Narrated by `Amr bin Maimun Al-Audi
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، اذْهَبْ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَقُلْ يَقْرَأُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَيْكِ السَّلاَمَ، ثُمَّ سَلْهَا أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَىَّ. قَالَتْ كُنْتُ أُرِيدُهُ لِنَفْسِي، فَلأُوثِرَنَّهُ الْيَوْمَ عَلَى نَفْسِي. فَلَمَّا أَقْبَلَ قَالَ لَهُ مَا لَدَيْكَ قَالَ أَذِنَتْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ مَا كَانَ شَىْءٌ أَهَمَّ إِلَىَّ مِنْ ذَلِكَ الْمَضْجَعِ، فَإِذَا قُبِضْتُ فَاحْمِلُونِي ثُمَّ سَلِّمُوا ثُمَّ قُلْ يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. فَإِنْ أَذِنَتْ لِي فَادْفِنُونِي، وَإِلاَّ فَرُدُّونِي إِلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ، إِنِّي لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَذَا الأَمْرِ مِنْ هَؤُلاَءِ النَّفَرِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، فَمَنِ اسْتَخْلَفُوا بَعْدِي فَهُوَ الْخَلِيفَةُ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا. فَسَمَّى عُثْمَانَ وَعَلِيًّا وَطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَوَلَجَ عَلَيْهِ شَابٌّ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِبُشْرَى اللَّهِ، كَانَ لَكَ مِنَ الْقَدَمِ فِي الإِسْلاَمِ مَا قَدْ عَلِمْتَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفْتَ فَعَدَلْتَ، ثُمَّ الشَّهَادَةُ بَعْدَ هَذَا كُلِّهِ. فَقَالَ لَيْتَنِي يَا ابْنَ أَخِي وَذَلِكَ كَفَافًا لاَ عَلَىَّ وَلاَ لِي أُوصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِالْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ خَيْرًا، أَنْ يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ، وَأَنْ يَحْفَظَ لَهُمْ حُرْمَتَهُمْ، وَأُوصِيهِ بِالأَنْصَارِ خَيْرًا الَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ أَنْ يُقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَيُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُوفَى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَنْ لاَ يُكَلَّفُوا فَوْقَ طَاقَتِهِمْ.
Narrated `Amr bin Maimun Al-Audi:I saw `Umar bin Al-Khattab (when he was stabbed) saying, "O `Abdullah bin `Umar! Go to the mother of the believers Aisha and say, `Umar bin Al-Khattab sends his greetings to you,' and request her to allow me to be buried with my companions." (So, Ibn `Umar conveyed the message to `Aisha.) She said, "I had the idea of having this place for myself but today I prefer him (`Umar) to myself (and allow him to be buried there)." When `Abdullah bin `Umar returned, `Umar asked him, "What (news) do you have?" He replied, "O chief of the believers! She has allowed you (to be buried there)." On that `Umar said, "Nothing was more important to me than to be buried in that (sacred) place. So, when I expire, carry me there and pay my greetings to her (`Aisha ) and say, `Umar bin Al-Khattab asks permission; and if she gives permission, then bury me (there) and if she does not, then take me to the graveyard of the Muslims. I do not think any person has more right for the caliphate than those with whom Allah's Messenger (ﷺ) was always pleased till his death. And whoever is chosen by the people after me will be the caliph, and you people must listen to him and obey him," and then he mentioned the name of `Uthman, `Ali, Talha, Az-Zubair, `Abdur-Rahman bin `Auf and Sa`d bin Abi Waqqas. By this time a young man from Ansar came and said, "O chief of the believers! Be happy with Allah's glad tidings. The grade which you have in Islam is known to you, then you became the caliph and you ruled with justice and then you have been awarded martyrdom after all this." `Umar replied, "O son of my brother! Would that all that privileges will counterbalance (my short comings), so that I neither lose nor gain anything. I recommend my successor to be good to the early emigrants and realize their rights and to protect their honor and sacred things. And I also recommend him to be good to the Ansar who before them, had homes (in Medina) and had adopted the Faith. He should accept the good of the righteous among them and should excuse their wrongdoers. I recommend him to abide by the rules and regulations concerning the Dhimmis (protectees) of Allah and His Apostle, to fulfill their contracts completely and fight for them and not to tax (overburden) them beyond their capabilities
