بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
27 hadith
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلاَ يُؤْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who eats of this plant (garlic) should not approach our mosque and should not harm us with the odour of garlic
ابو زبیر نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے پیاز اور گندنا کھا نے سے منع فرمایا ۔ سو ( ایک مرتبہ ) ہم ضرورت سے مجبور ہو گئے اور انھیں کھا لیا تو آپ نے فرمایا : ’’جس نے اس بدبودار سبزی میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ، فرشتے بھی یقیناً اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ، ح وَحَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالاَ جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، وَعَنْ عَمِّهِ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلاَّ نَهَارًا فِي الضُّحَى فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ ‏.‏
Ka'b b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) did not come back from the journey but by day in the forenoon, and when he arrived, he went first to the mosque, and having prayed two rak'ahs in it he sat down in it
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں چاشت کے وقت کے سوا ( کسی اور وقت ) سفر سے واپس تشریف نہ لاتے ، پھر جب تشریف لاتے تو مسجد جاتے ، اس میں دو رکعتیں ادا کرتے ، پھر ( کچھ دیر ) وہیں تشریف رکھتے ( تاکہ گھر والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم ہوجائے ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah observed:There have come the people of Yemen; they are tender of hearts, the belief is that of the Yemenites, the understanding (of the faith) is that of the Yemenites and sagacity is that of the Yemenites
ایوب نے کہا : ہمیں محمد ( ابن سیرین ) نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اہل یمن آئے ہیں ۔ یہ لوگ بہت زیادہ نرم دل ہیں ۔ ایمان یمنی ہے ، فقہ یمنی ہے اور دانائی ( بھی ) یمنی ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ ذَلِكَ ‏.‏
Nafi' reported that when 'Abdullah (b. 'Umar) observed the Friday prayer and came back he observed two rak'ahs in his house, and then said:The Messenger of Allah (may peace be updn him) used to do this
لیث نے نافع سے اورانھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جب وہ جمعہ پڑھ لیتے تو واپس جاتے اور اپنے گھر میں دو ر رکعتیں پڑھتے ۔ پھر انھوں ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ، إِدْرِيسَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ‏.‏ قَالَ الشَّيْبَانِيُّ فَقُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا قَالَ الثِّقَةُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ‏.‏ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَسَنٍ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ انْتَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَبْرٍ رَطْبٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفُّوا خَلْفَهُ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا ‏.‏ قُلْتُ لِعَامِرٍ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ الثِّقَةُ مَنْ شَهِدَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏.‏
Sha'bi reported that the Messenger of Allah (ﷺ) observed prayer over a grave after the dead was buried and he recited four takbirs over him. Shaibani said:I said to Sha'bi: Who narrated it to you? He said: An authentic one, 'Abdullah b. 'Abbas. This is the word of a hasan hadith. In the narration of Ibn Numair (the words are): The Messenger of Allah (ﷺ) went to the grave which had been newly prepared and prayed over it, and they also prayed who were behind him and he recited four takbirs. I said to 'Amir: Who narrated it to you? He said: An authentic one who saw him, i e. Ibn 'Abbas
حسن بن ربیع اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے شیبانی سے حدیث سنائی ، انھوں نے شعبی سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے دفن کیے جانے کے بعد ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۔ شیبانی نے کہا : میں نے شعبی سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ حدیث کس نے بیان کی؟انھوں نے کہا : ایک قابل اعتماد ہستی ، عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۔ یہ حسن کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابن نمیر کی روایت میں ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گیلی ( نئی ) قبر کے پاس تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز ( جنازہ ) پڑھی اور انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں ۔ میں نے عامر ( بن شراحیل شعبی ) سے پوچھا : آپ کو ( یہ حدیث ) کس نے بیان کی؟انھوں نے کہا : ایک قابل اعتماد ہستی جو اس جنازے میں شریک تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي قَالاَ، جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدْرَ النَّهَارِ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُعَاذٍ مِنَ الزِّيَادَةِ قَالَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ خَطَبَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Mandhir through another chain of transmitters. And the hadith transmitted by Ibn Mu'adh contains an addition:" He then observed the noon prayer and then gave the sermon
ابو اسامہ اور معاذ عنبری دو نوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیا ن کی ، ا نھوں نے کہا مجھے عون بن ابی جحیفہ نے حدیث بیا ن کی انھوں نے کہا : میں منذر بن جریر سے سنا انھوں نے اپنے والد سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم دن کے ابتدا ئی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( حا ضر ) تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ابن جعفر کی حدیث کی طرح ہے ۔ اور ابن معاذ کی حدیث میں اضافہ ہے ، کہا : پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا فرمائی ، پھر خطبہ دیا ۔)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to kiss her during the month of fasting
