Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ قَالَ اطَّلَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَهْلِ الْقَلِيبِ فَقَالَ " وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ". فَقِيلَ لَهُ تَدْعُو أَمْوَاتًا فَقَالَ " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لاَ يُجِيبُونَ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) looked at the people of the well (the well in which the bodies of the pagans killed in the Battle of Badr were thrown) and said, "Have you found true what your Lord promised you?" Somebody said to him, "You are addressing dead people." He replied, "You do not hear better than they but they cannot reply
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے ‘ ان سے ان کے والد نے ‘ ان سے صالح نے ‘ ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں والوں ( جس میں بدر کے مشرک مقتولین کو ڈال دیا گیا تھا ) کے قریب آئے اور فرمایا تمہارے مالک نے جو تم سے سچا وعدہ کیا تھا اسے تم لوگوں نے پا لیا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو خطاب کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کچھ ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو البتہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔
Narrated by Nafi`
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ دَخَلَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَظَهْرُهُ فِي الدَّارِ، فَقَالَ إِنِّي لاَ آمَنُ أَنْ يَكُونَ الْعَامَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ، فَيَصُدُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ، فَلَوْ أَقَمْتَ. فَقَالَ قَدْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ أَفْعَلُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} ثُمَّ قَالَ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجًّا. قَالَ ثُمَّ قَدِمَ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا.
Narrated Nafi`:`Abdullah bin `Abdullah bin `Umar and his riding animal entered the house of Ibn `Umar. He (the son of Ibn `Umar) said, "I fear that this year a battle might take place between the people and you might be prevented from going to the Ka`ba. I suggest that you should stay here." Ibn `Umar said, "Once Allah's Messenger (ﷺ) set out for the pilgrimage, and the pagans of Quraish intervened between him and the Ka`ba. So, if the people intervened between me and the Ka`ba, I would do the same as Allah's Messenger (ﷺ) had done . . . "Verily, in Allah's Messenger (ﷺ) you have a good example." Then he added, "I make you a witness that I have intended to perform Hajj along with `Umra." After arriving at Mecca, Ibn `Umar performed one Tawaf only (between Safa and Marwa)
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عبداللہ بن عبداللہ ان کے یہاں گئے۔ حج کے لیے سواری گھر میں کھڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خطرہ ہے کہ اس سال مسلمانوں میں آپس میں لڑائی ہو جائے گی اور آپ کو وہ بیت اللہ سے روک دیں گے۔ اس لیے اگر آپ نہ جاتے تو بہتر ہوتا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے گئے تھے ( عمرہ کرنے صلح حدیبیہ کے موقع پر ) اور کفار قریش نے آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا تھا۔ اس لیے اگر مجھے بھی روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج ( اپنے اوپر ) واجب کر لیا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ مکہ آئے اور دونوں عمرہ اور حج کے لیے ایک ہی طواف کیا
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً، وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْكَرْمِ كَيْلاً.
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) forbade Muzabana; and Muzabana is the selling of fresh dates for dried old dates by measure, and the selling of fresh grapes for dried grapes by measure
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ کہ درخت پر لگی ہوئی کھجور خشک کھجور کے بدلہ ماپ کر کے بیچی جائے۔ اسی طرح بیل پر لگے ہوئے انگور کو منقیٰ کے بدل بیچنا۔
Narrated by Abu Umama
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ حَبِيبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ لَقَدْ فَتَحَ الْفُتُوحَ قَوْمٌ مَا كَانَتْ حِلْيَةُ سُيُوفِهِمِ الذَّهَبَ وَلاَ الْفِضَّةَ، إِنَّمَا كَانَتْ حِلْيَتُهُمُ الْعَلاَبِيَّ وَالآنُكَ وَالْحَدِيدَ.
