Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ فَلَمْ تَطِبْ نَفْسِي حَتَّى أَخْرَجْتُهُ فَجَعَلْتُهُ فِي قَبْرٍ عَلَى حِدَةٍ.
Narrated Jabir:A man was buried along with my father and I did not like it till I took him (i.e. my father) out and buried him in a separate grave
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن عامر نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے ابن ابی نجیح نے ‘ ان سے عطاء بن ابی رباح اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے باپ کے ساتھ ایک ہی قبر میں ایک اور صحابی ( جابر رضی اللہ عنہ کے چچا ) دفن تھے۔ لیکن میرا دل اس پر راضی نہیں ہو رہا تھا۔ اس لیے میں نے ان کی لاش نکال کر دوسری قبر میں دفن کر دی۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ الْعَامِرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:We used to give one Sa' of meal or one Sa' of barley or one Sa' of dates, or one Sa' of cottage cheese or one Sa' of Raisins (dried grapes) as Zakat-ul-Fitr
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ‘ ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا ‘ ان سے عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح عامری نے بیان کیا ‘ کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ فرماتے تھے کہ ہم فطرہ کی زکوٰۃ ایک صاع اناج یا گیہوں یا ایک صاع جَو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع زبیب ( خشک انگور یا انجیر ) نکالا کرتے تھے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِزِمَامٍ أَوْ غَيْرِهِ فَقَطَعَهُ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) saw a man performing Tawaf of the Ka`ba tied with a string or something else. So the Prophet cut that string
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے سلیمان احول نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص کعبہ کا طواف رسی یا کسی اور چیز کے ذریعہ کر رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹ دیا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) ordered (the Muslims) to fast on the day of 'Ashura', and when fasting in the month of Ramadan was prescribed, it became optional for one to fast on that day ('Ashura') or not
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( شروع اسلام میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو جس کا دل چاہتا اس دن روزہ رکھتا اور جو نہ چاہتا نہیں رکھا کرتا تھا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اشْتَرِي وَأَعْتِقِي، فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ ". ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْعَشِيِّ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ " مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهْوَ بَاطِلٌ، وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ، شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ ".
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) came to me and I told him about the slave-girl (Barirah) Allah's Messenger (ﷺ) said, "Buy and manumit her, for the Wala is for the one who manumits." In the evening the Prophet (ﷺ) got up and glorified Allah as He deserved and then said, "Why do some people impose conditions which are not present in Allah's Book (Laws)? Whoever imposes such a condition as is not in Allah's Laws, then that condition is invalid even if he imposes one hundred conditions, for Allah's conditions are more binding and reliable
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہمیں شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بریرہ رضی اللہ عنہا کے خریدنے کا ) ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم خرید کر آزاد کر دو۔ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ( خرید و فروخت میں ) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل کتاب اللہ میں نہیں ہے جو شخص بھی کوئی ایسی شرط لگائے گا جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو وہ شرط باطل ہو گی۔ خواہ سو شرطیں ہی کیوں نہ لگا لے کیونکہ اللہ ہی کی شرط حق اور مضبوط ہے ( اور اسی کا اعتبار ہے ) ۔“
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ ح قَالَ وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ، وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ، إِذْ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَيُّكُمْ يَجِيءُ بِسَلَى جَزُورِ بَنِي فُلاَنٍ فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ فَجَاءَ بِهِ، فَنَظَرَ حَتَّى إِذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَأَنَا أَنْظُرُ، لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا، لَوْ كَانَ لِي مَنْعَةٌ. قَالَ فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ وَيُحِيلُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ لاَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، حَتَّى جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ، فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ". ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ ـ قَالَ وَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّ الدَّعْوَةَ فِي ذَلِكَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ ـ ثُمَّ سَمَّى " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ". وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ يَحْفَظْهُ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ عَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَرْعَى فِي الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ.
