بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
23
21 hadith
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ ‏"‏ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏ فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ وَقَالَ ‏"‏ أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاَءِ ‏"‏‏.‏ وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسِّلْهُمْ‏.‏ وَأَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِقَتْلَى أُحُدٍ ‏"‏ أَىُّ هَؤُلاَءِ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏ فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى رَجُلٍ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ قَبْلَ صَاحِبِهِ‏.‏ وَقَالَ جَابِرٌ فَكُفِّنَ أَبِي وَعَمِّي فِي نَمِرَةٍ وَاحِدَةٍ‏.‏ وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَنْ، سَمِعَ جَابِرًا ـ رضى الله عنه‏.‏
Narrated Jabir bin `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) shrouded every two martyrs of Uhud in one piece of cloth and then he would ask, "Which of them knew more Qur'an?" When one of them was pointed out he would put him first in the grave. He said, "I am a witness on these." Then he ordered them to be buried with blood on their bodies. Neither did he offer their funeral prayer nor did he get them washed. (Jabir bin `Abdullah added): Allah's Messenger (ﷺ) used to ask about the martyrs of Uhud as to which of them knew more of the Qur'an." And when one of them was pointed out as having more of it he would put him first in the grave and then his companions. (Jabir added): My father and my uncle were shrouded in one sheet
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ غَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ لِيُحَنِّكَهُ، فَوَافَيْتُهُ فِي يَدِهِ الْمِيسَمُ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:I took `Abdullah bin Abu Talha to Allah's Messenger (ﷺ) to perform Tahnik for him. (Tahnik was a custom among the Muslims that whenever a child was born they used to take it to the Prophet (ﷺ) who would chew a piece of date and put a part of its juice in the child's mouth). I saw the Prophet (ﷺ) and he had an instrument for branding in his hands and was branding the camels of Zakat
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ولید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن ابی طلحہ کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تحنیک کر دیں۔ ( یعنی اپنے منہ سے کوئی چیز چبا کر ان کے منہ میں ڈال دیں ) میں نے اس وقت دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں داغ لگانے کا آلہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم زکوٰۃ کے اونٹوں پر داغ لگا رہے تھے۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الأَوَّلَ يَخُبُّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ، وَيَمْشِي أَرْبَعَةً، وَأَنَّهُ كَانَ يَسْعَى بَطْنَ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ‏.‏
Narrated Ibn `Umar:When the Prophet (ﷺ) performed the Tawaf of the Ka`ba, he did Ramal during the first three rounds and in the last four rounds he used to walk and while doing Tawaf between Safa and Marwa, he used to run in the midst of the rain water passage
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف ( یعنی طواف قدوم ) کرتے تو اس کے تین چکروں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑ کر چلتے اور چار میں معمول کے موافق چلتے پھر جب صفا اور مروہ کی سعی کرتے تو ”بطن مسیل“ ( وادی ) میں دوڑ کر چلتے۔
Narrated by Yahya
وَقَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي كَانَتْ، عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ تَصُومُ أَيَّامَ مِنًى، وَكَانَ أَبُوهَا يَصُومُهَا‏.‏
Narrated Yahya:Hisham said, "My father said that 'Aishah (ra) used to observe Saum (fast) on the days of Mina." His (i.e., Hisham's) father also used to observe Saum on those days
