وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ، خَيْبَرُ فَوَقَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي تِلْكَ الْبَقْلَةِ الثُّومِ وَالنَّاسُ جِيَاعٌ فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلاً شَدِيدًا ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرِّيحَ فَقَالَ " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا فَلاَ يَقْرَبَنَّا فِي الْمَسْجِدِ " . فَقَالَ النَّاسُ حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ . فَبَلَغَ ذَاكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ بِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لِي وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا " .
Abu Sa'id reported:We made no transgression but Khaybar was conquered. We, the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ), fell upon this plant. i e. garlic. because the people were hungry. We ate it to our heart's content and then made our way towards the mosque. The Messenger of Allah (ﷺ) sensed its odour and he said: He who takes anything of this offensive plant must not approach us in the mosque. The people said: Its (use) has been forbidden; its (use) bu been forbidden. This reached the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: O people, I cannot forbid (the use of a thing) which Allah has made lawful, but (this garlic) is a plant the odour of which is repugnant to me
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھون نے کہا : ہم خیبر کی فتح سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ، اس ترکاری ۔ لہسن ۔ پر جا پڑے ، لوگ بھوکے تھے اورہم نے اسے خوب اچھی طرح کھایا ، پھر ہم مسجد کی طرف گئے تو رسول اللہ ﷺ نے بومحسوس کی ۔ آپ نے فرمایا : ’’جس نے اس بدبودار پودے میں سے کچھ کھایا ہے وہ مسجد میں ہمارے قر یب نہ آئے ۔ ‘ ‘ اس پر لوگ کہنے لگے : ( لہسن ) حرام ہو گیا ، حرام ہو گیا ۔ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا : ’’ اے لوگو! ایسی چیز کو حرام کرنا میرے ہاتھ میں نہیں جسے اللہ نے میرے لیے حلال کر دیا ہے لیکن یہ ایسا پودا ہے جس کی بو مجھے ناپسند ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ وَقَالَ يَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ .
A hadith like this has been reported by the same chain of transmitters, but with this alteration that the transmitter said:" As Allah pleased
شعبہ نے یزید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور یزید نے ( ماشاء کے بجائے ) ماشاء اللہ ( جتنی اللہ چاہتا ) کہا ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ " .
It is reported on the authority of Abu Huraira:I heard the Messenger of Allah saying this: Pride and conceitedness is found among the uncivil owners of the camels and tranquillity is found among the owners of sheep and goats
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’فخر و تکبر چلا کر بولنے والے ، خیموں کے باسیوں میں ہے اور اطمینان و سکون بھیڑ بکریاں والوں میں ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ شُعْبَةَ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ كَانَ زَيْدٌ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكَبِّرُهَا .
It is narrated on the authority of 'Abd al-Rahman b. Abu Laila that Zaid used to recite four takbirs on our funerals and he recited five takbirs on one funeral. I asked him the reason (for this variation), to which he replied:The Messenger of Allah (ﷺ) recited thus
۔ عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے کہا : زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن ارقم ) ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے ، انھوں نے ایک جنازے پر پانچ تکبیریں کہیں ، میں نے ان سے ( اس کے بارے میں ) پوچھا تو انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بسا اوقات ) اتنی ( پانچ ) تکبیریں کہا کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ " أَلاَ رَجُلٌ يَمْنَحُ أَهْلَ بَيْتٍ نَاقَةً تَغْدُو بِعُسٍّ وَتَرُوحُ بِعُسٍّ إِنَّ أَجْرَهَا لَعَظِيمٌ " .
It is narrated on the authority of Abu Huraira (that the Messenger of Allah) said:Of course the person who gives to the family a she-camel as a gift, which gives milk morning and evening equal to a large bowl, its reward (the reward of the gift) is great
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، وہ اسے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک ) پہنچاتے تھے : " سن لو ، کوئی آدمی کسی خاندان کو ( ایسی دودھ دینے والی ) اونٹنی دے جو صبح کو بڑا پیالہ بھر دودھ دے اور شام کو بھی بڑا پیالہ بھر دودھ دے تو یقیناً اس ( اونٹنی ) کا اجر بہت بڑا ہے ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَلْ هَذِهِ " . لأُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ ذَلِكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَخْشَاكُمْ لَهُ " .
