حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ - يَعْنِي الثُّومَ - فَلاَ يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ " . قَالَ زُهَيْرٌ فِي غَزْوَةٍ . وَلَمْ يَذْكُرْ خَيْبَرَ .
Ibn 'Umar reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said during the battle of Khaybar: He who ate of this plant, i. e. garlic, should not come to the mosques. In the narration of Zubair, there is only a mention of" battle" and not of Khaybar
محمد بن مثنیٰ اور زہیر بن حرب دونوں نے کہا : یحییٰ قطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوؤ خیبر کے موقع پر فرمایا : ’’جس نے اس پودے ۔ آپ کی مراد لہسن تھا ۔ میں سے کچھ کھایا ہو وہ مسجدوں میں ہرگز نہ آئے ۔ ‘ ‘ زہیر نے صرف غزوہ کہا ، خیبر کا نام نہیں لیا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ الْمَسْجِدَ فَقَالَ لِي " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " .
Jabir b. 'Abdullah reported:The Apostle of Allah (ﷺ) owed me a debt; he paid me back and made an addition (of this). I entered the mosque and he (the Holy Prophet) said to me: Observe two rak'ahs of prayer
سفیان بن محارب بن وثار سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے قرض تھا ، آپ نے اسے ادا کیا اور مجھے زائد رقم دی اور جب میں آپ کی مسجد میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " دو رکعت نماز ادا کرلو ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلاَّ كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لاَ يُؤْمَرُونَ فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ " . قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَحَدَّثْتُهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَأَنْكَرَهُ عَلَىَّ فَقَدِمَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَنَزَلَ بِقَنَاةَ فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَعُودُهُ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَمَّا جَلَسْنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثْتُهُ ابْنَ عُمَرَ . قَالَ صَالِحٌ وَقَدْ تُحُدِّثَ بِنَحْوِ ذَلِكَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ .
It is narrated on the authority 'Abdullah b. Mas'ud that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed:Never a Prophet had been sent before me by Allah towards his nation who had not among his people (his) disciples and companions who followed his ways and obeyed his command. Then there came after them their successors who said whatever they did not practise, and practised whatever they were not commanded to do. He who strove against them with his hand was a believer: he who strove against them with his tongue was a believer, and he who strove against them with his heart was a believer and beyond that there is no faith even to the extent of a mustard seed. Abu Rafi' said: I narrated this hadith to 'Abdullah b. 'Umar; he contradicted me. There happened to come 'Abdullah b. Mas'ud who stayed at Qanat, and 'Abdullah b 'Umar wanted me to accompany him for visiting him (as 'Abdullah b. Mas'ud was ailing), so I went along with him and as we sat (before him) I asked Ibn Mas'ud about this hadith. He narrated it in the same way as I narrated it to Ibn 'Umar
صالح بن کیسان نے حارث ( بن فضیل ) سے ، انہوں نے جعفر بن عبد اللہ بن حکم سے ، انہوں نے عبد الرحمٰن بن مسور سے ، انہوں نے ( رسول اللہ ﷺکے آزاد کردہ غلام ) ابو رافع سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ نے مجھ پر پہلے کسی امت میں جتنے بھی نبی بھیجے ، ان کی امت میں سے ان کے کچھ حواری اور ساتھی ہوتے تھے جوان کی سنت پر چلتے اور ان کے حکم کی اتباع کرتے تھے ، پھر ایسا ہوتا تھا کہ ان کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشیں بن جاتے تھے ۔ وہ ( زبان سے ) ایسی باتیں کہتے جن پر خود عمل نہیں کرتے تھے اور ایسے کا م کرتے تھے جن کا ان کو حکم نہ دیا گیا تھا ، چنانچہ جس نے ان ( جیسے لوگوں ) کے خلاف اپنے دست و بازو سے جہاد کیا ، وہ مومن ہے اور جس نے ان کے خلاف اپنی زبان سے جہاد کیا ، وہ مومن ہے اور جس نے اپنے دل سے ان کے خلاف جہاد کیا وہ بھی مومن ہے ( لیکن ) اس سے پیچھے رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہیں ۔ ‘ ‘ ابو رافع نے کہا : میں نے یہ حدیث عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو سنائی تو وہ اس کو نہ مانے ۔ اتفاق سے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی ( مدینہ ) آ گئے اور وادی قتاۃ ( مدینہ کی وادی ہے ) میں ٹھہرے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے بھی ان کی عیادت کے لیے اپنے ساتھ چلنے کو کہا ۔ میں ان کے ساتھ چلا گیا ہم جب جاکر بیٹھ گیا تو میں نےعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث اسی طرح سنائی جس طرح میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کوسنائی تھی ۔ صالح بن کیسان نےکہا : یہ حدیث ابو رافع سے ( براہ راست بھی ) اسی طرح روایت کی گئی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When any one of you observes the Jumu'a prayer (two obligatory rak'ahs in congregation), he should observe four (rak'ahs) afterwards
۔ خالد بن عبداللہ نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھ چکے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدٌ لِلَّهِ صَالِحٌ أَصْحَمَةُ " . فَقَامَ فَأَمَّنَا وَصَلَّى عَلَيْهِ .
