بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
6
26 hadith
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ ‏.‏ وَإِنِّي لأُسَبِّحُهَا وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ ‏.‏
Urwa reported 'A'isha to be sayidg:I have never seen the Messenger of Allah (ﷺ) observing the supererogatory prayer of the forenoon, but I observed it. And if the Messenger of Allah (ﷺ) abandoned any act which he in fact loved to do, it was out of fear that if the people practised it constantly, it might become obligatory for them
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے کبھی ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( گھر میں قیام کے دوران میں ) چاشت کے نفل پڑھتے نہیں دیکھا ، جبکہ میں چاشت کی نماز پڑھتی ہوں ۔ یہ بات یقینی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کو کرنا پسند فرماتے تھے ۔ لیکن اس ڈر سے کہ لوگ ( بھی آپ کو دیکھ کر ) وہ کام کریں گےاور ( ان کی د لچسپی کی بناء پر ) وہ کام ان پر فرض کردیا جائے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کام کو چھوڑ دیتے تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ رَأْسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالإِبِلِ الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) remarked:The summit of unbelief is towards the East and the pride and conceitedness is found among the owners of horses and camels who are rude and uncivil, people of the tents, and tranquillity is found among those who rear goats and sheep
و زناد نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کفر کی ریاست مشرق کی طرف ہے ۔ فخر و تکبر گھوڑوں اور اونٹوں والوں میں ہے ( جو اونچی آواز میں چلانے والے اوراون کے خیموں میں رہنے والے ہیں ) اور اطمینان و سکون بکریاں پالنے والوں میں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ، بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ يَسْأَلُهُ عَنْ شَىْءٍ، رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ الإِمَامُ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَىَّ فَقَالَ لاَ تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلاَ تَصِلْهَا بِصَلاَةٍ حَتَّى تَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَنَا بِذَلِكَ أَنْ لاَ تُوصَلَ صَلاَةٌ حَتَّى نَتَكَلَّمَ أَوْ نَخْرُجَ ‏.‏
Umar b. `Ata' b. Abu Khuwar said that Nafi` b. Jubair sent him to al- Sa'ib the son of Namir's sister to ask him about what he had seen in the prayer of Mu`awiya. He said:Yes, I observed the Jumu`a prayer along with him in Maqsura and when the Imam pronounced salutation I stood up at my place and observed (Sunan rak`ahs). As he entered (the apartment) he sent for me and said: Do not repeat what you have done. Whenever you have observed the Jumu`a prayer, do not observe (Sunan prayer) till you, have talked or gone out, for the Messenger of Allah (ﷺ) had ordered us to do this and not to combine two (types of) prayers without talking or going out
غندر نے ابن جریج سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عمر بن عطاء بن ابی خوار نے بتایا کہ نافع بن جبیر نے انھیں نمر کے بھانجے سائب کے پاس بھیجے ان سے اس چیز کے بارے میں پوچھنے کے لئے جو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی نماز میں دیکھی تھی ۔ سائب نے کہا : ہاں ، میں نے مقصورہ ( مسجد کے حجرے ) میں ان کے ساتھ جمعہ پڑھا تھا ۔ اور جب امام نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا اور نماز پڑھی ۔ جب معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندرداخل ہوئے تو مجھے بلوایا اور کہا : جو کام تم نے کیا ہے آئندہ نہ کرنا ۔ جب تم جمعہ پڑھ لو تو اسے کسی دوسری نماز سے نہ ملانا یہاں تک کہ گفتگو کرلو یا اس جگہ سے نکل جاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کا حکم دیاتھا کہ ہم کسی نماز کو دوسری نماز سے نہ ملائیں حتیٰ کہ ہم گفتگو کرلیں یا ( اس جگہ سے ) نکل جائیں ۔
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى قَبْرٍ ‏.‏
Anas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) observed prayer on the grave
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ ‏.‏ قَالَ كُنَّا نُحَامِلُ - قَالَ - فَتَصَدَّقَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ - قَالَ - وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِشَىْءٍ أَكْثَرَ مِنْهُ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا وَمَا فَعَلَ هَذَا الآخَرُ إِلاَّ رِيَاءً فَنَزَلَتْ ‏{‏ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ‏}‏ وَلَمْ يَلْفِظْ بِشْرٌ بِالْمُطَّوِّعِينَ ‏.‏
