بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
23
16 hadith
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏
Narrated Al-Bara':When Ibrahim (the son of Prophet) expired, Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is a wet-nurse for him in Paradise
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے فرمایا کہ جب ابراہیم ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ) کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہشت میں ان کے لیے ایک دودھ پلانے والی ہے۔
Narrated by `Abdul `Aziz bin Rufai
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قُلْتُ أَخْبِرْنِي بِشَىْءٍ، عَقَلْتَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ قَالَ بِمِنًى‏.‏ قُلْتُ فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ بِالأَبْطَحِ‏.‏ ثُمَّ قَالَ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ‏.‏
Narrated `Abdul `Aziz bin Rufai:I asked Anas bin Malik, "Tell me what you remember from Allah's Messenger (ﷺ) (regarding these questions): Where did he offer the Zuhr and `Asr prayers on the day of Tarwiya (8th day of Dhul-Hijja)?" He replied, "(He offered these prayers) at Mina." I asked, "Where did he offer the `Asr prayer on the day of Nafr (i.e. departure from Mina on the 12th or 13th of Dhul-Hijja)?" He replied, "At Al-Abtah," and then added, "You should do as your chiefs do
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسحاق ازرق نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عبدالعزیز بن رفیع کے واسطے سے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نماز آٹھویں ذی الحجہ میں کہاں پڑھی تھی؟ اگر آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد ہے تو مجھے بتائیے۔ انہوں نے جواب دیا کہ منیٰ میں۔ میں نے پوچھا کہ بارہویں تاریخ کو عصر کہاں پڑھی تھی؟ فرمایا کہ محصب میں۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ جس طرح تمہارے حکام کرتے ہیں اسی طرح تم بھی کرو۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) forbade Muzabana and Muhaqala
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاویہ نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ قَالَ رَخَّصَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي حَرِيرٍ‏.‏
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) allowed `Abdur-Rahman bin `Auf and Az-Zubair bin Al-`Awwam to wear silk
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، انہیں قتادہ نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت دے دی تھی۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكِيَّةٍ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ، إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَسَقَتْهُ، فَغُفِرَ لَهَا بِهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "While a dog was going round a well and was about to die of thirst, an Israeli prostitute saw it and took off her shoe and watered it. So Allah forgave her because of that good deed
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے جریر بن حازم نے خبر دی، انہیں ایوب نے اور انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ”ایک کتا ایک کنویں کے چاروں طرف چکر کاٹ رہا تھا جیسے پیاس کی شدت سے اس کی جان نکل جانے والی ہو کہ بنی اسرائیل کی ایک زانیہ عورت نے اسے دیکھ لیا۔ اس عورت نے اپنا موزہ اتار کر کتے کو پانی پلایا اور اس کی مغفرت اسی عمل کی وجہ سے ہو گئی۔“
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَعَى جَعْفَرًا وَزَيْدًا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ خَبَرُهُمْ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) had informed us of the death of Ja`far and Zaid before the news of their death reached us, and his eyes were shedding tears
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر بن ابی طالب اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کی شہادت کی خبر پہلے ہی صحابہ کو سنا دی تھی، اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
Narrated by Asma
حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ بِقُبَاءٍ، فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ، فَمَضَغَهَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ حَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الإِسْلاَمِ‏.‏ تَابَعَهُ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ حُبْلَى‏.‏
Narrated Asma:That she conceived `Abdullah bin Az-Zubair. She added, "I migrated to Medina while I was at full term of pregnancy and alighted at Quba where I gave birth to him. Then I brought him to the Prophet (ﷺ) and put him in his lap. The Prophet (ﷺ) asked for a date, chewed it, and put some of its juice in the child's mouth. So, the first thing that entered the child's stomach was the saliva of Allah's Messenger (ﷺ). Then the Prophet rubbed the child's palate with a date and invoked for Allah's Blessings on him, and he was the first child born amongst the Emigrants in the Islamic Land (i.e. Medina)
