بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
23
22 hadith
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا حَضَرَ أُحُدٌ دَعَانِي أَبِي مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ مَا أُرَانِي إِلاَّ مَقْتُولاً فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَإِنِّي لاَ أَتْرُكُ بَعْدِي أَعَزَّ عَلَىَّ مِنْكَ، غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَإِنَّ عَلَىَّ دَيْنًا فَاقْضِ، وَاسْتَوْصِ بِأَخَوَاتِكَ خَيْرًا‏.‏ فَأَصْبَحْنَا فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ، وَدُفِنَ مَعَهُ آخَرُ فِي قَبْرٍ، ثُمَّ لَمْ تَطِبْ نَفْسِي أَنْ أَتْرُكَهُ مَعَ الآخَرِ فَاسْتَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا هُوَ كَيَوْمِ وَضَعْتُهُ هُنَيَّةً غَيْرَ أُذُنِهِ‏.‏
Narrated Jabir:When the time of the Battle of Uhud approached, my father called me at night and said, "I think that I will be the first amongst the companions of the Prophet (ﷺ) to be martyred. I do not leave anyone after me dearer to me than you, except Allah's Messenger's (ﷺ) soul and I owe some debt and you should repay it and treat your sisters favorably (nicely and politely)." So in the morning he was the first to be martyred and was buried along with another (martyr). I did not like to leave him with the other (martyr) so I took him out of the grave after six months of his burial and he was in the same condition as he was on the day of burial, except a slight change near his ear
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو بشر بن مفضل نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے حسین معلم نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء بن ابی رباح نے ‘ ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب جنگ احد کا وقت قریب آ گیا تو مجھے میرے باپ عبداللہ نے رات کو بلا کر کہا کہ مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سب سے پہلا مقتول میں ہی ہوں گا اور دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا دوسرا کوئی مجھے ( اپنے عزیزوں اور وارثوں میں ) تم سے زیادہ عزیز نہیں ہے ‘ میں مقروض ہوں اس لیے تم میرا قرض ادا کر دینا اور اپنی ( نو ) بہنوں سے اچھا سلوک کرنا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو سب سے پہلے میرے والد ہی شہید ہوئے۔ قبر میں آپ کے ساتھ میں نے ایک دوسرے شخص کو بھی دفن کیا تھا۔ پر میرا دل نہیں مانا کہ انہیں دوسرے صاحب کے ساتھ یوں ہی قبر میں رہنے دوں۔ چنانچہ چھ مہینے کے بعد میں نے ان کی لاش کو قبر سے نکالا دیکھا تو صرف کان تھوڑا سا گلنے کے سوا باقی سارا جسم اسی طرح تھا جیسے دفن کیا گیا تھا۔
Narrated by Abu Sa`id
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا نُطْعِمُ الصَّدَقَةَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ‏.‏
Narrated Abu Sa`id:We used to give one Sa' of barley as Sadaqat-ul-Fitr (per head)
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے زید بن اسلم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عیاض بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم ایک صاع ”جَو“ کا صدقہ دیا کرتے تھے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ رَبَطَ يَدَهُ إِلَى إِنْسَانٍ بِسَيْرٍ، أَوْ بِخَيْطٍ، أَوْ بِشَىْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ قُدْهُ بِيَدِهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:While the Prophet (ﷺ) was performing Tawaf of the Ka`ba, he passed by a person who had tied his hands to another person with a rope or string or something like that. The Prophet (ﷺ) cut it with his own hands and said, "Lead him by the hand
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی، کہا کہ مجھے سلیمان احول نے خبر دی، انہیں طاؤس نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس نے اپنا ہاتھ ایک دوسرے شخص کے ہاتھ سے تسمہ یا رسی یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ دیا اور پھر فرمایا کہ ”اگر ساتھ ہی چلنا ہے تو ہاتھ پکڑ کے چلو۔“
Narrated by Salim's father
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَاشُورَاءَ ‏ "‏ إِنْ شَاءَ صَامَ ‏"‏‏.‏
Narrated Salim's father:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever wishes may fast on the day of 'Ashura
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عمر بن محمد نے، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عاشورہ کے دن اگر کوئی چاہے تو روزہ رکھ لے۔
Narrated by Abu Huraira and Zaid bin Khalid
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصِنْ قَالَ ‏ "‏ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لاَ أَدْرِي بَعْدَ الثَّالِثَةِ، أَوِ الرَّابِعَةِ‏.‏
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid:Allah's Messenger (ﷺ) was asked about the slave-girl, if she was a virgin and committed illegal sexual intercourse. The Prophet (ﷺ) said, "If she committed illegal sexual intercourse, lash her, and if she did it a second time, then lash her again, and if she repeated the third time, then sell her even for a hair rope." Ibn Shihab said, "I don't know whether to sell her after the third or fourth offense