Narrated Abu Umama:Some people conquered many countries and their swords were decorated neither with gold nor silver, but they were decorated with leather, lead and iron
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن حبیب سے سنا، کہا میں نے ابوامامہ باہلی سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ ایک قوم ( صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ) نے بہت سی فتوحات کیں اور ان کی تلواروں کی آرائش سونے چاندی سے نہیں ہوئی تھی بلکہ اونٹ کی پشت کا چمڑہ، سیسہ اور لوہا ان کی تلواروں کے زیور تھے۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ رَفَعَهُ قَالَ " خَمِّرُوا الآنِيَةَ، وَأَوْكُوا الأَسْقِيَةَ، وَأَجِيفُوا الأَبْوَابَ، وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْعِشَاءِ، فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً، وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ عِنْدَ الرُّقَادِ، فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا اجْتَرَّتِ الْفَتِيلَةَ فَأَحْرَقَتْ أَهْلَ الْبَيْتِ ". قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَبِيبٌ عَنْ عَطَاءٍ فَإِنَّ لِلشَّيَاطِينِ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "Cover your utensils and tie your water skins, and close your doors and keep your children close to you at night, as the Jinns spread out at such time and snatch things away. When you go to bed, put out your lights, for the mischief-doer (i.e. the rat) may drag away the wick of the candle and burn the dwellers of the house." Ata said, "The devils." (instead of the Jinns)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے کثیر نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانی کے برتنوں کو ڈھک لیا کرو، مشکیزوں ( کے منہ ) کو باندھ لیا کرو، دروازے بند کر لیا کرو اور اپنے بچوں کو اپنے پاس جمع کر لیا کرو، کیونکہ شام ہوتے ہی جنات ( روئے زمین پر ) پھیلتے ہیں اور اچکتے پھرتے ہیں اور سوتے وقت چراغ بجھا لیا کرو، کیونکہ موذی جانور ( چوہا ) بعض اوقات جلتی بتی کو کھینچ لاتا ہے اور اس طرح سارے گھر کو جلا دیتا ہے۔“ ابن جریج اور حبیب نے بھی اس کو عطاء سے روایت کیا، اس میں جنات کے بدل شیاطین مذکور ہیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، قَالَ قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ. قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ، أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The Israelis used to be ruled and guided by prophets: Whenever a prophet died, another would take over his place. There will be no prophet after me, but there will be Caliphs who will increase in number." The people asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you order us (to do)?" He said, "Obey the one who will be given the pledge of allegiance first. Fulfil their (i.e. the Caliphs) rights, for Allah will ask them about (any shortcoming) in ruling those Allah has put under their guardianship
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے فرات قزار نے بیان کیا، انہوں نے ابوحازم سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں پانچ سال تک بیٹھا ہوں۔ میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے، جب بھی ان کا کوئی نبی ہلاک ہو جاتا تو دوسرے ان کی جگہ آ موجود ہوتے، لیکن یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ہاں میرے نائب ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ان کے متعلق آپ کا ہمیں کیا حکم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے جس سے بیعت کر لو، بس اسی کی وفاداری پر قائم رہو اور ان کا جو حق ہے اس کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن ان کی رعایا کے بارے میں سوال کرے گا۔“
Narrated by Al-Bara' bin `Azib
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَبُو الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ إِلَى أَبِي فِي مَنْزِلِهِ، فَاشْتَرَى مِنْهُ رَحْلاً فَقَالَ لِعَازِبٍ ابْعَثِ ابْنَكَ يَحْمِلْهُ مَعِي. قَالَ فَحَمَلْتُهُ مَعَهُ، وَخَرَجَ أَبِي يَنْتَقِدُ ثَمَنَهُ، فَقَالَ لَهُ أَبِي يَا أَبَا بَكْرٍ حَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمَا حِينَ سَرَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا، وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ، وَخَلاَ الطَّرِيقُ لاَ يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ، فَرُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ، لَهَا ظِلٌّ لَمْ تَأْتِ عَلَيْهِ الشَّمْسُ فَنَزَلْنَا عِنْدَهُ، وَسَوَّيْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَكَانًا بِيَدِي يَنَامُ عَلَيْهِ، وَبَسَطْتُ فِيهِ فَرْوَةً، وَقُلْتُ نَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَنَا أَنْفُضُ لَكَ مَا حَوْلَكَ. فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ مُقْبِلٍ بِغَنَمِهِ إِلَى الصَّخْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي أَرَدْنَا فَقُلْتُ لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلاَمُ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ مَكَّةَ. قُلْتُ أَفِي غَنَمِكَ لَبَنٌ قَالَ نَعَمُ. قُلْتُ أَفَتَحْلُبُ قَالَ نَعَمْ. فَأَخَذَ شَاةً. فَقُلْتُ انْفُضِ الضَّرْعَ مِنَ التُّرَابِ وَالشَّعَرِ وَالْقَذَى. قَالَ فَرَأَيْتُ الْبَرَاءَ يَضْرِبُ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى يَنْفُضُ، فَحَلَبَ فِي قَعْبٍ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، وَمَعِي إِدَاوَةٌ حَمَلْتُهَا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَرْتَوِي مِنْهَا، يَشْرَبُ وَيَتَوَضَّأُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُ، فَوَافَقْتُهُ حِينَ اسْتَيْقَظَ، فَصَبَبْتُ مِنَ الْمَاءِ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ، فَقُلْتُ اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ـ قَالَ ـ فَشَرِبَ، حَتَّى رَضِيتُ ثُمَّ قَالَ " أَلَمْ يَأْنِ لِلرَّحِيلِ ". قُلْتُ بَلَى ـ قَالَ ـ فَارْتَحَلْنَا بَعْدَ مَا مَالَتِ الشَّمْشُ، وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقُلْتُ أُتِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ " لاَ تَحْزَنْ، إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ". فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَارْتَطَمَتْ بِهِ فَرَسُهُ إِلَى بَطْنِهَا ـ أُرَى فِي جَلَدٍ مِنَ الأَرْضِ، شَكَّ زُهَيْرٌ ـ فَقَالَ إِنِّي أُرَاكُمَا قَدْ دَعَوْتُمَا عَلَىَّ فَادْعُوَا لِي، فَاللَّهُ لَكُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْكُمَا الطَّلَبَ. فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَنَجَا فَجَعَلَ لاَ يَلْقَى أَحَدًا إِلاَّ قَالَ كَفَيْتُكُمْ مَا هُنَا. فَلاَ يَلْقَى أَحَدًا إِلاَّ رَدَّهُ. قَالَ وَوَفَى لَنَا.
Narrated Al-Bara' bin `Azib:Abu Bakr came to my father who was at home and purchased a saddle from him. He said to `Azib, "Tell your son to carry it with me." So I carried it with him and my father followed us so as to take the price (of the saddle). My father said, "O Abu Bakr! Tell me what happened to you on your night journey with Allah's Messenger (ﷺ) (during Migration)." He said, "Yes, we travelled the whole night and also the next day till midday. when nobody could be seen on the way ( because of the severe heat) . Then there appeared a long rock having shade beneath it, and the sunshine had not come to it yet. So we dismounted there and I levelled a place and covered it with an animal hide or dry grass for the Prophet (ﷺ) to sleep on (for a while). I then said, 'Sleep, O Allah's Messenger (ﷺ), and I will guard you.' So he slept and I went out to guard him. Suddenly I saw a shepherd coming with his sheep to that rock with the same intention we had when we came to it. I asked (him), 'To whom do you belong, O boy?' He replied, 'I belong to a man from Medina or Mecca.' I said, 'Do your sheep have milk?' He said, 'Yes.' I said, 'Will you milk for us?' He said, 'Yes.' He caught hold of a sheep and I asked him to clean its teat from dust, hairs and dirt. (The sub-narrator said that he saw Al-Bara' striking one of his hands with the other, demonstrating how the shepherd removed the dust.) The shepherd milked a little milk in a wooden container and I had a leather container which I carried for the Prophet (ﷺ) to drink and perform the ablution from. I went to the Prophet, hating to wake him up, but when I reached there, the Prophet (ﷺ) had already awakened; so I poured water over the middle part of the milk container, till the milk was cold. Then I said, 'Drink, O Allah's Messenger (ﷺ)!' He drank till I was pleased. Then he asked, 'Has the time for our departure come?' I said, 'Yes.' So we departed after midday. Suraqa bin Malik followed us and I said, 'We have been discovered, O Allah's Messenger (ﷺ)!' He said, Don't grieve for Allah is with us.' The Prophet (ﷺ) invoked evil on him (i.e. Suraqa) and so the legs of his horse sank into the earth up to its belly. (The subnarrator, Zuhair is not sure whether Abu Bakr said, "(It sank) into solid earth.") Suraqa said, 'I see that you have invoked evil on me. Please invoke good on me, and by Allah, I will cause those who are seeking after you to return.' The Prophet (ﷺ) invoked good on him and he was saved. Then, whenever he met somebody on the way, he would say, 'I have looked for him here in vain.' So he caused whomever he met to return. Thus Suraqa fulfilled his promise