Abu Mas'ud reported:We were commanded to give charity (despite the fact.) that we were coolies. Abu 'Aqil donated half a sa'. And there came another man with more than this. The hypocrites said: Verily Allah does not stand in need of the charity of this, and the second one has done nothing but only made a show (of his charity). Then this verse was revealed." Those who scoff at the voluntary givers of charity among the believers as well as those who cannot find anything (to give) but with their hard labour" (ix. 80). And Bishr did not utter the word Muttawwi'in
یحییٰ بن معین اور بشر بن خالد نے ۔ لفظ بشر کے ہیں ۔ حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن جعفر ( غندر ) نےخبر دی ، انھوں نے شعبہ سے ، انھوں نے سلیمان سے ، انھوں نے ابو وائل سے اور انھوں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں صدقہ کرنے کاحکم دیا گیا ہے ، کہا : ہم بوجھ اٹھایا کرتے تھے ۔ کہا : ابوعقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آدھا صاع صدقہ کیا ۔ ایک دوسرا انسان اس سے زیادہ کوئی چیز لایا تو منافقوں نے کہا : اللہ تعالیٰ اس کے صدقے سے غنی ہے اور اس دوسرے نے محض دکھلاوا کیا ہے ، اس پر یہ آیت مبارک اتری : " وہ لوگ جو صدقات کے معاملے میں دل کھول کر دینے والے مسلمانوں پرطعن کرتے ہیں اور ان پر بھی جو اپنی محنت ( کی اجرت ) کے سواکچھ نہیں پاتے ۔ " بشر نے المطوعين ( اوربعد کے ) الفاظ نہیں کہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ حَفْصَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ‏.‏
Hafsa (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) kissed (his wives) while fasting
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، یحییٰ ، ابومعاویہ ، اعمش ، مسلم ، شتیر بن شکل ، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ مطہرہ کا بوسہ لے لیا کر تے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ احْلِقْ رَأْسَكَ ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا أَوْ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ ثَلاَثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ ‏"‏ ‏.‏
Ka'b b. Ujra (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) happened to pass by him during the period of Hudaibiya. Thereupon he (the Holy Prophet) said to him (Ka'b b. Ujra):Do these vermins trouble your head? He said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Shave your head. Then sacrifice a goat or observe fasts for three days or give three sits of dates to feed six needy persons
ابو قلا بہ نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے دنو میں ان کے پاس گزرے اور ان سے پو چھا تمھا رے سر کی جوؤں نے تمھیں اذیت دی ہے ؟انھوں نے کہا : جی ہاں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا : " سر منڈوادو ۔ پھر ایک بکری بطور قر بانی ذبح کرو یا تین دن کے روزے رکھو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو کھلا دو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ‏"‏
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle (ﷺ) saw the trace of yellowness on 'Abd al-Rahman b. 'Auf and said:What is this? Thereupon he said: Allah's Messenger, I have married a woman for a date-stone's weight of gold. He said: God bless you! Hold a wedding feast, even if only with a sheep
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ( کے لباس ) پر زرد ( زعفران کی خوشبو کا ) نشان دیکھا تو فرمایا : " یہ کیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! میں نے سونے کی ایک گٹھلی کے وزن پر ایک عورت سےشادی کی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تمہیں برکت دے ۔ ولیمہ کرو ، خواہ ایک بکری سے کرو
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلاً ‏.‏
Ibn Umar (Allah be pleased them) reported Allah's Messenger (ﷺ) having forbidden Muzabana, and Muzabana implies the selling of fresh dates for dry dates by measuring them out and the selling of raisins by measure for grapes
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ سے مراد ( کھجور کے تازہ ) پھل کو خشک کھجور کی ماپی ( یا تولی ہوئی ) مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کی ماپی ( یا تولی ہوئی ) مقدار کے عوض فروخت کرنا ہے
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَ عَلَيْهِمُ الشَّحْمُ فَبَاعُوهُ وَأَكَلُوا ثَمَنَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:May Allah destroy the Jews for Allah forbade the use of fat for them, but they sold it and made use of its price
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ یہود کو ہلاک کرے! ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِي الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
