بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
29 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسَاجِدَنَا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الثُّومَ ‏.‏
Ibn 'Umar reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who eats of this (offensive) plant must not approach our mosque, till its odor dies: (plant signifies) garlic
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہم سے عبید اللہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے اس ترکاری میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے یہاں تک کہ اس کی بوچلی جائے ۔ ‘ ‘ آپ کی مراد لہسن سے تھی ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعِيرًا فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported:The Messenger of Allah (ﷺ) bought a camel from me. When he came back to Medina, he ordered me to come to the mosque and observed two rak'ahs of prayer
شعبہ نے محارب سے روایت کی ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ خریدا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد میں آؤں ، اور دو رکعتیں پڑھوں ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ الْفُضَيْلِ الْخَطْمِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا كَانَ مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَقَدْ كَانَ لَهُ حَوَارِيُّونَ يَهْتَدُونَ بِهَدْيِهِ وَيَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِهِ ‏"‏ ‏.‏ مِثْلَ حَدِيثِ صَالِحٍ وَلَمْ يَذْكُرْ قُدُومَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَاجْتِمَاعَ ابْنِ عُمَرَ مَعَهُ ‏.‏
The same hadith has been transmitted by another chain of narrators on the authority of 'Abdullah b. Mas'ud who observed:Never was there one among the prophets who had had not disciples who followed his direction and followed his ways. The remaining part of the hadith is like that as narrated by Salih but the arrival of Ibn Mas'ud and the meeting of Ibn 'Umar with him is not mentioned
حارث بن فضیل خطمی سے ( صالح بن کیسان کے بجائے ) عبدالعزیز بن محمد کی سند کےساتھ رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ ابو رافع سے روایت ہے ۔ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو بھی نبی گزرا ہے اس کے ساتھ کچھ حواری تھے جو اس ( نبی ) کے نمونہ زندگی کو اپناتے اور اس کی سنت کی پیروی کرتے تھے .... ‘ ‘ صالح کی روایت کی طرح ۔ لیکن ( عبد العزیز نے ) عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی آمد اور عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ان کی ملاقات کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَصَلُّوا أَرْبَعًا ‏"‏ ‏.‏ - زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سُهَيْلٌ فَإِنْ عَجِلَ بِكَ شَىْءٌ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ وَرَكْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ ‏"‏ ‏.‏
Suhail reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:When you observe prayer after (the two obligatory rak'ahs) of Jumu'ah, you should observe four rak'ahs (and 'Amr in his narration has made this addition that Ibn Idris said this on the authority of Suhail): And if you are in a hurry on account of something, you should observe two rak'ahs in the mosque and two when you return (to your house)
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو الناقد نے کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے سہیل سے حدیث سنائی ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم جمعے کے بعد نماز پڑھو تو چار رکعتیں پڑھو " عمرو نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ، ابن ادریس نے کہا سہیل نے کہا : اگر تمھیں کسی چیز کی وجہ سے جلدی ہو تو دو رکعتیں مسجد میں پڑھ لو اور دو رکعتیں و اپس جا کر ( گھر میں ) پڑ ھ لو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ح . وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُمْنَا فَصَفَّنَا صَفَّيْنِ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A brother of yours has died, so stand up and offer prayer over him. So we stood up and drew ourselves up into two rows
ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ تمھارا ایک بھائی وفات پاگیا ہے ، لہذا تم لوگ اٹھو اور اس پر نماز ( جنازہ ) پڑھو ۔ " ( جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اس پر ہم اٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری دو صفیں بنائیں ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذَكَرَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ‏"‏ ‏.‏
Adi b. Hatim reported that the Messenger of Allah (ﷺ) made a mention of the Fire and sought refuge (with Allah against it). He turned aside his face three times and then said:Protect yourselves against Fire even if with half a date. But if you fail to find it (then protect yourselves against Fire) with the help of a pleasant word