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا کہ مجھے میرے باپ عروہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایام منی ( ایام تشریق ) کے روزے رکھتی تھیں اور ہشام کے باپ ( عروہ ) بھی ان دنوں میں روزہ رکھتے تھے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَلَقَّوُا الرُّكْبَانَ، وَلاَ يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلاَ تَنَاجَشُوا وَلاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلاَ تُصَرُّوا الْغَنَمَ، وَمَنِ ابْتَاعَهَا فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْتَلِبَهَا إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not go forward to meet the caravan (to buy from it on the way before it reaches the town). And do not urge buyers to cancel their purchases to sell them (your own goods) yourselves, and do not practice Najsh. A town dweller should not sell the goods for the desert dweller. Do not leave sheep unmilked for a long time, when they are on sale, and whoever buys such an animal has the option of returning it, after milking it, along with a Sa of dates or keeping it. it has been kept unmilked for a long period by the seller (to deceive others)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے، اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تجارتی ) قافلوں کی پیشوائی ( ان کا سامان شہر پہنچے سے پہلے ہی خرید لینے کی غرض سے ) نہ کرو۔ ایک شخص کسی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور کوئی «نجش» ( دھوکہ فریب ) نہ کرے اور کوئی شہری، بدوی کا مال نہ بیچے اور بکری کے تھن میں دودھ نہ روکے۔ لیکن اگر کوئی اس ( آخری ) صورت میں جانور خرید لے تو اسے دوہنے کے بعد دونوں طرح کے اختیارات ہیں۔ اگر وہ اس بیع پر راضی ہے تو جانور کو روک سکتا ہے اور اگر وہ راضی نہیں تو ایک صاع کھجور اس کے ساتھ دے کر اسے واپس کر دے۔
Narrated by Maimuna
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ فَقَالَ ‏ "‏ خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ مَا لاَ أُحْصِيهِ يَقُولُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ‏.‏
Narrated Maimuna:The Prophet (ﷺ) was asked regarding ghee in which a mouse had fallen. He said, "Take out the mouse and throw away the ghee around it (and use the rest)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معن نے، کہا ہم سے مالک نے ابن شہاب کے واسطے سے بیان کیا، وہ عبیداللہ ابن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا جو گھی میں گر گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس چوہے کو اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال کر پھینک دو۔ معن کہتے ہیں کہ مالک نے اتنی بار کہ میں گن نہیں سکتا ( یہ حدیث ) ابن عباس سے اور انہوں نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔
Narrated by Abu Huraira
وَزَادَنَا عَمْرٌو قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ لَمْ يُعْطَ سَخِطَ، تَعِسَ وَانْتَكَسَ، وَإِذَا شِيكَ فَلاَ انْتَقَشَ، طُوبَى لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَشْعَثَ رَأْسُهُ مُغْبَرَّةٍ قَدَمَاهُ، إِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ، وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَةِ كَانَ فِي السَّاقَةِ، إِنِ اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّعْ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَرْفَعْهُ إِسْرَائِيلُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ وَقَالَ تَعْسًا‏.‏ كَأَنَّهُ يَقُولُ فَأَتْعَسَهُمُ اللَّهُ‏.‏ طُوبَى فُعْلَى مِنْ كُلِّ شَىْءٍ طَيِّبٍ، وَهْىَ يَاءٌ حُوِّلَتْ إِلَى الْوَاوِ وَهْىَ مِنْ يَطِيبُ‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, " Let the slave of Dinar and Dirham, of Qatifah and Khamisa perish as he is pleased if these things are given to him, and if not, he is displeased. Let such a person perish and relapse, and if he is pierced with a thorn, let him not find anyone to take it out for him. Paradise is for him who holds the reins of his horse to strive in Allah's Cause, with his hair unkempt and feet covered with dust: if he is appointed in the vanguard, he is perfectly satisfied with his post of guarding, and if he is appointed in the rearward, he accepts his post with satisfaction; (he is so simple and unambiguous that) if he asks for permission he is not permitted, and if he intercedes, his intercession is not accepted
اور عمرو ابن مرزوق نے ہم سے بڑھا کر بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے خبر دی، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اشرفی کا بندہ اور روپے کا بندہ اور کمبل کا بندہ تباہ ہوا، اگر اس کو کچھ دیا جائے تب تو خوش جب نہ دیا جائے تو غصہ ہو جائے، ایسا شخص تباہ سرنگوں ہوا۔ اس کو کانٹا لگے تو اللہ کرے پھر نہ نکلے۔ مبارک کا مستحق ہے وہ بندہ جو اللہ کے راستے میں ( غزوہ کے موقع پر ) اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے، اس کے سر کے بال پراگندہ ہیں اور اس کے قدم گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں، اگر اسے چوکی پہرے پر لگا دیا جائے تو وہ اپنے اس کام میں پوری تندہی سے لگا رہے اور اگر لشکر کے پیچھے ( دیکھ بھال کے لیے ) لگا دیا جائے تو اس میں بھی پوری تندہی اور فرض شناسی سے لگا رہے۔ ( اگرچہ زندگی میں غربت کی وجہ سے اس کی کوئی اہمیت بھی نہ ہو کہ ) اگر وہ کسی سے ملاقات کی اجازت چاہے تو اسے اجازت بھی نہ ملے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش بھی قبول نہ کی جائے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اسرائیل اور محمد بن جحادہ نے ابوحصین سے یہ روایت مرفوعاً نہیں بیان کی ہے اور کہا کہ قرآن مجید میں جو لفظ «تعسا‏» آیا ہے گویا یوں کہنا چاہئے کہ «فأتعسهم الله‏.‏» ( اللہ انہیں گرائے ہلاک کرے ) «طوبى فعلى» کے وزن پر ہے ہر اچھی اور طیب چیز کے لیے۔ واو اصل میں یا تھا ( طیبیٰ ) پھر یا کو واو سے بدل دیا گیا اور یہ طیب سے نکلا ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ‏.‏ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ، إِلاَّ أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If one says one-hundred times in one day: "None has the right to be worshipped but Allah, the Alone Who has no partners, to Him belongs Dominion and to Him belong all the Praises, and He has power over all things (i.e. Omnipotent)", one will get the reward of manumitting ten slaves, and one-hundred good deeds will be written in his account, and one-hundred bad deeds will be wiped off or erased from his account, and on that day he will be protected from the morning till evening from Satan, and nobody will be superior to him except one who has done more than that which he has done
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوبکر کے غلام سمی نے، انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص دن بھر میں سو مرتبہ یہ دعا پڑھے گا «لا إله إلا الله وحده لا شريك له،‏‏‏‏ له الملك،‏‏‏‏ وله الحمد،‏‏‏‏ وهو على كل شىء قدير‏.‏» ”نہیں ہے کوئی معبود، سوا اللہ تعالیٰ کے، اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کا ہے۔ اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ تو اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔ سو نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی اور سو برائیاں اس سے مٹا دی جائیں گی۔ اس روز دن بھر یہ دعا شیطان سے اس کی حفاظت کرتی رہے گی۔ تاآنکہ شام ہو جائے اور کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہ آئے گا، مگر جو اس سے بھی زیادہ یہ کلمہ پڑھ لے۔
Narrated by Sa`id bin Al-Musaiyab
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلاَّ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ، غَيْرَ مَرْيَمَ وَابْنِهَا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ‏{‏وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ‏}‏‏.‏
Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab:Abu Huraira said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'There is none born among the off-spring of Adam, but Satan touches it. A child therefore, cries loudly at the time of birth because of the touch of Satan, except Mary and her child." Then Abu Huraira recited: "And I seek refuge with You for her and for her offspring from the outcast Satan
ہم سے ابولیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا، کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر ایک بنی آدم جب پیدا ہوتا ہے تو پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے اور بچہ شیطان کے چھونے سے زور سے چیختا ہے۔ سوائے مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ علیہما السلام کے۔“ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( اس کی وجہ مریم علیہما السلام کی والدہ کی دعا ہے کہ اے اللہ! ) میں اسے ( مریم کو ) اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
Narrated by `Adi bin Hatim
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، أَخْبَرَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَشَكَا إِلَيْهِ الْفَاقَةَ، ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ، فَشَكَا قَطْعَ السَّبِيلِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَدِيُّ هَلْ رَأَيْتَ الْحِيرَةَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لَمْ أَرَهَا وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِيرَةِ، حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ، لاَ تَخَافُ أَحَدًا إِلاَّ اللَّهَ ‏"‏ ـ قُلْتُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي فَأَيْنَ دُعَّارُ طَيِّئٍ الَّذِينَ قَدْ سَعَّرُوا الْبِلاَدَ ‏"‏ وَلَئِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتُفْتَحَنَّ كُنُوزُ كِسْرَى ‏"‏‏.