Umar b Abu Salama reported that he asked the Messenger of Allah (ﷺ):Should one observing fast kiss (his wife)? The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Ask her (Umm Salama). She informed him that the Messenger of Allah (ﷺ) did that, where upon he said: Messenger of Allah, Allah pardoned thee all thy sins, the previous and the later ones. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) ) said: By Allah, I am the most God conscious among you and I fear Him most among you
ہارون بن سعید ، ابن وہب ، عمرو ، ابن حارث ، عبدربہ بن سعید ، عبداللہ بن کعب حمیری ، حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ روزہ دار بوسہ لے سکتا ہے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن سلمہ سے فرمایا کہ یہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھو تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے ہیں ۔ حضرت عمر بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے گناہ سارے معاف فرمادیئے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن سلمہ سے فرمایا سنو!اللہ کی قسم!میں تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا اور اللہ سے ڈرنے والا ہوں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَصْبَهَانِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُحْرِمًا فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَدَعَا الْحَلاَّقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ " هَلْ عِنْدَكَ نُسُكٌ " . قَالَ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ . فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً { فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ} ثُمَّ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً .
Ka'b b. Ujra (Allah be pleased with him) reported that he went out with the Messenger of Allah (ﷺ) in the state of Ihram, and his (Ka'b's) head and beard were infested with lice. This was conveyed to the Messenger of Allah (ﷺ). He sent for him (Ka'b) and called a barber (who) shaved his head. He (the Holy Prophet) said. Is there any sacrificial animal with you? He (Kalb) said:I cannot afford it. He then commanded him to observe fasts for three days or feed six needy persons, one sa' for every two needy persons. And Allah the Exalted and Majestic revealed this (verse) particular with regard to him:" So whosoever among you is sick and has an ailment of the head.." ; then (its application) became general for the Muslims
زکریا بن ابی زائد ہ سے روایت ہے کہا : ہمیں عبدالرحٰمن بن اصبہانی نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا مجھے عبد اللہ بن معقل نے انھوں نے کہا : مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنا ئیکہ وہ احرا م باندھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ان کے سر اور داڑھی میں ( کثرت سے ) جو ئیں پڑ گئیں ۔ اس ( بات ) کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انھیں بلا بھیجا اور ھجا م کو بلا کر ان کا سر مونڈ دیا پھر ان سے پو چھا : " کیا تمھا رے پاس کو ئی قربانی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : ( اے اللہ کے رسول ) میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا آپ نے انھیں حکم دیا : تین دن کے روزے عکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھا نا مہیا کر دو مسکینو ں کے لیے ایک صاعہو اللہ عزوجل نے خاص ان کے بارے میں یہ آیت نازل فر ما ئی : " جو شخص تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو ، اس کے بعد یہ ( اجازت ) عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported that 'Abd al-Rahman b. 'Auf (Allah be pleased with him) married a woman for a date-stone's weight of gold and Allah's Apostle (ﷺ) said to him:Hold a wedding feast, even if only with a sheep
وکیع نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ اور حُمید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سونے کی ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض نکاح کیا اور یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے کرو
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ
A hadith like this has been narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters
ابن ابی زائدہ نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَأْثُرُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ فَذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ وَنَافِعٌ مَعَهُ . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ رُمْحٍ قَالَ نَافِعٌ فَذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَنَا مَعَهُ وَاللَّيْثِيُّ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَقَالَ إِنَّ هَذَا أَخْبَرَنِي أَنَّكَ تُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَعَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ . فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى عَيْنَيْهِ وَأُذُنَيْهِ فَقَالَ أَبْصَرَتْ عَيْنَاىَ وَسَمِعَتْ أُذُنَاىَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهُ بِنَاجِزٍ إِلاَّ يَدًا بِيَدٍ " .
