حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى زَرَّاعَةِ بَصَلٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ فَنَزَلَ نَاسٌ مِنْهُمْ فَأَكَلُوا مِنْهُ وَلَمْ يَأْكُلْ آخَرُونَ فَرُحْنَا إِلَيْهِ فَدَعَا الَّذِينَ لَمْ يَأْكُلُوا الْبَصَلَ وَأَخَّرَ الآخَرِينَ حَتَّى ذَهَبَ رِيحُهَا .
Abu Sa'id al-Khudri reported:The Messenger of Allah (ﷺ) along with his Companions happened to pass by a field in which onions were sown. The people stopped there and ate out of that, but some of them did not eat. Then they (Propbet's Companions) went to him. He (first) called those who had not eaten the onions and kept the others (who had taken onions) waiting till its odour vanished
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ( ایک دفعہ ) پیاز کے ایک کھیت کے پاس سے گزرے ۔ ان میں سے کچھ لوگ اترے اور اس میں سے کچھ کھا لیا ، اور دوسروں نے نہ کھایا ۔ ہم آپ کے پاس گئے تو آپ نے ان لوگوں کو ( قریب ) بلا لیا جنھوں نے پیاز نہیں کھا یا تھا اور دوسرے ( جنھوں نے پیاز کھایا تھا ) انھیں پیچھے کر دیا یہاں تک کہ اس کی بو ختم ہو گئی ۔
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ، حَدَّثَتْهُمْ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ .
Mua'ada 'Adawiyya reported 'A'isha as saying:The Messenger of Allah (ﷺ) used to observe four rak'ahs in the forenoon prayer and he sometimes observed more as Allah pleased
سعید نے کہا : قتادہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ معاذہ عدویہ نے ان ( حدیث سننے والوں ) کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز چار رکعتیں پڑھتے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہتا زیادہ ( بھی ) پڑھ لیتے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ " الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
The same hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of authorities with the addition:The belief is among the Yemenites, the sagacity is that of the Yemenites
شعیب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت کی اور ( آخرمیں یہ ) اضافہ کیا : ’’ ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ " .
It is narrated on the authority of 'Amir Ibn Rabi'a (may Allah be pleased with him) that the Prophet (ﷺ) said:Whenever you see a funeral procession, stand up for that until it moves away or is lowered on the ground
سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے حضرت عامر بن ربعیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم جنازے کو دیکھو تو اس کے لئے کھڑے ہوجاؤیہاں تک کہ وہ تم کو پیچھے چھوڑ دے ( آگے نکل جائے ) یا اسے رکھ دیا جائے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى فَذَكَرَ خِصَالاً وَقَالَ " مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً غَدَتْ بِصَدَقَةٍ وَرَاحَتْ بِصَدَقَةٍ صَبُوحِهَا وَغَبُوقِهَا " .
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade (to do certain things) and then he made a mention of certain habits and said:He who gives a she-camel as a gift, for him is the reward (of the gift) both morning and evening - a reward for drinking milk in the morning and a reward for drinking milk in the evening
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے ( کچھ اشیاء سے ) منع کیا ، پھر چند خصلتوں کا ذکر کیا اورفرمایا : " جس نے دودھ پینے کے لئے جانور دیا تو اس ( اونٹنی ، گائے وغیرہ ) نے صدقے سے صبح کی اور صدقے سے شام کی ، یعنی اپنے صبح کے دودھ سے اور اپنے شام کے دودھ سے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ، بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ، بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - يَقُصُّ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ مَنْ أَدْرَكَهُ الْفَجْرُ جُنُبًا فَلاَ يَصُمْ . فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ - لأَبِيهِ - فَأَنْكَرَ ذَلِكَ . فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ - رضى الله عنهما - فَسَأَلَهُمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ذَلِكَ - قَالَ - فَكِلْتَاهُمَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ - قَالَ - فَانْطَلَقْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى مَرْوَانَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ . فَقَالَ مَرْوَانُ عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلاَّ مَا ذَهَبْتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَرَدَدْتَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ - قَالَ - فَجِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبُو بَكْرٍ حَاضِرُ ذَلِكَ كُلِّهِ - قَالَ - فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَهُمَا قَالَتَاهُ لَكَ قَالَ نَعَمْ . قَالَ هُمَا أَعْلَمُ . ثُمَّ رَدَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ إِلَى الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنَ الْفَضْلِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فَرَجَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَمَّا كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ . قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ أَقَالَتَا فِي رَمَضَانَ قَالَ كَذَلِكَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ .
Abu Bakr (he is Abu Bakr b. Abd al-Rahman b. Harith) reported:I heard Abu Huraira (Allah be pleased with him) narrating that he who is overtaken by dawn in a state of seminal emission should not observe fast. I made a mention of it to 'Abd al-Rahman b. Harith (i. e. to his father) but he denied it. 'Abd al-Rahman went and I also went along with him till we came to'A'isha and Umm Salama (Allah be pleased with both of them) and Abd al-Rahman asked them about it. Both of them said: (At times it so happened) that the Messenger of Allah (ﷺ) woke up in the morning in a state of junub (but without seminal emission in a dream) and observed fast He (the narrator) said: We then proceeded till we went to Marwan and Abd al-Rahman made a mention of it to him. Upon this Marwan said: I stress upon you (with an oath) that you better go to Abu Huraira and refer to him what is said about it. So we came to Abu Huraira and Abu Bakr had been with us throughout and 'Abd al-Rahman made a mention of it to him, whereupon Abu Huraira said: Did they (the two wives of the Holy Prophet) tell you this? He replied: Yes Upon this (Abu Huraira) said: They have better knowledge. Abu Huraira then attributed that what was said about it to Fadl b. 'Abbas and said: I heard it from Fadl and not from the Messenger of Allah (ﷺ). Abu Huraira then retracted from what he used to say about it. Ibn Juraij (one of the narrators) reported: I asked 'Abd al-Malik, if they (the two wives) said (made the statement) in regard to Ramadan, whereupon he said: It was so, and he (the Holy Prophet) (woke up in the) morning in a state of junub which was not due to the wet dream and then observed fast
محمد بن حاتم ، یحییٰ بن سعید ، ابن جریج ، محمد بن رافع ، عبدالرزاق بن ہمام ، ابن جریج ، عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن ، حضرت ابو بکر سے ر وایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ وہ اپنی روایات بیان کرتے ہیں جس آدمی نے جنبی حالت میں صبح کی تو وہ روزہ نہ رکھے ، راوی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےاس کا ذکر اپنے باپ عبدالرحمٰن سےبن حارث سے کیاتو انہوں نے اس کا انکار کردیا ، توحضرت عبدالرحمٰن چلے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عبدالرحمٰن نے ان دونوں سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کے بغیر جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم چلے یہاں تک کہ مروا ن کے پاس آگئے حضرت عبدالرحمٰن نے مروان سے اس بارے میں ذکر کیا تو مروان نے کہا کہ میں تم پر لازم کرتا ہوں کہ تم ضرور حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف جاؤ اور اس کی تردید کرو جو وہ کہتے ہیں تو ہم حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے ۔ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی وہاں موجود تھے حضرت عبداالرحمٰن نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ سارا کچھ ذکر کیا حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کیا ان دونوں نے تجھ سے یہی فرمایا ہے؟حضرت عبدالرحمٰن نے کہا کہ ہاں!حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر مایا کہ وہ دونوں اس مسئلہ کو زیادہ جانتی ہیں ۔ پھر حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اس قول کی جو کہ آپ نے فضل بن عباس سے سنا تھا اس کی تردید کردی ۔ اور حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سناتھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے قول سے ر جوع کرلیا جو وہ کہاکرتے تھے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عبدالملک سے کہا کہ کیا ان دونوں نے یہ حدیث رمضان کے بارے میں بیان کی تھی؟انہوں نے کہا کہ آپ بغیر احتلام کے جنبی حالت میں صبح اٹھتے پھر آپ روزہ رکھتے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) got himself cupped in the state of lhrim
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حا لت میں سینگی لگوائی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَهَارُونُ، بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ وَهْبٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً .