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا کہ میری موجودگی میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ اے عبداللہ! ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جا اور کہہ کہ عمر بن خطاب نے آپ کو سلام کہا ہے اور پھر ان سے معلوم کرنا کہ کیا مجھے میرے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی آپ کی طرف سے اجازت مل سکتی ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے اس جگہ کو اپنے لیے پسند کر رکھا تھا لیکن آج میں اپنے پر عمر رضی اللہ عنہ کو ترجیح دیتی ہوں۔ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کیا پیغام لائے ہو؟ کہا کہ امیرالمؤمنین انہوں نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر بولے کہ اس جگہ دفن ہونے سے زیادہ مجھے اور کوئی چیز عزیز نہیں تھی۔ لیکن جب میری روح قبض ہو جائے تو مجھے اٹھا کر لے جانا اور پھر دوبارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو میرا سلام پہنچا کر ان سے کہنا کہ عمر نے آپ سے اجازت چاہی ہے۔ اگر اس وقت بھی وہ اجازت دے دیں تو مجھے وہیں دفن کر دینا ‘ ورنہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔ میں اس امر خلافت کا ان چند صحابہ سے زیادہ اور کسی کو مستحق نہیں سمجھتا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت تک خوش اور راضی رہے۔ وہ حضرات میرے بعد جسے بھی خلیفہ بنائیں ‘ خلیفہ وہی ہو گا اور تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اپنے خلیفہ کی باتیں توجہ سے سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ آپ نے اس موقع پر عثمان ‘ علی ‘ طلحہ ‘ زبیر ‘ عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کے نام لیے۔ اتنے میں ایک انصاری نوجوان داخل ہوا اور کہا کہ اے امیرالمؤمنین آپ کو بشارت ہو ‘ اللہ عزوجل کی طرف سے ‘ آپ کا اسلام میں پہلے داخل ہونے کی وجہ سے جو مرتبہ تھا وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے انصاف کیا۔ پھر آپ نے شہادت پائی۔ عمر رضی اللہ عنہ بولے میرے بھائی کے بیٹے! کاش ان کی وجہ سے میں برابر چھوٹ جاؤں۔ نہ مجھے کوئی عذاب ہو اور نہ کوئی ثواب۔ ہاں میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ مہاجرین اولین کے ساتھ اچھا برتاو رکھے ‘ ان کے حقوق پہچانے اور ان کی عزت کی حفاظت کرے اور میں اسے انصار کے بارے میں بھی اچھا برتاو رکھنے کی وصیت کرتا ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان والوں کو اپنے گھروں میں جگہ دی۔ ( میری وصیت ہے کہ ) ان کے اچھے لوگوں کے ساتھ بھلائی کی جائے اور ان میں جو برے ہوں ان سے درگذر کیا جائے اور میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی جو اللہ اور رسول کی ذمہ داری ہے ( یعنی غیر مسلموں کی جو اسلامی حکومت کے تحت زندگی گذارتے ہیں ) کہ ان سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔ انہیں بچا کر لڑا جائے اور طاقت سے زیادہ ان پر کوئی بار نہ ڈالا جائے۔
Narrated by `Urwa
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ عُرْوَةُ كَانَ النَّاسُ يَطُوفُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عُرَاةً إِلاَّ الْحُمْسَ، وَالْحُمْسُ قُرَيْشٌ وَمَا وَلَدَتْ، وَكَانَتِ الْحُمْسُ يَحْتَسِبُونَ عَلَى النَّاسِ يُعْطِي الرَّجُلُ الرَّجُلَ الثِّيَابَ يَطُوفُ فِيهَا، وَتُعْطِي الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ الثِّيَابَ تَطُوفُ فِيهَا، فَمَنْ لَمْ يُعْطِهِ الْحُمْسُ طَافَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانًا، وَكَانَ يُفِيضُ جَمَاعَةُ النَّاسِ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَيُفِيضُ الْحُمْسُ مِنْ جَمْعٍ. قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِي الْحُمْسِ {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} قَالَ كَانُوا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ فَدُفِعُوا إِلَى عَرَفَاتٍ.