Nafi' reported that Ibn 'Umar told him that a person of the tribe of Laith said that Abu Sa'id al-Kludri narrated it (the above-mentioned hadith) from tile Messenger of Allah (ﷺ) in a narration of Qutaiba. So 'Abduliali and Nafi' went along with him, and in the hadith transmitted by Ibn Rumh (the words are) that Nafi' said:'Abdullah (b. 'Umar) went and I along with the person belonging to Banu Laith entered (the house) of Sa'id al-Khudri, and he ('Abdullah b. Umar) said: I have been informed that you say that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the sale of silver with silver except in case of like for like, and sale of gold for gold except in case of like for like. Abu Sa'id pointed towards this eyes and his ears with his fingers and said: My eyes saw, and my ears listened to Allah's Messenger (ﷺ) saying: Do not sell gold for gold, and do not sell silver for silver except in case of like for like, and do not increase something of it upon something, and do not sell for ready money something, not present, but hand to hand
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی اور انہوں نے نافع سے روایت کی کہ بنو لیث کے ایک شخص نے حجرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بیان کرتے ہیں ۔ قتیبہ کی روایت میں ہے : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ چلے اور نافع بھی ساتھ تھے ۔ ۔ اور ابن رمح کی حدیث میں ہے : نافع نے کہا : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ چلے ، میں اور لیثی بھی ان کے ساتھ تھے ۔ ۔ حتی کہ وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے اور کہا : اس آدمی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی چاندی کے عوض بیع سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ برابر برابر ہو اور سونے کی سونے کے عوض بیع سے ( منع فرمایا ) الا یہ کہ برابر برابر ہو؟ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اپنی دو انگلیوں سے اپنی دونوں آنکھوں اور دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا : میری دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " تم سونے کے عوض سونے کی اور چاندی کے عوض چاندی کی بیع نہ کرو مگر یہ کہ یکساں اور اسے ایک دوسرےسے کم زیادہ نہ کرو اور اس میں سے کسی غیر موجود چیز کی موجود کے ساتھ بیع نہ کرو ، الا یہ کہ دست بدست ہو ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ قَالَ عَبَّاسٌ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَزِمْتُ أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُفَاثَةَ الْجُذَامِيُّ فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ قَالَ عَبَّاسٌ وَ أَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكُفُّهَا إِرَادَةَ أَنْ لاَ تُسْرِعَ وَأَبُو سُفْيَانَ آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَىْ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ " . فَقَالَ عَبَّاسٌ وَكَانَ رَجُلاً صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلاَدِهَا . فَقَالُوا يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ - قَالَ - فَاقْتَتَلُوا وَالْكُفَّارَ وَالدَّعْوَةُ فِي الأَنْصَارِ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَقَالُوا يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ . فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ " . قَالَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ " انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ " . قَالَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى - قَالَ - فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلاً وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا .
It has been narrated on the authority of 'Abbas who said:I was in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Hunain. I and Abd Sufyan b. Harith b. 'Abd al-Muttalib stuck to the Messenaer of Allah (ﷺ) and we did not separate from him. And the Messenger of Allah (may place be upon him) was riding on his white mule which had been presented to him by Farwa b. Nufitha al-Judhami. When the Muslims had an encounter with the disbelievers, the Muslims fled, falling back, but the Messenger of Allah (ﷺ) began to spur his mule towards the disbelievers. I was holding the bridle of the mule of the Messenger of Allah (ﷺ) checking it from going very fast, and Abu Sufyan was holding the stirrup of the (mule of the) Messenger of Allah (ﷺ), who said: Abbas, call out to the people of al-Samura. Abbas (who was a man with a loud voice) called out at the top of the voice: Where are the people of Samura? (Abbas said: ) And by God, when they heard my voice, they came back (to us) as cows come back to their calves, and said: We are present, we are present! 