‏ قُلْتُ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ قَالَ ‏"‏ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ، وَلَئِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ، لَتَرَيَنَّ الرَّجُلَ يُخْرِجُ مِلْءَ كَفِّهِ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ، يَطْلُبُ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ، فَلاَ يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهُ مِنْهُ، وَلَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ يَلْقَاهُ، وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهُ‏.‏ فَيَقُولَنَّ أَلَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ رَسُولاً فَيُبَلِّغَكَ فَيَقُولُ بَلَى‏.‏ فَيَقُولُ أَلَمْ أُعْطِكَ مَالاً وَأُفْضِلْ عَلَيْكَ فَيَقُولُ بَلَى‏.‏ فَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ فَلاَ يَرَى إِلاَّ جَهَنَّمَ، وَيَنْظُرُ عَنْ يَسَارِهِ فَلاَ يَرَى إِلاَّ جَهَنَّمَ ‏"‏‏.‏ قَالَ عَدِيٌّ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقَّةِ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ شِقَّةَ تَمْرَةٍ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ عَدِيٌّ فَرَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ، لاَ تَخَافُ إِلاَّ اللَّهَ، وَكُنْتُ فِيمَنِ افْتَتَحَ كُنُوزَ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ، وَلَئِنْ طَالَتْ بِكُمْ حَيَاةٌ لَتَرَوُنَّ مَا قَالَ النَّبِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يُخْرِجُ مِلْءَ كَفِّهِ ‏"‏‏.‏
Narrated `Adi bin Hatim:While I was in the city of the Prophet, a man came and complained to him (the Prophet, ) of destitution and poverty. Then another man came and complained of robbery (by highwaymen). The Prophet said, "Adi! Have you been to Al-Hira?" I said, "I haven't been to it, but I was informed about it." He said, "If you should live for a long time, you will certainly see that a lady in a Howdah traveling from Al-Hira will (safely reach Mecca and) perform the Tawaf of the Ka`ba, fearing none but Allah." I said to myself, "What will happen to the robbers of the tribe of Tai who have spread evil throughout the country?" The Prophet (ﷺ) further said, "If you should live long, the treasures of Khosrau will be opened (and taken as spoils)." I asked, "You mean Khosrau, son of Hurmuz?" He said, "Khosrau, son of Hurmuz. And if you should live long, you will see that one will carry a handful of gold or silver and go out looking for a person to accept it from him, but will find none to accept it from him. And any of you, when meeting Allah, will meet Him without needing an interpreter between him and Allah to interpret for him, and Allah will say to him: 'Didn't I send a messenger to teach you?' He will say: 'Yes.' Allah will say: 'Didn't I give you wealth and do you favors?' He will say: 'Yes.' Then he will look to his right and see nothing but Hell, and look to his left and see nothing but Hell." `Adi further said: I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Save yourself from the (Hell) Fire even with half a date (to be given in charity) and if you do not find a half date, then with a good pleasant word." `Adi added: (later on) I saw a lady in a Howdah traveling from Al-Hira till she performed the Tawaf of the Ka`ba, fearing none but Allah. And I was one of those who opened (conquered) the treasures of Khosrau, son of Hurmuz. If you should live long, you will see what the Prophet (ﷺ) Abu-l-Qasim had said: 'A person will come out with a handful of gold...etc
مجھ سے محمد بن حکم نے بیان کیا، کہا ہم کو نضر نے خبر دی، کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، کہا ہم کو سعد طائی نے خبر دی، انہیں محل بن خلیفہ نے خبر دی، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک صاحب آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فقر و فاقہ کی شکایت کی، پھر دوسرے صاحب آئے اور راستوں کی بدامنی کی شکایت کی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عدی! تم نے مقام حیرہ دیکھا ہے؟ ( جو کوفہ کے پاس ایک بستی ہے ) میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا تو نہیں، البتہ اس کا نام میں نے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری زندگی کچھ اور لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ہودج میں ایک عورت اکیلی حیرہ سے سفر کرے گی اور ( مکہ پہنچ کر ) کعبہ کا طواف کرے گی اور اللہ کے سوا اسے کسی کا بھی خوف نہ ہو گا۔ میں نے ( حیرت سے ) اپنے دل میں کہا، پھر قبیلہ طے کے ان ڈاکوؤں کا کیا ہو گا جنہوں نے شہروں کو تباہ کر دیا ہے اور فساد کی آگ سلگا رکھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم کچھ اور دنوں تک زندہ رہے تو کسریٰ کے خزانے ( تم پر ) کھولے جائیں گے۔ میں ( حیرت میں ) بول پڑا کسریٰ بن ہرمز ( ایران کا بادشاہ ) کسریٰ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں کسریٰ بن ہرمز! اور اگر تم کچھ دنوں تک اور زندہ رہے تو یہ بھی دیکھو گے کہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں سونا چاندی بھر کر نکلے گا، اسے کسی ایسے آدمی کی تلاش ہو گی ( جو اس کی زکوٰۃ ) قبول کر لے لیکن اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے قبول کر لے۔ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا جو دن مقرر ہے اس وقت تم میں سے ہر کوئی اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ درمیان میں کوئی ترجمان نہ ہو گا ( بلکہ پروردگار اس سے بلاواسطہ باتیں کرے گا ) اللہ تعالیٰ اس سے دریافت کرے گا۔ کیا میں نے تمہارے پاس رسول نہیں بھیجے تھے جنہوں نے تم تک میرا پیغام پہنچا دیا ہو؟ وہ عرض کرے گا بیشک تو نے بھیجا تھا۔ اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا کیا میں نے مال اور اولاد تمہیں نہیں دی تھی؟ کیا میں نے ان کے ذریعہ تمہیں فضیلت نہیں دی تھی؟ وہ جواب دے گا بیشک تو نے دیا تھا۔ پھر وہ اپنی داہنی طرف دیکھے گا تو سوا جہنم کے اسے اور کچھ نظر نہ آئے گا پھر وہ بائیں طرف دیکھے گا تو ادھر بھی جہنم کے سوا اور کچھ نظر نہیں آئے گا۔ عدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جہنم سے ڈرو، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہو۔ اگر کسی کو کھجور کا ایک ٹکڑا بھی میسر نہ آ سکے تو ( کسی سے ) ایک اچھا کلمہ ہی کہہ دے۔ عدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ہودج میں بیٹھی ہوئی ایک اکیلی عورت کو تو خود دیکھ لیا کہ حیرہ سے سفر کے لیے نکلی اور ( مکہ پہنچ کر ) اس نے کعبہ کا طواف کیا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی سے ( ڈاکو وغیرہ ) کا ( راستے میں ) خوف نہیں تھا اور مجاہدین کی اس جماعت میں تو میں خود شریک تھا جس نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے۔ اور اگر تم لوگ کچھ دنوں اور زندہ رہے تو وہ بھی دیکھ لو گے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں ( زکوٰۃ کا سونا چاندی ) بھر کر نکلے گا ( لیکن اسے لینے والا کوئی نہیں ملے گا ) مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم کو سعدان بن بشر نے خبر دی، ان سے ابومجاہد نے بیان کیا، ان سے محل بن خلیفہ نے بیان کیا، اور انہوں نے عدی رضی اللہ سنے سنا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، پھر یہی حدیث نقل کی جو اوپر مذکور ہوئی۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حِينَ مَاتَ النَّجَاشِيُّ ‏ "‏ مَاتَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَى أَخِيكُمْ أَصْحَمَةَ ‏"‏‏.‏
Narrated Jabir:When Negus died, the Prophet (ﷺ) said, "Today a pious man has died. So get up and offer the funeral prayer for your brother Ashama
ہم سے ابوربیع سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جس دن نجاشی ( حبشہ کے بادشاہ ) کی وفات ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آج ایک مرد صالح اس دنیا سے چلا گیا، اٹھو اور اپنے بھائی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھ لو۔“
Narrated by Sa`d
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا، يَقُولُ جَمَعَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ‏.‏
Narrated Sa`d:Allah's Messenger (ﷺ) mentioned both his father and mother for me on the day of the battle of Uhud
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میری ہمت افزائی کے لیے ) اپنے والد اور والدہ دونوں کو جمع فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔
Narrated by Hassan bin Thabit Al-Ansari
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ، يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ يَا حَسَّانُ، أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ‏.‏
Narrated Hassan bin Thabit Al-Ansari:I asked Abu Huraira "By Allah! Tell me the truth whether you heard the Prophet (ﷺ) saying, 'O Hassan! Reply on behalf of Allah's Messenger (ﷺ). O Allah! Help him with the Holy Spirit." Abu Huraira said, "Yes