Narrated `Abdullah:While Allah's Messenger (ﷺ) was prostrating (as stated below). Narrated `Abdullah bin Mas`ud: Once the Prophet (ﷺ) was offering prayers at the Ka`ba. Abu Jahl was sitting with some of his companions. One of them said to the others, "Who amongst you will bring the Abdominal contents (intestines, etc.) of a camel of Bani so and so and put it on the back of Muhammad, when he prostrates?" The most unfortunate of them got up and brought it. He waited till the Prophet (ﷺ) prostrated and then placed it on his back between his shoulders. I was watching but could not do any thing. I wish I had some people with me to hold out against them. They started laughing and falling on one another. Allah's Messenger (ﷺ) was in prostration and he did not lift his head up till Fatima (Prophet's daughter) came and threw that (camel's Abdominal contents) away from his back. He raised his head and said thrice, "O Allah! Punish Quraish." So it was hard for Abu Jahl and his companions when the Prophet invoked Allah against them as they had a conviction that the prayers and invocations were accepted in this city (Mecca). The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Punish Abu Jahl, `Utba bin Rabi`a, Shaiba bin Rabi`a, Al-Walid bin `Utba, Umaiya bin Khalaf, and `Uqba bin Al Mu'it [??] (and he mentioned the seventh whose name I cannot recall). By Allah in Whose Hands my life is, I saw the dead bodies of those persons who were counted by Allah's Messenger (ﷺ) in the Qalib (one of the wells) of Badr
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھے میرے باپ (عثمان) نے شعبہ سے خبر دی، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے عمرو بن میمون سے، انہوں نے عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف میں سجدہ میں تھے۔ ( ایک دوسری سند سے ) ہم سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف نے اپنے باپ کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں۔ ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے ان سے حدیث بیان کی کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجہل اور اس کے ساتھی ( بھی وہیں ) بیٹھے ہوئے تھے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ تم میں سے کوئی شخص ہے جو قبیلے کی ( جو ) اونٹنی ذبح ہوئی ہے ( اس کی ) اوجھڑی اٹھا لائے اور ( لا کر ) جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جائیں تو ان کی پیٹھ پر رکھ دے۔ یہ سن کر ان میں سے ایک سب سے زیادہ بدبخت ( آدمی ) اٹھا اور وہ اوجھڑی لے کر آیا اور دیکھتا رہا جب آپ نے سجدہ کیا تو اس نے اس اوجھڑی کو آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا ( عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں ) میں یہ ( سب کچھ ) دیکھ رہا تھا مگر کچھ نہ کر سکتا تھا۔ کاش! ( اس وقت ) مجھے روکنے کی طاقت ہوتی۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے اور ( ہنسی کے مارے ) لوٹ پوٹ ہونے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے ( بوجھ کی وجہ سے ) اپنا سر نہیں اٹھا سکتے تھے۔ یہاں تک کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ بوجھ آپ کی پیٹھ سے اتار کر پھینکا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا پھر تین بار فرمایا۔ یا اللہ! تو قریش کو پکڑ لے، یہ ( بات ) ان کافروں پر بہت بھاری ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بددعا دی۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر ( مکہ ) میں جو دعا کی جائے وہ ضرور قبول ہوتی ہے پھر آپ نے ( ان میں سے ) ہر ایک کا ( جدا جدا ) نام لیا کہ اے اللہ! ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر دے۔ ابوجہل، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو۔ ساتویں ( آدمی ) کا نام ( بھی ) لیا مگر مجھے یاد نہیں رہا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ جن لوگوں کے ( بددعا کرتے وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لیے تھے، میں نے ان کی ( لاشوں ) کو بدر کے کنویں میں پڑا ہوا دیکھا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ سُلاَمَى عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ، يُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ يُحَامِلُهُ عَلَيْهَا أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ، وَكُلُّ خَطْوَةٍ يَمْشِيهَا إِلَى الصَّلاَةِ صَدَقَةٌ، وَدَلُّ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Charity is obligatory everyday on every joint of a human being. If one helps a person in matters concerning his riding animal by helping him to ride it or by lifting his luggage on to it, all this will be regarded as charity. A good word, and every step one takes to offer the compulsory Congregational prayer, is regarded as charity; and guiding somebody on the road is regarded as charity
ہم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”روزانہ انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہے اور اگر کوئی شخص کسی کی سواری میں مدد کرے کہ اس کو سہارا دے کر اس کی سواری پر سوار کرا دے یا اس کا سامان اس پر اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی صدقہ ہے۔ اچھا اور پاک لفظ بھی ( زبان سے نکالنا ) صدقہ ہے۔ ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور ( کسی مسافر کو ) راستہ بتا دینا بھی صدقہ ہے۔“
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ، حَيَّةً لأَقْتُلَهَا فَنَادَانِي أَبُو لُبَابَةَ لاَ تَقْتُلْهَا. فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ. قَالَ إِنَّهُ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ، وَهْىَ الْعَوَامِرُ.
