حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ " . أَوْ " دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ " .
Another hadith, the like of which has been narrated by Malik (b. Anas) (and mentioned above) is also reported by Talha b. 'Ubaidullah, with the only variation that the Prophet remarked:By his father, he shall succeed if he were true (to what he professed), or: By his father, he would enter heaven if he were true (to what he professed)
اسماعیل بن جعفر نے ابو سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نےحضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے ، مالک سے حدیث کی طرح روایت کی ، سوائے اس کے کہ کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کامیاب ہوا ، اس کے باپ کی قسم ! اگر اس نے سچ کر دکھایا ِ ‘ ‘ یا ( فرمایا : ) ’’جنت میں داخل ہو گا ، اس کے باپ کی قسم ! اگر اس نے سچ کر دکھایا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ .
Abu Huraira reported:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying a hadith like that of Yunus
۔ زبیدی نے ( ابن شہاب ) زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہا تھے .... ( بقیہ ) یونس کی حدیث کے مانند ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
A hadith like this has been narrated by Abu Qatada with the same chain of transmitters
(شعبہ کی بجائے ) سعید بن ابی عروبہ اور معاذ بن ہشام نے اپنے والد کے واسطے سے قتادہ سے ، اسی مذکورہ سند کےساتھ اسی طرح ( حدیث بیان کی ) ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّاسُ أَهْلَ عَمَلٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ كُفَاةٌ فَكَانُوا يَكُونُ لَهُمْ تَفَلٌ فَقِيلَ لَهُمْ لَوِ اغْتَسَلْتُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ .
Aisha reported:The people (mostly) were workers and they had no servants. Ill-smell thus emitted out of them. It was said to them: Were you to take bath on Friday
عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : لو گ کا م کا ج والے تھے ان کے نوکر چاکر نہ ہو تے تھے وہ ایسے تھے کہ ان سے بو آتی تھی تو ان سے کہا گیا : کیا ہی اچھا ہو کہ تم جمعے کے دن نہا لیا کرو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلاَةِ فَإِذَا صَلَّى صَلاَتَهُ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلاَّهُمْ فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا وَكَانَ يَقُولُ " تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا " . وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصَلَّى فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنَى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ كَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجُرُّهُ نَحْوَ الصَّلاَةِ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ مِنْهُ قُلْتُ أَيْنَ الاِبْتِدَاءُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ لاَ يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ . قُلْتُ كَلاَّ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تَأْتُونَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ . ثَلاَثَ مِرَارٍ ثُمَّ انْصَرَفَ .
Abu Sa'id al-Khudri reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to go out on the day of Adha and on the day of Fitr and commenced the prayer. And after having observed his prayer and pronounced the salutation, he stood up facing people as they were seated at their places of worship. And if he intended to send out an army he made mention of it to the people, and if he intended any other thing besides it, he commanded them (to do that). He used to say (to the people):Give alms, give alms, give alms, and the majority that gave alms was of women. He then returned and this (practice) remained (in vogue) till Marwan b. al- Hakam (came into power). I went out hand in hand with Marwan till we came to the place of worship and there Kathir b. Salt had built a pulpit of clay and brick. Marwan began to tug me with his hand as though he were pulling me towards the pulpit, while I was pulling him towards the prayer. When I saw him doing that I said: What has happened to the practice of beginning with prayer? He said: No, Abu Sa'id, what you are familiar with has been abandoned. I thereupon said (three times and went back): By no means, by Him in Whose hand my life is, you are not doing anything better than what I am familiar with
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن تشریف لا تے تو نماز سے آغاز فرماتے اور جب اپنی نماز پڑھ لیتے اور سلام پھیر تے تو کھڑے ہو جا تے لوگوں کی طرف رخ فر ما تے جبکہ لو گ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں بیٹھے ہو تے اگر آپ کو کو ئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہو تی تو اس کا لو گو ں کے سامنے ذکر فر ما تے اور اگر آپ کو اس کے سوا کو ئی اور ضرورت ہوتی تو انھیں اس کا حکم دیتے اور فر ما یا کرتے " صدقہ کرو صدقہ کرو صدقہ کرو زیادہ صدقہ عورتیں دیا کرتی تھیں پھر آپ واپس ہو جا تے اور یہی معمول چلتا رہا حتیٰ کہ مردان بن حکم کا دور آگیا میں اس کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر نکلا حتیٰ کہ ہم عید گا ہ میں پہنچ گئے تو دیکھا کہ کثیر بن صلت نے وہاں مٹی ( کے گا رے ) اور اینٹوں سے منبر بنا یا ہو اتھا تو اچانک مردان کا ہا تھ مجھ سے کھنچا تا نی کرنے لگا جیسے وہ مجھے منبر کی طرف کھنچ رہا ہو اور میں اسے نماز کی طرف کھنچ رہا ہوں جب میں نے اس کی طرف سے یہ بات دیکھی تو میں نے کہا : نماز سے آغاز ( کا مسنون کا طریقہ ) کہاں ہے؟ اس نے کہا : اے ابو سعید !نہیں جو آپ جا نتے ہیں اسے ترک کر دیا گیا ہے میں نے کہا : ہر گز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو میں جانتا ہوں تم اس سے بہتر طریقہ نہیں لاسکتے ۔ ۔ ۔ ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تین دفہ کہا ، پھر چل دئیے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّجُمُعَةٍ مِنْ بَابٍ كَانَ نَحْوَ دَارِ الْقَضَاءِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمًا ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهِ يُغِثْنَا . قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا " . قَالَ أَنَسٌ وَلاَ وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابٍ وَلاَ قَزَعَةٍ وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلاَ دَارٍ - قَالَ - فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ - قَالَ - فَلاَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سَبْتًا - قَالَ - ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِكْهَا عَنَّا - قَالَ - فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ حَوْلَنَا وَلاَ عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ " . فَانْقَلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ . قَالَ شَرِيكٌ فَسَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَهُوَ الرَّجُلُ الأَوَّلُ قَالَ لاَ أَدْرِي .
Anas b. Malik reported that a person entered the mosque through the door situated on theside of Daral-Qada' during Friday (prayer) and the messenger of Allah (ﷺ) was delivering the sermon while standing. He came and stood in front of the Messenger of Allah (ﷺ) and said:Messenger of Allah, the camels died and the passages were blocked; so supplicate Allah to send down rain upon us. The Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands and then said: (O Allah, send down rain upon us; O Allah, send dowp rain upon us; O Allah, send down rain upon us. Anas said: By Allah, we did not see any cloud or any patch of it, and there was neither any house or building standing between us and the (hillock) Sal'a. There appeared a cloud in the shape of a shield from behind it, and as it (came high) in the sky it spread and then there was a downpour of rain. By Allah, we did not see the sun throughout the week. Then (that very man) came on the coming Friday through the same door when the Messenger of Allah (ﷺ) was standing and delivering the sermon. He stood in front of him and said: Messenger of Allah, our animals died and the passages blocked. Supplicate Allah to stop the rain for us. The Messenger of Allah (ﷺ) again raised his hands and said: O Allah, let it (rain) fall in our suburbs and not on us, O Allah (send it down) on the hillocks and small mountains and the river-beds and at places where trees grow. The rain stopped, and as we stepped out we were walking in sun- shine. He (the narrator) said to Sharik: I asked Anas b. Malik if he was the same man. He said: I do not know
شریک بن ابی نمر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جمعے کے روز ایک آدمی اس دروازے سے مسجد میں داخل ہوا جو دارالقضاء کی طرف تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ ارشاد فرمارہے تھے ، اس نے کھڑے کھڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کیا ، پھر کہا : اےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مال مویشی ہلاک ہوگئے اور راستے منقطع ہوچکے ، اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہمیں بارش عطا کرے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے ، پھر کہا : "" اے اللہ!ہمیں بارش عنایت فرما ، اے اللہ!ہمیں بارش عنایت فرما ، اے اللہ!ہمیں بارش سے نوازدے ۔ "" حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم!ہم آسمان میں نہ کوئی گھٹا دیکھ رہے تھے اور نہ بادل کا کوئی ٹکڑا ۔ ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی گھر تھا نہ محلہ ۔ پھر اس کے پیچھے سے ڈھال جیسی چھوٹی سی بدلی اٹھی ، جب وہ آسمان کے وسط میں پہنچی تو پھیل گئی ، پھر وہ برسی ، اللہ کی قسم!ہم نے ہفتہ بھر سورج نہ دیکھا ۔ پھر اگلے جمعے اسی دروازے سے ایک آدمی داخل ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ ارشاد فرمارہے تھے ، اس نے کھڑے کھڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کرکے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( بارش کی کثرت سے ) مال مویشی ہلاک ہوگئے اور راستے بند ہوگئے ، اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہم سے بارش روک لے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھادیے ، پھر فرمایا : "" اے اللہ!ہمارے ارد گرد ( بارش برسا ) ہم پر نہیں ، اے اللہ!پہاڑیوں پر ، ٹیلوں پر ، وادیوں کے اندر ( ندیوں میں ) اور درخت اگنے کے مقامات پر ( برسا ۔ ) "" کہا : "" ( فوراً ) بادل چھٹ گئے اور ہم ( مسجد سے ) نکلے تو دھوپ میں چل رہے تھے ۔ شریک نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : کیا وہ پہلے آدمی تھا؟انھوں نے جواب دیا : میں نہیں جانتا ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ يَهُودِيَّةً، أَتَتْ عَائِشَةَ تَسْأَلُهَا فَقَالَتْ أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ قَالَتْ عَمْرَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَائِذًا بِاللَّهِ ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ ظَهْرَىِ الْحُجَرِ فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَرْكَبِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مُصَلاَّهُ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي فِيهِ فَقَامَ وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ - قَالَتْ عَائِشَةُ - فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ الرُّكُوعِ ثُمَّ رَفَعَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ " إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " . قَالَتْ عَمْرَةُ فَسَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ فَكُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ .
Amra reported that a Jewess came to 'A'isha to ask (about something) and said:May Allah protect you from the torment of the grave! 'A'isha said: Messenger of Allah, would people be tormented in the graves? The Messenger of Allah (ﷺ) said: (May there be) protection of Allah! The Messenger of Allah (ﷺ) mounted one morning on the ride, and the sun eclipsed. 'A'isha said: I came in the company of the women in the mosque from behind the rooms. The Messenger of Allah (way peace he upon him) dismounted from his ride and came to the place of worship where he used to pray. He stood up (to pray) and the people stood behind him. 'A'isha said: He stood for a long time. He then bowed and it was a long ruku'. He then raised his head and he stood for a long time, less than the first standing. He then bowed and his ruku' was long, but it was less than that (the first) ruku'. He then raised (his head) and the sun had become bright. He (the Holy Prophet) then said: I saw you under trial in the grave like the turmoil of Dajjal. 'Amra said: I heard 'A'isha say: I listened after this to the Messenger of Allah (ﷺ) seeking refuge from the torment of Fire and the torment of the grave
سلیمان بن بلال نے یحییٰ ( بن سعید ) سے اور انھوں نے عمرہ سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس مانگنے کے لئے آئی ۔ اس نے آکر ( کہا : اللہ آپ کو عذاب قبر سے پناہ دے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !لوگوں کو قبرمیں عذاب ہوگا؟عمرہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں "" پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح کسی سواری پر سوار ہوکر نکلے تو سورج کوگرہن لگ گیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں بھی عورتوں کے سات حجروں کے درمیان سے نکل کر مسجد میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے ( اتر کر ) نماز پڑھنے کی اس جگہ پرآئے جہاں آپ نماز پڑھایا کرتے تھے ، آپ کھڑے ہوگئے اور لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : پھر آپ نے لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا ، پھر ( رکوع سے ) سر اٹھایا اور طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے چھوٹا تھا ۔ اور پھر ( رکوع سے ) سر اٹھایا تو سورج روشن ہوچکا تھا ، پھر ( نماز سے فراغت کے بعد ) آپ نے فرمایا : "" میں نے تمھیں دیکھا ہے کہ تم قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح آزمائش میں ڈالے جاؤگے ۔ "" عمرہ نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ " . وَقَالَ " اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ " . وَلَمْ يَقُلِ " افْسَحْ لَهُ " . وَزَادَ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ وَدَعْوَةٌ أُخْرَى سَابِعَةٌ نَسِيتُهَا .
This hadith has been narrated by Khalid al Hadhdha' with the same chain of transmitters but with this alteration that he said:(O Allah! ) let Thee be the caretaker of what is left by him, and he said: Grant him expansion of the grave, but he did not say: Make his grave spacious. Khalid said: He supplicated for the seventh (thing too) which I have forgotten
عبیداللہ بن حسن نے کہا : ہمیں خالد حذاء نے اسی ( مذکورہ بالا ) سند کے ساتھ اس ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی ، اس کے سوا کہ انھوں نے ( واخلفه في عقبه کے بجائے ) واخلفه في تركته ( جو کچھ اس نے چھوڑا ہے ، یعنی اہل ومال ، اس میں اس کا جانشین بن ) کہا ، اور انھوں نےاللهم!اوسع له في قبره ( اے اللہ!اس کے لئے اس کی قبر میں وسعت پیدا فرما ) کہا اورافسح له ( اوراس کے لئے کشادگی پیدا فرما ) نہیں کہا اور ( عبیداللہ نے ) یہ زائد بیان کیا کہ خالد حذاء نے کہا : ایک اور ساتویں دعا کی جسے میں بھول گیا ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ " .
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No Sadaqa is payable on less than five fiqiyas of silver, and on less than five heads of camels, and less than five wasqs of dates
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبردی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں صدقہ نہیں اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں صدقہ ہے اور نہ ہی پانچ وسق سے کم کھجوروں میں صدقہ ہے ۔
وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ - عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The month (of Ramadan) may consist of twenty nine days; so when you see the new moon observe fast and when you see (the new moon again at the commencement of the month of Shawwal) then break It, and if the sky is cloudy for you, then calculate it (and complete thirty days)
سلمہ بن علقمہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مہینہ انتیس کابھی ہوتاہے ، جب چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو توروزے ختم کرو ، اگر تم پر بادل چھاجائیں تو اس کی گنتی پوری کرو ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، - قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يَقُولُ سَمِعْتُ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مَا لاَ يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger (ﷺ) used to exert himself in devotion during the last ten nights to a greater extent than at any other time
حسن بن عبیداللہ سے روایت ہے ، کہا : میں نے ابراہیم نخعی سےسنا ، کہہ رہے تھے : میں نے اسود بن یزید سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رمضان کے ) آخری دس دن ( عبادت ) میں اس قدر محنت کرتے ( اور عام دنوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ محنت کرتے تھے ۔)
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ، يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَأَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ - يَعْنِي جُبَّةً - وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ فَقَالَ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَعَلَىَّ هَذَا وَأَنَا مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ " . قَالَ أَنْزِعُ عَنِّي هَذِهِ الثِّيَابَ وَأَغْسِلُ عَنِّي هَذَا الْخَلُوقَ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ " .
Safwan b. Ya'la reported on the authority of his father (who said):A person came to the Messenger of Allah (ﷺ) as he was staying at Ji'rana and I (the narrator's father) was at that time in the apostle's (ﷺ) company and (the person) was donning a cloak having the marks of perfume on it, and he said: I am in a state of Ihram for the sake of Umra, and it (this cloak) is upon me and I am perfumed. The Apostle of Allah (ﷺ) said to him: What would you do in your Hajj? He said: I would take off the clothes and would wash from me this perfume. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: What you do in your Hajj do it in your Umra
عمرو بن دینار نے عطاء سے انھوں نے صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، میں ( یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا ، اس ( کے بدن ) پر ٹکڑیوں والا ( لباس ) ، یعنی جبہ تھا وہ زعفران ملی خوشبوسے لت پت تھا ۔ اس نے کہا میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے ۔ اور میرے جسم پر یہ لباس ہے ۔ اور میں نے خوشبو بھی لگائی ہے ۔ ( کیایہ درست ہے؟ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم اپنے حج میں کیا کرتے؟ " اس نے کہا : میں یہ اپنے کپڑے اتار دیتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " جو تم اپنے حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرے میں کرو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ أَجَازَ لَهُ ذَلِكَ لاَخْتَصَيْنَا .
Sa'id b. al Musayyib heard Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased with him) saying that Uthman b. Maz'un decided to live in celibacy, but Allah's Messenger (ﷺ) forbade him to do so, and if he had permitted him, we would have got ourselves castrated
عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : عثمان بن معثون رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ ( عبادے کے لئے نکاح اور گھرداری سے ) الگ ہو جائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا ، اگر آپ انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم سب خصی ہو جاتے
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا . فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters (and the words are):" The brother of Abu'l-Qu'ais sought permission from her ('A'isha) (to enter the house). The rest is the same
حماد ، یعنی ابن زید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشام نے اسی سند سے حدیث بیان کی کہ ابوقعیس کے بھائی نے ان ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے ہاں آنے کی اجازت مانگی ۔ ۔ ۔ آگے اسی طرح بیان کیا
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ يُطَلِّقَ بَعْدُ أَوْ يُمْسِكَ " .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that he divorced his wife while she was in her menses. 'Umar (Allah be pleased with him) asked Allah's Apostle (ﷺ) about that, and he said:Command him to take her back until she is pure and then she enters the second menses and then becomes pure. Then either divorce her (finally) or retain her
عبداللہ بن دینار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے اپنی بیوی کو جبکہ وہ حائضہ تھی طلاق دی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : " اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کرے یہاں تک کہ وہ ( حیض سے ) پاک ہو جائے ، پھر اسے دوبارہ حیض آ جائے ، پھر پاک ہو جائے ، پھر اس کے بعد اسے طلاق دے یا ( اپنے پاس ) روک لے
وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِلْمِسْمَعِيِّ وَابْنِ الْمُثَنَّى - قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ لَمْ يُفَرِّقِ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ . قَالَ سَعِيدٌ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . فَقَالَ فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ .
Sa'id b. Jubair reported that Mus'ab b. Zubair did not effect separation between the Mutala'inain (invokers of curses). Sa'id said:It was mentioned to 'Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them) and he said: Allah's Apostle (ﷺ) effected separation between the two members of Banu al-'Ajlan
سعید بن جبیر سے روایت ہے مصعب نے جدائی نہیں کی لعان کرنے والوں میں ۔ میں نے اس کا ذکر کیا عبداﷲ بن عمرؓ سے ۔ انہوں نے کہا جناب رسول اﷲ ﷺ نے جدائی کردی بنی عجلان کے مرد اور عورت میں ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَىَّ فَقَالَتْ يَا عَائِشَةُ إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ . بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ وَزَادَ فَقَالَ " لاَ يَمْنَعُكِ ذَلِكِ مِنْهَا ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي " . وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ " .
A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported:Barira came to me and said: 'A'isha, I have entered into contract for securing freedom with my family (who owns me) for nine 'uqiyas (of silver), one 'uqiya every year The rest of the hadith is the same (but with this addition):" This (the problem of the right of inheritance) should not stand in your way. Buy her, and set her free. He said in a hadith: Allah's Messenger (ﷺ) stood up among men, extolled Allah, praised Him, and then said:" for
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی : عائشہ! میں نے اپنے مالکوں سے 9 اوقیہ پر مکاتبت ( قیمت کی ادائیگی پر آزاد ہو جانے کا معاہدہ ) کیا ہے ، ہر سال میں ایک اوقیہ ( 40 درہم ادا کرنا ) ہے ، آگے لیث کی حدیث کے ہم معنی ہے اور ( اس میں ) یہ اضافہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہیں ان کی یہ بات ( بریرہ کو آزاد کرنے سے ) نہ روکے ۔ اسے خریدو اور آزاد کر دو ۔ " اور ( یونس نے ) حدیث میں کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " امابعد! " ( خطبہ دیا جس میں شرط والی بات ارشاد فرمائی)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ، سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ .
Abdullah (b. 'Umar) (Allah be pleased with him) said that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the transaction called habal al-habala
لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے حبل الحبلہ کی بیع سے منع فرمایا ہے
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَغْرِسُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلاَ زَرْعًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ سَبُعٌ أَوْ طَائِرٌ أَوْ شَىْءٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ " . وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ طَائِرٌ شَىْءٌ .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying: Never does a Muslim plant, or cultivate, but has reward for him for what the beasts eat, or the birds eat or anything else eats out of that
محمد بن حاتم اور ابن ابی خلف نے مجھے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں رَوح نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جو بھی مسلمان آدمی درخت لگاتا ہے اور کاشت کاری کرتا ہے ، پھر اس سے کوئی جنگلی جانور ، پرندہ یا کوئی بھی کھائے تو اس کے لیے اس میں اجر ہے ۔ " ابن ابی خلف نے ( یا کے بغیر ) " پرندہ کوئی چیز " کہا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَرِيضٌ لاَ أَعْقِلُ فَتَوَضَّأَ فَصَبُّوا عَلَىَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلاَلَةٌ . فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ . فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ { يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ} قَالَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with him) reported:Whilo I was ill Allah's Messenger (ﷺ) came to me and found me unconscious. He (the Holy Prophet) performed ablution, and sprinkled over me the water of his ablution. I regained my consciousness and said: Allah's Messenger, my case of inheritance is that of Kalala. Then the verse pertaining to the inheritance ( of Kalala) was revealed. I (one of the narrators) said: I said to Muhammad b. Munkadir: (Do you mean this verse)" They ask you; say: Allah gives you decision in regard to Kalala" (iv. 177)? He said: Yes, it was thus revealed
بہز نے ہمیں حدیث بیان کی : شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی : مجھے محمد بن منکدر نے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میں بیمار تھا اور بے ہوش تھا ، آپ نے وضو کیا تو لوگوں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر ڈالا ، ( اس پر ) مجھے افاقہ ہوا تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! میرا وارث کلالہ بنے گا ۔ ( اس وقت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی بہنیں ہی تھیں جو وارث بنتی تھیں ) اس پر وراثت کی آیت نازل ہوئی ۔ میں نے محمد بن منکدر سے پوچھا : ( يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ ۚ ) ( والی آیت ) ؟ انہوں نے کہا : اسی طرح ( حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے سوال پر ) نازل کی گئی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، يَذْكُرُ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This hadith is also reported through another chain
ابن مبارک نے ہمیں اوزاعی سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے ( ابوجعفر ) محمد بن ( زین العابدین ) علی بن حسین رحمہم اللہ سے سنا ، وہ اسی سند سے اسی طرح بیان کر رہے تھے
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ، بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ فَأَبَى . قُلْتُ فَالنِّصْفُ فَأَبَى . قُلْتُ فَالثُّلُثُ قَالَ فَسَكَتَ بَعْدَ الثُّلُثِ . قَالَ فَكَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا .
Mus'ab b. Sa'd reported on the authority of his father. I was ailing. I sent message to Allah's Apostle (ﷺ) saying:Permit me to give away my property as I like. He refused. I (again) said: (Permit me) to give away half. He (again refused). I (again said): Then one-third. He (the Holy Prophet) observed silence after (I had asked permission to give away) one-third. He (the narrater) said: It was then that endowment of one-third became permissible
زہیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سماک بن حرب نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے مصعب بن سعد ( بن ابی وقاص ) نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں بیمار ہوا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا ، میں نے عرض کی : مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں ۔ آپ نے انکار فرمایا ، میں نےعرض کی : آدھا مال ( تقسیم کر دوں؟ ) آپ نے انکار فرمایا ، میں نے عرض کی : ایک تہائی؟ کہا : ( میرے ) ایک تہائی ( کہنے ) کے بعد آپ خاموش ہو گئے ۔ ( ایک تہائی کی وصیت سے آپ نے منع نہ فرمایا مگر اس کے بارے میں بھی یہ فرمایا : ایک تہائی بھی بہت ہے ، حدیث : 4215 ، 4214 ) کہا : اس کے بعد ایک تہائی ( کی وصیت ) جائز ٹھہری ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَمْرٍو، - وَهْوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ النَّذْرَ لاَ يُقَرِّبُ مِنِ ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ قَدَّرَهُ لَهُ وَلَكِنِ النَّذْرُ يُوَافِقُ الْقَدَرَ فَيُخْرَجُ بِذَلِكَ مِنَ الْبَخِيلِ مَا لَمْ يَكُنِ الْبَخِيلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَ " .
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The vow does not bring anything near to the son of Adam which Allah has not ordained for him, but (at times) the vow coincides with Destiny, and this is how something is extracted from the miserly person, which that miser was not willing to give
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں عمرو بن ابی عمرو سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمان اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " بلاشبہ نذر کسی چیز کو ابن آدم کے قریب نہیں کرتی ، جو اللہ نے اس کے لیے مقدر نہیں کی ، بلکہ نذر تقدیر کے ساتھ موافقت کرتی ہے ، اس کے ذریعے سے بخیل سے وہ کچھ نکلوایا جاتا ہے جسے بخیل نکالنا نہیں چاہتا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَحْلِفُوا بِالطَّوَاغِي وَلاَ بِآبَائِكُمْ " .
Abd al-Rahman b. Samura reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not swear by idols, nor by your fathers
حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم بتوں کی قسم نہ کھاؤ ، نہ ہی اپنے آباء و اجداد کی
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا وَقَالَ، حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانُ، بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقَرَّ الْقَسَامَةَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ .
Sulaiman b. Yasar, the freed slave of Maimuna, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), narrated from one of the Ansari Companions of Allah's Messenger (ﷺ) that Allah's Messenger (ﷺ) retained (the practice) of Qasama as it was in the pre-Islamic days
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمان اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار نے انصار میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامہ کو اسی صورت پر برقرار رکھا جس پر وہ جاہلیت میں تھی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطَعَ سَارِقًا فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ .
Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger (may peace upon him) cut off the hand of a thief (in case of the theft) of a shield the price of which was three dirhams
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چور کا ہاتھ ایک ڈھال ( کی چوری ) میں کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٍ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chair of transmitters
عبداللہ بن نمیر ، وکیع ، عبدالعزیز بن محمد اور ضحاک بن عثمان سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ، بْنُ كُهَيْلٍ أَوْ أَخْبَرَ الْقَوْمَ، وَأَنَا فِيهِمْ، قَالَ سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ إِلَى قَوْلِهِ فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا . قَالَ شُعْبَةُ فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ يَقُولُ عَرَّفَهَا عَامًا وَاحِدًا .
Shu'ba reported:Salama b. Kuhail informed me or he informed people and I was among them. He said: I heard Sawaid b. Ghafala who reported: I went out along with Zaid b. Suhan and Salman b. Rabi'a, and found a whip, the rest of the hadith is the same up to the words:" I made use of that." Shu'ba said: I heard him say after ten years, that he made an announcement of it for one year
بہز نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے سلمہ بن کہیل نے خبر دی یا انہوں نے کچھ لوگوں کو خبر دی اور میں بھی ان میں ( شامل ) تھا ، انہوں نے کہا : میں نے سوید بن غفلہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں زید بن صُوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ ( سفر پر ) نکلا ، مجھے ایک کوڑا ملا ۔ ۔ انہوں نے اسی ( سابقہ روایت ) کے مانند اس قول تک حدیث بیان کی : " پھر میں نے اسے استعمال کیا ۔ " شعبہ نے کہا : میں نے دس سال بعد ان سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : انہوں ان سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : انہوں نے ایک سال اس کی تشہیر کی تھی
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، ح. وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا وَسَكِّنُوا وَلاَ تُنَفِّرُوا "
The Messenger of Allah (may peace he upon him) has been reported by Anas b. Malik to have said:Show leniency; do not be hard; give solace and do not create aversion
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آسانی کرو ، دشواری پیدا نہ کرو ، اطمینان دلاؤ اور دور نہ بھگاؤ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ، بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَزَالُ هَذَا الأَمْرُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَىْ عَشَرَ خَلِيفَةً " . قَالَ ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَىْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَقُلْتُ لأَبِي مَا قَالَ فَقَالَ " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
It has been narrated on the authority of Jabir b. Samura that the Prophet (ﷺ) said:This order will continue to be dominant until there have been twelve Caliphs. The narrator says: Then he said something which I could not understand, and I said to my father: What did he say? My father told me that he said that all of them (Caliphs) would be from the Quraish
داود نے شعبی سے ، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بارہ خلفاء ( کے عہد ) تک اسلام کا غلبہ جاری رہے گا ۔ " پھر آپ نے کوئی بات کہی جس کو میں نہیں سمجھ سکا ، میں نے اپنے والد سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا : آپ نے فرمایا : " وہ سب قریش میں سے ہوں گے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ ذَلِكَ .
This hadith has been narrated oif the authority of 'Adi b. Hatim through another chain of transmitters
حکم نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَوَجَّهَ قِبْلَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَلاَ يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ " . فَقَالَ خَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ نَسَكْتُ عَنِ ابْنٍ لِي . فَقَالَ " ذَاكَ شَىْءٌ عَجَّلْتَهُ لأَهْلِكَ " . فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي شَاةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْنِ قَالَ " ضَحِّ بِهَا فَإِنَّهَا خَيْرُ نَسِيكَةٍ " .
Al-Bara' reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:He who observes prayer like our prayer and turns his face towards our Qibla (in prayer) and who offers sacrifices (of animals) as we do, he must not slaughter the (animal as a sacrifice) until he has completed the prayer. Thereupon my maternal uncle said: Messenger of Allah, I have sacrificed the animal on behalf of my son. The Messenger of Allah (ﷺ) said: This is the thing in which you have made haste for your family. He said: I have a goat with me better than two goats. Thereupon he said: Sacrifice it for that is the best
(فراس نے عامر سے ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جو ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کرے اور ہماری قربانی کرے ، وہ نماز پڑھنے سے پہلے ذبح نہ کرے ۔ " میرے ماموں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے ایک بیٹے کی طرف سے قربانی کر چکا ہوں ۔ آپ نے فر ما یا : " یہ وہ ذبیحہ ) ہے جسے تم نے اپنے گھر والوں ( کو کھلا نے ) کے لیے جلد ذبح کر لیا ۔ " انھوں نے کہا : میرے پاس ایک بکری ہے جو بکریوں سے بہتر ہے آپ نے فر ما یا : " تم اس کی قربانی کر دو وہ بہترین قربانی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ وَأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا دُجَانَةَ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فِي رَهْطٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَاخِلٌ فَقَالَ حَدَثَ خَبَرٌ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ . فَكَفَأْنَاهَا يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَخَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ . قَالَ قَتَادَةُ وَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَكَانَتْ عَامَّةُ خُمُورِهِمْ يَوْمَئِذٍ خَلِيطَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ .
Anas b. Malik reported I was serving wine to Abu Talha, and Abu Dujana. and Mu'adh b. jabal admidst a group of Ansar when a visitor came to us and said There is a fresh news; the (verses) concerning the prohibition of liquor have been revealed. So we spilt it on that day; and it was a mixture of dry dates and fresh dates. Anas b. Malik said:Whil Khamr was declared unlawful, the common liquor of theirs was then a mixture of dry dates and fresh dates
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں انصاری کی ایک جمیعت میں حضرت ابو طلحہ ، حضرت ابو دجانہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شراب پلا رہاتھا ، اس وقت ایک آنے والا شخص آیا اور کہا : شراب کی حُرمت نازل ہوگئی ہے ، ( یہ سنتے ہی ) ہم نے اسی دن اسے ( شراب کو ) بہادیا ، وہ نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی ( بنی ہوئی ) شراب تھی ۔ قتادہ نے بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : شراب حرام کردی گئی اور ان دنوں عام طور پر ان کی شراب ملی جلی ، نیم پختہ اور خشک کھجور کی ( بنی ہوئی ) ہوتی تھی ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ فَاسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ فَجَاءَهُ دِهْقَانٌ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ وَقَالَ إِنِّي أُخْبِرُكُمْ أَنِّي قَدْ أَمَرْتُهُ أَنْ لاَ يَسْقِيَنِي فِيهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلاَ تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ وَالْحَرِيرَ فَإِنَّهُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهُوَ لَكُمْ فِي الآخِرَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
Abdullah b. Ukaim reported:While we were with Hudhaifa in Mada'in he asked for water. A villager brought a drink for him in a silver vessel. He (Hudhaifa) threw it away saying: I inform you that I have already conveyed to him that he should not serve me drink in it (silver vessel) for Allah's Messenger (ﷺ) had said: Do not drink in gold and silver vessels, and do not wear brocade or silk, for these are meant for them (the non-believers) in this world, but they are meant for you in the Hereafter on the Day, of Resurrection
سعید بن عمرو بن سہل بن اسحٰق بن محمد بن اشعث بن قیس نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے انھیں ابو فروہ سے ذکر کرتے ہو ئے سنا کہ انھوں نے عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : ہم ( ایران کے سابقہ دارالحکومت ) مدائن میں حضرت خذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی ما نگا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں مشروب لے آیا ، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ( مشروب ) کے سمیت وہ برتن پھینک دیا اور کہا : میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ میں پہلے اس سے کہہ چکا ہو ں کہ وہ مجھے اس ( چاندی کے برتن ) میں نہ پلا ئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ہے ۔ " سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج اور حریرنہ پہنو کیونکہ یہ چیز یں دنیا میں ان ( کا فروں ) کے لیے ہیں اور آخرت میں قیامت کے دن تمھا رے لیےہیں ۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَكِنْ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ عَنْ حُمْرَانَ، أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا تَوَضَّأَ عُثْمَانُ قَالَ وَاللَّهِ لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا وَاللَّهِ لَوْلاَ آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلاَةَ إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاَةِ الَّتِي تَلِيهَا " . قَالَ عُرْوَةُ الآيَةُ { إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى} إِلَى قَوْلِهِ { اللاَّعِنُونَ}
Humran reported when 'Uthman performed ablution he said:By Allah, I am narrating to you a hadith had there not been this verse in the Book of Allah. I would not have narrated it to you. Verily I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Not a person is there who performed ablution, and did it well, then offered prayer, but his sins (which he committed) were not pardoned between the prayer that he offered and the next one. 'Urwa said: The verse is this:" Those who suppress the clear proofs and the guidance which We have sent down"... to His words:" the Cursers" (ii)
ابن شہاب نے کہا : لیکن عروہ ، حمران کی جانب سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کر لیا تو فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہیں ایک حدیث ضرورسناؤں گا ، اللہ کی قسم ! اگر کتاب اللہ کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں وہ حدیث سناتا : میں نے رسول اللہﷺ سےسنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’جو آدمی وضو کرے اور وہ اچھی طرح وضو کرے ، پھر نماز پڑھے تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جواس نماز اور اگلی نماز کے درمیان ہوں گے ۔ ‘ ‘ عروہ نےکہا : وہ آیت ( جس کی طرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا ) : ’’بلاشبہ وہ لوگ جوان کھلی نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں جو ہم نے اتاریں ‘ ‘ سے لے کر ﴿الّٰعِنُوْنَ﴾ تک ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ، بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ سَالِمِ، بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَمَنْصُورٍ، وَسُلَيْمَانَ، وَحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالُوا سَمِعْنَا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِنَحْوِ حَدِيثِ مَنْ ذَكَرْنَا حَدِيثَهُمْ مِنْ قَبْلُ . وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ وَزَادَ فِيهِ حُصَيْنٌ وَسُلَيْمَانُ قَالَ حُصَيْنٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " . وَقَالَ سُلَيْمَانُ " فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " .
This hadith has been narrated through different chains of transmitters on the authority of Shu'ba with a slight variation of wording
ابو بکر بن ابی شیبہ محمد بن مثنیٰ محمد بن عمرو بن جبلہ اور بشر بن خالد نے محمد بن جعفر سے ۔ محمد بن جعفر ابن ابی عدی اور نضر بن شمیل نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ منصور سلیمان اور حصین بن عبد الرحمٰن سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نے سالم بن ابی جعد سے سنا ، انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، جس طرح ان سب کی روایت ہے جن کی حدیث ہم پہلے بیان کر چکے ہیں شعبہ سے نضر کی بیان کردہ حدیث میں ہے کہا : اس میں حصین اور سلیمان نے اضا فہ کیا ، حصین نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیا ہے ، میں تمھا رے درمیان تقسیم کرتا ہوں ۔ ۔ " اور سلیمان نے کہا : " میں ہی قاسم ہوں ، تمھا رے درمیان تقسیم کرتا ہوں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى بْنِ يَحْيَى - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ " .
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the Jews offer you salutations, some of them say as-Sam-u-'Alaikum (death be upon you). You should say (in response to it): Let it be upon you
اسماعیل بن جعفر نے عبد اللہ بن دینار سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جب یہود تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کو ئی شخص ( اَلسَامُ عَلَيكُم ) ( تم پر موت نازل ہو ) کہتا ہے ۔ " ( اس پر ) تم ( عَلَيكُم ) ( تجھ پر ہو ) کہو ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ الْكَرْمُ . فَإِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None of you should use the word al-harin (for grape) for the heart of a believer is karm (worthy of respect)
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( انگور اور اس کی بیل کو ) کرم نہ کہے کیونکہ کرم تو مو من کا دل ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
Sa`d reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:It is better for the belly of any one of you to be stuffed with pus rather than to stuff (one's mind) with poetry
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جا ئے وہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعر سے بھر جا ئے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ وَالرُّؤْيَا ثَلاَثَةٌ فَرُؤْيَا الصَّالِحَةِ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ الْمَرْءُ نَفْسَهُ فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ وَلاَ يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ " . قَالَ " وَأُحِبُّ الْقَيْدَ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ " . فَلاَ أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ أَمْ قَالَهُ ابْنُ سِيرِينَ .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the time draws near (when the Resurrection is near) a believer's dream can hardly be false. And the truest vision will be of one who is himself the most truthful in speech, for the vision of a Muslim is the forty-fifth part of Prophecy, and dreams are of three types: one good dream which is a sort of good tidings from Allah; the evil dream which causes pain is from the satan; and the third one is a suggestion of one's own mind; so if any one of you sees a dream which he does not like he should stand up and offer prayer and he should not relate it to people, and he said: I would love to see fetters (in the dream), but I dislike wearing of necklace, for the fetters is (an indication of) one's steadfastness in religion. The narrator said: I do not know whether this is a part of the hadith or the words of Ibn Sirin
عبد الو ہاب ثقفیٰ نے ایوب سختیانی سے ، انھوں نے محمد بن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرما یا : " ( قیامت کا ) زمانہ قریب آجا ئے گا تو کسی مسلمان کا خواب جھوٹا نہ نکلے گا ۔ تم میں سے ان کے خواب زیادہ سچے ہوں گے جو بات میں زیادہ سچے ہوں گے ۔ ۔ مسلمان کا خواب نبوت کے پنتالیس حصوں میں سے ایک ( پنتالیسواں ) حصہ ہے خواب تین طرح کے ہو تے ہیں ۔ اچھا خواب اللہ کی طرف سے خوش خبری ہو تی ہے ۔ ایک خواب شیطان کی طرف سے غمگین کرنے کے لیے ہوتا ہے ۔ اور ایک خواب وہ جس میں انسان خود اپنے آپ سے بات کرتا ہے ۔ ( اس کے اپنے تخیل کی کا ر فرما ئی ہو تی ہے ۔ ) اگر تم میں سے کو ئی شخص ناپسندیدہ سخواب دیکھے تو کھڑا ہو جا ئے اور نماز پڑھے اور لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ نہ بتا ئے ۔ " فرما یا : " ( پاؤں کی ) بیڑی خواب میں دیکھنا ) مجھے پسند ہے اور گلے کا ) طوق ناپسند ہے ۔ بیڑی دین میں ثابت قدمی ( کی علامت ) ہے ۔ " ( ثقفی نے ایوب سختیانی سے نقل کرتے ہو ئے کہا : ) تو مجھے معلوم نہیں کہ یہ بات حدیث ( نبوی ) میں ہے یا بن سیرین نے کہی ہے ۔
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَطْعِمُهُ فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّى كَالَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ وَلَقَامَ لَكُمْ " .
Jabir reported that a person came to Allah's Apostle (ﷺ) and asked for food. And he gave him half a wasq of barley, and the person and his wife and their guests kept on making use of it (as a food) until he weighed it (in order to find out the actual quantity, and it was no more). He came to Allah's Apostle (ﷺ) (and informed him about it). He said:Had you not weighed it, you would be eating out of it and it would have remained intact for you
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا حاصل کرنے کے لئے آیا ، آپ نے اسے آدھا وسق ( تقریباً 120کلو ) جو دیے تو وہ آدمی ، اس کی بیوی اور ان دونوں کے مہمان مسلسل اس میں سے کھاتے رہے ، یہاں تک کہ ( ایک دن ) اس نے ان کو ماپ لیا ، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س آیا ( اور ماجرابتایا ) تو آپ نے فرمایا؛ " اگرتم اس کو نہ ماپتے تو مسلسل اس میں سے کھاتے رہتے اور یہ ( سلسلہ ) تمھارے لئے قائم رہتا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَىُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ " عَائِشَةُ " . قُلْتُ مِنَ الرِّجَالِ قَالَ " أَبُوهَا " . قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ " عُمَرُ " . فَعَدَّ رِجَالاً .
Amr b. al-'As reported that Allah's Messenger (ﷺ) sent him in command of the army despatched to Dhat-as-Salasil. When 'Amr b. al-'As came back to the Prophet (ﷺ) he said:Who amongst people are dearest to you? He said: A'isha. He then said: Who amongst men? He said: Her father, and I said: And who next? He said: Umar. He then enumerated some other men
عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ نے ان کو ذات السلاسل کے لشکر کے ساتھ بھیجا ( ذات السلاسل نواحی شام میں ایک پانی کا نام ہے وہاں کی لڑائی جمادی الاخری۸ھ میں ہوئی ) ۔ وہ آئے آپ کے پاس انہوں نے کہا یا رسول اﷲؐ! سب لوگوں میں آپ کو کس سے زیادہ محبت ہے؟ آپ نے فرمایا عائشہ صدیقہؓ سے ۔ انہوں نے کہا مرودں میں کس سے زیادہ محبت ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ان کے باپ سے ۔ انہوں نے کہا پھر ان کے بعد کس سے؟ آپؐ نے فرمایا عمرؓ سے یہاں تک کہ آپ نے کئی آدمیوں کا ذکر کیا ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلاَّ ثَلاَثَةٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ وَكَانَ جُرَيْجٌ رَجُلاً عَابِدًا فَاتَّخَذَ صَوْمَعَةً فَكَانَ فِيهَا فَأَتَتْهُ أُمُّهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ . فَقَالَ يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلاَتِي . فَأَقْبَلَ عَلَى صَلاَتِهِ فَانْصَرَفَتْ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلاَتِي فَأَقْبَلَ عَلَى صَلاَتِهِ فَانْصَرَفَتْ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ . فَقَالَ أَىْ رَبِّ أُمِّي وَصَلاَتِي . فَأَقْبَلَ عَلَى صَلاَتِهِ فَقَالَتِ اللَّهُمَّ لاَ تُمِتْهُ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ . فَتَذَاكَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ جُرَيْجًا وَعِبَادَتَهُ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ بَغِيٌّ يُتَمَثَّلُ بِحُسْنِهَا فَقَالَتْ إِنْ شِئْتُمْ لأَفْتِنَنَّهُ لَكُمْ - قَالَ - فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا فَأَتَتْ رَاعِيًا كَانَ يَأْوِي إِلَى صَوْمَعَتِهِ فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَحَمَلَتْ فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَتْ هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ . فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ وَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ فَوَلَدَتْ مِنْكَ . فَقَالَ أَيْنَ الصَّبِيُّ فَجَاءُوا بِهِ فَقَالَ دَعُونِي حَتَّى أُصَلِّيَ فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَى الصَّبِيَّ فَطَعَنَ فِي بَطْنِهِ وَقَالَ يَا غُلاَمُ مَنْ أَبُوكَ قَالَ فُلاَنٌ الرَّاعِي - قَالَ - فَأَقْبَلُوا عَلَى جُرَيْجٍ يُقَبِّلُونَهُ وَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ وَقَالُوا نَبْنِي لَكَ صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ . قَالَ لاَ أَعِيدُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ . فَفَعَلُوا . وَبَيْنَا صَبِيٌّ يَرْضَعُ مِنْ أُمِّهِ فَمَرَّ رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلَى دَابَّةٍ فَارِهَةٍ وَشَارَةٍ حَسَنَةٍ فَقَالَتْ أُمُّهُ اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا . فَتَرَكَ الثَّدْىَ وَأَقْبَلَ إِلَيْهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ثَدْيِهِ فَجَعَلَ يَرْتَضِعُ . قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَحْكِي ارْتِضَاعَهُ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ فِي فَمِهِ فَجَعَلَ يَمُصُّهَا . قَالَ وَمَرُّوا بِجَارِيَةٍ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ زَنَيْتِ سَرَقْتِ . وَهِيَ تَقُولُ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ . فَقَالَتْ أُمُّهُ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا . فَتَرَكَ الرَّضَاعَ وَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا . فَهُنَاكَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ فَقَالَتْ حَلْقَى مَرَّ رَجُلٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهُ . فَقُلْتَ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ . وَمَرُّوا بِهَذِهِ الأَمَةِ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ زَنَيْتِ سَرَقْتِ . فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا . فَقُلْتَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا قَالَ إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ كَانَ جَبَّارًا فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ . وَإِنَّ هَذِهِ يَقُولُونَ لَهَا زَنَيْتِ . وَلَمْ تَزْنِ وَسَرَقْتِ وَلَمْ تَسْرِقْ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا .
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:None spoke in the cradle but only three (persons), Christ son of Mary, the second one the companion of Juraij. Juraij had got constructed a temple and confined himself in that. His mother came to him as he was busy in prayer and she said: Juraij. He said: My Lord, my mother (is calling me while I am engaged in) my prayer. He continued with the prayer. She returned and she came on the next day and he was busy in prayer, and she said: Juraij. And he said: My Lord, my mother (is calling me while I am engaged) in prayer, and he continued with the prayer and she went back, and then on the next day she again came and he was busy in prayer and she said: Juraij. And he said: My Lord, my mother (is calling me while I am engaged in my prayer, and he continued with the prayer, and she said: My Lord, don't give him death unless he has seen the fate of the prostitutes. The story of Juraij and that of his meditation and prayer gained currency amongst Bani Isra'il. There was a prostitute who had been a beauty incarnate. She said (to the people): If you like I can allure him to evil. She presented herself to him but he paid no heed (to her). She came to a shepherd who lived near the temple and she offered herself to him and he had a sexual intercourse with her and so she became pregnant arid when she gave birth to a child she said: This is from Juraij. So they came and asked him to get down and demolished the temple and began to beat him. He said: What is the matter? They said: You have committed fornication with this prostitute and she has given birth to a child from your loins. He said: Where is the child? They brought him (the child) and he said: just leave me so that I should observe prayer. And he observed prayer and when he finished, he came to the child. He struck his stomach and said: O boy, who is your father? lie said: He is such shepherd. So they turned towards Juraij, kissed him and touched him (for seeking blessing) and said: We are prepared to construct your temple with gold. He said. No, just rebuild it with mud as it had been, and they did that. Then there was a babe who was sucking his mother that a person dressed in fine garment came riding upon a beast. His mother said: O Allah, make my child like this one. He (the babe) left sucking and began to see towards him, and said: O Allah, don't make me like him. He then returned to the chest and began to suck the milk of his mother. He (Abu Huraira) said: I perceived as if I am seeing Allah's Messenger (ﷺ) as he is explaining the scene of his sucking milk with his forefinger in his mouth and sucking that. He (Abu Huraira) further reported Allah's Apostle (may be peace upon him) as saying: There happened to pass by him a girl who was being beaten and they were saying: You have committed adultery and you have committed theft and she was saying: Allah is enough for me and He is my good Protector, and his mother said: O Allah, don't make my child like her and he left sucking the milk, and looked towards her and said: O Allah, make me like her, and there was a talk between them. She said: O with shaven head, a good-looking person happened to pass by and I said: O Allah, make my child like him, and you said: O Allah, don't make me like him, and they passed by a girl while they were beating her and saying: You committed fornication and you committed theft, and I said: O Allah, don't make my child like her, and you said: O Allah, make me like her. Thereupon he said: That person was a tyrant, and I said: O Allah, don't make me like him, and they were saying about her: You committed fornication whereas in fact she had not committed that and they were saying: You have committed theft whereas she had not committed theft, so I said: O Allah, make me like her
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : "" صرف تین بچوں کے سوا پنگھوڑے میں کسی نے بات نہیں کی : حضرت عیسیٰ بن مریم اور جریج ( کی گواہی دینے ) والے نے ۔ جریج ایک عبادت گزار آدمی تھی ۔ انہوں نے نوکیلی چھت والی ایک عبادت گاہ بنا لی ۔ وہ اس کے اندر تھے کہ ان کی والدہ آئی اور وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔ تو اس نے پکار کر کہا : جریج! انہوں نے کہا : میرے رب! ( ایک طرف ) میری ماں ہے اور ( دوسری طرف ) میری نماز ہے ، پھر وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ ہو گئے اور وہ چلی گئی ۔ جب دوسرا دن ہوا تو وہ آئی ، وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔ اس نے بلایا : او جریج! تو جریج نے کہا : میرے پروردگار! میری ماں ہے اور میری نماز ہے ۔ انہوں نے نماز کی طرف توجہ کر لی ۔ وہ چلی گئی ، پھر جب اگلا دن ہوا تو وہ آئی اور آواز دی : جریج! انہوں نے کہا : میرے پروردگار! میری ماں ہے اور میری نماز ہے ، پھر وہ اپنی نماز میں لگ گئے ، تو اس نے کہا : اے اللہ! بدکار عورتوں کا منہ دیکھنے سے پہلے اسے موت نہ دینا ۔ بنی اسرائیل آپس میں جریج اور ان کی عبادت گزاری کا چرچا کرنے لگے ۔ وہاں ایک بدکار عورت تھی جس کے حسن کی مثال دی جاتی تھی ، وہ کہنے لگی : اگر تم چاہو تو میں تمہاری خاطر اسے فتنے میں ڈال سکتی ہوں ، کہا : تو اس عورت نے اپنے آپ کو اس کے سامنے پیش کیا ، لیکن وہ اس کی طرف متوجہ نہ ہوئے ۔ وہ ایک چرواہے کے پاس گئی جو ( دھوپ اور بارش مین ) ان کی عبادت گاہ کی پناہ لیا کرتا تھا ۔ اس عورت نے چرواہے کو اپنا آپ پیش کیا تو اس نے عورت کے ساتھ بدکاری کی اور اسے حمل ہو گیا ۔ جب اس نے بچے کو جنم دیا تو کہا : یہ جریج سے ہے ۔ لوگ ان کے پاس آئے ، انہیں ( عبادت گاہ سے ) نیچے آنے کا کہا ، ان کی عبادت گاہ ڈھا دی اور انہیں مارکا شروع کر دیا ۔ انہوں نے کہا : تم لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا : تم نے اس بدکار عورت سے زنا کیا ہے اور اس نے تمہارے بچے کو جنم دیا ہے ۔ انہوں نے کہا : بچہ کہاں ہے؟ وہ اسے لے آئے ۔ انہوں نے کہا : مجھے نماز پڑھ لینے دو ، پھر انہوں نے نماز پڑھی ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو بچے کے پاس آئے ، اس کے پیٹ میں انگلی چبھوئی اور کہا : بچے! تمہارا باپ کون ہے ۔ اس نے جواب دیا ۔ فلاں چرواہا ۔ آپ نے فرمایا : پھر وہ لوگ جریج کی طرف لپکے ، انہیں چومتے تھے اور برکت حاصل کرنے کے لیے ان کو ہاتھ لگاتے تھے اور انہوں نے کہا : ہم آپ کی عبادت گاہ سونے ( چاندی ) کی بنا دیتے ہیں ، انہوں نے کہا : نہیں ، اسے مٹی سے دوبارہ اسی طرح بنا دو جیسی وہ تھی تو انہوں نے ( ویسے ہی ) کیا ۔ اور ایک بچہ اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا ۔ وہاں سے ایک آدمی عمدہ سواری پر سوار خوبصورت لباس پہنے ہوئے گزرا تو اس بچے کی ماں نے کہا : اے اللہ! میرے بیٹے کو ایسا بنا دے ۔ بچے نے پستان ( دودھ ) چھوڑا ، اس آدمی کی طرف رخ کیا ، اسے دیکھا اور کہا؛ اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا ، پھر اپنے پستان ( دودھ ) کا رخ کیا اور دودھ پینے میں لگ گیا ۔ "" ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : جیسے میں ( اب بھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہادت کی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر اس کو چوستے ہوئے اس بچے کا دودھ پینا بیان کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : "" پھر لوگ ایک لونڈی کو لے کر گزرے ۔ وہ اسے مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے : تو نے زنا کیا ، تو نے چوری کی اور وہ کہہ رہی تھی : مجھے اللہ کافی ہے ، وہی بہترین کارساز ہے ۔ اس بچے کی ماں کہنے لگی : اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ بنانا ۔ بچے نے دودھ چھوڑا ، اس باندی کی طرف دیکھا اور کہا : اے اللہ! مجھے اسی جیسا بنانا ۔ یہاں آ کر ان دونوں ( ماں بیٹے ) نے ایک دوسرے سے سوال جواب کیا ۔ وہ کہنے لگی : میرا سر منڈے! بہت اچھی ہئیت کا ایک آدمی گزرا ، میں نے کہا : اے اللہ! میرے بیٹے کو اس جیسا بنانا تو تم نے کہا : اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا ۔ پھر لوگ اس کنیز کو لے کر گزرے ، اسے مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے : تو نے زنا کیا ہے ، تو نے چوری کی ہے ۔ میں نے کہا : اے اللہ! میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنانا تو تم نے یہ کہہ دیا : اے اللہ! مجھے اس جیسا بنانا ۔ اس ( بچے ) نے کہا : وہ شخص دوسروں پر ظلم ڈھانے والا جابر تھا ، اس لیے میں نے کہا : اے اللہ! مجھے اس کی طرح نہ بنانا ۔ اور یہ عورت جسے لوگ کہہ رہے تھے : تو نے زنا کیا ، حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا تھا اور تو نے چوری کی حالانکہ اس نے چوری نہیں کی تھی ، اس لیے میں نے کہا : اے اللہ! مجھے اس کی طرح ( پاکباز ) بنانا ۔ "" فائدہ : حقیقی اور دائمی عزت والا وہی ہے جو اپنے پروردگار کی نافرمانی سے بچا ہوا ہے ، چاہے لوگ اسے حقیر اور گناہ گار سمجھتے ہوں اور حقیقت میں دائمی طور پر رذیل وہی ہے جو اللہ کا نافرمان ہے ، چاہے عارضی زندگی میں لوگ اسے معزز سمجھتے ہوں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ فَنَكَّسَ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ ثُمَّ قَالَ " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلاَّ وَقَدْ كَتَبَ اللَّهُ مَكَانَهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَإِلاَّ وَقَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً " . قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ نَمْكُثُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ فَقَالَ " مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ " . فَقَالَ " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ " . ثُمَّ قَرَأَ { فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى * وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى * فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى * وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى * وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى * فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى}
