بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
14
83 hadith
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ الْقُنُوتُ فِي الْمَغْرِبِ وَالْفَجْرِ‏.‏
Narrated Anas:The Qunut used to be recited in the Maghrib and the Fajr prayers
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، کہا کہ ہمیں خالد حذاء نے خبر دی، انہیں ابوقلابہ نے، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قنوت مغرب اور فجر میں پڑھی جاتی تھی۔
Narrated by Masruq
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، وَالأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ أَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنَّ قُرَيْشًا أَبْطَئُوا عَنِ الإِسْلاَمِ،، فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّى هَلَكُوا فِيهَا وَأَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ، جِئْتَ تَأْمُرُ بِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَإِنَّ قَوْمَكَ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ‏.‏ فَقَرَأَ ‏{‏فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ‏}‏ ثُمَّ عَادُوا إِلَى كُفْرِهِمْ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى‏}‏ يَوْمَ بَدْرٍ‏.‏ قَالَ وَزَادَ أَسْبَاطٌ عَنْ مَنْصُورٍ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَسُقُوا الْغَيْثَ، فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ سَبْعًا، وَشَكَا النَّاسُ كَثْرَةَ الْمَطَرِ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا ‏"‏‏.‏ فَانْحَدَرَتِ السَّحَابَةُ عَنْ رَأْسِهِ، فَسُقُوا النَّاسُ حَوْلَهُمْ‏.‏
Narrated Masruq:One day I went to Ibn Mas`ud who said, "When Quraish delayed in embracing Islam, the Prophet (ﷺ) invoked Allah to curse them, so they were afflicted with a (famine) year because of which many of them died and they ate the carcasses and Abu Sufyan came to the Prophet (ﷺ) and said, 'O Muhammad! You came to order people to keep good relation with kith and kin and your nation is being destroyed, so invoke Allah.' So the Prophet (ﷺ) recited the Holy verses of Surat-Ad-Dukhan: 'Then watch you For the day that The sky will Bring forth a kind Of smoke Plainly visible.' (44.10) When the famine was taken off, the people renegade once again as nonbelievers. The statement of Allah, (in Sura "Ad- Dukhan"-44) refers to that: 'On the day when We shall seize You with a mighty grasp.' (44.16) And that was what happened on the day of the battle of Badr." Asbat added on the authority of Mansur, "Allah's Messenger (ﷺ) prayed for them and it rained heavily for seven days. So the people complained of the excessive rain. The Prophet (ﷺ) said, 'O Allah! (Let it rain) around us and not on us.' So the clouds dispersed over his head and it rained over the surroundings
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحی نے، ان سے مسروق نے، آپ نے کہا کہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ نے فرمایا کہ قریش کا اسلام سے اعراض بڑھتا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں بددعا کی۔ اس بددعا کے نتیجے میں ایسا قحط پڑا کہ کفار مرنے لگے اور مردار اور ہڈیاں کھانے لگے۔ آخر ابوسفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں لیکن آپ کی قوم مر رہی ہے۔ اللہ عزوجل سے دعا کیجئے۔ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی ( ترجمہ ) اس دن کا انتظار کر جب آسمان پر صاف کھلا ہوا دھواں نمودار ہو گا الآیہ ( خیر آپ نے دعا کی بارش ہوئی قحط جاتا رہا ) لیکن وہ پھر کفر کرنے لگے اس پر اللہ پاک کا یہ فرمان نازل ہوا ( ترجمہ ) جس دن ہم انہیں سختی کے ساتھ پکڑ کریں گے اور یہ پکڑ بدر کی لڑائی میں ہوئی اور اسباط بن محمد نے منصور سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے استسقاء کی ( مدینہ میں ) جس کے نتیجہ میں خوب بارش ہوئی کہ سات دن تک وہ برابر جاری رہی۔ آخر لوگوں نے بارش کی زیادتی کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللهم حوالينا ولا علينا» کہ اے اللہ! ہمارے اطراف و جوانب میں بارش برسا، مدینہ میں بارش کا سلسلہ ختم کر۔ چنانچہ بادل آسمان سے چھٹ گیا اور مدینہ کے اردگرد خوب بارش ہوئی۔
Narrated by `Amra bint `Abdur-Rahman
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ يَهُودِيَّةً، جَاءَتْ تَسْأَلُهَا فَقَالَتْ أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ‏.‏ فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ‏.‏ ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا، فَكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَرَجَعَ ضُحًى، فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ ظَهْرَانَىِ الْحُجَرِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلاً ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ وَهْوَ دُونَ السُّجُودِ الأَوَّلِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
Narrated `Amra bint `Abdur-Rahman:A Jewess came to `Aisha to ask her about something and then she said, "May Allah give you refuge from the punishment of the grave." So `Aisha asked Allah's Messenger (ﷺ), "Would the people be punished in their graves?" Allah's Messenger (ﷺ) asked Allah's refuge from the punishment of the grave (indicating an affirmative reply). Then one day Allah's Messenger (ﷺ) rode (to leave for some place) but the sun eclipsed. He returned on the forenoon and passed through the rear of the dwellings (of his wives) and stood up and started offering the (eclipse) prayer and the people stood behind him. He stood for a long period and then performed a long bowing and then stood straight for a long period which was shorter than that of the first standing, then he performed a prolonged bowing which was shorter than the first bowing, then he raised his head and prostrated for a long time and then stood up (for the second rak`a) for a long while, but the standing was shorter than the standing of the first rak`a. Then he performed a prolonged bowing which was shorter than that of the first one. He then stood up for a long time but shorter than the first, then again performed a long bowing which was shorter than the first and then prostrated for a shorter while than that of the first prostration. Then he finished the prayer and delivered the sermon and) said what Allah wished; and ordered the people to seek refuge with Allah from the punishment of the grave
Narrated by Nafi`
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُهُ‏.‏
Narrated Nafi`:Ibn `Umar (while on a journey) used to offer the prayer and the witr on his mount (Rahila). He said that the Prophet (ﷺ) used to do so
ہم سے ابوالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نفل نماز سواری پر پڑھتے تھے۔ اسی طرح وتر بھی۔ اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا کرتے تھے۔
Narrated by Qatada
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ تَسَحَّرَا، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُورِهِمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الصَّلاَةِ فَصَلَّى‏.‏ قُلْنَا لأَنَسٍ كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلاَةِ قَالَ كَقَدْرِ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً‏.‏
Narrated Qatada:Anas bin Malik said, "The Prophet (ﷺ) and Zaid bin Thabit took their Suhur together. When they finished it, the Prophet (ﷺ) stood for the (Fajr) prayer and offered it." We asked Anas, "What was the interval between their finishing the Suhur and the starting of the morning prayer?" Anas replied, "It was equal to the time taken by a person in reciting fifty verses of the Qur'an
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دونوں نے مل کر سحری کھائی، سحری سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور دونوں نے نماز پڑھی۔ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سحری سے فراغت اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنا فاصلہ رہا ہو گا؟ آپ نے جواب دیا کہ اتنی دیر میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ سکتا ہے۔
Narrated by Al-Azraq bin Qais
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ كُنَّا بِالأَهْوَازِ نُقَاتِلُ الْحَرُورِيَّةَ، فَبَيْنَا أَنَا عَلَى جُرُفِ نَهَرٍ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي، وَإِذَا لِجَامُ دَابَّتِهِ بِيَدِهِ فَجَعَلَتِ الدَّابَّةُ تُنَازِعُهُ، وَجَعَلَ يَتْبَعُهَا ـ قَالَ شُعْبَةُ ـ هُوَ أَبُو بَرْزَةَ الأَسْلَمِيُّ ـ فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَوَارِجِ يَقُولُ اللَّهُمَّ افْعَلْ بِهَذَا الشَّيْخِ‏.‏ فَلَمَّا انْصَرَفَ الشَّيْخُ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ قَوْلَكُمْ، وَإِنِّي غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَثَمَانِيًا، وَشَهِدْتُ تَيْسِيرَهُ، وَإِنِّي أَنْ كُنْتُ أَنْ أُرَاجِعَ مَعَ دَابَّتِي أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَدَعَهَا تَرْجِعُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقَّ عَلَىَّ‏.‏
Narrated Al-Azraq bin Qais:We were at Al-Ahwaz fighting the Al-Haruriya (tribe). While I was at the bank of a river a man was praying and the reins of his animal were in his hands and the animal was struggling and he was following the animal. (Shu`ba, a sub-narrator, said that man was Abu Barza Al-Aslami). A man from the Khawarij said, "O Allah! Be harsh to this sheik." And when the sheik (Abu Barza) finished his prayer, he said, "I heard your remark. No doubt, I participated with Allah's Messenger (ﷺ) in six or seven or eight holy battles and saw his leniency, and no doubt, I would rather retain my animal than let it return to its stable, as it would cause me much trouble
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ارزق بن قیس نے بیان کیا، کہا کہ ہم اہواز میں ( جو کئی بستیاں ہیں بصرہ اور ایران کے بیچ میں ) خارجیوں سے جنگ کر رہے تھے۔ ایک بار میں نہر کے کنارے بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک شخص ( ابوبرزہ صحابی رضی اللہ عنہ ) آیا اور نماز پڑھنے لگا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے گھوڑے کی لگام ان کے ہاتھ میں ہے۔ اچانک گھوڑا ان سے چھوٹ کر بھاگنے لگا۔ تو وہ بھی اس کا پیچھا کرنے لگے۔ شعبہ نے کہا یہ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ دیکھ کر خوارج میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ اے اللہ! اس شیخ کا ناس کر۔ جب وہ شیخ واپس لوٹے تو فرمایا کہ میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات یا آٹھ جہادوں میں شرکت کی ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آسانیوں کو دیکھا ہے۔ اس لیے مجھے یہ اچھا معلوم ہوا کہ اپنا گھوڑا ساتھ لے کر لوٹوں نہ کہ اس کو چھوڑ دوں وہ جہاں چاہے چل دے اور میں تکلیف اٹھاؤں۔
Narrated by Um 'Atiyya al-Ansariya
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ فَقَالَ ‏"‏ اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مَنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ فَقَالَ ‏"‏ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ ‏"‏‏.‏ تَعْنِي إِزَارَهُ‏.‏
Narrated Um 'Atiyya al-Ansariya:Allah's Messenger (ﷺ) came to us when his daughter died and said, "Wash her thrice or five times or more, if you see it necessary, with water and Sidr and then apply camphor or some camphor at the end; and when you finish, notify me." So when we finished it, we informed him and he gave us his waist-sheet and told us to shroud the dead body in it
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے ام عطیہ انصاری رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ( زینب یا ام کلثوم رضی اللہ عنہما ) کی وفات ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو۔ غسل کے پانی میں بیری کے پتے ملا لو اور آخر میں کافور یا ( یہ کہا کہ ) کچھ کافور کا استعمال کر لینا اور غسل سے فارغ ہونے پر مجھے خبر دے دینا۔ چنانچہ ہم نے جب غسل دے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیدی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنا ازار دیا اور فرمایا کہ اسے ان کی قمیص بنا دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اپنے ازار سے تھی۔
Narrated by Haritha bin Wahab
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ تَصَدَّقُوا فَإِنَّهُ يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ، فَلاَ يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا يَقُولُ الرَّجُلُ لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالأَمْسِ لَقَبِلْتُهَا، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلاَ حَاجَةَ لِي بِهَا ‏"‏‏.‏
Narrated Haritha bin Wahab:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "O people! Give in charity as a time will come upon you when a person will wander about with his object of charity and will not find anybody to accept it, and one (who will be requested to take it) will say, "If you had brought it yesterday, would have taken it, but today I am not in need of it
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن خالد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ صدقہ کرو ‘ ایک ایسا زمانہ بھی تم پر آنے والا ہے جب ایک شخص اپنے مال کا صدقہ لے کر نکلے گا اور کوئی اسے قبول کرنے والا نہیں پائے گا۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ عَمَّهُ، وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ قَالَ لَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Umar:Once I went up the roof of our house and saw Allah's Messenger (ﷺ) answering the call of nature while sitting over two bricks facing Baitul-Maqdis (Jerusalem). (See Hadith No)
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہمیں یحییٰ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے خبر دی، انہیں ان کے چچا واسع بن حبان نے بتلایا، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو اینٹوں پر ( قضاء حاجت کے وقت ) بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے نظر آئے۔
Narrated by Salim from his father who said
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَفِظْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَّتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated Salim from his father who said:"The Prophet (ﷺ) had fixed the Mawaqit as follows: (No)
ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے زہری سے یہ حدیث یاد رکھی، ان سے سالم نے کہا اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات متعین کر دیئے تھے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ خَرَجْنَا مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَحُرُمِ الْحَجِّ، فَنَزَلْنَا سَرِفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ ‏"‏ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ، فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلاَ ‏"‏‏.‏ وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ذَوِي قُوَّةٍ الْهَدْىُ، فَلَمْ تَكُنْ لَهُمْ عُمْرَةً، فَدَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا يُبْكِيكِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ سَمِعْتُكَ تَقُولُ لأَصْحَابِكَ مَا قُلْتَ فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَمَا شَأْنُكِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لاَ أُصَلِّي‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ يَضُرَّكِ أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، كُتِبَ عَلَيْكِ مَا كُتِبَ عَلَيْهِنَّ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَكِهَا ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَكُنْتُ حَتَّى نَفَرْنَا مِنْ مِنًى، فَنَزَلْنَا الْمُحَصَّبَ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ ‏"‏ اخْرُجْ بِأُخْتِكَ الْحَرَمَ، فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ افْرُغَا مِنْ طَوَافِكُمَا، أَنْتَظِرْكُمَا هَا هُنَا ‏"‏‏.‏ فَأَتَيْنَا فِي جَوْفِ اللَّيْلِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ فَرَغْتُمَا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَنَادَى بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ، وَمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ، قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ مُوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ‏.‏
Narrated `Aisha:We set out assuming the Ihram for Hajj in the months of Hajj towards the sacred precincts of Hajj. We dismounted at Sarif and the Prophet (ﷺ) said to his companions, "Whoever has not got the Hadi with him and likes to make it as `Umra, he should do it, but he who has got the Hadi with him should not do it." The Prophet (ﷺ) and some of his wealthy companions had the Hadi with them, so they did not finish Ihram after performing the `Umra. The Prophet (ﷺ) came to me while I was weeping. He asked me the reason for it. I replied, "I have heard of what you have said to your companions and I cannot do the `Umra." He asked me, "What is the matter with you?" I replied, "I am not praying." He said, "There is no harm in it as you are one of the daughters of Adam and the same is written for you as for others. So, you should perform Hajj and I hope that Allah will enable you to perform the `Umra as well." So, I carried on till we departed from Mina and halted at Al-Mahassab. The Prophet (ﷺ) called `Abdur- Rahman and said, "Go out of the sanctuary with your sister and let her assume Ihram for `Umra, and after both of you have finished the Tawaf I will be waiting for you at this place." We came back at midnight and the Prophet (ﷺ) asked us, "Have you finished?" I replied in the affirmative. He announced the departure and the people set out for the journey and some of them had performed the Tawaf of the Ka`ba before the morning prayer, and after that the Prophet (ﷺ) set out for Medina
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حج کے مہینوں اور آداب میں ہم حج کا احرام باندھ کر مدینہ سے چلے اور مقام سرف میں پڑاؤ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی نہ ہو اور وہ چاہے کہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ میں بدل دے تو وہ ایسا کر سکتا ہے، لیکن جس کے ساتھ قربانی ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے بعض مقدور والوں کے ساتھ قربانی تھی، اس لیے ان کا ( احرام صرف ) عمرہ کا نہیں رہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ رو کیوں رہی ہو؟ میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے جو کچھ فرمایا میں سن رہی تھی، اب تو میرا عمرہ رہ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ میں نے کہا کہ میں نماز نہیں پڑھ سکتی ( حیض کی وجہ سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، تو بھی آدم کی بیٹیوں میں سے ایک ہے، اور جو ان سب کے مقدر میں لکھا ہے وہی تمہارا بھی مقدر ہے۔ اب حج کا احرام باندھ لے شاید اللہ تعالیٰ تمہیں عمرہ بھی نصیب کرے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے حج کا احرام باندھ لیا پھر جب ہم ( حج سے فارغ ہو کر اور ) منی سے نکل کر محصب میں اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو بلایا اور ان سے کہا کہ اپنی بہن کو حد حرم سے باہر لے جا ( تنعیم ) تاکہ وہ وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ لیں، پھر طواف و سعی کرو ہم تمہارا انتظار یہیں کریں گے۔ ہم آدھی رات کو آپ کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا فارغ ہو گئے؟ میں نے کہا ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے اصحاب میں کوچ کا اعلان کر دیا۔ بیت اللہ کا طواف وداع کرنے والے لوگ صبح کی نماز سے پہلے ہی روانہ ہو گئے اور مدینہ کی طرف چل دیئے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever performs Hajj to this Ka`ba and does not approach his wife for sexual relations nor commit sins (while performing Hajj), he will come out as sinless as a newborn child, (just delivered by his mother)
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اس گھر کا حج کیا اور نہ شہوت کی فحش باتیں کیں، نہ گناہ کیا تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قَالَ عَمْرٌو أَوَّلُ شَىْءٍ سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ‏.‏ ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ حَدَّثَنِي طَاوُسٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَعَلَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُمَا‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) was cupped while he was in a state of Ihram
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے بیان کیا پہلی بات میں نے جو عطاء بن ابی رباح سے سنی تھی، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب محرم تھے اس وقت آپ نے پچھنا لگوایا تھا۔ پھر میں نے انہیں یہ کہتے سنا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے طاؤس نے یہ حدیث بیان کی تھی۔ اس سے میں نے یہ سمجھا کہ شاید انہوں نے ان دونوں حضرات سے یہ حدیث سنی ہو گی ( متکلم عمرو ہیں اور دونوں حضرات سے مراد عطاء اور طاؤس رحمۃ اللہ علیہما ہیں ) ۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلاَّ سَيَطَؤُهُ الدَّجَّالُ، إِلاَّ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ، لَيْسَ لَهُ مِنْ نِقَابِهَا نَقْبٌ إِلاَّ عَلَيْهِ الْمَلاَئِكَةُ صَافِّينَ، يَحْرُسُونَهَا، ثُمَّ تَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلاَثَ رَجَفَاتٍ، فَيُخْرِجُ اللَّهُ كُلَّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "There will be no town which Ad-Dajjal will not enter except Mecca and Medina, and there will be no entrance (road) (of both Mecca and Medina) but the angels will be standing in rows guarding it against him, and then Medina will shake with its inhabitants thrice (i.e. three earthquakes will take place) and Allah will expel all the non-believers and the hypocrites from it
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، ان سے ولید نے بیان کیا، ان سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، ان سے اسحٰق نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسا شہر نہیں ملے گا جسے دجال پامال نہ کرے گا، سوائے مکہ اور مدینہ کے، ان کے ہر راستے پر صف بستہ فرشتے کھڑے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے پھر مدینہ کی زمین تین مرتبہ کانپے گی جس سے ایک ایک کافر اور منافق کو اللہ تعالیٰ اس میں سے باہر کر دے گا۔
Narrated by Alqama
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ‏"‏‏.‏
Narrated 'Alqama:While I was walking with `Abdullah he said, "We were in the company of the Prophet (ﷺ) and he said, 'He who can afford to marry should marry, because it will help him refrain from looking at other women, and save his private parts from committing illegal sexual relation; and he who cannot afford to marry is advised to fast, as fasting will diminish his sexual power
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا۔ آپ نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی صاحب طاقت ہو تو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ نظر کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو بدفعلی سے محفوظ رکھنے کا یہ ذریعہ ہے اور کسی میں نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو تو اسے روزے رکھنے چاہئیں کیونکہ وہ اس کی شہوت کو ختم کر دیتا ہے۔
Narrated by Abu Sa`id
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، خَالِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏.‏ قَالَ وَأَظُنُّ أَنَّ ابْنَ أَبِي لَبِيدٍ، حَدَّثَنَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَشْرَ الأَوْسَطَ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةَ عِشْرِينَ نَقَلْنَا مَتَاعَنَا فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ فَلْيَرْجِعْ إِلَى مُعْتَكَفِهِ فَإِنِّي رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، وَرَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى مُعْتَكَفِهِ، وَهَاجَتِ السَّمَاءُ، فَمُطِرْنَا فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَقَدْ هَاجَتِ السَّمَاءُ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا، فَلَقَدْ رَأَيْتُ عَلَى أَنْفِهِ وَأَرْنَبَتِهِ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ‏.‏
Narrated Abu Sa`id:We practiced I`tikaf with Allah's Messenger (ﷺ) in the middle ten days (of Ramadan). In the morning of the twentieth (of Ramadan) we shifted our baggage, but Allah's Messenger (ﷺ) came to us and said, "Whoever was in I`tikaf should return to his place of I`tikaf, for I saw (i.e. was informed about the date of) this Night (of Qadr) and saw myself prostrating in mud and water." When I returned to my place the sky was overcast with clouds and it rained. By Him Who sent Muhammad with the Truth, the sky was covered with clouds from the end of that day, and the mosque which was roofed with leafstalks of date palm trees (leaked with rain) and I saw the trace of mud and water over the nose of the Prophet (ﷺ) and its tip
ہم سے عبدالرحمٰن بن بشر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح کے ماموں سلیمان احول نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے۔ سفیان نے کہا اور ہم سے محمد بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے، سفیان نے یہ بھی کہا کہ مجھے یقین کے ساتھ یاد ہے کہ ابن ابی لبید نے ہم سے یہ حدیث بیان کی تھی، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے دوسرے عشرے میں اعتکاف کے لیے بیٹھے۔ بیسویں کی صبح کو ہم نے اپنا سامان ( مسجد سے ) اٹھا لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ جس نے ( دوسرے عشرہ میں ) اعتکاف کیا ہے وہ دوبارہ اعتکاف کی جگہ چلے، کیونکہ میں نے آج کی رات ( شب قدر کو ) خواب میں دیکھا ہے میں نے یہ بھی دیکھا کہ میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔ پھر جب اپنے اعتکاف کی جگہ ( مسجد میں ) آپ دوبارہ آ گئے تو اچانک بادل منڈلائے، اور بارش ہوئی۔ اس ذات کی قسم جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا! آسمان پر اسی دن کے آخری حصہ میں بادل ہوا تھا۔ مسجد کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی ( اس لیے چھت سے پانی ٹپکا ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز صبح ادا کی، تو میں نے دیکھا کہ آپ کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کا اثر تھا۔
Narrated by Ubaid bin `Umair
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ، اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، وَكَأَنَّهُ كَانَ مَشْغُولاً فَرَجَعَ أَبُو مُوسَى، فَفَرَغَ عُمَرُ فَقَالَ أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ قِيلَ قَدْ رَجَعَ‏.‏ فَدَعَاهُ‏.‏ فَقَالَ كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ‏.‏ فَقَالَ تَأْتِينِي عَلَى ذَلِكَ بِالْبَيِّنَةِ‏.‏ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسِ الأَنْصَارِ، فَسَأَلَهُمْ‏.‏ فَقَالُوا لاَ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلاَّ أَصْغَرُنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ‏.‏ فَذَهَبَ بِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَخَفِيَ عَلَىَّ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ‏.‏ يَعْنِي الْخُرُوجَ إِلَى تِجَارَةٍ‏.‏
Narrated 'Ubaid bin `Umair:Abu Musa asked `Umar to admit him but he was not admitted as `Umar was busy, so Abu Musa went back. When `Umar finished his job he said, "Didn't I hear the voice of `Abdullah bin Qais? Let him come in." `Umar was told that he had left. So, he sent for him and on his arrival, he (Abu Musa) said, "We were ordered to do so (i.e. to leave if not admitted after asking permission thrice). `Umar told him, "Bring witness in proof of your statement." Abu Musa went to the Ansar's meeting places and asked them. They said, "None amongst us will give this witness except the youngest of us, Abu Sa`id Al-Khudri. Abu Musa then took Abu Sa`id Al-Khudri (to `Umar) and `Umar said, surprisingly, "Has this order of Allah's Messenger (ﷺ) been hidden from me?" (Then he added), "I used to be busy trading in markets
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں عبید بن عمیر نے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملنے کی اجازت چاہی لیکن اجازت نہیں ملی۔ غالباً آپ اس وقت کام میں مشغول تھے۔ اس لیے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے تو فرمایا کیا میں نے عبداللہ بن قیس ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) کی آواز نہیں سنی تھی۔ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو۔ کہا گیا وہ لوٹ کر چلے گئے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا لیا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمیں اسی کا حکم ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) تھا ( کہ تین مرتبہ اجازت چاہنے پر اگر اندر جانے کی اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جانا چاہئے ) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اس حدیث پر کوئی گواہ لاؤ۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی مجلس میں گئے اور ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا ( کہ کیا کسی نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ) ان لوگوں نے کہا کہ اس کی گواہی تو تمہارے ساتھ وہ دے گا جو ہم سب میں بہت ہی کم عمر ہے۔ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حکم مجھ سے پوشیدہ رہ گیا۔ افسوس کہ مجھے بازاروں کی خرید و فروخت نے مشغول رکھا۔ آپ کی مراد تجارت سے تھی۔
Narrated by Abu Said Al-Khudri
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ‏.‏ فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا قَدِ اسْوَدُّوا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَا ـ أَوِ الْحَيَاةِ، شَكَّ مَالِكٌ ـ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً ‏"‏‏.‏ قَالَ وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرٌو ‏"‏ الْحَيَاةِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ خَرْدَلٍ مِنْ خَيْرٍ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Said Al-Khudri: The Prophet (ﷺ) said, "When the people of Paradise will enter Paradise and the people of Hell will go to Hell, Allah will order those who have had faith equal to the weight of a grain of mustard seed to be taken out from Hell. So they will be taken out but (by then) they will be blackened (charred). Then they will be put in the river of Haya' (rain) or Hayat (life) (the Narrator is in doubt as to which is the right term), and they will revive like a grain that grows near the bank of a flood channel. Don't you see that it comes out yellow and twisted?
ہم سے اسماعیل نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں ان سے مالک نے، وہ عمرو بن یحییٰ المازنی سے نقل کرتے ہیں، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے۔ اللہ پاک فرمائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ( بھی ) ایمان ہو، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو۔ تب ( ایسے لوگ ) دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور وہ جل کر کوئلے کی طرح سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر زندگی کی نہر میں یا بارش کے پانی میں ڈالے جائیں گے۔ ( یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ اوپر کے راوی نے کون سا لفظ استعمال کیا ) اس وقت وہ دانے کی طرح اگ آئیں گے جس طرح ندی کے کنارے دانے اگ آتے ہیں۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ دانہ زردی مائل پیچ در پیچ نکلتا ہے۔ وہیب نے کہا کہ ہم سے عمرو نے ( «حياء» کی بجائے ) «حياة»،‏‏‏‏ اور ( «خردل من ايمان» ) کی بجائے ( «خردل من خير» ) کا لفظ بیان کیا۔
Narrated by Muhammad bin Abi Al-Mujalid
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ، قَالَ أَرْسَلَنِي أَبُو بُرْدَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُمَا عَنِ السَّلَفِ،‏.‏ فَقَالاَ كُنَّا نُصِيبُ الْمَغَانِمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطٌ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّأْمِ فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى‏.‏ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ لَهُمْ زَرْعٌ، أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ زَرْعٌ قَالاَ مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ‏.‏
Narrated Muhammad bin Abi Al-Mujalid:Abu Burda and `Abdullah bin Shaddad sent me to `Abdur Rahman bin Abza and `Abdullah bin Abi `Aufa to ask them about the Salaf (Salam). They said, "We used to get war booty while we were with Allah's Messenger (ﷺ) and when the peasants of Sham came to us we used to pay them in advance for wheat, barley, and oil to be delivered within a fixed period." I asked them, "Did the peasants own standing crops or not?" They replied, "We never asked them about it
Narrated by Khabbab
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، حَدَّثَنَا خَبَّابٌ، قَالَ كُنْتُ رَجُلاً قَيْنًا فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ فَاجْتَمَعَ لِي عِنْدَهُ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ لاَ أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ‏.‏ فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ فَلاَ‏.‏ قَالَ وَإِنِّي لَمَيِّتٌ ثُمَّ مَبْعُوثٌ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لِي ثَمَّ مَالٌ وَوَلَدٌ فَأَقْضِيكَ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا‏}‏
Narrated Khabbab:I was a blacksmith and did some work for Al-`As bin Wail. When he owed me some money for my work, I went to him to ask for that amount. He said, "I will not pay you unless you disbelieve in Muhammad." I said, "By Allah! I will never do that till you die and be resurrected." He said, "Will I be dead and then resurrected after my death?" I said, "Yes." He said, "There I will have property and offspring and then I will pay you your due." Then Allah revealed. 'Have you seen him who disbelieved in Our signs, and yet says: I will be given property and offspring?