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن یزید بن ابراہیم ابوالحسن حرانی نے، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے ابواسحٰق نے بیان کیا اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے والد کے پاس ان کے گھر آئے اور ان سے ایک پالان خریدا۔ پھر انہوں نے میرے والد سے کہا کہ اپنے بیٹے کے ذریعہ اسے میرے ساتھ بھیج دو۔ براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ میں اس کجاوے کو اٹھا کر آپ کے ساتھ چلا اور میرے والد اس کی قیمت کے روپے پرکھوانے لگے۔ میرے والد نے ان سے پوچھا اے ابوبکر! مجھے وہ واقعہ سنائیے جب آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار ثور سے ہجرت کی تھی تو آپ دونوں نے وہ وقت کیسے گزارا تھا؟ اس پر انہوں نے بیان کیا کہ جی ہاں، رات بھر تو ہم چلتے رہے اور دوسرے دن صبح کو بھی لیکن جب دوپہر کا وقت ہوا اور راستہ بالکل سنسان پڑ گیا کہ کوئی بھی آدمی گزرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا تھا تو ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی، اس کے سائے میں دھوپ نہیں تھی۔ ہم وہاں اتر گئے اور میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک جگہ اپنے ہاتھ سے ٹھیک کر دی اور ایک چادر وہاں بچھا دی۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ یہاں آرام فرمائیں میں نگرانی کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور میں چاروں طرف حالات دیکھنے کے لیے نکلا۔ اتفاق سے مجھے ایک چرواہا ملا۔ وہ بھی اپنی بکریوں کے ریوڑ کو اسی چٹان کے سائے میں لانا چاہتا تھا جس کے تلے میں نے وہاں پڑاؤ ڈالا تھا۔ وہی اس کا بھی ارادہ تھا، میں نے اس سے پوچھا کہ تو کس قبیلے سے ہے؟ اس نے بتایا کہ مدینہ یا ( راوی نے کہا کہ ) مکہ کے فلاں شخص سے، میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تیری بکریوں سے دودھ مل سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ میں نے پوچھا کیا ہمارے لیے تو دودھ نکال سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ وہ ایک بکری پکڑ کے لایا۔ میں نے اس سے کہا کہ پہلے تھن کو مٹی، بال اور دوسری گندگیوں سے صاف کر لے۔ ابواسحٰق راوی نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر تھن کو جھاڑنے کی صورت بیان کی۔ اس نے لکڑی کے ایک پیالے میں دودھ نکالا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ آپ اس سے پانی پیا کرتے تھے اور وضو بھی کر لیتے تھے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( آپ سو رہے تھے ) میں آپ کو جگانا پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن بعد میں جب میں آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے پہلے دودھ کے برتن پر پانی بہایا جب اس کے نیچے کا حصہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! دودھ پی لیجئے، انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا جس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی۔ پھر آپ نے فرمایا کیا ابھی کوچ کرنے کا وقت نہیں آیا؟ میں نے عرض کیا کہ آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا: جب سورج ڈھل گیا تو ہم نے کوچ کیا۔ بعد میں سراقہ بن مالک ہمارا پیچھا کرتا ہوا یہیں پہنچا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اب تو یہ ہمارے قریب ہی پہنچ گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غم نہ کرو۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ آپ نے پھر اس کے لیے بددعا کی اور اس کا گھوڑا اسے لیے ہوئے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ میرا خیال ہے کہ زمین بڑی سخت تھی۔ یہ شک ( راوی حدیث ) زہیر کو تھا۔ سراقہ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے میرے لیے بددعا کی ہے۔ اگر اب آپ لوگ میرے لیے ( اس مصیبت سے نجات کی ) دعا کر دیں تو اللہ کی قسم میں آپ لوگوں کی تلاش میں آنے والے تمام لوگوں کو واپس لوٹا دوں گا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دعا کی تو وہ نجات پا گیا۔ پھر تو جو بھی اسے راستے میں ملتا اس سے وہ کہتا تھا کہ میں بہت تلاش کر چکا ہوں۔ قطعی طور پر وہ ادھر نہیں ہیں۔ اس طرح جو بھی ملتا اسے وہ واپس اپنے ساتھ لے جاتا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا۔
Narrated by Abu Wail
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ عُدْنَا خَبَّابًا فَقَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى، لَمْ يَأْخُذْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ نَمِرَةً، فَكُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلاَهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ، وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنْ إِذْخِرٍ. وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهْوَ يَهْدِبُهَا.
