بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
28 hadith
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِي أَبُو حَزْرَةَ الْقَاصُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ قِصَّةَ الْقَاسِمِ ‏.‏
Abdullah b. 'Atiq narrated from the Apostle (ﷺ) on the authority of 'A'isha, but he made no mention of the account of Qasim
اسماعیل بن جعفر نے کہا : مجھے ابو حزرہ القاص ( یققوب بن مجاہد ) نے عبداللہ بن ابی عتیق سے خبر دی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اسی کے مانند روایت کی اور حدیث میں قاسم کا واقعہ بیان نہ کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمِ بْنِ خَلْدَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَىِ النَّاسِ - قَالَ - فَجَلَسْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُكَ جَالِسًا وَالنَّاسُ جُلُوسٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلاَ يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Qatada, a Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), said:I entered the mosque, when the Messenger of Allah (ﷺ) had been sitting among people, and I also sat down among them. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: What prevented you from offering two rak'ahs (of Nafl prayer) before sitting down? I said: Messenger of Allah, I saw you sitting and people sitting (around you and I, therefore, sat in your company). He (the Holy Prophet) then said: When anyone among you enters the mosque, he should not sit till he has observed two rak'ahs
محمد بن یحییٰ بن حبان نے عمرو بن سلیم بن خلدہ انصاری سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، کہا : میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے کہا : تو میں بھی بیٹھ گیا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمھیں بیٹھنے سے پہلے دو رکعات نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ " میں نے عرض کی : اےا للہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے آپ کو بیٹھتے دیکھا ہے اور لوگ بھی بیٹھے تھے ( اس لئے میں بھی بیٹھ گیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو دو رکعت نماز پڑھےبغير نہ بیٹھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فِي قِصَّةِ مَرْوَانَ وَحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ ‏.‏
The same hadith of the Prophet (may peace and blessings be upon him) has been reported by Abu Sa'id al-Khudri in connection with the story of Marwan
اعمش نے اسماعیل بن رجاء سے ، انہوں نے اپنے والد ( رجاء بن ربیعہ ) سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، نیز اعمش نے قیس بن مسلم سے ، انہوں نے طارق بن شہاب سے اور انہوں نے ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے مروان کا مذکورہ بالا واقعہ اور ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی حدیث جو انہوں نے نبی ﷺ سے سنی ، اسی طرح بیان کی جس طرح شعبہ اور سفیان نے بیان کی ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏.‏ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِـ ‏{‏ الم * تَنْزِيلُ‏}‏ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى وَفِي الثَّانِيَةِ ‏{‏ هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا‏}‏
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in the dawn prayer on Friday:" Alif-Lam-Mim, Tanzil" in the first rak'ah, and in the second one:" Surely there came over the man a time when he was nothing that could be mentioned
۔ ابراہیم بن سعد نے اپنے والد ( سعد بن ابراہیم ) سے ، انھوں نے عبدالرحمان اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن صبح کی نماز کی پہلی رکعت میں الم ﴿﴾ تَنزِيلُ الْكِتَابِ اور دوسری رکعت میں هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ‌لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورً‌ا پڑھتے تھے ۔ ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى
Jabir b. 'Abdullah reported that the Messenger of Allah (ﷺ) offered prayer for Ashama, the Negus, and recited four takbirs
سعید بن میناء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصمحہ نجاشی کی نمازجنازہ ادا کی تو اس پر چار تکبیریں کہیں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ، بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلاَّ مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلاَّ مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلاَ يَرَى إِلاَّ النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ ابْنُ حُجْرٍ قَالَ الأَعْمَشُ وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ ‏"‏ وَلَوْ بِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ قَالَ الأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ ‏.‏
