Narrated by `Ali
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ، وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ فَنَكَّسَ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ ثُمَّ قَالَ " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ، مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلاَّ كُتِبَ مَكَانُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَإِلاَّ قَدْ كُتِبَ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً ". فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلاَ نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ، فَمَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ قَالَ " أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ الشَّقَاوَةِ "، ثُمَّ قَرَأَ {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى} الآيَةَ.
Narrated `Ali:" We were accompanying a funeral procession in Baqi-I-Gharqad. The Prophet (ﷺ) came to us and sat and we sat around him. He had a small stick in his hand then he bent his head and started scraping the ground with it. He then said, "There is none among you, and not a created soul, but has place either in Paradise or in Hell assigned for him and it is also determined for him whether he will be among the blessed or wretched." A man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Should we not depend on what has been written for us and leave the deeds as whoever amongst us is blessed will do the deeds of a blessed person and whoever amongst us will be wretched, will do the deeds of a wretched person?" The Prophet said, "The good deeds are made easy for the blessed, and bad deeds are made easy for the wretched." Then he recited the Verses:-- "As for him who gives (in charity) and is Allah-fearing And believes in the Best reward from Allah
ہم سے عثمان ابن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے منصور بن معتمر نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن عبیدہ نے ‘ ان سے ابوعبدالرحمٰن عبداللہ بن حبیب نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم بقیع غرقد میں ایک جنازہ کے ساتھ تھے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کریدنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہیں یا کوئی جان ایسی نہیں جس کا ٹھکانا جنت اور دوزخ دونوں جگہ نہ لکھا گیا ہو اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہو گی یا بدبخت۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کیوں نہ ہم اپنی تقدیر پر بھروسہ کر لیں اور عمل چھوڑ دیں کیونکہ جس کا نام نیک دفتر میں لکھا ہے وہ ضرور نیک کام کی طرف رجوع ہو گا اور جس کا نام بدبختوں میں لکھا ہے وہ ضرور بدی کی طرف جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ جن کا نام نیک بختوں میں ہے ان کو اچھے کام کرنے میں ہی آسانی معلوم ہوتی ہے اور بدبختوں کو برے کاموں میں آسانی نظر آتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فأما من أعطى واتقى» الآية۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَافَ بِالْبَيْتِ، وَهْوَ عَلَى بَعِيرٍ، كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَىْءٍ فِي يَدِهِ وَكَبَّرَ.
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) performed Tawaf (of the Ka`ba) riding a camel (at that time the Prophet (ﷺ) had a foot injury). Whenever he came to the Corner (having the Black Stone) he would point out towards it with a thing in his hand and say, "Allahu-Akbar
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد طحان نے خالد حذاء سے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اونٹ پر سوار ہو کر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ( طواف کرتے ہوئے ) حجر اسود کے نزدیک آتے تو اپنے ہاتھ کو ایک چیز ( چھڑی ) سے اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنِي التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَنِ اشْتَرَى مُحَفَّلَةً فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا. قَالَ وَنَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ.
Narrated `Abdullah:Whoever buys an animal which has been kept unmilked for a long time, could return it, but has to pay a Sa of dates along with it. And the Prophet (ﷺ) forbade meeting the owners of goods on the way away from the market
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہ ہم سے تیمی نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جو کوئی دودھ جمع کی ہوئی بکری خریدے ( وہ بکری پھیر دے ) اور اس کے ساتھ ایک صاع دیدے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ والوں سے آگے بڑھ کر ملنے سے منع فرمایا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِحِرَابِهِمْ دَخَلَ عُمَرُ، فَأَهْوَى إِلَى الْحَصَى فَحَصَبَهُمْ بِهَا. فَقَالَ " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ ". وَزَادَ عَلِيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ فِي الْمَسْجِدِ.
Narrated Abu Huraira:While some Ethiopians were playing in the presence of the Prophet, `Umar came in, picked up a stone and hit them with it. On that the Prophet (ﷺ) said, "O `Umar! Allow them (to play)." Ma`mar (the subnarrator) added that they were playing in the Mosque
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں ابن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشہ کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حراب ( چھوٹے نیزے ) کا کھیل دکھلا رہے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ آ گئے اور کنکریاں اٹھا کر انہیں ان سے مارا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عمر انہیں کھیل دکھانے دو۔“ علی بن مدینی نے یہ بیان زیادہ کیا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی کہ مسجد میں ( یہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے ) ۔
Narrated by Um Sharik
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهَا بِقَتْلِ الأَوْزَاغِ.
Narrated Um Sharik:That the Prophet (ﷺ) ordered her to kill Salamanders
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور انہیں ام شریک رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔
Narrated by `Umar
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، سَمِعَ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ".