Narrated Abu Wail:We visited Khabbab who said, "We migrated with the Prophet (ﷺ) for Allah's Sake, so our reward became due and sure with Allah. Some of us passed away without taking anything of their rewards (in this world) and one of them was Mus`ab bin `Umair who was martyred on the day (of the battle) of Uhud leaving a striped woolen cloak. When we covered his head with it, his feet became naked, and when we covered his feet, his head became naked. So Allah's Messenger (ﷺ) ordered us to cover his head and put some Idhkhir (i.e. a special kind of grass) on his feet. (On the other hand) some of us have had their fruits ripened (in this world) and they are collecting them
ہم سے (عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابووائل شقیق بن سلمہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر دے گا۔ پھر ہمارے بہت سے ساتھی اس دنیا سے اٹھ گئے اور انہوں نے ( دنیا میں ) اپنے اعمال کا پھل نہیں دیکھا۔ انہیں میں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کی لڑائی میں شہید کئے گئے تھے اور صرف ایک دھاری دار چادر چھوڑی تھی۔ ( کفن دیتے وقت ) جب ہم ان کی چادر سے ان کا سر ڈھانکتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانکتے تو سر کھل جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ان کا سر ڈھانک دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں۔ ( تاکہ چھپ جائیں ) اور ہم میں ایسے بھی ہیں کہ ( اس دنیا میں بھی ) ان کے اعمال کا میوہ پک گیا، پس وہ اس کو چن رہے ہیں۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها {الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ} قَالَتْ لِعُرْوَةَ يَا ابْنَ أُخْتِي كَانَ أَبُوكَ مِنْهُمُ الزُّبَيْرُ وَأَبُو بَكْرٍ، لَمَّا أَصَابَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَصَابَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَانْصَرَفَ عَنْهُ الْمُشْرِكُونَ خَافَ أَنْ يَرْجِعُوا قَالَ " مَنْ يَذْهَبُ فِي إِثْرِهِمْ ". فَانْتَدَبَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلاً، قَالَ كَانَ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ.
Narrated `Aisha:Regarding the Holy Verse: "Those who responded (To the call) of Allah And the Apostle (Muhammad), After being wounded, For those of them Who did good deeds And refrained from wrong, there is a great reward." (3.172) She said to `Urwa, "O my nephew! Your father, Az-Zubair and Abu Bakr were amongst them (i.e. those who responded to the call of Allah and the Apostle on the day (of the battle of Uhud). When Allah's Messenger (ﷺ), suffered what he suffered on the day of Uhud and the pagans left, the Prophet (ﷺ) was afraid that they might return. So he said, 'Who will go on their (i.e. pagans') track?' He then selected seventy men from amongst them (for this purpose)." (The sub-narrator added, "Abu Bakr and Az-Zubair were amongst them)
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ( آیت ) «الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح للذين أحسنوا منهم واتقوا أجر عظيم» ”وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہا۔“ انہوں نے عروہ سے اس آیت کے متعلق کہا، میرے بھانجے! تمہارے والد زبیر رضی اللہ عنہ اور ( نانا ) ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے تھے۔ احد کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ تکلیف پہنچنی تھی جب وہ پہنچی اور مشرکین واپس جانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا خطرہ ہوا کہ کہیں وہ پھر لوٹ کر حملہ نہ کریں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا پیچھا کرنے کون کون جائیں گے۔ اسی وقت ستر صحابہ رضی اللہ عنہم تیار ہو گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے تھے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ {وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ} إِلَى قَوْلِهِ {وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ}. قَالَتْ هُوَ الرَّجُلُ تَكُونُ عِنْدَهُ الْيَتِيمَةُ، هُوَ وَلِيُّهَا وَوَارِثُهَا، فَأَشْرَكَتْهُ فِي مَالِهِ حَتَّى فِي الْعِذْقِ، فَيَرْغَبُ أَنْ يَنْكِحَهَا، وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا رَجُلاً، فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ بِمَا شَرِكَتْهُ فَيَعْضُلَهَا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ.
