Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَسُبُّوا الأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا ". وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ عَنِ الأَعْمَشِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الأَعْمَشِ. تَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ وَابْنُ عَرْعَرَةَ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "Don't abuse the dead, because they have reached the result of what they forwarded
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے بیان کیا ‘ ان سے مجاہد نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جیسا عمل کیا اس کا بدلہ پا لیا۔ اس روایت کی متابعت علی بن جعد ‘ محمد بن عرعرہ اور ابن ابی عدی نے شعبہ سے کی ہے۔ اور اس کی روایت عبداللہ بن عبدالقدوس نے اعمش سے اور محمد بن انس نے بھی اعمش سے کی ہے۔
Narrated by `Urwa
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا جَالِسٌ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ قَالَ كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ. قَالَ هِشَامٌ وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ فَجْوَةٌ مُتَّسَعٌ، وَالْجَمِيعُ فَجَوَاتٌ وَفِجَاءٌ، وَكَذَلِكَ رَكْوَةٌ وَرِكَاءٌ. مَنَاصٌ لَيْسَ حِينَ فِرَارٍ.
Narrated `Urwa:Usama was asked in my presence, "How was the speed of (the camel of) Allah's Messenger (ﷺ) while departing from `Arafat during the Hajjatul Wada`?" Usama replied, "The Prophet (ﷺ) proceeded on with a modest pace, and when there was enough space he would (make his camel) go very fast
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ ذَكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ فِي السَّلَفِ، فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِهِ. ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اشْتَرَى طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ، فَرَهَنَهُ دِرْعَهُ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) bought some foodstuff from a Jew on credit and mortgaged his armor to him
ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے ابراہیم کے سامنے قرض میں گروی رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر ہم سے اسود کے واسطہ سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقررہ مدت کے قرض پر ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اپنی زرہ اس کے یہاں گروی رکھی تھی۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَنَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ، وَنُحِرَتْ جَزُورٌ بِنَاحِيَةِ مَكَّةَ، فَأَرْسَلُوا فَجَاءُوا مِنْ سَلاَهَا، وَطَرَحُوهُ عَلَيْهِ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَلْقَتْهُ عَنْهُ، فَقَالَ " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ". لأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُبَىِّ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ فِي قَلِيبِ بَدْرٍ قَتْلَى. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَنَسِيتُ السَّابِعَ. وَقَالَ يُوسُفُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ. وَقَالَ شُعْبَةُ أُمَيَّةُ أَوْ أُبَىٌّ. وَالصَّحِيحُ أُمَيَّةُ.
Narrated `Abdullah:Once the Prophet (ﷺ) was offering the prayer in the shade of the Ka`ba. Abu Jahl and some Quraishi men sent somebody to bring the Abdominal contents of a she-camel which had been slaughtered somewhere in Mecca, and when he brought them, they put them over the Prophet (ﷺ) Then Fatima (i.e. the Prophet's daughter) came and threw them away from him, and he said, "O Allah! Destroy (the pagans of) Quraish; O Allah! Destroy Quraish; O Allah Destroy Quraish," naming especially Abu Jahl bin Hisham, `Utba bin Rabi`a, Shaiba bin Rabi`a, Al Walid bin `Utba, Ubai bin Khalaf and `Uqba bin Abi Muait. (The narrator, `Abdullah added, "I saw them all killed and thrown in the Badr well)
