وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ - وَفِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلاً فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ " . وَأَنَّهُ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ فَقَالَ " قَرِّبُوهَا " . إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا قَالَ " كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لاَ تُنَاجِي " .
Jabir reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who eats garlic or onion should remain away from us or from our mosque and stay in his house. A kettle was brought to him which had (cooked) vegetables in it, He smelt (offensive) odour in it. On asking he was informed of the vegetables (cooked in it). He said: Take it to such and such Companion. When he saw it, he also disliked eating it. (Upon this). he (the Holy Prophet) said: You may eat it, for I converse wkh one with whom you do not converse
یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انھوں کہا : مجھے عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے یہ ترکاری لہسن کھا یا ۔ ‘ ‘ اور ایک دفعہ فرمایا : ’’ جس نے پیاز ، لہسن اور گندنا کھایا ۔ تو وہ ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے ( بھی ) ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جس جن سے آدم کے بیٹے اذیت محسوس کرتےہیں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَيْسِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى قَالَتْ لاَ إِلاَّ أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ
Abdullah b. Shaqiq reported:I aksed 'A'isha whether the Messenger of Allah (ﷺ) used to observe the forenoon prayer. She said: No, except when he came back from a journey
کیمس بن حسن قیسی نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا : کیانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا : نہیں الا یہ کہ سفر سے واپس آئے ہوں ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed: There came to you the people from Yemen; they are tender of hearts and mild of feelings, the understanding is Yemenite, the sagacity is Yemenite
صالح نے اعرج سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسو ل ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تمہارے پاس یمنی لوگ آئے ہیں ، وہ زیادہ کمزور دل اور سینوں میں زیادہ رقت رکھنے والے ہیں ۔ فقہ یمنی ہے اور حکمت ( بھی ) یمنی ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ .
Salim narrated on the authority of his father that the Messenger of Allah (ﷺ) used to observe two rak'ahs after Jumu'a
سالم نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کےبعددو ر کعتیں پڑھتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، جَمِيعًا عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، كِلاَهُمَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَتِهِ عَلَى الْقَبْرِ نَحْوَ حَدِيثِ الشَّيْبَانِيِّ . لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا .
The hadith as narrated by Shaibani has been narrated through another chain of transmitters
اسماعیل بن ابی خالد اور ابوحصین نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے قبر پر نماز پڑھنے کے بارے میں شیبانی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، ان کی حدیث میں ( بھی ) وكبر اربعا ( آپ نے چار تکبیریں کہیں ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، يَزِيدَ وَأَبِي الضُّحَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمُ الصُّوفُ فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ . قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ . فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ .
Jarir b. 'Abdullah reported:People came to to the Messenger of Allah (ﷺ) and they ware dressed in woollen clothes. He (the Holy Prophet) saw their dismal state, as they were suffering from want and the rest of the hadith is the same
عبدالرحمان بن ہلال عبسی نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : بدوؤں میں سے کچھ لوگو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان کے جسم پراونی کپڑے تھے ، آپ نے ان کی بدحالی دیکھی ، وہ فاقہ زدہ تھے ۔ ۔ ۔ پھر ان ( سابقہ راویان حدیث ) کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Apostle (peace be upon him) kissed (his wives) while fasting
۔ محمد بن بشار ، عبدالرحمٰن ، سفیان ، ابی زناد ، علی بن حسین ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ مطہرہ کا روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَأَيُّوبَ، وَحُمَيْدٍ، وَعَبْدِ، الْكَرِيمِ عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ - وَالْفَرَقُ ثَلاَثَةُ آصُعٍ - أَوْ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً " . قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ " أَوِ اذْبَحْ شَاةً " .
