بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
27 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ ‏.‏ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهَا فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الإِنْسُ ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade eating of onions and leek. When we were overpowered by a desire (to eat) we ate them. Upon this he (the Holy Prophet) said: He who eats of this offensive plant must not approach our mosque, for the angels are harmed by the same things as men
ابو طاہر اور حرملہ نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عطاء بن ابی رباح نے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا ۔ حرملہ کی روایت میں ہے ، ان ( جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کو یقین تھا ۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے لہسن یا پیاز کھایا وہ ہم سے دور رہے یا ہماری مسجدوں سے دور رہے اور اپنے گھر بیٹھے ۔ ‘ ‘ اور ایسا ہو ا کہ ( ایک دفعہ ) آپ کے پاس ایک ہانڈی لائی گئی جس میں کچھ سبز ترکاریاں تھیں ، آپ نے ان سے کچھ بو محسوس کی تو ان کے متعلق پوچھا ۔ آپ کو ان ترکاریوں کے بارے میں بتایا گیا جو اس میں ( ڈالی گئی ) تھیں تو آپ نے اسے ، اپنے ساتھیوں میں سے ایک کے پاس لے جانے کو کہا ۔ جب اس نے بھی اسے دیکھ کر ( آپ کی ناپسندیدگی کی بنا پر ) اس کو ناپسند کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تم کھا لو کیونکہ میں ان سے سرگوشی کرتا ہوں جن سے تم سرگوشی نہیں کرتےہو ۔ ‘ ‘ ( اس سے فرشتے مراد ہیں ۔ صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان کی روایت میں اس بات کی صراحت موجود ہے ۔)
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى قَالَتْ لاَ إِلاَّ أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ ‏.‏
Abdullah b. Shaqiq reported:I asked 'A'isha whether the Messenger of Allah (ﷺ) used to observe the forenoon prayer. She said: No, but when he came back from the journey
سعید جزیری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نےکہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟انھوں نے کہا : نہیں ، الا یہ کہ باہر ( سفر ) سے واپس آئے ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
Abu Huraira reported the same hadith which is transmitted to us by another chain of transmitters, e. g. Muhammad b. al-Muthanna, Ishaq b. Yusuf Azraq, Ibn 'Aun, etc
(عبد اللہ ) ابن عون نے محمد ( ابن سیرین ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےر وایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ... اسی پچھلی ( حدیث ) کے مانند ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ وَصَفَ تَطَوُّعَ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَكَانَ لاَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى أَظُنُّنِي قَرَأْتُ فَيُصَلِّي أَوْ أَلْبَتَّةَ ‏.‏
Abdullah b. 'Umar, while describing the Nafl prayer of the Messenger of Allah (ﷺ), said:He did not observe (Nafl) prayer after Jumu'a till he went back and observed two rak'ahs in his house. Yahya said: I guess that I uttered these words (before Imam Malik) that he of course observed (them)
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالکؒ پر ( حدیث کی ) قراءت کی ، انھوں نے نافع سے اورانھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کو بیان کیا اورکہا کہ آپ جمعے کے بعد کوئی ( نفل ) نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ واپس تشریف لے جاتے پھر ا پنے گھر میں د و رکعتیں پڑھتے تھے ۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میرا خیال ہے کہ میں نے ( امام مالکؒ کے سامنے ) " فيصلي " پڑھا تھا یا یقین ہے ( کہ یہی پڑھاتھا)
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ‏.‏
This hadith has been narrated through another chain of transmitters, but in one of them (these words are found):" The Apostle of Allah (ﷺ) recited four takbirs
ہشیم ، عبدالواحد بن زیاد ، جریر ، سفیان ، معاذ بن معاذ اور شعبہ سب نے شیبانی سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی اور ان میں سے کسی کی روایت میں نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرًا صَغِيرًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ‏}‏ الآيَةَ ‏"‏ ‏.‏
Mundhir b. Jarir narrated on the authority of his father:When we were sitting in the company of the Messenger of Allah (ﷺ). There came people dressed in striped woollen clothes, and the rest of the hadith in the same, and there (it is also mentioned):" He observed the Zuhr prayer and then climbed up a small pulpit, praised Allah, lauded Him, and then said: Verily Allah in His Book has revealed: 'O people, fear your Lord, ' etc." (iv)