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا، ہم سے سفیان ثوری نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے میں نماز پڑھ رہے تھے، ابوجہل اور قریش کے بعض دوسرے لوگوں نے کہا کہ اونٹ کی اوجھڑی لا کر کون ان پر ڈالے گا؟ مکہ کے کنارے ایک اونٹ ذبح ہوا تھا ( اور اسی کی اوجھڑی لانے کے واسطے ) ان سب نے اپنے آدمی بھیجے اور وہ اس اونٹ کی اوجھڑی اٹھا لائے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ( نماز پڑھتے ہوئے ) ڈال دیا۔ اس کے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر سے اس گندگی کو ہٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ بددعا کی «اللهم عليك بقريش، اللهم عليك بقريش، اللهم عليك بقريش . لأبي جهل بن هشام، وعتبة بن ربيعة، وشيبة بن ربيعة، والوليد بن عتبة، وأبى بن خلف، وعقبة بن أبي معيط.» ”اے اللہ! قریش کو پکڑ، اے اللہ! قریش کو پکڑ، ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، ابی بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط سب کو پکڑ لے۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا چنانچہ میں نے ان سب کو جنگ بدر میں بدر کے کنوئیں میں دیکھا کہ سب کو قتل کر کے اس میں ڈال دیا گیا تھا۔ ابواسحاق نے کہا کہ میں ساتویں شخص کا ( جس کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی تھی نام ) بھول گیا اور یوسف بن ابی اسحاق نے کہا کہ ان سے ابواسحاق نے ( سفیان کی روایت میں ابی بن خلف کی بجائے ) امیہ بن خلف بیان کیا اور شعبہ نے کہا کہ امیہ یا ابی ( شک کے ساتھ ہے ) لیکن صحیح امیہ ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَ الرَّجُلُ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهُ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا. قَالَ فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "A man used to give loans to the people and used to say to his servant, 'If the debtor is poor, forgive him, so that Allah may forgive us.' So when he met Allah (after his death), Allah forgave him
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ان سے ابن شہاب نے ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکروں کو اس نے یہ کہہ رکھا تھا کہ جب تم کسی کو مفلس پاؤ ( جو میرا قرض دار ہو ) تو اسے معاف کر دیا کرو۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ بھی ہمیں معاف فرما دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملا تو اللہ نے اسے بخش دیا۔“
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is always goodness in horses till the Day of Resurrection
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ نے بیان کیا، انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت قیامت تک کے لیے باندھ دی گئی ہے۔“
Narrated by Abu Bakr
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْغَارِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا أَنَا بِأَقْدَامِ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْ أَنَّ بَعْضَهُمْ طَأْطَأَ بَصَرَهُ رَآنَا. قَالَ " اسْكُتْ يَا أَبَا بَكْرٍ، اثْنَانِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا ".
Narrated Abu Bakr:I was with the Prophet (ﷺ) in the Cave. When I raised my head, I saw the feet of the people. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If some of them should look down, they will see us." The Prophet (ﷺ) said, "O Abu Bakr, be quiet! (For we are) two and Allah is the Third of us
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے ثابت نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھا۔ میں نے جو سر اٹھایا تو قوم کے چند لوگوں کے قدم ( باہر ) نظر آئے میں نے کہا، اے اللہ کے نبی! اگر ان میں سے کسی نے بھی نیچے جھک کر دیکھ لیا تو وہ ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابوبکر! خاموش رہو ہم ایسے دو ہیں جن کا تیسرا اللہ ہے۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها {إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الأَبْصَارُ} قَالَتْ كَانَ ذَاكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ.
Narrated `Aisha:As regards the following Qur'anic Verse:-- "When they came on you from above and from below you (from east and west of the valley) and when the eyes grew wild and the hearts reached up to the throats....." (33.10) That happened on the day of Al-Khandaq (i.e. Trench)
مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ( آیت ) «إذا جاؤوكم من فوقكم ومن أسفل منكم وإذ زاغت الأبصار وبلغت القلوب الحناجر» ”جب مشرکین تمہارے بالائی علاقہ سے اور تمہارے نشیبی علاقہ سے تم پر چڑھ آئے تھے اور جب مارے ڈر کے آنکھیں چکا چوند ہو گئی تھیں اور دل حلق تک آ گئے تھے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ آیت غزوہ خندق کے متعلق نازل ہوئی تھی۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً ـ ثُمَّ قَالَ ـ {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ ـ ثُمَّ قَالَ ـ أَلاَ وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلاَئِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ، أَلاَ وَإِنَّهُ يُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي. فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ. فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ} فَيُقَالُ إِنَّ هَؤُلاَءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ ".