Narrated `Aisha:Regarding the Verse:--"They ask your instruction concerning the women. Say: Allah instructs you about them and yet whom you desire to marry." (4.127) (has been revealed regarding the case of) a man who has an orphan girl, and he is her guardian and her heir. The girl shares with him all his property, even a date-palm (garden), but he dislikes to marry her and dislikes to give her in marriage to somebody else who would share with him the property she is sharing with him, and for this reason that guardian prevents that orphan girl from marrying. So, this Verse was revealed: (And Allah's statement:) "If a woman fears cruelty or desertion on her husband's part
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ حماد بن اسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت «ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن» ”لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ مانگتے ہیں۔ آپ کہہ دیں کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں ( وہی ) فتویٰ دیتا ہے“ آیت «وترغبون أن تنكحوهن» تک۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ آیت ایسے شخص کے بارے میں نازل ہوئی کہ اگر اس کی پرورش میں کوئی یتیم لڑکی ہو اور وہ اس کا ولی اور وارث بھی ہو اور لڑکی اس کے مال میں بھی حصہ دار ہو۔ یہاں تک کہ کھجور کے درخت میں بھی۔ اب وہ شخص خود اس لڑکی سے نکاح کرنا چاہے، کیونکہ اسے یہ پسند نہیں کہ کسی دوسرے سے اس کا نکاح کر دے کہ وہ اس کے اس مال میں حصہ دار بن جائے، جس میں لڑکی حصہ دار تھی، اس وجہ سے اس لڑکی کا کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ ہونے دے تو ایسے شخص کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی۔
Narrated by Abu Waqid al-Laithi
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلَ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَهَبَ وَاحِدٌ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فَجَلَسَ، وَأَمَّا الآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ عَنِ الثَّلاَثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ، فَآوَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَاسْتَحْيَا، فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَأَعْرَضَ، فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ ".
Narrated Abu Waqid al-Laithi:While Allah's Messenger (ﷺ) was sitting in the mosque (with some people) three men came, two of them came in front of Allah's Messenger (ﷺ) and the third one went away, and then one of them found a place in the circle and sat there while the second man sat behind the gathering, and the third one went away. When Allah's Messenger (ﷺ) finished his preaching, he said, "Shall I tell you about these three persons? One of them betook himself to Allah and so Allah accepted him and accommodated him; the second felt shy before Allah so Allah did the same for him and sheltered him in His Mercy (and did not punish him), while the third turned his face from Allah, and went away, so Allah turned His face from him likewise
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہ کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی اسحاق بن عبداللہ ابن ابی طلحہ کے واسطے سے کہ عقیل بن ابی طالب کے غلام ابومرہ نے انہیں خبر دی ابوواقد لیثی حارث بن عوف صحابی کے واسطہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ تین آدمی باہر سے آئے۔ دو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضری کی غرض سے آگے بڑھے لیکن تیسرا چلا گیا۔ ان دو میں سے ایک نے درمیان میں خالی جگہ دیکھی اور وہاں بیٹھ گیا۔ دوسرا شخص پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا تو واپس ہی جا رہا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ان تینوں کے متعلق ایک بات نہ بتاؤں۔ ایک شخص تو اللہ کی طرف بڑھا اور اللہ نے اسے جگہ دی ( یعنی پہلا شخص ) رہا دوسرا تو اس نے ( لوگوں میں گھسنے سے ) شرم کی، اللہ نے بھی اس سے شرم کی، تیسرے نے منہ پھیر لیا۔ اس لیے اللہ نے بھی اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ، فَالإِمَامُ رَاعٍ وَهْوَ مَسْئُولٌ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِهِ وَهْوَ مَسْئُولٌ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهْىَ مَسْئُولَةٌ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ، أَلاَ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "Everyone of you is a guardian and everyone of you is responsible (for his wards). A ruler is a guardian and is responsible(for his subjects); a man is a guardian of his family and responsible (for them); a wife is a guardian of her husband's house and she is responsible (for it), a slave is a guardian of his master's property and is responsible (for that). Beware! All of you are guardians and are responsible (for your wards)