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي، ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ ‏"‏‏.‏
The same narrator said that the Prophet (ﷺ) had said: "You should not pass urine in stagnant water which is not flowing then (you may need to) wash in it
اور اسی سند سے ( یہ بھی ) فرمایا کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو جاری نہ ہو پیشاب نہ کرے۔ پھر اسی میں غسل کرنے لگے؟
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَكْثَرُنَا ظِلاًّ الَّذِي يَسْتَظِلُّ بِكِسَائِهِ، وَأَمَّا الَّذِينَ صَامُوا فَلَمْ يَعْمَلُوا شَيْئًا، وَأَمَّا الَّذِينَ أَفْطَرُوا فَبَعَثُوا الرِّكَابَ وَامْتَهَنُوا وَعَالَجُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالأَجْرِ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas:We were with the Prophet (on a journey) and the only shade one could have was the shade made by one's own garment. Those who fasted did not do any work and those who did not fast served the camels and brought the water on them and treated the sick and (wounded). So, the Prophet (ﷺ) said, "Today, those who were not fasting took (all) the reward
ہم سے سلیمان بن داود ابوالربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے، ان سے عاصم بن سلیمان نے، ان سے مورق عجلی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( ایک سفر میں ) تھے۔ کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روزے سے تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا تھا۔ موسم گرمی کا تھا، ہم میں زیادہ بہتر سایہ جو کوئی کرتا، اپنا کمبل تان لیتا۔ خیر جو لوگ روزے سے تھے وہ کوئی کام نہ کر سکے تھے اور جن حضرات نے روزہ نہیں رکھا تھا تو انہوں نے ہی اونٹوں کو اٹھایا ( پانی پلایا ) اور روزہ داروں کی خوب خوب خدمت بھی کی۔ اور ( دوسرے تمام ) کام کئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آج اجر و ثواب کو روزہ نہ رکھنے والے لوٹ کر لے گئے۔“
Narrated by `Abdur-Rahman bin `Abdullah bin `Abdur-Rahman bin Abi Sasaa Ansari
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَهُ ‏ "‏ إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ وَبَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلاَةِ، فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ، فَإِنَّهُ لاَ يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلاَ إِنْسٌ وَلاَ شَىْءٌ إِلاَّ شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated `Abdur-Rahman bin `Abdullah bin `Abdur-Rahman bin Abi Sasaa Ansari:That Abu Sa`id Al-Khudri said to his father. "I see you are fond of sheep and the desert, so when you want to pronounce the Adhan, raise your voice with it for whoever will hear the Adhan whether a human being, or a Jinn, or anything else, will bear witness, in favor on the Day of Resurrection." Abu Sa`id added, "I have heard this from Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ انصاری نے اور انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ تم کو جنگل میں رہ کر بکریاں چرانا بہت پسند ہے۔ اس لیے جب کبھی اپنی بکریوں کے ساتھ تم کسی بیابان میں موجود ہو اور ( وقت ہونے پر ) نماز کے لیے اذان دو تو اذان دیتے ہوئے اپنی آواز خوب بلند کرو، کیونکہ مؤذن کی آواز اذان کو جہاں تک بھی کوئی انسان، جن یا کوئی چیز بھی سنے گی تو قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔
Narrated by Abu Huraira
وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ نِسَاءُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِبِلَ، أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ ‏"‏‏.‏ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ‏.‏ تَابَعَهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Amongst all those women who ride camels (i.e. Arabs), the ladies of Quraish are the best. They are merciful and kind to their off-spring and the best guardians of their husbands' properties.' Abu Huraira added, "Mary the daughter of `Imran never rode a camel
اور ابن وہب نے بیان کیا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والیوں ( عربی خواتین ) میں سب سے بہترین قریشی خواتین ہیں۔ اپنے بچے پر سب سے زیادہ محبت و شفقت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال و اسباب کی سب سے بہتر نگراں و محافظ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہتے تھے کہ مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئی تھیں۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو زہری کے بھتیجے اور اسحاق کلبی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Usama
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَشْرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى أُطُمٍ مِنَ الآطَامِ، فَقَالَ ‏ "‏ هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى إِنِّي أَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلاَلَ بُيُوتِكُمْ مَوَاقِعَ الْقَطْرِ ‏"‏‏.‏
Narrated Usama:Once the Prophet (ﷺ) stood on one of the high buildings (of Medina) and said, "Do you see what I see? I see affliction pouring among your houses like raindrops