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) delivered a sermon and said, "O people! You will be gathered before Allah barefooted, naked and not circumcised." Then (quoting Qur'an) he said:-- "As We began the first creation, We shall repeat it. A promise We have undertaken: Truly We shall do it.." (21.104) The Prophet (ﷺ) then said, "The first of the human beings to be dressed on the Day of Resurrection, will be Abraham. Lo! Some men from my followers will be brought and then (the angels) will drive them to the left side (Hell-Fire). I will say. 'O my Lord! (They are) my companions!' Then a reply will come (from the Almighty), 'You do not know what they did after you.' I will say as the pious slave (the Prophet Jesus (ﷺ)) said: And I was a witness over them while I dwelt amongst them. When You took me up, You were the Watcher over them and You are a Witness to all things.' (5.117) Then it will be said, "These people have continued to be apostates since you left them
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو مغیرہ بن نعمان نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو! تم اللہ کے پاس جمع کئے جاؤ گے، ننگے پاؤں ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين» ”جس طرح ہم نے اول بار پیدا کرنے کے وقت ابتداء کی تھی، اسی طرح اسے دوبارہ زندہ کر دیں گے، ہمارے ذمہ وعدہ ہے، ہم ضرور اسے کر کے ہی رہیں گے۔“ آخر آیت تک۔ پھر فرمایا قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا۔ ہاں اور میری امت کے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور انہیں جہنم کی بائیں طرف لے جایا جائے گا۔ میں عرض کروں گا، میرے رب! یہ تو میرے امتی ہیں؟ مجھ سے کہا جائے گا، آپ کو نہیں معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد نئی نئی باتیں شریعت میں نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو عبد صالح عیسیٰ علیہ السلام نے کہا ہو گا «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم» کہ ”میں ان کا حال دیکھتا رہا جب تک میں ان کے درمیان رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا ( جب سے ) تو ہی ان پر نگراں ہے۔“ مجھے بتایا جائے گا کہ آپ کی جدائی کے بعد یہ لوگ دین سے پھر گئے تھے۔
Narrated by Anas Ibn Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَاذَانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ تَبِعْتُهُ أَنَا وَغُلاَمٌ وَمَعَنَا عُكَّازَةٌ أَوْ عَصًا أَوْ عَنَزَةٌ وَمَعَنَا إِدَاوَةٌ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ نَاوَلْنَاهُ الإِدَاوَةَ.
Narrated Anas Ibn Malik:Whenever the Prophet (ﷺ) went for answering the call of nature, I and another boy used to go after him with a staff, a stick or a short spear (or stick) and a tumbler of water and when he finished from answering the call of nature we would hand that tumbler of water to him
ہم سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شاذان بن عامر نے شعبہ بن حجاج کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رفع حاجت کے لیے نکلتے تو میں اور ایک اور لڑکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے جاتے۔ ہمارے ساتھ عکازہ ( ڈنڈا جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا ہو ) یا چھڑی یا عنزہ ہوتا۔ اور ہمارے ساتھ ایک چھاگل بھی ہوتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہو جاتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ چھاگل دے دیتے تھے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَخَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مِنَ السُّنَّةِ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا وَقَسَمَ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ قَسَمَ. قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ وَلَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ إِنَّ أَنَسًا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ وَخَالِدٍ قَالَ خَالِدٌ وَلَوْ شِئْتُ قُلْتُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Anas:It is the Prophet's tradition that if someone marries a virgin and he has already a matron wife then he should stay for seven days with her (the virgin) and then by turns; and if someone marries a matron and he has already a virgin wife then he should stay with her (the matron) for three days, and then by turns
ہم سے یوسف بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، کہا ہم سے ایوب اور خالد نے دونوں نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دستور یہ کہ جب کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ بیوی کی موجودگی میں کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے اور جب کسی کنواری بیوی کی موجودگی میں پہلے سے شادی شدہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی ہے۔ اور عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں سفیان نے خبر دی، انہیں ایوب اور خالد نے کہا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی ہے۔
Narrated by Humaid bin `Abdur-Rahman bin `Auf
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، عَامَ حَجَّ وَهْوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهْوَ يَقُولُ ـ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ بِيَدِ حَرَسِيٍّ ـ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ ".