This hadith has been narrated on the authority of Humaid with the same chain of transmitters except (with this minor alteration of words) that 'Abd al-Rahman said:" I married a woman
ابوداود ، وہب بن جریر اور شبابہ سب نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حمید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، البتہ وہب کی حدیث میں یوں ہے : " انہوں نے کہا : حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْعِنَبِ كَيْلاً وَعَنْ كُلِّ ثَمَرٍ بِخَرْصِهِ .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) having forbidden Muzabana, and Muzabana is the selling of dry dates by measure for fresh dates and the selling of raisins by measure for grapes and selling of all Ports of fruits on the basis of calculation
ابو اسامہ نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ۔ اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے ( تازہ ) پھل کو خشک کھجور کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض فروخت کیا جائے اور کسی بھی پھل کو اندازے کی بنیاد پر ( اسی طرح ) فروخت کرنے سے منع فرمایا
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ، أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، . بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
This hadith has been narrated on the authority of Abu Sa'id al-Khudri through another chain of transmitters
جریر بن حازم ، یحییٰ بن سعید اور ابن عون ، سب نے نافع سے روایت کی ، لیث کے نافع سے ، ان کی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی طرح ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ، الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَرْوَةُ بْنُ نُعَامَةَ الْجُذَامِيُّ . وَقَالَ " انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَتِهِ .
A version of the tradition has been transmitted through another chain of narrators. In this version the words uttered by the Prophet (ﷺ) (after he had thrown the pebbles in the face of the enemy) are reported as:" By the Lord of the Ka'ba, they have been defeated." And there is at the end the addition of the words:" Until Allah defeated them" (and I imagine) as if I saw the Prophet of Allah (ﷺ) chasing them on his mule
معمر نے ہمیں زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح خبر دی ، البتہ انہوں نے فروہ بن ( نفاثہ کی جگہ ) نعامہ جذامی ( صحیح نفاثہ ہی ہے ) کہا اور کہا : "" رب کعبہ کی قسم! وہ شکست کھا گئے ۔ رب کعبہ کی قسم! وہ شکست کھا گئے ۔ "" اور انہوں نے حدیث میں یہ اضافہ کیا : یہاں تک کہ اللہ نے انہیں شکست دے دی ۔ کہا : ایسے لگتا ہے کہ میں ( اب بھی ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ان کے پیچھے اپنے خچر کو ایڑ لگا رہے ہیں
وَحَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ " .
It has been narrated (through a still different chain of transmitters) on the Same authority (i. e. 'Arfaja) who said similarly-but adding:" Kill all of them." I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: When you are holding to one single man as your leader, you should kill who seeks to undermine your solidarity or disrupt your unity
ابو یعفور نے حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جب تمہارا نظام ( حکومت ) ایک شخص کے ذمے ہو ، پھر کوئی تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے یا تمہاری جماعت کو منتشر کرنے کے ارادے سے آگے بڑھے تو اسے قتل کر دو
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ " .
Nafi' reported Ibn 'Umar as saying:I do not know this but from Allah's Apostle (ﷺ) who said: Every intoxicant is Khamr and every Khamr is forbidden
عبید اللہ نے کہا : ہمیں نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہا : اس بات کا علم مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف سے ہے کہ آپ نے فرما یا : " ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ - قَالَ - قَالُوا إِنَّهُمْ لاَ يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلاَّ مَخْتُومًا . قَالَ فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ .
Anas b. Malik reported that when Allah's Messenger (ﷺ) decided to write letters to the Byzantine (Emperor) they (his Companions) told him that they would not read a letter unless it is sealed. (Then) Allah's Messenger (ﷺ) had a silver ring made (for himself), (its shape is so vivid in my mind) as if I see its brightness in the band of Allah's Messenger (ﷺ) and its engravement was (Muhammad, Messenger of Allah)
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روم ( کے بادشاہ ) کی طرف خط لکھنے کاارادہ کیا تو صحابہ نےعرض کی : وہ لوگ کوئی ایسا خط نہیں پڑھتے جس پر مہر نہ لگائی گئی ہو ، کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، ایسالگتا ہے کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں اس کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں ، اس پر " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " نقش ہے ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَأَبُو الطَّاهِرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is a remedy for every malady, and when the remedy is applied to the disease it is cured with the permission of Allah, the Exalted and Glorious
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر بیماری کی دوا ہے ، جب کوئی دوا بیماری پر ٹھیک بٹھا دی جاتی ہے تو مریض اللہ تعالیٰ کےحکم سے تندرست ہوجاتاہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، بِنَحْوِهِ .