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مدینہ کے ایک بلند ٹیلہ پر چڑھے اور فرمایا ”جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں کیا تمہیں بھی نظر آ رہا ہے؟ میں فتنوں کو دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں میں وہ اس طرح گر رہے ہیں جیسے بارش کی بوندیں گرا کرتیں ہیں۔“
Narrated by `Abdullah bin `Amr
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَسْرُوقًا، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَىَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلاَقًا ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Amr:Allah's Messenger (ﷺ) neither talked in an insulting manner nor did he ever speak evil intentionally. He used to say, "The most beloved to me amongst you is the one who has the best character and manners." He added, " Learn the Qur'an from (any of these) four persons. `Abdullah bin Mas`ud, Salim the freed slave of Abu Hudhaifa, Ubai bin Ka`b, and Mu`adh bin Jabal
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَقَالَ ‏ "‏ اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:that Allah's Messenger (ﷺ) informed them (i.e. his companions) of the death of Negus, the king of Ethiopia, on the very day on which the latter died, and said, "Ask Allah's Forgiveness for your brother
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد (ابراہیم بن سعد) نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے بیان کیا اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دے دی تھی جس دن ان کا انتقال ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اپنے بھائی کی مغفرت کے لیے دعا کرو۔
Narrated by `Ali
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ أَبَوَيْهِ لأَحَدٍ إِلاَّ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ ‏ "‏ يَا سَعْدُ ارْمِ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ‏"‏‏.‏
Narrated `Ali:I have never heard the Prophet (ﷺ) mentioning his father and mother for anybody other than Sa`d bin Malik. I heard him saying on the day of Uhud, "O Sa`d throw (arrows)! Let my father and mother be sacrificed for you
ہم سے بسرہ بن صفوان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عبداللہ بن شداد نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سعد بن مالک کے سوا میں نے اور کسی کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے والدین کا ایک ساتھ ذکر کرتے نہیں سنا، میں نے خود سنا کہ احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ سعد! خوب تیر برساؤ۔ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔
Narrated by Ka`b
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبٍ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ فَنَادَى ‏"‏ يَا كَعْبُ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا ‏"‏‏.‏ وَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَىِ الشَّطْرَ قَالَ لَقَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُمْ فَاقْضِهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Ka`b:In the mosque, I asked Ibn Abi Hadrad to pay the debts which he owed to me and our voices grew louder. Allah's Messenger (ﷺ) heard that while he was in his house. So he came to us raising the curtain of his room and said, "O Ka`b!" I replied, "Labaik, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "O Ka`b! reduce your debt to one half," gesturing with his hand. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have done so." Then Allah's Apostle said (to Ibn Abi Hadrad), "Get up and pay the debt to him
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر عبدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے یونس بن یزید نے زہری کے واسطہ سے، انہوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے، انہوں نے اپنے باپ کعب بن مالک سے کہ انھوں نے مسجد نبوی میں عبداللہ ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا اور دونوں کی گفتگو بلند آوازوں سے ہونے لگی۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے حجرے سے سن لیا۔ آپ پردہ ہٹا کر باہر تشریف لائے اور پکارا۔ کعب، کعب ( رضی اللہ عنہ ) بولے، جی یا رسول اللہ! ( حکم ) فرمائیے کیا ارشاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے قرض میں سے اتنا کم کر دو۔ آپ کا اشارہ تھا کہ آدھا کم کر دیں۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میں نے ( بخوشی ) ایسا کر دیا۔ پھر آپ نے ابن ابی حدرد سے فرمایا، اچھا اب اٹھو اور اس کا قرض ادا کرو۔ ( جو آدھا معاف کر دیا گیا ہے ) ۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ هَلَكَتْ قِلاَدَةٌ لأَسْمَاءَ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي طَلَبِهَا، رِجَالاً فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ‏.‏ وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَصَلَّوْا وَهُمْ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ‏.‏ يَعْنِي آيَةَ التَّيَمُّمِ‏.‏
Narrated `Aisha:The necklace of Asma' was lost, so the Prophet (ﷺ) sent some men to look for it. The time for the prayer became due and they had not performed ablution and could not find water, so they offered the prayer without ablution. Then Allah revealed (the Verse of Tayammum)