مجھ سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ان کے پیٹ میں تھے، انہیں دنوں جب حمل کی مدت بھی پوری ہو چکی تھی، میں مدینہ کے لیے روانہ ہوئی یہاں پہنچ کر میں نے قباء میں پڑاؤ کیا اور یہیں عبداللہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ پھر میں انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کی گود میں اسے رکھ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور طلب فرمائی اور اسے چبا کر آپ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کے منہ میں اسے رکھ دیا۔ چنانچہ سب سے پہلی چیز جو عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک لعاب تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی اور اللہ سے ان کے لیے برکت طلب کی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے بچے ہیں جن کی پیدائش ہجرت کے بعد ہوئی۔ زکریا کے ساتھ اس روایت کی متابعت خالد بن مخلد نے کی ہے۔ ان سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کو نکلیں تھیں تو وہ حاملہ تھیں۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رِعْلاً، وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَبَنِي لَحْيَانَ اسْتَمَدُّوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَدُوٍّ، فَأَمَدَّهُمْ بِسَبْعِينَ مِنَ الأَنْصَارِ، كُنَّا نُسَمِّيهِمُ الْقُرَّاءَ فِي زَمَانِهِمْ، كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ، حَتَّى كَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قَتَلُوهُمْ، وَغَدَرُوا بِهِمْ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، فَقَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو فِي الصُّبْحِ عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَبَنِي لَحْيَانَ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَقَرَأْنَا فِيهِمْ قُرْآنًا ثُمِّ إِنَّ ذَلِكَ رُفِعَ بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا، أَنَّا لَقِينَا رَبَّنَا، فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا‏.‏ وَعَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ شَهْرًا فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَبَنِي لَحْيَانَ‏.‏ زَادَ خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، أَنَّ أُولَئِكَ السَّبْعِينَ، مِنَ الأَنْصَارِ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ، قُرْآنًا كِتَابًا‏.‏ نَحْوَهُ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:(The tribes of) Ril, Dhakwan, 'Usaiya and Bani Lihyan asked Allah's Messenger (ﷺ) to provide them with some men to support them against their enemy. He therefore provided them with seventy men from the Ansar whom we used to call Al-Qurra' in their lifetime. They used to collect wood by daytime and pray at night. When they were at the well of Ma'una, the infidels killed them by betraying them. When this news reached the Prophet (ﷺ) , he said Al-Qunut for one month In the morning prayer, invoking evil upon some of the 'Arab tribes, upon Ril, Dhakwan, 'Usaiya and Bani Lihyan. We used to read a verse of the Qur'an revealed in their connection, but later the verse was cancelled. It was: "convey to our people on our behalf the information that we have met our Lord, and He is pleased with us, and has made us pleased." (Anas bin Malik added:) Allah's Prophet said Qunut for one month in the morning prayer, invoking evil upon some of the 'Arab tribes (namely), Ril, Dhakwan, Usaiya, and Bani Lihyan. (Anas added:) Those seventy Ansari men were killed at the well of Mauna
مجھ سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دشمنوں کے مقابل مدد چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر انصاری صحابہ کو ان کی کمک کے لیے روانہ کیا۔ ہم ان حضرات کو قاری کہا کرتے تھے۔ اپنی زندگی میں معاش کے لیے دن میں لکڑیاں جمع کرتے تھے اور رات میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ جب یہ حضرات بئرمعونہ پر پہنچے تو ان قبیلے والوں نے انہیں دھوکا دیا اور انہیں شہید کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے صبح کی نماز میں ایک مہینے تک بددعا کی۔ عرب کے انہیں چند قبائل رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے لیے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان صحابہ کے بارے میں قرآن میں ( آیت نازل ہوئی اور ) ہم اس کی تلاوت کرتے تھے۔ پھر وہ آیت منسوخ ہو گئی ( آیت کا ترجمہ ) ”ہماری طرف سے ہماری قوم ( مسلمانوں ) کو خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب کے پاس آ گئے ہیں۔ ہمارا رب ہم سے راضی ہے اور ہمیں بھی ( اپنی نعمتوں سے ) اس نے خوش رکھا ہے۔“ اور قتادہ سے روایت ہے ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک صبح کی نماز میں، عرب کے چند قبائل یعنی رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے لیے بددعا کی تھی۔ خلیفہ بن خیاط ( امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ) نے یہ اضافہ کیا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ستر صحابہ قبیلہ انصار سے تھے اور انہیں بئرمعونہ کے پاس شہید کر دیا گیا تھا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَقَدْ كَذَبَ، وَاللَّهُ يَقُولُ ‏{‏يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ‏}‏ الآيَةَ‏.‏
Narrated `Aisha:Whoever tells that Muhammad concealed part of what was revealed to him, is a liar, for Allah says:-- "O Apostle (Muhammad)! Proclaim (the Message) which has been sent down to you from your Lord
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے شعبی نے، ان سے مسروق نے کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، جو شخص بھی تم سے یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل کیا تھا، اس میں سے آپ نے کچھ چھپا لیا تھا، تو وہ جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك‏» کہ ”اے پیغمبر! جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے، یہ ( سب ) آپ ( لوگوں تک ) پہنچا دیں۔“
وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْزِلُ تَحْتَ سَرْحَةٍ ضَخْمَةٍ دُونَ الرُّوَيْثَةِ عَنْ يَمِينِ الطَّرِيقِ، وَوِجَاهَ الطَّرِيقِ فِي مَكَانٍ بَطْحٍ سَهْلٍ، حَتَّى يُفْضِيَ مِنْ أَكَمَةٍ دُوَيْنَ بَرِيدِ الرُّوَيْثَةِ بِمِيلَيْنِ، وَقَدِ انْكَسَرَ أَعْلاَهَا، فَانْثَنَى فِي جَوْفِهَا، وَهِيَ قَائِمَةٌ عَلَى سَاقٍ، وَفِي سَاقِهَا كُثُبٌ كَثِيرَةٌ‏.‏
See translation for hadith 484 above