Narrated Ibn `Umar:That he heard the Prophet (ﷺ) delivering a sermon on the pulpit saying, "Kill snakes and kill Dhu-at- Tufyatain (i.e. a snake with two white lines on its back) and Al-Abtar (i.e. a snake with short or mutilated tail) for they destroy the sight of one's eyes and bring about abortion." (`Abdullah bin `Umar further added): Once while I was chasing a snake in order, to kill it, Abu Lubaba called me saying: "Don't kill it," I said. "Allah's Messenger (ﷺ) ordered us to kill snakes." He said, "But later on he prohibited the killing of snakes living in the houses." (Az-Zuhri said. "Such snakes are called Al-Awamir)
Narrated by Ubada
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ، أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ، وَرُوحٌ مِنْهُ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ ". قَالَ الْوَلِيدُ حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ عَنْ عُمَيْرٍ عَنْ جُنَادَةَ وَزَادَ " مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ، أَيَّهَا شَاءَ ".
Narrated 'Ubada:The Prophet (ﷺ) said, "If anyone testifies that None has the right to be worshipped but Allah Alone Who has no partners, and that Muhammad is His Slave and His Apostle, and that Jesus is Allah's Slave and His Apostle and His Word which He bestowed on Mary and a Spirit created by Him, and that Paradise is true, and Hell is true, Allah will admit him into Paradise with the deeds which he had done even if those deeds were few." (Junada, the sub-narrator said, " 'Ubada added, 'Such a person can enter Paradise through any of its eight gates he likes)
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمیر بن ہانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا اور ان سے عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ وحدہ لا شریک ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جسے پہنچا دیا تھا اللہ نے مریم تک اور ایک روح ہیں اس کی طرف سے اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو اس نے جو بھی عمل کیا ہو گا ( آخر ) اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“ ولید نے بیان کیا، کہ مجھ سے ابن جابر نے بیان کیا، ان سے عمیر نے اور جنادہ نے اور اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا ( ایسا شخص ) جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے ( داخل ہو گا ) ۔
Narrated by Zainab bint Jahsh
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ حَدَّثَتْهَا عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا فَزِعًا يَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذَا ". وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ وَبِالَّتِي تَلِيهَا، فَقَالَتْ زَيْنَبُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ " نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ ".
Narrated Zainab bint Jahsh:That the Prophet (ﷺ) came to her in a state of fear saying, "None has the right to be worshiped but Allah! Woe to the Arabs because of evil that has come near. Today a hole has been made in the wall of Gog and Magog as large as this." pointing with two of his fingers making a circle. Zainab said, "I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we be destroyed though amongst us there are pious people? ' He said, 'Yes, if evil increases
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم کو زینب بنت ابی جحش رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت پریشان نظر آ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، عرب کے لیے تباہی اس شر سے آئے گی جس کے واقع ہونے کا زمانہ قریب آ گیا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا شگاف پیدا ہو گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں سے حلقہ بنا کر اس کی وضاحت کی۔ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں نیک لوگ ہوں گے پھر بھی ہم ہلاک کر دیئے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب خباثتیں بڑھ جائیں گی ( تو ایسا ہو گا ) ۔
Narrated by Alqama
حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، دَخَلْتُ الشَّأْمَ فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا. فَرَأَيْتُ شَيْخًا مُقْبِلاً، فَلَمَّا دَنَا قُلْتُ أَرْجُو أَنْ يَكُونَ اسْتَجَابَ. قَالَ مِنْ أَيْنَ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ. قَالَ أَفَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادِ وَالْمِطْهَرَةِ أَوَلَمْ يَكُنْ فِيكُمُ الَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لاَ يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ كَيْفَ قَرَأَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ {وَاللَّيْلِ} فَقَرَأْتُ {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى * وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى * وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى}. قَالَ أَقْرَأَنِيهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاهُ إِلَى فِيَّ، فَمَا زَالَ هَؤُلاَءِ حَتَّى كَادُوا يَرُدُّونِي.