عبدالملک بن عمیر نے منذر بن جریر سے اور انھوں نےاپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم درمیا ن میں سوراخ کرکے اون کی دھاری دار چیتھڑے گلے میں ڈالے آئی ۔ ۔ ۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں ہے : آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر ایک چھوٹے سے منبر پر تشریف لےگئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے : " اےلوگو!اپنے رب سے ڈرو ۔ " آیت کے آخر تک ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ، بْنُ عِلاَقَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ صَائِمٌ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger (ﷺ) kissed (his wives) during Ramadan while observing fast
محمد بن حاتم ، بھز بن اسد ، ابو بکر نہشلی ، زیاد بن علاقہ ، عمرو بن میمون ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ مطہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بوسہ لے لیا کر تے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَيْفٌ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ، الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَفَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلاً فَقَالَ ‏"‏ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاحْلِقْ رَأْسَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ‏}‏ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ مَا تَيَسَّرَ ‏"‏ ‏.‏
Ka'b b. 'Ujra (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may peace be, upon him) stood near him and lice were falling from his head. Thereupon he (the Holy Prophet) said:Do these vermins trouble you? I said: Yes. Thereupon he said: Then shave your head; and it was in connection with me that this verse was revealed:" Whoever among you is sick or has an ailment of the head, he (may effect) a compensation by fasting or alms or a sacrifice". He (the Holy Prophet, therefore) said to me: Observe fast for three days or give a quantity of alms enough to feed six needy persons or offer sacrifice (of an animal) that is available
سیف ( بن سلیمان ) نے کہا : میں نے مجا ہد سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے حدیث سنا ئی کہا مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر ( کی طرف ) کھڑے ہو ئے اور ان کےسر سے جو ئیں گر رہی تھیں آپ نے فر ما یا " کیا تمھا ری جو ئیں تمھیں اذیت دیتی ہیں ؟ میں نے کہا جی ہاں ، آپ نے فر ما یا : " تو اپنا سر منڈوا لو ۔ ( کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو میرے بارے میں یہ آیت نازل ہو ئی پھر اگر کو ئی شخص بیما رہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو ( اور وہ سر منڈوا لے ) تو فدیے میں رو زے رکھے یا صدقہ دے یا قر بانی کرے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فر ما یا : " تین دن کے روزے رکھویا ( کسی بھی جنس کا ) ایک فرق ( تین صاع ) چھ مسکینوں میں صدقہ کر و یا قر بانی میسر ہو کرو ۔
وَحَدَّثَنَاهُ خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ، أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَائِدَةَ قَالَ ‏ "‏ انْطَلِقْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَعَلِّمْهَا مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Sahl b. Sa'd with a minor alteration of words, but the hadith transmitted through Za'idah (the words are that the Holy Prophet) said:Go, I have married her to you, and you teach her something of the Qur'an
حماد بن زید ، سفیان بن عیینہ ، دراوردی اور زائدہ سب نے ابوحازم سے ، انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی ، ان میں سے کچھ راوی دوسروں پر اضافہ کرتے ہیں ۔ مگر زائدہ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جاؤ ، میں نے اس سے تمہاری شادی کر دی ہے ، اس لیے ( اب ) تم اسے قرآن کی تعلیم دو
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ، بْنِ كَثِيرٍ حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلاَّ أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ ‏.‏
Sahl b. Abu Hathma reported Allah's Messenger (ﷺ) having forbidden Muzabana, i. e. exchange of fresh dates with dry dates. except in case of those to whom donations of some trees have been made. It is for them that concession has been given
ولید بن کثیر نے کہا : مجھے بنو حارثہ کے مولیٰ بشیر بن یسار نے حدیث بیان کی کہ رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ دونوں نے اسے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ ، یعنی تازہ کھجور کی خشک کھجور کے عوض بیع سے منع فرمایا ، سوائے عرایا والوں کے کیونکہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of 'Amr b. Dinar with the same chain of transmitters
