا تھا۔
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يُحَدِّثُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ، وَخَنْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَيْتُهُ يَنْقُلُ مِنْ تُرَابِ الْخَنْدَقِ حَتَّى وَارَى عَنِّي الْغُبَارُ جِلْدَةَ بَطْنِهِ، وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعَرِ، فَسَمِعْتُهُ يَرْتَجِزُ بِكَلِمَاتِ ابْنِ رَوَاحَةَ، وَهْوَ يَنْقُلُ مِنَ التُّرَابِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا قَالَ ثُمَّ يَمُدُّ صَوْتَهُ بِآخِرِهَا.
Narrated Al-Bara:When it was the day of Al-Ahzab (i.e. the clans) and Allah's Messenger (ﷺ) dug the trench, I saw him carrying earth out of the trench till dust made the skin of his `Abdomen out of my sight and he was a hairy man. I heard him reciting the poetic verses composed by Ibn Rawaha while he was carrying the earth, "O Allah! Without You we would not have been guided, nor would we have given in charity, nor would we have prayed. So, (O Allah), please send Sakina (i.e. calmness) upon us and make our feet firm if we meet the enemy, as they have rebelled against us. And if they intend affliction (i.e. want to frighten us, and fight against us) then we would not (flee but withstand them)." The Prophet (ﷺ) would then prolong his voice at the last words
مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے ابواسحاق سبیعی نے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ خندق کھودتے ہوئے اس کے اندر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک کی کھال مٹی سے اٹ گئی تھی۔ آپ کے ( سینے سے پیٹ تک ) گھنے بالوں ( کی ایک لکیر ) تھی۔ میں نے خود سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار مٹی اٹھاتے ہوئے پڑھ رہے تھے۔ ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس ہم پر تو اپنی طرف سے سکینت نازل فرما اور اگر ہمارا آمنا سامنا ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما۔ یہ لوگ ہمارے اوپر ظلم سے چڑھ آئے ہیں۔ جب یہ ہم سے کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں سنتے۔“ راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری کلمات کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ} قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعُوذُ بِوَجْهِكَ ". قَالَ {أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ} قَالَ " أَعُوذُ بِوَجْهِكَ" {أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ} قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا أَهْوَنُ ". أَوْ " هَذَا أَيْسَرُ ".
Narrated Jabir:When this Verse was revealed: "Say: He has power to send torment on you from above." (6.65) Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Allah! I seek refuge with Your Face (from this punishment)." And when the verse: "or send torment from below your feet," (was revealed), Allah's Messenger (ﷺ) said, "(O Allah!) I seek refuge with Your Face (from this punishment)." (But when there was revealed): "Or confuse you in party strife and make you to taste the violence of one another." (6.65) Allah's Messenger (ﷺ) said, "This is lighter (or, this is easier)
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر یہ اترا «أو من تحت أرجلكم» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا اللہ! میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر یہ اترا «أو يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض» اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پہلے عذابوں سے ہلکا یا آسان ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ كِبَارَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ عِنْدَ الْمَغْرِبِ. وَزَادَ شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَنَسٍ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Anas:I saw the most famous people amongst the companions of the Prophet (ﷺ) hurrying towards the pillars at the Maghrib prayer before the Prophet (ﷺ) came for the prayer
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے عمرو بن عامر سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھا کہ وہ مغرب ( کی اذان ) کے وقت ستونوں کی طرف لپکتے۔ اور شعبہ نے عمرو بن عامر سے انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے ( اس حدیث میں ) یہ زیادتی کی ہے۔ ”یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجرے سے باہر تشریف لاتے۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ " أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا ". يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا. قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدُورُ عَلَىَّ فِيهِ فِي بَيْتِي، فَقَبَضَهُ اللَّهُ، وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي، وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي.
Narrated `Aisha:that during his fatal ailment, Allah's Messenger (ﷺ), used to ask his wives, "Where shall I stay tomorrow? Where shall I stay tomorrow?" He was looking forward to Aisha's turn. So all his wives allowed him to stay where he wished, and he stayed at `Aisha's house till he died there. `Aisha added: He died on the day of my usual turn at my house. Allah took him unto Him while his head was between my chest and my neck and his saliva was mixed with my saliva
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس مرض میں وفات ہوئی، اس میں آپ پوچھا کرتے تھے کہ کل میری باری کس کے یہاں ہے؟ کل میری باری کس کے یہاں ہے؟ آپ کو عائشہ کی باری کا انتظار تھا۔ چنانچہ آپ کی تمام ازواج نے آپ کو اس کی اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں بیماری کے دن گزاریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آ گئے اور یہیں آپ کی وفات ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی دن وفات ہوئی جو میری باری کا دن تھا اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی احسان دیکھو اس نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میرے سینے پر تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن میرے لعاب دہن سے ملا۔
Narrated by Asma
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي أَنْكَحْتُ ابْنَتِي، ثُمَّ أَصَابَهَا شَكْوَى فَتَمَرَّقَ رَأْسُهَا، وَزَوْجُهَا يَسْتَحِثُّنِي بِهَا أَفَأَصِلُ رَأْسَهَا فَسَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ.
