بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
23
22 hadith
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ادْفِنُوهُمْ فِي دِمَائِهِمْ ‏"‏‏.‏ ـ يَعْنِي يَوْمَ أُحُدٍ ـ وَلَمْ يُغَسِّلْهُمْ‏.‏
Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) said, "Bury them (i.e. martyrs) with their blood." (that was) On the day of the Battle of Uhud. He did not get them washed
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن کعب نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خون سمیت دفن کر دو یعنی احد کی لڑائی کے موقع پر اور انہیں غسل نہیں دیا تھا۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ نَاسًا، مِنْ عُرَيْنَةَ اجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَرَخَّصَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ بِالْحَرَّةِ يَعَضُّونَ الْحِجَارَةَ‏.‏ تَابَعَهُ أَبُو قِلاَبَةَ وَحُمَيْدٌ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ‏.‏
Narrated Anas:Some people from `Uraina tribe came to Medina and its climate did not suit them, so Allah's Messenger (ﷺ) allowed them to go to the herd of camels (given as Zakat) and they drank their milk and urine (as medicine) but they killed the shepherd and drove away all the camels. So Allah's Messenger (ﷺ) sent (men) in their pursuit to catch them, and they were brought, and he had their hands and feet cut, and their eyes were branded with heated pieces of iron and they were left in the Harra (a stony place at Medina) biting the stones. (See Hadith No. 234, Vol)
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ عرینہ کے کچھ لوگوں کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی کہ وہ زکوٰۃ کے اونٹوں میں جا کر ان کا دودھ اور پیشاب استعمال کریں ( کیونکہ وہ ایسے مرض میں مبتلا تھے جس کی دوا یہی تھی ) لیکن انہوں نے ( ان اونٹوں کے ) چرواہے کو مار ڈالا اور اونٹوں کو لے کر بھاگ نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے آخر وہ لوگ پکڑ لائے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دئیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروا دیں پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا ( جس کی شدت کی وجہ سے ) وہ پتھر چبانے لگے تھے۔ اس روایت کی متابعت ابوقلابہ ثابت اور حمید نے انس رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے کی ہے۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، أَنَسٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ سَعَى ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ، وَمَشَى أَرْبَعَةً، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Umar:When Allah's Messenger (ﷺ) performed Tawaf of the Ka`ba for Hajj or `Umra, he used to do Ramal during the first three rounds, and in the last four rounds he used to walk; then after the Tawaf he used to offer two rak`at and then performed Tawaf between Safa and Marwa
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوضمرہ انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے نافع سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مکہ ) آنے کے بعد سب سے پہلے حج اور عمرہ کا طواف کیا تھا۔ اس کے تین چکروں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی ( رمل ) کی اور باقی چار میں حسب معمول چلے۔ پھر طواف کی دو رکعت نماز پڑھی اور صفا مروہ کی سعی کی۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ قَزَعَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثِنْتَىْ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَ سَمِعْتُ أَرْبَعًا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَعْجَبْنَنِي قَالَ ‏ "‏ لاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ إِلاَّ وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ، وَلاَ صَوْمَ فِي يَوْمَيْنِ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى، وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلاَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ، وَلاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الأَقْصَى، وَمَسْجِدِي هَذَا ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:(who fought in twelve Ghazawat in the company of the Prophet). I heard four things from the Prophet (ﷺ) and they won my admiration. He said; -1. "No lady should travel on a journey of two days except with her husband or a Dhi-Mahram; -2. "No fasting is permissible on the two days of Id-ul-Fitr and `Id-ul-Adha; -3. "No prayer (may be offered) after the morning compulsory prayer until the sun rises; and no prayer after the `Asr prayer till the sun sets; -4. "One should travel only for visiting three Masjid (Mosques): Masjid-al-Haram (Mecca), Masjid-al- Aqsa (Jerusalem), and this (my) Mosque (at Medina)