شعبہ نے عمرو بن مرہ سے با قی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ کا ذکر کیا تو اس سے پناہ مانگی اور تین بار اپنے چہرہ مبا رک کے ساتھ دور ہو نے کا اشارہ کیا ، پھر فر ما یا : " آگ سے بچو چا ہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے ( بچو ) اگر تم ( یہ بھی ) نہ پاؤ تو اچھی بات کے ساتھ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ - رضى الله عنها - أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ ‏.‏
Urwa b. Zubair narrated that 'A'isha the Mother of the Believers (Allah be pleased with her) informed him that the Messenger of Allah (ﷺ) kissed her while fasting
ابو بکر ابن ابی شیبہ ، ، حسن بن موسیٰ ، شیبان ، یحییٰ ابن ابی کثیر ، ابی سلمہ ، عمر بن عبدالعزیز ، عروہ بن زبیر ، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خبر دیتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ أَتَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ - قَالَ الْقْوَارِيرِيُّ قِدْرٍ لِي ‏.‏ وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ بُرْمَةٍ لِي - وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ ‏"‏ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ فَلاَ أَدْرِي بِأَىِّ ذَلِكَ بَدَأَ ‏.‏
Ka'b b. 'Ujra (Allah be pleased with him) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) came to me on the occasion of Hudaibiya and I was kindling fire under my cooking pot and lice were creeping on my face. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Do the vermins harm your head? I said: Yes. He said: Get your head shaved and (in lieu of it) observe fasts for three days or feed six needy persons, or offer sacrifice (of an animal). Ayyub said: I do not know with what (type of expiation) did he commence (the statement)
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری اور ابو ربیع نے حدیث بیان کی ( دونوں نے کہا ) ہمیں حما د بن زید نے حدیث سنائی ( حماد بن زید نے کہا ) ہمیں ایو ب نے حدیث بیا ن کی ، کہا : میں نے مجا ہد سے سنا ، وہ عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حدیبیہ کے د نوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشر یف لا ئے میں ۔ ۔ ۔ قواریری کے بقول اپنی ہنڈیا کے نیچے اور ابو ربیع کے بقول ۔ ۔ ۔ اپنی پتھر کی دیگ کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور ( میرے سر کی ) جو ئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فر ما یا : " کیا تمھا رے سر کی مخلوق ( جوئیں رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمھا رے لیے با عث اذیت ہیں؟کہا : میں نے جواب دیا جی ہاں ، آپ نے فر ما یا : " تو اپنا سر منڈوادو ( اور فدیے کے طور پر ) تین دن کے روزےرکھو ۔ یا چھ مسکینوں کو کھا نا کھلا ؤ یا ( ایک ) قربا نی دے دو ۔ ایو ب نے کہا : مجھے علم نہیں ان ( فدیے کی صورتوں میں ) سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کا پہلے ذکر کیا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الأَنْصَارِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:I was in the company of Allah's Messenger (ﷺ) when there came a man and informed him that he had contracted to marry a woman of the Ansar. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Did you cast a glance at her? He said: No. He said: Go and cast a glance at her, for there is something in the eyes of the Ansar
سفیان نے ہمیں یزید بن کیسان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا ، آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور بتایا کہ اس نے انصار کی ایک عورت سے نکاح ( طے ) کیا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سےفرمایا : " کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ " اس نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جاؤ اور اسے دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلاَ نَكْتَحِلُ وَلاَ نَتَطَيَّبُ وَلاَ نَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا وَقَدْ رُخِّصَ لِلْمَرْأَةِ فِي طُهْرِهَا إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ ‏.‏
Umm 'Atiyya ('Allah be pleased with her) said:We were forbidden to observe mourning for the dead beyond three days except in the case of husband (where it is permissible) for four months and ten days, and (that during this period) we should neither use collyrium nor touch perfume, nor wear dyed clothes, but concession was given to a woman when one of us was purified of our courses to make use of a little incense or scent
ایوب نے حفصہ سے ، انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں منع کیا جاتا تھا کہ ہم کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائیں ۔ مگر خاوند پر ، ( اس پر ) چار مہینے دس دن ( سوگ ہے ۔ ) نہ سرمہ لگائیں ، نہ خوشبو استعمال کریں اور نہ رنگا ہوا کپڑا پہنیں ، اور عورت کو اس کے طہر میں ، جب ہم میں سے کوئی اپنے حیض سے غسل کر لے ، اجازت دی گئی کہ وہ تھوڑی سی قسط اور اظفار استعمال کر لے
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَصْحَابِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ قَالُوا رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا ‏.‏