یحییٰ ابن یحییٰ ، قتیبہ بن سعید ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابوااحوص ، زیادہ بن علاقہ ، عمرو بن میمون ، سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزوں کے مہینے میں اپنی کسی زوجہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ‏}‏ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ ادْنُهْ ‏"‏ ‏.‏ فَدَنَوْتُ فَقَالَ ‏"‏ ادْنُهْ ‏"‏ ‏.‏ فَدَنَوْتُ ‏.‏ فَقَالَ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَظُنُّهُ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَأَمَرَنِي بِفِدْيَةٍ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ ‏.‏
Kalb b. Ujra (Allah be pleased with him) reported:It was I for whom this verse was revealed (to the Holy Prophet):" Whoever among you is sick or has an ail- ment of the head, he (may effect) a compensation by lasting or alms or a sacrifice" He said: I came to him (the Holy Prophet) and he said: Come Dear. So I went near. He (again) said: Come near. So I went near. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: Do the vermins trouble you? Ibn Aun (one of the narrators) said: I think he (Ka'b b. Ujra) replied in the affirmative. He (the Holy Prophet) then commanded to do compensation by fasting or by giving sadaqa (feeding six needy persons) or by sacrifice (of a animal) that is available
ابن عون نے مجا ہد سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : یہ آیت میرے بارے میں نا زل ہوئی : پھر اگر تم میں سے کو ئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو ( اور وہ سر منڈوالے ) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے ۔ کہا میں آپ کی خدمت میں حا ضر ہوا آپ نے فر ما یا : "" ذرا قریب آؤ ۔ میں آپ کے ( کچھ ) قیریب ہو گیا آپ نے فر ما یا : "" اور قریب آؤ ۔ تو میں آپ کے اور قریب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا : کیا تمھا ری جو ئیں تمھیں ایذا دیتی ہیں ؟ ابن عون نے کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں ( کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا جی ہاں ( کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو آپ نے مجھے حکم دیا کے روزے صدقے یا قر بانی میں سے جو آسان ہو بطور فدیہ دوں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، السَّاعِدِيِّ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي ‏.‏ فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْظُرْ وَلَوْ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ ‏.‏ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ ‏.‏ وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي - قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَاءٌ - فَلَهَا نِصْفُهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ ‏"‏ مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا - عَدَّدَهَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ وَحَدِيثُ يَعْقُوبَ يُقَارِبُهُ فِي اللَّفْظِ ‏.‏
Sahl b. Sa'd al-Sa'idi (Allah be pleased with him) reported:A woman came to Allah's Messenger. (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I have come to you to entrust myself to you (you may contract my marriage with anyone at your discretion). Allah's Messenger (ﷺ) saw her and cast a glance at her from head to foot. Allah's Messenger (ﷺ) then lowered his head. When the woman saw that he had made no decision in regard to her, she sat down. There stood up a person from amongst his companions and said: Messenger of Allah, marry her to me if you have no need of her. He (the Prophet) said: is there anything with you (which you con give as a dower)? He said: No, Messenger of Allah, by Allah I have nothing. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Go to your people (family) and see if you can find something. He returned and said: I have found nothing. The Messenger of Allah (ﷺ) said: See even if it is an iron ring. He went and returned and said: No, by Allah, not even an iron ring, but only this lower garment of mine (Sahl said that he had no upper garment), half of which (I am prepared to part with) for her. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: How can your lower garment serve your purpose, for it you wear it, she would not be able to make any use of it and if she wears it there would not be anything on you? The man sat down and as the sitting prolonged he stood up (in disappointment) and as he was going back Allah's Messenger (ﷺ) commanded (him) to be called back, and as he came, he said to him: Do you know any part of the Qur'an? He said: I know such and such surahs (and he counted them), whereupon he (ﷺ) said: Can you recite them from heart (from your memory)? He said: Yes, whereupon he (Allah's Messenger) said: Go, I have given her to you in marriage for the part of the Qur'an which you know
یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری اور عبدالعزیز بن ابی حازم نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنی ذات آپ کو ہبہ کرنے کے لیے حاضر ہوئی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر کی ، آپ اپنی نظر نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے تک لے گئے ۔ پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک جھکا لیا ۔ جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی ۔ اس پر آپ کے صحابہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اگر آپ کو اس ( کے ساتھ شادی ) کی ضرورت نہیں تو اس کی شادی میرے ساتھ کر دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا تمہارے پاس ( حق مہر میں دینے کے لیے ) کوئی چیز ہے؟ " اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم! اللہ کے رسول! ( کچھ ) نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ ، دیکھو تمہیں کچھ ملتا ہے؟ " وہ گیا پھر واپس آیا اور عرض کی : نہیں ، اللہ کی قسم! مجھے کچھ نہیں ملا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دیکھو! چاہے لوہے کی انگوٹھی ہو ۔ " وہ گیا پھر واپس آیا ، اور عرض کی ، نہیں ، اللہ کی قسم! اللہ کے رسول! لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ہے ، البتہ میری یہ تہبند ہے ۔ سہل نے کہا : اس کے پاس ( کندھے کی ) چادر بھی نہیں تھی ۔ اس میں سے آدھی ( بطور مہر ) اِس کے لیے ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ تمہارے تہبند کا کیا کرے گی ، اگر تم اسے پہنو گے تو اس ( کے جسم ) پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا اور اگر وہ پہنے گی تو تم پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا ۔ " اس پر وہ آدمی بیٹھ گیا ۔ اسے بیٹھے ہوئے لمبا وقت ہو گیا تو وہ کھڑا ہو گیا ( اور چل دیا ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھ لیا ۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بلا لیا گیا ، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے پاس قرآن کتنا ہے؟ " ( تمہیں کتنا قرآن یاد ہے؟ ) اس نے عرض کی : میرے پاس فلاں سورت اور فلاں سورت ہے ۔ اس نے وہ سورتیں شمار کیں ۔ تو آپ نے پوچھا : " تم انہیں زبانی پڑھتے ہو؟ " اس نے عرض کی ، جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جاؤ ، تمہیں جتنا قرآن یاد ہے اس کے عوض ( نکاح کے لیے ) تمہیں اس کا مالک ( خاوند ) بنا دیا گیا ہے ۔ " یہ ابن ابوحازم کی حدیث ہے ، یعقوب کی حدیث بھی الفاظ میں اسی کے قریب ہے
وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ، سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
A hadith like this has been narrated on the authority of Sahl b. Abu Hathma
سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بشیر بن یسار سے ، انہوں نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ انہی ( سلیمان ، لیث اور ثقفی ) کی حدیث کے ہم معنی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَةَ، بَاعَ خَمْرًا فَقَالَ قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا ‏"‏ ‏.‏
Ibn Abbas (Allah be pleased with him) reported:This news reached 'Umar that Samura had sold wine, whereupon he said: May Allah destroy Samura; does he not know that Allah's Messenger (ﷺ) said:" Let there be the curse of Allah upon the Jews that fat was declared forbidden for them, but they melted it and then sold it"?
سفیان بن عیینہ نے ہمیں عمرو سے حدیث بیان کی ، انہوں نے طاوس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب فروخت کی ہے تو انہوں نے کہا : اللہ سمرہ کو ہلاک کرے! کیا وہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ یہود پر لعنت کرے! ( کہ ) ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پھگلایا اور فروخت کیا " ؟
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ، حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ، أَخْبَرَهُ مِنْ، فِيهِ إِلَى فِيهِ قَالَ انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّأْمِ إِذْ جِيءَ بِكِتَابٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى هِرَقْلَ يَعْنِي عَظِيمَ الرُّومِ - قَالَ - وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ جَاءَ بِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِلَى هِرَقْلَ فَقَالَ هِرَقْلُ هَلْ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ قَالُوا نَعَمْ - قَالَ - فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَقُلْتُ أَنَا ‏.‏ فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ لَهُ قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَايْمُ اللَّهِ لَوْلاَ مَخَافَةَ أَنْ يُؤْثَرَ عَلَىَّ الْكَذِبُ لَكَذَبْتُ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ سَلْهُ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ قَالَ قُلْتُ هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ قَالَ فَهَلْ كَانَ مِن�� آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ وَمَنْ يَتَّبِعُهُ أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ قُلْتُ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ ‏.‏ قَالَ أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ قَالَ قُلْتُ لاَ بَلْ يَزِيدُونَ ‏.‏ قَالَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ قَالَ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ قَالَ قُلْتُ تَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالاً يُصِيبُ مِنَّا وَنُصِيبُ مِنْهُ ‏.‏ قَالَ فَهَلْ يَغْدِرُ قُلْتُ لاَ ‏.‏ وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لاَ نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا ‏.‏ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ ‏.‏ قَالَ فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قَالَ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ قُلْ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا ‏.‏ وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ ‏.‏ فَقُلْتُ لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ ‏.‏ وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشْرَافُهُمْ فَقُلْتَ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ ‏.‏ وَسَأَلْتُكَ هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ ‏.‏ فَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ ‏.‏ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَهُ سَخْطَةً لَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ ‏.