Adi b. Hatim reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah will speak with everyone amongst you without any interpreter between them. He (the man) would see towards his right and would not find anything but (the deeds) which he had done before, and he would see towards the left and would not find anything but (the deeds) which he had done before. He would see in front of him and would find nothing but Fire just before his face. So protect (yourselves) against Fire even if it is with the help of half a date. A hadith like this has been transmitted by Khaithama and addition has been made in this of (these words) ;" Even if it is with a good word
علی بن حجر سعدی اسحاق بن ابرا ہیم اور علی بن خشرم میں سے علی بن حجر نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یو نس نے حدیث بیا ن کی اور باقی دو نوں نے کہا : ہمیں خبر دی انھوں نے کہا : ہمیں اعمش نے خثیمہ کے واسطے سے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : تم میں سے کو ئی نہیں مگر عنقریب اللہ اس طرح اس سے بات کرے گا کہ اس کے اور اللہ تعا لیٰ کے درمیان کوئی تر جمان نہیں ہو گا ۔ اور اپنی دا ئیں جا نب دیکھے گا تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنی بائیں جا نب دیکھے گا تو وہی کچھ دکھا ئی دے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنے آگے دیکھے گا تو اسے اپنے منہ کے سامنے آگ دکھا ئی دے گی اس لیے آگ سے بچو اگر چہ آدھی کھجور کے ذریعے ہی سے کیوں نہ ہو ۔ "" ( علی ) بن حجر نے اضافہ کیا : اعمش نے کہا : مجھے عمرو بن مرہ نے خیثمہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی اور اس میں اضافہ کیا : چا ہے پا کیزہ بو ل کے ساتھ ( بچو ۔ ) اسحاق نے کہا : اعمش نے کہا : عمرو بن مرہ سے روایت ہے ( کہا ) خیثمہ سے روا یت ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، إِلَى عَائِشَةَ - رضى الله عنها - فَقُلْنَا لَهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ نَعَمْ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لإِرْبِهِ أَوْ مِنْ أَمْلَكِكُمْ لإِرْبِهِ ‏.‏ شَكَّ أَبُو عَاصِمٍ ‏.‏
Aswad reported:I and Masruq went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and asked. her if the Messenger of Allah (ﷺ) embraced (his wives) while fasting. She said: Yes; but he had the greatest control over his desire among you: or he was one of those who had control over his desire
محمد بن مثنی ، ابو عاصم ، ابن عون ، ابراہیم ، اسود ، فرماتے ہیں کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں آئے تو ہم نے آپ سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی کسی زوجہ سے بغل گیر ہوجایا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ہاں لیکن آپ تو تم میں سب سے زیادہ اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنے والے تھے یا فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جو آپ کی طرح اپنے جذبات قابو میں رکھ سکے ابو عاصم راوی کو شک ہے ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے)
وَحَدَّثَنِيهِ فَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ خَمْسٌ لاَ جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَا قُتِلَ مِنْهُنَّ فِي الْحَرَمِ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ‏
(This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar through be upon him) as saying:Five (are the beasts) in killing which or their being killed in the precinct of the Ka'ba there is no sin." The rest of the hadith is the same
محمد بن اسحا ق نے نافع اور عبید اللہ بن عبد اللہ سے خبر دی انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : میں ان میں سے جو بھی حرم میں قتل کر دیا جا ئے اس کے قتل پر کو ئی گنا ہ نہیں ۔ پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ فَأَىُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي ‏.‏ قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Allah's Messenger (ﷺ) contracted marriage with me in Shawwal and took me to his house as a bride during Shawwal. And who among the wives of Allah's Messenger (ﷺ) was dearer to him than I, and' A'isha liked that the women (of her family) should enter the houses as brides during the month of Shawwal
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے اسماعیل بن امیہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن عروہ سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں میرے ساتھ نکاح کیا ، اور شوال ہی میں میرے ساتھ گھر بسایا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کون سی بیوی آپ کے ہاں مجھ سے زیادہ خوش نصیب تھی؟ ( عروہ نے ) کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی تھیں کہ اپنی ( رشتہ دار اور زیر کفالت ) عورتوں کی رخصتی شوال میں کریں ۔ ( جبکہ عربوں میں پرانا تصور یہ تھا کہ شوال میں نکاح اور رخصتی شادی کے لئے ٹھیک نہیں)
وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ وَلاَ تَكْتَحِلُ وَلاَ تَمَسُّ طِيبًا إِلاَّ إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ ‏"‏ ‏.‏
Umm `Atiyya (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger (ﷺ) had said:A woman must not observe mourning for one who had died for more than three (days) except for four months and ten days in the case of her husband. And she must not wear a dyed garment except one of the types made of dyed yarn, or apply collyrium, or touch perfume except a little perfume or incense, when she has been purified after her courses
