وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الأَسْوَدِ، يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى شَدَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . بِمِثْلِهِ .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) saying like this
(ابن وہب کے بجائے ) مقری نے حیوہ سے باقی ماندہ اسی سند کےساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ - قَالَتْ - فَسَلَّمْتُ فَقَالَ " مَنْ هَذِهِ " . قُلْتُ أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ . قَالَ " مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ " . فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ . فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلاً أَجَرْتُهُ فُلاَنُ بْنُ هُبَيْرَةَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ " . قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَذَلِكَ ضُحًى .
Abu Murra, the freed slave of Umm Hani, daughter of Abu Talib, reported Umm Hani to be saying:I went to the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of the Conquest of Mecca and found him taking a bath, and Fatimah, his daughter, had provided him privacy with the help of a cloth. I gave him salutation and he said: Who is she? I said: It is Umm Hani, daughter of Abu Talib. He (the Holy Prophet) said: Greeting for Umm Hani. When he had completed the bath, he stood up and observed eight rak'ahs wrapped up in one cloth. When he turned back (after the prayer), I said to him: Messenger of Allah, the son of my mother 'Ali b. Abu Talib is going to kill a person, Fulan b. Hubaira whom I have given protection. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: We too have given protection whom you have given protection, O Umm Hani. Umm Hani said: It was the forenoon (prayer)
ابو نضر سے روایت ہے کہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہاتے ہوئے پایا جبکہ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کو کپڑے سےچھپائے ہوئے تھیں ( آگے پردہ کیا ہوا تھا ) میں نے سلام عرض کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے؟میں نے کہا : ام ہانی بنت ابی طالب ہوں ۔ آپ نے فرمایا : " ام ہانی کو خوش آمدید! " جب آپ نہانے سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے اور صرف ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے آٹھ رکعتیں پڑھیں ، جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرا ماں جایا بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ چاہتا ہے کہ ایک ایسے آدمی کو قتل کردے جسے میں نے پناہ دے چکی ہوں ۔ یعنی ہبیرہ کا بیٹا ، فلاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : امی ہانی! جس کو تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ " وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي أَصْحَابِ الإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَصْحَابِ الشَّاءِ " .
Shu'ba narrated the hadith as reported by Jarir with the same chain of narrators with this addition:Pride and conceitedness is among the owners of the camels and tranquillity and sobriety is found amongst the owners of sheep
شعبہ نے اعمش سے سابقہ سند کے ساتھ جریر کی طرح حدیث سنائی اور یہ ا لفاظ زائد بیان کیے کہ ’’غرور اور گھمنڈ اونٹ والوں میں اور سکون ووقار بھیڑ بکری ( پالنے ) والوں میں ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ، هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي، سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلاَ يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ " .
It is narrated on the authority of Abu Sa'id al-Khudri that the Prophet (ﷺ) said:Whenever you come across a bier you should stand up, and he who follows it should not sit down till it is placed on the ground
ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم جنازے کو دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور جو شخص جنازے کے پیچھے ( ساتھ ) جائے تو وہ نہ بیٹھے یہاں تک کہ اس ( جنازے ) کو رکھ دیا جائے ۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي، الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ رَجُلٌ لأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ . قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ . فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ . قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ . فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ . فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِيٍّ وَعَلَى سَارِقٍ . فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ قُبِلَتْ أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ وَلَعَلَّ السَّارِقَ يَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ سَرِقَتِهِ " .
