وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ - قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنِ الثُّومِ، فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلاَ يَقْرَبَنَّا وَلاَ يُصَلِّي مَعَنَا " .
Ibn Suhaib reported:Anas was asked about the garlic; he stated that the Messenger of Allah (ﷺ) had said: He who eats of this plant (garlic) should not approach us and pray along with us
عبدالعزیز سے ، جو صہیب کے بیٹے ہیں ، روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے لہسن کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے اس پودے میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہرگز ہمارے قریب نہ آئے اور نہ ہمارے ساتھ نماز پڑھے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَى ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلِي وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ قَالَ " الآنَ حِينَ قَدِمْتَ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " فَدَعْ جَمَلَكَ وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " . قَالَ فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ .
Jabir b. 'Abdullah reported:I went with the Messenger of Allah (ﷺ) on an expedition and my camel delayed me and I was exhausted. The Messenger of Allah (ﷺ) thus came earlier than I, whereas I came on the next day and went to the mosque and found him (the Holy Prophet) at the gate of the mosque. He said: It is now that you have come. I said. Yes. He said: Leave your camel and enter (the mosque) and observe two rak'ahs. He (the narrator) said: So I entered and observed (two rak'ahs) of prayer and then went back
وہب بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ، میرے اونٹ نے مجھے دیر کرادی اور تھک گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے مدینہ میں آگئے اور میں اگلے دن پہنچا ، میں مسجد میں آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر پایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " تم اب اس وقت تک پہنچے ہو؟ " میں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنا اونٹ چھوڑ دو اور مسجد میں داخل ہوکر دو رکعتیں پڑھو ۔ " میں مسجد میں داخل ہوا ، نماز پڑھی ، پر واپس ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) آیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ سَمِعْتُ قَيْسًا، يَرْوِي عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ أَشَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ " أَلاَ إِنَّ الإِيمَانَ هَا هُنَا وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الإِبِلِ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ " .
It is narrated on the authority of Ibn Mas'ud that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) pointed towards Yemen with his hand and said:Verily Iman is towards this side, and harshness and callousness of the hearts is found amongst the rude owners of the camels who drive them behind their tails (to the direction) where emerge the two horns of Satan, they are the tribes of Rabi'a and Mudar
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ’’ دیکھو ! ایمان ادھر ہے ۔ اور شقاوت اور سنگ لی اونٹوں کی دموں کی جڑوں کے پاس چیخنے والوں ربیعہ اور مضر میں ہے ، جس کی طرف سے شیطان کے دو سینگ نمودار ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا " . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ " مِنْكُمْ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When any one amongst you observes prayer after Jumu'a, he should observe four rak'ahs. (In the hadith transmitted by Jarir the word minkum is not recorded)
جریر اور سفیان نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" تم میں سے جو شخص جمعے کے بعد نماز پڑھے توچار رکعتیں پڑھے ۔ "" جریر کی حدیث میں "" منكم "" ( تم میں سے ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " . يَعْنِي النَّجَاشِيَ وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ " إِنَّ أَخَاكُمْ " .
Imran b. Husain reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A brother of yours has died; so stand up and offer prayer for him, i. e. Negus. And in the hadith transmitted by Zubair (the words are):" Your brother
(زہیر بن حرب ، علی بن حجر ، اور یحییٰ بن ایوب نے کہا : ہمیں اسماعیل ابن علیہ نے ایوب سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو قلابہ سے ، انھوں نے ابو مہلب سے اور انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمھارا ایک بھائی وفات پاگیا ہے لہذا تم اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو ۔ " آپ کی مراد نجاشی سے تھی ۔ اور زہیر کی روایت میں ان اخالكم " تمھارا ایک بھائی " کی بجائے ) ان اخاكم ( تمھارا بھائی ) کےالفاظ ہیں ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ، بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَدْرِ النَّهَارِ قَالَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ " { يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ { إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} وَالآيَةَ الَّتِي فِي الْحَشْرِ { اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ} تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ - حَتَّى قَالَ - وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " . قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ - قَالَ - ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَىْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ " .
Mundhir b. Jarir reported on the authority of his father:While we were in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) in the early hours of the morning, some people came there (who) were barefooted, naked, wearing striped woollen clothes, or cloaks, with their swords hung (around their necks). Most of them, nay, all of them, belonged to the tribe of Mudar. The colour of the face of the Messenger of Allah (ﷺ) underwent a change when he saw them in poverty. He then entered (his house) and came out and commanded Bilal (to pronounce Adhan). He pronounced Adhan and Iqima, and he (the Holy Prophet) observed prayer (along with his Companion) and then addressed (them reciting verses of the Holy Qur'an): '" 0 people, fear your Lord, Who created you from a single being" to the end of the verse," Allah is ever a Watcher over you" (iv. 1). (He then recited) a verse of Sura Hashr:" Fear Allah. and let every soul consider that which it sends forth for the morrow and fear Allah" (lix. 18). (Then the audience began to vie with one another in giving charity.) Some donated a dinar, others a dirham, still others clothes, some donated a sa' of wheat, some a sa' of dates; till he (the Holy Prophet) said: (Bring) even if it is half a date. Then a person from among the Ansar came there with a money bag which his hands could scarcely lift; in fact, they could not (lift). Then the people followed continuously, till I saw two heaps of eatables and clothes, and I saw the face of the Messenger (ﷺ) glistening, like gold (on account of joy). The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who sets a good precedent in Islam, there is a reward for him for this (act of goodness) and reward of that also who acted according to it subsequently, without any deduction from their rewards; and he who sets in Islam an evil precedent, there is upon him the burden of that, and the burden of him also who acted upon it subsequently, without any deduction from their burden
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عون بن ابی جحیفہ سے حدیث بیان کی ، ا نھوں نے منذر بن جریر سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا ؛ ہم دن کے ابتدا ئی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ظر تھے کہ آپ کے پا س کچھ لو گ ننگے پاؤں ننگے بدن سوراخ کر کے دن کی دھا ری دار چادریں یا غبائیں گلے میں ڈا لے اور تلواریں لٹکا ئے ہو ئے آئے ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب مضر قبیلے سے تھے ان کی فاقہ زدگی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ نور غمزدہ ہو گیا آپ اندر تشریف لے گئے پھر با ہر نکلے تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی آپ نے نماز ادا کی ، پھر خطبہ دیا اور فرما یا : " اے لو گو !اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جا ن سے پیدا کیا ۔ ۔ ۔ آیت کے آخر تک " بے شک اللہ تم پر نگرا ن ہے اور وہ آیت جو سورہ حشر میں ہے اللہ سے ڈرو اور ہر جا ن دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے ( پھر فر ما یا ) آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے دینا ر سےاپنے درہم سے اپنے کپڑے سے اپنی گندم کے ایک صاع سے اپنی کھجور کے ایک صاع سے ۔ حتیٰ کہ آپ نے فر ما یا : ۔ ۔ ۔ چا ہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے صدقہ کرے ( جریرنے ) کہا : تو انصار میں سے ایک آدمی ایک تھیلی لا یا اس کی ہتھیلی اس ( کو اٹھا نے ) سے عاجز آنے لگی تھی بلکہ عا جز آگئی تھی کہا : پھر لو گ ایک دوسرے کے پیچھے آنے لگے یہاں تک کہ میں نے کھا نے اور کپڑوں کے دو ڈھیر دیکھے حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا وہ اس طرح دمک رہا تھا جیسے اس پر سونا چڑاھا ہوا ہو ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " جس نے اسلا م میں کو ئی اچھا طریقہ رائج کیا تو اس کے لیے اس کا ( اپنا بھی ) اجر ہےے اور ان کے جیسا اجر بھی جنھوں نے اس کے بعد اس ( طریقے ) پر عمل کیا اس کے بغیر کہ ان کے اجر میں کو ئی کمی ہو اور جس نے اسلا م میں کسی برے طریقے کی ابتدا کی اس کا بو جھ اسی پر ہے اور ان کا بو جھ بھی جنھوں نے اس کے بعد اس پر عمل کیا اس کے بغیر کہ ان کے بو جھ میں کو ئی کمی ہو ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ يَحْيَى، بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
A hadith like this has been narrated by Yahya b. Abu Kathir with the same chain of transmitters
یحییٰ ابن بشر حریری ، معاویہ ، حضرت یحییٰ بن کثیر سے اس سندکے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے ۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ . بِمِثْلِهِ .