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے مسلم بن صبیح نے، ان سے مسروق نے، ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں لوہار تھا، میں نے عاص بن وائل ( مشرک ) کا کام کیا۔ جب میری بہت سی مزدوری اس کے سر چڑھ گئی تو میں اس کے پاس تقاضا کرنے آیا، وہ کہنے لگا کہ اللہ کی قسم! میں تمہاری مزدوری اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پھر جاؤ۔ میں نے کہا، اللہ کی قسم! یہ تو اس وقت بھی نہ ہو گا جب تو مر کے دوبارہ زندہ ہو گا۔ اس نے کہا، کیا میں مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا؟ میں نے کہا کہ ہاں! اس پر وہ بولا پھر کیا ہے۔ وہیں میرے پاس مال اور اولاد ہو گی اور وہیں میں تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔ اس پر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا‏» ”اے پیغمبر! کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا، اور کہا کہ مجھے ضرور وہاں مال و اولاد دی جائے گی۔“
Narrated by `Uqba bin Al-Harith
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ جِيءَ بِالنُّعَيْمَانِ أَوِ ابْنِ النُّعَيْمَانِ شَارِبًا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ كَانَ فِي الْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوا قَالَ فَكُنْتُ أَنَا فِيمَنْ ضَرَبَهُ، فَضَرَبْنَاهُ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ‏.‏
Narrated `Uqba bin Al-Harith:When An-Nuaman or his son was brought in a state of drunkenness, Allah's Messenger (ﷺ) ordered all those who were present in the house to beat him. I was one of those who beat him. We beat him with shoes and palm-leaf stalks
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں ابن ابی ملکیہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نعیمان یا ابن نعیمان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا گیا۔ انہوں نے شراب پی لی تھی۔ جو لوگ اس وقت گھر میں موجود تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کو اسے مارنے کا حکم دیا۔ انہوں نے بیان کیا میں بھی مارنے والوں سے تھا۔ ہم نے جوتوں اور چھڑیوں سے انہیں مارا تھا۔
Narrated by Zaid bin Aslam from his father
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ لَوْلاَ آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فَتَحْتُ قَرْيَةً إِلاَّ قَسَمْتُهَا بَيْنَ أَهْلِهَا كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ‏.‏
Narrated Zaid bin Aslam from his father:`Umar said, "But for the future Muslim generations, I would have distributed the land of the villages I conquer among the soldiers as the Prophet (ﷺ) distributed the land of Khaibar
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے خبر دی، انہیں امام مالک نے، انہیں زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہم سے صدقہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے خبر دی ، انہیں امام مالک نے ، انہیں زید بن اسلم نے ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عمر ؓ نے فرمایا ، اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جتنے شہر بھی فتح کرتا ، انہیں فتح کرنے والوں میں تقسیم کرتا جاتا ، بالکل اسی طرح جس طرح نبی کریم ﷺ نے خیبر کی زمین تقسیم فرما دی تھی ۔ … حدیث متعلقہ ابواب: مفتوحہ شہر کی غازیوں میں تقسیم کی سنت ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَذُودَنَّ رِجَالاً عَنْ حَوْضِي كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الإِبِلِ عَنِ الْحَوْضِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my soul is, I will drive some people out from my (sacred) Fount on the Day of Resurrection as strange camels are expelled from a private trough
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میں ( قیامت کے دن ) اپنے حوض سے کچھ لوگوں کو اس طرح ہانک دوں گا جیسے اجنبی اونٹ حوض سے ہانک دیئے جاتے ہیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلاَّ وَأَنَا أَوْلَى بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ ‏{‏النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ‏}‏ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ مَاتَ وَتَرَكَ مَالاً فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلاَهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "I am closer to the believers than their selves in this world and in the Hereafter, and if you like, you can read Allah's Statement: "The Prophet (ﷺ) is closer to the believers than their own selves." (33.6) So, if a true believer dies and leaves behind some property, it will be for his inheritors (from the father's side), and if he leaves behind some debt to be paid or needy offspring, then they should come to me as I am the guardian of the deceased
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر مومن کا میں دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ قریب ہوں۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم‏» ”نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مومنوں سے ان کی جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔“ اس لیے جو مومن بھی انتقال کر جائے اور مال چھوڑ جائے تو چاہئے کہ ورثاء اس کے مالک ہوں۔ وہ جو بھی ہوں اور جو شخص قرض چھوڑ جائے یا اولاد چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آ جائیں کہ ان کا ولی میں ہوں۔
Narrated by Khabbab
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَرَاهِمُ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لاَ أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، فَقُلْتُ لاَ وَاللَّهِ لاَ أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ ثُمَّ يَبْعَثَكَ‏.‏ قَالَ فَدَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ ثُمَّ أُبْعَثَ فَأُوتَى مَالاً وَوَلَدًا، ثُمَّ أَقْضِيَكَ‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{‏أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا‏}‏ الآيَةَ‏.‏
Narrated Khabbab:I was a blacksmith In the Pre-Islamic period of ignorance, and 'Asi bin Wail owed me some money. I went to him to demand it, but he said to me, "I will not pay you unless you reject faith in Muhammad." I replied, "By Allah, I will never disbelieve Muhammad till Allah lets you die and then resurrects you." He said, "Then wait till I die and come to life again, for then I will be given property and offspring and will pay your right." So, thus revelation came: "Have you seen him who disbelieved in Our signs and yet says, 'I will be given property and offspring?
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہب بن جریر بن حازم نے بیان کیا، انہیں شعبہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابوالضحیٰ نے، انہیں مسروق نے، اور ان سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جاہلیت کے زمانہ میں لوہے کا کام کرتا تھا اور عاص بن وائل ( کافر ) پر میرے کچھ روپے قرض تھے۔ میں اس کے پاس تقاضا کرنے گیا تو اس نے مجھ سے کہا کہ جب تک تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض ادا نہیں کروں گا۔ میں نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کبھی نہیں کر سکتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مارے اور پھر تم کو اٹھائے۔ وہ کہنے لگا کہ پھر مجھ سے بھی تقاضا نہ کر۔ میں جب مر کے دوبارہ زندہ ہوں گا تو مجھے ( دوسری زندگی میں ) مال اور اولاد دی جائے گی تو تمہارا قرض بھی ادا کر دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا‏» ”تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے مال اور اولاد ضرور دی جائے گی۔“ آخر آیت تک۔
Narrated by Abu Bakr
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْبَرَاءُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ انْطَلَقْتُ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ غَنَمَهُ فَقُلْتُ لِمَنْ أَنْتَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ‏.‏ فَسَمَّاهُ فَعَرَفْتُهُ‏.‏ فَقُلْتُ هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ فَقَالَ نَعَمْ‏.‏ فَقُلْتُ هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِي قَالَ نَعَمْ‏.‏ فَأَمَرْتُهُ فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ ضَرْعَهَا مِنَ الْغُبَارِ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ كَفَّيْهِ، فَقَالَ هَكَذَا ـ ضَرَبَ إِحْدَى كَفَّيْهِ بِالأُخْرَى ـ فَحَلَبَ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ وَقَدْ جَعَلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِدَاوَةً عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ، فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ، حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ‏.‏
Narrated Abu Bakr:While I was on my way, all of a sudden I saw a shepherd driving his sheep, I asked him whose servant he was. He replied that he was the servant of a man from Quraish, and then he mentioned his name and I recognized him. I asked, "Do your sheep have some milk?" He replied in the affirmative. I said, "Are you going to milk for me?" He replied in the affirmative. I ordered him and he tied the legs of one of the sheep. Then I told him to clean the udder (teats) of dust and to remove dust off his hands. He removed the dust off his hands by clapping his hands. He then milked a little milk. I put the milk for Allah's Messenger (ﷺ) in a pot and closed its mouth with a piece of cloth and poured water over it till it became cold. I took it to the Prophet (ﷺ) and said, "Drink, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He drank it till I was pleased
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو نضر نے خبر دی، کہا کہ ہم کو اسرائیل نے خبر دی ابواسحاق سے کہ مجھے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے خبر دی (دوسری سند) ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ابواسحاق سے، اور انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہ ( ہجرت کر کے مدینہ جاتے وقت ) میں نے تلاش کیا تو مجھے ایک چرواہا ملا جو اپنی بکریاں چرا رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کس کے چرواہے ہو؟ اس نے کہا کہ قریش کے ایک شخص کا۔ اس نے قریشی کا نام بھی بتایا، جسے میں جانتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کیا تمہارے ریوڑ کی بکریوں میں دودھ بھی ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! میں نے اس سے کہا کیا تم میرے لیے دودھ دوہ لو گے؟ اس نے کہا، ہاں ضرور! چنانچہ میں نے اس سے دوہنے کے لیے کہا۔ وہ اپنے ریوڑ سے ایک بکری پکڑ لایا۔ پھر میں نے اس سے بکری کا تھن گرد و غبار سے صاف کرنے کے لیے کہا۔ پھر میں نے اس سے اپنا ہاتھ صاف کرنے کے لیے کہا۔ اس نے ویسا ہی کیا۔ ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر صاف کر لیا۔ اور ایک پیالہ دودھ دوہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے میں نے ایک برتن ساتھ لیا تھا۔ جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے پانی دودھ پر بہایا۔ جس سے اس کا نچلا حصہ ٹھنڈا ہو گیا پھر دودھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ دودھ حاضر ہے۔ یا رسول اللہ! پی لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا۔
Narrated by Salim's father (i.e. `Abdullah)
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَخَذَ مِنَ الأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِخُرَاسَانَ فِي كِتَابِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أَمْلاَهُ عَلَيْهِمْ بِالْبَصْرَةِ‏.‏
Narrated Salim's father (i.e. `Abdullah):The Prophet (ﷺ) said, "Whoever takes a piece of the land of others unjustly, he will sink down the seven earths on the Day of Resurrection
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا سالم سے اور ان سے ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص نے ناحق کسی زمین کا تھوڑا سا حصہ بھی لے لیا، تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ یہ حدیث عبداللہ بن مبارک کی اس کتاب میں نہیں ہے جو خراسان میں تھی۔ بلکہ اس میں تھی جسے انہوں نے بصرہ میں اپنے شاگردوں کو املا کرایا تھا۔
Narrated by Sulaiman bin Abu Muslim
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الأَسْوَدِ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ عَنِ الصَّرْفِ، يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ اشْتَرَيْتُ أَنَا وَشَرِيكٌ، لِي شَيْئًا يَدًا بِيَدٍ وَنَسِيئَةً، فَجَاءَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ فَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ فَعَلْتُ أَنَا وَشَرِيكِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، وَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَخُذُوهُ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَذَرُوهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Sulaiman bin Abu Muslim:I asked Abu Minhal about money exchange from hand to hand. He said, "I and a partner of mine bought something partly in cash and partly on credit." Al-Bara' bin `Azib passed by us and we asked about it. He replied, "I and my partner Zaid bin Al-Arqam did the same and then went to the Prophet (ﷺ) and asked him about it. He said, 'Take what was from hand to hand and leave what was on credit
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ قَالَ وَأَبَقَ مِنِّي غُلاَمٌ لِي فِي الطَّرِيقِ ـ قَالَ ـ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَايَعْتُهُ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْغُلاَمُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَذَا غُلاَمُكَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ‏.‏ فَأَعْتَقْتُهُ‏.‏ لَمْ يَقُلْ أَبُو كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ حُرٌّ‏.‏
Narrated Abu Huraira:On my way to the Prophet (ﷺ) I was reciting:-- 'What a long tedious tiresome night! Nevertheless, it has saved us From the land of Kufr (disbelief).' I had a slave who ran away from me on the way. When I went to the Prophet (ﷺ) and gave the pledge of allegiance for embracing Islam, the slave showed up while I was still with the Prophet (ﷺ) who remarked, "O Abu Huraira! Here is your slave!" I said, "I manumit him for Allah's Sake," and so I freed him
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے قیس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آتے ہوئے راستے میں یہ شعر کہا تھا: ہے پیاری گو کٹھن ہے اور لمبی میری رات، پر دلائی اس نے دارالکفر سے مجھ کو نجات۔ انہوں نے بیان کیا کہ راستے میں میرا غلام مجھ سے بچھڑ گیا تھا۔ پھر جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اسلام پر قائم رہنے کے لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔ میں ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہی ہوا تھا کہ وہ غلام دکھائی دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابوہریرہ! یہ دیکھ تیرا غلام بھی آ گیا۔ میں نے کہا، یا رسول اللہ! وہ اللہ کے لیے آزاد ہے۔ پھر میں نے اسے آزاد کر دیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوکریب نے ( اپنی روایت میں ) ابواسامہ سے یہ لفظ نہیں روایت کیا کہ وہ آزاد ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمُ يَوْمِي‏.‏ وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِنَّ صَوَاحِبِي اجْتَمَعْنَ‏.‏ فَذَكَرَتْ لَهُ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا‏.‏
Narrated `Aisha:The people used to send gifts to the Prophet (ﷺ) on the day of my turn. Um Salama said: "My companions (the wives of the Prophet (ﷺ) Other than Aisha) gathered and they complained about it. So I informed the Prophet about it on their behalf, but he remained silent
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ہشام سے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگ تحائف بھیجنے کے لیے میری باری کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا میری سوکنیں ( امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن ) جمع تھیں اس وقت انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بطور شکایت لوگوں کی اس روش کا ) ذکر کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَهُ‏.‏
Narrated `Aisha:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) took a bath of Janaba, he washed his hands first
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد نے ہشام کے واسطے سے بیان کیا، وہ اپنے والد سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرماتے تو ( پہلے ) اپنا ہاتھ دھوتے۔
Narrated by Zahdam bin Mudarrib
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ، قَالَ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ عِمْرَانُ لاَ أَدْرِي أَذَكَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْدُ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْمًا يَخُونُونَ وَلاَ يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ، وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ وَيَنْذِرُونَ وَلاَ يَفُونَ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ ‏"‏‏.‏
Narrated Zahdam bin Mudarrib:I heard `Imran bin Husain saying, "The Prophet (ﷺ) said, 'The best people are those living in my generation, then those coming after them, and then those coming after (the second generation)." `Imran said "I do not know whether the Prophet (ﷺ) mentioned two or three generations after your present generation. The Prophet (ﷺ) added, 'There will be some people after you, who will be dishonest and will not be trustworthy and will give witness (evidences) without being asked to give witness, and will vow but will not fulfill their vows, and obesity will appear among them
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحمزہ نے بیان کیا کہ میں نے زہدم بن مضرب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے سنا اور انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ( صحابہ ) ہیں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے ( تابعین ) پھر وہ لوگ جو اس کے بھی بعد آئیں گے۔ ( تبع تابعین ) عمران نے بیان کیا کہ میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو زمانوں کا ( اپنے بعد ) ذکر فرمایا یا تین کا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو چور ہوں گے، جن میں دیانت کا نام نہ ہو گا۔ ان سے گواہی دینے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ لیکن وہ گواہیاں دیتے پھریں گے۔ نذریں مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے۔ مٹاپا ان میں عام ہو گا۔“