Ka`b b. 'Ujra (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) happened to pass by him at Hudaibiya before entering Mecca in a state of Ihram and he (Ka'b) was kindling fire under the cooking pot and vermin were creeping on his (Ka`b's) face. Thereupon (the Holy Prophet) said:Do these vermin trouble you? He (Ka'b) said: Yes. The Messenger of Allah (way peace be upon him) said: Shave your head and give some quantity of food enough to feed six needy persons (faraq is equal to three sa's), or observe fast for three days or offer sacrifice of a sacrificial animal. Ibn Najih (one of the narrators) said:" Or sacrifice a goat
(ابن ابی نجیح ایوب حمید اور عبد الکریم نے مجا ہد سے انھوں نے ابن ابی لیلیٰ سے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دا خل ہو نے سے پہلے جب حدیبیہ میں تھے ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) احرا م کی حالت میں تھے اور ایک ہنڈیا کے نیچے آگ جلا نے میں لگے ہو ئے تھے جو ئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فر ما یا : " کیا تمھا ری سر کی جوئیں تمھیں اذیت دے رہی ہیں؟ انھوں نے عرض کی جی ہاں ، آپ نے فر ما یا : " تو اپنا سر منڈوالو اور ایک فرق کھا نا چھ مسکینوں کو کھلا دو ۔ ۔ ۔ ایک فرق تین صاع کا ہو تا ہے ۔ ۔ ۔ یا تین دن کے روزے رکھو یا قربانی کے ایک جا نور کی قر با نی کر دو ۔ ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ، الْعَزِيزِ عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ صَدَاقُهُ لأَزْوَاجِهِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا . قَالَتْ أَتَدْرِي مَا النَّشُّ قَالَ قُلْتُ لاَ . قَالَتْ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ . فَتِلْكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَزْوَاجِهِ.
Abu Salama b. 'Abd al-Rahman reported:I asked 'A'isha, the wife of Allah's Messenger (ﷺ): What is the amount of dower of Allah's Messenger (ﷺ)? She said: It was twelve 'uqiyas and one nash. She said: Do you know what is al-nash? I said: No. She said: It is half of uqiya, and it amounts to five hundred dirhams, and that was the dower given by Allah's Messenger (ﷺ) to his wives
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ، ( ام المومنین ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی بیویوں ) کا مہر کتنا ( ہوتا ) تھا؟ انہوں نے جواب دیا : اپنی بیویوں کے لیے آپ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نَش تھا ۔ ( پھر ) انہوں نے پوچھا : جانتے ہو نش کیا ہے؟ میں نے عرض کی : نہیں ، انہوں نے کہا : آدھا اوقیہ ، یہ کل 500 درہم بنتے ہیں اور یہی اپنی بیویوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر تھا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قُلْتُ لِمَالِكٍ حَدَّثَكَ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، - مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ - يَشُكُّ دَاوُدُ قَالَ خَمْسَةٌ أَوْ دُونَ خَمْسَةٍ - قَالَ نَعَمْ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) having given exemption of 'ariyya transactions measuring less than five wasqs or up to five wasqs (the narrator Dawud is in doubt whether it was five or less than five)
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک سے پوچھا : کیا آپ کو داود بن حصین نے ابن ابی احمد کے آزاد کردہ غلام ابوسفیان ( وہب ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کو پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک اندازے سے بیچنے کی رخصت دی ہے؟ ۔ ۔ ( امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ) شک داود کو ہے کہ انہوں ( ابوسفیان ) نے پانچ وسق کہا یا پانچ وسق سے کم کہا ۔ ۔ تو انہوں ( امام مالک ) نے جواب دیا : ہاں
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا" .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:May Allah destroy the Jews for Allah forbade the use of fats for them, but they sold them and made use of their price
ابن جریج نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے خبر دی کہ انہوں نے انہیں ( ابن شہاب کو ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ یہود کو ہلاک کرے! اللہ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی ۔
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَى كِسْرَى وَإِلَى قَيْصَرَ وَإِلَى النَّجَاشِيِّ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
It has been narrated on the authority of Anas that the Prophet of Allah (ﷺ) wrote to Chosroes (King of Persia), Caesar (Emperor of Rome), Negus (King of Abyssinia) and every (other) despot inviting them to Allah, the Exalted. And this Negus was not the one for whom the Messenger of Allah (ﷺ) had said the funeral prayers
عبدالاعلیٰ نے ہمیں سعید ( بن ابی عروبہ ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ ، قیصر ، نجاشی اور ہر متکبر بادشاہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہوئے خطوط لکھ بھیجے ، اور اس سے وہ نجاشی مراد نہیں جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ ( اس کے بعد والے نجاشی کی طرف خط لکھا)
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ . فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar that he visited Ibn Muti', and related from the Prophet (ﷺ) the tradition that has gone before
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِفِتْيَانٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ نَصَبُوا طَيْرًا وَهُمْ يَرْمُونَهُ وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّيْرِ كُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ فَلَمَّا رَأَوُا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا .
Sa'id b. Jubair reported that Ibn 'Umar happened to pass by some young men of the Quraish who had tied a bird (and th, is made it a target) at which they had been shooting arrows Every arrow that they missed came into the possession of the owner of the bird. So no sooner did they see Ibn 'Umar they went away. Thereupon Ibn 'Umar said:Who has done this? Allah has cursed him who does this. Verily Allah's Messenger (ﷺ) invoked curse upon one who made a live thing the target (of one's marksmanship)
ہشیم نے کہا : ہمیں ابو بشر نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : ( ایک بار ) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قریش کے چند جوان کے قریب سے گزرے جو ایک پرندے کو باندھ کر اس پرتیرا اندازی کی مشق کررہے تھے اور انھوں نے پرندے والے سے ہر چوکنے والے نشانے کے عوض کچھ دینے کا طے کیا ہواتھا ۔ جب انھوں نےحضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا تو منتشر ہوگئے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : یہ کام کس کاہے؟جو شخص اس طرح کرے اللہ کی اس پر لعنت ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پرلعنت کی ہے جو کسی ذی روح کو تختہء مشق بنائے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ عُمَارَةَ بْنِ، غَزِيَّةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ - وَجَيْشَانُ مِنَ الْيَمَنِ - فَسَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوَمُسْكِرٌ هُوَ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ إِنَّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ " عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ " .
Jabir reported that a person came from Jaishan, a town of Yemen, and he asked Allah's Apostle (ﷺ) about the wine which was drunk in their land and which was prepared from millet and was called Mizr. Allah's Messenger (ﷺ) asked whether that was intoxicating. He said:Yes. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Every intoxicant is forbidden. Verily Allah the Exalted and Majestic, made a covenant to those who drank intoxicants to make their drink Tinat al-Khabal. They said: Allah's Messenger, what is Tinat a]-Khabal? He said: It is the sweat of the denizens of Hell or the discharge of the denizens of Hell
ابو زبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص جیشان سے آیا جیشان یمن میں ہے اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سر زمین کے ایک مشروب کے متعلق سوال کیا جس کو مکئی سے بنا یا جا تا تھا اس کا نام مزر تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا : کیا وہ نشہ آور ہے؟ اس نے کہا : جی ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ہرنشہ آور چیز حرام ہے بلا شبہ اللہ عزوجل کا ( اپنے اوپر یہ ) عہد ہے کہ جو شخص نشہ آور مشروب پیے گا وہ اس کو طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپ نے فرما یا : " جہنمیوں کا پسینہ یا ( فرمایا : ) جہنمیوں کا نچوڑ ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَكَانَ فِي يَدِهِ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ حَتَّى وَقَعَ مِنْهُ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَتَّى وَقَعَ فِي بِئْرِ . وَلَمْ يَقُلْ مِنْهُ .
Ibn Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) had made for himself a ring of silver, and he (wore it in his finger). then it was in Abu Bakr's finger. then it was in'Umar's finger. then it was in 'Uthman's finger. until it fell into the well of Aris and it had these words engraved upon it (Muhammad, Messenger of Allah). Ibn Numair narrated it with a slight variation of words
عبد اللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چا ندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، پہلے وہ آپ کے ہا تھ میں تھی پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہا تھا میں رہی پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہا تھ میں رہی پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ ان ( حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سےاریس کے کنویں میں گر گئی ، اس ( انگوٹھی ) پر "" محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "" نقش تھا ۔ ابن نمیر کی روایت میں ہے : یہاں تک کہ وہ ایک کنویں میں گر گئی ، انھوں نے یہ نہیں کہا : ان سے ( گر گئی ۔)
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ مُنْذُ أَسْلَمَ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي تَأَلَّمَ مِنْ جَسَدِكَ وَقُلْ بِاسْمِ اللَّهِ . ثَلاَثًا . وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ " .
Uthman b. Abu al-'As Al-Thaqafi reported that he made a complaint of pain to Allah's Messenger (ﷺ) that he felt in his body at the time he had become Muslim. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:Place your hand at the place where you feel pain in your body and say Bismillah (in the name of Allah) three times and seven times A'udhu billahi wa qudratihi min sharri ma ajidu wa uhadhiru (I seek refuge with Allah and with His Power from the evil that I find and that I fear)
سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ایک درد کی شکایت کی ، جو ان کے بدن میں پیدا ہو گیا تھا جب سے وہ مسلمان ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھو اور تین بار ( ( بسم اللہ ) ) کہو ، اس کے بعد سات بار یہ کہو کہأَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ”میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کی برائی سے جس کو پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں“ ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حِينَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْكُوفَةِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا . وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلاَقًا " . قَالَ عُثْمَانُ حِينَ قَدِمَ مَعَ مُعَاوِيَةَ إِلَى الْكُوفَةِ .
Masruq reported:We went to Abdullah b. 'Amr when Mu'dwiya came to Kufa, and he made a mention of Allah's Messenger (ﷺ) and said: He was never immoderate in his talk and he never reviled others. Allah's Messenger (ﷺ) also said: The best amongst you are those who are best in morals. Uthman said: When he came to Kufa along with Mu'awiya... (The rest of the hadith is the same)
زہری بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے مسروق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : جب حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ آئے تو ہم ( ان کے ساتھ آنے والے ) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا کرملے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ طبعاً زبان سے کوئی بری بات نکالنے والے تھے اور نہ تکلف کرکے برا کہنے والے تھے ، نیز انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" تم میں سب سے اچھے لوگ وہی ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں ۔ "" عثمان ( بن ابی شیبہ ) نے کہا : جس موقع پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کوفہ آئے تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا فَتَنَحَّيْتُ فَقَالَ " ادْنُهْ " . فَدَنَوْتُ حَتَّى قُمْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ فَتَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ .
Hudhaifa reported:I was with the Messenger of Allah (ﷺ) when he came to the dumping ground of filth belonging to a particular tribe. He urinated while standing, and I went aside. He (the Holy Prophet) asked me to come near him and I went so near to him that I stood behind his heels. He then performed ablution and wiped over his socks
اعمش نے شقیق سےاور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا ، آپ ایک خاندان کو کوڑا پھینکنے کی جگہ پر پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا تو میں دور ہٹ گیا ۔ آپ نے فرمایا : ’’ قریب آ جاؤ ۔ ‘ ‘ میں قریب ہو کر ( دوسری طرف رخ کر کے ) آپ کےپیچھے کھڑا ہو گیا ( فراغت کے بعد ) آپ نےوضو کیا اورموزوں پر مسح کیا ۔ ( قریب کھڑا کرنے کامقصد اس کی)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَدْخَلَهُ ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهُ ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ ثُمَّ قَالَ { إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا}
A'isha reported that Allah's Apostle (ﷺ) went out one norning wearing a striped cloak of the black camel's hair that there came Hasan b. 'Ali. He wrapped hitn under it, then came Husain and he wrapped him under it along with the other one (Hasan). Then came Fatima and he took her under it, then came 'Ali and he also took him under it and then said:Allah only desires to take away any uncleanliness from you, O people of the household, and purify you (thorough purifying)
۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس پر کجاووں کی صورتیں یا ہانڈیوں کی صورتیں بنی ہوئی تھیں ۔ اتنے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا ۔ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی اس میں داخل کر لیا ۔ پھر سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا آئیں تو ان کو بھی انہی کے ساتھ شامل کر لیا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی شامل کر کے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرے اور تم کو پاک کرے اے گھر والو ۔ ( الاحزاب : 33 ) ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ " . قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ " . قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ قَالَ " إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do you know what is backbiting? They (the Companions) said: Allah and His Messenger know best. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Backbiting implies your talking about your brother in a manner which he does not like. It was said to him: What is your opinion about this that if I actually find (that failing) in my brother which I made a mention of? He said: If (that failing) is actually found (in him) what you assert, you in fact backbited him, and if that is not in him it is a slander
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ " انہوں ( صحابہ ) نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول خوب جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اپنے بھائی کا اس طرح تذکرہ کرنا جو اسے ناپسند ہو ۔ " عرض کی گئی : آپ یہ دیکھئے کہ اگر میرے بھائی میں وہ بات واقعی موجود ہو جو میں کہتا ہوں ( تو؟ ) آپ نے فرمایا : " جو کچھ تم کہتے ہو ، اگر اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی ، اگر اس میں وہ ( عیب ) موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .
Farwa' b. Naufal reported on the authority of 'A'isha that Allah's Mes- senger (ﷺ) used to supplicate (in these words):" O Allah, I seek refuge in Thee from the evil of what I did and from the evil of what I did not
عبدہ بن ابولبابہ نے ہلال بن سیاف سے ، انہوں نے فروہ بن نوفل سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں فرماتے تھے : " اے اللہ! میں ان کاموں کے شر سے جو میں نے کیے اور ان کے شر سے جو نہیں کیے ، تیری پناہ میں آتا ہوں ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ كُنْتُ مَعَ عُمَرَ ح وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَتَرَاءَيْنَا الْهِلاَلَ وَكُنْتُ رَجُلاً حَدِيدَ الْبَصَرِ فَرَأَيْتُهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَآهُ غَيْرِي - قَالَ - فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِعُمَرَ أَمَا تَرَاهُ فَجَعَلَ لاَ يَرَاهُ - قَالَ - يَقُولُ عُمَرُ سَأَرَاهُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلَى فِرَاشِي . ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرِ بِالأَمْسِ يَقُولُ " هَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . قَالَ فَقَالَ عُمَرُ فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا الْحُدُودَ الَّتِي حَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ فَقَالَ " يَا فُلاَنَ بْنَ فُلاَنٍ وَيَا فُلاَنَ بْنَ فُلاَنٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِيَ اللَّهُ حَقًّا " . قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لاَ أَرْوَاحَ فِيهَا قَالَ " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لاَ يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَىَّ شَيْئًا " .
Anas b. Malik reported:We were along with Umar between Mecca and Medina that we began to look for the new moon. And I was a man with sharp eye- sight, so I could see it, but none except me saw it. I began to say to 'Umar: Don't you see it? But he would not see it. Thereupon Umar said: I would soon be able to see it (when it will shine more brightly). I lay upon bed. He then made a mention of the people of Badr to us and said: Allah's Messenger (ﷺ) showed us one day before (the actual battle) the place of death of the people (participating) in (the Battle) of Badr and he was saying: This would be the place of death of so and so tomorrow, if Allah wills. Umar said: By Him Who sent him with truth, they did not miss the places (of their death) which Allah's Messenger (ﷺ) had pointed for them. Then they were all thrown in a well one after another. Allah's Messenger (ﷺ) then went to them and said: O, so and so, the son of so and so; O so and so, the son of so and so, have you found correct what Allah and His Messenger had promised you? I have, however, found absolutely true what Allah had promised with me. Umar said: Allah's Messenger, how are you talking with the bodies without soul in them. Thereupon he said: You cannot hear more distinctly than (their hearing) of what I say, but with this exception that they have not power to make any reply
سلیمان بن مغیرہ نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے تو ہم نے پہلی کا چاند دیکھنے کی کوشش کی ، میں تیز نظر انسان تھا میں نے چاند کو دیکھ لیا ۔ میرے علاوہ اور کوئی نہیں تھا جس کا خیال ہو کہ اس نے اسے دیکھ لیا ہے ۔ ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہنے لگا : کیا آپ دیکھ نہیں رہے؟چنانچہ انھوں نے اسے دیکھنا چھوڑ دیا کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ رہے تھے عنقریب میں اپنے بستر پر لیٹا ہوں گا تو اسے دیکھ لوں گا ، پھر انھوں نے ہم سے اہل بدرکا واقعہ بیان کرنا شروع کر دیا ۔ انھو ں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن پہلے ہمیں بدر ( میں قتل ہونے ) والوں کے گرنے کی جگہیں دکھا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے ۔ "" ان شاء اللہ!کل فلاں کے قتل ہونے کی جگہ یہ ہوگی ۔ "" کہا : توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا !وہ لوگ ان جگہوں کے کناروں سے ذرا بھی ادھر اُدھر ( قتل ) نہیں ہوئے تھے جن کی نشاندہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر ان ( کی لاشوں ) کو ایک دوسرے کے اوپر کنویں میں ڈال دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل کر ان کے پاس پہنچے اور فرمایا : "" اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں فلاں بن فلاں !کیا تم نے اللہ اور اس کے رسول سے کیے ہوئے وعدےکو سچا پایا؟بلاشبہ میں نے اس وعدے کو بالکل سچا پایا ہے جو اللہ نے میرے ساتھ کیا تھا ۔ "" حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ان جسموں سے کیسے بات کر رہے ہیں جن میں روحیں ہیں ۔ ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں جو کچھ کہہ رہا ہوں تم لوگ اس کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو ۔ مگر وہ میری بات کا کو ئی جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُهْلِكُ أُمَّتِي هَذَا الْحَىُّ مِنْ قُرَيْشٍ " . قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ " لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ " . وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ فِي مَعْنَاهُ .