Narrated `Umar:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Do not exaggerate in praising me as the Christians praised the son of Mary, for I am only a Slave. So, call me the Slave of Allah and His Apostle
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے سنا تھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو ( میرے متعلق ) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتَتِلَ فِئَتَانِ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The Day of (Judgment) will not be established till there is a war between two groups whose claims (or religion) will be the same
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھے ابوسلمہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو جماعتیں ( مسلمانوں کی ) آپس میں جنگ نہ کر لیں اور دونوں کا دعویٰ ایک ہو گا ( کہ وہ حق پر ہیں ) ۔“
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ ".
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The superiority of `Aisha over other women is like the superiority of Tharid to other meals
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت باقی عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت اور تمام کھانوں پر۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ كَانَ عَمْرٌو يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ شَهِدَ بِي خَالاَىَ الْعَقَبَةَ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ أَحَدُهُمَا الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:I was present with my two maternal uncles at Al-`Aqaba (where the pledge of allegiance was given). (Ibn 'Uyaina said, "One of the two was Al-Bara' bin Marur)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ عمرو بن دینار کہا کرتے تھے کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ میرے دو ماموں مجھے بھی بیعت عقبہ میں ساتھ لے گئے تھے۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے کہا کہ ابن عیینہ نے بیان کیا ان میں سے ایک براء بن معرور رضی اللہ عنہ تھے۔
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَسُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَالْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَزَلَتْ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ} إِلَى قَوْلِهِ {فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}.
Salim bin `Abdullah said' "Allah's Messenger (ﷺ) used to invoke evil upon Safwan bin Umaiya, Suhail bin `Amr and Al-Harith bin Hisham. So the Verse was revealed:-- "Not for you (O Muhammad!)......(till the end of Verse) For they are indeed wrong-doers
اور حنظلہ بن ابی سفیان سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے لیے بددعا کرتے تھے اس پر یہ آیت «ليس لك من الأمر شىء» سے «فإنهم ظالمون» تک نازل ہوئی۔
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدًا فَكَتَبَهَا، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَشَكَا ضَرَارَتَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {غَيْرَ أُولِي الضَّرَرِ}
Narrated Al-Bara:When the Verse:-- "Not equal are those of the believers who sit (at home)" (4.95) was revealed, Allah's Apostle called for Zaid who wrote it. In the meantime Ibn Um Maktum came and complained of his blindness, so Allah revealed: "Except those who are disabled (by injury or are blind or lame..." etc)
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو کتابت کے لیے بلایا اور انہوں نے وہ آیت لکھ دی۔ پھر عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور اپنے نابینا ہونے کا عذر پیش کیا، تو اللہ تعالیٰ نے «غير أولي الضرر» کے الفاظ اور نازل کئے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عَاصِبٌ رَأْسَهُ بِخِرْقَةٍ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَىَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلاً، وَلَكِنْ خُلَّةُ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ، سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ ".
Narrated Ibn `Abbas:"Allah's Messenger (ﷺ) in his fatal illness came out with a piece of cloth tied round his head and sat on the pulpit. After thanking and praising Allah he said, "There is no one who had done more favor to me with life and property than Abu Bakr bin Abi Quhafa. If I were to take a Khalil, I would certainly have taken Abu- Bakr but the Islamic brotherhood is superior. Close all the small doors in this mosque except that of Abu Bakr
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے باپ جریر بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے یعلیٰ بن حکیم سے سنا، وہ عکرمہ سے نقل کرتے تھے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں باہر تشریف لائے۔ سر پہ پٹی بندھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا، کوئی شخص بھی ایسا نہیں جس نے ابوبکر بن ابوقحافہ سے زیادہ مجھ پر اپنی جان و مال کے ذریعہ احسان کیا ہو اور اگر میں کسی کو انسانوں میں سے جانی دوست بناتا تو ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) کو بناتا۔ لیکن اسلام کا تعلق افضل ہے۔ دیکھو ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) کی کھڑکی چھوڑ کر اس مسجد کی تمام کھڑکیاں بند کر دی جائیں۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَبْصَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نِسَاءً وَصِبْيَانًا مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ، فَقَامَ مُمْتَنًّا فَقَالَ " اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ ".
Narrated Anas bin Malik:Once the Prophet (ﷺ) saw some women and children coming from a wedding party. He got up energetically and happily and said, "By Allah! You (i.e., the Ansar) are the most beloved of all people to me
ہم سے عبدالرحمٰن بن المبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو کسی شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوشی کے مارے جلدی سے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: یا اللہ! ( تو گواہ رہ ) تم لوگ سب لوگوں سے زیادہ مجھ کو محبوب ہو۔
وَقَالَ لَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، أَرَتْهُ شَعَرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحْمَرَ.
Ibn Mauhab also said that Um Salama had shown him the red hair of the Prophet
اور ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے نصیر بن ابی الاشعث نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن موہب نے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بال دکھایا جو سرخ تھا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَلَكْتُ وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ. قَالَ " أَعْتِقْ رَقَبَةً ". قَالَ لَيْسَ لِي. قَالَ " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ". قَالَ لاَ أَسْتَطِيعُ. قَالَ " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ". قَالَ لاَ أَجِدُ. فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ـ قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْعَرَقُ الْمِكْتَلُ فَقَالَ " أَيْنَ السَّائِلُ تَصَدَّقْ بِهَا ". قَالَ عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي وَاللَّهِ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا. فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ. قَالَ " فَأَنْتُمْ إِذًا ".