ابن ادریس نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی عورت کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے ، مگر خاوند پر ، ( اس پر ) چار مہینے دس دن ( سوگ منائے ) نہ وہ عَصب کے خانہ دار کپڑے کے سوا کوئی رنگا ہوا کپڑا پہنے ، نہ سرمہ لگائے ، مگر ( اس دوران میں ) جب ( حیض سے ) پاک ہو تو معمولی سی قُسط یا اظفار ( جیسی کوئی چیز ) استعمال کر لے ۔ " ( یہ دونوں خوشبوئیں نہیں ، صرف بدبو کو زائل کرنے والے بخور ہیں)
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا ‏.‏
Nafi, reported this hadith with the same chain of transmitters stating that Allah's Messengtr (ﷺ) granted concession in case of 'ariyya transactions (for exchange of the same commodity) with measure
ایوب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی بیع میں اس کے اندازے کی مقدار ( کے حساب سے لین دین ) کی اجازت دی
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاقْتَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ نَهَى عَنِ التِّجَارَةِ فِي الْخَمْرِ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:When the concluding verses of Sura Baqara were revealed, Allah's Messenger (ﷺ) went out and read them out to the people and then forbade them to trade in wine
منصور نے ابوضحیٰ ( مسلم بن صبیح ) سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب سورہ بقرہ کے آخری حصے کی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے ۔ آپ نے لوگوں کے سامنے ان کی تلاوت کی ، پھر آپ نے شراب کی تجارت سے بھی منع فرما دیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ أَعْتَقَ غُلاَمًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ‏"‏ ‏.‏ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah said that a person among the Ansar declared his slave free after his death, as he had no other property. This news reached the Messenger of Allah (ﷺ) and he said:Who will buy him from me? And Nu'aim b. al-Nahham bought him for eight hundred dirhams and he handed them over to him, 'Amr (one of the narrators) said: I heard Jabir b. 'Abdullah as saying: He was a Coptic slave, and he died in the first year (of the Caliphate of 'Abdullah b. Zubair)
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انصار میں سے ایک آدمی نے اپنی موت کے بعد اپنے غلام کو آزاد قرار دیا ، اس کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہ تھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : "" اس ( غلام ) کو مجھ سے کون خریدے گا؟ "" اسے نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا تو آپ نے وہ ( رقم ) اس آدمی کے حوالے کر دی ۔ عمرو نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : وہ قبطی غلام تھا ( ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے ) پہلے سال فوت ہوا ۔ ( اپنی فوت کے بعد غلام کو آزاد کرنے والے کو ایک تہائی سے زیادہ ترکے میں وصیت کا اختیار ہی نہ تھا)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، الْقَيْسِيُّ كُلُّهُمْ عَنِ الْمُعْتَمِرِ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي شَيْبَةَ - حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، - وَقَالَ حَامِدٌ وَابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى أَنَّ الرَّجُلَ، - كَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم النَّخَلاَتِ مِنْ أَرْضِهِ ‏.‏ حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مَا كَانَ أَعْطَاهُ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْأَلَهُ مَا كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِيهِنَّ فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي وَقَالَتْ وَاللَّهِ لاَ نُعْطِيكَاهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ ‏.‏ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا أُمَّ أَيْمَنَ اتْرُكِيهِ وَلَكِ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَتَقُولُ كَلاَّ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ ‏.‏ فَجَعَلَ يَقُولُ كَذَا حَتَّى أَعْطَاهَا عَشْرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهِ ‏.‏
It has been narrated by Anas that (after his migration to Medina) a person placed at the Prophet's (ﷺ) disposal some date-palms growing on his land until the lands of Quraiza and Nadir were conquered. Then he began to return to him whatever he had received. (In this connection) my people told me to approach the Messenger of Allah (ﷺ) and ask from him what his people had given him or a portion thereof, but the Messenger of Allah (ﷺ) had bestowed those trees upon Umm Aiman. So I came to the Prophet (ﷺ) and he gave hem (back) to me. Umm Aiman (also) came (at this time). She put the cloth round my neck and said:No, by Allah, we will not give to, you what he has granted to me. The Prophet (ﷺ) said: Umm Aiman, let him have them and for you are such and such trees instead. But she said: By Allah, there is no god besides Him. No, never! The Prophet (ﷺ) continued saying: (You will get) such and such. until he had granted her ten times or nearly ten times more (than the original gift)