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أُمَّهُ، عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا، وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الآخَرَ، وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَىْءٍ وَهْوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لاَ أَفْعَلُ‏.‏ فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ أَيْنَ الْمُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ لاَ يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَهُ أَىُّ ذَلِكَ أَحَبَّ‏.‏
Narrated Aisha:Once Allah's Messenger (ﷺ) heard the loud voices of some opponents quarreling at the door. One of them was appealing to the other to deduct his debt and asking him to be lenient but the other was saying, "By Allah I will not do so." Allah's Messenger (ﷺ) went out to them and said, "Who is the one who was swearing by Allah that he would not do a favor?" That man said, "I am that person, O Allah's Messenger (ﷺ)! I will give my opponent whatever he wishes
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن ہلال نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے ابوالرجال، محمد بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ان کی والدہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر دو جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی جو بلند ہو گئی تھی۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک آدمی دوسرے سے قرض میں کچھ کمی کرنے اور تقاضے میں کچھ نرمی برتنے کے لیے کہہ رہا تھا اور دوسرا کہتا تھا کہ اللہ کی قسم! میں یہ نہیں کروں گا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور فرمایا کہ اس بات پر اللہ کی قسم کھانے والے صاحب کہاں ہیں؟ کہ وہ ایک اچھا کام نہیں کریں گے۔ ان صحابی نے عرض کیا، میں ہی ہوں یا رسول اللہ! اب میرا بھائی جو چاہتا ہے وہی مجھ کو بھی پسند ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّلَقِّي، وَأَنْ يَبْتَاعَ الْمُهَاجِرُ لِلأَعْرَابِيِّ، وَأَنْ تَشْتَرِطَ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا، وَأَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَنَهَى عَنِ النَّجْشِ، وَعَنِ التَّصْرِيَةِ‏.‏ تَابَعَهُ مُعَاذٌ وَعَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ شُعْبَةَ‏.‏ وَقَالَ غُنْدَرٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ نُهِيَ‏.‏ وَقَالَ آدَمُ نُهِينَا‏.‏ وَقَالَ النَّضْرُ وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ نَهَى‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) forbade (1) the meeting of the caravan (of goods) on the way, (2) and that a residing person buys for a bedouin, (3) and that a woman stipulates the divorce of the wife of the would-be husband, (4) and that a man tries to cause the cancellation of a bargain concluded by another. He also forbade An-Najsh (see Hadith 824) and that one withholds the milk in the udder of the animal so that he may deceive people on selling it
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تجارتی قافلوں کی ) پیشوائی سے منع فرمایا تھا اور اس سے بھی کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت بیچے اور اس سے بھی کہ کوئی عورت اپنی ( دینی یا نسبی ) بہن کے طلاق کی شرط لگائے اور اس سے کہ کوئی اپنے کسی بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجش اور تصریہ سے بھی منع فرمایا۔ محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس حدیث کو معاذ بن معاذ اور عبدالصمد بن عبدالوارث نے بھی شعبہ سے روایت کیا ہے اور غندر اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے یوں کہا کہ ممانعت کی گئی تھی ( مجہول کے صیغے کے ساتھ ) آدم بن ابی ایاس نے یوں کہا کہ ہمیں منع کیا گیا تھا نضر اور حجاج بن منہال نے یوں کہا کہ منع کیا تھا ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي طَلْحَةَ ‏"‏ أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ‏}‏ جَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُنَادِي ‏"‏ يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَدِيٍّ ‏"‏‏.‏ لِبُطُونِ قُرَيْشٍ‏.‏ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ‏}‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said to Abu Talha, "I recommend that you divide (this garden) amongst your relatives." Abu Talha said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I will do the same." So Abu Talha divided it among his relatives and cousins. Ibn 'Abbas said, "When the Qur'anic Verse: "Warn your nearest kinsmen." (26.214) Was revealed, the Prophet (ﷺ) started calling the various big families of Quraish, "O Bani Fihr! O Bani Adi!". Abu Huraira said, "When the Verse: "Warn your nearest kinsmen" was revealed, the Prophet (ﷺ) said (in a loud voice), "O people of Quraish
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ سے فرمایا ( جب انہوں نے اپنا باغ بیرحاء اللہ کی راہ میں دینا چاہا ) میں مناسب سمجھتا ہوں تو یہ باغ اپنے عزیزوں کو دیدے۔ ابوطلحہ نے کہا بہت خوب ایسا ہی کروں گا۔ پھر ابوطلحہ نے وہ باغ اپنے عزیزوں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جب ( سورۃ الشعراء کی ) یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين‏» اور اپنے قریب کے ناطے والوں کو ( اللہ کے عذاب سے ) ڈرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے خاندانوں بنی فہر ‘ بنی عدی کو پکارنے لگے ( ان کو ڈرایا ) اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا جب یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين‏» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے قریش کے لوگو! ( اللہ سے ڈرو ) ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلاَ أَنَّ رِجَالاً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لاَ تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَلاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my life is! Were it not for some men amongst the believers who dislike to be left behind me and whom I cannot provide with means of conveyance, I would certainly never remain behind any Sariya' (army-unit) setting out in Allah's Cause. By Him in Whose Hands my life is! I would love to be martyred in Allah's Cause and then get resurrected and then get martyred, and then get resurrected again and then get martyred and then get resurrected again and then get martyred
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سعید بن مسیب نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مسلمانوں کے دلوں میں اس سے رنج نہ ہوتا کہ میں ان کو چھوڑ کر جہاد کے لیے نکل جاؤں اور مجھے خود اتنی سواریاں میسر نہیں ہیں کہ ان سب کو سوار کر کے اپنے ساتھ لے چلوں تو میں کسی چھوٹے سے چھوٹے ایسے لشکر کے ساتھ جانے سے بھی نہ رکتا جو اللہ کے راستے میں غزوہ کے لیے جا رہا ہوتا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری تو آرزو ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کر دیا جاؤں۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ، فَكَانَتْ تَرَى الدَّمَ وَالصُّفْرَةَ، وَالطَّسْتُ تَحْتَهَا وَهْىَ تُصَلِّي‏.‏
Narrated `Aisha:"One of the wives of Allah's Messenger (ﷺ) joined him in I`tikaf and she noticed blood and yellowish discharge (from her private parts) and put a dish under her when she prayed
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے خالد سے، وہ عکرمہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک نے اعتکاف کیا۔ وہ خون اور زردی ( نکلتے ) دیکھتیں، طشت ان کے نیچے ہوتا اور نماز ادا کرتی تھیں۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ لَمَّا اسْتُخْلِفَ بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ، وَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ وَخَتَمَهُ، وَكَانَ نَقْشُ الْخَاتَمِ ثَلاَثَةَ أَسْطُرٍ مُحَمَّدٌ سَطْرٌ، وَرَسُولُ سَطْرٌ، وَاللَّهِ سَطْرٌ‏.‏
Narrated Anas:That when Abu Bakr became the Caliph, he sent him to Bahrain and wrote this letter for him, and stamped it with the Ring of the Prophet. Three lines were engraved on the Ring, (the word) 'Muhammad' was in a line, 'Apostle' was in another line, and 'Allah' in a third
ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ان کو ( یعنی انس رضی اللہ عنہ کو ) بحرین ( عامل بنا کر ) بھیجا اور ایک پروانہ لکھ کر ان کو دیا اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی مہر لگائی، مہر مبارک پر تین سطریں کندہ تھیں ‘ ایک سطر میں ”محمد“ دوسری میں ”رسول“ تیسری میں ”اللہ“ کندہ تھا۔
Narrated by Sahl bin Abi Hathma
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ـ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ـ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ انْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ إِلَى خَيْبَرَ، وَهْىَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ، فَتَفَرَّقَا، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهْوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمٍ قَتِيلاً، فَدَفَنَهُ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ ‏"‏ كَبِّرْ كَبِّرْ ‏"‏‏.‏ وَهْوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ، فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا فَقَالَ ‏"‏ أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ قَالَ ‏"‏ فَتُبْرِيكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَعَقَلَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِهِ‏.‏
Narrated Sahl bin Abi Hathma:`Abdullah bin Sahl and Muhaiyisa bin Mas`ud bin Zaid set out to Khaibar, the inhabitants of which had a peace treaty with the Muslims at that time. They parted and later on Muhaiyisa came upon `Abdullah bin Sahl and found him murdered agitating in his blood. He buried him and returned to Medina. `Abdur Rahman bin Sahl, Muhaiyisa and Huwaiyisa, the sons of Mas`ud came to the Prophet (ﷺ) and `Abdur Rahman intended to talk, but the Prophet (ﷺ) said (to him), "Let the eldest of you speak." as `Abdur-Rahman was the youngest:. `Abdur-Rahman kept silent and the other two spoke. The Prophet (ﷺ) said, "If you swear as to who has committed the murder, you will have the right to take your right from the murderer." They said, "How should we swear if we did not witness the murder or see the murderer?" The Prophet (ﷺ) said, "Then the Jews can clear themselves from the charge by taking Alaska (an oath taken by men that it was not they who committed the murder)." The!y said, "How should we believe in the oaths of infidels?" So, the Prophet (ﷺ) himself paid the blood money (of `Abdullah). (See Hadith No. 36 Vol)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سہل بن ابی حثمہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما خیبر گئے۔ ان دنوں ( خیبر کے یہودیوں سے مسلمانوں کی ) صلح تھی۔ پھر دونوں حضرات ( خیبر پہنچ کر اپنے اپنے کام کے لیے ) جدا ہو گئے۔ اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ خون میں لوٹ رہے ہیں۔ کسی نے ان کو قتل کر ڈالا، خیر محیصہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا۔ پھر مدینہ آئے، اس کے بعد عبدالرحمٰن بن سہل ( عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بھائی ) اور مسعود کے دونوں صاحبزادے محیصہ اور حویصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، گفتگو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے شروع کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ جو تم لوگوں میں عمر میں بڑے ہوں وہ بات کریں۔ عبدالرحمٰن سب سے کم عمر تھے، وہ چپ ہو گئے۔ اور محیصہ اور حویصہ نے بات شروع کی۔ آپ نے دریافت کیا، کیا تم لوگ اس پر قسم کھا سکتے ہو، کہ جس شخص کو تم قاتل کہہ رہے ہو اس پر تمہارا حق ثابت ہو سکے۔ ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم ایک ایسے معاملے میں کس طرح قسم کھا سکتے ہیں جس کو ہم نے خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کیا یہود تمہارے دعوے سے اپنی برات اپنی طرف سے پچاس قسمیں کھا کر کے کر دیں؟ ان لوگوں نے عرض کیا کہ کفار کی قسموں کا ہم کس طرح اعتبار کر سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے پاس سے ان کو دیت ادا کر دی۔
Narrated by Abu Mas`ud
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Mas`ud:The Prophet (ﷺ) said, "the sun and the moon do not eclipse because of the death or life of someone, but they are two signs amongst the Signs of Allah. So, if you see them, offer the Prayer (of eclipse)
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل ابی خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سورج اور چاند میں کسی کی موت یا حیات پر گرہن نہیں لگتا۔ بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں اس لیے جب تم ان میں گرہن دیکھو تو نماز پڑھو۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي دَعْوَةٍ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ، فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً وَقَالَ ‏ "‏ أَنَا سَيِّدُ الْقَوْمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، هَلْ تَدْرُونَ بِمَنْ يَجْمَعُ اللَّهُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَيُبْصِرُهُمُ النَّاظِرُ وَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَتَدْنُو مِنْهُمُ الشَّمْسُ، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ أَلاَ تَرَوْنَ إِلَى مَا أَنْتُمْ فِيهِ، إِلَى مَا بَلَغَكُمْ، أَلاَ تَنْظُرُونَ إِلَى مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ أَبُوكُمْ آدَمُ، فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، وَأَسْكَنَكَ الْجَنَّةَ، أَلاَ تَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ وَمَا بَلَغَنَا فَيَقُولُ رَبِّي غَضِبَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلاَ يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَنَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ، نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ‏.‏ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ، وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا، أَمَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا بَلَغَنَا أَلاَ تَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَيَقُولُ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلاَ يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، نَفْسِي نَفْسِي، ائْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، فَيَأْتُونِي، فَأَسْجُدُ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ لاَ أَحْفَظُ سَائِرَهُ‏.‏
Narrated Abu Huraira:We were in the company of the Prophet (ﷺ) at a banquet and a cooked (mutton) forearm was set before him, and he used to like it. He ate a morsel of it and said, "I will be the chief of all the people on the Day of Resurrection. Do you know how Allah will gather all the first and the last (people) in one level place where an observer will be able to see (all) of them and they will be able to hear the announcer, and the sun will come near to them. Some People will say: Don't you see, in what condition you are and the state to which you have reached? Why don't you look for a person who can intercede for you with your Lord? Some people will say: Appeal to your father, Adam.' They will go to him and say: 'O Adam! You are the father of all mankind, and Allah created you with His Own Hands, and ordered the angels to prostrate for you, and made you live in Paradise. Will you not intercede for us with your Lord? Don't you see in what (miserable) state we are, and to what condition we have reached?' On that Adam will reply, 'My Lord is so angry as He has never been before and will never be in the future; (besides), He forbade me (to eat from) the tree, but I disobeyed (Him), (I am worried about) myself! Myself! Go to somebody else; go to Noah.' They will go to Noah and say; 'O Noah! You are the first amongst the messengers of Allah to the people of the earth, and Allah named you a thankful slave. Don't you see in what a (miserable) state we are and to what condition we have reached? Will you not intercede for us with your Lord? Noah will reply: 'Today my Lord has become so angry as He had never been before and will never be in the future. Myself! Myself! Go to the Prophet (Muhammad). The people will come to me, and I will prostrate myself underneath Allah's Throne. Then I will be addressed: 'O Muhammad! Raise your head; intercede, for your intercession will be accepted, and ask (for anything) for you will be given
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے ابوحیان یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دعوت میں شریک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دستی کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت مرغوب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دستی کی ہڈی کا گوشت دانتوں سے نکال کر کھایا۔ پھر فرمایا کہ میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا۔ تمہیں معلوم ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) تمام مخلوق کو ایک چٹیل میدان میں جمع کرے گا؟ اس طرح کہ دیکھنے والا سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گا۔ آواز دینے والے کی آواز ہر جگہ سنی جا سکے گی اور سورج بالکل قریب ہو جائے گا۔ ایک شخص اپنے قریب کے دوسرے شخص سے کہے گا، دیکھتے نہیں کہ سب لوگ کیسی پریشانی میں مبتلا ہیں؟ اور مصیبت کس حد تک پہنچ چکی ہے؟ کیوں نہ کسی ایسے شخص کی تلاش کی جائے جو اللہ پاک کی بارگاہ میں ہم سب کی شفاعت کے لیے جائے۔ کچھ لوگوں کا مشورہ ہو گا کہ دادا آدم علیہ السلام اس کے لیے مناسب ہیں۔ چنانچہ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، اے باوا آدم! آپ انسانوں کے دادا ہیں۔ اللہ پاک نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا، اپنی روح آپ کے اندر پھونکی تھی، ملائکہ کو حکم دیا تھا اور انہوں نے آپ کو سجدہ کیا تھا اور جنت میں آپ کو ( پیدا کرنے کے بعد ) ٹھہرایا تھا۔ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کر دیں۔ آپ خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہم کس درجہ الجھن اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔ وہ فرمائیں گے کہ ( گناہ گاروں پر ) اللہ تعالیٰ آج اس درجہ غضبناک ہے کہ کبھی اتنا غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی ہو گا اور مجھے پہلے ہی درخت ( جنت ) کے کھانے سے منع کر چکا تھا لیکن میں اس فرمان کو بجا لانے میں کوتاہی کر گیا۔ آج تو مجھے اپنی ہی پڑی ہے ( نفسی نفسی ) تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ۔ ہاں، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، اے نوح علیہ السلام! آپ ( آدم علیہ السلام کے بعد ) روئے زمین پر سب سے پہلے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ”عبدشکور“ کہہ کر پکارا ہے۔ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ آج ہم کیسی مصیبت و پریشانی میں مبتلا ہیں؟ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کر دیجئیے۔ وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میرا رب آج اس درجہ غضبناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ کبھی اس کے بعد اتنا غضبناک ہو گا۔ آج تو مجھے خود اپنی ہی فکر ہے۔ ( نفسی نفسی ) تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ چنانچہ وہ لوگ میرے پاس آئیں گے۔ میں ( ان کی شفاعت کے لیے ) عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑوں گا۔ پھر آواز آئے گی، اے محمد! سر اٹھاؤ اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا کہ ساری حدیث میں یاد نہ رکھ سکا۔