Narrated Alqama:I went to Sham and was offering a two-rak`at prayer; I said, "O Allah! Bless me with a (pious) companion." Then I saw an old man coming towards me, and when he came near I said, (to myself), "I hope Allah has given me my request." The man asked (me), "Where are you from?" I replied, "I am from the people of Kufa." He said, "Weren't there amongst you the Carrier of the (Prophet's) shoes, Siwak and the ablution water container? Weren't there amongst you the man who was given Allah's Refuge from the Satan? And weren't there amongst you the man who used to keep the (Prophet's) secrets which nobody else knew? How did Ibn Um `Abd (i.e. `Abdullah bin Mas`ud) use to recite Surat-al-lail (the Night:92)?" I recited:-- "By the Night as it envelops By the Day as it appears in brightness. And by male and female." (92.1- 3) On that, Abu Darda said, "By Allah, the Prophet (ﷺ) made me read the Verse in this way after listening to him, but these people (of Sham) tried their best to let me say something different
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے، ان سے مغیرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے کہ میں شام پہنچا تو سب سے پہلے میں نے دو رکعت نماز پڑھی اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے کسی ( نیک ) ساتھی کی صحبت سے فیض یابی کی توفیق عطا فرما۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ آ رہے ہیں، جب وہ قریب آ گئے تو میں نے سوچا کہ شاید میری دعا قبول ہو گئی ہے۔ انہوں نے دریافت فرمایا: آپ کا وطن کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں کوفہ کا رہنے والا ہوں، اس پر انہوں نے فرمایا: کیا تمہارے یہاں «صاحب النعلين والوساد والمطهرة» ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نہیں ہیں؟ کیا تمہارے یہاں وہ صحابی نہیں ہیں جنہیں شیطان سے ( اللہ کی ) پناہ مل چکی ہے۔ ( یعنی عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما ) کیا تمہارے یہاں سربستہ رازوں کے جاننے والے نہیں ہیں کہ جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ( پھر دریافت فرمایا ) ابن ام عبد ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) آیت «والليل» کی قرآت کس طرح کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ «والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى * والذكر والأنثى» آپ نے فرمایا کہ مجھے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبان مبارک سے اسی طرح سکھایا تھا۔ لیکن اب شام والے مجھے اس طرح قرآت کرنے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
وَعَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَفَّ بِهِمْ فِي الْمُصَلَّى، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا.
Abu Huraira further said: "Allah's Messenger (ﷺ) made them (i.e. the Muslims) stand in rows at the Musalla (i.e. praying place) and led the funeral prayer for the Negus and said four Takbir
اور صالح سے روایت ہے کہ ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز جنازہ کے لیے ) عیدگاہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو صف بستہ کھڑا کیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ تکبیر کہی تھی۔
Narrated by Mu'tamir's father
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُعْتَمِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ زَعَمَ أَبُو عُثْمَانَ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ تِلْكَ الأَيَّامِ الَّتِي يُقَاتِلُ فِيهِنَّ غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ. عَنْ حَدِيثِهِمَا.
Narrated Mu'tamir's father:`Uthman said that on the day of the battle of Uhud, none remained with the Prophet (ﷺ) but Talha and Sa`d
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَسْوَدَ ـ أَوِ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ـ كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ، فَمَاتَ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْهُ فَقَالُوا مَاتَ. قَالَ " أَفَلاَ كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي بِهِ دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ ". ـ أَوْ قَالَ قَبْرِهَا ـ فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ.
Narrated Abu Huraira:A black man or a black woman used to sweep the mosque and he or she died. The Prophet (ﷺ) asked about her (or him). He was told that she (or he) had died. He said, "Why did you not inform me? Show me his grave (or her grave)." So he went to her (his) grave and offered her (his) funeral prayer
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ثابت سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک حبشی مرد یا حبشی عورت مسجد نبوی میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ ایک دن اس کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ تو انتقال کر گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے مجھے کیوں نہ بتایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز پڑھی۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ {أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ}. قَالَ نَزَلَتْ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ، إِذْ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ.