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے ( اس کی رعیت کے بارے میں ) سوال ہو گا۔ پس امام حاکم ہے اس سے سوال ہو گا۔ مرد اپنی بیوی بچوں کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا۔ غلام اپنے سردار کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا ہاں پس تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے سوال ہو گا۔
Narrated by Qatada
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ شَعَرِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجِلاً، لَيْسَ بِالسَّبِطِ، وَلاَ الْجَعْدِ، بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ.
Narrated Qatada:l asked Anas bin Malik about the hair of Allah's Messenger (ﷺ). He said, "The hair of Allah's Messenger (ﷺ) was neither much straight, nor much curly, and it used to hang down till between his shoulders and his earlobes
مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ کے بال درمیانہ تھے، نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے اور نہ گھونگھریالے اور وہ کانوں اور مونڈھوں کے بیچ تک تھے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The signs of a hypocrite are three: Whenever he speaks, he tells a lie; and whenever he promises, he breaks his promise; and whenever he is entrusted, he betrays (proves to be dishonest)
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابی سہیل نافع بن مالک بن ابی عامر نے، ان سے ان کے والد مالک بن ابی عامر نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے خلاف کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔“
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ بِالدِّمَاءِ ".
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "The cases which will be decided first (on the Day of Resurrection) will be the cases of blood-shedding
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے شقیق نے بیان کیا، کہا میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے پہلے جس چیز کا فیصلہ لوگوں کے درمیان ہو گا وہ ناحق خون کے بدلہ کا ہو گا۔“
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قُمْتُ لَيْلَةً أُصَلِّي عَنْ يَسَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَ بِيَدِي أَوْ بِعَضُدِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ بِيَدِهِ مِنْ وَرَائِي.
Narrated Ibn `Abbas:One night I stood to the left of the Prophet (ﷺ) in the prayer but he caught hold of me by the hand or by the shoulder (arm) till he made me stand on his right and beckoned with his hand (for me) to go from behind (him). (Al-Kashmaihani [??] , Fath-ul-Bari
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عاصم احول نے عامر شعبی سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے بتلایا کہ میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ) نماز ( تہجد ) پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا بازو پکڑ کر مجھ کو اپنی دائیں طرف کھڑا کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا کہ پیچھے سے گھوم آؤ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ " هَذِهِ خَدِيجَةُ أَتَتْكَ بِإِنَاءٍ فِيهِ طَعَامٌ أَوْ إِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَأَقْرِئْهَا مِنْ رَبِّهَا السَّلاَمَ وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said that Gabriel said, "Here is Khadija coming to you with a dish of food or a tumbler containing something to drink. Convey to her a greeting from her Lord (Allah) and give her the glad tidings that she will have a palace in Paradise built of Qasab wherein there will be neither any noise nor any fatigue (trouble)." (See Hadith No. 168, Vol)
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ( جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یا رسول اللہ! ) یہ خدیجہ رضی اللہ عنہا جو آپ کے پاس برتن میں کھانا یا پانی لے کر آتی ہیں انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہئیے اور انہیں خولدار موتی کے ایک محل کی جنت میں خوشخبری سنائیے جس میں نہ شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف ہو گی۔