Narrated by `Imran bin Husain Al-Khuza`i
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ الْخُزَاعِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً مُعْتَزِلاً لَمْ يُصَلِّ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ ‏"‏ يَا فُلاَنُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ فِي الْقَوْمِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلاَ مَاءَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ ‏"‏‏.‏
Narrated `Imran bin Husain Al-Khuza`i:Allah's Messenger (ﷺ) saw a person sitting aloof and not praying with the people. He asked him, "O so and so! What prevented you from offering the prayer with the people?" He replied, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I am Junub and there is no water." The Prophet (ﷺ) said, "Perform Tayammum with clean earth and that will be sufficient for you
ہم سے عبدان نے حدیث بیان کی، کہا ہمیں عبداللہ نے خبر دی، کہا ہمیں عوف نے ابورجاء سے خبر دی، کہا کہ ہم سے کہا عمران بن حصین خزاعی نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ الگ کھڑا ہوا ہے اور لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہو رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے فلاں! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روک دیا۔ اس نے عرض کی یا رسول اللہ! مجھے غسل کی ضرورت ہو گئی اور پانی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم کو پاک مٹی سے تیمم کرنا ضروری تھا، بس وہ تمہارے لیے کافی ہوتا۔
Narrated by `Urwa bin Az-Zubair
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَحَبَّ الْبَشَرِ إِلَى عَائِشَةَ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِهَا، وَكَانَتْ لاَ تُمْسِكُ شَيْئًا مِمَّا جَاءَهَا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ ‏{‏إِلاَّ‏}‏ تَصَدَّقَتْ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْبَغِي أَنْ يُؤْخَذَ عَلَى يَدَيْهَا‏.‏ فَقَالَتْ أَيُؤْخَذُ عَلَى يَدَىَّ عَلَىَّ نَذْرٌ إِنْ كَلَّمْتُهُ‏.‏ فَاسْتَشْفَعَ إِلَيْهَا بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ، وَبِأَخْوَالِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً فَامْتَنَعَتْ، فَقَالَ لَهُ الزُّهْرِيُّونَ أَخْوَالُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ إِذَا اسْتَأْذَنَّا فَاقْتَحِمِ الْحِجَابَ‏.‏ فَفَعَلَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِعَشْرِ رِقَابٍ، فَأَعْتَقَتْهُمْ، ثُمَّ لَمْ تَزَلْ تُعْتِقُهُمْ حَتَّى بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ‏.‏ فَقَالَتْ وَدِدْتُ أَنِّي جَعَلْتُ حِينَ حَلَفْتُ عَمَلاً أَعْمَلُهُ فَأَفْرُغَ مِنْهُ‏.‏
Narrated `Urwa bin Az-Zubair:`Abdullah bin Az-Zubair was the most beloved person to `Aisha excluding the Prophet (ﷺ) and Abu Bakr, and he in his turn, was the most devoted to her, `Aisha used not to withhold the money given to her by Allah, but she used to spend it in charity. (`Abdullah) bin Az-Zubair said, " `Aisha should be stopped from doing so." (When `Aisha heard this), she said protestingly, "Shall I be stopped from doing so? I vow that I will never talk to `Abdullah bin Az-Zubair." On that, Ibn Az-Zubair asked some people from Quraish and particularly the two uncles of Allah's Messenger (ﷺ) to intercede with her, but she refused (to talk to him). Az-Zuhriyun, the uncles of the Prophet, including `Abdur-Rahman bin Al-Aswad bin `Abd Yaghuth and Al-Miswar bin Makhrama said to him, "When we ask for the permission to visit her, enter her house along with us (without taking her leave)." He did accordingly (and she accepted their intercession). He sent her ten slaves whom she manumitted as an expiation for (not keeping) her vow. `Aisha manumitted more slaves for the same purpose till she manumitted forty slaves. She said, "I wish I had specified what I would have done in case of not fulfilling my vow when I made the vow, so that I might have done it easily
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سب سے زیادہ محبت تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عادت تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رزق بھی ان کو ملتا وہ اسے صدقہ کر دیا کرتی تھیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ( کسی سے ) کہا ام المؤمنین کو اس سے روکنا چاہیے ( جب عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کی بات پہنچی ) تو انہوں نے کہا: کیا اب میرے ہاتھوں کو روکا جائے گا، اب اگر میں نے عبداللہ سے بات کی تو مجھ پر نذر واجب ہے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرنے کے لیے ) قریش کے چند لوگوں اور خاص طور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نانہالی رشتہ داروں ( بنو زہرہ ) کو ان کی خدمت میں معافی کی سفارش کے لیے بھیجا لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا پھر بھی نہ مانیں۔ اس پر بنو زہرہ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں ہوتے تھے اور ان میں عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ جب ہم ان کی اجازت سے وہاں جا بیٹھیں تو تم ایک دفعہ آن کر پردہ میں گھس جاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ( جب عائشہ رضی اللہ عنہا خوش ہو گئیں تو ) انہوں نے ان کی خدمت میں دس غلام ( آزاد کرانے کے لیے بطور کفارہ قسم ) بھیجے اور ام المؤمنین نے انہیں آزاد کر دیا۔ پھر آپ برابر غلام آزاد کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ چالیس غلام آزاد کر دیئے پھر انہوں نے کہا کاش میں نے جس وقت قسم کھائی تھی ( منت مانی تھی ) تو میں کوئی خاص چیز بیان کر دیتی جس کو کر کے میں فارغ ہو جاتی۔
Narrated by Mughira bin Shu`ba
حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَقَالَ ‏ "‏ يَا مُغِيرَةُ، خُذِ الإِدَاوَةَ ‏"‏‏.‏ فَأَخَذْتُهَا فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فَقَضَى حَاجَتَهُ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ، فَذَهَبَ لِيُخْرِجَ يَدَهُ مِنْ كُمِّهَا فَضَاقَتْ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى‏.‏
Narrated Mughira bin Shu`ba:Once I was traveling with the Prophet (ﷺ) and he said, "O Mughira! take this container of water." I took it and Allah's Messenger (ﷺ) went far away till he disappeared. He answered the call of nature and was wearing a Syrian cloak. He tried to take out his hands from its sleeve but it was very tight so he took out his hands from under it. I poured water and he performed ablution like that for prayers and passed his wet hands over his Khuff (socks made from thick fabric or leather) and then prayed
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے اعمش کے واسطہ سے، انہوں نے مسلم بن صبیح سے، انہوں نے مسروق بن اجدع سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ سے، آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر ( غزوہ تبوک ) میں تھا۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایا۔ مغیرہ! پانی کی چھاگل اٹھا لے۔ میں نے اسے اٹھا لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور میری نظروں سے چھپ گئے۔ آپ نے قضائے حاجت کی۔ اس وقت آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ آپ ہاتھ کھولنے کے لیے آستین اوپر چڑھانی چاہتے تھے لیکن وہ تنگ تھی اس لیے آستین کے اندر سے ہاتھ باہر نکالا۔ میں نے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا اور اپنے خفین پر مسح کیا۔ پھر نماز پڑھی۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ بَيْنَمَا رَاعٍ فِي غَنَمِهِ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ، فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الذِّئْبُ فَقَالَ مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لَيْسَ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي، وَبَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً قَدْ حَمَلَ عَلَيْهَا، فَالْتَفَتَتْ إِلَيْهِ فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَتْ إِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا، وَلَكِنِّي خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ ‏"‏‏.‏ قَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنهما ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "While a shepherd was amongst his sheep, a wolf attacked them and took away one sheep. When the shepherd chased the wolf, the wolf turned towards him and said, 'Who will be its guard on the day of wild animals when nobody except I will be its shepherd?' And while a man was driving a cow with a load on it, it turned towards him and spoke to him saying, 'I have not been created for this purpose, but for ploughing." The people said, "Glorified be Allah." The Prophet said, "But I believe in it and so do Abu Bakr and `Umar
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں چرا رہا تھا کہ بھیڑیا آ گیا اور ریوڑ سے ایک بکری اٹھا کر لے جانے لگا۔ چرواہے نے اس سے بکری چھڑانی چاہی تو بھیڑیا بول پڑا۔ درندوں والے دن میں اس کی رکھوالی کرنے والا کون ہو گا جس دن میرے سوا اور کوئی چرواہا نہ ہو گا۔ اسی طرح ایک شخص بیل کو اس پر سوار ہو کر لیے جا رہا تھا، بیل اس کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا کہ میری پیدائش اس کے لیے نہیں ہوئی ہے۔ میں تو کھیتی باڑی کے کاموں کے لیے پیدا کیا گیا ہوں۔ وہ شخص بول پڑا۔ سبحان اللہ! ( جانور اور انسانوں کی طرح باتیں کرے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان واقعات پر ایمان لاتا ہوں اور ابوبکر اور عمر بن خطاب بھی۔
Narrated by Abu Usaid
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي أَبُو أُسَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ خَيْرُ الأَنْصَارِ ـ أَوْ قَالَ خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ ـ بَنُو النَّجَّارِ وَبَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ وَبَنُو الْحَارِثِ وَبَنُو سَاعِدَةَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Usaid:That he heard the Prophet (ﷺ) saying, "The best of the Ansar, or the best of the Ansar families (homes) are Banu An-Najjar, Bani `Abdul Ash-hal, Banu Al-Harith and Banu Sai'da
ہم سے سعد بن حفص طلحی نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے کہ ابوسلمہ نے بیان کیا کہ مجھے ابواسید رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ انصار میں سب سے بہتر یا انصار کے گھرانوں میں سب سے بہتر بنو نجار، بنو عبدالاشھل، بنو حارث اور بنو ساعدہ کے گھرانے ہیں۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ بَدْرٍ ‏ "‏ مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ، فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ فَقَالَ أَنْتَ أَبَا جَهْلٍ قَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ أَوْ قَالَ قَتَلْتُمُوهُ‏
Narrated Anas:On the day of Badr, the Prophet (ﷺ) said, "Who will go and see what has happened to Abu Jahl?" Ibn Mas`ud went and found that the two sons of 'Afra had struck him fatally. `Abdullah bin Mas`ud got hold of his beard and said, "'Are you Abu Jahl?" He replied, "Can there be a man more superior to one whom his own folk have killed (or you have killed)?
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے سلیمان تیمی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی کے دن فرمایا ”کون دیکھ کر آئے گا کہ ابوجہل کا کیا ہوا؟“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ معلوم کرنے گئے تو دیکھا کے عفراء کے دونوں لڑکوں نے اسے قتل کر دیا تھا اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑا ہے۔ انہوں نے اس کی ڈاڑھی پکڑ کر کہا، تو ہی ابوجہل ہے؟ اس نے کہا، کیا اس سے بھی بڑا کوئی آدمی ہے جسے آج اس کی قوم نے قتل کر ڈالا ہے یا ( اس نے یوں کہا کہ ) تم لوگوں نے اسے قتل کر ڈالا ہے؟ مجھ سے ابن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم کو معاذ بن معاذ نے خبر دی، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی، اسی طرح آگے حدیث بیان کی۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ بَيْنَا النَّاسُ يُصَلُّونَ الصُّبْحَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ إِذْ جَاءَ جَاءٍ فَقَالَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُرْآنًا أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا‏.‏ فَتَوَجَّهُوا إِلَى الْكَعْبَةِ‏.‏
Narrated Ibn `Umar:While some people were offering Fajr prayer in the Quba' mosque, some-one came and said, "Allah has revealed to the Prophet (ﷺ) Qur'anic instructions that you should face the Ka`ba (while praying) so you too, should face it." Those people then turned towards the Ka`ba
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ ایک صاحب آئے اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا ہے کہ آپ نماز میں کعبہ کی طرف منہ کریں، لہٰذا آپ لوگ بھی کعبہ کی طرف رخ کر لیں۔ سب نمازی اسی وقت کعبہ کی طرف پھر گئے۔
Narrated by Yusuf bin Mahk
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ وَأَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ، قَالَ إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ـ رضى الله عنها ـ إِذْ جَاءَهَا عِرَاقِيٌّ فَقَالَ أَىُّ الْكَفَنِ خَيْرٌ قَالَتْ وَيْحَكَ وَمَا يَضُرُّكَ قَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرِينِي مُصْحَفَكِ‏.‏ قَالَتْ لِمَ قَالَ لَعَلِّي أُوَلِّفُ الْقُرْآنَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُقْرَأُ غَيْرَ مُؤَلَّفٍ‏.‏ قَالَتْ وَمَا يَضُرُّكَ أَيَّهُ قَرَأْتَ قَبْلُ، إِنَّمَا نَزَلَ أَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنْهُ سُورَةٌ مِنَ الْمُفَصَّلِ فِيهَا ذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ حَتَّى إِذَا ثَابَ النَّاسُ إِلَى الإِسْلاَمِ نَزَلَ الْحَلاَلُ وَالْحَرَامُ، وَلَوْ نَزَلَ أَوَّلَ شَىْءٍ لاَ تَشْرَبُوا الْخَمْرَ‏.‏ لَقَالُوا لاَ نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا‏.‏ وَلَوْ نَزَلَ‏.‏ لاَ تَزْنُوا‏.‏ لَقَالُوا لاَ نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا‏.‏ لَقَدْ نَزَلَ بِمَكَّةَ عَلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَإِنِّي لَجَارِيَةٌ أَلْعَبُ ‏{‏بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ‏}‏ وَمَا نَزَلَتْ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَالنِّسَاءِ إِلاَّ وَأَنَا عِنْدَهُ‏.‏ قَالَ فَأَخْرَجَتْ لَهُ الْمُصْحَفَ فَأَمْلَتْ عَلَيْهِ آىَ السُّوَرِ‏.‏
Narrated Yusuf bin Mahk:While I was with Aisha, the mother of the Believers, a person from Iraq came and asked, "What type of shroud is the best?" `Aisha said, "May Allah be merciful to you! What does it matter?" He said, "O mother of the Believers! Show me (the copy of) your Qur'an," She said, "Why?" He said, "In order to compile and arrange the Qur'an according to it, for people recite it with its Suras not in proper order." `Aisha said, "What does it matter which part of it you read first? (Be informed) that the first thing that was revealed thereof was a Sura from Al-Mufassal, and in it was mentioned Paradise and the Fire. When the people embraced Islam, the Verses regarding legal and illegal things were revealed. If the first thing to be revealed was: 'Do not drink alcoholic drinks.' people would have said, 'We will never leave alcoholic drinks,' and if there had been revealed, 'Do not commit illegal sexual intercourse, 'they would have said, 'We will never give up illegal sexual intercourse.' While I was a young girl of playing age, the following Verse was revealed in Mecca to Muhammad: 'Nay! But the Hour is their appointed time (for their full recompense), and the Hour will be more grievous and more bitter.' (54.46) Sura Al-Baqara (The Cow) and Surat An-Nisa (The Women) were revealed while I was with him." Then `Aisha took out the copy of the Qur'an for the man and dictated to him the Verses of the Suras (in their proper order)
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے کیسان نے کہا کہ مجھے یوسف بن ماہک نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک عراقی ان کے پاس آیا اور پوچھا کہ کفن کیسا ہونا چاہئے؟ ام المؤمنین نے کہا: افسوس اس سے مطلب! کسی طرح کا بھی کفن ہو تجھے کیا نقصان ہو گا۔ پھر اس شخص نے کہا ام المؤمنین مجھے اپنے مصحف دکھا دیجئیے۔ انہوں نے کہا کیوں؟ ( کیا ضرورت ہے ) اس نے کہا تاکہ میں بھی قرآن مجید اس ترتیب کے مطابق پڑھوں کیونکہ لوگ بغیر ترتیب کے پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا پھر اس میں کیا قباحت ہے جونسی سورت تو چاہے پہلے پڑھ لے ( جونسی سورت چاہے بعد میں پڑھ لے اگر اترنے کی ترتیب دیکھتا ہے ) تو پہلے مفصل کی ایک سورت، اتری ( «اقرا باسم ربك» ) جس میں جنت و دوزخ کا ذکر ہے۔ جب لوگوں کا دل اسلام کی طرف رجوع ہو گیا ( اعتقاد پختہ ہو گئے ) اس کے بعد حلال و حرام کے احکام اترے، اگر کہیں شروع شروع ہی میں یہ اترتا کہ شراب نہ پینا تو لوگ کہتے ہم تو کبھی شراب پینا نہیں چھوڑیں گے۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے ہم تو زنا نہیں چھوڑیں گے اس کے بجائے مکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت جب میں بچی تھی اور کھیلا کرتی تھی یہ آیت نازل ہوئی «بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر‏» لیکن سورۃ البقرہ اور سورۃ نساء اس وقت نازل ہوئیں، جب میں ( مدینہ میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے اس عراقی کے لیے اپنا مصحف نکالا اور ہر سورت کی آیات کی تفصیل لکھوائی۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ نَزَلْتَ وَادِيًا وَفِيهِ شَجَرَةٌ قَدْ أُكِلَ مِنْهَا، وَوَجَدْتَ شَجَرًا لَمْ يُؤْكَلْ مِنْهَا، فِي أَيِّهَا كُنْتَ تُرْتِعُ بَعِيرَكَ قَالَ ‏ "‏ فِي الَّذِي لَمْ يُرْتَعْ مِنْهَا ‏"‏‏.‏ تَعْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا‏.‏