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قزعہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ جہادوں میں شریک رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں سنی ہیں جو مجھے بہت ہی پسند آئیں۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی عورت دو دن ( یا اس سے زیادہ ) کے اندازے کا سفر اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی اور محرم نہ ہو۔ اور عیدالفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اور صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز جائز نہیں اور چوتھی بات یہ کہ تین مساجد کے سوا اور کسی جگہ کے لیے «شد الرحال» سفر نہ کیا جائے، ”مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری یہ مسجد ( مسجد نبوی ) ۔
Narrated by `Abdullah bin Mas`ud
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُحَفَّلَةً، فَرَدَّهَا فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا‏.‏ وَنَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُلَقَّى الْبُيُوعُ‏.‏
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:Whoever buys a sheep which has not been milked for a long time, has the option of returning it along with one Sa of dates; and the Prophet (ﷺ) forbade going to meet the seller on the way (as he has no knowledge of the market price and he may sell his goods at a low price)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہم سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو شخص «مصراة» بکری خریدے اور اسے واپس کرنا چاہے تو ( اصل مالک کو ) اس کے ساتھ ایک صاع بھی دے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ والوں سے ( جو مال بیچنے لائیں ) آگے بڑھ کر خریدنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated by Maimuna
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ فَقَالَ ‏ "‏ أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ‏.‏ وَكُلُوا سَمْنَكُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated Maimuna:Allah's Messenger (ﷺ) was asked regarding ghee (cooking butter) in which a mouse had fallen. He said, "Take out the mouse and throw away the ghee around it and use the rest
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو مالک نے ابن شہاب کے واسطے سے روایت کی، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چوہے کے بارہ میں پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا تھا۔ فرمایا اس کو نکال دو اور اس کے آس پاس ( کے گھی ) کو نکال پھینکو اور اپنا ( باقی ) گھی استعمال کرو۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ وَالْقَطِيفَةِ وَالْخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَرْضَ ‏"‏‏.‏ لَمْ يَرْفَعْهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي حَصِينٍ‏.‏
Narrated Abu Huraira: The Prophet (ﷺ) said, "Let the slave of Dinar and Dirham, and of Qatifah and Khamisa (i.e. money and luxurious clothes) perish for he is pleased if these things are given to him, and if not, he is displeased
ہم سے یحییٰ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر نے خبر دی، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اشرفی کا بندہ، روپے کا بندہ، چادر کا بندہ، کمبل کا بندہ ہلاک ہوا کہ اگر اسے کچھ دے دیا جائے تب تو خوش ہو جاتا ہے اور اگر نہیں دیا جائے تو ناراض ہو جاتا ہے۔“ اس حدیث کو اسرائیل اور محمد بن جہادہ نے ابوحصین سے مرفوع نہیں کیا۔
Narrated by Abu Qatada
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلُمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ حُلُمًا يَخَافُهُ فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنَّهَا لاَ تَضُرُّهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Qatada:as below. Narrated Abu Qatada: The Prophet (ﷺ) said, "A good dream is from Allah, and a bad or evil dream is from Satan; so if anyone of you has a bad dream of which he gets afraid, he should spit on his left side and should seek Refuge with Allah from its evil, for then it will not harm him
(دوسری سند) ہم سے ابوالمغیرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مثل روایت سابقہ کی حدیث بیان کی) مجھ سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ اس لیے اگر کوئی برا اور ڈراونا خواب دیکھے تو بائیں طرف تھوتھو کر کے شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ اس عمل سے شیطان اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔“
Narrated by Malik bin Sasaa
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ ‏ "‏ ثُمَّ صَعِدَ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ فَاسْتَفْتَحَ، قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ‏.‏ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ‏.‏ فَلَمَّا خَلَصْتُ، فَإِذَا يَحْيَى وَعِيسَى وَهُمَا ابْنَا خَالَةٍ‏.‏ قَالَ هَذَا يَحْيَى وَعِيسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا‏.‏ فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا ثُمَّ قَالاَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ‏"‏‏.‏