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:A man expressed his intention to give charity, so he came out with charity and placed it in the hand of an adulteress. In the morning, the people were talking and saying: charity was given to an adulteress last night. He (the giver of Sadaqa) said: 0 Allah, to Thee be the praise-to an adulteress. He then again expressed his intention to give charity; so he went out with the charity and placed it in the hand of a rich person. In the morning the people were talking and saying: Charity was given to a rich person. He (the giver of charity) said: 0 Allah, to Thee be the praise-to a well-to-do person. He then expressed his intention to give charity, so he went out with charity and placed it in the hand of a thief. In the morning, the people were talking and saying: Charity was given to a thief. So (one of the persons) said: 0 Allah, to Thee be the praise (what a misfortune it is that charity has been given to) the adulteress, to a rich person. to a thief! There came (the angel to him) and he was told: Your charity has been accepted. As for the adulteress (the charity might become the means) whereby she might restrain herself from fornication. The rich man might perhaps learn a lesson and spend from what Allah has given him, and the thief might thereby refrain from committing theft
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک آدمی نے کہا : میں آج رات ضرور کچھ صدقہ کروں گا تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسےایک زانیہ کے ہاتھ میں دے دیا ، صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ پر صدقہ کیا گیا ، اس آدمی نے کہا : اے اللہ تیری حمد!زانیہ پر ( صدقہ ہوا ) میں ضرور صدقہ کروں گا ، پھر وہ صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک مالدار کے ہاتھ میں دے دیا ۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے : ایک مال دار پر صدقہ کیا گیا ۔ اس نے کہا : اے اللہ تیری حمد! مالدار پر ( صدقہ ہوا ) میں ضرور کچھ صدقہ کروں گا اور وہ اپنا صدقہ لے کر نکلاتو اسے ایک چور کے ہاتھ پر رکھ دیا ۔ لوگ صبح کو باتیں کرنے لگے : چور پر صدقہ کیا گیا ۔ تو اس نے کہا : اے اللہ ! سب حمد تیرے ہی لئے ہے ، زانیہ پر ، مالدار پر ، اور چور پر ( صدقہ ہوا ) ۔ اس کو ( خواب میں ) کہا گیا تمہارا صدقہ قبول ہوچکا ، جہاں تک زانیہ کا تعلق ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس ( صدقے ) کی وجہ سے زانیہ اپنے زنا سے پاک دامنی اختیار کرلے اور شاید مال دارعبرت پکڑے اور اللہ نے جو اسے دیا ہے ( خود ) اس میں صدقہ کرے اور شاید اس کی وجہ سے چور اپنی چوری سے باز آجائے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ، جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - وَهُوَ ابْنُ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ الأَنْصَارِيُّ أَبُو طُوَالَةَ - أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَفْتِيهِ وَهِيَ تَسْمَعُ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُدْرِكُنِي الصَّلاَةُ وَأَنَا جُنُبٌ أَفَأَصُومُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَنَا تُدْرِكُنِي الصَّلاَةُ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَصُومُ " . فَقَالَ لَسْتَ مِثْلَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ . فَقَالَ " وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي " .
A'isha reported that a person came to the Apottle of Allah (ﷺ) asking for a fatwa (religious verdict). She ('A'isha) had been overhearing it from behind the curtain. 'A'isha added that he (the person) had said:Messenger of Allah, (the time) of prayer overtakes me as I am in a state of junub; should I observe fast (in this state)? Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: (At times the time) of prayer overtakes me while I am in a state of junub, and I observe fast (in that very state), whereupon he said: Messenger of Allah, you are not like us Allah has pardoned all your sins, the previous ones and the later ones. Upon this he (the Holy Prophet) said: By Allah, I hope I am the most God-fearirg of you, and possess the best knowledge among you of those (things) against which I should guard
یحییٰ بن یحییٰ ، ایوب ، قتیبہ ، ابن حجر ، ابن ایوب ، اسماعیل بن جعفر ، عبداللہ بن عبداالرحمٰن ، ابن معمر بن حزم انصاری ، ابو طوالہ ، یونس ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے آیا اور وہ دروازہ کے پیچھے سے سن رہی تھیں ۔ اس آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنبی حالت میں ہوتا ہوں کہ نماز کا وقت ہوجاتاہے تو کیا میں اس وقت روزہ رکھ سکتا ہوں؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی تو نماز کے وقت جنبی حالت میں اٹھتا ہوں تو میں بھی تو روزہ رکھتا ہوں ۔ تو اس آدمی نے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ہماری طرح تو نہیں ہیں آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ اللہ نے معاف فرمادیئے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ میں تم میں سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور میں تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں ان چیزوں کو جن سے بچنا چاہیے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ . وَقَالَ الْمِسْوَرُ لاَ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ . فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ - قَالَ - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ - رضى الله عنه - يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ اصْبُبْ . فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُهُ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ .
Ibrahim b. 'Abdullah narrated on the authorrity of his father that there cropped up a difference of opinion between Abdullah b. 'Abbas and al-Miswar b. Makhrama at a place (called) Abwa'. Abdullah b. 'Abbas contended that a Muhrim (is permitted) to wash his head, whereas Miswar contended that a Muhrim is not (permit- fed) to wash his head. So Ibn Abbas sent me (the father of Ibrabim) to Abu Ayyub al- Ansirl to ask him about it. (So I went to him) and found him taking bath behind two poles covered by a cloth. I gave him salutation, whereupon be asked:Who is this? I said: I am 'Abdullah b. Hunain. 'Abdullah b. 'Abbas has sent me to you to find out how the Messenger of Allah (ﷺ) washed his head in the state of Ihram. Abu Ayyub (Allah be pleased with him) placed his hand on the cloth and lowered it (a little) till his head became visible to me; and he said to the man who was pouring water upon him to pour water. He poured water on his head. He then moved his head with the help of his hands and moved them (the hands) forward and backward and then said: This is how I saw him (the Messenger of Allah) doing
سفیان بن عیینہ اور مالک بن انس نے زید بن اسلم سے انھوں نے ابرا ہیم بن عبد اللہ بن حنین سے انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن حنین ) سے انھوں نے عبد اللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ابو اء کے مقام پر ان دونوں کے در میان اختلا ف ہوا ۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : محرم شخص اپنا سر دھو سکتا ہے اور مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : محرم اپنا سر نہیں دھو سکتا ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے ( عبد اللہ بن حنین کو ) ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھیجا کہ میں ان سے ( اس کے بارے میں ) مسئلہ پوچھوں ( جب میں ان کے پاس پہنچا تو ) انھیں ایک کپڑے سے پردہ کر کے کنویں کی دو لکڑیوں کے در میان ( جو کنویں سے فاصلے پر لگا ئی جا تی تھیں اور ان پر لگی ہو ئی چرخی پر سے اونٹ وغیرہ کے ذریعے ڈول کا رسہ کھینچا جا تا تھا ) غسل کرتے ہو ئے پایا ۔ ( عبد اللہ بن حنین نے ) کہا : میں نے انھیں سلام کہا : وہ بو لے : یہ کون ( آیا ) ہے؟میں نے عرض کی : میں عبد اللہ بن حنین ہوں مجھے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی طرف بھیجا ہے کہ میں اپ سے پو چھوں : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرا م کی حا لت میں اپنا سر کیسے دھو یا کرتے تھے ؟ ( میری بات سن کر ) حضرت ابو اءایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھ کر اسے نیچے کیا حتی کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا پھر اس شخص سے جو آپ پر پانی انڈیل رہا تھا کہا : پانی ڈا لو ۔ اس نے آپ کے سر پر پا نی انڈیلا پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو خوب حرکت دی اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے ۔ پھر کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہو ئے دیکھا تھا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا خَيْبَرَ قَالَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلاَةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَانْحَسَرَ الإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنِّي لأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " . قَالَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَالَ وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ . قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ . قَالَ وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً وَجُمِعَ السَّبْىُ فَجَاءَهُ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ . فَقَالَ " اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً " . فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ سَيِّدِ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ مَا تَصْلُحُ إِلاَّ لَكَ . قَالَ " ادْعُوهُ بِهَا " . قَالَ فَجَاءَ بِهَا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ غَيْرَهَا " . قَالَ وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا . فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا فَقَالَ " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَىْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ " قَالَ وَبَسَطَ نِطَعًا قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالأَقِطِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ فَحَاسُوا حَيْسًا . فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Anas (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) set out on an expedition to Khaibar and we observed our morning prayer in early hours of the dawn. The Messenger of Allah (ﷺ) then mounted and so did Abu Talha ride, and I was seating myself behind Abu Talha. Allah's Apostle (ﷺ) moved in the narrow street of Khaibar (and we rode so close to each other in the street) that my knee touched the leg of Allah's Apostle (ﷺ). (A part of the) lower garment of Allah's Apostle (ﷺ) slipped from his leg and I could see the whiteness of the leg of Allah's Apostle (ﷺ). As he entered the habitation he called:Allahu Akbar (Allah is the Greatest). Khaibar is ruined. And when we get down in the valley of a people evil is the morning of the warned ones. He repeated it thrice. In the meanwhile the people went out for their work, and said: By Allah, Muhammad (has come). Abd al-'Aziz or some of our companions said: Muhammad and the army (have come). He said: We took it (the territory of Khaibar) by force, and there were gathered the prisoners of war. There came Dihya and he said: Messenger of Allah, bestow upon me a girl from among the prisoners. He said: Go and get any girl. He made a choice for Safiyya daughter of Huyayy (b. Akhtab). There came a person to Allah's Apostle (ﷺ) and said: Apostle of Allah, you have bestowed Safiyya bint Huyayy, the chief of Quraiza and al-Nadir, upon Dihya and she is worthy of you only. He said: Call him along with her. So he came along with her. When Allah's Apostle (ﷺ) saw her he said: Take any other woman from among the prisoners. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) then granted her emancipation and married her. Thabit said to him: Abu Hamza, how much dower did he (the Holy Prophet) give to her? He said: He granted her freedom and then married her. On the way Umm Sulaim embellished her and then sent her to him (the Holy Prophet) at night. Allah's Apostle (ﷺ) appeared as a bridegroom in the morning. He (the Holy Prophet) said: He who has anything (to eat) should bring that. Then the cloth was spread. A person came with cheese, another came with dates, and still another came with refined butter, and they prepared hais and that was the wedding feast of Allah's Messenger (ﷺ)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے جہاد کیا خیبر پر او رہم لوگوں نے وہاں نماز پڑھی صبح کی بہت اندھریے میں اور سوار ہوئے نبی ﷺ او رسوار ہوئے ابوطلحہٰ ؓ اور میں ردیف تھا ابوطلحہ کا اور روانہ ہوئے نبی ﷺ گلیوں میں خیبر کی اور میرا زانو نبیﷺ کے ران سے لگ لگ جاتا تھا اور تہبند رسول اﷲ ﷺ کی آپ کی ران سے کھسک گئی تھی او رمیں دیکھتا سفیدی آپ کی ران کی پھر جب شہر کے اندر گئے آپ نے فرمایا اﷲ اکبر خراب ہوا خیبر ہم جب اترتے ہیں کسی قوم کے انگن میں تو برا ہوتا ہے حال ڈرائے گئے لوگوں کا ۔ اس آیت کو آپ نے تین بار پڑھا یعنی انا اذا نزلنا بساحۃ قوم سے اخیر تک اور اتنے میں وہاں کے لوگ اپنے اپنے کاموں میں نکلے اور انہوں نے کہا کہ محمد ﷺ آچکے ۔ اور عبدالعزیز نے کہا کہ ہمارے لوگوں نے یہ بھی کہا کہ لشکر بھی آگیا ۔ کہا راوی نے کہ غرض ہم نے لے لیا خیبر کو جبراً قہراً اور قیدی لوگ جمع کیے گئے اور دحیہ آئے اور عرص کی کہ یا رسول اﷲؐ! ایک لونڈی مجھے عنایت کیجیے ان قیدیوںمیںسے ۔ آپ نے فرمایا کہ جاؤ ایک لونڈی لے لو ۔ انہوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا اور ایک شخص نے آکے کہا کہ اے نبی اﷲ تعالیٰ کے آپ نے دحیہ کو حیی کی بیٹی دیدی جو سردار ہے بنی قریظہ اور بنی نضیر کا اور وہ کسی کے لائق نہیں سوا آپ کے تو فرمایا کہ بلاؤ ان کو مع اس لونڈی کے ۔ کہا راوی نے کہ پھر وہ اسے لے کر آئے پھر جب آپ نے اس کو دیکھا تو دحیہ سے فرمایا کہ تم کوئی اور لونڈی لے لو قیدیوں میں سے اس کے سوا ۔ کہا راوی نے کہ پھر آپ نے آزاد کیا صفیہؓ کو اور ان سے نکاح کرلیا سو ثابت نے ان سے کہا کہ اے ابوحمزہ! ان کا مہر کیا باندھا انہوں نے؟ کہا یہی مرہ تھا کہ ان کو آزاد کردیا اور نکاح کرلیا یہاں تک کہ پھر جب وہ را میں تھے تو سنگار کردیا ان کا ام سلیمؓ نے اور پیش کردیا آپ پر ان کو رات میں اور صبح کو رسول اﷲﷺ نوشہ بنے ہوئے تھے ۔ پھر فرمایا اپ نے جس کے پاس جو کچھ ہو ( یعنی کھانے کی قسم سے ) وہ لائے او رایک دستر خوان چمڑے کا بچھا دیا اور کوئی اقط لانے لگا ( دہی سکھا کر بناتے ہیں ) اور کوئی کھجور او رکوئی گھی ان سب کو توڑ تاڑ کر خوب ملایا اور یہ ولیمہ ہوا رسول اﷲ ﷺ کا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي الضَّحَّاكُ، ح وَحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