Narrated Abu Huraira:A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "I have been ruined for I have had sexual relation with my wife in Ramadan (while I was fasting)" The Prophet (ﷺ) said (to him), "Manumit a slave." The man said, " I cannot afford that." The Prophet (ﷺ) said, "(Then) fast for two successive months continuously". The man said, "I cannot do that." The Prophet (ﷺ) said, "(Then) feed sixty poor persons." The man said, "I have nothing (to feed them with)." Then a big basket full of dates was brought to the Prophet. The Prophet (ﷺ) said, "Where is the questioner? Go and give this in charity." The man said, "(Shall I give this in charity) to a poorer person than l? By Allah, there is no family in between these two mountains (of Medina) who are poorer than we." The Prophet (ﷺ) then smiled till his premolar teeth became visible, and said, "Then (feed) your (family with it)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں تو تباہ ہو گیا اپنی بیوی کے ساتھ رمضان میں ( روزہ کی حالت میں ) ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر۔ انہوں نے عرض کیا: میرے پاس کوئی غلام نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دو مہینے کے روزے رکھ۔ انہوں نے عرض کیا: اس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اتنا بھی میرے پاس نہیں ہے۔ بیان کیا کہ پھر کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ ابراہیم نے بیان کیا کہ «عرق» ایک طرح کا ( نو کلوگرام کا ) ایک پیمانہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ لو اسے صدقہ کر دینا۔ انہوں نے عرض کیا مجھ سے جو زیادہ محتاج ہو اسے دوں؟ اللہ کی قسم! مدینہ کے دونوں میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ بھی ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے اور آپ کے سامنے کے دندان مبارک کھل گئے، اس کے بعد فرمایا کہ اچھا پھر تو تم میاں بیوی ہی اسے کھا لو۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ " إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ} الآيَةَ، وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلاَئِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ، وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ. فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي. فَيَقُولُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ. فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ} إِلَى قَوْلِهِ {الْحَكِيمُ} قَالَ فَيُقَالُ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) stood up among us and addressed (saying) "You will be gathered, barefooted, naked, and uncircumcised (as Allah says): 'As We began the first creation, We shall repeat it..' (21.104) And the first human being to be dressed on the Day of Resurrection will be (the Prophet) Abraham Al-Khalil. Then will be brought some men of my followers who will be taken towards the left (i.e., to the Fire), and I will say: 'O Lord! My companions whereupon Allah will say: You do not know what they did after you left them. I will then say as the pious slave, Jesus said, And I was witness over them while I dwelt amongst them..........(up to) ...the All-Wise.' (5.117-118). The narrator added: Then it will be said that those people (relegated from Islam, that is) kept on turning on their heels (deserted Islam)
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن نعمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا ”تم لوگ قیامت کے دن اس حال میں جمع کئے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسم ہو گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «كما بدأنا أول خلق نعيده» کہ ”جس طرح ہم نے شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح لوٹا دیں گے۔“ اور تمام مخلوقات میں سب سے پہلے جسے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے اور میری امت کے بہت سے لوگ لائے جائیں گے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ میں اس پر کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی نئی بدعات نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہا «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم» کہ ”یا اللہ! میں جب تک ان میں موجود رہا اس وقت تک میں ان پر گواہ تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ فرشتے ( مجھ سے ) کہیں گے کہ یہ لوگ ہمیشہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے ہی رہے ( مرتد ہوتے رہے ) ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الشُّهَدَاءُ الْغَرِقُ وَالْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْهَدْمُ ". وَقَالَ " وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا {إِلَيْهِ} وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ لاَسْتَهَمُوا ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Martyrs are those who die because of drowning, plague, an Abdominal disease, or of being buried alive by a falling building." And then he added, "If the people knew the Reward for the Zuhr prayer in its early time, they would race for it. If they knew the reward for the `Isha' and the Fajr prayers in congregation, they would join them even if they had to crawl. If they knew the reward for the first row, they would draw lots for it
Narrated by `Abdullah bin Abi `Aufa
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَحْزَابِ " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الأَحْزَابَ وَزَلْزِلْ بِهِمْ ". زَادَ الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated `Abdullah bin Abi `Aufa:Allah's Messenger (ﷺ) said on the Day of (the battle of) the Clans, "O Allah! The Revealer of the Holy Book, The Quick Taker of Accounts! Defeat the clans and shake them
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن فرمایا ”اے اللہ! کتاب قرآن کے نازل کرنے والے، جلد حساب لینے والے، ان دشمن جماعتوں کو شکست دے اور ان کے پاؤں ڈگمگا دے۔“ حمیدی نے اسے یوں روایت کیا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