Narrated Malik bin Sasaa:That the Prophet (ﷺ) talked to them about the night of his Ascension to the Heavens. He said, "(Then Gabriel took me) and ascended up till he reached the second heaven where he asked for the gate to be opened, but it was asked, 'Who is it?' Gabriel replied, 'I am Gabriel.' It was asked, 'Who is accompanying you?' He replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' He said, 'Yes.' When we reached over the second heaven, I saw Yahya (i.e. John) and Jesus who were cousins. Gabriel said, 'These are John (Yahya) and Jesus, so greet them.' I greeted them and they returned the greeting saying, 'Welcome, O Pious Brother and Pious Prophet!;
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کے متعلق بیان فرمایا کہ پھر آپ اوپر چڑھے اور دوسرے آسمان پر تشریف لے گئے۔ پھر دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔ پوچھا گیا: کون ہیں؟ کہا کہ جبرائیل علیہ السلام۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پوچھا گیا: کیا انہیں لانے کے لیے بھیجا، کہا کہ جی ہاں۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام وہاں موجود تھے۔ یہ دونوں نبی آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے سلام کیا، دونوں نے جواب دیا اور کہا خوش آمدید نیک بھائی اور نیک نبی۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُونَ، فَيُقَالُ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ الرَّسُولَ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ نَعَمْ‏.‏ فَيُفْتَحُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ يَغْزُونَ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ الرَّسُولَ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ نَعَمْ‏.‏ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "A time will come when the people will wage holy war, and it will be asked, 'Is there any amongst you who has enjoyed the company of Allah's Messenger (ﷺ)?' They will say: 'Yes.' And then victory will be bestowed upon them. They will wage holy war again, and it will be asked: 'Is there any among you who has enjoyed the company of the companions of Allah's Messenger (ﷺ) ?' They will say: 'Yes.' And then victory will be bestowed on them
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جہاد کے لیے فوج جمع ہو گی، پوچھا جائے گا کہ فوج میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہو؟ ان سے کہا جائے گا کہ ہاں ہیں تو ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گی۔ پھر ایک جہاد ہو گا اور پوچھا جائے گا: کیا فوج میں کوئی ایسے شخص ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کی صحبت اٹھائی ہو؟ ان سے کہا جائے گا کہ ہاں ہیں تو ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گا۔ پھر ان کی دعا کی برکت سے فتح ہو گی۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،، قَالَ ضَمَّنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى صَدْرِهِ وَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:Once the Prophet (ﷺ) embraced me (pressed me to his chest) and said, "O Allah, teach him wisdom (i.e. the understanding of the knowledge of Qur'an)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینے سے لگایا اور فرمایا ”اے اللہ! اسے حکمت کا علم عطا فرما۔“
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَكُمْ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Musa:We received the news of the departure of the Prophet (to Medina) while we were in Yemen. So we went on board a ship but our ship took us away to An-Najashi (the Negus) in Ethiopia. There we met Ja`far bin Abi Talib and stayed with him till we came (to Medina) by the time when the Prophet (ﷺ) had conquered Khaibar. The Prophet (ﷺ) said, "O you people of the ship! You will have (the reward of) two migrations
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کی اطلاع ملی تو ہم یمن میں تھے۔ پھر ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن اتفاق سے ہوا نے ہماری کشتی کا رخ نجاشی کے ملک حبشہ کی طرف کر دیا۔ ہماری ملاقات وہاں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی ( جو ہجرت کر کے وہاں موجود تھے ) ہم انہیں کے ساتھ وہاں ٹھہرے رہے، پھر مدینہ کا رخ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملاقات ہوئی جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اے کشتی والو! دو ہجرتیں کی ہیں۔
Narrated by Sa`d bin Abi Waqqas
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ نَثَلَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كِنَانَتَهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ ‏ "‏ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ‏"‏‏.‏
Narrated Sa`d bin Abi Waqqas:The Prophet (ﷺ) took out a quiver (of arrows) for me on the day of Uhud and said, "Throw (arrows); let my father and mother be sacrificed for you