روح بن قاسم نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ وَكَانَ قَيْصَرُ لَمَّا كَشَفَ اللَّهُ عَنْهُ جُنُودَ فَارِسَ مَشَى مِنْ حِمْصَ إِلَى إِيلِيَاءَ شُكْرًا لِمَا أَبْلاَهُ اللَّهُ ‏.‏ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ‏"‏ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ إِثْمَ الْيَرِيسِيِّينَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ بِدَاعِيَةِ الإِسْلاَمِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters but with the addition:" When Allah inflicted defeat on the armies of Persia, Caesar moved from Hims to Aelia (Bait al-Maqdis) for thanking Allah as He granted him victory." In this hadith these words occur:" From Muhammad, servant of Allah and His Messenger," and said:" The sin of your followers," and also said the words:" to the call of Islam
صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور حدیث میں یہ اضافہ کیا : جب اللہ نے قیصر ( کے سر پر سے ) فارس کے لشکروں کو ہتا دیا تو وہ اس نعمت کا شکر ادا کرنے کے لیے ، جو اللہ نے اس پر کی تھی ، پیدل چل کر حمص سے ایلیاء گیا ، اور انہوں نے حدیث میں ( یوں ) کہا : " اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے ۔ " اور انہوں نے ( اریسین کے بجائے یاء کے ساتھ ) یریسین اور " اسلام کی طرف بلانے والے کلمے کے ساتھ ( دعوت دیتا ہوں ) " کے الفاظ کہے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ - عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ اطْرَحُوا لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً فَقَالَ إِنِّي لَمْ آتِكَ لأَجْلِسَ أَتَيْتُكَ لأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لاَ حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ‏"‏ ‏.‏
It has been reported on the authority of Nafi, that 'Abdullah b. Umar paid a visit to Abdullah b. Muti' in the days (when atrocities were perpetrated on the People Of Medina) at Harra in the time of Yazid b. Mu'awiya. Ibn Muti' said:Place a pillow for Abu 'Abd al-Rahman (family name of 'Abdullah b. 'Umar). But the latter said: I have not come to sit with you. I have come to you to tell you a tradition I heard from the Messenger of Allah (ﷺ). I heard him say: One who withdraws his band from obedience (to the Amir) will find no argument (in his defence) when he stands before Allah on the Day of Judgment, and one who dies without having bound himself by an oath of allegiance (to an Amir) will die the death of one belonging to the days of Jahillyya
نافع رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے عبداﷲ بن عمر رضی ‌اللہ ‌عنہ عبداﷲ بن مطیع رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے جو حرہ کا واقعہ ہوا یزید بن معاویہ کے زمانہ میں اس نے مدینہ منورہ پر لشکر بھیجا اور مدینہ والے حرہ میں جو ایک مقام ہے مدینہ سے ملا ہوا قتل ہوئے اس طرح طرح کے ظلم مدینہ والوں پر ہوئے۔ عبداﷲ بن مطیع نے کہا ابو عبدالرحمن رضی ‌اللہ ‌عنہ ( یہ کنیت ہے عبداﷲ بن عمر رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ) کے لیے تو شک بچھاؤ۔ انہوں نے کہا میں اس لیے نہیں آیا کہ بیٹھوں بلکہ ایک حدیث تجھ کو سنانے کے لیے آیا ہوں جو میں نے رسول اﷲؐ سے سنی ہے، آپ فرماتے تھے جو شخص اپنا ہاتھ نکال لے اطاعت سے وہ قیامت کے دن خدا سے ملے گا اور کوئی دلیل اس کے پاس نہ ہوگی اور جو شخص مرجاوے اور کسی سے اس نے بیعت نہ کی ہو تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہوگی۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَأَبُو كَامِلٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِنَفَرٍ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَتَرَامَوْنَهَا فَلَمَّا رَأَوُا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هَذَا ‏.‏
Sa'id b. Jubair reported that Ibn 'Umar happened to pass by a party of men who had tied a hen and were shooting arrows at it. As soon as they saw Ibn 'Umar, they scattered from it. Thereupon Ibn Umar said:Who has done this? Verily Allah's Messenger (ﷺ) has invoked curse upon him who does this
ابو عوانہ نے ابو بشر سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا چند لوگوں کے قریب سے گزرا سے گزرا ہوا جو ایک مرغی کو سامنے باندھ کر اس پر تیر اندازی کررہے تھے ، جب انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا تو اسے چھوڑ کرمنتشر ہوگئے ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ کام کس کا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو ایسا کام کرے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي خَلَفٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو - عَنْ زَيْدِ بْنِ، أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ ‏"‏ ادْعُوَا النَّاسَ وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا وَيَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنَا فِي شَرَابَيْنِ كُنَّا نَصْنَعُهُمَا بِالْيَمَنِ الْبِتْعُ وَهُوَ مِنَ الْعَسَلِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ وَالْمِزْرُ وَهُوَ مِنَ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ بِخَوَاتِمِهِ فَقَالَ ‏"‏ أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ أَسْكَرَ عَنِ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Burda reported on the authority of his father:Allah's Messenger (ﷺ) sent me and Mu'adh to Yemen saying: Call people (to the path of righteousness) and give good tidings to the (people), and do not repel them, make things easy for them and do not make things difficult. I (Burda) said: Allah's Messenger, give us a religious verdict about two kinds of drinks which we prepare in Yemen. One is Bit' which is prepared from honey; it is a fermented Nabidh and is strong and turns into wine, and (the second is) Mizr which is prepared from millet and barley. Thereupon, Allah's Messenger (ﷺ), who had been gifted with the most eloquent and pithy expressions, said: I forbid you from every intoxicant that keeps you away from prayer
زید بن ابی انیسہ نے سعید بن ابی بردہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں حضرت ابو بردہ نے اپنے والد سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کی جانب بھیجا آپ نے فرما یا : " لوگوں کو ( اسلام کی ) دعوت دینا ان کو خوشخبری دینا اور متنفر نہ کرنا ۔ معاملا ت کو آسان بنا نا اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالنا ۔ انھوں نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کو دومشروبوں کے بارے میں شریعت کا حکم بتا ئیے جنھیں ہم یمن میں تیار کرتے تھے ۔ ایک بتع ہے جو شہد سے تیار کیا جا تا ہے ۔ اسے برتنوں میں ڈالا جا تا ہے حتی کی وہ گاڑھا ہو جا تا ہے اور ایک مزرہے وہ مکئی اور جو سے تیار کیا جا تا ہےاسے برتنوں میں ڈالا جا تا ہے حتی کہ اس میں شدت پیدا ہو جا تی ہے ۔ انھوں نے کہا : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بات کے خبصورت خاتمے سمیت جامع کلمات عطا کیے گئے تھے ۔ آپ نے فرما یا : " میں ہر اس نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں جو نماز سے مدہوش کردے ۔ ( جس کی زیادہ مقدار مدہوش کردے اس کی قلیل ترین مقدار بھی حرام ہے ۔)
وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسٌ، - يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، كُلُّهُمْ عَنْ أُسَامَةَ، جَمَاعَتُهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي خَاتِمِ الذَّهَبِ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ ‏.‏
This hadith has also been likewise narrated on the authority of Ibn 'Umar through several other chains of transmitters
ایو ب مو سیٰ بن عقبہ اور اسامہ سب نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کی انگوٹھی کے بارے میں لیث کی حدیث کی طرح روایت کی ،
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا مَا كُنَّا نَأْبِنُهُ بِرُقْيَةٍ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters and he said:There stood up with her a person amongst us whom we did not know before as an incantator
ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ ، اسی طرح حدیث بیان کی ، مگر اس نے کہا : ہم میں سے ایک آدمی اس کے ساتھ ( جانے کے لئے کھڑا ہوگیا ) ہم نے کبھی گمان نہیں کیاتھا کہ وہ دم کرسکتاہے ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، بْنَ أَبِي عُتْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ ‏.‏
Abu Sa'id Khudri reported that Allah's Messenger (ﷺ) was more modest than the virgin behind the curtain (or in the apartment), and when he disliked anything, we recognised that from his face
عبداللہ بن ابی عتبہ نے کہا : میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنواری لڑکی سے زیادہ حیا کرنے والے تھے جو پردے میں ہوتی ہے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو ناپسند فرماتے تو ہمیں آپ کے چہرے سے اس کا پتہ چل جاتا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ عِيسَى وَسُفْيَانَ قَالَ فَكَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ لأَنَّ إِسْلاَمَ جَرِيرٍ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ ‏.‏
This hadith is narrated on the same authority from A'mash by another chain of transmitters like one transmitted by Abu Mu'awyia. The hadith reported by 'Isa and Sufyan has these words also:" This hadith surprised the friends of Abdullab'" for Jarir had embraced Islam after the revelation of al-Ma'ida