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے زہری کے واسطے سے کہا کہ مجھے ابوسلمہ (اسماعیل یا عبداللہ) ابن عبدالرحمٰن بن عوف نے، انہوں نے حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر گواہ بنا رہے تھے کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ اے حسان! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ( مشرکوں کو اشعار میں ) جواب دو اور اے اللہ! حسان کی روح القدس کے ذریعہ مدد کر۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہاں ( میں گواہ ہوں۔ بیشک میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے ) ۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنِي الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِدْرِيسَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس ٍ ـ رضى الله عنهما ـ ‏{‏وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ‏}‏ قَالَ وَرَثَةً‏.‏ ‏{‏وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ‏}‏ كَانَ الْمُهَاجِرُونَ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَرِثُ الْمُهَاجِرُ الأَنْصَارِيَّ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ لِلأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمْ فَلَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ‏}‏ نُسِخَتْ، ثُمَّ قَالَ ‏{‏وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ ‏}‏ مِنَ النَّصْرِ، وَالرِّفَادَةِ وَالنَّصِيحَةِ، وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ وَيُوصِي لَهُ‏.‏ سَمِعَ أَبُو أُسَامَةَ إِدْرِيسَ، وَسَمِعَ إِدْرِيسُ طَلْحَةَ‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:Regarding the Verse: "To everyone, We have appointed heirs." (4.33) 'Mawali' means heirs. And regarding:-- "And those to whom your right hands have pledged." When the Emigrants came to Medina, an Emigrant used to be the heir of an Ansari with the exclusion of the latter's relatives, and that was because of the bond of brotherhood which the Prophet (ﷺ) had established between them (i.e. the Emigrants and the Ansar). So when the Verses:-- "To everyone We have appointed heirs." was revealed, (the inheritance through bond of brotherhood) was cancelled. Ibn `Abbas then said: "And those to whom your right hands have pledged." is concerned with the covenant of helping and advising each other. So allies are no longer to be the heir of each other, but they can bequeath each other some of their property by means of a will
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ادریس نے، ان سے طلحہ بن مصرف نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( آیت میں ) «ولكل جعلنا موالي‏» سے مراد وارث ہیں اور «والذين عاقدت أيمانكم‏» کی تفسیر یہ ہے کہ شروع میں جب مہاجرین مدینہ آئے تو قرابت داروں کے علاوہ انصار کے وارث مہاجرین بھی ہوتے تھے۔ اس بھائی چارہ کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان کرایا تھا، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی کہ «ولكل جعلنا موالي‏» تو پہلا طریقہ منسوخ ہو گیا پھر بیان کیا کہ «والذين عاقدت أيمانكم‏» سے وہ لوگ مراد ہیں، جن سے دوستی اور مدد اور خیر خواہی کی قسم کھا کر عہد کیا جائے۔ لیکن اب ان کے لیے میراث کا حکم منسوخ ہو گیا مگر وصیت کا حکم رہ گیا۔ اس اسناد میں ابواسامہ نے ادریس سے اور ادریس نے طلحہ بن مصرف سے سنا ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ ‏"‏ كَمْ أَصْدَقْتَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ‏.‏ وَعَنْ حُمَيْدٍ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ نَزَلَ الْمُهَاجِرُونَ عَلَى الأَنْصَارِ فَنَزَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ أُقَاسِمُكَ مَالِي وَأَنْزِلُ لَكَ عَنْ إِحْدَى امْرَأَتَىَّ‏.‏ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ ��َمَالِكَ‏.‏ فَخَرَجَ إِلَى السُّوقِ فَبَاعَ وَاشْتَرَى فَأَصَابَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ فَتَزَوَّجَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas:When `Abdur-Rahman bin `Auf married an Ansari woman, the Prophet (ﷺ) asked him, "How much Mahr did you give her?" `Abdur-Rahman said, "Gold equal to the weight of a date stone." Anas added: When they (i.e. the Prophet (ﷺ) and his companions) arrived at Medina, the emigrants stayed at the Ansar's houses. `Abdur-Rahman bin `Auf stayed at Sa`d bin Ar-Rabi's house. Sa`d said to `Abdur- Rahman, "I will divide and share my property with you and will give one of my two wives to you." `Abdur-Rahman said, "May Allah bless you, your wives and property (I am not in need of that; but kindly show me the way to the market)." So `Abdur-Rahman went to the market and traded there gaining a profit of some dried yoghurt and butter, and married (an Ansari woman). The Prophet (ﷺ) said to him, "Give a banquet, even if with one sheep