'Abbas said: They began to fight the infidels. Then there was a call to The Ansar. Those (who called out to them) shouted: O ye party of the Ansar! O party of the Ansar! Banu al-Harith b. al-Khazraj were the last to be called. Those (who called out to them) shouted: O Banu Al-Harith b. al-Khazraj! O BanU Harith b. al-Khazraj! And the Messenger of Allah (ﷺ) who was riding on his mule looked at their fight with his neck stretched forward and he said: This is the time when the fight is raging hot. Then the Messenger of Allah (ﷺ) took (some) pebbles and threw them in the face of the infidels. Then he said: By the Lord of Muhammad, the infidels are defeated. 'Abbas said: I went round and saw that the battle was in the same condition in which I had seen it. By Allah, it remained in the same condition until he threw the pebbles. I continued to watch until I found that their force had been spent out and they began to retreat
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے کثیر بن عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : حنین کے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ، میں اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ، آپ سے جدا نہ ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر ( سوار ) تھے جو فرقہ بن نُفاثہ جذامی نے آپ کو تحفے میں دیا تھا ۔ جب مسلمانوں اور کفار کا آمنا سامنا ہوا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگے ، ( مگر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر کو ایڑ لگا کر ، کفار کی جانب بڑھنے لگے ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھا ، میں چاہتا تھا کہ وہ تیزی سے ( آگے ) نہ بڑھے اور ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب کو پکڑا ہوا تھا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عباس! کیکر کے درخت ( کے نیچے بیعت کرنے ) والوں کو آواز دو ۔ " حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : ۔ ۔ اور وہ بلند آواز والے تھے ۔ ۔ میں نے اپنی بلند ترین آواز سے پکار کر کہا : کیکر کے درخت والے کہاں ہیں؟ کہا : اللہ کی قسم! میری آواز سن کر ان کا پلٹنا اس طرح تھا جیسے گائے اپنے بچوں کی ( آواز سن کر ان کی ) طرف پلٹتی ہے ۔ اور وہ ( جواب میں ) کہنے لگے : حاضر ہیں! حاضر ہیں! کہا : تو وہ کفار سے بھڑ گئے ، پھر انصار میں بلاوا دیا گیا ( بلاوا دینے والے ) کہتے تھے : اے انصار کی جماعت! اے انصار کی جماعت! پھر اس ندا کو بنی حارث بن خزرج تک محدود کر دیا گیا اور انہوں نے کہا : اے بنو حارث بن خزرج! اے بنو حارث بن خزرج! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خچر پر بیٹھے ہوئے ، گردن کو آگے کر کے دیکھنے والے کی طرح ، ان کی لڑائی کا جائزہ لیا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ گھڑی ہے کہ ( لڑائی کا ) تنور گرم ہوا ہے ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں پکڑیں اور انہیں کافروں کے چہروں پر مارا ، پھر فرمایا : " محمد کے پروردگار کی قسم! وہ شکست کھا گئے ۔ " کہا : میں دیکھنے لگا تو میرے خیال کے مطابق لڑائی اسی طرح جاری تھی ۔ کہا : اللہ کی قسم! پھر یہی ہوا کہ جونہی آپ نے ان کی طرف کنکریاں پھینکیں تو میں دیکھ رہا تھا کہ ان کی دھار کند ہو گئی ہے اور ان کا معاملہ پیچھے جانے کا ہے
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ، زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْخَثْعَمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، ح وَحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُخْتَارِ، وَرَجُلٌ، سَمَّاهُ كُلُّهُمْ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا " فَاقْتُلُوهُ "
In another version of the tradition narrated on the same authority through a different chains of transmitters we have the words:" Kill him
ابو عوانہ ، شیبان ، اسرائیل ، عبداللہ بن مختار اور ایک آدمی جس کا حماد نے نام لیا تھا ، ان سب نے زیاد بن علاقہ سے ، انہوں نے حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت بیان کی ، مگر ان سب کی حدیث میں : " اسے قتل کر دو " کے الفاظ ہیں
وَحَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Musa b. Uqba with the same chain of transmitters
۔ عبد العزیز بن مطلب نے مو سیٰ بن عقبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ .
This hadith has been reported on the authority of Anas through another chain of transmitters but there is no mention of the words (Muhammad, Messenger of Allah) in it
اسماعیل ( ابن علیہ ) نے عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور اس میں " محمد رسول اللہ " ( نقش کرانے ) کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
This hadith has been transmitted on the authority of 'Uthman b. Abu al-'As with a slight variation of wording
سفیان نے سعید جریری سے روایت کی ، کہا : ہمیں یزید بن عبداللہ بن شخیر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !پھر ان کی حدیث کی مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَغُلاَمٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ يَحْدُو فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ " .
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) had in one of his journeys his black slave who was called Anjasha along with him. He goaded by singing the songs of camel-driver. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:Anjasha, drive slowly as you are driving (the mounts who are carrying) glass vessels
حماد نے ہمیں ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا - إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمْرَتِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمْرَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلإِمْرَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ بَعْدَهُ " .
Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent an expedition and appointed Usama b. Zaid as its chief. The people objected to his command, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) stood up and said:You object to his command and before this you objected to the command of his father (Zaid). By Allah, he was fit as the commander and he was one of the dearest of persons to me and after him, behold! this one (Usama) is one of the dearest of persons to me
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اُسامہ بن زید کو اس کا امیر مقرر فرمایا ۔ کچھ لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( خطبہ دینے کے لئے ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : " تم نےاگر اس ( اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی امارت پر اعتراض کیا ہےتواس سے پہلے اس کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کرتے تھے ۔ اللہ کی قسم! وہ بھی امارت کا اہل تھا اور بلاشبہ میرے محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اور ا س کے بعد بلاشبہ یہ ( بھی ) میرے محبوب ترین لوگوں میں سے ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ .
This hadith has been transmitted with the same chain of transmitters by Yahya b. Sa'id with the addition of these words:" He washed his face and hands, and wiped his head and then wiped his socks
یحییٰ بن سعید کےایک دوسرے شاگرد عبدالوہاب نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی اور کہا : آپﷺنے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ، اپنے سر کامسح کیا ، پھر موزوں پر مسح کیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ - عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّ رَجُلاً، اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ائْذَنُوا لَهُ فَلَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ " . فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلاَنَ لَهُ الْقَوْلَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ قَالَ " يَا عَائِشَةُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ أَوْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ " .
A'isha reported that a person sought permission from Allah's Apostle (ﷺ) to see him. He said:Grant him permission. (and also added: ) He is a bad son of his tribe or he is a bad person of his tribe. When he came in he used kind words for him. 'A'isha reported that she said: Allah's Messenger, you said about him what you had to say and then you treated him with kindness. He said: A'isha, verily in the eye of Allah, worst amongst the person in rank on the Day of Resurrection is one whom the people abandon or desert out of the fear of indecency
سفیان بن عیینہ نے ابن منکدر سے روایت کی ، انہوں نے عروہ بن زبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اجازت طلب کی ، آپ نے فرمایا : " اس کو اجازت دے دو ، یہ یقینا اپنے قبیلے کا بُرا فرد ہے ، یا فرمایا : قبیلے کا برا مرد ہے ۔ " جب وہ شخص اندر آیا تو آپ نے اس کے ساتھ نرمی سے گفتگو کی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ نے اس کے بارے میں وہ فرمایا جو فرمایا تھا ، پھر آپ نے اس کے ساتھ نرمی سے بات کی؟ آپ نے فرمایا : " عائشہ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ رتبے کے اعتبار سے سب سے برا شخص وہ ہو گا جس سے لوگ اس کی بدزبانی سے بچنے کے لیے دور رہیں یا اس کو چھوڑ دیں ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جِدِّي وَهَزْلِي وَخَطَئِي وَعَمْدِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ " .
Abu Musa Ash'ari reported on the authority of his father that Allahs Apostle (ﷺ) used to supplicate in these words:" O Allah, forgive me my faults, my ignorance, my immoderation in my concerns. And Thou art better aware (of my affairs) than myself. O Allah, grant me forgiveness (of the faults which I committed) seriously or otherwise (and which I committed inadvertently and de- liberately. All these (failings) are in me. O Allah, grant me forgiveness from the fault which I did in haste or deferred, which I committed in privacy or in public and Thou art better aware of (them) than myself. Thou art the First and the Last and over all things Thou art Omnipotent
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابواسحٰق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ یہ دعا فرمایا کرتے تھے : " اے اللہ! میری خطاء میری لا علمی ، اپنے ( کسی ) معاملے میں میرا حد سے آگے یا پیچھے رہ جانا اور وہ سب کچھ جو میری نسبت تو زیادہ جانتا ہے سب معاف فرما دے ۔ اے اللہ! میرے وہ سب کام جو ( تجھے پسند نہ آئے ہوں ) میں نے سنجیدگی سے کیے ہوں یا مزاحا کیے ہوں ، بھول چوک کر کیے ہوں یا جان بوجھ کر کیے ہوں اور یہ سب مجھ سے ہوئے ہوں ، ان کو بخش دے ۔ اے اللہ! میری وہ باتیں ( جو تجھے پسند نہیں آئیں ) بخش دے جو میں نے پہلے کیں یا جو میں نے بعد میں کیں ، اکیلے میں کیں یا جو میں نے سب کے سامنے کیں اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے ، تو ہی ( جسے چاہے اپنی رحمت کی طرف ) آگے بڑھانے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حُوسِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ " . فَقُلْتُ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} فَقَالَ " لَيْسَ ذَاكِ الْحِسَابُ إِنَّمَا ذَاكِ الْعَرْضُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ " .
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:He who is taken to account on the Day of Resurrection is in fact put to torment. I said: Has Allah, the Exalted and Glorious, not said this: 'He will be made subject to an easy reckoning" (Ixxxiv. 8)? Thereupon he said: (What it implies) is not the actual reckoning, but only the presentation of one's deeds to Him. He who is thoroughly examined in reckoning is put to torment
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے انھوں نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن جس سے حساب لیا گیا وہ عذاب میں مبتلا! ہو گیا ۔ میں نے عرض کی ۔ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : " عنقریب اس سے آسان حساب لیا جا ئے گا ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ حساب نہیں وہ تو حساب کے لیے پیش ہونا ہے جس سے قیامت کے دن حساب کی پوچھ گچھ ہوئی اسے عذاب ( میں ڈال ) دیا جائے گا ۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارُهُ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبِكَ دُونَ الْحِجَارَةِ - قَالَ - فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبِهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ - قَالَ - فَمَا رُؤِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا .
Jabir b. 'Abdullah reported:The Messenger of Allah (ﷺ) was carrying along with them (his people) stones for the Ka'ba and there was a waist wrapper around him. His uncle," Abbas, said to him: 0 son of my brother! if you take off the lower garment and place it on the shoulders underneath the stones, it would be better. He (the Holy Prophet) took it off and placed it on his shoulder and fell down unconscious. He (the narrator) said: Never was he seen naked after that day
زکریا بن اسحاق نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے عمرو بن دینار نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، حدیث بیان کر رہ تھے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے ساتھ کعبے کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے اور آپ کا تہبند جسم پر تھا ، اس موقع پر آپ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا : اے بھتیجے ! بہتر ہو گا کہ تم اپنا تہبند کھول دور اور اسے اپنے مونڈھے پر پتھروں کے نیچے رکھ لو ۔ جابر نےکہا : آپ نے اسے کھول کر اپنے مونڈھے پر رکھ لیا تو آپ کو غش کھا کر گر گئے ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس دن کے بعد آپ کو کبھی برہنہ نہیں دیکھا گیا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ، خَشْرَمٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا يَقُولُ " لاَ تُبَادِرُوا الإِمَامَ إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ وَلاَ الضَّالِّينَ . فَقُولُوا آمِينَ . وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) while teaching us (the principles of faith), said: Do not try to go ahead of the Imam, recite takbir when he recites it, and when he says: "Nor of those who err" you should say Amin, bow down when he bows down, and when he says: "Allah listens to him who praises Him" say: "O Allah, our Lord, to Thee be the praise
اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تعلیم دیتے تھے ، فرماتے تھے : ’’ امام سے آگے نہ بڑھو ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ۔ ‘ ‘