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( مجھ سے ) اسماء رضی اللہ عنہا کا ایک ہار گم ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند صحابہ رضی اللہ عنہم کو اسے تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ ادھر نماز کا وقت ہو گیا، نہ لوگ وضو سے تھے اور نہ پانی موجود تھا۔ اس لیے وضو کے بغیر نماز پڑھی گئی اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل کی۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ بَيَانٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ بَنَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِامْرَأَةٍ فَأَرْسَلَنِي فَدَعَوْتُ رِجَالاً إِلَى الطَّعَامِ‏.‏
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) consummated his marriage with a woman (Zainab), so he sent me to invite men to the meals
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے بیان بن بشر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاتون ( زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ) کو نکاح کر کے لائے تو مجھے بھیجا اور میں نے لوگوں کو ولیمہ کھانے کے لیے بلایا۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ أَصْحَابُنَا عَنِ الْمَكِّيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "To get the moustaches cut 'short is characteristic of the Fitra
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے حنظلہ بن ابی ہانی نے، ان سے نافع نے بیان کیا، (امام بخاری رحمہ اللہ نے) کہا کہ اس حدیث کو ہمارے اصحاب نے مکی سے روایت کیا، انہوں نے بحوالہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مونچھ کے بال کتروانا پیدائشی سنت ہے۔“
Narrated by Abu Aiyub Al-Ansari
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Aiyub Al-Ansari:Allah's Messenger (ﷺ) said, "It is not lawful for a man to desert his brother Muslim for more than three nights. (It is unlawful for them that) when they meet, one of them turns his face away from the other, and the other turns his face from the former, and the better of the two will be the one who greets the other first
ہم سے عبدالرحمٰن بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عطاء بن یزید لیثی نے اور انہیں ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ کے لیے ملاقات چھوڑے، اس طرح کہ جب دونوں کا سامنا ہو جائے تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رِوَايَةً قَالَ ‏ "‏ لِلَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا، مِائَةٌ إِلاَّ وَاحِدًا، لاَ يَحْفَظُهَا أَحَدٌ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَهْوَ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah has ninety-nine Names, i.e., one hundred minus one, and whoever believes in their meanings and acts accordingly, will enter Paradise; and Allah is witr (one) and loves 'the witr' (i.e., odd numbers)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ حدیث ابوالزناد سے یاد کی، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایتاً بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، ایک کم سو، جو شخص بھی انہیں یاد کر لے گا جنت میں جائے گا۔ اللہ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَسُبُّوا الأَمْوَاتَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا ‏"‏‏.‏
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "Do not abuse the dead, for they have reached the result of what they have done
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ بن حجاج نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں مجاہد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ مر گئے ان کو برا نہ کہو کیونکہ جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا تھا اس کے پاس وہ خود پہنچ چکے ہیں، انہوں نے برے بھلے جو بھی عمل کئے تھے ویسا بدلہ پا لیا۔“
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:The Prophet, said, "Whenever I start the prayer I intend to prolong it, but on hearing the cries of a child, I cut short the prayer because I know that the cries of the child will incite its mother's passions
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن ابراہیم بن عدی نے سعید بن ابی عروبہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز کی نیت باندھتا ہوں، ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کو طویل کروں گا، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ میں اس درد کو سمجھتا ہوں جو بچے کے رونے کی وجہ سے ماں کو ہو جاتا ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے کہا ہم سے ابان بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ نَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ‏"‏‏.‏ يُرِيدُ الْمُحَصَّبَ‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If Allah wills, tomorrow we will encamp in Khaif Bani Kinana, the place where the pagans took the oath of Kufr (disbelief) against the Prophet. He meant Al-Muhassab. (See Hadith)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ نے ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) فرمایا کہ ہم کل ان شاء اللہ خیف، بنو کنانہ میں قیام کریں گے جہاں ایک زمانہ میں کفار مکہ نے کفر ہی پر قائم رہنے کی آپس میں قسمیں کھائیں تھیں آپ کی مراد وادی محصب سے تھی۔