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم سعدی نے بیان کیا، کہا میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش کے تیر مجھے نکال کر دیئے اور فرمایا کہ خوب تیر برسائے جا۔ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔
Narrated by Abu Burda bin `Abdullah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ مَرَّ فِي شَىْءٍ مِنْ مَسَاجِدِنَا أَوْ أَسْوَاقِنَا بِنَبْلٍ، فَلْيَأْخُذْ عَلَى نِصَالِهَا، لاَ يَعْقِرْ بِكَفِّهِ مُسْلِمًا ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Burda bin `Abdullah:(on the authority of his father) The Prophet (ﷺ) said, "Whoever passes through our mosques or markets with arrows should hold them by their heads lest he should injure a Muslim
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے کہ کہا ہم سے ابوبردہ بن عبداللہ نے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری صحابی) سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص ہماری مساجد یا ہمارے بازاروں میں تیر لیے ہوئے چلے تو ان کے پھل تھامے رہے، ایسا نہ ہو کہ اپنے ہاتھوں سے کسی مسلمان کو زخمی کر دے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏.‏ قَالَ الشَّيْبَانِيُّ وَذَكَرَهُ أَبُو الْحَسَنِ السُّوَائِيُّ وَلاَ أَظُنُّهُ ذَكَرَهُ إِلاَّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ‏}‏ قَالَ كَانُوا إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ كَانَ أَوْلِيَاؤُهُ أَحَقَّ بِامْرَأَتِهِ، إِنْ شَاءَ بَعْضُهُمْ تَزَوَّجَهَا، وَإِنْ شَاءُوا زَوَّجُوهَا، وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يُزَوِّجُوهَا، فَهُمْ أَحَقُّ بِهَا مِنْ أَهْلِهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي ذَلِكَ‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:regarding the Divine Verse: "O you who believe! You are forbidden to inherit women against their will, and you should not treat them with harshness that you may take back part of the (Mahr) dower you have given them." (4.19) (Before this revelation) if a man died, his relatives used to have the right to inherit his wife, and one of them could marry her if he wished, or they would give her in marriage if they wished, or, if they wished, they would not give her in marriage at all, and they would be more entitled to dispose her, than her own relatives. So the above Verse was revealed in this connection
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسباط بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق شیبانی نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور شیبانی نے کہا کہ یہ حدیث ابوالحسن عطا سوائی نے بھی بیان کی ہے اور جہاں تک مجھے یقین ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے بیان کیا ہے کہ آیت «يا أيها الذين آمنوا لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن‏» ”اے ایمان والو! تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم عورتوں کے زبردستی مالک ہو جاؤ اور نہ انہیں اس غرض سے قید رکھو کہ تم نے انہیں جو کچھ دے رکھا ہے، اس کا کچھ حصہ وصول کر لو، انہوں نے بیان کیا کہ جاہلیت میں کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو شوہر کے رشتہ دار اس عورت کے زیادہ مستحق سمجھے جاتے۔ اگر انہیں میں سے کوئی چاہتا تو اس سے شادی کر لیتا، یا پھر وہ جس سے چاہتے اسی سے اس کی شادی کرتے اور چاہتے تو نہ بھی کرتے، اس طرح عورت کے گھر والوں کے مقابلہ میں بھی شوہر کے رشتہ دار اس کے زیادہ مستحق سمجھے جاتے، اسی پر یہ آیت «يا أيها الذين آمنوا لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها» نازل ہوئی۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، فَكَانَ أُمَّهَاتِي يُوَاظِبْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ، وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً، فَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ، وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ، أَصْبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِهَا عَرُوسًا، فَدَعَا الْقَوْمَ فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ، ثُمَّ خَرَجُوا وَبَقِيَ رَهْطٌ مِنْهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَطَالُوا الْمُكْثَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِكَىْ يَخْرُجُوا، فَمَشَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَشَيْتُ، حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَقُومُوا، فَرَجَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا فَضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:I was ten years old when Allah's Messenger (ﷺ) arrived at Medina. My mother and aunts used to urge me to serve the Prophet (ﷺ) regularly, and I served him for ten years. When the Prophet (ﷺ) died I was twenty years old, and I knew about the order of Al-Hijab (veiling of ladies) more than any other person when it was revealed. It was revealed for the first time when Allah's Messenger (ﷺ) had consummated his