Narrated Ibn `Abbas:The Verse: "Obey Allah and Obey the Apostle and those of you (Muslims) who are in authority." (4.59) was revealed in connection with `Abdullah bin Hudhafa bin Qais bin `Adi' when the Prophet (ﷺ) appointed him as the commander of a Sariyya (army detachment)
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو حجاج بن محمد نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے، انہیں یعلیٰ بن مسلم نے، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آیت «أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم» ”اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اور اپنے میں سے حاکموں کی۔“ عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مہم پر بطور افسر کے روانہ کیا تھا۔
Narrated by Thabit
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ ذُكِرَ تَزْوِيجُ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ عِنْدَ أَنَسٍ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْلَمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَيْهَا أَوْلَمَ بِشَاةٍ.
Narrated Thabit:The marriage of Zainab bint Jahash was mentioned in the presence of Anas and he said, "I did not see the Prophet (ﷺ) giving a better banquet on marrying any of his wives than the one he gave on marrying Zainab. He then gave a banquet with one sheep
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے ثابت بنانی نے، کہ انس رضی اللہ عنہ کے سامنے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جیسا اپنی بیویوں میں سے کسی کے لیے ولیمہ کرتے نہیں دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ولیمہ ایک بکری سے کیا تھا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رِوَايَةً " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ ـ أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ ـ الْخِتَانُ، وَالاِسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Five practices are characteristics of the Fitra: circumcision, shaving the pubic region, clipping the nails and cutting the moustaches short
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ زہری نے ہم سے بیان کیا (سفیان نے کہا) ہم سے زہری نے سعید بن مسیب سے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) روایت کیا کہ پانچ چیزیں ( فرمایا کہ ) پانچ چیزیں ختنہ کرانا، موئے زیر ناف مونڈنا، بغل کے بال نوچنا، ناخن ترشوانا اور مونچھ کم کرانا پیدائشی سنتوں میں سے ہیں۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْرِفُ غَضَبَكِ وَرِضَاكِ ". قَالَتْ قُلْتُ وَكَيْفَ تَعْرِفُ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " إِنَّكِ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً قُلْتِ بَلَى وَرَبِّ مُحَمَّدٍ. وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً قُلْتِ لاَ وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ". قَالَتْ قُلْتُ أَجَلْ لَسْتُ أُهَاجِرُ إِلاَّ اسْمَكَ.
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) said, " I know whether you are angry or pleased." I said, "How do you know that, Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "When you are pleased, you say, "Yes, by the Lord of Muhammad,' but when you are angry, you say, 'No, by the Lord of Abraham!' " I said, "Yes, I do not leave, except your name
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں تمہاری ناراضگی اور خوشی کو خوب پہچانتا ہوں۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کس طرح سے پہچانتے ہیں؟ فرمایا کہ جب تم خوش ہوتی ہو کہتی ہو، ہاں محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم! بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: جی ہاں , آپ کا فرمانا بالکل صحیح ہے میں صرف آپ کا نام لینا چھوڑتی ہوں۔
Narrated by Shaqiq
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، قَالَ كُنَّا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ إِذْ جَاءَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ فَقُلْنَا أَلاَ تَجْلِسُ قَالَ لاَ وَلَكِنْ أَدْخُلُ فَأُخْرِجُ إِلَيْكُمْ صَاحِبَكُمْ، وَإِلاَّ جِئْتُ أَنَا. فَجَلَسْتُ فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ وَهْوَ آخِذٌ بِيَدِهِ فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ أَمَا إِنِّي أَخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ، وَلَكِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الأَيَّامِ، كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا.
Narrated Shaqiq:While we were waiting for `Abdullah (bin Mas`ud). Yazid bin Muawiya came. I said (to him), "Will you sit down?" He said, "No, but I will go into the house (of Ibn Mas`ud) and let your companion (Ibn Mas`ud) come out to you; and if he should not (come out), I will come out and sit (with you)." Then `Abdullah came out, holding the hand of Yazid, addressed us, saying, "I know that you are assembled here, but the reason that prevents me from coming out to you, is that Allah's Messenger (ﷺ) used to preach to us at intervals during the days, lest we should become bored
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا، کہا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتظار کر رہے تھے کہ یزید بن معاویہ آئے۔ ہم نے کہا، تشریف رکھئے لیکن انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، میں اندر جاؤں گا اور تمہارے ساتھ ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کو باہر لاؤں گا۔ اگر وہ نہ آئے تو میں ہی تنہا آ جاؤں گا اور تمہارے ساتھ بیٹھوں گا۔ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور وہ یزید بن معاویہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے پھر ہمارے سامنے کھڑے ہوئے کہنے لگے میں جان گیا تھا کہ تم یہاں موجود ہو۔ پس میں جو نکلا تو اس وجہ سے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ مقررہ دنوں میں ہم کو وعظ فرمایا کرتے تھے، ( فاصلہ دے کر ) آپ کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ کہیں ہم اکتا نہ جائیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالأَعْرَجِ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ، رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ الْمُسْلِمُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ. فَقَالَ الْيَهُودِيُّ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ، قَالَ فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ فِي أَوَّلِ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَلاَ أَدْرِي أَكَانَ مُوسَى فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ ".