The tradition has been narrated on the authority of Anas b. Malik (the same narrator) through a different chain of transmitters, but this version does not mention:" And he was not the Negus for whom the Prophet (ﷺ) had said the funeral prayers
عبدالوہاب بن عطاء نے سعید سے ، انہوں نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ، اور انہوں نے یہ نہیں کہا : اور یہ نجاشی وہ نہیں تھا جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی تھی
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏
The same tradition has been transmitted by a different chain of narrators
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ، بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْتَلَ شَىْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade that any beast should be killed after it has been tied
یحییٰ بن سعید ، محمد بن بکیر اور حجاج بن محمد نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں میں سے کسی بھی چیز کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Every intoxicant is Khamr and every intoxicant is forbidden. He who drinks wine in this world and dies while he is addicted to it, not having repented, will not be given a drink in the Hereafter
ایوب نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ہر نشہ آور چیز خمرہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور اس حالت میں مر گیا کہ وہ شراب کا عادی ہو گیا تھا اور اس نے تو بہ نہیں کی تھی تو وہ آخرت میں اسے نہیں پیے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ قَالَ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ثُمَّ أَلْقَاهُ ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ وَقَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ إِذَا لَبِسَهُ جَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ وَهُوَ الَّذِي سَقَطَ مِنْ مُعَيْقِيبٍ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ ‏.‏
Ibn Umar reported that Allah's Apostle (ﷺ) had made for himself a gold ring; then he discarded it, and then made for himself a silver ring, and had these words engraved upon it (Muhammad, Messenger of Allah), and said:No one should engrave anything like the engraving of this signet ring of mine. And when he wore it, he kept its stone towards the inside of his palm, and it was this which fell down (from the hands) of Mu'ayqib into the well of Aris
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی ، پھر آپ نے اس کو پھینک دیا ، اس کے بعد آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، اس میں یہ نقش کرایا : محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " اور فرمایا : " کوئی شخص میری اس انگوٹھی کے نقش کے مطابق نقش نہ بنوائے ۔ " جب آپ اس انگوٹھی کو پہنتے توانگوٹھی کے نگینے ( موٹے چوڑے حصے ) کو ہتھیلی کے اندر کی طرف کرلیاکرتے تھے اور یہی وہ انگوٹھی تھی جو معیقیب ( کے ہاتھ ) سے چاہ اریس میں گر گئی تھی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي، الْعَلاَءِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ صَلاَتِي وَقِرَاءَتِي يَلْبِسُهَا عَلَىَّ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ذَاكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خِنْزِبٌ فَإِذَا أَحْسَسْتَهُ فَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ وَاتْفِلْ عَلَى يَسَارِكَ ثَلاَثًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَهُ اللَّهُ عَنِّي ‏.‏
Uthman b. Abu al-'As reported that he came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:Allah's Messenger, the Satan intervenes between me and my prayer and my reciting of the Qur'an and he confounds me. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:, That is (the doing of a) Satan (devil) who is known as Khinzab, and when you perceive its effect, seek refuge with Allah from it and spit three times to your left. I did that and Allah dispelled that from me
عبدالاعلیٰ نے سعید جریری سے ، انھوں نے ابو علاء سے روایت کی کہ سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! شیطان میری نماز میں حائل ہو جاتا ہے اور مجھے قرآن بھلا دیتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شیطان کا نام خنزب ہے ، جب تجھے اس شیطان کا اثر معلوم ہو تو اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ اور ( نماز کے اندر ہی ) بائیں طرف تین بار تھوک لے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے ایسا ہی کیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس شیطان کو مجھ سے دور کر دیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - يَعْنِي الأَحْمَرَ - كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith had been narrated on the authority of al-A'mash through another chain of transmitters also
