حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلاَهُمَا عَنْ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters
سعید بن ابی عروبہ اور شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھی اسی کے مانند روایت کی
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى إِلاَّ أُمُّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلاَةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ . وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَهُ قَطُّ .
Abd al-Rahman b. Abu Laila reported:No one has ever narrated to me that he saw the Messenger of Allah (ﷺ) observing the forenoon prayer, except Umm Hani. She, however, narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) entered her house on the day of the Conquest of Mecca and prayed eight rak'ahs (adding): I never saw a shorter prayer than it except that he performed the bowing and prostration completely. But (one of the narrators) Ibn Bashshar in his narration made no mention of the word:" Never
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عمرو بن مرہ سے انھوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوا کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ۔ انھوں نے بتایا کہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تشریف لائے اور آپ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں ، میں نے آپ کو کبھی اس سے ہلکی نمازپڑھتے نہیں دیکھا ، ہاں آپ رکوع اور سجود مکمل طریقے سے کررہے تھے ۔ ابن بشار نے اپنی روایات میں قط ( کبھی ) کا لفظ بیان نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَلْيَنُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ رَأْسُ الْكُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ " .
It is reporter on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed:There came the people of Yemen who are soft of hearts, tender in feelings: the belief is that of the Yemenites, the sagacity is that of the Yemenites and the summit of unbelief is towards the East
ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں ۔ وہ دلوں کے زیادہ نرم اور مزاجوں میں زیادہ رقت رکھنے والے ہیں ۔ ایمان یمنی ہے ، حکمت بھی یمن سے ہے اور کفر کا مرکز مشرق کی طرف کی طرف ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ، ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ فَلْيَقُمْ حِينَ يَرَاهَا حَتَّى تُخَلِّفَهُ إِذَا كَانَ غَيْرَ مُتَّبِعِهَا " .
It is reported on the authority of Ibn Juraij that the Prophet (ﷺ) said:Should anyone amongst you see a bier he must stand up so long as it is within sight in case he does not intend to follow it
ایوب ، عبیداللہ ، ابن عون اور ابن جریج سب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ لیث بن سعد کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، البتہ ابن جریج کی حدیث یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی جنازے کو دیکھے تو اگر وہ اس کے پیچھے ( ساتھ ) چلنے والا نہیں ۔ تو اس کو دیکھتے ہی کھڑا ہوجائے حتیٰ کہ وہ اس کو پیچھے چھوڑ جائے ۔
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، - يَعْنِي الْعَقَدِيَّ - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدَيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ حَتَّى تُغَشِّيَ أَنَامِلَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا " . قَالَ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ بِإِصْبَعِهِ فِي جَيْبِهِ فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلاَ تَوَسَّعُ .
Abu Haraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) gave similitudes of a miserly man and the giver of charity as two persons who have two coats-of-mail over them with their hands pressed closely to their breasts and their collar bones. Whenever the giver of charity gives charity it (the coat-of mail) expands so much as to cover his finger tips and obliterate his foot prints. And whenever the miserly person intends to give charity (the coat-of-mail) contracts and every ring grips the place where it is. He (Abu Huraira) said:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) saying with fingers in the opening of his shirt:" If you had seen him trying to expand it, it will not expand
ابراہیم بن نافع نے حسن بن مسلم سے ، انھوں نے طاوس سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال بیان فرمائی : " بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ایسے دو آدمیوں کی مانند ہے جن ( کے جسموں ) پر لوہے کی دو زرہیں ہیں ، ان کے دونوں ہاتھ انکی چھاتیوں اورہنسلی کی ہڈیوں سے جکڑے ہوئے ہیں ، پس صدقہ دینے والا جب صدقہ دینے لگتا ہےتووہ ( اس کی زرہ ) پھیل جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی انگلیوں کے پوروں کو ڈھانپ لیتی ہے اور ( زمین پر گھسیٹنے کی وجہ سے ) اس کے نقش قدم کو مٹانے لگتی ہے ۔ اور بخیل جب صدقہ دینے کا ارادہ کرنے لگتا ہے تو وہ سکڑ جاتی ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ کو پکڑ لیتا ہے ۔ " ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی گریبان میں ڈال رہے تھے ، کاش تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ( ایسے لگتا تھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کشادہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ مَرْوَانَ أَرْسَلَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ - رضى الله عنها - يَسْأَلُ عَنِ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا أَيَصُومُ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ لاَ مِنْ حُلُمٍ ثُمَّ لاَ يُفْطِرُ وَلاَ يَقْضِي .