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا، انہوں نے قبیلہ انصار کی ایک عورت سے شادی کی تھی کہ مہر کتنا دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونا۔ اور حمید سے روایت ہے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے بیان کیا کہ جب ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین صحابہ ) مدینہ ہجرت کر کے آئے تو مہاجرین نے انصار کے یہاں قیام کیا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں آپ کو اپنا مال تقسیم کر دوں گا اور اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو آپ کے لیے چھوڑ دوں گا۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ اللہ آپ کے اہل و عیال اور مال میں برکت دے پھر وہ بازار نکل گئے اور وہاں تجارت شروع کی اور پنیر اور گھی نفع میں کمایا۔ اس کے بعد شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ‏.‏ تَابَعَهُ عَمْرٌو أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) cursed those men who are in the similitude (assume the manners) of women and those women who are in the similitude (assume the manners) of men
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت بھیجی جو عورتوں جیسا چال چلن اختیار کریں اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی جو مردوں جیسا چال چلن اختیار کریں۔ غندر کے ساتھ اس حدیث کو عمرو بن مرزوق نے بھی شعبہ سے روایت کیا۔
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كَانَتِ الأَمَةُ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ‏.‏
Anas bin Malik said, "Any of the female slaves of Medina could take hold of the hand of Allah's Messenger (ﷺ) and take him wherever she wished
اور محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو حمید طویل نے خبر دی، کہا ہم سے انس بن مالک نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کا یہ حال تھا کہ ایک لونڈی مدینہ کی لونڈیوں میں سے آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور اپنے کسی بھی کام کے لیے جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی تھی۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لاَ يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَىِّ وَالْمَيِّتِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "The example of the one who celebrates the Praises of his Lord (Allah) in comparison to the one who does not celebrate the Praises of his Lord, is that of a living creature compared to a dead one
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا زندہ اور مردہ جیسی ہے۔“
Narrated by Abu Qatada
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مُسْتَرِيحٌ، وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ، الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Qatada:The Prophet (ﷺ) said, "Relieved or relieving. And a believer is relieved (by death)
مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبدربہ بن سعید نے، ان سے محمد بن عمر نے بیان کیا، ان سے طلحہ بن کعب نے بیان کیا، ان سے ابوقتادہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مرنے والا یا تو آرام پانے والا ہے یا دوسرے بندوں کو آرام دینے والا ہے۔
Narrated by `Abdullah bin 'Abi Qatada
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنِّي لأَقُومُ فِي الصَّلاَةِ أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلاَتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَبَقِيَّةُ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ‏.‏
Narrated `Abdullah bin 'Abi Qatada:My father said, "The Prophet (ﷺ) said, 'When I stand for prayer, I intend to prolong it but on hearing the cries of a child, I cut it short, as I dislike to trouble the child's mother
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ حارث بن ربعی سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز دیر تک پڑھنے کے ارادہ سے کھڑا ہوتا ہوں۔ لیکن کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز کو ہلکی کر دیتا ہوں، کیونکہ اس کی ماں کو ( جو نماز میں شریک ہو گی ) تکلیف میں ڈالنا برا سمجھتا ہوں۔ ولید بن مسلم کے ساتھ اس روایت کی متابعت بشر بن بکر، بقیہ بن ولید اور ابن مبارک نے اوزاعی کے واسطہ سے کی ہے۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَاهُ السَّائِلُ ـ وَرُبَّمَا قَالَ جَاءَهُ السَّائِلُ ـ أَوْ صَاحِبُ الْحَاجَةِ قَالَ ‏ "‏ اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا، وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ مَا شَاءَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Musa:Whenever a beggar or a person in need of something came to the Prophet (ﷺ) , he used to say (to his companions), "Intercede (for him) and you will be rewarded for that, and Allah will fulfill what He will through His Apostle's tongue
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مانگنے والا آتا یا کوئی ضرورت مند آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ اس کی سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی ثواب ملے، اللہ اپنے رسول کی زبان پر وہی جاری کرتا ہے جو چاہتا ہے۔