Narrated `Urwa:During the Pre-Islamic period of Ignorance, the people used to perform Tawaf of the Ka`ba naked except the Hums; and the Hums were Quraish and their offspring. The Hums used to give clothes to the men who would perform the Tawaf wearing them; and women (of the Hums) used to give clothes to the women who would perform the Tawaf wearing them. Those to whom the Hums did not give clothes would perform Tawaf round the Ka`ba naked. Most of the people used to go away (disperse) directly from `Arafat but they (Hums) used to depart after staying at Al-Muzdalifa. `Urwa added, "My father narrated that `Aisha had said, 'The following verses were revealed about the Hums: Then depart from the place whence all the people depart--(2.199) `Urwa added, "They (the Hums) used to stay at Al-Muzdalifa and used to depart from there (to Mina) and so they were sent to `Arafat (by Allah's order)
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حمس کے سوا بقیہ سب لوگ جاہلیت میں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے، حمس قریش اور اس کی آل اولاد کو کہتے تھے، ( اور بنی کنانہ وغیرہ، جیسے خزاعہ ) لوگوں کو ( اللہ کے واسطے ) کپڑے دیا کرتے تھے۔ ( قریش ) کے مرد دوسرے مردوں کو تاکہ انہیں پہن کر طواف کر سکیں اور ( قریش کی ) عورتیں دوسری عورتوں کو تاکہ وہ انہیں پہن کر طواف کر سکیں، اور جن کو قریش کپڑا نہیں دیتے وہ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے۔ دوسرے سب لوگ تو عرفات سے واپس ہوتے لیکن قریش مزدلفہ ہی سے ( جو حرم میں تھا ) واپس ہو جاتے۔ ہشام بن عروہ نے کہا کہ میرے باپ عروہ بن زبیر نے مجھے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ یہ آیت قریش کے بارے میں نازل ہوئی کہ ”پھر تم بھی ( قریش ) وہیں سے واپس آؤ جہاں سے اور لوگ واپس آتے ہیں“ ( یعنی عرفات سے، سورۃ البقرہ ) انہوں نے بیان کیا کہ قریش مزدلفہ ہی سے لوٹ آتے تھے اس لیے انہیں بھی عرفات سے لوٹنے کا حکم ہوا۔
Narrated by Ibn Shihab
قَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً، ابْتَاعَ ثَمَرًا قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهُ، ثُمَّ أَصَابَتْهُ عَاهَةٌ، كَانَ مَا أَصَابَهُ عَلَى رَبِّهِ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا، وَلاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ ".
Narrated Ibn Shihab:If somebody bought fruits before their benefit is evident and then the fruits were spoiled with blights, the loss would be suffered by the owner (not the buyer). Narrated Salim bin 'Abdullah from Ibn Umar: Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell or buy fruits before their benefit was evident and do not sell fresh fruits (dates) for dried dates
لیث نے کہا کہ مجھے سے یونس نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے اگر پختہ ہونے سے پہلے ہی ( درخت پر ) پھل خریدے، پھر ان پر کوئی آفت آ گئی تو جتنا نقصان ہوا، وہ سب اصل مالک کو بھرنا پڑے گا۔ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو نہ بیچو، اور نہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں بیچو۔
Narrated by `Abdullah bin Abi `Aufa
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَحْزَابِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ، اللَّهُمَّ اهْزِمِ الأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ ".