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters
اسماعیل ( بن علیہ ) نے کہا : ہمیں ایوب نے ابو قلابہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے پاس گئے ، اس وقت انجشہ نام کا ایک اونٹ ہانکنے والا ان ( کے اونٹوں ) کو ہانک رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" انجشہ تم پر افسوس!شیشہ آلات ( خواتین ) کو آہستگی اور آرام سے چلاؤ ۔ "" ایوب نے کہا : ابو قلابہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کلمہ بولا کہ اگرتم میں سے کوئی ایسا کلمہ کہتا تو تم اس پر عیب لگاتے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُمَرَ، - يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ - عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ - يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ - فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لَهَا . وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لأَحَبَّ النَّاسِ إِلَىَّ . وَايْمُ اللَّهِ إِنَّ هَذَا لَهَا لَخَلِيقٌ - يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ - وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لأَحَبَّهُمْ إِلَىَّ مِنْ بَعْدِهِ فَأُوصِيكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيكُمْ " .
Salim reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) said on the pulpit:You object to the command of Usima b. Zaid as you had objected before to the command of his father (Zaid). By Allah, he was most competent for it and, by Allah, he was dearest to me amongst people and, by Allah, the same is the case with Usama b. Zaid. He is most dear to me after him and I advise you to treat him well for he is pious amongst you
سالم نے اپنے والد ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ( اس وقت ) آپ منبر پر تھے : " اگر تم اسکی امارت پر اعتراض کررہے ہو آپ کی مراد حضرت اُسامہ بن زید سے تھی ۔ تو اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر ( بھی ) اعتراض کرچکے ہو ۔ اللہ کی قسم!اس کے بعد یہ بھی مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے ۔ میں تمھیں اس کے ساتھ ہر طرح کی اچھائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمھارے نیک ترین لوگوں میں سے ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ بَيْنَا أَنَا مَعَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ نَزَلَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ إِدَاوَةٍ كَانَتْ مَعِي فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ .
Mughira b. Shu'ba reported:I was with the Messenger of Allah (ﷺ) one night. He came down (from the ride) and relieved himself. He then came and I poured water upon him from the jar that I carried with me. He performed ablution and wiped over his socks
اسود بن ھلال نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی ‘ انھو ں نے کہا ایک رات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا جب آپﷺ ( سواری سے ) اترے اورقضائے حاجت کی آپﷺ واپس آئے تو میں نے اس برتن سے جو میر ے پاس تھا ’’پانی ڈالا ‘ ‘ آپﷺ نے وضو کیا اور آپنے موزوں پر مسح کیا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَ مَعْنَاهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " بِئْسَ أَخُو الْقَوْمِ وَابْنُ الْعَشِيرَةِ " .
This hadith has been reported on the authority of Ibn Munkadir with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
معمر نے ابن منکدر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت بیان کی ، مگر انہوں نے کہا : " یہ قوم کا بدترین فرد ہے اور یہ گھرانے کا ( بدترین ) فرد ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ .
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
عبدالملک بن صباح مسمعی نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند سے ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters
حماد بن زید نے کہا : ہمیں ایوب نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ إِلَى أَبِي فِي مَنْزِلِهِ فَاشْتَرَى مِنْهُ رَحْلاً فَقَالَ لِعَازِبٍ ابْعَثْ مَعِيَ ابْنَكَ يَحْمِلْهُ مَعِي إِلَى مَنْزِلِي فَقَالَ لِي أَبِي احْمِلْهُ . فَحَمَلْتُهُ وَخَرَجَ أَبِي مَعَهُ يَنْتَقِدُ ثَمَنَهُ فَقَالَ لَهُ أَبِي يَا أَبَا بَكْرٍ حَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمَا لَيْلَةَ سَرَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا كُلَّهَا حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ وَخَلاَ الطَّرِيقُ فَلاَ يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ حَتَّى رُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ لَهَا ظِلٌّ لَمْ تَأْتِ عَلَيْهِ الشَّمْسُ بَعْدُ فَنَزَلْنَا عِنْدَهَا فَأَتَيْتُ الصَّخْرَةَ فَسَوَّيْتُ بِيَدِي مَكَانًا يَنَامُ فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي ظِلِّهَا ثُمَّ بَسَطْتُ عَلَيْهِ فَرْوَةً ثُمَّ قُلْتُ نَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا أَنْفُضُ لَكَ مَا حَوْلَكَ فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ مُقْبِلٍ بِغَنَمِهِ إِلَى الصَّخْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا الَّذِي أَرَدْنَا فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلاَمُ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُلْتُ أَفِي غَنَمِكَ لَبَنٌ قَالَ نَعَمْ . قُلْتُ أَفَتَحْلُبُ لِي قَالَ نَعَمْ . فَأَخَذَ شَاةً فَقُلْتُ لَهُ انْفُضِ الضَّرْعَ مِنَ الشَّعَرِ وَالتُّرَابِ وَالْقَذَى - قَالَ فَرَأَيْتُ الْبَرَاءَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى الأُخْرَى يَنْفُضُ - فَحَلَبَ لِي فِي قَعْبٍ مَعَهُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ قَالَ وَمَعِي إِدَاوَةٌ أَرْتَوِي فِيهَا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِيَشْرَبَ مِنْهَا وَيَتَوَضَّأَ - قَالَ - فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُ مِنْ نَوْمِهِ فَوَافَقْتُهُ اسْتَيْقَظَ فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْرَبْ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ - قَالَ - فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ثُمَّ قَالَ " أَلَمْ يَأْنِ لِلرَّحِيلِ " . قُلْتُ بَلَى . قَالَ فَارْتَحَلْنَا بَعْدَ مَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ - قَالَ - وَنَحْنُ فِي جَلَدٍ مِنَ الأَرْضِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُتِينَا فَقَالَ " لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا " . فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَارْتَطَمَتْ فَرَسُهُ إِلَى بَطْنِهَا أُرَى فَقَالَ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكُمَا قَدْ دَعَوْتُمَا عَلَىَّ فَادْعُوَا لِي فَاللَّهُ لَكُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْكُمَا الطَّلَبَ . فَدَعَا اللَّهَ فَنَجَى فَرَجَعَ لاَ يَلْقَى أَحَدًا إِلاَّ قَالَ قَدْ كَفَيْتُكُمْ مَا هَا هُنَا فَلاَ يَلْقَى أَحَدًا إِلاَّ رَدَّهُ - قَالَ - وَوَفَى لَنَا .
Al-Bara' b. 'Azib reported that Abu Bakr Siddiq came to the residence of my father ('Azib) and bought a haudaj from him and said to 'Azib:Send your son to my residence (to carry this haudaj), and my father said to me: Carry it (for him). So I carried it and there went along with him (with Abu Bakr) my father in order to fetch its price and he ('Azib) said to Abu Bakr: Abu Bakr, narrate to me what you both did on the night when you set out on a journey along with Allah's Messenger (ﷺ). He said: We set out during the night and went on walking until it was noon, and the path was vacant and so none