Abu Bakr reported that Marwan sent him to Umm Salama to ask whether a person should observe fast who is in a state of junub and the dawn breaks upon him, whereupon she said that the Messenger of Allah (ﷺ) (was at times) junbi on account of intercourse and not due to sexual dream, and the dawn broke upon him, but he neither broke the fast nor recompensed
ہارون بن سعید ، ابن وہب ، عمرو ، ابن حارث ، عبدربہ ، حضرت عبداللہ بن کعب حمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے ان کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف ایک آدمی کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا کہ وہ جنبی حالت میں صبح اٹھتا ہے کیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے؟تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع کی وجہ سے جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح اٹھتے پھر آپ افطار نہ کرتے اور نہ ہی اس کی قضا کرتے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ، عُيَيْنَةَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَلَلٍ اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَيْنَيْهِ فَلَمَّا كُنَّا بِالرَّوْحَاءِ اشْتَدَّ وَجَعُهُ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَسْأَلُهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنِ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ فَإِنَّ عُثْمَانَ - رضى الله عنه - حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّجُلِ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ .
Nubaih b. Wabb reported:We went with Aban b. Uthman (in a state of lhram). When we were at Malal the eyes of Umar b. Ubaidullah became sore and, when we reached Rauba' the pain grew intense. He (Nubaib b. Wahb) sent (one) to Aban b. Uthman to ask him (what to do). He sent him (the message) to apply aloes to them, for 'Uthman (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) applied aloes to the person whose eyes were sore and he was in the state of Ihram
سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ایوب بن مو سیٰ نے نبیہ بن وہب سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا ہم ابان بن عثمان کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے جب ہم ملل کے مقام پر پہنچے تو عمر بن عبید اللہ کی انکھوں میں تکلیف شروع ہو گئی ، جب ہم رَرحا ء میں تھے تو ان کی تکلیف شدت اختیار کر گئی انھوں نے مسئلہ پو چھنے کے لیے ابان بن عثمان کی طرف قاصد بھیجا ، انھوں نے ان کی طرف جواب بھیجا کہ دو نوں ( آنکھوں ) پر ایلوے کا لیپ کرو ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے اس شخص کے متعلق حدیث بیان کی تھی جو احرا م کی حا لت میں تھا جب اس کی آنکھوں میں تکلیف شروع ہو گئی تو آپ نے ( اس کی آنکھوں پر ) ایلوے کا لیپ کرا یا تھا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، - قَالَ شُعْبَةُ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ .
Anas b. Malik reported that 'Abd al-Rahman married a woman for a datestone weight of gold
ابوداود نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے ابوحمزہ سے حدیث بیان کی ۔ شعبہ نے کہا : ان کا نام عبدالرحمٰن بن ابی عبداللہ ( کیسان ) ہے ۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سونے کی گٹھلی کے وزن کے برابر ( سونے ) کے عوض ایک عورت سے شادی کی
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
A hadith like this has been transmitted on the authority of Ayyub
حماد نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ، وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ، أَبِي عَامِرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ وَلاَ الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ " .
Uthman b. 'Affan reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not sell a dinar for two dinars and one dirham for two dirhams
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ایک دینار کی دو دیناروں کے عوض اور ایک درہم کی دو درہموں کے عوض بیع نہ کرو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ يَا أَبَا عُمَارَةَ أَفَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ سِلاَحٌ أَوْ كَثِيرُ سِلاَحٍ فَلَقُوا قَوْمًا رُمَاةً لاَ يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ جَمْعَ هَوَازِنَ وَبَنِي نَصْرٍ فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَكَادُونَ يُخْطِئُونَ فَأَقْبَلُوا هُنَاكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ فَنَزَلَ فَاسْتَنْصَرَ وَقَالَ " أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ " . ثُمَّ صَفَّهُمْ .