(ابو معاویہ کے بجائے ) اعمش کے دیگر متعدد شاگردوں عیسیٰ بن یونس ، سفیان اور ابن مسہر نے بھی ابو معاویہ سے حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، البتہ عیسیٰ اور سفیان کی حدیث میں ہے ، ( ابراہیم نخعی نے ) کہا : عبد اللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کے شاگردوں کو یہ حدیث بہت پسندتھی کیونکہ جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سورۂ مائدہ کے اترنے کے بعد مسلمان ہوئے تھے ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ الْيَمَامِيُّ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا إِيَاسٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَقَدْ قُدْتُ بِنَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ بَغْلَتَهُ الشَّهْبَاءَ حَتَّى أَدْخَلْتُهُمْ حُجْرَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَذَا قُدَّامَهُ وَهَذَا خَلْفَهُ ‏.‏
Iyas reported on the authority of his father:I (had the honour of) leading the white mule on which rode Allah's Apostle (ﷺ) and with him were Hasan and Husain, till it reached the apartment of Allah's Apostle (ﷺ). The one amongst them was seated before him and the other one was seated behind him
ہمیں ایاس نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، کہا : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت حسن اور حسین رضوان للہ عنھم اجمعین کو آپ کے سفید خچر پر بٹھا کر اس کی باگ پکڑ کر چلا ، یہاں تک کہ انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں لے گیا ۔ یہ ( ایک بچہ ) آپ کے آگے بیٹھ گیا اور وہ ( دوسرا بچہ ) آپ کے پیچھے بیٹھ گیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلاَّ عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلاَّ رَفَعَهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Charity does not decrease wealth, no one forgives another except that Allah increases his honor, and no one humbles himself for the sake of Allah except that Allah raises his status
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صدقے نے مال میں کبھی کوئی کمی نہیں کی اور معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ بندے کو عزت ہی میں بڑھاتا ہے اور کوئی شخص ( صرف اور صرف ) اللہ کی خاطر تواضع ( انکسار ) اختیار نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کا مقام بلند کر دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ‏ "‏ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Muhammad b. ja'far through another chain of transmitters
ابن ابی عدی اور محمد بن جعفر دونوں نے شعبہ سے اور انہوں نے حصین سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، مگر محمد بن جعفر کی حدیث میں ( وشر ما لم اعمل کے بجائے ) و من شر ما لم اعمل ہے ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ‏"‏ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حَمَّادٌ فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَكَرَ الْمِسْكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الأَرْضِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى جَسَدٍ كُنْتِ تَعْمُرِينَهُ ‏.‏ فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَقُولُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الأَجَلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ - قَالَ حَمَّادٌ وَذَكَرَ مِنْ نَتْنِهَا وَذَكَرَ لَعْنًا - وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الأَرْضِ ‏.‏ قَالَ فَيُقَالُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الأَجَلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَيْطَةً كَانَتْ عَلَيْهِ عَلَى أَنْفِهِ هَكَذَا ‏.‏
Abu Huraira reported:When the soul of a believer would go out (of his body) it would be received bv two angels who would take it to the sky. Hammad (one of the narrators in the chain of transmitters) mentioned the swetness of its odour, (and further said) that the dwellers of the sky say: Here comes the pious soul from the side of the earth Let there be blessings of Allah upon the body in which it resides. And it is carried (by the angels) to its Lord, the Exalted and Glorious. He would say: Take it to its destined end. And if he is a nonbeliever and as it (the soul) leaves the body-Hammad made a mention of its foul smell and of its being cursed-the dwellers of the sky say: There comes a dirty soul from the side of the earth, and it would be said: Take it to its destined end. Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) put a thin cloth which was with him upon his nose while making a mention (of the foul smell) of the soul of a non-believer