marriage with Zainab bint Jahsh. When the day dawned, the Prophet (ﷺ) was a bridegroom and he invited the people to a banquet, so they came, ate, and then all left except a few who remained with the Prophet (ﷺ) for a long time. The Prophet (ﷺ) got up and went out, and I too went out with him so that those people might leave too. The Prophet (ﷺ) proceeded and so did I, till he came to the threshold of `Aisha's dwelling place. Then thinking that these people have left by then, he returned and so did I along with him till he entered upon Zainab and behold, they were still sitting and had not gone. So the Prophet (ﷺ) again went away and I went away along with him. When we reached the threshold of `Aisha's dwelling place, he thought that they had left, and so he returned and I too, returned along with him and found those people had left. Then the Prophet (ﷺ) drew a curtain between me and him, and the Verses of Al-Hijab were revealed
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے تو ان کی عمر دس برس کی تھی۔ میری ماں اور بہنیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے مجھ کو تاکید کرتی رہتی تھیں۔ چنانچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس برس تک خدمت کی اور جب آپ کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا۔ پردہ کے متعلق میں سب سے زیادہ جاننے والوں میں سے ہوں کہ کب نازل ہوا۔ سب سے پہلے یہ حکم اس وقت نازل ہوا تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما سے نکاح کے بعد انہیں اپنے گھر لائے تھے، آپ ان کے دولہا بنے تھے۔ پھر آپ نے لوگوں کو ( دعوت ولیمہ پر ) بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا اور چلے گئے۔ لیکن کچھ لوگ ان میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ( کھانے کے بعد بھی ) دیر تک وہیں بیٹھے ( باتیں کرتے رہے ) آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور باہر تشریف لے گئے۔ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر گیا تاکہ یہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے اور میں بھی آپ کے ساتھ رہا۔ جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس دروازے پر آئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں۔ اس لیے آپ واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ آیا۔ جب آپ زینب رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے ہیں اور ابھی تک نہیں گئے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے دروازے پر پہنچے اور آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں تو آپ پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ اب وہ لوگ واقعی جا چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے اور میرے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ فَانْصَرَفَ فَانْصَرَفْتُ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ لُكَعُ ـ ثَلاَثًا ـ ادْعُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَمْشِي وَفِي عُنُقِهِ السِّخَابُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ هَكَذَا، فَقَالَ الْحَسَنُ بِيَدِهِ، هَكَذَا فَالْتَزَمَهُ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ، فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَعْدَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا قَالَ‏.‏
Narrated Abu Huraira:I was with Allah's Messenger (ﷺ) in one of the Markets of Medina. He left (the market) and so did I. Then he asked thrice, "Where is the small (child)?" Then he said, "Call Al-Hasan bin `Ali." So Al-Hasan bin `Ali got up and started walking with a necklace (of beads) around his neck. The Prophet (ﷺ) stretched his hand out like this, and Al-Hasan did the same. The Prophet (ﷺ) embraced him and said, "O Allah! I love him, so please love him and love those who love him." Since Allah's Messenger (ﷺ) said that. nothing has been dearer to me than Al-Hasan
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن آدم نے خبر دی، کہا ہم سے ورقاء بن عمر نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی یزید نے، ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے بازاروں میں سے ایک بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو میں پھر آپ کے ساتھ واپس ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ کہاں ہے۔ یہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔ حسن بن علی کو بلاؤ۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما آ رہے تھے اور ان کی گردن میں ( خوشبودار لونگ وغیرہ کا ) ہار پڑا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس طرح پھیلایا کہ ( آپ حسن رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگانے کے لیے ) اور حسن رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا ہاتھ پھیلایا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور ان سے بھی محبت کر جو اس سے محبت رکھیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد کوئی شخص بھی حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ مجھے پیارا نہیں تھا۔