passed by that (until) there appeared prominently before us a large rock. It had its shade and the rays of the sun did not reach that place. So we got down at that place. I then went to the rock and levelled the ground with my hands at the place where the Prophet (ﷺ) would take rest under its shade. I then set the bedding and said: Allah's Messenger, go to sleep and I shall keep a watch around you. I went out and watched around him. There we saw a shepherd moving towards that rock with his flock and he intended what we intended (i. e. taking rest). I met him and said to him: Young boy, to which place do you belong? He said: I am a person from Medina. I said, is there any milk in the udders of your sheep and goats? He said: Yes. He took hold of a goat, and I said to him: Clean the udder well so that it should be free from hair, dust and impurity. I saw al-Bara' striking his hand upon the other (to give an indication) how he did that. He milked the goat for me in a wooden cup which he had with him and I had with me a bucket in which I kept water for drinking and for performing ablution. I came to Allah's Apostle (ﷺ) and did not like to awaken him from sleep but he was accidentally startled from the sleep. I poured water upon the milk (till It was cold) and I said: Allah's Messenger, take this milk. He then took It and I was delighted and he (the Holy Prophet) said: Is now not the time to march on? I said: Of course. So he marched on after the sun had passed the meridian and Suraqa b. Malik pursued us and we had been walking on soft, level ground. I said: Allah's Messenger, we are about to be overtaken by them. Thereupon he said: Be not grieved. Verily, Allah is with us. Then Allah's Messenger (ﷺ) cursed him and his horse sank into the earth. I think he also said: I know you have hurled curse upon me. So supplicate Allah for me and I take an oath that I shall turn everyone away who would come in search of you. So he (Allah's Messenger) supplicated Allah and he was rescued and he came back and to everyone he met, he said: I have combed all this side. In short, he diverted everyone whom he met and he in fact fulfilled his promise
ابو اسحاق نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا : حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے والد کے پاس ان کے گھر آئے اور ان سے ایک کجاوہ خریدا ، پھر ( میرے والد ) عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہنے لگے : اپنے بیٹے کو میرے ساتھ بھیج دیں ، وہ اس ( کجاوے ) کو میرے ساتھ اٹھا کر میرے گھر پہنچادے ۔ میرے والد نے مجھ سے کہا : اسے تم اٹھا لو تو میں نے اسے اٹھا لیا اور میرے والد اس کی قیمت لینے کے ہے ان کے ساتھ نکل پڑے ۔ میرے والد نے ان سے کہا : ابو بکر!مجھے یہ بتائیں کہ جس رات آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( ہجرت کے لیے ) نکلے تو آپ دونوں نے کیا کیا؟انھوں نے کہا : ہاں ہم پوری رات چلتے ر ہے حتیٰ کہ دوپہر کا و قت ہوگیا اور ( دھوپ کی شدت سے ) راستہ خالی ہوگیا ، اس میں کوئی بھی نہیں چل رہا تھا ، اچانک ایک لمبی چٹان ہمارے سامنے بلند ہوئی ، اس کا سایہ بھی تھا ، اس پر ابھی دھوپ نہیں آئی تھی ۔ ہم اس کے پاس ( سواریوں سے ) اتر گئے ۔ میں چٹان کے پاس آیا ، ایک جگہ اپنے ہاتھ سے سنواری تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سائے میں سوجائیں ، پھر میں نے آپ کے لیے اس جگہ پر ایک نرم کھال بچھادی ، پھر عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !سوجائیے اور میں آپ کے اردگرد ( کے علاقے ) کی تلاشی لیتا ہوں ( اور نگہبانی کرتا ہوں ) آ پ سو گئے ، میں چاروں طرف نگرانی کرنے لگا تو میں نے دیکھا ایک چرواہا اپنی بکریاں لیے چنان کی طرف آرہاتھا ۔ وہ بھی اس کے پاس اسی طرح ( آرام ) کرنا چاہتا تھا جس طرح ہم چاہتے تھے ۔ میں اس سے ملا اور اس سے پوچھا : لڑکے !