This hadith is narrated on the authority of Ayyub
ابن علیہ نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي عُيُونِ الأَنْصَارِ شَيْئًا " . قَالَ قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا . قَالَ " عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا " . قَالَ عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ مَا عِنْدَنَا مَا نُعْطِيكَ وَلَكِنْ عَسَى أَنْ نَبْعَثَكَ فِي بَعْثٍ تُصِيبُ مِنْهُ " . قَالَ فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي عَبْسٍ بَعَثَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فِيهِمْ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said: I have contracted marriage with a woman of the Ansar, whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Did you cast a glance at her, for there is something in the eyes of the Ansar? He said: I did cast a glance at her, whereupon he said: For what (dower) did you marry her? He said: For four 'uqiyas. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: For four 'uqiyas; it seems as if you dig out silver from the side of this mountain (and that is why you are prepared to pay such a large amount of dower). We have nothing which we should give you. There is a possibility that we may send you to an (expedition) where you may get (booty). So he sent that man (in the expedition) which was despatched to Banu 'Abs
مروان بن معاویہ فزاری نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یزید بن کیسان نے ابوحازم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہا : میں نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے ۔ " اس نے جواب دیا : میں نے اسے دیکھا ہے ۔ آپ نے پوچھا : " کتنے مہر پر تم نے اِس سے نکاح کیا ہے؟ " اس نے جواب دیا : چار اوقیہ پر ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " چار اوقیہ چاندی پر؟ گویا تم اس پہاڑ کے پہلو سے چاندی تراشتے ہو! تمہیں دینے کے لیے ہمارے پاس کچھ موجود نہیں ، البتہ جلد ہی ہم تمہیں ایک لشکر میں بھیج دیں گے تمہیں اس سے ( غنیمت کا حصہ ) مل جائے گا ۔ " کہا : اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبس کی جانب ایک لشکر روانہ کیا ( تو ) اس آدمی کو بھی اس میں بھیج دیا
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ بَعْضِ، أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَهْلِ دَارِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ يَحْيَى غَيْرَ أَنَّ إِسْحَاقَ وَابْنَ الْمُثَنَّى جَعَلاَ مَكَانَ الرِّبَا الزَّبْنَ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ الرِّبَا .
Bushair b. Yasir reported on the authority of some of the Companions of Allah's Messenger (may peace be upon hinn) from among the members of his family that he forbade (the direct exchange of a commodity having different qualities) but with the change that Ishaq and Ibn al-Muthanna used the word Zabn in place of Riba and Ibn Abu 'Umar used the word Riba (interest)
محمد بن مثنیٰ ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر سب نے ( عبدالوہاب ) ثقفی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے : مجھے بشیر بن یسار نے اپنے خاندان سے تعلق رکھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ آگے یحییٰ سے سلیمان بن بلال کی حدیث ( 3887 ) کے مانند حدیث ذکر کی ۔ لیکن اسحاق اور ابن مثنیٰ نے لفظ ربا کی بجائے لفظ زبن ( مزابنہ ) استعمال کیا ہے ، تاہم ابن ابی عمر نے رِبا ہی کہا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ - يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ - عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ .
Yazid b. Abu Habib reported:'Ata' reported to me that he heard Jabir (b. 'Abdullah) saying it that he had heard that from Allah's Messenger (ﷺ) in the Year of Victory
عبدالحمید سے روایت ہے ، کہا : مجھے یزید بن ابی حبیب نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : عطاء نے مجھے لکھ بھیجا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : میں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ ۔ آگے لیث کی حدیث کی طرح ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ، سُهَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ح. وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ، ذَكْوَانَ الْمُعَلِّمِ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، ح. وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ، أَبِي رَبَاحٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُمْ فِي، بَيْعِ الْمُدَبَّرِ . كُلُّ هَؤُلاَءِ قَالَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادٍ وَابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ .
This hadith has been narrated from Allah's Messenger (ﷺ) through other chains of transmitters
عبدالمجید بن سہیل اور حسین بن ذکوان معلم نے عطاء سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، اسی طرح مطر بن طہمان الوراق نے عطاء بن ابی رباح ، ابوزبیر اور عمرو بن دینار سے روایت کی کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے انہیں مدبر کی بیع کے بارے میں حدیث بیان کی ، ان سب ( عطاء ، ابوزبیر اور عمرو ) نے کہا : انہوں ( جابر رضی اللہ عنہ ) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے ہم معنی روایت کی جو حماد اور ابن عیینہ نے عمرو سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کی
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، الْعُطَارِدِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا فَمَاتَ عَلَيْهِ إِلاَّ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " .
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Ibn Abbas that the Messenger of Allah (may peace be upoh him) said:One who dislikes a thing done by his Amir should be patient over it, for anyone from the people who withdraws (his obedience) from the government, even to the extent of a handspan and died in that conditions, would die the death of one belonging to the days of jahilliyya
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے حاکم سے بری بات دیکھے وہ صبر کرے کیونکہ جو کوئی بادشاہ سے بالشت بھر جدا ہو پھر مرے اسی حال میں اس کی موت جاہلیت کی سی موت ہوگی۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " .
Ibn 'Abbas reported Allah's Messenger (ﷺ) having said this:Do not make anything having life as a target
عبیداللہ کے والد معاذ ( عنبری ) نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی ( بن ثابت انصاری ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی روح والی چیز کو ( نشانہ بازی کا ) ہد ف مت بناؤ ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ إِذَا لَبِسَهُ فَصَنَعَ النَّاسُ ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ فَقَالَ " إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتِمَ وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ " . فَرَمَى بِهِ ثُمَّ قَالَ " وَاللَّهِ لاَ أَلْبَسُهُ أَبَدًا " . فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ . وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِيَحْيَى .
Abdullah reported that Allah's Messenger (may peace be upol him) got fashioned a signet ring of gold but he kept its stone on the inner side of his palm as he wore it, so the people (following his example) got fashioned (such rings). Then one day as he sat on the pulpit he pulled it away saying:I wore this ring and kept its stone towards the inner side. He then threw it away, and said: By Allah, I will never wear it; so the people threw their rings away
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی محمد بن رمح اور قتیبہ نے کہا : ہمیں لیث نے نافع سے خبر دی ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی آپ اسے پہنتے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کے اندر کی طرف کر لیا کرتے تھے تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوالیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہو ئے ۔ اس انگوٹھی کو اتار دیا اور فرما یا : " میں اس انگوٹھی کو پہنتا تھا تو نگینے کو اندر کی طرف کر لیتا تھا : " پھر آپ نے اسے پھینک دیااور فر ما یا : " اللہ کی قسم! میں اس کو کبھی نہیں پہنوں گا ۔ " پھر لو گوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیا ں پھینک دیں ۔ حدیث کے الفا ظ یحییٰ کے بیا ن کردہ ) ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ كِلاَهُمَا عَنْ غُنْدَرٍ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفُلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ .
This hadith has been reported on the authority of Abu Bishr with the same the same chain of transmitters (with these words):That he recited Umm-ul-Qur'an (Sura Fatiha), and he collected his spittle and he applied that and the person became all right
شعبہ نے ابو بشر سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اور حدیث میں یہ کہا : اس نے ام القرآن ( سورۃفاتحہ ) پڑھنی شروع کی اور اپنا تھوک جمع کرتا اور اس پر پھینکتا جاتا تو وہ آدمی تندرست ہوگیا ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، وَأَبِي، ظِبْيَانَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ لاَ يَرْحَمِ النَّاسَ لاَ يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
This hadith has been narrated on the authority of Jarir b. 'Abdullah through different chains of transmitters and the words are:" That the Messenger of Allah (ﷺ) said: He who shows no mercy to the people, Allah, the Exalted and Glorious, does not show mercy to him
جریر ، عیسیٰ بن یونس ، ابو معاویہ اور حفص بن غیاث سب نے اعمش سے ، انھوں نے زید بن وہب اور ابوظبیان سے ، انھوں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ عزوجل اس پر رحم نہیں کرتا ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَبَرَّزُ لِحَاجَتِهِ فَآتِيهِ بِالْمَاءِ فَيَتَغَسَّلُ بِهِ .
Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) went to a far-off place in the desert (hidden from the sight of human beings) for relieving himself. Then I brought water for him and he cleansed himself
(شعبہ کے بجائے ) روح بن قاسم کی سند سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کےلیے کھلی جگہ تشریف لے جاتے تو میں آپ کے لیے پانی لے جاتا ، آپ اس سے استنجا کرتے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، قَالَ رَأَيْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ " .
Al-Bara' b. Azib reported:I saw Hasan b. 'Ali upon the shoulders of Allah's Apostle (ﷺ) and he was saying: O Allah, I love him, and love him Thou
عبیداللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر دیکھا ، اور آپ فرمارہے تھے : " اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ، بْنِ بَشِيرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
A hadith like this has been narrated on the authority of Nu'man b. Bashir through another chain of transmitters
شعبی نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالاَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو بِهِ اللَّهَ قَالَتْ كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .
Farwa' b. Naufal Ashja'i reported:I asked: 'A'isha, in what words did Allah's Messenger (ﷺ) supplicate Allah? She said that he used to utter:" I seek refuge in Thee from the evil of what I did and from the evil of what I did not
منصور نے ہلال سے اور انہوں نے فروہ بن نوفل اشجعی سے روایت کی ، کہا : میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے کیا دعائیں کیا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے : " اے اللہ! جو میں نے کیا اس کے شر سے اور جو میں نے نہیں کیا ، اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " { يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ} قَالَ " نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ فَيُقَالُ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ وَنَبِيِّيَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم . فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ { يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ} " .
Al-Bara' b. `Azib reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:This verse: "Allah grants steadfastness to those who believe with firm word," was revealed in connection with the torment of the grave. It would be said to him: Who is your Lord? And he would say: Allah is my Lord and Muhammad is my Apostle (ﷺ), and that is (what is implied) by the words of Allah, the Exalted: "Allah keeps steadfast those who believe with firm word in this world and in the Hereafter
سعد بن عبیدہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو پختہ قول ( کلمہ طیبہ کی حقیقی شہادت ) کے ذریعے سے ( حق پر ) ثابت قدم رہتا ہے ۔ " فرمایا : " یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی اس ( مرنے والے ) سے کہا جا تاہے ۔ تمھارا رب کون ہے؟وہ ( مومن ) کہتا ہے ۔ میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یہی قول عزوجل ( يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ ) ( سے مراد ) ہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ، مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ عُقْبَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ خَالِدًا، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَمَّارٍ " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " .
This hadith has been transmitted on the authority of Umm Salama that Allah's Messenger (ﷺ) said to 'Ammar:A group of rebels would kill you
محمد بن جعفر غندرنے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے خالد حذا کو سعید بن ابو الحسن سے حدیث روایت کرتے ہوئے سنا ، انھوں نے اپنی والدہ سے اور انھوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا : " تمھیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ رَجُلاً، جَعَلَ يَمْدَحُ عُثْمَانَ فَعَمِدَ الْمِقْدَادُ فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ - وَكَانَ رَجُلاً ضَخْمًا - فَجَعَلَ يَحْثُو فِي وَجْهِهِ الْحَصْبَاءَ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ " .
Hammam b. al-Harith reported that a person began to praise 'Uthman and Miqdad sat upon his knee; and he was a bulky person and began to throw pebbles upon his (flatterer's) face. Thereupon 'Uthman said:What is the matter with you? And he said: Verily, Allah's Messenger (ﷺ) said: When you see those who shower (undue) praise (upon others), throw dust upon their faces
شعبہ نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم ( بن یزید نخعی ) سے ، انھوں نے ہمام بن حارث سے روایت کی کہ ایک شخص حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا رخ کیا ، اپنے گھٹنوں پر بیٹھے ، وہ بھاری بھرکم ( جسم کے مالک ) تھے اور اس آدمی کے چہرے پر کنکریاں پھینکنے لگے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : آپ کیا کررہے ہیں؟انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " جب تم مدح سراؤں کو دیکھو تو ان کے چہروں میں مٹی ڈالو ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَسَتَرَتْهُ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا اغْتَسَلَ أَخَذَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانَ سَجَدَاتٍ وَذَلِكَ ضُحًى .
This hadith is narrated by Sa'id b. Abu Hind with the same chain of transmitters and said:His (the Holy Prophet's) daughter Fatimah provided him privacy with the help of his cloth, and when he had taken a bath he took it up and wrapped it around him and then stood and offered eight rak'ahs of the forenoon prayer
سعید بن ابی ہند کے ایک اور شاگرد ولید بن کثیر نے اسی سند سےحدیث بیان کی اور یہ الفاظ کہے : تو آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ نے آپ کے کپڑے کے ذریعے سے آپ کے لیے اوٹ بنا دی ۔ آپ جب غسل کے چکے تو وہی کپڑا لیا ، اسے اپنے گرد لپیٹا ، پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعات نماز ادا کی ، یہ چاشت کا وقت تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا فَصَلَّوْا بِصَلاَتِهِ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا . فَجَلَسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا " .
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) fell ill and some of his Companions came to inquire after his health. The Messenger of Allah (ﷺ) said prayer sitting, while (his Companions) said it (behind him) standing. He (the Holy Prophet) directed them by his gesture to sit down, and they sat down (in prayer). After finishing the (prayer) he (the Holy Prophet) said: The Imam is appointed so that he should be followed, so bow down when he bows down, and rise upp when he rises up and say (prayer) sitting when he (the Imam) says (it) sitting
عبدہ بن سلیمان نے ہشام ( بن عروہ ) سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ بیمار ہو گئے ، آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آپ کی بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوئے ۔ رسول اللہﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھی تو انہوں نے آپ کی اقتدا میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنی شروع کی ۔ آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گئے ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو آپ نے فرمایا : ’’ امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ ( رکوع وسجود سے سر ) اٹھائے تو ( پھر ) تم ( بھی سر ) اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