ابو معاویہ ، وکیع ، عبداللہ بن نمیر اور ابوخالد احمر ، ان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند رویت کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ كَانَ أَبُو مُوسَى يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ وَيَبُولُ فِي قَارُورَةٍ وَيَقُولُ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا أَصَابَ جِلْدَ أَحَدِهِمْ بَوْلٌ قَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ ‏.‏ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لَوَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ لاَ يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَتَمَاشَى فَأَتَى سُبَاطَةً خَلْفَ حَائِطٍ فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ فَبَالَ فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ فَأَشَارَ إِلَىَّ فَجِئْتُ فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ ‏.‏
Abu Wa'il reported:Abu Musa inflicted extreme rigour upon himself in the matter of urination and urinated in a bottle and said: When the skin of anyone amongst the people of Israel was besmeared with urine, he cut that portion with a cutter. Hudhaifa said: I wish that'your friend should not inflict such an extreme rigour. I and the Messenger of Allah (ﷺ) were going together till we reached the dumping ground of filth behind an enclosure. He stood up as one among you would stand up. and he urinated, I tried to turn away from him, but he beckoned to me, so I went to him and I stood behind him, till he had relieved himself
منصور نے ابو وائل ( شقیق ) سے روایت کی ، انہوں نےکہاکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ پیشاب کے بارے میں سختی کرتے تھے اور بوتل میں پیشاب کرتے تھے اور کہتے تھے : بنی اسرائیل کے کسی آدمی کی جلد پر پیشاب لگ جاتا تو وہ کھال کے اتنےحصے کو قینچی سے کاٹ ڈالتا تھا ۔ تو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : میرا دل چاہتا ہے کہ تمہارا صاحب ( استاد ) اس قدر سختی نہ کرے ، میں اور رسول اللہ ﷺساتھ ساتھ چل رہے تھے تو آپ دیوار کے پیچھے کوڑا پھینکنے کی جگہ پرآئے ، آپ اس طرح کھڑےہو گئے جس طرح تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے ، پھر آپ پیشاب کرنے لگے تو میں آپ سے دور ہو گیا ، آپ نے مجھے اشارہ کیا تو میں آ گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا حتی کہ آپ فارغ ہو گئے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَا كُنَّا نَدْعُو زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلاَّ زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ ‏{‏ ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ‏}‏ قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الدُّوَيْرِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
Salim b. 'Abdullah reported on the authority of his father:We were in the habit of calling Zaid b. Harith as Zaid b. Muhammad until it was revealed in the Qur'an:" Call them by the names of their fathers. This is more equitable with Allah" (This hadith has been transmitted on the authority of Qutaiba b. Sa'd)
قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم بن عبداللہ ( بن عمر ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ وہ کہا کرتے تھے : ہم زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اورکسی نام سے نہیں پکارتے تھے ، یہاں تک کہ قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی؛ "" ان ( متنبیٰ ) کو ان کے اپنے باپوں کی نسبت سے پکارو ، اللہ کے نزدیک یہی زیادہ انصاف کی بات ہے ۔ "" ( اس کتاب کے ایک راوی ) شیخ ابو احمد محمد بن عیسیٰ ( نیشار پوری ) نے کہا : ہمیں ابو عباس سراج اور محمد بن عبداللہ بن یوسف دویری نے بیان کیا ، کہا : ہمیں بھی ( امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے استاد ) قتیبہ بن سعید نے یہ حدیث بیان کی ( یعنی اس کتاب کے راوی نے یہ حدیث امام مسلم کے علاوہ قتیبہ سے ان کے دو اور شاگردوں کے حوالے سے بھی سنی ۔)
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا إِلاَّ سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The servant (whose fault) Allah conceals in this world, Allah would also conceal (his faults) on the Day of Resurrection
رَوح ( بن قاسم ) نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ دنیا میں جس شخص کی پردہ پوشی کرتا ہے ، قیامت کے دن بھی اس کا پردہ رکھے گا ۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَىُّ الَّذِي لاَ يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ يَمُوتُونَ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) used to say:" O Allah, it is unto Thee that I surrender myself. I affirm my faith in Thee and repose my trust in Thee and turn to Thee in repentance and with Thy help fought my adversaries. O Allah, I seek refuge in Thee with Thine Power; there is no god but Thou, lest Thou leadest me astray. Thou art ever-living that dieth not, while the Jinn and mankind die
