Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ هِشَامٍ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَتَعَذَّرُ فِي مَرَضِهِ " أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ أَيْنَ أَنَا غَدًا " اسْتِبْطَاءً لِيَوْمِ عَائِشَةَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي قَبَضَهُ اللَّهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَدُفِنَ فِي بَيْتِي.
Narrated `Aisha:During his sickness, Allah's Messenger (ﷺ) was asking repeatedly, "Where am I today? Where will I be tomorrow?" And I was waiting for the day of my turn (impatiently). Then, when my turn came, Allah took his soul away (in my lap) between my chest and arms and he was buried in my house
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا اور ان سے ہشام بن عروہ نے (دوسری سند۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابومروان یحییٰ بن ابی زکریا نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں گویا اجازت لینا چاہتے تھے ( دریافت فرماتے ) آج میری باری کن کے یہاں ہے۔ کل کن کے یہاں ہو گی؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن کے متعلق خیال فرماتے تھے کہ بہت دن بعد آئے گی۔ چنانچہ جب میری باری آئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اس حال میں قبض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور میرے ہی گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دفن کئے گئے۔
Narrated by Salim
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ كَتَبَ عَبْدُ الْمَلِكِ إِلَى الْحَجَّاجِ أَنْ لاَ يُخَالِفَ ابْنَ عُمَرَ فِي الْحَجِّ، فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَ عَرَفَةَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَصَاحَ عِنْدَ سُرَادِقِ الْحَجَّاجِ، فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ مِلْحَفَةٌ مُعَصْفَرَةٌ فَقَالَ مَا لَكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ الرَّوَاحَ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ. قَالَ هَذِهِ السَّاعَةَ قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَأَنْظِرْنِي حَتَّى أُفِيضَ عَلَى رَأْسِي ثُمَّ أَخْرُجَ. فَنَزَلَ حَتَّى خَرَجَ الْحَجَّاجُ، فَسَارَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي، فَقُلْتُ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَاقْصُرِ الْخُطْبَةَ وَعَجِّلِ الْوُقُوفَ. فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ صَدَقَ.
Narrated Salim:`Abdul Malik wrote to Al-Hajjaj that he should not differ from Ibn `Umar during Hajj. On the Day of `Arafat, when the sun declined at midday, Ibn `Umar came along with me and shouted near Al- Hajjaj's cotton (cloth) tent. Al-Hajjaj came Out, wrapping himself with a waist-sheet dyed with safflower, and said, "O Abu `Abdur-Rahman! What is the matter?" He said, If you want to follow the Sunna (the tradition of the Prophet (ﷺ) ) then proceed (to `Arafat)." Al-Hajjaj asked, "At this very hour?" Ibn `Umar said, "Yes." He replied, "Please wait for me till I pour some water over my head (i.e. take a bath) and come out." Then Ibn `Umar dismounted and waited till Al-Hajjaj came out. So, he (Al-Hajjaj) walked in between me and my father (Ibn `Umar). I said to him, "If you want to follow the Sunna then deliver a brief sermon and hurry up for the stay at `Arafat." He started looking at `Abdullah (Ibn `Umar) (inquiringly), and when `Abdullah noticed that, he said that he had told the truth
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے اور ان سے سالم نے بیان کیا کہ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو لکھا کہ حج کے احکام میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے خلاف نہ کرے۔ سالم نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرفہ کے دن سورج ڈھلتے ہی تشریف لائے میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ آپ نے حجاج کے خیمہ کے پاس بلند آواز سے پکارا۔ حجاج باہر نکلا اس کے بدن میں ایک کسم میں رنگی ہوئی چادر تھی۔ اس نے پوچھا ابوعبدالرحمٰن! کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا اگر سنت کے مطابق عمل چاہتے ہو تو جلدی اٹھ کر چل کھڑے ہو جاؤ۔ اس نے کہا کیا اسی وقت؟ عبداللہ نے فرمایا کہ ہاں اسی وقت۔ حجاج نے کہا کہ پھر تھوڑی سی مہلت دیجئیے کہ میں اپنے سر پر پانی ڈال لوں یعنی غسل کر لوں پھر نکلتا ہوں۔ اس کے بعد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( سواری سے ) اتر گئے اور جب حجاج باہر آیا تو میرے اور والد ( ابن عمر ) کے درمیان چلنے لگا تو میں نے کہا کہ اگر سنت پر عمل کا ارادہ ہے تو خطبہ میں اختصار اور وقوف ( عرفات ) میں جلدی کرنا۔ اس بات پر وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھنے لگا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ سچ کہتا ہے۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) forbade the sale of fruits till their benefit is evident. He forbade both the seller and the buyer (such sale)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو تھی۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا التُّرْكَ صِغَارَ الأَعْيُنِ، حُمْرَ الْوُجُوهِ، ذُلْفَ الأُنُوفِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطَرَّقَةُ، وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The Hour will not be established until you fight with the Turks; people with small eyes, red faces, and flat noses. Their faces will look like shields coated with leather. The Hour will not be established till you fight with people whose shoes are made of hair
ہم سے سعید بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کر لو گے، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، چہرے سرخ ہوں گے، ناک موٹی پھیلی ہوئی ہو گی، ان کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بند چمڑا لگی ہوئی ہوتی ہے اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کر لو گے جن کے جوتے بال کے بنے ہوئے ہوں گے۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الطَّاعُونِ، فَأَخْبَرَنِي " أَنَّهُ عَذَابٌ يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، وَأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، يَعْلَمُ أَنَّهُ لاَ يُصِيبُهُ إِلاَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، إِلاَّ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ ".