ابوبکر بن ابی شیبہ ، حامد بن عمر بکراوی اور محمد بن عبدالاعلیٰ قیسی ، سب نے معتمر سے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں ۔ ہمیں معتمر بن سلیمان تیمی نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ کوئی آدمی ۔ ۔ جبکہ حامد اور عبدالاعلیٰ نے کہا : کوئی مخصوص آدمی ۔ ۔ اپنی زمین سے کھجوروں کے کچھ درخت ( فقرائے مہاجرین کی خبر گیری کے لیے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص کر دیتا تھا ، حتی کہ قریظہ اور بنونضیر آپ کے لیے فتح ہو گئے تو اس کے بعد جو کسی نے آپ کو دیا تھا ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرنا شروع کر دیا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ سے وہ سب یا اس کا کچھ حصہ مانگوں ، جو ان کے گھر والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا ۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے وہ سب کا سب مجھے دے دیا ، اس پر ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں ، میرے گلے میں کپڑا ڈالا اور کہنے لگیں : اللہ کی قسم! ہم وہ ( درخت ) تمہیں نہیں دیں گے ، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمیں دے چکے ہیں ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ام ایمان! اسے چھوڑ دو ، اتنا اتنا تمہارا ہوا وہ کہتی تہیں : ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! اور آپ اسی طرح فرماتے رہے حتی کہ آپ نے اسے دس گنا یا تقریبا دس گنا عطا فرما دیا
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ ثُمَّ مَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَمَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِلْعَصَبَةِ وَيُقَاتِلُ لِلْعَصَبَةِ فَلَيْسَ مِنْ أُمَّتِي وَمَنْ خَرَجَ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا لاَ يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلاَ يَفِي بِذِي عَهْدِهَا فَلَيْسَ مِنِّي ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Whoever defects from obedience (to the Amir) and separates from the main body of the Muslim - and dies in that state - dies the death of one belonging to the days of jahiliyya. And he who is killed under the banner of a man who is blind (to the cause for which he is fighting), who gets flared up with family pride and fights for his tribe is not from my Ummah, and whosoever from my followers attacks my followers (indiscriminately) killing the righteous and the wicked of them, sparing not (even) those staunch in faith and fulfilling not his obligation towards them who have been given a pledge (of security), is not from me (i.e. is not my follower)
۔ ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا جو شخص اطاعت سے نکل جاوے اور جماعت چھوڑ دے پھ رمرے تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہوگی اور جو شخص ایذا دھندہ جھندے کے تلے مارا جاوے جو غصہ ہوتا ہو قوم کے پاس سے اور لڑتا ہو قوم کے خیال سے وہ میرے امت میں سے نہیں ہیں اور جو میری امت پر نکلے مارتا ہوا ان کے نیکوں اور بدوں کو مومن کو بھی نہ چھوڑے جس سے عہد ہو وہ بھی پورا نہ کرے تو وہ میری امت میں نہیں ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، بِإِسْنَادِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Khalid al-Hadhdha' through different chains o transmitters
ہشیم ، عبدالوہاب ثقفی ، شعبہ ، سفیان اور منصور ، سب نے خالد حذا ء سے ابن علیہ کی سند سے اور اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْبِتْعِ فَقَالَ ‏ "‏ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported:Allah's Messenger (ﷺ) was asked about Bit'i, whereupon he said: Every drink that causes intoxication is forbidden
امام مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی بنی ہو ئی شراب کے متعلق سوال کیا گیا آپ نے فرمایا : " ہر مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ‏.‏
Abu Huraira reported that Allah's Apostle (ﷺ) forbade the wearing of gold signet ring
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نضر بن انس سے ، انھوں نے بشیر نہیک سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی ( پہننے ، استعمال کرنے ) سے منع فرما یا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرُّقَى فَجَاءَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ وَإِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى ‏.‏ قَالَ فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ مَا أَرَى بَأْسًا مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) prohibited incantation. Then the people of Amr b. Hazm came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:We know an incantation which we use for curing the sting of the scorpion but you have prohibited it. They recited (the words of incantation) before him, whereupon he said: I do not see any harm (in it), so he who amongst you is competent to do good to his brother should do that