Narrated `Abdullah bin Abi `Aufa:Allah's Messenger (ﷺ) invoked evil upon the pagans on the ay (of the battle) of Al-Ahzab, saying, "O Allah! The Revealer of the Holy Book, the Swift-Taker of Accounts, O Allah, defeat Al-Ahzab (i.e. the clans), O Allah, defeat them and shake them
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی اور انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی «اللهم منزل الكتاب سريع الحساب، اللهم اهزم الأحزاب، اللهم اهزمهم وزلزلهم» ”اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے ( قیامت کے دن ) حساب بڑی سرعت سے لینے والے، اے اللہ! مشرکوں اور کفار کی جماعتوں کو ( جو مسلمانوں کا استیصال کرنے آئی ہیں ) شکست دے۔ اے اللہ! انہیں شکست دے اور انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دے۔“
Narrated by Rabi` bin Hirash
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ قَالَ عُقْبَةُ لِحُذَيْفَةَ أَلاَ تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ " إِنَّ رَجُلاً حَضَرَهُ الْمَوْتُ، لَمَّا أَيِسَ مِنَ الْحَيَاةِ، أَوْصَى أَهْلَهُ إِذَا مُتُّ فَاجْمَعُوا لِي حَطَبًا كَثِيرًا، ثُمَّ أَوْرُوا نَارًا حَتَّى إِذَا أَكَلَتْ لَحْمِي، وَخَلَصَتْ إِلَى عَظْمِي، فَخُذُوهَا فَاطْحَنُوهَا، فَذَرُّونِي فِي الْيَمِّ فِي يَوْمٍ حَارٍّ أَوْ رَاحٍ. فَجَمَعَهُ اللَّهُ، فَقَالَ لِمَ فَعَلْتَ قَالَ خَشْيَتَكَ. فَغَفَرَ لَهُ ". قَالَ عُقْبَةُ وَأَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ. حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ وَقَالَ " فِي يَوْمٍ رَاحٍ ".
Narrated Rabi` bin Hirash:`Uqba said to Hudhaifa, "Won't you narrate to us what you heard from Allah's Messenger (ﷺ) ?" Hudhaifa said, "I heard him saying, 'Death approached a man and when he had no hope of surviving, he said to his family, 'When I die, gather for me much wood and build a fire (to burn me),. When the fire has eaten my flesh and reached my bones, take the bones and grind them and scatter the resulting powder in the sea on a hot (or windy) day.' (That was done.) But Allah collected his particles and asked (him), 'Why did you do so?' He replied, 'For fear of You.' So Allah forgave him." Narrated `Abdul Malik: As above, saying, "On a windy day
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا، ہم سے ابوعوانہ نے ان سے عبدالملک بن عمیر نے، ان سے ربعی بن حراش نے بیان کیا کہ عقبہ بن عمرو ابومسعود انصاری نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیثیں سنی ہیں وہ آپ ہم سے کیوں بیان نہیں کرتے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا تھا کہ ایک شخص کی موت کا وقت جب قریب ہوا اور وہ زندگی سے بالکل ناامید ہو گیا تو اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ جب میری موت ہو جائے تو پہلے میرے لیے بہت سی لکڑیاں جمع کرنا اور اس سے آگ جلانا۔ جب آگ میرے جسم کو خاکستر بنا چکے اور صرف ہڈیاں باقی رہ جائیں تو ہڈیوں کو پیس لینا اور کسی سخت گرمی کے دن میں یا ( یوں فرمایا کہ ) سخت ہوا کے دن مجھ کو ہوا میں اڑا دینا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے جمع کیا اور پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے کہا کہ تیرے ہی ڈر سے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے یہ حدیث سنی ہے۔ ہم سے موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالملک نے بیان کیا اور کہا کہ اس روایت میں «في يوم راح» ہے ( سوا شک کے ) اس کے معنی بھی کسی تیز ہوا کے دن کے ہیں۔
Narrated by `Urwa
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَىَّ، يُحَدِّثُونَ عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ دِينَارًا يَشْتَرِي بِهِ شَاةً، فَاشْتَرَى لَهُ بِهِ شَاتَيْنِ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ وَجَاءَهُ بِدِينَارٍ وَشَاةٍ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ، وَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ. قَالَ سُفْيَانُ كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ جَاءَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْهُ، قَالَ سَمِعَهُ شَبِيبٌ مِنْ عُرْوَةَ، فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ شَبِيبٌ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَىَّ يُخْبِرُونَهُ عَنْهُ. وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ". قَالَ وَقَدْ رَأَيْتُ فِي دَارِهِ سَبْعِينَ فَرَسًا. قَالَ سُفْيَانُ يَشْتَرِي لَهُ شَاةً كَأَنَّهَا أُضْحِيَّةٌ.