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There died today the pious servant of Allah, Ashama. So he stood up and led us in (funeral prayer) over him
عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آج اللہ کا ایک نیک بندہ اصمحہ فوت ہوگیا ہے ۔ " اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، ہماری امامت کرائی اور اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّارَ فَأَعْرَضَ وَأَشَاحَ ثُمَّ قَالَ " اتَّقُوا النَّارَ " . ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " . وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو كُرَيْبٍ كَأَنَّمَا وَقَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ .
Adi b. Hatim reported that the Messenger of Allah (ﷺ) made a mention of Fire. He turned his face aside and diverted his attention and then said:Guard (yourselves) against Fire. He turned his face and diverted his attention till we thought as if he were (actually seeing it and then said: Protect yourselves against Fire even if it is with half a date, and he who does not find it, (he should do so) with pleasant words. Abu Kuraib did not mention the word: (as if)
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب دو نوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی انھوں نے عمرو بن مرہ سے انھوں نے خیثمہ سے انھوں نے حضرت عدی بن حا تم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گ کا تذکرہ فر ما یا تو چہرہ مبا رک ایک طرف موڑ ا اور اس میں مبا لغہ کیا پھر فر ما یا : "" آگ سے بچو ۔ پھر رخ مبا رک پھیرا اور دور ہو نے کا اشارہ کیا حتیٰ کہ ہمیں غمان ہوا جیسے آپ اس ( آگ ) کی طرف دیکھ رہے ہیں پھر فر ما یا : "" آگ سے بچو چا ہے آدھی کھجور کے ساتھ جسے ( یہ بھی ) نہ ملے تو اچھی بات کے ساتھ ۔ ابو کریب نےكانما ( جیسے ) کا ( لفظ ) ذکر نہیں کیا اور کہا : ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِيهِ يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَمَسْرُوقٍ أَنَّهُمَا دَخَلاَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ يَسْأَلاَنِهَا . فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
It is further narrated on the authority of Aswad and Masruq that they went to the Mother of the Believers and they asked her (and the rest of the hadith is the same)
یعقوب اسماعیل ، ابن عون ، ابراہیم ، اسود ، مسروق اس سند کے ساتھ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت اسود اور حضرت مسروق کہ بارے میں روایت ہے کہ وہ دونوں ام المومنین کے پاس آئے اور آپ سے پوچھا پھر آکر اسی طرح حدیث ذکر فرمائی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَمْسٌ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ حَرَامٌ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيهِنَّ الْعَقْرَبُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا " . وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى بْنِ يَحْيَى .
Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messen- ger (ﷺ) as saying:Five (are the animals) which, it one kills them In the state of Ihram, entail no sin for one (who does it): scorpion, rat, voracious dog, crow and kite
یحییٰ بن یحییٰ ، یحییٰ بن ایو ب قتیبہ اور ابن حجر نے اسما عیل بن جعفر سے حدیث بیان کی کہا : عبد اللہ بن دینا ر سے روایت ہے کہ انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" پانچ ( موذی جا نور ) ہیں جو انھیں احرا م کی حالت میں مار دے اس پر کو ئی گناہ نہیں ۔ چو ہا ، بچھو ، کوا چیل اور کا ٹنے والا کتا ۔ الفاظ یحییٰ بن یحییٰ کے ہیں
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِعْلَ عَائِشَةَ.
This hadith has been narrated on the authority of Sufyan with the same chain of transmitters, but he made no mention of the act of 'A'isha (being admitted as a wife in the house of the Holy Prophet)
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ ( یہ ) حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل ( خاندان کی بچیوں کا شوال میں شادی کرانے ) کا تذکرہ نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ " عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ " .
A hadith like this has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of narrators but with a slight variation of words
عبداللہ بن نمیر اور یزید بن ہارون ، دونوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اور دونوں نے کہا : " طہر کے آغاز میں تھوڑی سی قسط اور اظفار لگا لے
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ بَعْضِ، أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَهْلِ دَارِهِمْ مِنْهُمْ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَقَالَ " ذَلِكَ الرِّبَا تِلْكَ الْمُزَابَنَةُ " . إِلاَّ أَنَّهُ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا .
Bashair b. Yasir reported on the authority of some of the Companions of Allah's Messenger (ﷺ) among the members of his family among whom one was Sahl b. Abu Hathma that Allah's Messenger (ﷺ) forbade buying of fresh dates against dry dates and that it is Riba and this is Muzabana, but he made an exemption of 'ariyya (donations) of a tree or two in which case the members of a family sell dry dates and buy fresh dates for eating them
سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بُشیر بن یسار سے ، انہوں نے اپنے گھرانے سے تعلق رکھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ سے ، جن میں سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں ، روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( درخت پر لگے ) پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ۔ اور آپ نے فرمایا : " یہ سود ہے ، یہی ( بیع ) مزابنہ ( کھجور کے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرنا ) ہے ۔ " ہاں ، البتہ آپ نے عریہ کو بیچنے یا خریدنے کی اجازت دی ( عَرِیہ یہ ہے ) کہ کوئی خاندان ایک دو کھجور کے درخت ( جو بطور عطیہ دے گئے ) ان سے حاصل ہونے والی خشک کھجور کے اندازے کے مطابق لے لیں تاکہ وہ اس کا تازہ پھل کھائیں ( اور جنہیں درخت دیے گئے ہیں ، انہیں خشک کھجور دے دیں)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا - قَالَتْ - خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَسْجِدِ فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:When the concluding verses of Sura Baqara pertaining to Riba were revealed, Allah's Messenger (ﷺ) went out to the mosque and he forbade the trade in wine
اعمش نے ( ابوضحیٰ ) مسلم سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب سود کے بارے میں سورہ بقرہ کی آکری آیات نازل کی گئیں ، کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور آپ نے شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دیا
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرًا يَقُولُ دَبَّرَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ غُلاَمًا لَهُ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَاعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ جَابِرٌ فَاشْتَرَاهُ ابْنُ النَّحَّامِ عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ .
Jabir is reported to have said:A person amongst the Ansar who had no other property declared a slave free after his death. Allah's Messenger (ﷺ) sold him, and Ibn al-Nahham bought him and he was a Coptic slave (who) died in the first year of the Caliphate of Ibn Zubair
سفیان بن عیینہ نے کہا : عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : انصار کے ایک آدمی نے اپنی موت کے بعد اپنے غلام کے آزاد ہونے کی وصیت کی ، کہا : اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فروخت کر دیا ‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اسے ابن نحام نے خریدا ، وہ قبطی غلام تھا ، حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے پہلے سال فوت ہوا
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - حَدَّثَنَا حُمَيْدُ، بْنُ هِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ أَصَبْتُ جِرَابًا مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ - قَالَ - فَالْتَزَمْتُهُ فَقُلْتُ لاَ أُعْطِي الْيَوْمَ أَحَدًا مِنْ هَذَا شَيْئًا - قَالَ - فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَبَسِّمًا .
It has been narrated on the authority of Abdullah b. Mughaffal who said I found a bag containing fat on the day of the Battle of Khaibar. I caught hold of it and said:I will not give anything today from it to anybody. Then I turned round and saw that the Messenger of Allah (ﷺ) was smiling (at my words)
ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے عبداللہ بن مغفل سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : خیبر کے دن مجھے چربی کا ( بھرا ہوا ) چمڑے کا ایک تھیلا ملا ۔ کہا : میں نے اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا اور کہا : آج کے دن میں اس میں سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا ۔ کہا : میں نے مڑ کر دیکھاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . أَمَّا ابْنُ الْمُثَنَّى فَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي الْحَدِيثِ وَأَمَّا ابْنُ بَشَّارٍ فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
This hadlth has been narrated on the authority of Jarir with the same chain of transmitters with a slight variation in wording
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ، بْنَ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ دَارَ الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ .
Hishim b. Zaid b. Anas b. Milik reported:I visited the house of al-Hakam b. Ayyub along with my grandfather Anas b. Milik, (and there) some people had made a hen a target and were shooting arrows at her. Thereupon Asas said that Allah's Messenger (ﷺ) had forbidden tying of the animals (and making them the targets of arrows, etc)
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ہشام بن زید بن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں اپنے دادا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے ہاں آیا ، وہاں کچھ لوگ تھے ، انھوں نے ایک مرغی کو باندھ کر حدف بنایا ہوا تھا ( اور ) اس پر تیر اندازی کی مشق کررہے تھے ، کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر مارا جائے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْبِتْعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " .
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) was asked about it, whereupon he said that everything that causes intoxication is forbidden
یو نس نے ابن شہا ب سے انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے روایت کی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کہتے ہو ئے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی بنی ہو ئی شراب کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فر ما یا : " ہر مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
The previous hadith is narrated through another chain of transmitters
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ۔ اور ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے ، کہا : میں نے نضر بن انس سے سنا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ فَقَالَ " اعْرِضُوا عَلَىَّ رُقَاكُمْ لاَ بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ " .
Auf b. Malik Ashja'i reported We practised incantation in the pre-Islamic days and we said:Allah's Messenger. what is your opinion about it? He said: Let me know your incantation and said: There is no harm in the incantation which does not smack of polytheism
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : ہم زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اپنے دم کے کلمات میرے سامنے پیش کرو دم میں کو ئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، أَبْصَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ الْحَسَنَ فَقَالَ إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ وَاحِدًا مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ مَنْ لاَ يَرْحَمْ لاَ يُرْحَمْ " .
Abu Huraira reported that al-Aqra' b. Habis saw Allah's Apostle (ﷺ) kissing Hasan. He said:I have ten children, but I have never kissed any one of them, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: He who does not show mercy (towards his children), no mercy would be shown to him
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی کہ اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بوسہ دے رہے تھے ، انھوں نے کہا : میرے دس بچے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو کبھی بوسہ نہیں دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ حَائِطًا وَتَبِعَهُ غُلاَمٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ هُوَ أَصْغَرُنَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ سِدْرَةٍ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَاجَتَهُ فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاءِ .
Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) entered an enclosure while a servant was following him with a jar of water and he was the youngest amongst us and he placed it by the side of a lote-tree. When the Messenger of Allah, (ﷺ) relieved himself, he came out and had cleansed himself with water
خالد ( ھذاء ) نے عطاء بن ابی میمونہ سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک احاطے میں داخل ہوئے اور آپ کے پیچھے ایک لڑکا بھی چلا گیا جس کے پاس وضو کا برتن تھا ، وہ ہم میں سب سے چھوٹا تھا ، اس نے اسے ایک بیری کےدرخت کے پاس رکھ دیا ، رسول اللہ ﷺ نے قضائے حاجت کی اور پانی سے استنجا کر کے ہمارے پاس تشریف لائے ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ لِحَسَنٍ " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying to Hasan:O Allah, behold, I love him. Thou too love him and love one who loves him
احمد بن حنبل نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عبیداللہ بن ابی یزید نے نافع بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روایت کی کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق فرمایا : " اے اللہ! میں اس سے محبت کرتاہوں ، تو ( بھی ) اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے ، اس سے ( بھی ) محبت فرما ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنِ اشْتَكَى رَأْسُهُ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّى وَالسَّهَرِ " .