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے سفیان سے ، انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنے سے منع فرما دیا تو عمرو بن حزم کا خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہوا اور عرض کی ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس دم ( کرنے کا ایک کلمہ ) تھا ۔ ہم اس سے بچھو کے ڈسے ہو ئے کو دم کرتے تھے اور آپ نے دم کرنے سے منع فر ما دیا ۔ انھوں ( جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : تو انھوں نے وہ پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں ( اس میں کو ئی ) حرج نہیں سمجھتا ۔ تم میں سے جو کوئی اپنے بھا ئی کو فائدہ پہنچاسکتا ہو تو وہ ضرور اسے فائدہ پہنچائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَدِمَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ فَقَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَقَالُوا لَكِنَّا وَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَأَمْلِكُ إِنْ كَانَ اللَّهُ نَزَعَ مِنْكُمُ الرَّحْمَةَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ ‏"‏ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ ‏"‏ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported that there came a few desert Arabs to Allah's Messenger (ﷺ) and said:Do you kiss your children? He said: Yes. Thereupon they said: By Allah but we do not kiss our children. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Then what can I do if Allah has deprived you of mercy? Ibn Numair said: (We has deprived) your heart of mercy
ابو اسامہ اور ابن نمیر نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س بادیہ سے کچھ لوگ آئےاور انھوں نےپوچھا : کیا آپ لوگ اپنے بچوں کو کچھ بوسہ دیتے ہیں؟لوگوں نے کہا : ہاں ، تو ان لوگوں نے کہا : لیکن واللہ! ہم تو اپنے بچوں کو بوسہ نہیں دیتے ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اگر اللہ تعالیٰ نے تمھارے اندر سے رحمت نکال دی ہے ( تو کیا ہوسکتا ہے! ) "" ابن نمیر کی روایت میں ہے : "" تمھارے دل سے رحمت نکال دی ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَمَا اللَّعَّانَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ فِي ظِلِّهِمْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Be on your guard against two things which provoke cursing. They (the companions present there) said: Messenger of Allah, what are those things which provoke cursing? He said: Easing on the thoroughfares or under the shades (where they take shelter and rest)
حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’تم دو سخت لعنت والے کاموں سے بچو ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !سخت لعنت والے وہ دو کام کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ’’جو انسان لوگوں کی گزرگاہ میں یا ان کی سایہ دار جگہ میں ( جہاں وہ آرام کرتے ہیں ) قضائے حاجت کرتا ہے ( لوگ ان دونوں کاموں پر اس کو سخت برا بھلا کہتے ہیں ۔ ) ‘ ‘
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Abu Ishaq with the same chain of transmitters
سفیان نے ابو اسحٰق سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ، بَشِيرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ ‏.‏
Nu'man b. Bashir reported a hadith like this from Allah's Apostle (ﷺ)
مطرف نے شعبی سے ، انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( گزشتہ حدیث ) کی طرح روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَأْخُذْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ وَلْيُسَمِّ اللَّهَ فَإِنَّهُ لاَ يَعْلَمُ مَا خَلَفَهُ بَعْدَهُ عَلَى فِرَاشِهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَضْطَجِعَ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ وَلْيَقُلْ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبِّي بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as say- ing:When any one of you goes to bed, he should take hold of the hem of his lower garment and then should clean (his bed) with the help of that and then should recite the name of Allah for he himself does tiot know what he left behind him on his bed, and when he intends to lie on bed, he should lie on his right side and utter these words:" Hallowed be Allah, my Lord. It is with Thine (grace) that I place my side (upon the bed) and it is with Thee that I take it up (after sleep), and in case Thou withholdst my being (if thou causest me to die), then grant pardon to my being, and if Thou keepst (this process of breathing on), then protect it with that with which Thou protected Thine pious servants