Narrated `Urwa:That the Prophet (ﷺ) gave him one Dinar so as to buy a sheep for him. `Urwa bought two sheep for him with the money. Then he sold one of the sheep for one Dinar, and brought one Dinar and a sheep to the Prophet. On that, the Prophet (ﷺ) invoked Allah to bless him in his deals. So `Urwa used to gain (from any deal) even if he bought dust. (In another narration) `Urwa said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "There is always goodness in horses till the Day of Resurrection." (The subnarrator added, "I saw 70 horses in `Urwa's house.') (Sufyan said, "The Prophet (ﷺ) asked `Urwa to buy a sheep for him as a sacrifice
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ كَلْبٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ بَكْرٍ، فَلَمَّا هَاجَرَ أَبُو بَكْرٍ طَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا ابْنُ عَمِّهَا، هَذَا الشَّاعِرُ الَّذِي قَالَ هَذِهِ الْقَصِيدَةَ، رَثَى كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَمَاذَا بِالْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ مِنَ الشِّيزَى تُزَيَّنُ بِالسَّنَامِ وَمَاذَا بِالْقَلِيبِ، قَلِيبِ بَدْرٍ مِنَ الْقَيْنَاتِ وَالشَّرْبِ الْكِرَامِ تُحَيِّي بِالسَّلاَمَةِ أُمُّ بَكْرٍ وَهَلْ لِي بَعْدَ قَوْمِي مِنْ سَلاَمِ يُحَدِّثُنَا الرَّسُولُ بِأَنْ سَنَحْيَا وَكَيْفَ حَيَاةُ أَصْدَاءٍ وَهَامِ
Narrate Aisha:Abu Bakr married a woman from the tribe of Bani Kalb, called Um Bakr. When Abu Bakr migrated to Medina, he divorced her and she was married by her cousin, the poet who said the following poem lamenting the infidels of Quraish: "What is there kept in the well, The well of Badr, (The owners of) the trays of Roasted camel humps? What is there kept in the well, The well of Badr, (The owners of) lady singers And friends of the honorable companions; who used to drink (wine) together, Um Bakr greets us With the greeting of peace, But can I find peace After my people have gone? The Apostle tells us that We shall live again, But what sort of life will owls and skulls live?:
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنوکلب کی ایک عورت ام بکر نامی سے شادی کر لی تھی۔ پھر جب انہوں نے ہجرت کی تو اسے طلاق دے آئے۔ اس عورت سے پھر اس کے چچا زاد بھائی ( ابوبکر شداد بن اسود ) نے شادی کر لی تھی، یہ شخص شاعر تھا اور اسی نے یہ مشہور مرثیہ کفار قریش کے بارے میں کہا تھا ”مقام بدر کے کنوؤں کو میں کیا کہوں کہ انہوں نے ہمیں درخت شیزیٰ کے بڑے بڑے پیالوں سے محروم کر دیا جو کبھی اونٹ کے کوہان کے گوشت سے بہتر ہوا کرتے تھے، میں بدر کے کنوؤں کو کیا کہوں! انہوں نے ہمیں گانے والی لونڈیوں اور اچھے شرابیوں سے محروم کر دیا ام بکر تو مجھے سلامتی کی دعا دیتی رہی لیکن میری قوم کی بربادی کے بعد میرے لیے سلامتی کہاں ہے یہ رسول ہمیں دوبارہ زندگی کی خبریں بیان کرتا ہے۔ کہیں الو بن جانے کے بعد پھر زندگی کس طرح ممکن ہے۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَمَصًا شَدِيدًا، فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي فَقُلْتُ هَلْ عِنْدَكِ شَىْءٌ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمَصًا شَدِيدًا. فَأَخْرَجَتْ إِلَىَّ جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ، وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ فَذَبَحْتُهَا، وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ فَفَرَغَتْ إِلَى فَرَاغِي، وَقَطَّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا، ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ لاَ تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِمَنْ مَعَهُ. فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنَّا صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ عِنْدَنَا، فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ. فَصَاحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ، إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُورًا فَحَىَّ هَلاً بِكُمْ ". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ، وَلاَ تَخْبِزُنَّ عَجِينَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ ". فَجِئْتُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْدُمُ النَّاسَ حَتَّى جِئْتُ امْرَأَتِي، فَقَالَتْ بِكَ وَبِكَ. فَقُلْتُ قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ. فَأَخْرَجَتْ لَهُ عَجِينًا، فَبَصَقَ فِيهِ وَبَارَكَ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا فَبَصَقَ وَبَارَكَ ثُمَّ قَالَ " ادْعُ خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعِي وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلاَ تُنْزِلُوهَا"، وَهُمْ أَلْفٌ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ أَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ وَانْحَرَفُوا، وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ، وَإِنَّ عَجِينَنَا لَيُخْبَزُ كَمَا هُوَ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:When the Trench was dug, I saw the Prophet (ﷺ) in the state of severe hunger. So I returned to my wife and said, "Have you got anything (to eat), for I have seen Allah's Messenger (ﷺ) in a state of severe hunger." She brought out for me, a bag containing one Sa of barley, and we had a domestic she animal (i.e. a kid) which I slaughtered then, and my wife ground the barley and she finished at the time I finished my job (i.e. slaughtering the kid). Then I cut the meat into pieces and put it in an earthenware (cooking) pot, and returned to Allah's Messenger (ﷺ) . My wife said, "Do not disgrace me in front of Allah's Apostle and those who are with him." So I went to him and said to him secretly, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have slaughtered a she-animal (i.e. kid) of ours, and we have ground a Sa of barley which was with us. So please come, you and another person along with you." The Prophet (ﷺ) raised his voice and said, "O people of Trench ! Jabir has prepared a meal so let us go." Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "Don't put down your earthenware meat pot (from the fireplace) or bake your dough till I come." So I came (to my house) and Allah's Messenger (ﷺ) too, came, proceeding before the people. When I came to my wife, she said, "May Allah do so-and-so to you." I said, "I have told the Prophet (ﷺ) of what you said." Then she brought out to him (i.e. the Prophet (ﷺ) the dough, and he spat in it and invoked for Allah's Blessings in it. Then he proceeded towards our earthenware meat-pot and spat in it and invoked for Allah's Blessings in it. Then he said (to my wife). Call a lady-baker to bake along with you and keep on taking out scoops from your earthenware meat-pot, and do not put it down from its fireplace." They were onethousand (who took their meals), and by Allah they all ate, and when they left the food and went away, our earthenware pot was still bubbling (full of meat) as if it had not decreased, and our dough was still being baked as if nothing had been taken from it
مجھ سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم کو حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی، کہا ہم کو سعید بن میناء نے خبر دی، کہا میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب خندق کھودی جا رہی تھی تو میں نے معلوم کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی بھوک میں مبتلا ہیں۔ میں فوراً اپنی بیوی کے پاس آیا اور کہا کیا تمہارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے؟ میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی بھوکے ہیں۔ میری بیوی ایک تھیلا نکال کر لائیں جس میں ایک صاع جَو تھے۔ گھر میں ہمارا ایک بکری کا بچہ بھی بندھا ہوا تھا۔ میں نے بکری کے بچے کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو کو چکی میں پیسا۔ جب میں ذبح سے فارغ ہوا تو وہ بھی جَو پیس چکی تھیں۔ میں نے گوشت کی بوٹیاں کر کے ہانڈی میں رکھ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میری بیوی نے پہلے ہی تنبیہ کر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرنا۔ چنانچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے کان میں یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم نے ایک چھوٹا سا بچہ ذبح کر لیا ہے اور ایک صاع جَو پیس لیے ہیں جو ہمارے پاس تھے۔ اس لیے آپ دو ایک صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لے چلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت بلند آواز سے فرمایا کہ اے اہل خندق! جابر ( رضی اللہ عنہ ) نے تمہارے لیے کھانا تیار کروایا ہے۔ بس اب سارا کام چھوڑ دو اور جلدی چلے چلو۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک میں آ نہ جاؤں ہانڈی چولھے پر سے نہ اتارنا اور تب آٹے کی روٹی پکانی شروع کرنا۔ میں اپنے گھر آیا۔ ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ میں اپنی بیوی کے پاس آیا تو وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں۔ میں نے کہا کہ تم نے جو کچھ مجھ سے کہا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرض کر دیا تھا۔ آخر میری بیوی نے گندھا ہوا آٹا نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنے لعاب دہن کی آمیزش کر دی اور برکت کی دعا کی۔ ہانڈی میں بھی آپ نے لعاب کی آمیزش کی اور برکت کی دعا کی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب روٹی پکانے والی کو بلاؤ۔ وہ میرے سامنے روٹی پکائے اور گوشت ہانڈی سے نکالے لیکن چولھے سے ہانڈی نہ اتارنا۔ صحابہ کی تعداد ہزار کے قریب تھی۔ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ اتنے ہی کھانے کو سب نے ( شکم سیر ہو کر ) کھایا اور کھانا بچ بھی گیا۔ جب تمام لوگ واپس ہو گئے تو ہماری ہانڈی اسی طرح ابل رہی تھی جس طرح شروع میں تھی اور آٹے کی روٹیاں برابر پکائی جا رہی تھیں۔