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) I asked Allah's Messenger (ﷺ) about the plague. He told me that it was a Punishment sent by Allah on whom He wished, and Allah made it a source of mercy for the believers, for if one in the time of an epidemic plague stays in his country patiently hoping for Allah's Reward and believing that nothing will befall him except what Allah has written for him, he will get the reward of a martyr
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے داؤد بن ابی فرات نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن یعمر نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک عذاب ہے، اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے بھیجتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو مومنوں کے لیے رحمت بنا دیا ہے۔ اگر کسی شخص کی بستی میں طاعون پھیل جائے اور وہ صبر کے ساتھ اللہ کی رحمت سے امید لگائے ہوئے وہیں ٹھہرا رہے کہ ہو گا وہی جو اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھا ہے تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،. وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً، فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ.
Narrated Anas:That the Meccan people requested Allah's Messenger (ﷺ) to show them a miracle, and so he showed them the splitting of the moon
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ انہیں کوئی معجزہ دکھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شق قمر کا معجزہ یعنی چاند کا پھٹ جانا ان کو دکھایا۔
Narrated by Abu `Uthman
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ ـ أَوْ بَلَغَنِي عَنْهُ ـ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ إِذَا قِيلَ لَهُ هَاجَرَ قَبْلَ أَبِيهِ يَغْضَبُ، قَالَ وَقَدِمْتُ أَنَا وَعُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدْنَاهُ قَائِلاً فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَنْزِلِ، فَأَرْسَلَنِي عُمَرُ وَقَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ هَلِ اسْتَيْقَظَ فَأَتَيْتُهُ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَبَايَعْتُهُ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى عُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ قَدِ اسْتَيْقَظَ، فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ نُهَرْوِلُ هَرْوَلَةً حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَبَايَعَهُ ثُمَّ بَايَعْتُهُ.
Narrated Abu `Uthman:I heard that Ibn `Umar used to become angry if someone mentioned that he had migrated before his father (`Umar), and he used to say, " `Umar and I came to Allah's Messenger (ﷺ) and found him having his midday rest, so we returned home. Then `Umar sent me again (to the Prophet (ﷺ) ) and said, 'Go and see whether he is awake.' I went to him and entered his place and gave him the pledge of allegiance. Then I went back to `Umar and informed him that the Prophet (ﷺ) was awake. So we both went, running slowly, and when `Umar entered his place, he gave him the pledge of allegiance and thereafter I too gave him the pledge of allegiance
مجھ سے محمد بن صباح نے خود بیان کیا یا ان سے کسی اور نے نقل کر کے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے، ان سے عاصم احول نے، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے میں نے سنا کہ جب ان سے کہا جاتا کہ تم نے اپنے والد سے پہلے ہجرت کی تو وہ غصہ ہو جایا کرتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے، اس لیے ہم گھر واپس آ گئے پھر عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا اور فرمایا کہ جا کر دیکھ آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیدار ہوئے یا نہیں چنانچہ میں آیا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو چکے تھے ) اس لیے اندر چلا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی پھر میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے کی خبر دی۔ اس کے بعد ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے عمر رضی اللہ عنہ بھی اندر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور میں نے بھی ( دوبارہ ) بیعت کی۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهْوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْهُ، وَعَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهْوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَهُ.
Narrated Ibn `Umar:That the Prophet (ﷺ) inspected him on the day of Uhud while he was fourteen years old, and the Prophet (ﷺ) did not allow him to take part in the battle. He was inspected again by the Prophet (ﷺ) on the day of Al- Khandaq (i.e. battle of the Trench) while he was fifteen years old, and the Prophet (ﷺ) allowed him to take Part in the battle
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے آپ کو انہوں نے غزوہ احد کے موقع پر پیش کیا ( تاکہ لڑنے والوں میں انہیں بھی بھرتی کر لیا جائے ) اس وقت وہ چودہ سال کے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت نہیں دی۔ لیکن غزوہ خندق کے موقع پر جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے کو پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منظور فرما لیا۔ اس وقت وہ پندرہ سال کی عمر کے تھے۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، وَابْنُ، إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ عَلَى مِنْبَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهْىَ مِنْ خَمْسَةٍ، مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ.