Narrated `Aisha:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Suppose you landed in a valley where there is a tree of which something has been eaten and then you found trees of which nothing has been eaten, of which tree would you let your camel graze?" He said, "(I will let my camel graze) of the one of which nothing has been eaten before." (The sub-narrator added: `Aisha meant that Allah's Messenger (ﷺ) had not married a virgin besides herself
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمائیے اگر آپ کسی وادی میں اتریں اور اس میں ایک درخت ایسا ہو جس میں اونٹ چر گئے ہوں اور ایک درخت ایسا ہو جس میں سے کچھ بھی نہ کھایا گیا ہو تو آپ اپنا اونٹ ان درختوں میں سے کس درخت میں چرائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس درخت میں جس میں سے ابھی چرایا نہیں گیا ہو۔ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَطَلَّقَهَا، وَكَانَتْ مَعَهُ مِثْلُ الْهُدْبَةِ فَلَمْ تَصِلْ مِنْهُ إِلَى شَىْءٍ تُرِيدُهُ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ طَلَّقَهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي، وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ زَوْجًا غَيْرَهُ فَدَخَلَ بِي، وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلاَّ مِثْلُ الْهُدْبَةِ فَلَمْ يَقْرَبْنِي إِلاَّ هَنَةً وَاحِدَةً، لَمْ يَصِلْ مِنِّي إِلَى شَىْءٍ، فَأَحِلُّ لِزَوْجِي الأَوَّلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَحِلِّينَ لِزَوْجِكِ الأَوَّلِ حَتَّى يَذُوقَ الآخَرُ عُسَيْلَتَكِ، وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ ‏"‏‏.‏
Narrated `Aisha:A man divorced his wife and she married another man who proved to be impotent and divorced her. She could not get her satisfaction from him, and after a while he divorced her. Then she came to the Prophet and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My first husband divorced me and then I married another man who entered upon me to consummate his marriage but he proved to be impotent and did not approach me except once during which he benefited nothing from me. Can I remarry my first husband in this case?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "It is unlawful to marry your first husband till the other husband consummates his marriage with you
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک شخص رفاعی نے اپنی بیوی ( تمیمہ بنت وہب ) کو طلاق دے دی، پھر ایک دوسرے شخص سے ان کی بیوی نے نکاح کیا لیکن انہوں نے بھی ان کو طلاق دے دی۔ ان دوسرے شوہر کے پاس کپڑے کے پلو کی طرح تھا۔ عورت کو اس سے پورا مزہ جیسا وہ چاہتی تھی نہیں ملا۔ آخر عبدالرحمٰن نے تھوڑے ہی دنوں رکھ کر اس کو طلاق دے دی۔ اب وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تھی، پھر میں نے ایک دوسرے مرد سے نکاح کیا۔ وہ میرے پاس تنہائی میں آئے لیکن ان کے ساتھ تو کپڑے کے پلو کی طرح کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ کل ایک ہی بار اس نے مجھ سے صحبت کی وہ بھی بیکار ( دخول ہی نہیں ہوا اوپر ہی اوپر چھو کر رہ گیا ) کیا اب میں اپنے پہلے خاوند کے لیے حلال ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنے پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہو سکتی جب تک دوسرا خاوند تیری شیرینی نہ چکھے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ ـ وَقَالَ الآخَرُ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ ـ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ ‏"‏‏.‏ وَيُذْكَرُ عَنْ مُعَاوِيَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The best women among the camel riders, are the women of Quraish." (Another narrator said) The Prophet (ﷺ) said, "The righteous among the women of Quraish are those who are kind to their young ones and who look after their husband's property
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (طاؤس) اور ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والی عورتوں میں ( یعنی عرب کی عورتوں میں ) بہترین عورتیں قریشی عورتیں ہیں۔ دوسرے راوی ( ابن طاؤس ) نے بیان کیا کہ قریش کی صالح، نیک عورتیں ( صرف لفظ قریشی عورتوں کے بجائے ) بچے پر بچپن میں سب سے زیادہ مہربان اور اپنے شوہر کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والیاں ہوتی ہیں۔ معاویہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی ہے۔
Narrated by Abu Sa`id
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ سُفْيَانُ وَيَحْيَى وَأَبُو عَوَانَةَ عَنِ الأَعْمَشِ‏.‏
Narrated Abu Sa`id:that Allah's Messenger (ﷺ) said, "Pray Zuhr prayer when it becomes (a bit) cooler as the severity of heat is from the raging of the Hell-fire
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوصالح ذکوان نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ گرمی کے موسم میں ) ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس حدیث کی متابعت سفیان ثوری، یحییٰ اور ابوعوانہ نے اعمش کے واسطہ سے کی ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا، يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَبْنِي بِصَفِيَّةَ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ أَمَرَ بِالأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ فَأُلْقِيَ عَلَيْهَا التَّمْرُ وَالأَقِطُ وَالسَّمْنُ‏.‏ وَقَالَ عَمْرٌو عَنْ أَنَسٍ بَنَى بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ‏.‏
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) halted to consummate his marriage with Safiyya. I invited the Muslims to his wedding banquet. He ordered that leather dining sheets be spread. Then dates, dried yoghurt and butter were put on those sheets. Anas added: The Prophet (ﷺ) consummated his marriage with Safiyya (during a journey) whereupon Hais (sweet dish) was served on a leather dining sheet
ہم سے سعید بن مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا مجھ کو حمید نے خبر دی اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ راستے میں قیام کیا اور میں نے مسلمانوں کو آپ کے ولیمہ کی دعوت میں بلایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھایا گیا، پھر آپ نے اس پر کھجور، پنیر اور گھی ڈال دیا اور عمرو بن ابی عمرو نے کہا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ صحبت کی، پھر ایک چمڑے کے دستر خوان پر ( کھجور، گھی، پنیر ملا کر بنا ہوا ) حلوہ رکھا۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَوْا عَلَيْهَا حَتَّى لَغِبُوا، فَسَعَيْتُ عَلَيْهَا حَتَّى أَخَذْتُهَا، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ، فَبَعَثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِوَرِكِهَا وَفَخِذَيْهَا فَقَبِلَهُ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:We provoked a rabbit at Marr Az-Zahran till it started jumping. My companions chased it till they got tired. But I alone ran after it and caught it and brought it to Abu Talha. He sent both its legs to the Prophet who accepted them
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مرالظہران ( مکہ کے قریب ایک مقام ) میں ہم نے ایک خرگوش کو ابھارا لوگ اس کے پیچھے دوڑے مگر نہ پایا پھر میں اس کے پیچھے لگا اور میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا کولھا اور دونوں رانیں بھیجیں تو آپ نے انہیں قبول فرما لیا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَرِفَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكِ أَنَفِسْتِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ اقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ ‏"‏‏.‏ وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ‏.‏
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) entered upon me at Sarif while I was weeping (because I was afraid that I would not be able to perform the ,Hajj). He said, "What is wrong with you? Have you got your period?" I replied, "Yes." He said, "This is a matter Allah has decreed for all the daughters of Adam, so perform the ceremonies of the Hajj as the pilgrims do, but do not perform the Tawaf around the Ka`ba." Allah's Messenger (ﷺ) slaughtered some cows as sacrifices on behalf of his wives
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مقام سرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے، کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ اس لیے حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج انجام دو صرف کعبہ کا طواب نہ کرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔
Narrated by Umar
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ الْخَمْرُ يُصْنَعُ مِنْ خَمْسَةٍ مِنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْعَسَلِ‏.‏
Narrated 'Umar: "Alcoholic drinks are prepared from five things, i.e., raisins, dates. wheat, barley and honey
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی السفر نے بیان کیا، ان سے شعبی نے ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ شراب پانچ چیزوں سے بنتی تھی کشمش، کھجور، گیہوں، جَو اور شہد سے۔
Narrated by Abu `Uthman
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ ابْنَةً لِلنَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ وَهْوَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسَعْدٍ وَأُبَىٍّ نَحْسِبُ أَنَّ ابْنَتِي قَدْ حُضِرَتْ فَاشْهَدْنَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا السَّلاَمَ وَيَقُولُ ‏"‏ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ مُسَمًّى فَلْتَحْتَسِبْ وَلْتَصْبِرْ ‏"‏‏.‏ فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقُمْنَا، فَرُفِعَ الصَّبِيُّ فِي حَجْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَا النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هَذِهِ رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادِهِ، وَلاَ يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ إِلاَّ الرُّحَمَاءَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu `Uthman:Usama bin Zaid said that while he. Sa`d and Ubai bin Ka`b were with the Prophet (ﷺ) a daughter of the Prophet sent a message to him, saying. 'My daughter is dying; please come to us." The Prophet (ﷺ) sent her his greetings and added "It is for Allah what He takes, and what He gives; and everything before His sight has a limited period. So she should hope for Allah's reward and remain patient." She again sent a message, beseeching him by Allah, to come. So the Prophet (ﷺ) got up. and so did we (and went there). The child was placed on his lap while his breath was irregular. Tears flowed from the eyes of the Prophet. Sa`d said to him, "What is this, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said. "This Is Mercy which Allah has embedded in the hearts of whomever He wished of His slaves. And Allah does not bestow His Mercy, except on the merciful among His slaves. (See Hadith No. 373 Vol)
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عاصم نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوعثمان سے سنا اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( زینب رضی اللہ عنہا ) نے آپ کو کہلوا بھیجا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سعد رضی اللہ عنہ اور ہمارا خیال ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے کہ میری بچی بستر مرگ پر پڑی ہے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جو چاہے دے اور جو چاہے لے لے ہر چیز اس کے یہاں متعین و معلوم ہے۔ اس لیے اللہ سے اس مصیبت پر اجر کی امیدوار رہو اور صبر کرو۔ صاحبزادی نے پھر دوبارہ قسم دے کر ایک آدمی بلانے کو بھیجا۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے پھر بچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں اٹھا کر رکھی گئی اور وہ جانکنی کے عالم میں پریشان تھی۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو خود بھی رحم کرنے والے ہوتے ہیں۔
Narrated by Um Qais bint Mihsan
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ‏.‏ يُسْتَعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ‏"‏‏.‏ وَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّ عَلَيْهِ‏.‏
Narrated Um Qais bint Mihsan:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Treat with the Indian incense, for it has healing for seven diseases; it is to be sniffed by one having throat trouble, and to be put into one side of the mouth of one suffering from pleurisy." Once I went to Allah's Messenger (ﷺ) with a son of mine who would not eat any food, and the boy passed urine on him whereupon he asked for some water and sprinkled it over the place of urine
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ، كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا، فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ حَتَّى تَغْشَى أَنَامِلَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ، وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ بِإِصْبَعِهِ هَكَذَا فِي جَيْبِهِ، فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلاَ تَتَوَسَّعُ‏.‏ تَابَعَهُ ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ وَأَبُو الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ فِي الْجُبَّتَيْنِ‏.‏ وَقَالَ حَنْظَلَةُ سَمِعْتُ طَاوُسًا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ جُبَّتَانِ‏.‏ وَقَالَ جَعْفَرٌ عَنِ الأَعْرَجِ جُبَّتَانِ‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) has set forth an example for a miser and a charitable person by comparing them to two men wearing two iron cloaks and their hands are raised to their breasts and necks. Whenever the charitable man tries to give a charitable gift, his iron cloak expands till it becomes so wide that it will cover his fingertips and obliterate his tracks And, whenever the miser wants to give a charitable gift, his cloak becomes very tight over him and every ring gets stuck to its place Abu Huraira added; I saw Allah's Messenger (ﷺ) putting his finger in the (chest) pocket of his shirt like that If you but saw him trying to widen (the opening of his shirt) but it did not widen
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال بیان کیا کہ دو آدمیوں جیسی ہے جو لوہے کے جبے ہاتھ، سینہ اور حلق تک پہنے ہوئے ہیں۔ صدقہ دینے والا جب بھی صدقہ کرتا ہے تو اس کے جبہ میں کشادگی ہو جاتی ہے اور وہ اس کی انگلیوں تک بڑھ جاتا ہے اور قدم کے نشانات کو ڈھک لیتا ہے اور بخیل جب بھی کبھی صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا جبہ اسے اور چمٹ جاتا ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اپنی مبارک انگلیوں سے اپنے گریبان کی طرف اشارہ کر کے بتا رہے تھے کہ تم دیکھو گے کہ وہ اس میں وسعت پیدا کرنا چاہے گا لیکن وسعت پیدا نہیں ہو گی۔ اس کی متابعت ابن طاؤس نے اپنے والد سے کی ہے اور ابوالزناد نے اعرج سے کی ”دو جبوں“ کے ذکر کے ساتھ اور حنظلہ نے بیان کیا کہ میں نے طاؤس سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا «جبتان‏.‏» اور جعفر نے اعرج کے واسطہ سے «جبتان‏.‏» کا لفظ بیان کیا ہے۔
Narrated by Jubair bin Mut`im
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ إِنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ ‏"‏‏.‏
Narrated Jubair bin Mut`im:That he heard the Prophet (ﷺ) saying, "The person who severs the bond of kinship will not enter Paradise
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے بیان کیا اور انہیں ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔
Narrated by Salim bin `Abdullah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ وَكَانَ رَجُلاً أَعْمَى لاَ يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ‏.‏
Narrated Salim bin `Abdullah:My father said that Allah's Apostle said, "Bilal pronounces 'Adhan at night, so keep on eating and drinking (Suhur) till Ibn Um Maktum pronounces Adhan." Salim added, "He was a blind man who would not pronounce the Adhan unless he was told that the day had dawned
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال تو رات رہے اذان دیتے ہیں۔ اس لیے تم لوگ کھاتے پیتے رہو۔ یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں۔ راوی نے کہا کہ وہ نابینا تھے اور اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے کہا نہ جاتا کہ صبح ہو گئی۔ صبح ہو گئی۔
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ حَفِظْتُهُ كَمَا أَنَّكَ هَا هُنَا عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ فَقَالَ ‏ "‏ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الاِسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ ‏"‏‏.‏
Narrated Sahl bin Sa`d:A man peeped through a round hole into the dwelling place of the Prophet, while the Prophet (ﷺ) had a Midray (an iron comb) with which he was scratching his head. the Prophet (ﷺ) said, " Had known you were looking (through the hole), I would have pierced your eye with it (i.e., the comb)." Verily! The order of taking permission to enter has been enjoined because of that sight, (that one should not look unlawfully at the state of others). (See Hadith No. 807, Vol)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے زہری نے بیان کیا (سفیان نے کہا کہ) میں نے یہ حدیث زہری سے سن کر اس طرح یاد کی ہے کہ جیسے تو اس وقت یہاں موجود ہو اور ان سے سہل بن سعد نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرہ میں سوراخ سے دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ایک کنگھا تھا جس سے آپ سر مبارک کھجا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو یہ کنگھا تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا ( اندر داخل ہونے سے پہلے ) اجازت مانگنا تو ہے ہی اس لیے کہ ( اندر کی کوئی ذاتی چیز ) نہ دیکھی جائے۔
Narrated by `Ali
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ شَكَتْ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَلَمْ تَجِدْهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ‏.‏ قَالَ فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْتُ أَقُومُ فَقَالَ ‏"‏ مَكَانَكِ ‏"‏‏.‏ فَجَلَسَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ، إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا، أَوْ أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا، فَكَبِّرَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَسَبِّحَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، فَهَذَا خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ ‏"‏‏.‏ وَعَنْ شُعْبَةَ عَنْ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ التَّسْبِيحُ أَرْبَعٌ وَثَلاَثُونَ‏.‏