It has been narratedon the authority of Abu Ishaq who said:A man asked Bara' (b. 'Azib): Did you run away on the Day of Hunain. O, Abu Umira? He said: No, by Allah, The Messenger of Allah (ﷺ) did not turn his back; (what actually happened was that) some young men from among his companions, who were hasty and who were either without any arms or did not have abundant arms, advanced and met a party of archers (who were so good shots) that their arrows never missed the mark. This party (of archers) belonged to Banu Hawazin and Banu Nadir. They shot at the advancing young men and their arrows were not likely to miss their targets. So these young men turned to the Messenger of Allah (ﷺ) while he was riding on his white mule and Abu Sufyan b. al-Harith b. 'Abd al-Muttalib was leading him. (At this) he got down from his mule, invoked God's help, and called out: I am the Prophet. This is no untruth. I am the son of 'Abd al-Muttalib. Then he deployed his men into battle array
ابوخیثمہ نے ہمیں ابواسحاق سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے کہا : ابوعمارہ! کیا آپ لوگ حنین کے دن بھاگے تھے؟ انہوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ تک نہیں پھیرا ، البتہ آپ کے ساتھیوں میں سے چند نوجوان اور جلد باز ( جنگ کے لیے ) نہتے نکلے تھے جن ( کے جسم ) پر اسلحہ یا بڑا اسلحہ نہیں تھا ، تو ان کی مڈبھیڑ ایسی تیر انداز قوم سے ہوئی جن کا کوئی تیر ( زمین ) پر نہ گرتا تھا ، ( نشانے پر لگتا تھا ) وہ بنو ہوازن اور بنو نضر کے جتھے تھے ، انہوں نے ان ( نوجوانوں ) کو اس طرح سے تیروں سے چھیدنا شروع کیا کہ کوئی نشانہ خطا نہ جاتا تھا ، پھر وہ لوگ وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بڑھے ، آپ اپنے سفید خچر پر تھے اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اسے چلا رہے تھے ، آپ نیچے اترے ( اللہ سے ) مدد مانگی اور فرمایا : "" میں نبی ہوں ، یہ جھوٹ نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں "" پھر آپ نے ( نئے سرے سے ) ان کی صف بندی کی ( اور پانسہ پلٹ گیا)
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ " . قَالُوا أَفَلاَ نُقَاتِلُهُمْ قَالَ " لاَ مَا صَلَّوْا " .
It has been narrated on the authority of Umm Salama that the Messenger of Allah (ﷺ) said:In the near future there will be Amirs and you will like their good deeds and dislike their bad deeds. One who sees through their bad deeds (and tries to prevent their repetition by his band or through his speech), is absolved from blame, but one who hates their bad deeds (in the heart of his heart, being unable to prevent their recurrence by his hand or his tongue), is (also) fafe ( so far as God's wrath is concerned). But one who approves of their bad deeds and imitates them is spiritually ruined. People asked (the Holy Prophet): Shouldn't we fight against them? He replied: No, as long as they say their prayers
ہمام بن یحییٰ نے کہا : ہمیں قتادہ نے حسن سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ضبہ بن محصن سے ، انہوں نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جلد ہی ایسے حکمران ہوں گے کہ تم انہیں ( کچھ کاموں میں ) صحیح اور ( کچھ میں ) غلط پاؤ گے ۔ جس نے ( ان کی رہنمائی میں ) نیک کام کیے وہ بَری ٹھہرا اور جس نے ( ان کے غلط کاموں سے ) انکار کر دیا وہ بچ گیا لیکن جو ہر کام پر راضی ہوا اور ( ان کی ) پیروی کی ( وہ بَری ہوا نہ بچ سکا ۔ ) " صحابہ نے عرض کی : کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ، جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ( جنگ نہ کرو)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَلَمْ يَتُبْ مِنْهَا حُرِمَهَا فِي الآخِرَةِ فَلَمْ يُسْقَهَا " . قِيلَ لِمَالِكٍ رَفَعَهُ قَالَ نَعَمْ .
Ibn 'Umar said:He who drank wine in the world and did not repent would be deprived of it (the pure drink) in the Hereafter. It was said to Malik: Is this hadith Marfu'? He said: Yes
عبد اللہ بن مسلمہ بن قعنب نے کہا : ہمیں مالک نے نافع سے حدیث بیان کی ، ( انھوں نے ) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : " جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور اس سے تو بہ نہیں کیا اسے آخرت میں اس سے محروم کردیا جائے گا وہ اسے نہیں پلا ئی جا ئے گی ۔ " امام مالک سے پوچھا گیا : کیا انھوں نے ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ؟ انھوں نے کہا : ہاں ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ، خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَالنَّجَاشِيِّ . فَقِيلَ إِنَّهُمْ لاَ يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلاَّ بِخَاتِمٍ . فَصَاغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاتَمًا حَلَقَةً فِضَّةً وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ .
Anas reported that when Allah's Apostle (ﷺ) decided to write to the Kisra (the King of Persia), Caesar (Emperor of Rome), and the Negus (the Emperor of Abyssinia), it was said to him that they would not accept the letter without the seal over it; so Allah's Messenger (ﷺ) got a seal made, the ring of which was made of silver and there was engraved on it:"Muhammad, the Messenger of Allah
خالد بن قیس نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ ، قیصر اور نجاشی کی طرف خط لکھنے کاارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کی گئی کہ وہ لوگ صرف اس خط کو قبول کرتے ہیں جس پر مہر لگی ہو ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر ڈھلوائی ، وہ چاندی کی انگوٹھی تھی اور اس میں " محمد رسول اللہ " نقش کرایا ۔
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَ جَاءَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي أَهْلِنَا وَرَجُلٌ يَشْتَكِي خُرَاجًا بِهِ أَوْ جِرَاحًا فَقَالَ مَا تَشْتَكِي قَالَ خُرَاجٌ بِي قَدْ شَقَّ عَلَىَّ . فَقَالَ يَا غُلاَمُ ائْتِنِي بِحَجَّامٍ . فَقَالَ لَهُ مَا تَصْنَعُ بِالْحَجَّامِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّقَ فِيهِ مِحْجَمًا . قَالَ وَاللَّهِ إِنَّ الذُّبَابَ لَيُصِيبُنِي أَوْ يُصِيبُنِي الثَّوْبُ فَيُؤْذِينِي وَيَشُقُّ عَلَىَّ . فَلَمَّا رَأَى تَبَرُّمَهُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنْ كَانَ فِي شَىْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مَحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ " . قَالَ فَجَاءَ بِحَجَّامٍ فَشَرَطَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ .
Asim b. 'Umar b. Qatada reported:There came to our house 'Abdullah and another person from amongst the members of the household who complained of a wound. Jabir said: What ails you? He said: There is a wound which is very painful for me, whereupon he said: Boy, bring to me a cupper. He said: 'Abdullah, what do you intend to do with the cupper? I said: I would get this wound cupped. He said: By Allah. oven the touch of fly or cloth causes me pain (and cupping) would thus cause me (unbearable) pain. And when he saw him feeling pain (at the idea of cupping), he said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: If there is any effective remedy amongst your remedies, these are (three): Cupping, drinking of honey and cauterisation with the help of fire. Allah's Messenger (ﷺ) had said: As for myself I do not like cauterisation. The cupper was called and he cupped him and he was all right
عبدالرحمان بن سلیمان نے حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت کی ، کہا : کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہمارے گھر میں آئے اور ایک شخص کو زخم کی تکلیف تھی ( یعنی قرحہ پڑ گیا تھا ) ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تجھے کیا تکلیف ہے؟ وہ بولا کہ ایک قرحہ ہو گیا ہے جو کہ مجھ پر نہایت سخت ہے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے غلام! ایک پچھنے لگانے والے کو لے کر آ ۔ وہ بولا کہ پچھنے لگانے والے کا کیا کام ہے؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس زخم پر پچھنے لگوانا چاہتا ہوں ، وہ بولا کہ اللہ کی قسم مجھے مکھیاں ستائیں گی اور کپڑا لگے گا تو مجھے تکلیف ہو گی اور مجھ پر بہت سخت ( وقت ) گزرے گا ۔ جب سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اس کو پچھنے لگانے سے رنج ہوتا ہے تو کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر تمہاری دواؤں میں بہتر کوئی دوا ہے تو تین ہی دوائیں ہیں ، ایک تو پچھنا ، دوسرے شہد کا ایک گھونٹ اور تیسرے انگارے سے جلانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں داغ لینا بہتر نہیں جانتا ۔ راوی نے کہا کہ پھر پچھنے لگانے والا آیا اور اس نے اس کو پچھنے لگائے اور اس کی بیماری جاتی رہی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُنَّ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَىْ أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ " .
Anas b. Malik reported that Umm Sulaim was with the wives of Allah's Apostle (ﷺ) and a camel-driver had been driving (the camels) oil which they were riding. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said:Anjasha, drive slowly, for you are carrying (on the camels) vessels of glass
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خوش آواز حدی خواں تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا؛ " انجشہ!آرام سے ( ہانکو ) شیشہ آلات کو مت توڑو ، " یعنی کمزور عورتوں کو ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَإِسْنَادِهِ .
This hadith has been transmitted on the authority of Habib b. Ash-Shahid
ابو اسامہ نے حبیب بن شہید سے ابن علیہ کی حدیث کے مانند اور اسی کی سند سے حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عِيسَى، - حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِالإِدَاوَةِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَتِ الْجُبَّةُ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى بِنَا .
Mughira b. Shu'ba reported:The Messenger of Allah (ﷺ) went out for relieving himself. When he came back I brought for him a jar (of water) and poured water upon his hands and He washed his face. He tried to wash his forearms, but as the (sleeves of the) gown were tight. He, therefore, brought them out from under the gown. He then washed them, wiped his head, and wiped his socks and then prayed
اعمش سے ( ابو معاویہ کےبجائے ) عیسیٰ بن یونس ) نےباقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے ، جب واپس آئے تو میں پانی کا برتن لے کر آپ کو ملا ، میں نے پانی ڈالا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر چہرہ دھویا ، پھر ہاتھ دھونے لگے تو جبہ تنگ نکلا ، آپ نے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکال لیے ، ان کو دھویا ، سر کا مسح کیا اور اپنے موزوں پرمسح کیا ، پھر ہمیں نماز پڑھائی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ الْعَبْسِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرًا، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ " .
Jarir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who is deprived of tenderly feelings is in fact deprived of good
اعمش نے تمیم بن سلمہ سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہلال عبسی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جو شخص نرم خوئی سے محروم کر دیا جائے وہ بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى " .
Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) used to supplicate (in these words):" O Allah. I beg of Thee the right guidance, safeguard against evils, chastity and freedom from want
محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابواسحٰق سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابواحوص سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : " اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت ، تقویٰ ، پاک دامنی ، اور ( دل کا ) غنا مانگتا ہوں ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُثْمَانَ بْنِ، الأَسْوَدِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ " . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي يُونُسَ .
A'isha reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:He who is examined thoroughly In reckoning is undone
عثمان بن اسود نے ابن ابی ملیکہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس سے حساب میں پوچھ گچھ شروع ہوگئی وہ بلاک ہوجائے گا ۔ " پھر ابو یونس کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ شَرِيكٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الاِثْنَيْنِ إِلَى قُبَاءٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي بَنِي سَالِمٍ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَابِ عِتْبَانَ فَصَرَخَ بِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ " . فَقَالَ عِتْبَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُعْجَلُ عَنِ امْرَأَتِهِ وَلَمْ يُمْنِ مَاذَا عَلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " .
Sa'id al-Khudri narrated it from his father:I went to Quba' with the Messenger of Allah (ﷺ) on Monday till we reached (the habitation) of Banu Salim. The Messenger of Allah (ﷺ) stood at the door of 'Itban and called him loudly. So he came out dragging his lower garnment. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: We have made this man to make haste 'Itban said: Messenger of Allah, if a man parts with his wife suddenly without seminal emission, what is he required to do (with regard to bath)? The Messenger of Allah (ﷺ) said: It is with the seminal emission that bath becomes obligatory
عبد الرحمن بن ابی سعید خدری نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نےکہا کہ میں سوموار کے دن رسول اللہ ﷺ کےساتھ قباء گیا ، جب ہم بنو سالم کے محلے میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ عتبان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر رک گئے اور اسے آواز دی تو وہ اپنا تہبند گھسیٹتےہوئے نکلے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ہم نے اس آدمی کو جلدی میں ڈال دیا ۔ ‘ ‘ عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کی اس مرد کے بارے میں کیا رائے ہے جو بیوی سے جلدی ہٹا دیا جائے ، حالانکہ اس نے منی خارج نہ کی تو اسے کیا کرنا چاہیے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’پانی ، صرف پانی سے ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ . وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) saying:The Imam is appointed to be followed. So recite takbir when he recites it, and bow down when he bows down and when he utters:" Allah listens to him who praises Him," say" O Allah, our Lord, for Thee be the praise." And when he prays, standing, you should pray standing. And when he prays sitting, all of you should pray sitting
(ابو علقمہ کے بجائے ) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ سے روایت کرتے سنا کہ آپﷺ نے فرمایا : ’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ، اور جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی سب کے سب بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