Narrated by Aisha
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْكَرْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَرَأَيْتُ عَمْرًا يَجُرُّ قُصْبَهُ، وَهْوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ ".
Narrated Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) said, "I saw Hell and its different portions were consuming each other and saw `Amr dragging his intestines (in it), and he was the first person to establish the tradition of letting animals loose (for the idols)
مجھ سے محمد بن ابی یعقوب ابوعبداللہ کرمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے حسان بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں کو کھائے جا رہے ہیں اور میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں اس میں گھسیٹا پھر رہا تھا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنے کی رسم ایجاد کی تھی۔
Narrated by `Aun bin Abi Juhaifa
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْهَاجِرَةِ، فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ، وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ يَمُرُّونَ مِنْ وَرَائِهَا.
Narrated `Aun bin Abi Juhaifa:that he had heard his father saying, "Allah's Messenger (ﷺ) came to us at midday and water was brought for his ablution. He performed ablution and led us in Zuhr and `Asr prayers with a short spear (or stick) planted in front of him (as a Sutra), while women and donkeys were passing beyond it
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عون بن ابی حجیفہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ ابوحجیفہ وہب بن عبداللہ سے سنا انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وضو کا پانی پیش کیا گیا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ پھر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور عصر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عنزہ گاڑ دیا گیا تھا اور عورتیں اور گدھے پر سوار لوگ اس کے پیچھے سے گزر رہے تھے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ قَالَ السُّنَّةُ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا.
Narrated Anas:The tradition, (of the Prophet) is that if someone marries a virgin and he has already a matron wife (with him), then he should stay with the virgin for seven days; and if someone marries a matron (and he has already a virgin wife with him) then he should stay with her for three days
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے، ان سے خالد حذاء نے، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے (راوی ابوقلابہ یا انس رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آنے والی حدیث ) ارشاد فرمائی۔ لیکن بیان کیا کہ دستور یہ ہے کہ جب کنواری سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات دن تک رہنا چاہئے اور جب بیوہ سے شادی کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک رہنا چاہئے۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ تَعَالَى، مَالِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ}.
Narrated `Abdullah:Allah has cursed those women who practise tattooing and those who get themselves tattooed, and those who remove their face hairs, and those who create a space between their teeth artificially to look beautiful, and such women as change the features created by Allah. Why then should I not curse those whom the Prophet (ﷺ) has cursed? And that is in Allah's Book. i.e. His Saying: 'And what the Apostle gives you take it and what he forbids you abstain (from it)
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ اللہ تعالیٰ نے حسن کے لیے گودنے والیوں، گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والیوں پر، جو اللہ کی خلقت کو بدلیں ان سب پر لعنت بھیجی ہے، میں بھی کیوں نہ ان لوگوں پر لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور اس کی دلیل کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت خود قرآن مجید میں موجود ہے۔ آیت «وما آتاكم الرسول فخذوه» ہے۔
Narrated by Abu Sa`id
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مَوْلَى، أَنَسٍ ـ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي عُتْبَةَ ـ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا.