Narrated Asma:(the daughter of Abu' Bakr) A woman came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "I married my daughter to someone, but she became sick and all her hair fell out, and (because of that) her husband does not like her. May I let her use false hair?" On that the Prophet (ﷺ) cursed such a lady as artificially lengthening (her or someone else's) hair or got her hair lengthened artificially
مجھ سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے فضل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میری والدہ صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ میں نے اپنی لڑکی کی شادی کی ہے اس کے بعد وہ بیمار ہو گئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے اور اس کا شوہر مجھ پر اس کے معاملہ میں زور دیتا ہے۔ کیا میں اس کے سر میں مصنوعی بال لگا دوں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں کو برا کہا، ان پر لعنت بھیجی۔
Narrated by Thabit
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ، سَمِعْتُ ثَابِتًا، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَعْرِضُ عَلَيْهِ نَفْسَهَا فَقَالَتْ هَلْ لَكَ حَاجَةٌ فِيَّ فَقَالَتِ ابْنَتُهُ مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا. فَقَالَ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ، عَرَضَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفْسَهَا.
Narrated Thabit:that he heard Anas saying, "A woman came to the Prophet (ﷺ) offering herself to him in marriage, saying, "Have you got any interest in me (i.e. would you like to marry me?)" Anas's daughter said, "How shameless that woman was!" On that Anas said, "She is better than you, for she presented herself to Allah's Messenger (ﷺ) (for marriage)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے مرحوم بن عبدالعزیز نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے کہا کہ میں نے ثابت سے سنا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے لیے پیش کیا اور عرض کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے نکاح کی ضرورت ہے؟ اس پر انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بولیں، وہ کتنی بےحیا تھی۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ تم سے تو اچھی تھیں انہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے لیے پیش کیا۔
Narrated by An-Nu`man
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ "إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَةٌ يَغْلِي مِنْهَا دِمَاغُهُ".
Narrated An-Nu`man:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "The person who will have the least punishment from amongst the Hell Fire people on the Day of Resurrection, will be a man under whose arch of the feet a smoldering ember will be placed so that his brain will boil because of it
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابواسحاق سبیعی سے سنا، کہا کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن عذاب کے اعتبار سے سب سے کم وہ شخص ہو گا جس کے دونوں قدموں کے نیچے آگے کا انگارہ رکھا جائے گا اور اس کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا} قَالَ نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ، فَإِذَا سَمِعَهُ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم {وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ} أَىْ بِقِرَاءَتِكَ، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ، فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ {وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا} عَنْ أَصْحَابِكَ فَلاَ تُسْمِعُهُمْ {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً}
Narrated Ibn `Abbas:regarding the explanation of the Verse:-- '(O Muhammad!) Neither say your prayer aloud, nor say it in a low tone.' (17.110) This Verse was revealed while Allah's Messenger (ﷺ) was hiding himself at Mecca. At that time, when he led his companions in prayer, he used to raise his voice while reciting the Qur'an; and if the pagans heard him, they would abuse the Qur'an, its Revealer, and the one who brought it. So Allah said to His Prophet: "Neither say your prayer aloud. i.e., your recitation (of Qur'an) lest the pagans should hear (it) and abuse the Qur'an" nor say it in a low tone, "lest your voice should fail to reach your companions, "but follow a way between
مجھ سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، ان سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابوبشر نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کے بارے میں کہ یہ آیت جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپ کر ( اعمال اسلام ادا کرتے تھے ) لیکن جب اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے تو قرآن مجید بلند آواز سے پڑھتے، جب مشرکین سنتے تو قرآن مجید کو، اس کے اتارنے والے کو اور اسے لے کر آنے والے کو گالی دیتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنی قرآت میں آواز بلند نہ کریں کہ مشرکین سنین اور پھر قرآن کو گالی دیں اور نہ اتنا آہستہ ہی پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ ان کے درمیان کا راستہ اختیار کریں۔
Narrated by Ubada bin As-Samit
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ".
Narrated 'Ubada bin As-Samit:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever does not recite Al-Fatiha in his prayer, his prayer is invalid
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا محمود بن ربیع سے، انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص نے سورۃ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی۔