تم کس کے ( غلام ) ہو؟اس نے کہا : مدینہ کے ایک شخص کا ۔ میں نے کہا : کیا تمھاری بکریوں ( کے تھنوں ) میں دودھ ہے؟اس نے کہا : ہاں ۔ میں نے کہا : کیا تم میرے لیے دودھ نکالو گے؟اس نے کہا : ہاں ۔ اس نے ایک بکری کو پکڑا تو میں نے اس سے کہا : تھنوں سے بال ، مٹی اور تنکے جھاڑ لو ۔ ( ابو اسحاق نے ) کہا : تھنوں سے بال مٹی اور تنکے جھاڑ لو ۔ ( ابو اسحاق نے ) کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا وہ اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مار کر جھاڑ رہے تھے ، چنانچہ اس نے میرے لیے لکڑی کے ایک پیالے میں تھوڑا سا دودھ نکال دیا ( حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میرے ہمراہ چمڑے کا ایک برتن ( بھی ) تھا ، میں اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی بھر کر رکھتا تھا تاکہ آپ نوش فرمائیں اور وضو کریں ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور مجھے یہ بات پسند نہ تھی کہ آپ کو جگاؤں ، لیکن میں پہنچا تو آپ جاگ چکے تھے ۔ میں نے دودھ پر کچھ پانی ڈالا ، یہاں تک کہ اس کے نیچے کا حصہ بھی ٹھنڈا ہوگیاتو میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ دودھ نوش فرمالیں ۔ آپ نے نوش فرمایا ، یہاں تک کہ میں راضی ہوگیا ۔ پھر آپ نے فرمایا : " کیا چلنے کاوقت نہیں آیا؟ " میں نے عرض کی : کیوں نہیں!کہا : پھر سورج ڈھل جانے کے بعد ہم روان ہوگئے اور سراقہ بن مالک ہمارے پیچھے آگیا ، جبکہ ہم ایک سخت زمین میں ( چل رہے ) تھے ۔ میں نے عرض کی : ہمیں لیا گیا ہے ، آپ نے فرمایا : " غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف دعا کی تو اس کے گھوڑے کی ٹانگیں پیٹ تک زمین میں دھنس گئیں ۔ میرا خیال ہے ۔ اس نے کہا : مجھے پتہ چل گیا ہے تم دونوں نے میرے خلاف دعا کی ہے ۔ میرے حق میں دعا کرو ۔ ( میری طرف سے ) تمہارے لیے اللہ ضامن ہے کہ میں ڈھونڈنے والوں کو تمہاری طرف سے لوٹاؤں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی تو وہ بچ گیا ، پھر وہ لوٹ گیا ۔ جس ( پچھاڑنے والے ) کو ملتا اس سے یہ کہتا : میں ( تلاش کرچکا ہوں ) تمہاری طرف سے بھی کفایت کرتا ہوں ، وہ اس طرف نہیں ہیں وہ جس کسی کو بھی ملتا اسے لوٹا دیتا ۔ ( حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : انھوں نے ہمارے ساتھ وفا کی ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ أَقْبَلْتُ بِحَجَرٍ أَحْمِلُهُ ثَقِيلٍ وَعَلَىَّ إِزَارٌ خَفِيفٌ - قَالَ - فَانْحَلَّ إِزَارِي وَمَعِيَ الْحَجَرُ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَضَعَهُ حَتَّى بَلَغْتُ بِهِ إِلَى مَوْضِعِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ارْجِعْ إِلَى ثَوْبِكَ فَخُذْهُ وَلاَ تَمْشُوا عُرَاةً " .
Al-Miswar b. Makhrama reported:I was carrying a heavy stone and my lower garment was loose, and it, therefore, slipped off (so soon) that I could not place the stone (on the ground) and carry to its proper place. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Return to your cloth (lower garment), take it (and tie it around your waist) and do not walk naked
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : میں ایک بھاری پتھر اٹھانے ہوئے آیا اور میں نے ایک ہلکا سے تہبند باندھا ہوا تھا ، کہا : تو میرا تہبند کھل گیا اور پتھر میرے پاس تھا ۔ میں اس ( پتھر ) کے نیچے نہ رکھ سکا حتی کہ اسے اس کی جگہ پہنچا دیا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’واپس جا کر اپنا کپڑا پہنو اور ننگے نہ چلا کرو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ إِلاَّ قَوْلَهُ " وَلاَ الضَّالِّينَ . فَقُولُوا آمِينَ " . وَزَادَ " وَلاَ تَرْفَعُوا قَبْلَهُ " .
Abu Huraira reported from the Messenger of Allah (ﷺ) (a hadith) like it, except the words:" Nor of those who err, say Amin" and added:" And don't rise up ahead of him
۔ سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنیٰ روایت کی ، سوائے اس حصے کے : ’’ جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو ‘ ‘ اور یہ حصہ بڑھایا : ’’ اور تم اس سے پہلے ( سر ) نہ اٹھاؤ ۔ ‘ ‘