Bushair b. Yasar reported on the authority of some of the Companion of Allah's Messenger (ﷺ) that he exempted the transactions, of 'ariyya (from the direct exchange of one kind) after measuring the dry dates (in exchange for fresh dates)
لیث نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی ، انہوں نے بُشیر بن یسار سے اور انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ( بعض ) صحابہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کو ( اس سے حاصل ہونے ولی ) خشک کھجور کی مقدار کے اندازے سے فروخت کرنے کی اجازت دی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي، رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ فَقَالَ ‏"‏ لاَ هُوَ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ ‏"‏ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ ‏"‏‏.‏
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying in the Year of Victory while he was in Mecca:Verily Allah and His Messenger have forbidden the sale of wine, carcass, swine and idols, It was said: Allah's Messenger, you see that the fat of the carcass is used for coating the boats and varnishing the hides and people use it for lighting purposes, whereupon he said: No, it is forbidden, Then Allah's Messenger (ﷺ) said: May Allah the Exalted and Majestic destroy the Jews; when Allah forbade the use of fat of the carcass for them, they melted it, and then sold it and made use of its price (received from it)
لیث نے ہمیں یزید بن ابی حبیب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال ، جب آپ مکہ ہی میں تھے ، فرماتے ہوئے سنا : " بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب ، مردار ، خنزیر اور بتوں کی بیع حرام قرار دی ہے ۔ " کہا گیا : اے اللہ کے رسول! مردار جانور کی چربی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، اس سے کشتیوں ( کے تختے ) کو روغن کیا جاتا ہے اور چمڑوں کو نرم کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ، وہ حرام ہے ۔ " پھر اسی وقت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ یہود کو ہلاک کرے! اللہ نے جب ان لے لیے ان جانوروں کی چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پھگلایا ، پھر اسے فروخت کیا اور اس کی قیمت لے کر کھائی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمُدَبَّرِ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ‏.‏
A hadith like this has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters
لیث بن سعد نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مدبر ( مالک کی موت کے بعد آزاد ہونے والے غلام ) کے بارے میں عمرو بن دینار سے روایت کردہ حماد کی حدیث کے ہم معنی روایت کی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ، بْنُ هِلاَلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، يَقُولُ رُمِيَ إِلَيْنَا جِرَابٌ فِيهِ طَعَامٌ وَشَحْمٌ يَوْمَ خَيْبَرَفَوَثَبْتُ لآخُذَهُ قَالَ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ ‏.‏
This tradition has been transmitted by a different chain of narrators with a different wording, the last in the chain being the same narrator, (i. e. 'Abdullah b. Mughaffal), who said:A bag containing food and fat was thrown to us. I lept forward to catch it. Then I turned round and saw (to my surprise) the Messenger of Allah (ﷺ) and I felt ashamed of my act in his presence
بہز بن اسد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے حمید بن ہلال نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کو یہ بتاتے ہوئے سنا : خیبر کے دن ہماری طرف چمڑے کا ایک تھیلا پھینکا گیا جس میں کھانا اور چربی تھی ، میں اسے پکڑنے کے لیے جھپٹا ۔ کہا : میں نے مڑ کر دیکھا تو ( پیچھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے ۔ تو مجھے آپ سے بہت حیا آئی ۔ ابوداود نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے "" چربی کا ( بھرا ہوا ) تھیلا "" کہا ، کھانے کا ذکر نہیں کیا
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي، رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَرْوِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Ibn 'Abbas that the messenger of Allah (ﷺ) said:One who found in his Amir something which he disliked should hold his patience, for one who separated from the main body of the Muslims even to the extent of a handspan and then he died would die the death of one belonging to the days of Jahiliyya
ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے حاکم سے بری بات دیکھے وہ صبر کرے اس لیے کہ جو جماعت سے بالشت بھر جدا ہوجاوے اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba through other chains of transmitters