Narrated Humaid bin `Abdur-Rahman bin `Auf:that in the year he performed Hajj. he heard Mu'awiya bin Abi Sufyan, who was on the pulpit and was taking a tuft of hair from one of his guards, saying, "Where are your religious learned men? I heard Allah's Messenger (ﷺ) forbidding this (false hair) and saying, 'The children of Israel were destroyed when their women started using this
ہم سے اسماعیل بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف اور انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے حج کے سال میں سنا وہ مدینہ منورہ میں منبر پر یہ فرما رہے تھے انہوں نے بالوں کی ایک چوٹی جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھی لے کر کہا کہاں ہیں تمہارے علماء میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ اس طرح بال بنانے سے منع فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیئے۔
Narrated by Abu Mas`ud
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ الأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحِي فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ ".
Narrated Abu Mas`ud:The Prophet (ﷺ) said, 'One of the sayings of the early Prophets which the people have got is: If you don't feel ashamed (from Haya': pious shyness from committing religeous indiscretions) do whatever you like." (See Hadith No 690, 691, Vol)
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے منصور نے بیان کیا، ان سے ربعی بن خراش نے بیان کیا، ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگلے پیغمبروں کا کلام جو لوگوں کو ملا اس میں یہ بھی ہے کہ جب شرم ہی نہ رہی تو پھر جو جی چاہے وہ کرے۔“
Narrated by Hammad from `Amr from Jabir
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ كَأَنَّهُمُ الثَّعَارِيرُ ". قُلْتُ مَا الثَّعَارِيرُ قَالَ الضَّغَابِيسُ. وَكَانَ قَدْ سَقَطَ فَمُهُ فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَبَا مُحَمَّدٍ سَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَخْرُجُ بِالشَّفَاعَةِ مِنَ النَّارِ ". قَالَ نَعَمْ.
Narrated Hammad from `Amr from Jabir:The Prophet (ﷺ) said, "Some people will come out of the Fire through intercession looking like The Thaarir." I asked `Amr, "What is the Thaarir?" He said, Ad Dagh`Abis, and at that time he was toothless. Hammad added: I said to `Amr bin Dinar, "O Abu Muhammad! Did you hear Jabir bin `Abdullah saying, 'I heard the Prophet (ﷺ) saying: 'Some people will come out of the Fire through intercession?" He said, "Yes
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کچھ لوگ دوزخ سے شفاعت کے ذریعہ نکلیں گے گویا کہ «ثعارير» ہوں۔“ حماد کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا کہ «ثعارير» کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس سے مراد چھوٹی ککڑیاں ہیں اور ہوا یہ تھا کہ آخر عمر میں عمرو بن دینار کے دانت گر گئے تھے۔ حماد کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا: اے ابومحمد! ( یہ عمرو بن دینار کی کنیت ہے ) کیا آپ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے یہ سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے شفاعت کے ذریعہ لوگ نکلیں گے؟ انہوں نے کہا ہاں بیشک سنا ہے۔
Narrated by `Ikrima
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ كُتُبِهِمْ وَعِنْدَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ أَقْرَبُ الْكُتُبِ عَهْدًا بِاللَّهِ، تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ
Narrated `Ikrima:Ibn `Abbas said, "How can you ask the people of the Scriptures about their Books while you have Allah's Book (the Qur'an) which is the most recent of the Books revealed by Allah, and you read it in its pure undistorted form?
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن وردان نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ تم اہل کتاب سے ان کی کتابوں کے مسائل کے بارے میں کیونکر سوال کرتے ہو، تمہارے پاس خود اللہ کی کتاب موجود ہے جو زمانہ کے اعتبار سے بھی تم سے سب سے زیادہ قریب ہے، تم اسے پڑھتے ہو، وہ خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، وَهْوَ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَىِ النَّاسِ، فَحَتَّهَا ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلاَ يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي الصَّلاَةِ ". رَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ وَابْنُ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ.
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) saw expectoration in the direction of the Qibla of the mosque while he was leading the prayer, and scratched it off. After finishing the prayer, he said, "Whenever any of you is in prayer he should know that Allah is in front of him. So none should spit in front of him in the prayer
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے نافع سے بیان کیا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے آپ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی دیوار پر رینٹ دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز ہی میں ) رینٹ کو کھرچ ڈالا۔ پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی نماز میں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے منہ کے سامنے ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص سامنے کی طرف نماز میں نہ تھوکے۔ اس حدیث کی روایت موسیٰ بن عقبہ اور عبدالعزیز ابن ابی رواد نے نافع سے کی۔