Narrated Abu Huraira:Two men, a Muslim and a Jew, abused each other. The Muslim said, "By Him Who gave superiority to Muhammad over all the people." On that, the Jew said, "By Him Who gave superiority to Moses over all the people." The Muslim became furious at that and slapped the Jew in the face. The Jew went to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him of what had happened between him and the Muslim. Allah's Apostle said, "Don't give me superiority over Moses, for the people will fall unconscious on the Day of Resurrection and I will be the first to gain consciousness, and behold ! Moses will be there holding the side of Allah's Throne. I will not know whether Moses has been among those people who have become unconscious and then has regained consciousness before me, or has been among those exempted by Allah from falling unconscious
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور عبدالرحمٰن الاعرج نے بیان کیا، ان دونوں نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی۔ جن میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی تھا۔ مسلمان نے کہا کہ اس پروردگار کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان پر برگزیدہ کیا۔ یہودی نے کہا کہ اس پروردگار کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان پر برگزیدہ کیا۔ راوی نے بیان کیا کہ مسلمان یہودی کی بات سن کر خفا ہو گیا اور اس کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا۔ وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا اور مسلمان کا سارا واقعہ بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو موسیٰ علیہ السلام پر مجھ کو فضیلت مت دو کیونکہ قیامت کے دن ایسا ہو گا کہ صور پھونکتے ہی تمام لوگ بیہوش ہو جائیں گے اور میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جسے ہوش آئے گا۔ میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا کونہ تھامے ہوئے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کی موسیٰ علیہ السلام بھی ان لوگوں میں ہوں گے جو بیہوش ہوئے تھے اور پھر مجھ سے پہلے ہی ہوش میں آ گئے تھے یا ان میں سے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس سے مستثنیٰ کر دیا۔“
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو النُّعْمَانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:Mu`adh used to pray with the Prophet (ﷺ) and then go and lead his people (tribe) in the prayer
ہم سے سلیمان بن حرب اور ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ معاذ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے پھر واپس آ کر اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ حَاصَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَفْتَحْهَا فَقَالَ " إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ". فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ نَقْفُلُ وَلَمْ نَفْتَحْ. قَالَ " فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ ". فَغَدَوْا فَأَصَابَتْهُمْ جِرَاحَاتٌ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ "، فَكَأَنَّ ذَلِكَ أَعْجَبَهُمْ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) besieged the people of Ta'if, but he did not conquer it. He said, "Tomorrow, if Allah will, we will return home. On this the Muslims said, "Then we return without conquering it?" He said, 'Then carry on fighting tomorrow." The next day many of them were injured. The Prophet (ﷺ) said, "If Allah will, we will return home tomorrow." It seemed that statement pleased them whereupon Allah's Apostle smiled
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے ابوالعاس (سائب بن فروخ) سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف والوں کو گھیر لیا، اس کو فتح نہیں کیا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل اللہ نے چاہا تو ہم مدینہ کو لوٹ چلیں گے، اس پر مسلمان بولے واہ ہم فتح کئے بغیر لوٹ جائیں، آپ نے فرمایا کہ ایسا ہے تو پھر کل سویرے لڑائی شروع کرو، صبح کو مسلمان لڑنے لگے لیکن ( قلع فتح نہیں ہوا ) مسلمان زخمی ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبح کو اللہ نے چاہا تو ہم مدینہ لوٹ چلیں گے، اس پر مسلمان خوش ہوئے، مسلمانوں کا یہ حال دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