یحییٰ بن سعید ، عبدالرحمان بن مہدی ، خالد بن حارث اورابو اسامہ ، سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث روایت کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ، بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَصَالِحٍ سُئِلَ عَنِ الْبِتْعِ وَهُوَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ كُلُّ شَرَابٍ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Zuhri with this chain of transmitters but in the hadith transmitted on the authority of Sufyan and Salih (these words are not found)" she was asked about Bit". (These words are found in the hadith) transmitted on the authority of Ma'mar and in the hadith transmitted on the authority of Salih (only these words are found) that she (Hadrat 'A'isha) had heard Allah's Messenger (ﷺ) say:Every intoxicating drink is forbidden
۔ ( سفیان ) ابن عیینہ صالح اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی سفیان اور صالح کی حدیث میں یہ ( الفاظ ) نہیں کہ " آپ سے شہد کی بنی ہو ئی شراب کے بارے میں پو چھا گیا " یہ الفا ظ معمر کی حدیث میں ہیں ۔ صالح کی حدیث میں ہے انھوں نے ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہو ئے سنا : " ہر نشہ آور مشروب حرام ہے ۔)
وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى قَالَ سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي يَدِ رَجُلٍ فَنَزَعَهُ فَطَرَحَهُ وَقَالَ ‏ "‏ يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى جَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ فَيَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُذْ خَاتَمَكَ انْتَفِعْ بِهِ ‏.‏ قَالَ لاَ وَاللَّهِ لاَ آخُذُهُ أَبَدًا وَقَدْ طَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abdullah b. 'Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) saw a person wearing a gold signet ring in his hand. He (the Holy Prophet) pulled it off and threw it away, saying:One of you is wishing live coal from Hell. and putting it on his hand. It was said to the person after Allah's Messenger (ﷺ) had left: Take your signet ring (of gold) and derive benefit out of it. whereupon he said: No, by Allah, I would never take it when Allah's Messenger (ﷺ) has thrown it away
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد غلام کریب نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہا تھا ( کی انگلی ) میں سونے کی انگوٹھی دیکھی ، آپ نے اس کو اتار کر پھینک دیا اور فرما یا " تم میں سے کوئی شخص آگ کا انگارہ اٹھا تا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں ڈال لیتا ہے ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جا نے کے بعد اس شخص سے کہا گیا : اپنی انگوٹھی لے لو اور اس سے کو ئی فائدہ اٹھا لو ۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم !میں اسے کبھی نہیں اٹھا ؤں گا ۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانُوا فى سَفَرٍ فَمَرُّوا بِحَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ فَلَمْ يُضِيفُوهُمْ ‏.‏ فَقَالُوا لَهُمْ هَلْ فِيكُمْ رَاقٍ فَإِنَّ سَيِّدَ الْحَىِّ لَدِيغٌ أَوْ مُصَابٌ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ نَعَمْ فَأَتَاهُ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأُعْطِيَ قَطِيعًا مِنْ غَنَمٍ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا ‏.‏ وَقَالَ حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا رَقَيْتُ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ‏.‏ فَتَبَسَّمَ وَقَالَ ‏"‏ وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ خُذُوا مِنْهُمْ وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id Khudri reported that some persons amongst the Companions of Allah's Messenger (ﷺ) set out on a journey and they happened to pass by a tribe from the tribes of Arabia. They demanded hospitality from the members of that tribe, but they did not extend any hospitality to them. They said to them:Is there any incantator amongst you, at the chief of the tribe has bgen stung by a scorpion? A person amongst us said: 'Yes. So he came to him and he practised incan- tation with the help of Sura al-Fatiha and the person became all right. He was given a flock of sheep (as recompense), but he refused to accept that, saying: I shall make a mention of it to Allah's Apostle (ﷺ), and if he approves of it. then I shall accept it. So we came to Allah's Apostle (ﷺ) and made a mention of that to him and he (that person) said: Allah's Messenger by Allah, I did not practice incantation but with the help of Sura al-Fatiha of the Holy Book. He (the Holy Prophet) smiled and said: How did you come to know that it can be used (as incactation)? - and then said: Take out of that and allocate a share for me along with your share