Narrated Ibn `Umar:I heard `Umar while he was on the pulpit of the Prophet (ﷺ) saying, "Now then O people! The revelation about the prohibition of alcoholic drinks was revealed; and alcoholic drinks are extracted from five things: Grapes, dates, honey, wheat and barley. And the alcoholic drink is that which confuses and stupefies the mind
ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عیسیٰ اور ابن ادریس نے خبر دی، انہیں ابوحیان نے، انہیں شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر کھڑے فرما رہے تھے۔ امابعد! اے لوگو! جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ پانچ چیزوں سے تیار کی جاتی تھی۔ انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جَو سے اور شراب ہر وہ پینے کی چیز ہے جو عقل کو زائل کر دے۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ، فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الأُمَرَاءُ.
Narrated Ibn `Umar:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) came out on `Id day, he used to order that a Harba [??] (a short spear) to be planted in front of him (as a Sutra for his prayer) and then he used to pray facing it with the people behind him and used to do the same while on a journey. After the Prophet (ﷺ) , this practice was adopted by the Muslim rulers (who followed his traditions)
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عمر نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا۔ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن ( مدینہ سے ) باہر تشریف لے جاتے تو چھوٹے نیزہ ( برچھا ) کو گاڑنے کا حکم دیتے وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے گاڑ دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوتے۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں بھی کیا کرتے تھے۔ ( مسلمانوں کے ) خلفاء نے اسی وجہ سے برچھا ساتھ رکھنے کی عادت بنا لی ہے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Jabir:We used to practice coitus interruptus during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم عزل کیا کرتے تھے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ مَا اسْتَطَاعَ فِي تَرَجُّلِهِ وَوُضُوئِهِ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to like to start from the right side as far as possible in combing and in performing ablution
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اشعث بن سلیم نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر کام میں جہاں تک ممکن ہوتا داہنی طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے، کنگھا کرنے اور وضو کرنے میں بھی۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The strong is not the one who overcomes the people by his strength, but the strong is the one who controls himself while in anger
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پہلوان وہ نہیں ہے جو کشتی لڑنے میں غالب ہو جائے بلکہ اصلی پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پائے بے قابو نہ ہو جائے۔“
Narrated by Sahl bin Sa'd
وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ، لاَ يَقْطَعُهَا ".
Narrated Sahl bin Sa'd: Allah's Messenger (ﷺ) said, "In Paradise there is a tree so big that in its shade a rider may travel for one hundred years without being able to cross it
اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مغیرہ بن سلمہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سو سال تک چلنے کے بعد بھی اسے طے نہیں کر سکے گا۔“
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، يَخْطُبُ قَالَ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ، وَكَانَ، غَيْرَ كَذُوبٍ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا صَلَّوْا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَرَوْنَهُ قَدْ سَجَدَ.
Narrated Al-Bara:(And Al-Bara was not a liar) Whenever we offered prayer with the Prophet (ﷺ) and he raised his head from the bowing, we used to remain standing till we saw him prostrating
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابواسحاق عمرو بن عبداللہ سبیعی نے خبر دی، کہا کہ میں نے عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے بیان کیا کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور وہ جھوٹے نہیں تھے کہ جب وہ ( صحابہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک دیکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں چلے گئے ہیں ( اس وقت وہ بھی سجدے میں جاتے ) ۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُجْمَعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُونَ لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا، فَيُرِيحُنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا. فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ لَهُ أَنْتَ آدَمُ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ الْمَلاَئِكَةَ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَىْءٍ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا. فَيَقُولُ لَهُمْ لَسْتُ هُنَاكُمْ. فَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ".
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The believers will be assembled on the Day of Resurrection and they will say, 'Let us look for someone to intercede for us with our Lord so that He may relieve us from this place of ours.' So they will go to Adam and say, 'You are Adam, the father of mankind, and Allah created you with His Own Hands and ordered the Angels to prostrate before you, and He taught you the names of all things; so please intercede for us with our Lord so that He may relieve us.' Adam will say, to them, 'I am not fit for that,' and then he will mention to them his mistake which he has committed
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایمان والے قیامت کے دن جمع کئے جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ کاش کوئی ہماری شفاعت کرتا تاکہ ہم اپنی اس حالت سے نجات پاتے، چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ آدم ہیں انسانوں کے پردادا۔ اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم دیا اور ہر چیز کے نام آپ کو سکھائے پس آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کریں، آپ جواب دیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں اور آپ اپنی غلطی انہیں یاد دلائیں گے جو آپ سے سرزد ہوئی تھی۔“