Narrated `Ali:Fatima complained about the blisters on her hand because of using a mill-stone. She went to ask the Prophet for servant, but she did not find him (at home) and had to inform `Aisha of her need. When he came, `Aisha informed him about it. `Ali added: The Prophet (ﷺ) came to us when we had gone to our beds. When I was going to get up, he said, "'Stay in your places," and sat between us, till I felt the coolness of the feet on my chest. The Prophet (ﷺ) then said, "Shall I not tell you of a thing which is better for you than a servant? When you (both) go to your beds, say 'Allahu Akbar' thirty-three times, and 'Subhan Allah' thirty-three times, 'Al hamdu 'illah' thirty-three times, for that is better for you than a servant." Ibn Seereen said, "Subhan Allah' (is to be said for) thirty-four times
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے حکم بن عیینہ نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ ٰ نے، ان سے علی رضی اللہ عنہ نے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسنے کی تکلیف کی وجہ سے کہ ان کے مبارک ہاتھ کو صدمہ پہنچتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم مانگنے کے لیے حاضر ہوئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں موجود نہیں تھے۔ اس لیے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا۔ جب آپ تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے اس کا ذکر کیا۔ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے ہم اس وقت تک اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے میں کھڑا ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم دونوں کو وہ چیز نہ بتا دوں جو تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہو۔ جب تم اپنے بستر پر جانے لگو تو تینتیس ( 33 ) مرتبہ «الله اكبر» کہو، تینتیس ( 33 ) مرتبہ «سبحان الله» کہو اور تینتیس ( 33 ) مرتبہ «الحمد الله» کہو، یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے اور شعبہ سے روایت ہے ان سے خالد نے، ان سے ابن سیرین نے بیان کیا کہ سبحان اللہ چونتیس ( 34 ) مرتبہ کہو۔
Narrated by `Uqba bin 'Amir
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلاَتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي فَرَطُكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الآنَ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ ـ أَوْ مَفَاتِيحَ الأَرْضِ ـ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا ‏"‏‏.‏
Narrated `Uqba bin 'Amir:The Prophet (ﷺ) went out and offered the funeral prayer for the martyrs of the (battle of) Uhud and then ascended the pulpit and said, "I am your predecessor and I am a witness against you. By Allah, I am now looking at my Tank-lake (Al-Kauthar) and I have been given the keys of the treasures of the earth (or the keys of the earth). By Allah! I am not afraid that after me you will worship others besides Allah, but I am afraid that you will start competing for (the pleasures of) this world
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا، ان سے ابوالخیر نے بیان کیا اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور جنگ احد کے شہیدوں کے لیے اس طرح نماز پڑھی جس طرح مردہ پر نماز پڑھی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر تشریف لائے اور فرمایا آخرت میں میں تم سے آگے جاؤں گا اور میں تم پر گواہ ہوں گا، واللہ میں اپنے حوض کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا ( فرمایا کہ ) زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور اللہ کی قسم! میں تمہارے متعلق اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے بلکہ مجھے تمہارے متعلق یہ خوف ہے کہ تم دنیا کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگو گے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَأْتِي ابْنَ آدَمَ النَّذْرُ بِشَىْءٍ لَمْ يَكُنْ قَدْ قَدَّرْتُهُ، وَلَكِنْ يُلْقِيهِ الْقَدَرُ وَقَدْ قَدَّرْتُهُ لَهُ، أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said (that Allah said), "Vowing does not bring to the son of Adam anything I have not already written in his fate, but vowing is imposed on him by way of fore ordainment. Through vowing I make a miser spend of his wealth
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر ( منت ) انسان کو کوئی چیز نہیں دیتی جو میں ( رب ) نے اس کی تقدیر میں نہ لکھی ہو بلکہ وہ تقدیر دیتی ہے جو میں ( رب ) نے اس کے لیے مقرر کر دی ہے، البتہ اس کے ذریعہ میں بخیل کا مال نکلوا لیتا ہوں۔
Narrated by Abu Humaid As-Sa`idi
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ عَامِلاً فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي‏.‏ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ أَفَلاَ قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لاَ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلاَةِ فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ، فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي‏.‏ أَفَلاَ قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَنَظَرَ هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لاَ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لاَ يَغُلُّ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا، إِلاَّ جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ، وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ‏.‏ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَلُوهُ‏.‏
Narrated Abu Humaid As-Sa`idi:Allah's Messenger (ﷺ) employed an employee (to collect Zakat). The employee returned after completing his job and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This (amount of Zakat) is for you, and this (other amount) was given to me as a present." The Prophet (ﷺ) said to him, "Why didn't you stay at your father's or mother's house and see if you would be given presents or not?" Then Allah's Messenger (ﷺ) got up in the evening after the prayer, and having testified that none has the right to be worshipped but Allah and praised and glorified Allah as He deserved, he said, "Now then ! What about an employee whom we employ and then he comes and says, 'This amount (of Zakat) is for you, and this (amount) was given to me as a present'? Why didn't he stay at the house of his father and mother to see if he would be given presents or not? By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, none of you will steal anything of it (i.e. Zakat) but will bring it by carrying it over his neck on the Day of Resurrection. If it has been a camel, he will bring it (over his neck) while it will be grunting, and if it has been a cow, he will bring it (over his neck), while it will be mooing; and if it has been a sheep, he will bring it (over his neck) while it will be bleeding." The Prophet (ﷺ) added, "I have preached you (Allah's Message)." Abu Humaid said, "Then Allah's Messenger (ﷺ) raised his hands so high that we saw the whiteness of his armpits
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عروہ ثقفی نے خبر دی، نہیں ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عامل مقرر کیا۔ عامل اپنے کام پورے کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مال آپ کا ہے اور یہ مال مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اپنے ماں باپ کے گھر ہی میں کیوں نہیں بیٹھے رہے اور پھر دیکھتے کہ تمہیں کوئی تحفہ دیتا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، رات کی نماز کے بعد اور کلمہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کے بعد فرمایا امابعد! ایسے عامل کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم اسے عامل بناتے ہیں۔ ( جزیہ اور دوسرے ٹیکس وصول کرنے کے لیے ) اور وہ پھر ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ یہ تو آپ کا ٹیکس ہے اور مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ پھر وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہیں بیٹھا اور دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی بھی اس مال میں سے کچھ بھی خیانت کرے گا تو قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے گا۔ اگر اونٹ کی اس نے خیانت کی ہو گی تو اس حال میں لے کر آئے گا کہ آواز نکل رہی ہو گی۔ اگر گائے کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں اسے لے کر آئے گا کہ گائے کی آواز آ رہی ہو گی۔ اگر بکری کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں آئے گا کہ بکری کی آواز آ رہی ہو گی۔ بس میں نے تم تک پہنچا دیا۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اتنی اوپر اٹھایا کہ ہم آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھنے لگے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھ یہ حدیث زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، تم لوگ ان سے بھی پوچھ لو۔
Narrated by `Abdur-Rahman bin Samura
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ أَشْهَلُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ‏.‏ وَتَابَعَهُ يُونُسُ وَسِمَاكُ بْنُ عَطِيَّةَ وَسِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ وَحُمَيْدٌ وَقَتَادَةُ وَمَنْصُورٌ وَهِشَامٌ وَالرَّبِيعُ‏.‏
Narrated `Abdur-Rahman bin Samura:Allah's Messenger (ﷺ) said, "(O `Abdur-Rahman!) Do not seek to be a ruler, for, if you are given the authority of ruling without your asking for it, then Allah will help you; but if you are given it by your asking, then you will be held responsible for it (i.e. Allah will not help you ) . And if you take an oath to do something and later on find another thing, better than that, then do what is better and make expiation for (the dissolution of) your oath
مجھ سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر بن فارس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ ابن عون نے خبر دی، انہیں امام حسن بصری نے، ان سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبھی تم حکومت کا عہدہ طلب نہ کرنا کیونکہ اگر بلا مانگے تمہیں یہ مل جائے گا تو اس میں تمہاری منجانب اللہ مدد کی جائے گی، لیکن اگر مانگنے پر ملا تو سارا بوجھ تمہیں پر ڈال دیا جائے گا اور اگر تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کوئی اور بات بہتر نظر آئے تو وہی کرو جو بہتر ہو اور قسم کا کفارہ ادا کر دو۔ عثمان بن عمر کے ساتھ اس حدیث کو اشہل بن حاتم نے بھی عبداللہ بن عون سے روایت کیا، اس کو ابوعوانہ اور حاکم نے وصل کیا اور عبداللہ بن عون کے ساتھ اس حدیث کو یونس اور سماک بن عطیہ اور سماک بن حرب اور حمید اور قتادہ اور منصور اور ہشام اور ربیع نے بھی روایت کیا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَمَّا الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُهُ، وَلَكِنْ خُلَّةُ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ خَيْرٌ ‏"‏‏.‏ فَإِنَّهُ أَنْزَلَهُ أَبًا‏.‏ أَوْ قَالَ قَضَاهُ أَبًا‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:The person about whom Allah's Messenger (ﷺ) said, "If I were to take a Khalil from this nation (my followers), then I would have taken him (i.e., Abu Bakr), but the Islamic Brotherhood is better (or said: good)," regarded a grandfather as the father himself (in inheritance)
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ اگر میں اس امت کے کسی آدمی کو خلیل بناتا تو ان کو ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ) کو خلیل بناتا، لیکن اسلام کا تعلق ہی سب سے بہتر ہے تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کو باپ کے درجہ میں رکھا ہے۔
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلاَّ اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا، مَا لَمْ يَأْثَمْ، فَإِذَا كَانَ الإِثْمُ كَانَ أَبْعَدَهُمَا مِنْهُ، وَاللَّهِ مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ فِي شَىْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ قَطُّ، حَتَّى تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ، فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ‏.‏
Narrated Aisha:Whenever the Prophet (ﷺ) was given an option between two things, he used to select the easier of the tow as long as it was not sinful; but if it was sinful, he would remain far from it. By Allah, he never took revenge for himself concerning any matter that was presented to him, but when Allah's Limits were transgressed, he would take revenge for Allah's Sake
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے، ان سے عقیل نے، ان سے شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کے اختیار کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان ہی کو پسند کیا، بشرطیکہ اس میں گناہ کا کوئی پہلو نہ ہو، اگر اس میں گناہ کا کوئی پہلو ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور ہوتے۔ اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے ذاتی معاملہ میں کسی سے بدلہ نہیں لیا، البتہ جب اللہ کی حرمتوں کو توڑا جاتا تو آپ اللہ کے لیے بدلہ لیتے تھے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ يَهُودِيًّا، رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلاَنٌ أَوْ فُلاَنٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَقَرَّ بِهِ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:A Jew crushed the head of a girl between two stones, and the girl was asked, "Who has done that to you, so-and-so or so and so?" (Some names were mentioned for her) till the name of that Jew was mentioned (whereupon she agreed). The Jew was brought to the Prophet (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) kept on questioning him till he confessed, whereupon his head was crushed with stones
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا پھر اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا ہے؟ فلاں نے، فلاں نے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا ( تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا ) پھر یہودی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں لایا گیا اور اس سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی یہاں تک کہ اس نے جرم کا اقرار کر لیا چنانچہ کا سر بھی پتھروں سے کچلا گیا۔
Narrated by Abu Sa`id
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذِي الْخُوَيْصِرَةِ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ اعْدِلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَيْلَكَ مَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ ‏"‏‏.‏ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلاَتَهُ مَعَ صَلاَتِهِ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يُنْظَرُ فِي قُذَذِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، يُنْظَرُ فِي نَصْلِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ فِي رِصَافِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ فِي نَضِيِّهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ ـ أَوْ قَالَ ثَدْيَيْهِ ـ مِثْلُ ثَدْىِ الْمَرْأَةِ ـ أَوْ قَالَ مِثْلُ الْبَضْعَةِ ـ تَدَرْدَرُ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا قَتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ، جِيءَ بِالرَّجُلِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ فَنَزَلَتْ فِيهِ ‏{‏وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ‏}‏‏.‏
Narrated Abu Sa`id:While the Prophet (ﷺ) was distributing (something, `Abdullah bin Dhil Khawaisira at-Tamimi came and said, "Be just, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said, "Woe to you ! Who would be just if I were not?" `Umar bin Al-Khattab said, "Allow me to cut off his neck ! " The Prophet (ﷺ) said, " Leave him, for he has companions, and if you compare your prayers with their prayers and your fasting with theirs, you will look down upon your prayers and fasting, in comparison to theirs. Yet they will go out of the religion as an arrow darts through the game's body in which case, if the Qudhadh of the arrow is examined, nothing will be found on it, and when its Nasl is examined, nothing will be found on it; and then its Nadiyi is examined, nothing will be found on it. The arrow has been too fast to be smeared by dung and blood. The sign by which these people will be recognized will be a man whose one hand (or breast) will be like the breast of a woman (or like a moving piece of flesh). These people will appear when there will be differences among the people (Muslims)." Abu Sa`id added: I testify that I heard this from the Prophet (ﷺ) and also testify that `Ali killed those people while I was with him. The man with the description given by the Prophet (ﷺ) was brought to `Ali. The following Verses were revealed in connection with that very person (i.e., `Abdullah bin Dhil-Khawaisira at-Tarnimi): 'And among them are men who accuse you (O Muhammad) in the matter of (the distribution of) the alms
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم فرما رہے تھے کہ عبداللہ بن ذی الخویصرہ تمیمی آیا اور کہا: یا رسول اللہ! انصاف کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا۔ اس پر عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اس کے کچھ ایسے ساتھی ہوں گے کہ ان کی نماز اور روزے کے سامنے تم اپنی نماز اور روزے کو حقیر سمجھو گے لیکن وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر جانور میں سے باہر نکل جاتا ہے۔ تیر کے پر کو دیکھا جائے لیکن اس پر کوئی نشان نہیں پھر اس پیکان کو دیکھا جائے اور وہاں بھی کوئی نشان نہیں پھر اس کے باڑ کو دیکھا جائے اور یہاں بھی کوئی نشان نہیں پھر اس کی لکڑی کو دیکھا جائے اور وہاں بھی کوئی نشان نہیں کیونکہ وہ ( جانور کے جسم سے تیر چلایا گیا تھا ) لید گوبر اور خون سب سے آگے ( بےداغ ) نکل گیا ( اسی طرح وہ لوگ اسلام سے صاف نکل جائیں گے ) ان کی نشانی ایک مرد ہو گا جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرح یا یوں فرمایا کہ گوشت کے تھل تھل کرتے لوتھڑے کی طرح ہو گا۔ یہ لوگ مسلمانوں میں پھوٹ کے زمانہ میں پیدا ہوں گے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ علی رضی اللہ عنہ نے نہروان میں ان سے جنگ کی تھی اور میں اس جنگ میں ان کے ساتھ تھا اور ان کے پاس ان لوگوں کے ایک شخص کو قیدی بنا کر لایا گیا تو اس میں وہی تمام چیزیں تھیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی تھیں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی «ومنهم من يلمزك في الصدقات‏» کہ ”ان میں سے بعض وہ ہیں جو آپ کے صدقات کی تقسیم میں عیب پکڑتے ہیں۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، وَلاَ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ ‏"‏‏.‏ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ ‏"‏ إِذَا سَكَتَتْ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِنْ لَمْ تُسْتَأْذَنِ الْبِكْرُ وَلَمْ تَزَوَّجْ‏.‏ فَاحْتَالَ رَجُلٌ فَأَقَامَ شَاهِدَىْ زُورٍ أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا بِرِضَاهَا، فَأَثْبَتَ الْقَاضِي نِكَاحَهَا، وَالزَّوْجُ يَعْلَمُ أَنَّ الشَّهَادَةَ بَاطِلَةٌ، فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَطَأَهَا، وَهْوَ تَزْوِيجٌ صَحِيحٌ‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "A virgin should not be married till she is asked for her consent; and the matron should not be married till she is asked whether she agrees to marry or not." It was asked, "O Allah's Apostle! How will she (the virgin) express her consent?" He said, "By keeping silent." Some people said that if a virgin is not asked for her consent and she is not married, and then a man, by playing a trick presents two false witnesses that he has married her with her consent and the judge confirms his marriage as a true one, and the husband knows that the witnesses were false ones, then there is no harm for him to consummate his marriage with her and the marriage is regarded as valid