This hadith has been narrated on the authority of Nafi with another chain of transmitters
یونس ، ضحاک اور موسیٰ بن عقبہ سب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ ان ( عبیداللہ ، ایوب اور لیث ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters
ابن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ الْبَرَاءُ وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَفِرَّ وَكَانَتْ هَوَازِنُ يَوْمَئِذٍ رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمُ انْكَشَفُوا فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ " أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ " .
It has been narrated through a still different chain of transmitters by the same narrator (i. e. Abu Ishaq) who said:I heard from Bara' who was asked by a man from the Qais tribe: Did you run away from the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Hunain? Bara' said: But the Messenger of Allah (ﷺ) did not run away. On that day Banu Hawzzin took part in the battle as archers (on the side of the disbelievers). When we attacked them, they retreated and we fell upon the booty; (they rallied) and advanced towards us with arrows. (At that time) I saw the Messenger of Allah (ﷺ) riding on his white mule and Abu Sufyan b. al-Harith was holding its bridle. He (the Messenger of Allah was saying: I am the Prophet. This is no untruth. I am a descendant of 'Abd al-Muttalib)
شعبہ نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ( اس وقت ) حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا جب ( قبیلہ ) قیس کے ایک آدمی نے ان سے پوچھا : کیا آپ لوگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگے تھے؟ تو حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا : لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بھاگے تھے ، اس زمانے میں ہوازن کے لوگ ( ماہر ) تیر انداز تھے ، جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ بکھر گئے ، پھر ہم غنیمتوں کی طرف متوجہ ہو گئے تو وہ تیروں کے ساتھ ہمارے سامنے آ گئے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سفید خچر پر دیکھا ، ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی باگ تھامے ہوئے تھے اور آپ فرما رہے تھے : "" میں نبی ہوں ، یہ جھوٹ نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ، زِيَادٍ وَهِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِنَحْوِ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ " .
Another version of the tradition narrated on the same authority attributes the same words to the Messenger of Allah (ﷺ) except that it replaces kariha with ankhara and vice versa
ماد بن زید نے کہا : ہمیں معلیٰ بن زیاد اور ہشام نے حسن سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ضبہ بن محصن سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سابقہ حدیث کی طرح ، البتہ اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں : " جس نے انکار کیا ، وہ بری ہو گیا اور جس نے ناپسند کیا ، وہ بچ گیا
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيَّ - عَنِ ابْنِ، جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ .
Ibn 'Umar reported this hadith from Allah's Messenger (ﷺ) through another chain of transmitters
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبید اللہ کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اضْطَرَبُوا الْخَوَاتِمَ مِنْ وَرِقٍ فَلَبِسُوهَا فَطَرَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَاتَمَهُ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِمَهُمْ .
Anas b. Malik reported that one day he saw on the finger of Allah's Messenger (ﷺ) a silver ring, and the people also made silver rings and put them on. Then Allah's Apostle (ﷺ) threw his ring away, and so the people also threw away their rings
روح نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ان جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے زیاد نے بتایا کہ ابن شہاب نے انھیں خبر دی ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ انھوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی ، پھر سب لوگوں نے چاندی کی انگوٹھیاں ڈھلوائیں اور پہن لیں ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ .
Jabir reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent a phystian to Ubayy b. Ka'b. He cut the vein and then cauterised it
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جب ) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کو جنگ خندق کے موقع پر ہاتھ کی بڑی رگ پر زخم لگاتو ان ) کے پاس ا یک طبیب بھیجا ، اس نے ان کی ( زخمی ) رگ ( کی خراب ہوجانے والی جگہ ) کاٹی ، پھر اس پرداغ لگایا ( تاکہ خون رک جائے ۔)
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَذْكُرْ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ .
Anas reported this hadith through another chain of transmitters, but he made no mention of a camel-driver having a melodious voice
انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیبیوں کے پاس آئے اور ایک ہانکنے والا ان کے اونٹوں کو ہانک رہا تھا جس کا نام انجشہ تھا آپ نے فرمایا خرابی ہو تیرے ہاتھ کی اے انجشہ آہستہ لے چل شیشوں کو ( یعنی عورتوں کو بوجہ نزاکت کے ان کو شیشہ فرمایا ) ابوقلابہ نے کہا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بات فرمائی اگر تم میں سے کوئی وہ بات کہے تو تم کھیل سمجھو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، حَدَّثَنِي مُوَرِّقٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِنَا - قَالَ - فَتُلُقِّيَ بِي وَبِالْحَسَنِ أَوْ بِالْحُسَيْنِ - قَالَ - فَحَمَلَ أَحَدَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَالآخَرَ خَلْفَهُ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ .
Abdullah b. Ja'a'far reported that when Allah's Messenger (ﷺ) came back from a journey he met us. Once he met me, Hasan or Husain, and he mounted one of us before him and the other one behind him until we entered Medina
عبدالرحیم بن سلیمان نے عاصم سے روایت کی ، کہا : مجھے مورق عجلی نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو ہمیں ( آپ کی محبت میں ) آگے لے جاکر آپ سے ملایا جاتا ، کہا : مجھے اور حسن یا حسین رضوان اللہ عنھم اجمعین کو آپ کے پاس آگے لے جایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ایک کو ا پنے آگے اور ایک کو اپنے پیچھے سوار کرلیا ، یہاں تک کہ ہم ( اسی طرح ) مدینہ میں داخل ہوئے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ وَضَّأَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقَالَ لَهُ فَقَالَ " إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ " .
Urwah al Mughira reported it from his father:He (Mughira) helped the Apostle (ﷺ) in performing the ablution, and he performed it and wiped over his shoes. He (Mughira) said to him (about the washing of the feet after putting them off), but he (the Holy Prophet) said: I put them (feet) in when these were clean
عامر شعبی کے ایک دوسرے شاگرد عمر بن ابی زائدہ نےعروہ بن مغیرہ کے حوالے سے ان کے والد سے روایت کی کہ انہوں ( مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ) نے نبی اکرم ﷺ کو وضو کرایا ، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا ۔ مغیرہ نے آپﷺ سے ( اس بارے میں ) بات کی تو آپ نے فرمایا : ’’میں نے انہیں باوضو حالت میں ( موزوں میں ) داخل کیا تھا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، - يَعْنِي بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لاَ يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ وَمَا لاَ يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ " .
A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:'A'isha, verily Allah is kind and He loves kindness and confers upon kindness which he does not confer upon severity and does not confer upon anything else besides it (kindness)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عائشہ! اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا اور نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی کی بنا پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو درشت مزاجی کی بنا پر عطا نہیں فرماتا ، وہ اس کے علاوہ کسی بھی اور بات پر اتنا عطا نہیں فرماتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآَخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ لاَ أَقُولُ لَكُمْ إِلاَّ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلاَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لاَ يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لاَ يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لاَ يُسْتَجَابُ لَهَا " .
Zaid b. Alqam reported:I am not going to say anything but only that which Allah's Messenger (may peace be upgn him) used to say. He used to supplicate:" O Allah, I seek refuge in Thee from incapacity, from sloth, from cowardice, from miserliness, decrepitude and from torment of the grave. O Allah, grant to my soul the sense of righteousness and purify it, for Thou art the Best Purifier thereof. Thou art the Protecting Friend thereof, and Guardian thereof. O Allah, I seek refuge in Thee from the knowledge which does not benefit, from the heart that does not entertain the fear (of Allah), from the soul that does not feel contented and the supplication that is not responded
عبداللہ بن حارث اور ابو عثمان نہدی نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں تمہیں اسی طرح بتاتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ، آپ فرماتے تھے : " اے اللہ! میں تجھ سے تیری پناہ میں آتا ہوں ، عاجز ہو جانے ، سستی ، بزدلی ، بخل ، سخت بڑھاپے اور قبر کے عذاب سے ۔ اے اللہ! میرے دل کو تقویٰ دے ، اس کو پاکیزہ کر دے ، تو ہی اس ( دل ) کو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے ، تو ہی اس کا رکھوالا اور اس کا مددگار ہے ۔ اے اللہ! میں تجھ سے ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو کوئی فائدہ نہ دے اور ایسے دل سے جو ( تیرے آگے ) جھک کر مطمئن نہ ہوتا ہو اور ایسے من سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جسے شرف قبولیت نصیب نہ ہو ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters
جریر ، ابو معاویہ اورعیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلاَءِ بْنُ الشِّخِّيرِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْسَخُ حَدِيثُهُ بَعْضُهُ بَعْضًا كَمَا يَنْسَخُ الْقُرْآنُ بَعْضُهُ بَعْضًا .
Abu al. 'Ala' b. al-Shikhkhir said:The Messenger of Allah (ﷺ) abrogated some of his commands by others, just as the Qur'an abrogates some part with the other
ابو علاء بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث دوسری کو منسوخ کر دیتی ہے ، جیسے قرآن کی ایک آیت دوسری آیت کو منسوخ کر دیتی ہے ۔ ( یعنی اس مفہوم کی احادیث ، آپ ہی کے اس فرمان کے ذریعے سے منسوخ ہو چکی ہیں جو بعد میں آئے گا ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ، أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْـتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا وَأَذِنَّ لَهُ - قَالَتْ - فَخَرَجَ وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَيَدٌ لَهُ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الأَرْضِ . فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ هُوَ عَلِيٌّ .
A'isha reported:It was in the house ofMaimuna that the Messenger of Allah (ﷺ) first fell ill. He asked permission from his wives to stay in her ('A'isha's) house during his illness. They granted him permission. She ('A'isha) narrated: He (the Holy Prophet) went out (for prayer) with his hand over al-Fadl b. 'Abbas and on the other hand there was another person and (due to weakness) his feet dragged on the earth. 'Ubaidullah said: I narrated this hadith to the son of 'Abbas ('Abdullah b. 'Abbas) and he said: Do you know who the man was whose name 'A'isha did not mention? It was 'Ali
معمر نے بیان کیا کہ زہری نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے خبر کہ رسول اللہﷺ کی بیماری کا آغاز میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ہوا ، آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت مانگی کہ آپ کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے ، انہوں نے اجازت دے دی ۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) فرمایا : آپ اس طرح نکلے کہ آپ کا ایک ہاتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ( کے کندھے ) پر اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے آدمی پر تھا اور ( نقاہت کی وجہ سے ) آپ اپنے باؤں سے زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ۔ عبید اللہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی ، جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا ، کون تھے؟ وہ علی رضی اللہ عنہ تھا