Narrated by Haritha bin Wahb
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ، كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَاعِفٍ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ، أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ ‏"‏‏.‏
Narrated Haritha bin Wahb: Al-Khuzai: The Prophet (ﷺ) said, "Shall I inform you about the people of Paradise? They comprise every obscure unimportant humble person, and if he takes Allah's Oath that he will do that thing, Allah will fulfill his oath (by doing that). Shall I inform you about the people of the Fire? They comprise every cruel, violent, proud and conceited person
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے معبد بن خالد قیسی نے بیان کیا، ان سے حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت والوں کی خبر نہ دوں۔ ہر کمزور و تواضع کرنے والا اگر وہ ( اللہ کا نام لے کر ) قسم کھا لے تو اللہ اس کی قسم پوری کر دے۔ کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر نہ دوں ہر تند خو، اکڑ کر چلنے والا اور متکبر۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "There are two expressions which are very easy for the tongue to say, but they are very heavy in the balance and are very dear to The Beneficent (Allah), and they are, 'Subhan Allah Al- `Azim and 'Subhan Allah wa bihamdihi
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں ترازو میں بہت بھاری اور رحمان کو عزیز ہیں «سبحان الله العظيم،‏‏‏‏ سبحان الله وبحمده» ۔“
Narrated by Abu Qatada bin Rib'i Al-Ansari
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ ‏"‏ مُسْتَرِيحٌ، وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ قَالَ ‏"‏ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلاَدُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Qatada bin Rib'i Al-Ansari:A funeral procession passed by Allah's Messenger (ﷺ) who said, "Relieved or relieving?" The people asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What is relieved and relieving?" He said, "A believer is relieved (by death) from the troubles and hardships of the world and leaves for the Mercy of Allah, while (the death of) a wicked person relieves the people, the land, the trees, (and) the animals from him
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو حلحلہ نے، ان سے سعد بن کعب بن مالک نے، ان سے ابوقتادہ بن ربعی انصاری رضی اللہ عنہ نے، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «مستريح» یا «مستراح» ہے یعنی اسے آرام مل گیا، یا اس سے آرام مل گیا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ”المستریح او المستراح منہ“ کا کیا مطلب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن بندہ دنیا کی مشقتوں اور تکلیفوں سے اللہ کی رحمت میں نجات پا جاتا ہے وہ «مستريح» ہے اور «مستراح» منہ وہ ہے کہ فاجر بندہ سے اللہ کے بندے، شہر، درخت اور چوپائے سب آرام پا جاتے ہیں۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُوجِزُ الصَّلاَةَ وَيُكْمِلُهَا‏.‏
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) used to pray a short prayer (in congregation) but used to offer it in a perfect manner
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو مختصر اور پوری پڑھتے تھے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ فَنَزَعْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَنْزِعَ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ حَوْلَهُ بِعَطَنٍ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, I saw myself (in a dream) standing by a well. I drew from it as much water as Allah wished me to draw, and then Ibn Quhafa (Abu Bakr) took the bucket from me and drew one or two buckets, and there was weakness in his drawing----may Allah forgive him! Then `Umar took the bucket which turned into something like a big drum. I had never seen a powerful man among the people working as perfectly and vigorously as he did. (He drew so much water that) the people drank to their satisfaction and watered their camels that knelt down there. (See Hadith No. 16, Vol)
ہم سے یسرہ بن صفوان بن جمیل اللحمی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا۔ پھر میں نے جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا اس میں سے پانی نکالا۔ اس کے بعد ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ نے ڈول لے لیا اور انہوں نے بھی ایک دو ڈول پانی نکالا البتہ ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اور اللہ انہیں معاف کرے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا اور وہ ان کے ہاتھ میں ایک بڑا ڈول بن گیا۔ میں نے کسی قوی و بہادر کو اس طرح ڈول پر ڈول نکالتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ لوگوں نے ان کے چاروں طرف مویشیوں کے لیے باڑیں بنا لیں۔“