Nu'man b. Bashir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The believers are like one person; if his head aches, the whole body aches with fever and sleeplessness
وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان ( باہم ) ایک ہی انسان کی طرح ہیں ، اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بخار اور بے خوابی کے ذریعے سے باقی سارا جسم اس کا ساتھ دیتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " ثُمَّ لْيَقُلْ بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي فَإِنْ أَحْيَيْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا " .
This hadith has been narrated on the authority of Ubaidullah b. Umar with the same chain of transmitters and he said:Then utter:" My Lord. with Thine name I place my side and if Thou keepest me alive have mercy upon myself
عبدہ نے عبیداللہ بن عمر سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی اور کہا : " پھر وہ یہ ہے : تیرے نام سے اے پروردگار! میں نے اپنا پہلو ٹکایا ، اگر تو نے میری جان کو زندہ کیا تو اس پر رحمت فرمانا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا انْصَرَفُوا " .
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:When the dead body. is placed in the grave, he listens to the sound of the shoes (as his friends and relatives return after burying him)
یزید بن زریع نے کہا : ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میت کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو لوگوں کے واپس جاتے وقت وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ، هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَمَّارٍ حِينَ جَعَلَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَجَعَلَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ " بُؤْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ فِئَةٌ بَاغِيةٌ " .
Abu Sa`id Khudri reported:One who is better than I informed me, that Allah's Messenger (ﷺ) said to `Ammar as he was digging the ditch (on the ocassion of the Battle of the Ditch) wiping over his head: O son of Summayya, you will be involved in trouble and a group of the rebels would kill you
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو مسلمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابو نضرہ سے سنا ، وہ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر رہے تھے انھوں نے کہا : ایک ایسے شخص نے مجھے بتایا جو مجھ سے بہتر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ نے خندق کھودنے کا آغاز کیاتو عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک بات ارشاد فرمائی ، آپ ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور فرمانے لگے ۔ سمیہ کے بیٹے کی مصیبت !تمھیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ فَقَالَ " لَقَدْ أَهْلَكْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ " .
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) saw a person lauding another person or praising him too much. Thereupon he said:You killed him, or you sliced the back of a person
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا ، وہ کسی آدمی کی تعریف کررہا تھا ، تعریف میں اسے بہت بڑھا چڑھا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگوں نے اس کو ہلاک کرڈالا یا ( فرمایا : ) تم لوگوں نے اس آدمی کی کمرتوڑ دی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ . وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ .
Umm Hani b. Abu Talib reported:I went to the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of the conquest (of Mecca) and found him take a bath. while his daughter Fatimah was holding a curtain around him
ابونضر سے روایت ہے کہ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب ؓ کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے خبر دی کہ انہوں نے ام ہانی ؓ سے سنا ، وہ کہتی تھی کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی ، میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا ، آپ کی بیٹی فاطمہ ؓ نے ایک کپڑے کے ذریعے سے آپ ( کے آگے ) پردہ بنایا ہوا تھا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ . بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَفِيهِ " إِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا " .
Anas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) rode a horse and fell down from it and his right side was grazed, and the rest of the hadith is the same, and (these words) are found in it:" When he (the Imam) says prayer in an erect posture, you should also say it in an erect posture
مالک بن انس نے زہری سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اس سے گر پڑے ، اس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا .... آگے مذکورہ بالا تینوں راویوں کی طرح روایت کی اور اس میں ( بھی یہ ) ہے : ’’ جب وہ ( امام ) کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