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دعا کرتے ہوئے ) فرمایا کرتے تھے : " اے اللہ! میں تیرے لیے فرمانبردار ہو گیا ، تیرے ساتھ ایمان لایا ، تجھ پر بھروسہ کیا ، تیری طرف رجوع کیا اور تیری مدد سے ( کفر کے ساتھ ) مخاصمت کی ۔ اے اللہ! میں اس بات سے تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں ۔ ۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ۔ کہ تو مجھے سیدھی راہ سے ہٹا دے ۔ ۔ تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے جس کو موت نہیں آ سکتی اور جن و انس سب مر جائیں گے ۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ، مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلاَثًا ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُمْ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ يَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ يَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ يَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ أَلَيْسَ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا ‏"‏ ‏.‏ فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَسْمَعُوا وَأَنَّى يُجِيبُوا وَقَدْ جَيَّفُوا قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لاَ يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ ‏.‏
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) let the dead bodies of the unbelievers who fought in Badr (lie unburied) for three days. He then came to them and sat by their side and called them and said:O Abu Jahl b. Hisham, O Umayya b. Khalaf, O Utba b. Rab'ila, O Shaiba b. Rabi'a, have you not found what your Lord had promised with you to be correct? As for me, I have found the promises of my Lord to be (perfectly) correct. Umar listened to the words of Allah's Apostle (ﷺ) and said: Allah's Messenger, how do they listen and respond to you? They are dead and their bodies have decayed. Thereupon he (the Holy Prophet) said: By Him in Whose Hand is my life, what I am saying to them, even you cannot hear more distinctly than they, but they lack the power to reply. Then'he commanded that they should be buried in the well of Badr
حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک بدر کے مقتولین کو پڑا رہنے دیا ۔ پھر آپ گئے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر ان کو پکارکر فرمایا : اے ابوجہل بن ہشام !اے امیہ بن خلف !اے عتبہ بن ربیعہ !اےشیبہ بن ربیعہ !کیاتم نے وہ وعدہ سچانہیں پایا جو تمھارے رب نے تم سے کیا تھا؟میں نے تو اپنے رب نے کے وعدے کو سچا پایاہے ۔ جو اس نے میرے ساتھ کیاتھا! " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشاد سنا تو عرض کی ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ لوگ کیسے سنیں گے اور کہاں سے جواب دیں گے ۔ جبکہ وہ تولاشیں بن چکے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تم اس بات کو جو میں ان سے کہہ رہا ہوں ان کی نسبت زیادہ سننے والے نہیں ہو ۔ لیکن وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ " پھر آپ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انھیں گھسیٹا گیا اور بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ مَاتَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنِي ابْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ سُفْيَانَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ ‏.‏
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Kisra (Khusrau king of Persia) would die and Qaisar (Ceasar King of Rome) would die; there would be no Qaisar after him, but, by the One in Whose Hand is my life, you would spend their treasures in the cause of Allah. This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri
سفیان نے زہری سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسریٰ مرگیا تو اس نے بعد کوئی کسری نہیں ہوگا اور جب قیصر مرجائے گا تو اس کے بعد ( شام میں ) کوئی قیصہ نہیں ہوکا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے !ان دونوں کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائےگا ۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَكْتُبُوا عَنِّي وَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ وَحَدِّثُوا عَنِّي وَلاَ حَرَجَ وَمَنْ كَذَبَ عَلَىَّ - قَالَ هَمَّامٌ أَحْسِبُهُ قَالَ - مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id Khudri reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Do not take down anything from me, and he who took down anything from me except the Qur'an, he should efface that and narrate from me, for there is no harm in it and he who attributed any falsehood to me-and Hammam said: I think he also said:" deliberately" -he should in fact find his abode in the Hell-Fire