Narrated Abu Sa`id:The Prophet (ﷺ) was more shy (from Haya': pious shyness from committing religeous indiscretions) than a veiled virgin girl. (See Hadith No. 762, Vol)
ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے، انہیں انس رضی اللہ عنہ کے غلام قتادہ نے، ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ان کا نام عبداللہ بن ابی عتبہ ہے، میں نے ابوسعید سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیاء والے تھے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الأَرْضِ مِنْ شَىْءٍ أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ. فَيَقُولُ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لاَ تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلاَّ أَنْ تُشْرِكَ بِي ".
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say to the person who will have the minimum punishment in the Fire on the Day of Resurrection, 'If you had things equal to whatever is on the earth, would you ransom yourself (from the punishment) with it?' He will reply, Yes. Allah will say, 'I asked you a much easier thing than this while you were in the backbone of Adam, that is, not to worship others besides Me, but you refused and insisted to worship others besides Me
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے بیان کیا، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوزخ کے سب سے کم عذاب پانے والے سے پوچھے گا اگر تمہیں روئے زمین کی ساری چیزیں میسر ہوں تو کیا تم ان کو فدیہ میں ( اس عذاب سے نجات پانے کے لیے ) دے دو گے، وہ کہے گا کہ ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تم سے اس سے بھی سہل چیز کا اس وقت مطالبہ کیا تھا جب تم آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا لیکن تم نے ( توحید کا ) انکار کیا اور نہ مانا آخر شرک ہی کیا۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ فَقَالَ " شَغَلَتْنِي أَعْلاَمُ هَذِهِ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةٍ ".
Narrated `Aisha:Once the Prophet (ﷺ) prayed on a Khamisa with marks on it and said, "The marks on it diverted my attention, take this Khamisa to Abu Jahm and bring an Inbijaniya (from him)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی۔ پھر فرمایا کہ اس کے نقش و نگار نے مجھے غافل کر دیا۔ اسے لے جا کر ابوجہم کو واپس کر دو اور ان سے ( بجائے اس کے ) سادی چادر مانگ لاؤ۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ، أَوْ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ، كَثِيرَةٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ قَلِيلَةٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَتَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ قَالَ الآخَرُ يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا وَلاَ يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا وَقَالَ الآخَرُ إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلاَ أَبْصَارُكُمْ وَلاَ جُلُودُكُمْ} الآيَةَ.
Narrated `Abdullah:Two person of Bani Thaqif and one from Quraish (or two persons from Quraish and one from Bani Thaqif) who had fat bellies but little wisdom, met near the Ka`ba. One of them said, "Did you see that Allah hears what we say? " The other said, "He hears us if we speak aloud, but He does not hear if we speak in stealthy quietness (softly)." The third fellow said, "If He hears when we speak aloud, then He surely hears us if we speak in stealthy quietness (softly)." So Allah revealed the Verse:-- 'And you have not been screening against yourselves, lest your ears, and your eyes and your skins should testify against you
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے منصور نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، ان سے ابومعمر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خانہ کعبہ کے پاس دو ثقفی اور ایک قریشی یا ( یہ کہا کہ ) دو قریشی اور ایک ثقفی جمع ہوئے جن کے پیٹ کی چربی بہت تھی ( توند بڑی تھی ) اور جن میں سوجھ بوجھ کی بڑی کمی تھی۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ وہ سب کچھ سنتا ہے جو ہم کہتے ہیں۔ دوسرے نے کہا کہ جب ہم زور سے بولتے ہیں تو سنتا ہے لیکن اگر ہم آہستہ بولیں تو نہیں سنتا۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی «وما كنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم ولا جلودكم» ”تم جو دنیا میں چھپ کر گناہ کرتے تھے تو اس ڈر سے نہیں کہ تیرے کان تمہاری آنکھیں اور تمہارے چمڑے تمہارے خلاف قیامت کے دن گواہی دیں گے“ آخر تک۔