Ali reported:We were in a funeral in the graveyard of Gharqad when Allah's Messenger (ﷺ) came to us and we sat around him. He had a stick with him. He lowered his head and began to scratch the earth with his stick, and then said: There is not one amongst you whom a seat in Paradise or Hell has not been allotted and about whom it has not been written down whether he would be an evil person or a blessed person. A person said: Allah's Messenger, should we not then depend upon our destiny and abandon our deeds? Thereupon he said: Acts of everyone will be facilitated in that which has been created for him so that whoever belongs to the company of the blessed will have good works made easier for him and whoever belongs to the unfortunate ones will have evil acts made easier for him. He then recited this verse (from the Qur'an): "Then, who gives to the needy and guards against evil and accepts the excellent (the truth of Islam and the path of righteousness it prescribes), We shall make easy for him the easy end and who is miserly and considers himself above need, We shall make easy for him the difficult end" (xcii)
جریر نے ہمیں منصور سے حدیث بیان کی ۔ انہون نے سعید بن عبیدہ سے ، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم ایک جنازے کے ساتھ بقیع غرقد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے ، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے ۔ آپ نے اپنا سر مبارک جھکا لیا اور اپنی چھڑی سے زمین کریدنے لگے ( جس طرح کہ فکر مندی کے عالم میں ہوں ۔ ) پھر فرمایا : " تم میں سے کوئی ایک بھی نہیں ، کوئی سانس لینے والا جاندار شخص نہیں ، مگر اللہ تعالیٰ نے ( اپنے ازلی ابدی حتمی علم کے مطابق ) جنت یا جہنم میں اس کا ٹھکانا لکھ دیا ہے اور ( کوئی نہیں ) مگر ( یہ بھی ) لکھ دیا گیا ہے کہ وہ بدبخت ہے یا خوش بخت ۔ " کہا : تو کسی آدمی نے کہا : اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے لکھے پر ہی نہ رہ جائیں اور عمل چھوڑ دیں؟ تو آپ نے فرمایا : " جو خوش بختوں میں سے ہو گا تو وہ خوش بختوں کے عمل کی طرف چل پڑے گا ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " عمل کرو ، ہر ایک کا راستہ آسان کر دیا گیا ہے ۔ جو خوش بخت ہیں ان کے لیے خوش بختوں کے اعمال کا راستہ آسان کر دیا جاتا ہے اور جو بدبخت ہیں ان کے لیے بدبختوں کے عملوں کا راستہ آسان کر دیا جاتا ہے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کیا : " پس وہ شخص جس نے ( اللہ کی راہ میں ) دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کر دی تو ہم اسے آسانی کی زندگی ( تک پہنچنے ) کے لیے سہولت عطا کریں گے اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پروائی اختیار کی اور اچھی بات کی تکذیب کی تو ہم اسے مشکل زندگی ( تک جانے ) کے لیے سہولت دیں گے ۔
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of 'Ata' b. Yasir through another chain of transmitters
محمد بن یحییٰ نے کہا : ہمیں ابن ابی مریم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوغسان نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے حدیث بیان کی ، پھر اسی طرح حدیث سنائی ( جس طرح حفص بن میسرہ کی روایت ہے ۔)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ . لِيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ فَإِنَّ اللَّهَ صَانِعٌ مَا شَاءَ لاَ مُكْرِهَ لَهُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None of you should say to Allah (like this): O Allah, grant me mercy, if thou so likest. The supplication (of his) should (be permeated with) conviction (that it would be accepted by the Lord), for Allah is the Doer of (everything) He likes to do, and there is none to force Him (to do or not to do this or that)
عطاء بن میناء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے : اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما ۔ وہ دعا میں پختگی اور قطعیت سے کام لے کیونکہ اللہ جو چاہے وہی کرتا ہے ، کوئی نہیں جو اسے مجبور کر سکے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُدْنِي إِلَىَّ رَأْسَهُ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي فَأُرَجِّلُ رَأْسَهُ وَأَنَا حَائِضٌ .
Urwa reported it from 'A'isha that she observed:The Messenger of Allah (ﷺ) inclined his head towards me (from the mosque) while I was in my apartment and I combed it in a state of menstruation
ہشام نے کہا : عروہ بن ہمیں حضرت عائشہ ؓ سے خبر دی کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ( اعتکاف کی حالت میں ) اپنا سر میرے قریب کر دیتے جبکہ میں اپنے حجرے میں ہوتی اور میں حیض کی حالت میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیتی تھی ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً هِيَ أَضَرُّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ " .
Usama b. Zaid reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I have not left after me any (chance) of turmoil more injurious to men than the harm done to the men because of women
سعید بن منصور نے کہا : ہمیں سفیان اور معتمر بن سلیمان نے سلیمان تیمی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اپنے بعد کوئی آزمائش نہیں چھوڑی جو مردوں کے لیے عورتوں ( کی آزمائش ) سے بڑھ کر نقصان پہنچانے والی ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، - وَهُوَ عَمُّهُ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلاَةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَأَيِسَ مِنْهَا فَأَتَى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ . أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ " .
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Allah is more pleased with the repentance of a servant as he turns towards Him for repentance than this that one amongst you is upon the camel in a waterless desert and there is upon (that camel) his provision of food and drink also and it is lost by him, and he having lost all hope (to get tbat) lies down in the shadow and is disappointed about his camel and there he finds that camel standing before him. He takes hold of his nosestring and then out of boundless joy says: 0 Lord, Thou art my servant and I am Thine Lord. He commits this mistake out of extreme delight
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور وہ ( حضرت انس رضی اللہ عنہ ) ان کے چچا ہیں ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر ، جب وہ ( بندہ ) اس کی طرف توبہ کرتا ہے ، تم میں سے کسی ایسے شخص کی نسبت کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں اپنی سواری پر ( سفر کر رہا ) تھا تو وہ اس کے ہاتھ سے نکل ( کر گم ہو ) گئی ، اس کا کھانا اور پانی اسی ( سواری ) پر ہے ۔ وہ اس ( کے ملنے ) سے مایوس ہو گیا تو ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سائے میں لیٹ گیا ۔ وہ اپنی سواری ( ملنے ) سے ناامید ہو چکا تھا ۔ وہ اسی عالم میں ہے کہ اچانک وہ ( آدمی ) اس کے پاس ہے ، وہ ( اونٹنی ) اس کے پاس کھڑی ہے ، اس نے اس کو نکیل کی رسی سے پکڑ لیا ، پھر بے پناہ خوشی کی شدت میں کہہ بیٹھا ، اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں ۔ خوشی کی شدت کی وجہ سے غلطی کر گیا ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
یحییٰ بن سعید اور غندر دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ " يَأْخُذُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ " . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ .
Abdullah b. Miqsam reported that 'Abdullah b. 'Umar reported:I saw Allah'h Messenger (ﷺ) upon the pulpit and he was saying that the Mighty Lord, the Exalted and Glorious would take hold of the Heavens and earth in His hand. The rest of the hadith is the same
عبدالعزیز بن ابی حازم نے کہا : مجھے میرے والد نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : " ( اللہ ) جبارعزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لے گا ۔ " پھر یعقوب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَبِي، حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا " . قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ، فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا " .
Sahl b. Sa'd reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:In Paradise, there is a tree under the shadow of which a rider can travel for a hundred years without covering (the distance) completely. This hadith has also been transmitted on the authority of Abu Sa'id al-Khudri that Allah's Apostle (ﷺ) is reported to have said: In Paradise, there is a tree under the shadow of which a rider of a fine and swift-footed horse would travel for a hundred years without covering the distance completely. There would be the pleasure of Allah for the inmates of Paradise and He would never be annoyed with them
ابوحازم نے حضر ت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ر وایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جنت میں ایک درخت ہے ، ایک سوار اس کے سائے میں سوسال تک چلتا رہے تو بھی اس کو طے نہ کرسکے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ، عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَامِرِيِّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَيَعُوذُ بِهَذَا الْبَيْتِ - يَعْنِي الْكَعْبَةَ - قَوْمٌ لَيْسَتْ لَهُمْ مَنَعَةٌ وَلاَ عَدَدٌ وَلاَ عُدَّةٌ يُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ " . قَالَ يُوسُفُ وَأَهْلُ الشَّأْمِ يَوْمَئِذٍ يَسِيرُونَ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ أَمَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِهَذَا الْجَيْشِ . قَالَ زَيْدٌ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَامِرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنِ الْحَارِثِ، بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، . بِمِثْلِ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْجَيْشَ الَّذِي ذَكَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ .
Abdullah b. Safwan reported the Mother of the Faithful as saying that Allah's Messenger (ﷺ) said:They would soon seek protection in this House, viz. Ka'ba (the defenceless), people who would have nothing to protect themselves in the shape of weapons or the strength of the people. An army would be sent to fight (and kill) them and when they would enter a plain ground the army would be sunk in it. Yusuf (one of the narrators) said: It was a people of Syria (hordes of Hajjaj) who had been on that day coming towards Mecca for an attack (on 'Abdulllah b. Zubair) and Abdullah b. Safwan said: By God, it does not imply this army
عبیداللہ بن عمرو نے کہا : ہمی زید بن ابی اُنیسہ نے عبدالملک عامری سے خبر دی ، انھوں نے یوسف بن مالک سے روایت کی ، کہا : مجھے عبداللہ بن صفوان نے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک قوم اس گھر ۔ ۔ ۔ یعنی کعبہ ۔ ۔ ۔ میں پناہ لے گی ، ا ن کے پاس نہ اپنا دفاع کرنے کےلیے کوئی ذریعہ ہوگا ، نہ عدوی قوت ہوگی اور نہ سامان جنگ ہی ہوگا ، ان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا ۔ یہاں تک کہ جب وہ ( لشکر کے ) لوگ زمین کے ایک چٹیل حصے میں ہوں گے تو ان کو ( زمین میں ) دھنسا دیا جائےگا ۔ "" یوسف ( بن مابک ) نے کہا : ان دونوں اہل شام مکہ کی طرف بڑھے آرہے تھے ، تو عبداللہ بن صفوان نے کہا : دیکھو ، اللہ کی قسم!یہ وہ لشکر نہیں ہے ۔ زید ( بن ابی انیسہ ) نے کہا : اور مجھے عبدالملک عامری نے عبدالرحمان بن سابط سے ، انھوں نے حارث بن ابی ربیعہ سے ، انھوں نے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، یوسف بن مابک کی حدیث کے مانند روایت کی ، مگر انھوں نے اس میں اس لشکر کی بات نہیں کی جس کا عبداللہ بن صفوان نے ذکر کیا ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيَّ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلاَءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَسَمِعَتِ الأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَوَافَوْا صَلاَةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ رَآهُمْ ثُمَّ قَالَ " أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَىْءٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ " . فَقَالُوا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " " فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ . وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ " .
Amr b. `Auf, who was an ally of Banu `Amir b. Luwayy (and he was one amongst them) who participated in Badr along with Allah's Messenger (ﷺ) reported that, Allah's Messenger (ﷺ) sent Abu `Ubaida b. Al-Jarrah to Bahrain for collecting Jizya and Allah's Messenger (ﷺ) had made a truce with the people of Bahrain and had appointed `Ala' b. Hadrami and Abu `Ubaida (for this purpose). They came with wealth from Bahrain and the Ansar heard about the arrival of Abu `Ubaida and they had observed the dawn prayer along with Allah's Messenger (ﷺ). When Allah's Messenger (ﷺ) had finished the prayer, they (the Ansar) came before him and Allah's Messenger (ﷺ) smiled as he saw them and then said:I think you have heard about the arrival of Abu `Ubaida with goods from Bahrain. They said: Allah's Messenger, yes, it is so. Thereupon he said: Be happy and be hopeful of that which gives you delight. By Allah, it is not the poverty about which I fear in regard to you but I am afraid in your case that (the worldly) riches way be given to you as were given to those who had gone before you and you begin to vie with one another for them as they vied for them, and these may destroy you as these destroyed them
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ عمرو بن عوف جو بنی عامر کے حلیف تھے ، انھوں نے جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی تھی ، انھیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحرین بھیجا تاکہ وہاں کا جذیہ لے آئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود اہل بحرین سے صلح کی تھی اور علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان پر امیر مقرر کیا تھا ، حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بحرین سے مال لے آئے ، انصار نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آنے کی خبر سنی تو وہ سب صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کرلی ، واپس ہوئے تو وہ ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےسامنے ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انھیں دیکھا تو مسکرادیئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرا خیال ہے کہ تم لوگوں نے سن لیا ہے کہ ابو عبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے ہیں؟انھوں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے بجا فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " خوش ہوجاؤ اور اس کی اُمید رکھو جس سے تمھیں خوشی ہوگی ۔ اللہ کی قسم! مجھےتم پرفقر کا خوف نہیں ( کہ تمھیں اس سے نقصان پہنچےگا ) لیکن مجھے تم پر اس بات کا خوف ہے کہ دنیا اسی طرح تم پر کشادہ کردی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کردی گئی تھی ۔ پھر تم اس میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرو گے جس طرح ان لوگوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا اور یہ تمھیں بھی تباہ کردےگی جس طرح اس نے ان کو تباہ کردیا تھا ۔ " ؎
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قَوْلِهِ { وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللاَّتِي لاَ تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ} قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي الْيَتِيمَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَتَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ فَيَعْضِلُهَا فَلاَ يَتَزَوَّجُهَا وَلاَ يُزَوِّجُهَا غَيْرَهُ .
A'isha said in connection with His words (those of Allah):" What is recited to you in the Book about orphan women whom you give not what is ordained for them, while you like to marry them," these were revealed in connection with an orphan girl who was in the charge of the person and she shared with him in his property and he was reluctant to marry her himself and was also unwilling to marry her to someone else (fearing) that (that person) would share in his property (as the husband of that girl), preventing her to marry, neither marrying her himself nor marrying her to another person
عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان : " جو کتاب میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں تلاوت کی جاتی ہے جن کو تم دو ( مہر ) نہیں دیتے جوان کے حق میں فرض ہے اوران کے نکاح سے رغبت کرتے ہو ۔ کے بارے میں روایت بیان کی ۔ ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : یہ ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی آدمی کے پاس ہوتی ، اس کے مال میں اس کے ساتھ شریک ہوتی اور وہ اس سے ( شادی کرنے سے ) کنارہ کشی کرتا ہے اور اس بات کو بھی ناپسند کرتا ہے کہ کسی اور کے ساتھ اس کی شادی کرے اور اس ( شخص ) کو اپنے مال میں شریک کرے تو وہ اسے ویسے ہی بٹھا ئے رکھتا ہے نہ خود اس سے شادی کرتاہے اورنہ کسی اور سے اس کی شادی کرتا ہے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ يُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ أَعْمَى .
A'isha reported:Ibn Umm Maktum used to pronounce Adhan at the behest of the Messenger of Allah (ﷺ) (despite the fact) that he was blind
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ابن ام مکتوم رسول اللہﷺ کے لیے اذان دیا کرتے تھے ، حالانکہ وہ نابینا تھے ۔