ہشیم نے ابو بشر سے ، انھوں نے ابو متوکل سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کے چند صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سفر میں تھے عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کے سامنے سے ان کا گزر ہوا انھوں نے ان ( قبیلے والے ) لوگوں سے چاہا کہ وہ انھیں اپنا مہمان بنائیں ۔ انھوں نے مہمان بنانے سے انکا ر کر دیا ، پھر انھوں نے کہا : کیا تم میں کو ئی دم کرنے والا ہے کیونکہ قوم کے سردار کو کسی چیز نے ڈس لیا ہے یا اسے کو ئی بیماری لا حق ہو گئی ہے ۔ ان ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) میں سے ایک آدمی نے کہا : ہاں پھر وہ اس کے قریب آئے اور اسے فاتحہ الکتاب سے دم کر دیا ۔ وہ آدمی ٹھیک ہو گیا تو اس ( دم کرنے والے ) کو بکریوں کاا یک ریوڑ ( تیس بکریاں ) پیش کی گئیں ۔ اس نے انھیں ( فوری طور پر ) قبول کرنے ( کا م میں لا نے ) سے انکا ر کر دیا اور کہا : یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کو ماجرا سنادوں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کی خدمت میں حا ضر ہوا اور سارا ماجرا آپ کو سنایا اور کہا اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !!میں فاتحہ الکتاب کے علاوہ اور کو ئی دم نہیں کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرما یا : " تمھیں کیسے پتہ چلا کہ وہ دم ( بھی ) ہے؟ " پھر انھیں لے لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
The above hadith has likewise been narrated through another chain of transmitters
معمر نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَغُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ الْخَلاَءَ فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلاَمٌ نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ ‏.‏
Anas b. Malik reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) entered the privy, a servant and I used to carry a skin of water, and a pointed staff, and he would cleanse himself with water
دو مختلف سندوں سے شعبہ سے روایت ہے ، انہوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے اور انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے خالی جگہ جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک لڑکا پانی کا برتن اور ایک نیزہ اٹھاتے ( اور دور تک آپ کا ساتھ دیتے ) اور آپ پانی سے استنجا کرتے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ، بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنَ النَّهَارِ لاَ يُكَلِّمُنِي وَلاَ أُكَلِّمُهُ حَتَّى جَاءَ سُوقَ بَنِي قَيْنُقَاعَ ثُمَّ انْصَرَفَ حَتَّى أَتَى خِبَاءَ فَاطِمَةَ فَقَالَ ‏"‏ أَثَمَّ لُكَعُ أَثَمَّ لُكَعُ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي حَسَنًا فَظَنَنَّا أَنَّهُ إِنَّمَا تَحْبِسُهُ أُمُّهُ لأَنْ تُغَسِّلَهُ وَتُلْبِسَهُ سِخَابًا فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ يَسْعَى حَتَّى اعْتَنَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:I went along with Allah's Messenger (ﷺ) at a time during the day but he did not talk to me and I did not talk to him until he reached the market of Bani Qainuqa`. He came back to the tent of Fatima and said: Is the little chap (meaning Hasan) there? We were under the impression that his mother had detained him in order to bathe him and dress him and garland him with a sweet garland. Not much time had passed that he (Hasan) came running until both of them embraced each other, thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: O Allah, I love him; love him Thou and love one who loves him (Hasan)
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے عبیداللہ بن ابی یزید سے ، انھوں نے نافع بن جبیر بن معطم سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دن کو ایک وقت میں نکلا ، کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بات کرتے تھے اور نہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتا تھا ( یعنی خاموش چلے جاتے تھے ) یہاں تک کہ بنی قینقاع کے بازار میں پہنچے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کے گھر پر آئے اور پوچھا کہ بچہ ہے؟ بچہ ہے؟ یعنی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا پوچھ رہے تھے ۔ ہم سمجھے کہ ان کی ماں نے ان کو روک رکھا ہے نہلانے دھلانے اور خوشبو کا ہار پہنانے کے لئے ، لیکن تھوڑی ہی دیر میں وہ دوڑتے ہوئے آئے اور دونوں ایک دوسرے سے گلے ملے ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور اس شخص سے محبت کر جو اس سے محبت کرے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْمُسْلِمُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنِ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ وَإِنِ اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ ‏"‏ ‏.‏
Nu'man b. Bashir reported that Muslims are like one body of a person; if the eye is sore, the whole body aches, and if the head aches, the whole body aches
خیثمہ ( بن عبدالرحمٰن ) نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان ( باہم ) ایک انسان کی طرح ہیں ، اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور اگر سر میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ ‏ "‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا فَكَمْ مِمَّنْ لاَ كَافِيَ لَهُ وَلاَ مُئْوِيَ ‏"‏ ‏.‏
Anas reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When you go to bed, say:" Praise is due to Allah Who fed us, provided us drink, sufficed us and provided us with shelter, for many a people there is none to suffice and none to provide shelter