‏ وَكَذَلِكَ الإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ ‏.‏ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَوْ يَنْقُصُونَ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَلِكَ الإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ ‏.‏ وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ فَزَعَمْتَ أَنَّكُمْ قَدْ قَاتَلْتُمُوهُ فَتَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالاً يَنَالُ مِنْكُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ ‏.‏ وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لاَ يَغْدِرُ ‏.‏ وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لاَ تَغْدِرُ ‏.‏ وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ ‏.‏ فَقُلْتُ لَوْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَالَ بِمَ يَأْمُرُ كُمْ قُلْتُ يَأْمُرُنَا بِالصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ قَالَ إِنْ يَكُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا فَإِنَّهُ نَبِيٌّ وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ وَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّهُ مِنْكُمْ وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَىَّ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ ‏"‏ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلاَمٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِسْلاَمِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ وَ ‏{‏ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لاَ نَعْبُدَ إِلاَّ اللَّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ‏}‏ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ ارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ عِنْدَهُ وَكَثُرَ اللَّغْطُ وَأَمَرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ لأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الأَصْفَرِ - قَالَ - فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَىَّ الإِسْلاَمَ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Ibn Abbas who learnt the tradition personally from Abu Safyan. The latter said:I went out (on a mercantile venture) during the period (of truce) between me and the Messenger of Allah (ﷺ). While I was in Syria, the letter of the Messenger of Allah (ﷺ) was handed over to Hiraql (Ceasar), the Emperor of Rome (who was on a visit to Jerusalem at that time). The letter was brought by Dihya Kalbi who delivered it to the governor of Busra The governor passed it on to Hiraql, (On receiving the letter), he said: Is there anyone from the people of this man who thinks that he is a prophet. People said: Yes. So, I was called along with a few others from the Quraish. We were admitted to Hiraql and he seated usbefore him. He asked: Which of you has closer kinship with the man who thinks that he is a prophet? Abu Sufyan said: I. So they seated me in front of him and stated my companions behind me. Then, he called his interpreter and said to him: Tell them that I am going to ask this fellow (i. e. Abu Sufyan) about the man who thinks that he is a prophet. It he tells me a lie, then refute him. Abu Sufyan told (the narrator): By God, if there was not the fear that falsehood would be imputed to me I would have lied. (Then) Hiraqi said to his interpreter: Inquire from him about his ancestry, I said: He is of good ancestry among us. He asked: Has there been a king among his ancestors? I said: No. He asked: Did you accuse him of falsehood before he proclaimed his prophethood? I said: No. He asked: Who are his follower people of high status or low status? I said: (They are) of low status. He asked: Are they increasing in number or decreasing? I said. No. they are rather increasing. He asked: Does anyone give up his religion, being dissatisfied with it, after having embraced it? I said: No. He asked: Have you been at war with him? I said: Yes. He asked: How did you fare in that war? I said: The war between us and him has been wavering like a bucket, up at one turn and down at the other (i. e. the victory has been shared between us and him by turns). Sometimes he suffered loss at our hands and sometimes we suffered loss at his (hand). He asked: Has he (ever) violated his covenant? I said: No. but we have recently concluded a peace treaty with him for a petiod and we do not know what he is going to do about it. (Abu Sufyin said on oath that he could not interpolate in this dialogue anything from himself more than these words ) He asked: Did anyone make the proclamation (Of prophethood) before him? I said: No. He (now) said to his interpreter: Tell him, I asked him about his ancestry and he had replied that he had the best ancestry. This is the case with Prophets; they are the descendants of the noblest among their people (Addressing Abu Sufyan), he continued: I asked you if there had been a king among his ancestors. You said that there had been none. If there had been a king among his ancestors, I would have said that he was a man demanding his ancestral kingdom. I asked you about his followers whether they were people of high or low status, and you said that they were of rather low status. Such are the followers of the Prophets. I asked you whether you used to accuse him of falsehood before he proclaimed his prophethood, and you said that you did not. So I have understood that when he did not allow himself to tell a lie about the poeple, he would never go to the length of forging a falsehood about Allah. I asked you whether anyone renounced his religion being dissatisfied with it after he had embraced it, and you replied in the negative. Faith is like this when it enters the depth of the heart (it perpetuates them). I asked you whether his followers were increasing or decreasing. You said they were increasing. Faith is like this until it reaches its consummation. I asked you whether you had been at war with him, and you replied that you had been and that the victory between you and him had been shared by turns, sometimes he suffering loss at your hand and sometimes you suffering lost at his. This is how the Prophets are tried before the final victory its theirs. I asked you whether he (ever) violated his covenant, and you said that he did not. This is how the Prophets behave. They never violate (their covenants). I asked you whether anyone before him had proclaimed the same thing, and you replied in the negative. I said: If anyone had made the same proclamation before, I would have thought that he was a man following what had been proclaimed before. (Then) he asked: What does he enjoin upon you? I said: He exhorts us to offer Salat, to pay Zakat, to show due regard to kinship and to practise chastity. He said: It what you have told about him is true, he is certainly a Prophet. I knew that he was to appear but I did not think that he would be from among you. If I knew that I would be able to reach him. I would love to meet him; and it I had been with him. I would have washed his feet (out of reverence). His dominion would certainly extend to this place which is under my feet. Then he called for the letter of the Messenger of Allah (may pface be upon him) and read it. The letter ran as follows:" In the name of Allah, Most Gracious and Most Merciful. From Muhammad, the Messenger of Allah, to Hiraql, the Emperor of the Romans. Peace be upon him who follows the guidance. After this, I extend to you the invitation to accept Islam. Embrace Islam and you will be safe. Accept Islam, God will give you double the reward. And if you turn away, upon you will be the sin of your subjects." O People of the Book, come to the word that is common between us that we should worship none other than Allah, should not ascribe any partner to Him and some of us should not take their fellows as Lords other than Allah. If they turn away, you should say that we testify to our being Muslims [iii. 64]." When he hid finished the reading of the letter, noise and confused clamour was raise around him, and he ordered us to leave. Accordingly, we left. (Addressing my companions) while we were coming out (of the place). I said: Ibn Abu Kabsha (referring sarcastically to the Holy Prophet) has come to wield a great power. Lo! (even) the king of the Romans is afraid of him. I continued to believe that the authority of the Messenger of Allah (ﷺ) would triumph until God imbued me with (the spirit of) Islam
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں روبرو بتایا ، کہا : ( معاہدہ صلح کی ) اس مدت کے دوران میں جو میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان تھی ، میں سفر پر گیا ۔ کہا : اس اثنا میں ، جب میں شام میں تھا ، ہر قل ، یعنی شامِ روم کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک خط لایا گیا ۔ کہا : اسے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ لے کر آئے اور حاکم بُصریٰ کے حوالے کیا ، بصریٰ کے حاکم نے وہ ہرقل تک پہنچا دیا تو ہرقل نے کہا : کیا اس شخص کی قوم میں سے ، جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے ، کوئی شخص یہاں موجود ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ کہا : تو قریش کے کچھ افراد سمیت مجھے بلایا گیا ، ہم ہرقل کے پاس آئے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا اور پوچھا : تم میں سے نسب میں اس آدمی کے سب سے زیادہ قریب کون ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابوسفیان نے کہا : میں نے جواب دیا : میں ہوں ۔ تو ان لوگوں نے مجھے ان کے سامنے بٹھا دیا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا ، پھر اس نے اپنے ترجمان کو بلایا اور اس سے کہا : ان سے کہہ دو : میں اس آدمی سے اس شخص کے بارے میں پوچھنے لگا ہوں جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے ، اگر یہ میرے سامنے جھوٹ بولے تو تم لوگ اس کی تکذیب کر دینا ۔ کہا : ابوسفیان نے کہا : اللہ کی قسم! اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ میری طرف جھوٹ کی نسبت کی جائے گی تو میں جھوٹ بولتا ۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا : اس سے پوچھو : تم میں اس کا حسب ( خاندان ) کیسا ہے؟ کہا : میں نے جواب دیا : وہ ہم میں حسب والا ہے ۔ اس نے پوچھا : کیا اس کے آباء و اجداد میں سے کوئی بادشاہ بھی تھا؟ میں نے جواب دیا : نہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا اس نے ( نبوت کے حوالے سے ) کو کہا ، اس کے کہنے سے پہلے تم اس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے تھے؟ میں نے جواب دیا : نہیں ۔ اس نے پوچھا : اس کے پیروکار کون لوگ ہیں؟ بڑے لوگ ہیں یا کمزور لوگ ہیں؟ میں نے جواب دیا : بلکہ کمزور لوگ ہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ کہا : میں نے جواب دیا : نہیں ، بلکہ وہ بڑھ رہے ہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا ان میں سے کوئی اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد اسے ناپسند کرتے ہوئے مرتد بھی ہوتا ہے؟ میں نے جواب دیا : نہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا تم نے اس سے جنگ بھی کی ہے؟ میں نے جواب دیا : ہاں ۔ اس نے پوچھا : تو تمہاری اس سے جنگ کیسی رہی؟ میں نے جواب دیا : ہمارے اور اس کے درمیان جنگ کنویں کے ڈول کی طرح ہے ، وہ ہمیں نقصان پہنچاتا ہے اور ہم اسے نقصان پہنچاتے ہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا وہ بدعہدی کرتا ہے؟ میں نے جواب دیا : نہیں ، ہم اس کی جانب سے ( کی گئی ) صلح کے زمانے میں ہیں ، ہمیں معلوم نہیں ، وہ اس میں کیا کرے گا ۔ کہا : اللہ کی قسم! اس ایک کلمے کے سوا اس میں کوئی اور بات ملانا میرے لیے ممکن نہ ہوا ۔ اس نے پوچھا : کیا اس سے پہلے کسی نے وہ بات کہی ہے؟ میں نے جواب دیا : نہیں ۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا : ان سے کہو : میں نے تم سے اس کے حسب کے بارے میں پوچھا تو تم نے کہا کہ وہ تم میں ( اونچے ) حسب والا ہے ۔ رسول اسی طرح ہوتے ہیں ، اپنی قوم کے اعلیٰ خاندانوں میں بھیجے جاتے ہیں ۔ اور میں نے پوچھا : کیا اس کے آباء و اجداد میں کوئی بادشاہ تھا؟ تو تم نے دعویٰ کیا : نہیں ، میں نے ( دل میں ) کہا : اگر اس کے آباء و اجداد میں کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہتا : وہ آدمی اپنے آباء کی بادشاہت حاصل کرنا چاہتا ہے اور میں نے تم سے اس کے پیروکاروں کے بارے میں پوچھا : وہ کمزور لوگ ہیں یا اشراف ہیں؟ تو تم نے کہا : بلکہ وہ کمزور لوگ ہیں ، رسولوں کے پیروکار وہی لوگ ہوتے ہیں ۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ جو وہ کہتا ہے اس سے پہلے تم اس پر جھوٹ کا الزام لگاتے تھے تو تم نے کہا : نہیں ، اس طرح میں جان گیا کہ یہ ممکن نہیں کہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ نہ بولے مگر اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی اس سے ناراض ہو کر اس کے دین سے نکلا ہے؟ تو تم نے کہا : نہیں ، ایمان جب دلوں میں رچ بس جاتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ تو تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں ، ایمان ایسا ہی ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ مکمل ہو جاتا ہے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا تم نے اس سے لڑائی کی؟ تو تم نے کہا کہ ( ہاں ) تم نے اس سے لڑائی کی ہے اور تمہارے اور اس کے درمیان جنگ ڈول کی طرح ہے ، وہ تم میں سے لوگوں کو قتل کرتا ہے اور تم اس کے لوگوں میں سے قتل کرتے ہو ، رسول اسی طرح ہوتے ہیں ، انہیں آزمایا جاتا ہے ، پھر انجام انہی کے حق میں ہوتا ہے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا وہ عہد شکنی کرتا ہے؟ تو تم نے کہا کہ وہ عہد شکنی نہیں کرتا اور رسول اسی طرح ہوتے ہیں ، وہ بدعہدی نہیں کرتے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ( کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ ) تو تم نے کہا : نہیں ، میں نے ( دل میں ) کہا : اگر کسی نے اس سے پہلے یہ بات کہی ہوتی تو میں کہتا : یہ آدمی وہی بات کہنا چاہتا ہے جو اس سے پہلے کہی جا چکی ہے ۔ کہا : پھر اس نے پوچھا : وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے؟ میں نے جواب دیا : وہ ہمیں نماز ، زکاۃ ، صلہ رحمی اور پاکبازی کا حکم دیتا ہے ۔ اس نے کہا : اگر تم جو اس کے بارے میں کہتے ہو ، سچ ہے ، تو بلاشبہ وہ نبی ہے اور میں جانتا تھا کہ اس کا ظہور ہونے والا ہے لیکن میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ وہ تم میں سے ہو گا ، اور اگر مجھے علم ہو جائے کہ میں ان تک پہنچ سکتا ہوں تو میں ان سے ملنے کو محبوب رکھوں ۔ اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو میں ان کے پاؤں دھوتا اور ان کی حکومت اس زمین تک پہنچ کر رہے گی جو میرے قدموں کے نیچے ہے ۔ کہا : پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور اسے پڑھا تو اس میں ( لکھا ) تھا : اللہ کے نام سے جو بہت زیادہ رحم کرنے والا ، ہمیشہ مہربانی کرنے والا ہے ، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شاہ ، روم ہرقل کے نام ، اس پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کا اتباع کیا ، اس کے بعد ، میں تمہیں اسلام کے بلاوے کے ساتھ دعوت دیتا ہوں ، اسلام قبول کر لو ، سلامتی پا لو گے ، اسلام قبول کر لو ، اللہ تمہیں دو بار اجر دے گا اور اگر تم نے منہ موڑ لیا تو کسانوں ( عام لوگوں ) کا گناہ ( جو تمہارے پیچھے چلتے ہیں ) تم پر ہو گا ۔ اور "" اے اہل کتاب! اس بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان ایک جیسی ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں ، ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے ، پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دیں ، ( تم ) گواہ رہو کہ ہم فرماں بردار ( اسلام قبول کرنے والے ) ہیں ۔ "" جب وہ خط پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے پاس آوازیں بلند ہونے لگیں اور شور بڑھ گیا ، اس نے ہمارے بارے میں حکم دیا تو ہمیں باہر بھیج دیا گیا ۔ کہا : جب ہم باہر نکلے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا : ابوکبشہ کے بیٹے کا معاملہ تو بہت بڑا ہو گیا ہے ، اس سے تو بنو اصفر ( اہل روم ) کا بادشاہ بھی خوف کھاتا ہے ۔ کہا : اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں مجھے ہمیشہ یقین رہا کہ وہ غالب آئیں گے ، یہاں تک کہ اللہ نے مجھ میں اوپر سے ( غالب کر کے ) اسلام داخل کر دیا
حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي، مِجْلَزٍ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَدْعُو عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Ibn 'Abdullah al-Bajali that the Messenger of Allah (ﷺ) said:One who is killed under the banner of a man who is blind (to his just cause), who raises the slogan of family or supports his own tribe, dies the death of one belonging to the days of Jahiliyya
جندب بن عبداﷲ بجلی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا جو شخص اندھے جھندے کے تلے مارا جاوے اور وہ بلاتا ہو تعصب اور قومی طرفداری کی طرف یا مدد کرتا ہو قومی تعصب کی تو اس کا قتل جاہلیت کا سا ہوگا۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba through a different chain of transmitters
محمد بن جعفر اور عبدالرحمان بن مہدی نے شعبہ سے اسی سندکے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیا ن کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَهُ مِنْ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُمَا ‏"‏ بَشِّرَا وَيَسِّرَا وَعَلِّمَا وَلاَ تُنَفِّرَا ‏"‏ ‏.‏ وَأُرَاهُ قَالَ ‏"‏ وَتَطَاوَعَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا وَلَّى رَجَعَ أَبُو مُوسَى فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَهُمْ شَرَابًا مِنَ الْعَسَلِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعْقِدَ وَالْمِزْرُ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كُلُّ مَا أَسْكَرَ عَنِ الصَّلاَةِ فَهُوَ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
Abu Burda reported on the authority of his grandfather that Allah's Messenger (ﷺ) sent him and Mu'adh b. Jabal to Yemen and said to them:Give good tidings to the (people). and make things easy (for them), teach (them), and do not repel (them) ; and I think he also said: Cooperate cheerfully with each other. When he (the Holy Prophet) turned his back, Abu Musa returned to him and said: Allah's Messenger, they (the people of Yemen) have a drink which is (made) from honey and which is prepared by cooking it until it coagulates, and Mizr is prepared from barley, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Every intoxicant that detains you from prayer is forbidden
عمرو نے سعد بن ابی بردہ سے سنا انھوں نے اپنے والد ( ابو بردہ عامر بن ابی موسیٰ ) کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن بھیجا اور فرما یا : " تم دونوں لوگوں کو ( اچھے اعمال کے انعام کی ) خوش خبری سنانا اور ( معاملا ت کو ) آسان بنا نا ( دین ) سیکھانا اور متنفر نہ کرنا " میرا خیال ہے کہ انھوں نے یہ بھی روایت کیا آپ نے فرما یا : " دونوں ایک دوسرے سے موافقت سے رہنا ۔ " جب ( اجازت لے کر ) ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیچھے کی طرف مڑے تو کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ان کا شہد سے بنا یا ہو ایک مشروب ہے جسے پکا یا جا تا ہے یہاں تک کہ وہ گا ڑھا ہو جا تا ہے اور ( ایک مشروب ) مزرہے جسے جوسے تیار کیا جا تا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ہر وہ چیز جو نماز سے مد ہوش کردے وہ حرام ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا سَهْلُ، بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي خَاتِمِ الذَّهَبِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ عُقْبَةَ بْنِ خَالِدٍ وَجَعَلَهُ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar through other chains of transmitters but with a slight variation of wording
محمد بن بشر یحییٰ بن سعید خالد بن حارث اور عقبہ بن خا لد سب نے عبید اللہ سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کی انگوٹھی کے بارے میں حدیث روایت کی ، عقبہ بن خالد کی روایت میں ( عبید اللہ نے ) یہ اضافہ کیا : اور آپ نے اسے دا ئیں ہاتھ میں پہنا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَخِيهِ، مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ نَزَلْنَا مَنْزِلاً فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّ سَيِّدَ الْحَىِّ سَلِيمٌ لُدِغَ فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا مَا كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ فَأَعْطَوْهُ غَنَمًا وَسَقَوْنَا لَبَنًا فَقُلْنَا أَكُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً فَقَالَ مَا رَقَيْتُهُ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ لاَ تُحَرِّكُوهَا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri reported:We landed at a place where a woman came to us and said: A scorpion has bitten the chief of the tribe. Is there any incantator amongst you? A person amongst us stood up (and went with her). We had no idea that he had been a good incantator but he practiced incantation with the help of Sura al-Fatiha and the (the chief) was all right. They gave him a flock of sheep and served us milk. We said (to him): Are you a good incantator. Thereupon he said: I did not do it but by the help of Sura al-Fatiha. He said: Do not drive (these goats) until we go to Allah's Messenger (ﷺ) and find out (whether it is permissible to accept (this reward of incantation). So we came to Allah's Apostle (ﷺ) and made a mention of that to him, whereupon he said: How did you come to know that this (Sura al-Fatiha) could be used as an incantation? So distribute them (amongst those who had been present there with him) and allocate a share of mine also
یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سےخبر دی ، انھوں نے ا پنے بھائی معبد بن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، روایت کی ، کہا : ہم نے ایک مقام پر پڑاؤکیا ، ایک عورت ہمارے پاس آئی اور کہا : قبیلے کےسردار کو ڈنک لگا ہے ، ( اسے بچھو نے ڈنک ماراہے ) کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ہم میں سے ایک آدمی اس کے ساتھ ( جانے کےلئے ) کھڑا ہوگیا ، اس کے بارے میں ہمارا خیال نہیں تھا کہ وہ اچھی طرح دم کرسکتا ہے ۔ اس نے اس ( ڈسے ہوئے ) کو فاتحہ سے دم کیاتو وہ ٹھیک ہوگیا ، تو انھوں نے اسے بکریوں کا ایک ریوڑ دیا اور ہم سب کو دودھ پلایا ۔ ہم نے ( اس سے ) پوچھا : کیا تم اچھی طرح دم کرنا جانتے تھے؟اس نے کہا : میں نے اسے صرف فاتحۃ الکتاب سے دم کیا ہے ۔ کہا : میں نے ( ساتھیوں سے ) کہا : ان بکریوں کو کچھ نہ کہو یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوجائیں ۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ کو یہ بات بتائی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے کس ذریعے سے پتہ چلا کہ یہ ( فاتحہ ) دم ( کا کلمہ بھی ) ہے؟ان ( بکریوں ) کو بانٹ لو اور اپنے داتھ میرا بھی حصہ رکھو ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ الأَعْمَشِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Jarir through other chains of transmitters