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے اور کسی بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کا حکم نہ معلوم کر لیا جائے۔“ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! اس ( کنواری ) کی اجازت کی کیا صورت ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی اجازت ہے۔ اس کے باوجود بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کنواری لڑکی سے اجازت نہ لی گئی اور نہ اس نے نکاح کیا۔ لیکن کسی شخص نے حیلہ کر کے دو جھوٹے گواہ کھڑے کر دئیے کہ اس نے لڑکی سے نکاح کیا ہے اس کی مرضی سے اور قاضی نے بھی اس کے نکاح کا فیصلہ کر دیا۔ حالانکہ شوہر جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے کہ گواہی جھوٹی تھی اس کے باوجود اس لڑکی سے صحبت کرنے میں اس کے لیے کوئی حرج نہیں ہے بلکہ یہ نکاح صحیح ہو گا۔
Narrated by Abu Qatada
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ خَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ يُونُسُ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ
Narrated Abu Qatada:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever sees me (in a dream) then he indeed has seen the truth
ہم سے خالد بن خلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے زبیدی نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا۔“ اس روایت کی متابعت یونس نے اور زہری کے بھتیجے نے کی۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، قَالَ جَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو مُوسَى فَتَحَدَّثَا فَقَالَ أَبُو مُوسَى قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ، وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "Near the establishment of the Hour there will be days during which (religious) knowledge will be taken away (vanish) and general ignorance will spread, and there will be Al-Harj in abundance, and Al-Harj means killing
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما بیٹھے اور گفتگو کرتے رہے پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت اترے پڑے گی اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی اور «هرج» قتل ہے۔“
Narrated by Ma'qil
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، قَالَ زَائِدَةُ ذَكَرَهُ عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ أَتَيْنَا مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ نَعُودُهُ فَدَخَلَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ وَالٍ يَلِي رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيَمُوتُ وَهْوَ غَاشٌّ لَهُمْ، إِلاَّ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ‏"‏‏.‏
Narrated Ma'qil:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If any ruler having the authority to rule Muslim subjects dies while he is deceiving them, Allah will forbid Paradise for him
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو حسین الجعفی نے خبر دی کہ زائدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے اور ان سے حسن نے بیان کیا کہ ہم معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے پاس گئے پھر عبیداللہ بھی آئے تو معقل رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کا حاکم بنایا گیا اور اس نے ان کے معاملہ میں خیانت کی اور اسی حالت میں مر گیا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Were I not afraid that it would be hard on my followers, I would order them to use the siwak (as obligatory, for cleaning the teeth)
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا تو میں ان پر مسواک کرنا واجب قرار دیتا۔“
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَدَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ فَقَالَ ‏ "‏ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيِّ الزُّبَيْرُ ‏"‏‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ حَفِظْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ‏.‏ وَقَالَ لَهُ أَيُّوبُ يَا أَبَا بَكْرٍ حَدِّثْهُمْ عَنْ جَابِرٍ، فَإِنَّ الْقَوْمَ يُعْجِبُهُمْ أَنْ تُحَدِّثَهُمْ عَنْ جَابِرٍ‏.‏ فَقَالَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ سَمِعْتُ جَابِرًا فَتَابَعَ بَيْنَ أَحَادِيثَ سَمِعْتُ جِابِرًا، قُلْتُ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ الثَّوْرِيَّ يَقُولُ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَقَالَ كَذَا حَفِظْتُهُ كَمَا أَنَّكَ جَالِسٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ هُوَ يَوْمٌ وَاحِدٌ‏.‏ وَتَبَسَّمَ سُفْيَانُ‏.‏
Narrated Jabir bin `Abdullah:On the day of (the battle of) the Trench, the Prophet (ﷺ) called the people (to bring news about the enemy). Az-Zubair responded to his call. He called them again and Az-Zubair responded to his call again; then he called them for the third time and again Az-Zubair responded to his call whereupon the Prophet said, "Every prophet has his Hawairi (helper), and Az-Zubair is my Hawari
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن المنکدر نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، بیان کیا کہ غزوہ خندق کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دشمن سے خبر لانے کے لیے ) صحابہ سے کہا تو زبیر رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے پھر ان سے کہا تو زبیر رضی اللہ عنہ ہی تیار ہوئے۔ پھر کہا، پھر بھی انہوں نے ہی آمادگی دکھلائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ( مددگار ) ہوتے ہیں اور میری حواری زبیر ہیں۔ اور سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ روایت ابن المنکدر سے یاد کی اور ایوب نے ابن المنکدر سے کہا، اے ابوبکر! ( یہ محمد بن منکدر کی کنیت ہے ) ان سے جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کیجئے کیونکہ لوگ پسند کرتے ہیں کہ آپ جابر رضی اللہ عنہ کی احادیث بیان کریں تو انہوں نے اسی مجلس میں کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا اور چار احادیث میں پے در پے یہ کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا کہ سفیان ثوری تو غزوہ قریظہ کہتے ہیں ( بجائے غزوہ خندق کے ) انہوں نے کہا کہ میں نے اتنے ہی یقین کے ساتھ یاد کیا ہے جیسا کہ تم اس وقت بیٹھے ہو کہ انہوں نے غزوہ خندق کہا، سفیان نے کہا کہ یہ دونوں ایک ہی غزوہ ہیں ( کیونکہ ) غزوہ خندق کے فوراً بعد اسی دن غزوہ قریظہ پیش آیا اور وہ مسکرائے۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمًا فَقَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَىَّ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ فَالنَّجَاءَ‏.‏ فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ فَأَدْلَجُوا، فَانْطَلَقُوا عَلَى مَهَلِهِمْ فَنَجَوْا، وَكَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوا مَكَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ، فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي، فَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَكَذَّبَ بِمَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "My example and the example of what I have been sent with is that of a man who came to some people and said, 'O people! I have seen the enemy's army with my own eyes, and I am the naked warner; so protect yourselves!' Then a group of his people obeyed him and fled at night proceeding stealthily till they were safe, while another group of them disbelieved him and stayed at their places till morning when the army came upon them, and killed and ruined them completely So this is the example of that person who obeys me and follows what I have brought (the Qur'an and the Sunna), and the example of the one who disobeys me and disbelieves the truth I have brought
ہم سے ابوکریب محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور جس دعوت کے ساتھ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اس کی مثال ایک ایسے شخص جیسی ہے جو کسی قوم کے پاس آئے اور کہے: اے قوم! میں نے ایک لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں ننگ دھڑنگ تم کو ڈرانے والا ہوں، پس بچاؤ کی صورت کرو تو اس قوم کے ایک گروہ نے بات مان لی اور رات کے شروع ہی میں نکل بھاگے اور حفاظت کی جگہ چلے گئے۔ اس لیے نجات پا گئے لیکن ان کی دوسری جماعت نے جھٹلایا اور اپنی جگہ ہی پر موجود رہے، پھر صبح سویرے ہی دشمن کے لشکر نے انہیں آ لیا اور انہیں مارا اور ان کو برباد کر دیا۔ تو یہ مثال ہے اس کی جو میری اطاعت کریں اور جو دعوت میں لایا ہوں اس کی پیروی کریں اور اس کی مثال ہے جو میری نافرمانی کریں اور جو حق میں لے کر آیا ہوں اسے جھٹلائیں۔
Narrated by `Abdullah bin Mas`ud
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَلَى غَيْرِ مَا حَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ، فَهْوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:The Prophet (ﷺ) said, "Do not wish to be like anyone except in two cases. (The first is) A person, whom Allah has given wealth and he spends it righteously; (the second is) the one whom Allah has given wisdom (the Holy Qur'an) and he acts according to it and teaches it to others." (Fath-al-Bari page 177 Vol)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے دوسرے لفظوں میں بیان کیا، ان لفظوں کے علاوہ جو زہری نے ہم سے بیان کئے، وہ کہتے ہیں میں نے قیس بن ابی حازم سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حسد صرف دو باتوں میں جائز ہے۔ ایک تو اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اس دولت کو راہ حق میں خرچ کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہو اور ایک اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے حکمت ( کی دولت ) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ذریعہ سے فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو ) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو مِنَ اللَّيْلِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، قَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لاَ إِلَهَ لِي غَيْرُكَ ‏"‏‏.‏ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا وَقَالَ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas: The Prophet (ﷺ) used to invoke Allah at night, saying, "O Allah: All the Praises are for You: You are the Lord of the Heavens and the Earth. All the Praises are for You; You are the Maintainer of the Heaven and the Earth and whatever is in them. All the Praises are for You; You are the Light of the Heavens and the Earth. Your Word is the Truth, and Your Promise is the Truth, and the Meeting with You is the Truth, and Paradise is the Truth, and the (Hell) Fire is the Truth, and the Hour is the Truth. O Allah! I surrender myself to You, and I believe in You and I depend upon You, and I repent to You and with You (Your evidences) I stand against my opponents, and to you I leave the judgment (for those who refuse my message). O Allah! Forgive me my sins that I did in the past or will do in the future, and also the sins I did in secret or in public. You are my only God (Whom I worship) and there is no other God for me (i.e. I worship none but You)." Narrated Sufyan: (regarding the above narration) that the Prophet (ﷺ) added, "You are the Truth, and Your Word is the Truth
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے سلیمان احول نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں یہ دعا کرتے تھے «اللهم لك الحمد أنت رب السموات والأرض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لك الحمد أنت نور السموات والأرض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قولك الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ووعدك الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولقاؤك حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والجنة حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والنار حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والساعة حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم لك أسلمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبك آمنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وعليك توكلت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإليك أنبت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبك خاصمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإليك حاكمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاغفر لي ما قدمت وما أخرت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأسررت وأعلنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أنت إلهي لا إله لي غيرك ‏ ‏‏.‏» ”اے اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے تو آسمان و زمین کا مالک ہے، حمد تیرے لیے ہی ہے تو آسمان و زمین کا قائم کرنے والا ہے اور ان سب کا جو اس میں ہیں۔ تیری ہی لیے حمد ہے تو آسمان و زمین کا نور ہے۔ تیرا قول حق ہے اور تیرا وعدہ سچ ہے اور تیری ملاقات سچ اور جنت سچ اور دوزخ سچ ہے اور قیامت سچ ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے ہی سامنے سر جھکا دیا، میں تجھ ہی پر ایمان لایا، میں نے تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا۔ میں نے تیری ہی مدد کے ساتھ مقابلہ کیا اور میں تجھی سے انصاف کا طلب گار ہوں۔ پس تو میری مغفرت کر، ان تمام گناہوں میں جو میں پہلے کر چکا ہوں اور جو بعد میں مجھ سے صادر ہوں جو میں نے چھپا رکھے ہیں اور جن کا میں نے اظہار کیا ہے، تو ہی میرا معبود ہے اور تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔“ اور ہم سے ثابت بن محمد نے بیان کیا اور کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے پھر یہی حدیث بیان کی اور اس میں یوں ہے «أنت الحق وقولك الحق‏.‏» کہ ”تو حق ہے اور تیرا کلام حق ہے۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَسْتَنُّ بِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لَهُ أَعْطِنِي هَذَا السِّوَاكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ‏.‏ فَأَعْطَانِيهِ فَقَصَمْتُهُ ثُمَّ مَضَغْتُهُ، فَأَعْطَيْتُهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَنَّ بِهِ وَهْوَ مُسْتَسْنِدٌ إِلَى صَدْرِي‏.‏
Narrated `Aisha:`Abdur-Rahman bin Abi Bakr came holding a Siwak with which he was cleaning his teeth. Allah's Apostle looked at him. I requested `Abdur-Rahman to give the Siwak to me and after he gave it to me I divided it, chewed it and gave it to Allah's Messenger (ﷺ). Then he cleaned his teeth with it and (at that time) he was resting against my chest
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے میرے باپ عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر ( ایک مرتبہ ) آئے۔ ان کے ہاتھ میں مسواک تھی جسے وہ استعمال کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کی حالت میں ان سے کہا عبدالرحمٰن یہ مسواک مجھے دیدے۔ انہوں نے دے دی۔ میں نے اس کے سرے کو پہلے توڑا یعنی اتنی لکڑی نکال دی جو عبدالرحمٰن اپنے منہ سے لگایا کرتے تھے، پھر اسے چبا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دانت صاف کئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے سینے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔
Narrated by Sa`id bin Jubair
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى أَبُو السُّكَيْنِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ حِينَ أَصَابَهُ سِنَانُ الرُّمْحِ فِي أَخْمَصِ قَدَمِهِ، فَلَزِقَتْ قَدَمُهُ بِالرِّكَابِ، فَنَزَلْتُ فَنَزَعْتُهَا وَذَلِكَ بِمِنًى، فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ فَجَعَلَ يَعُودُهُ فَقَالَ الْحَجَّاجُ لَوْ نَعْلَمُ مَنْ أَصَابَكَ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَنْتَ أَصَبْتَنِي‏.‏ قَالَ وَكَيْفَ قَالَ حَمَلْتَ السِّلاَحَ فِي يَوْمٍ لَمْ يَكُنْ يُحْمَلُ فِيهِ، وَأَدْخَلْتَ السِّلاَحَ الْحَرَمَ وَلَمْ يَكُنِ السِّلاَحُ يُدْخَلُ الْحَرَمَ‏.‏
Narrated Sa`id bin Jubair:I was with Ibn `Umar when a spear head pierced the sole of his foot and his foot stuck to the paddle of the saddle and I got down and pulled his foot out, and that happened in Mina. Al-Hajjaj got the news and came to inquire about his health and said, "Alas! If we could only know the man who wounded you!" Ibn `Umar said, "You are the one who wounded me." Al-Hajjaj said, "How is that?" Ibn `Umar said, "You have allowed the arms to be carried on a day on which nobody used to carry them and you allowed arms to be carried in the Haram even though it was not allowed before
ہم سے زکریا بن یحییٰ ابوالسکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن محاربی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن سوقہ نے سعید بن جبیر سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں ( حج کے دن ) ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا جب نیزے کی انی آپ کے تلوے میں چبھ گئی جس کی وجہ سے آپ کا پاؤں رکاب سے چپک گیا۔ تب میں نے اتر کر اسے نکالا۔ یہ واقعہ منیٰ میں پیش آیا تھا۔ جب حجاج کو معلوم ہوا جو اس زمانہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتل کے بعد حجاج کا امیر تھا تو وہ بیمار پرسی کے لیے آیا۔ حجاج نے کہا کہ کاش ہمیں معلوم ہو جاتا کہ کس نے آپ کو زخمی کیا ہے۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تو نے ہی تو مجھ کو نیزہ مارا ہے۔ حجاج نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا کہ تم اس دن ہتھیار اپنے ساتھ لائے جس دن پہلے کبھی ہتھیار ساتھ نہیں لایا جاتا تھا ( عیدین کے دن ) تم ہتھیار حرم میں لائے حالانکہ حرم میں ہتھیار نہیں لایا جاتا تھا۔