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے کے دائیں طرف مقابل میں ایک گھنے درخت کے نیچے وسیع اور نرم علاقہ میں قیام فرماتے جو قریہ رویثہ کے قریب ہے۔ پھر آپ اس ٹیلہ سے جو رویثہ کے راستے سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر ہے چلتے تھے۔ اب اس درخت کا اوپر کا حصہ ٹوٹ گیا ہے۔ اور درمیان میں سے دوہرا ہو کر جڑ پر کھڑا ہے۔ اس کی جڑ میں ریت کے بہت سے ٹیلے ہیں۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالأَمِيرُ رَاعٍ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "All of you are guardians and are responsible for your wards. The ruler is a guardian and the man is a guardian of his family; the lady is a guardian and is responsible for her husband's house and his offspring; and so all of you are guardians and are responsible for your wards
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ امیر ( حاکم ) ہے، مرد اپنے گھر والوں پر حاکم ہے۔ عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر حاکم ہے۔ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ عَنْبَسَةَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ خَالَتِي، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا ـ قَالَ ـ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ـ قَالَ ـ فَأَخَذَ بِذُؤَابَتِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ‏.‏ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، بِهَذَا، وَقَالَ بِذُؤَابَتِي أَوْ بِرَأْسِي‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:Once I stayed overnight in the house of my aunt Maimuna bint Al-Harith and Allah's Messenger (ﷺ) was with her as it was her turn. Allah's Messenger (ﷺ) got up to offer the night prayer. I stood on his left but he took hold of my two locks of hair and made me stand on his right. Narrated Abu Bishr: (the above Hadith) but he quoted: Ibn `Abbas said, (took hold of) my two braids on my head
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے فضل بن عنبسہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشیم بن بشیر نے خبر دی، کہا ہم کو ابوالبشر جعفر نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے قریبہ بن سعید نے کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس رات انہیں کے ہاں باری تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر کے بالوں کی ایک لٹ پکڑی اور مجھے اپنی داہنی طرف کر دیا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى‏.‏ فَلْيَقُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said: "Whoever amongst you swears, (saying by error) in his oath 'By Al-Lat and Al- Uzza', then he should say, 'None has the right to be worshipped but Allah.' And whoever says to his companions, 'Come let me gamble' with you, then he must give something in charity (as an expiation for such a sin)." (See Hadith No)
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوالمغیرہ نے خبر دی، کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جس نے لات، عزیٰ کی ( یا دوسرے بتوں کی ) قسم کھائی تو اسے «لا إله إلا الله‏.‏» پڑھنا چاہیئے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے بطور کفارہ صدقہ دینا چاہیئے۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يُقَالُ لأَهْلِ الْجَنَّةِ خُلُودٌ لاَ مَوْتَ‏.‏ وَلأَهْلِ النَّارِ يَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ لاَ مَوْتَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, " It will be said to the people of Paradise, 'O people of Paradise! Eternity (for you) and no death,' and to the people of the Fire, 'O people of the Fire, eternity (for you) and no death
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اہل جنت سے کہا جائے گا کہ اے اہل جنت! ہمیشہ ( تمہیں یہیں ) رہنا ہے، تمہیں موت نہیں آئے گی اور اہل دوزخ سے کہا جائے گا کہ اے دوزخ والو! ہمیشہ ( تم کو یہیں ) رہنا ہے، تم کو موت نہیں آئے گی۔“
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلاَةِ‏.‏ قَالَ أَبُو حَازِمٍ لاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ يَنْمِي ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ إِسْمَاعِيلُ يُنْمَى ذَلِكَ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ يَنْمِي‏.‏
Narrated Sahl bin Sa`d:The people were ordered to place the right hand on the left forearm in the prayer. Abu Hazim said, "I knew that the order was from the Prophet (ﷺ)
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک رحمہ اللہ سے، انہوں نے ابوحازم بن دینار سے، انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھیں، ابوحازم بن دینار نے بیان کیا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے۔ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی جاتی تھی یوں نہیں کہا کہ پہنچاتے تھے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ شُفِّعْتُ، فَقُلْتُ يَا رَبِّ أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ خَرْدَلَةٌ‏.‏ فَيَدْخُلُونَ، ثُمَّ أَقُولُ أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَنَسٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated Anas:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "On the Day of Resurrection I will intercede and say, "O my Lord! Admit into Paradise (even) those who have faith equal to a mustard seed in their hearts." Such people will enter Paradise, and then I will say, 'O (Allah) admit into Paradise (even) those who have the least amount of faith in their hearts." Anas then said: As if I were just now looking at the fingers of Allah's Apostle
ہم سے یوسف بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن عبداللہ یربوعی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے، ان سے حمید نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے رب! جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو اس کو بھی جنت میں داخل فرما دے۔ ایسے لوگ جنت میں داخل کر دئیے جائیں گے۔ میں پھر عرض کروں گا: اے رب! جنت میں اسے بھی داخل کر دے جس کے دل میں معمولی سا بھی ایمان ہو۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گویا میں اس وقت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کی طرف دیکھ رہا ہوں۔