ہداب بن خالد ازدی نے کہا : ہمیں ہمام نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عطاء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھ سے ( سنی ہوئی باتیں ) مت لکھو ، جس نے قرآن مجید ( کے ساتھ اس کے علاوہ میری کوئی بات ( حدیث ) لکھی وہ اس کو مٹا دے ، البتہ میری حدیث ( یاد رکھ کرآگے ) بیان کرو ، اس میں کوئی حرج نہیں ، اور جس نے مجھ پر ۔ ہمام نے کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں ( زید بن اسلم ) نے کہا : جان بوجھ کر جھوٹ باندھاوہ ا پنا ٹھکانا جہنم میں بنالے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ وَكَانَ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلاَّ أَنَّهُ آدَرُ - قَالَ - فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ - قَالَ - فَجَمَحَ مُوسَى بِإِثْرِهِ يَقُولُ ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ ‏.‏ حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى قَالُوا وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ ‏.‏ فَقَامَ الْحَجَرُ حَتَّى نُظِرَ إِلَيْهِ - قَالَ - فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنَّهُ بِالْحَجَرِ نَدَبٌ سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ ضَرْبُ مُوسَى بِالْحَجَرِ ‏.‏
Amongst the traditions narrated from Muhammad, the Messenger of Allah (ﷺ) on the authority of Abu Huraira, the one is that Banu Isra'il used to take a bath naked, and they looked at the private parts of one another. Moses (peace be upon him), however, took a bath alone (in privacy) ; and they said (tauntingly):By Allah, nothing prohibits Moses to take a bath along with us, but sacrotal hernia. He (Moses) once went for a bath and placed his clothes on a stone and the stone moved on with his clothes. Moses ran after it saying: 0 stone, my clothes,0 stone, my clothes, and Banu Isra'il had the chance to see the private parts of Moses, and said: By Allah, Moses does not suffer from any ailment. The stone then stopped, till Moses had been seen by them, and he then took hold of his clothes and struck the stone. Abu Huraira said: By Allah, there are the marks of six or seven strokes made by Moses on the stone
ہمام بن منبہ سے روایت ہے : کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ہمیں رسول اللہ ﷺ سے ( نقل کرتے ہوئے سنائیں ، انہوں نےمتعدد احادیث بیان کیں ان میں سے ایک یہ ہے : رسول اللہﷺنے فرمایا : ’’نبی اسرائیل بے لباس ہوکر ، اس طرح نہاتے تھے کہ ایک دوسرے کا ستر دیکھ رہے ہوتے اورموسیٰ علیہ السلام اکیلے نہایا کرتے تھے ۔ بنواسرائیل کہنے لگے : اللہ کی قسم !موسیٰ علیہ السلام ہمارے محض اس لیے نہیں نہاتے کہ ان کے خصیتیں پھولے ہوئےہیں ۔ ‘ ‘ آپ نے فرمایا : ’’موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ ایک دفعہ نہانے کے لیے گئے تو اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے ، پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا ، موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ اس کے پیچھے یہ کہتے ہوئے سر پٹ دوڑ پڑے : او پتھر !میرے کپڑے ، اوپتھر ! میرے کپڑے ، یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کے ستر کو دیکھ لیا اورکہنے لگے : اللہ کی قسم ! موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کو تو کوئی بیماری نہیں ہے ، جب موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کو دیکھ لیا گیا تو پتھر ٹھہر گیا ، موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ نے اپنے کپڑے پہنے اور پتھر کو مارنے لگے ۔ ‘ ‘ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اللہ کی قسم ! پتھر پر چھ یا سات نشان تھے ، یہ پتھر کو موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کی مار تھی ۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلاَ تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏.‏ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ‏.‏ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: The Imam is appointed, so that he should be followed, so don't be at variance with him. Recite takbir when he recites it; bow down when he bows down and when he says:" Allah listens to him who praises Him," say:" O Allah, our Lord, to Thee be the Praise." And when he (the Imam) prostrates, you should also prostrate, and when he says prayer sitting, you should all observe prayer sitting
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’امام اقتدا ہی کے لیے بنایا گیا ہے ، اس لیے اس کی مخالفت نہ کرو ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