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تو فرماتے : " اللہ تعالیٰ کی حمد ہے جس نے ہمیں کھلایا ، پلایا ، ( ہر طرح سے ) کافی ہوا اور ہمیں ٹھکانا دیا ۔ کتنے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے نہ ٹھکانہ دینے والا ۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ - عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ ‏.‏
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle (ﷺ) said:When the servant is placed in his grave and his friends retrace their steps. The rest of the hadith is the same as transmitted by Qatada
عبدالوہاب بن عطاء نے سعید ( بن ابی عروبہ ) سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب بندے کو قبر میں رکھا جا تا ہے اور اس کے ساتھی رخ موڑ کر چل پڑتے ہیں ۔ " اس کے بعد قتادہ سے شیبان کی بیان کردہ روایت کے مانند بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَهُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ قَالُوا أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ النَّضْرِ أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو قَتَادَةَ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ أُرَاهُ يَعْنِي أَبَا قَتَادَةَ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ وَيَقُولُ ‏"‏ وَيْسَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ يَقُولُ ‏"‏ يَا وَيْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the same authority but with this variation that the hadith transmitted on the authority of Nabra (the words are):One who is better than I informed me, and he was Abu Qatada, and in the hadith transmitted on the authority of Khalid instead of the word 'bu'us' there is 'wayys' or 'ya wayys', i.e., " how sad it is
اور خالد بن حارث اور نضر بن شمیل دونوں نے شعبہ سے روایت کی ، انھوں نے ابو مسلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ، البتہ نضر کی حدیث میں ہے ۔ مجھے مجھ بہتر شخص ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبردی ۔ اور خالد بن حارث کی حدیث میں ہے کہ انھوں نے کہا : میراخیال ہے ان کی مراد ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تھی ۔ اور خالد کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے ۔ " افسوس! " یا فرمایا " وائےافسوس ابن سمیہ پر
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ قَامَ رَجُلٌ يُثْنِي عَلَى أَمِيرٍ مِنَ الأُمَرَاءِ فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ وَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَحْثِيَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ ‏.‏
Abu Ma'mar reported that a person lauded a ruler amongst the rulers and Miqdad began to throw dust upon him and he said:Allah's Messenger (ﷺ) commanded us that we should throw dust upon the faces of those who shower too much praise
ابو معمر سے روایت ہے کہ ایک شخص کھڑاہوا امراء میں سے کسی امیر کی تعریف کرنے لگا توحضرت مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس شخص پر مٹی ڈالنے لگے ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیاتھا کہ ہم مدح سراؤں کے منہ میں مٹی ڈالیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهُ، لَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ ‏.‏ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى غُسْلِهِ فَسَتَرَتْ عَلَيْهِ فَاطِمَةُ ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ ثُمَّ صَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ سُبْحَةَ الضُّحَى ‏.‏
Umm Hani b. Abu Talib reported:It was the day of the conquest (of Mecca) that she went to the Messenger of Allah (ﷺ) and he was staying at a higher part (of that city). The Messenger of Allah (ﷺ) got up for his bath. Fatimah held a curtain around him (in order to provide him privacy). He then put on his garments and wrapped himself with that and then offered eight rak'ahs of the forenoon prayer
یزید بن ابی حبیب نے سعید بن ابی ہند سے روایت کی کہ عقیل بن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ ام ہانی بنت ابی طالبؓ نے انہیں بتایا کہ جس سال مکہ فتح ہوا وہ ےپ کے پاس حاضر ہوئیں ، آپ مکہ کے بالائی حصے میں تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نہانے کےلیے اٹھے تو فاطمہ ؓ نےآپ کے آگے پردہ تان دیا ، پھر ( غسل کے بعد ) آپ نے اپنا کپڑا لے کر اپنے گرد لپیٹا ، پھر آٹھ رکعتیں چاشت کی نفل پڑھیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَقَطَ مِنْ فَرَسِهِ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَيْسَ فِيهِ زِيَادَةُ يُونُسَ وَمَالِكٍ ‏.‏
Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) fell down from his horse and his right side was grazed, and the rest of the hadith is the same. In this hadith there are no additions (of words) as transmitted by Yunus and Malik
معمر نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے خبر دی کہ نبیﷺ گھوڑے سے گر پڑے جس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ... آگے سابقہ حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اس میں یونس اور مالک والا اضافہ نہیں ہے ۔