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : ہمیں بدیل نے عبد اللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : "" جب مومن کی روح نکل جاتی ہے تو وہ فرشتے اس ( روح ) کو لیتے ہیں اور اسے اوپر کی طرف لے جاتے ہیں ۔ "" حماد نے کہا : انھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر کیا اور کستوری کی بات کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" آسمان والے کہتے ہیں ۔ یہ ایک پاکیزہ روح ہے زمین والوں کی طرف سے آئی ہے ( اے روح مومن! ) تجھ پر اور اس جسم پر جسے تونے آباد کیے رکھا اللہ کی رحمت ہو ۔ چنانچہ اسے اس کے رب عزوجل کے پاس لے جایا جاتا ہے پھر وہ فرماتا ہے ۔ اسے مقررشدہ آخری مدت تک کے لیے ( عالی شان ٹھکانے پر ) لے جاؤ ۔ "" فرمایا : "" اور کافرجب اس کی روح نکلتی ہے ۔ حماد نے کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بدبو اور ( اس پر کی جانے والی ) لعنتوں کا ذکر کیا ۔ اور آسمان والے کہتے ہیں ۔ گندی روح ہے زمین کی طرف سے آئی ہے فرمایا : تو کہاجاتا ہے اسے مقرر شدہ آخری مدت تک کے لیے ( برےٹھکانے ) پر لے جاؤ ۔ "" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر جو آپ کے جسم مبارک پر تھی اس طرح موڑ کر اپنی ناک پر رکھی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ‏"‏ ‏.‏
Umm Salama reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:A band of rebels would kill `Ammar
ابن عون نے حسن سے انھوں نے اپنی والدہ سے اور انھوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا صَخْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ جُوَيْرِيَةَ - عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَذَبَنِي رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لِي كَبِّرْ ‏.‏ فَدَفَعْتُهُ إِلَى الأَكْبَرِ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:It was shown in a vision that I was rinsing my mouth with miswak and two persons began to contend with one another for getting that miswak. One was older than the other. I gave the miswak to the younger one amongst them, but it was said to me: (Let it be given) to the older one. So I gave it to the older one
نافع سے روایت ہے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کررہا ہوں ، دو آدمیوں نے مجھے اپنی اپنی جانب کھینچا ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، میں نے مسواک چھوٹے کو پکڑا دی تو مجھ سے کہا گیا : بڑے کو دیں ، چنانچہ میں نے وہ بڑے کے حوالے کردی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلاَ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَلاَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلاَ تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ‏"‏ ‏.‏
Abd al-Rahman, the son of Abu Sa'id al-Khudri, reported from his father:The Messenger of Allah (ﷺ) said: A man should not see the private parts of another man, and a woman should not see the private parts of another woman, and a man should not lie with another man under one covering, and a woman should not lie with another woman under one covering
زید نےحباب نے ضحاک بن عثمان سے روایت کی ، کہا : مجھے زید بن اسلم نے خبر دی ، انہوں نے عبد الرحمن بن ابی سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ مرد ، مردکا ستر نہ دیکھے اور عورت ، عورت کا ستر نہ دیکھے ۔ مرد ، مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ ہو اور عورت ، عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ ہو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلاَتِهِ قُعُودًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ ‏ "‏ إِنْ كِدْتُمْ آنِفًِا لَتَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلاَ تَفْعَلُوا ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported:The Messenger of Allah (ﷺ) was ill and we said prayer behind him and he was sitting. And Abu Bakr was making audible to the people his takbir. As he paid his attention towards us he saw us standing and (directed us to sit down) with a gesture. So we sat down and said our prayer with his prayer in a sitting posture. After uttering salutation he said: You were at this time about to do an act like that of the Persians and the Romans. They stand before their kings while they sit, so don't do that; follow your Imams. If they say prayer standing, you should also do so, and if they say prayer sitting, you should also say prayer sitting
۔ لیث نے ابو زبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ كی ‌بیماری ‌میں ‌ہم ‌نے ‌آپ ‌كے ‌پیچھے ‌اس ‌طرح ‌نماز ‌پڑھی ‌كہ ‌آپ ‌نے ‌بیٹھ ‌كر ‌نماز ‌پڑھائی ‌اور ‌حضرت ‌صدیق ‌اكبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌مكبر ‌كی ‌حیثیت ‌میں ‌تكبیرات ‌كہتے ‌تھے ‌. ‌نماز ‌میں ‌ہمیں ‌كھڑا ‌دیكھ ‌كر ‌آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌ہمیں ‌بیٹھنے ‌كا ‌حكم ‌دیا ‌تو ‌ہم ‌بیٹھ ‌گئے ‌پھر ‌بعد ‌فراغت ‌نماز ‌ارشاد ‌عالی ‌ہوا ‌تم ‌نے ‌اس ‌وقت ‌وہ ‌كام ‌كیا ‌جیسا ‌كہ ‌فارس ‌اور ‌روم ‌والے ‌اپنے ‌بادشاہ ‌كے ‌سامنے ‌كھڑے ‌رہتے ‌ہیں ‌اور ‌بادشاہ ‌بیٹھا ‌رہتا ‌ہے ‌. ‌اب ‌آئندہ ‌ایسا ‌نہ ‌كرنا ‌بلكہ ‌ہمیشہ ‌اپنے ‌امام ‌كی ‌پیروی ‌كرو ‌اگر ‌وہ ‌بیٹھ ‌كر ‌نماز ‌پڑھائے ‌تو ‌تم ‌بھی ‌بیٹھ ‌كر ‌نماز ‌پڑھو ‌