Abu Huraira reported that Allah's Apostle (ﷺ) as saying:This tribe of the Quraish would kill (people) of my Ummah. They (the Companions) said: What do you command us to do (in such a situation)? Thereupon he said: Would that the people remain aside from them (and not besmear their hands with the blood of the Muslim). This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
ابو داؤدنے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت کی ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا بِهِ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ وَيَقُولُ اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ . وَعَائِشَةُ تُصَلِّي فَلَمَّا قَضَتْ صَلاَتَهَا قَالَتْ لِعُرْوَةَ أَلاَ تَسْمَعُ إِلَى هَذَا وَمَقَالَتِهِ آنِفًا إِنَّمَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ لأَحْصَاهُ .
It was reported that Abu Huraira used to say:Listen to me, inmate of the apartment; listen to me, inmate of the apartment, while 'A'isha (Allah be pleased with her) had been busy in observing prayer. As she finished prayer, she said to" Urwa: Did you hear his words? And this is how Allah's Messenger (ﷺ) used to utter (so distinctly) that if one intended to count (the words uttered) he would be able to do so
ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ احادیث بیان کررہے تھے اور آواز لگارہے تھے : اے حجرے کے مالک!سنیے ، اے حجرے کے مالک!سنیے ، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( اندر ) نماز پڑھ رہی تھیں ۔ انھوں نے جب نماز مکمل کی تو عروہ سے کہا : تم نے ابھی اسے اور اس کی کہی ہوئی بات نہیں سنی؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک وقت میں ) ایک بات ( حدیث ) ارشاد فرماتے تھے ، اگر کوئی گننے والا اسے گنتا تو گن سکتا تھا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ - مَكَانَ عَوْرَةِ - عُرْيَةِ الرَّجُلِ وَعُرْيَةِ الْمَرْأَةِ .
This hadith has been narrated by Ibn Abu Fudaik and Dabbik b. 'Uthman with the same chain of transmitters and they observed:Private parts of man are the nakedness (which is concealed)
مذکورہ روایت کو امام مسلم کو دور اور اساتذہ ہارون بن عبداللہ اور محمد بن رافع دونوں نے ابن ابی فدیک سے اور ابن ابی فدیک نے اسے ضحاک بن عثمان کی مذکورہ سند کے ساتھ بیان کیا ۔ ان دونوں ( ہارون ومحمد ) نے عورۃ کی جگہ عرية الرجل اور عرية المرأة کے الفاظ روایت کیے ۔ ( معنی ایک ہے ۔)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ لِيُسْمِعَنَا . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ .
Jabir said:The Messenger of Allah (ﷺ) led the prayer and Abu Bakr was behind him. When the Messenger of Allah (ﷺ) recited the takbir, Abu Bakr also recited (it) in order to make it audible to us. And the rest of the hadith is like one transmitted by Laith
۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھاے ۔ جب رسول اللہﷺ تکبیر کہتے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تکبیر کہتے تاکہ ہمیں سنائیں .... پھر لیث کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا ۔