قیس اور نافع بن جبیر نے جریر سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعمش کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ بَالَ جَرِيرٌ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقِيلَ تَفْعَلُ هَذَا ‏.‏ فَقَالَ نَعَمْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ‏.‏ قَالَ الأَعْمَشُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ كَانَ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ لأَنَّ إِسْلاَمَ جَرِيرٍ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ ‏.‏
Hummam reported:Jarir urinated, then performed ablution and wiped over the socks. It was said to him: Do you do like this? He said: Yes, I saw that the Messenger of Allah (ﷺ) urinated, then performed ablution and then wiped over his shoes. A'mash said: Ibrahim had observed that this hadith was a surprise for them (the people) because Jarir had embraced Islam after the revelation of Surat al-Ma'ida
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے ، انہون نے ہمام سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت جریر ( بن عبد اللہ البجلی ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے پیشاب کیا ، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا تو ان سے کہاگیا : آپ یہ کرتے ہیں ؟ انہوں نےجواب دیا : ہاں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ پیشاب کیا ، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا ۔ اعمش نے کہا : ابراہیم نے بتایا کہ لوگوں ( ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کےشاگردوں ) کو یہ حدیث بہت پسند تھی کیونکہ جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سورہ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد مسلمان ہوئے تھے ۔ ( سورہ مائدہ میں آیت وضو نازل ہوئی تھی ۔ اور آپ کا یہ عمل اس کے بعد کا تھا جو آیت سے منسوخ نہیں ہوا تھا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاضِعًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ ‏"‏ ‏.‏
Al-Bara' b. Azib reported:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) with Al-Hasan b. 'Ali placed upon his shoulders and he was saying: O Allah, I love him, and love him Thou
۔ ( محمد بن جعفر ) غندر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا رکھا تھا اور فرمارہے تھے : " اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں ، تو بھی اس سے محبت فرما ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالاَ فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When two persons indulge in hurling (abuses) upon one another, it would be the first one who would be the sinner so long as the oppressed does not transgress the limits
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے والے جو کچھ بھی کہتے ہیں ، اس کا وبال پہل کرنے والے پر ہے جب تک مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلاَلٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءٍ، كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ‏"‏ ‏.‏
Farwa' b. Naufal reported:I asked 'A'isha about the supplication that Allah's Messenger (ﷺ) made. She said that he used to say:" O Allah, I seek refuge in Thee from the evil of what I have done and from the evil of what I have not done
عبداللہ بن ادریس نے حصین سے ، انہوں نے ہلال سے اور انہوں نے فروہ بن نوفل سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دعا فرمایا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ یہ دعا فرمایا کرتے تھے : " اے اللہ! میں نے جو کام کیے ہیں ، ان کے شر سے اور جو کام میں نے نہیں کیے ، ان کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنُونَ ابْنَ مَهْدِيٍّ - عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، ‏{‏ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ‏}‏ قَالَ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ ‏.‏
Al-Bara' b. 'Azib reported that this verse:"Allah keeps those who believe steadfast with firm word in this world and the Hereafter" was revealed in connection with the torment of the grave
خیثمہ نے حضرت براءبن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( اس آیت کے بارے میں ) روایت کی : " اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت اور آخرت میں پختہ قول پر ثابت قدم رکھتا ہے ۔ " کہا : یہ آیت عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، وَالْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِمَا، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Umm Salama through another chain of transmitters
عبد الصمد بن الوارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں خالد حذاء نے سعید بن ابی حسن اور حسن سے حدیث بیان کی ان دونوں نے اپنی والدہ سے ، انھوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الأَشْجَعِيُّ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Miqdad through another chain of transmitters
سفیان ثوری نے منصور اور اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے ہمام سے ، انھوں نے حضرت مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا مُوسَى الْقَارِئُ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاءً وَسَتَرْتُهُ فَاغْتَسَلَ ‏.‏
Maimuna reported:I placed water for the Apostle (ﷺ) and provided privacy for him, and he took a bath
ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حضرت میمونہ ؓ سے روایت کی ، انۂں نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ ( کے غسل ) کے لیے پانی رکھا اور آپ کو پردہ مہیاکیا تو آپ نے غسل فرمایا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith is narrated with the same chain of transmitters by Hisham b. 'Urwa
۔ حماد بن زید اور عبد اللہ بن نمیر نے ہشام بن عروہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