انس بن عیاض نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر پر لیٹنا چاہے تو اپنے تہبند کا اندرونی حصہ لے کر اس سے اپنے بستر کو جھاڑے ، پھر بسم اللہ کہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس ( کے اٹھ جانے ) کے بعد اس کے بستر پر ( مخلوقات میں سے ) کون آیا؟ پھر جب لیٹنا چاہے تو اپنی دائیں کروٹ لیٹے اور کہے : " میرے پروردگار! تو ( ہر نا شایان بات سے ) پاک ہے ، میں نے تیرے ( حکم ) سے اپنا پہلو ( بستر پر ) رکھا اور تیرے ہی حک سے اسے اٹھاؤں گا اگر تو نے میری روح کو ( اپنے پاس ) روک لیا تو اس کی مغفرت کر دینا اور اگر تو نے اسے ( واپس ) بھیج دیا تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمانا جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولاَنِ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ وَذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَيُمْلأُ عَلَيْهِ خَضِرًا إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ‏.‏
Anas b. Malik reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:When the servant is placed in his grave, his companions retrace their steps, and he hears the noise of their footsteps, two angels come to him and make him sit and say to him: What you have to say about this person (the Prophet)? If he is a believer, he would say: I bear testimony to the fact that he is a servant of Allah and His Messenger. Then it would be said to him: Look to your seat in the Hellfire, for Allah has substituted (the seat of yours) with a seat in Paradise. Allah's Messenger (ﷺ) said: He would be shown both the seats. Qatada said: It was mentioned to us that his grave (the grave of a believer) expands to seventy cubits and is full with verdure until the Day when they would be resurrected
شیبان بن عبد الرحمٰن نے قتادہ سے روایت کی کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اوراس کے ساتھی اسے چھوڑکرواپس جاتے ہیں تو وہ ( بندہ ) ان کے جوتوں کی آہٹ سنتاہے ۔ "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کے پاس دوفرشتے آتے ہیں اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتےہیں ۔ تم اس آدمی کے متعلق ( دنیامیں ) کیاکہاکرتے تھے؟ "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جہاں تک مومن ہے تووہ کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ "" فرمایا : "" تو اس سے کہاجائے گا ۔ تم دوزخ میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمھیں جنت میں ایک ٹھکانا دے دیا ہے ۔ "" اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ اپنے دونوں ٹھکانوں کو ایک ساتھ دیکھے گا ۔ قتادہ نے کہا : اور ہم سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کی قبر میں ستر ہاتھ وسعت کردی جاتی ہے اور قیامت تک اس کی قبر میں ترو تازہ نعمتیں بھردی جاتی ہیں ۔
وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا فَقَالَ رَجُلٌ مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفْضَلُ مِنْهُ ‏.‏
his hadith has been transmitted on the authority of Shu'ba with a slight variation of wording
ہاشم بن قاسم اور شبابہ بن سوار دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ یزید بن زریع کی حدیث کے مانند بیان کیا ، ان دونوں کی روایتوں میں یہ نہیں کہ ا س شخص نے کہا : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص اس ( آدمی ) سے افضل نہیں ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلاَ تَقْضِي الصَّلاَةَ فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قُلْتُ لَسْتُ بِحَرُورِيَّةٍ وَلَكِنِّي أَسْأَلُ ‏.‏ قَالَتْ كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلاَ نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلاَةِ ‏.‏
Mu'adha said:I asked 'A'isha: What is the reason that a menstruating woman completes the fasts (that she abandons during her monthly course). but she does not complete the prayers? She (Hadrat 'A'isha) said: Are you a Haruriya? I said: I am not a Haruriya, but I simply want to inquire. She said: We passed through this (period of menstruation), and we were ordered to complete the fasts, but were not ordered to complete the prayers
عاصم نے معاذہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عائشہ ؓ سے سوال کیا ، میں نے کہا : حائضہ عورت کا یہ حال کیوں ہے کہ وہ روزوں کی قضا دیتی ہے نماز کی نہیں ؟ انہوں نے فرمایا : کیا تم حروریہ ہو ؟ میں نے عرض کی : میں حروریہ نہیں ، ( صرف ) پوچھنا چاہتی ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : ہمیں بھی حیض آتا تھا تو ہمیں روزوں کی قضا دینے کا حکم دیا جاتا تھا ، نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صُرِعَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا وَزَادَ ‏ "‏ فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) fell down from a horse and his right side was grazed, and the rest of the hadith is the same with the addition of these words:" When he (the Imam) says prayer standing, you should also do so
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ گھوڑے سے گر گئے اور آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ... پھر ان دونوں حضرات ( سفیان اور لیث ) کی روایت کے مانند روایت کی ، البتہ یونس نے یہ اضافہ کیا : ’’ اور جب وہ ( امام ) کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو