وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ، - يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَيُّوبَ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ .
A hadith like this has been narrated from the Messenger of Allah (ﷺ) on the authority of Ibn 'Umar with another chain of transmitters
موسیٰ بن عقبہ ، ابن جریج اور ایوب سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، أَوْ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been narrated from the Messenger of Allah (ﷺ) by Abu Usaid
(سلیمان بن بلال کے بجائے ) عمارہ بن غزیہ نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان سے روایت کی ، انھوں نے عبدالملک بن سعید بن سوید انصاری سے ۔ انھوں نے حضرت ابو حمید ۔ ۔ ۔ یا حضرت ابو اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ا نھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - عَنْ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُخْبِرُ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " .
It is narrated on the authority of Abu Shuraih al-Khuzai' that the Prophet (may peace and blessings of Allah be upon him) observed:He who believes in Allah and the Last Day should do good to his neighbour and he who believes in Allah and the Last Day should show hospitality to the guest and he who believes in Allah and the Last Day should either speak good or better remain silent
ابو شریح ( خویلد بن عمرو ) خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرے ، اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے ، اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اچھی بات کہے یا خاموشی اختیار کرے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُخَوَّلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ فِي الصَّلاَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا . كَمَا قَالَ سُفْيَانُ
Mukhawwil has narrated this hadith on the authority of Sufyan
شعبہ نے مخول سے اسی سندکے ساتھ دونوں نمازوں کے بارے میں اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی جس طرح سفیان نے ( اپنی روایت میں ) کہا ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ، بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّجَاشِيَ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ " اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَفَّ بِهِمْ بِالْمُصَلَّى فَصَلَّى فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) gave us the news of the death of Negus, the ruler of Abyssinia, on the day when he died, and he said (to us): Beg pardon for your brother. Ibn Shihab said that Sa'id b. Musayyib had told that Abu Huraira had narrated to him that the Messenger of Allah (ﷺ) drew them up in a row in a place of prayer, and offered prayer and recited four takbirs for him
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے اور ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حبشہ والے ( حکمران ) نجاشی کی ، جس دن وہ فوت ہوئے ، موت کی خبر دی اور فرمایا : "" اپنے بھائی کے لئے بخشش کی دعاکرو ۔ "" ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حدیث سنائی کہ ان کو حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ گاہ میں ان کی صفیں بنوائیں ، نماز ( جنازہ ) پڑھائی اور اور پر چار تکبیریں کہیں ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لاَ يَقْبَلُ إِلاَّ طَيِّبًا وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ { يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} وَقَالَ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} " . ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:O people, Allah is Good and He therefore, accepts only that which is good. And Allah commanded the believers as He commanded the Messengers by saying: "O Messengers, eat of the good things, and do good deeds; verily I am aware of what you do" (xxiii. 51). And He said: "O those who believe, eat of the good things that We gave you" (ii. 172). He then made a mention of a person who travels widely, his hair disheveled and covered with dust. He lifts his hand towards the sky (and thus makes the supplication): "O Lord, O Lord," whereas his diet is unlawful, his drink is unlawful, and his clothes are unlawful and his nourishment is unlawful. How can then his supplication be accepted?
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اے لو گو !اللہ تعا لیٰ پا ک ہے اور پا ک ( مال ) کے سوا ( کو ئی ما ل ) قبو ل نہیں کرتا اللہ نے مو منوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا : " اے پیغمبران کرام! پا ک چیز یں کھا ؤ اور نیک کا م کرو جو عمل تم کرتے ہو میں اسے اچھی طرح جا ننے والا ہوں اور فر ما یا اے مومنو!جو پا ک رزق ہم نے تمھیں عنا یت فر ما یا ہے اس میں سے کھا ؤ ۔ پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا : " جو طویل سفر کرتا ہے بال پرا گندا اور جسم غبار آلود ہے ۔ ( دعا کے لیے آسمان کی طرف اپنے دو نوں ہا تھ پھیلا تا ہے اے میرے رب اے میرے رب! جبکہ اس کا کھا نا حرام کا ہے اس کا پینا خرا م کا ہے اس کا لبا س حرا م کا ہے اور اس کو غذا حرا م کی ملی ہے تو اس کی دعا کہا ں سے قبو ل ہو گی ۔)
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لإِرْبِهِ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) used to kiss (his wives) while fasting; and he had the greatest control over his desire (as compared with you)
علی بن حجر ، زہیر بن حرب ، سفیان ، منصور ، ابراہیم ، علقمہ ، سید ہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی کسی زوجہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور آپ کو تو تم میں سے سب سے زیادہ اپنے جذبات پر کنٹرول تھا ۔
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ مَاذَا سَمِعْتَ ابْنَ عُمَرَ، يُحِلُّ لِلْحَرَامِ قَتْلَهُ مِنَ الدَّوَابِّ فَقَالَ لِي نَافِعٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
Ibn Juraij reported:I said to Nafi: What is that which you heard Ibn, Umar declaring permissible for a Muhrim to kill some of the beasts? Nafi, said to me that 'Abdullah had reported: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Five are the beasts in killing which or their being killed, there is no sin: crow, kite, scorpion, rat and voracious dog
ابن جریج نے کہا : میں نے نافع سے پو چھا : آپ نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا سنا وہ احرا م والے شخص کے لیے کن جا نوروں کو مارنا حلال قرار دیتے تھے؟نافع نے مجھ سے کہا : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے سنا : " پانچ ( موذی ) جا نور ہیں انھیں مارنے میں ان کے مارنے والے پر کو ئی گنا ہ نہیں ۔ کوا ، چیل بچھو ، چوہا اور کا ٹنے والا کتا
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَهَا وَهْىَ بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ وَلُعَبُهَا مَعَهَا وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانَ عَشْرَةَ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Apostle (ﷺ) married her when she was seven years old, and he was taken to his house as a bride when she was nine, and her dolls were with her; and when he (the Holy Prophet) died she was eighteen years old
زہری نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا جب وہ سات سال کی تھیں ، اور گھر بسایا جب وہ نو سال کی تھیں اور ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ کر فوت ہوئے جب وہ اٹھارہ سال کی تھیں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْلاَ حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Had it not been for Eve, woman would have never acted unfaithfully towards her husband
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے ابن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ عورت پسلی کی طرح ہے ، اگر تم اسے سیدھا کرنے لگ جاؤ گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو اس سے فائدہ اٹھاؤ گے جبکہ اس میں ٹیڑھا پن ( موجود ) ہو گا
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ .
Safiyya bint Abu 'Ubaid narrated this tradition of Allah's Prophet (ﷺ) on the authority of some wives of Allah's Apostle (ﷺ)
ایوب اور عبیداللہ دونوں نے نافع سے ، انہوں نے صفیہ بنت ابی عبید سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی اور اہلیہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان ( لیث بن سعد ، عبداللہ بن دینار اور یحییٰ بن سعید ) کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلاً .
Zaid b. Thabit (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) granting concession in case of 'ariyya transactions and that implies selling of (dry dates for fresh dates) according to a measure
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی کہ اس ( کے پھل ) کا اندازہ کرتے ہوئے اسے کھجور کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض فروخت کر دیا جائے
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ وَعْلَةَ - رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ - أَنَّهُ جَاءَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ح . وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ السَّبَإِيِّ، - مِنْ أَهْلِ مِصْرَ - أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنْ الْعِنَبِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَجُلًا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا قَالَ لَا فَسَارَّ إِنْسَانًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ سَارَرْتَهُ فَقَالَ أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا فَقَالَ إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا قَالَ فَفَتَحَ الْمَزَادَةَ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهَا
Abd al-Rahman b. Wa'ala as-Saba'i (who was an Egyptian) asked 'Abdullah b. Abbas; (Allah be pleased with them) about that which is extracted from the grapes, whereupon he said:A person presented to Allah's Messenger (ﷺ) a small water-skin of wine. Allah's Messenger (ﷺ) said to him: Do you know that Allah has forbidden it? He said: No. He then whispered to another man. Allah's Messenger (ﷺ) asked him what he had whispered. He said: I advised him to sell that, whereupon he (the Holy Prophet) said: Verily He Who has forbidden its drinking has forbidden its sale also. He (the narrator) said: He opened the waterskin until what was contained in it was spilt
سوید بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے حدیث سنائی ، انہوں نے ۔ ۔ اہل مصر کے آدمی ۔ ۔ عبدالرحمٰن بن وعلہ سے روایت کی کہ وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔ اور مجھے ابوطاہر نے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ انہی کے ہیں ۔ ۔ : ہمیں ابن وہب نے خبر دی : مجھے مالک بن انس اور دوسروں نے زید بن اسلم سے ، انہوں نے ۔ ۔ مصر کے باشندوں میں سے ۔ ۔ عبدالرحمان بن وعلہ سبئی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا جو انگور سے نچوڑی جاتی ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کا ایک مشکیزہ ہدیہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " کیا تمہیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قررا دیا ہے؟ " اس نے جواب دیا : نہیں ، اس کے بعد اس نے ایک انسان سے سرگوشی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " تم نے اس سے کیا سرگوشی کی ہے؟ " اس نے جواب دیا : میں نے اس سے یہ فروخت کرنے کو کہا ہے ۔ تو آپ نے فرمایا : " جس ( اللہ ) نے اس کا پینا حرام کیا ہے اس نے اس کی بیع بھی حرام قرار دی ہے ۔ " کہا : اس پر اس شخص نے مشکیزے کا منہ کھول دیا حتی کہ جو اس میں تھا ، بہہ گیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي، عُمَرَ عَنِ الثَّقَفِيِّ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . أَمَّا حَمَّادٌ فَحَدِيثُهُ كَرِوَايَةِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَأَمَّا الثَّقَفِيُّ فَفِي حَدِيثِهِ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ .
This hadith has been narrated through another chain of transmitters (and the words are):" A person from among the Ansar willed away the freedom of six slaves of his at the time of his death
حماد اور ( عبدالوہاب ) ثقفی دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، حماد کی حدیث ابن عُلیہ کی حدیث کی طرح ہے اور ثقفی کی حدیث میں ہے : انصار کے ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت وصیت کی اور چھ غلام آزاد کر دیے
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَادَى فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ انْصَرَفَ عَنِ الأَحْزَابِ " أَنْ لاَ يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلاَّ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ " . فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ فَصَلُّوا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ . وَقَالَ آخَرُونَ لاَ نُصَلِّي إِلاَّ حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ قَالَ فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ .
It has been narrated on the authority of Abdullah who said:On the day he returned from the Battle of Ahzab, the Messenger of Allah (ﷺ) made for us an announcement that nobody would say his Zuhr prayer but in the quarters of Banu Quraiza (Some) people, being afraid that the time for prayer would expire, said their prayers before reaching the street of Banu Quraiza. The others said: We will not say our prayer except where the Messenger of Allah (ﷺ) has ordered us to say it even if the time expires. When he learned of the difference in the view of the two groups of the people, the Messenger of Allah (may peace be tipon him) did not blame anyone from the two groups
حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، جس روز آپ جنگِ احزاب سے لوٹےہم میں منادی کرائی کہ کوئی شخص بنو قریظہ کے سوا کہیں اور نمازِ ظہر ادا نہ کرے ۔ کچھ لوگوں کو وقت نکل جانے کا خوف محسوس ہوا تو انہوں نے بنو قریظہ ( پہنچنے ) سے پہلے ہی نماز پڑھ لی ، جبکہ دوسروں نے کہا : چاہے وقت ختم ہو جائے ہم وہیں نماز پڑھیں گے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔ کہا : تو آپ نے فریقین میں سے کسی کو بھی ملامت نہ کی
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ - حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ، جَرِيرٍ عَنْ أَبِي قَيْسِ بْنِ رِيَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلاَ يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلاَ يَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ " .
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:One who defected from obedience (to the Amir) and separated from the main body of the Muslims - if he died in that state-would die the death of one belonging to the days of Jahiliyya (i.e. would not die as a Muslim). One who fights under the banner of a people who are blind (to the cause for which they are fighting, i.e. do not know whether their cause is just or otherwise), who gets flared up with family pride, calls (people) to fight for their family honour, and supports his kith and kin (i.e. fights not for the cause of Allah but for the sake of this family or tribe) - if he is killed (in this fight), he dies as one belonging to the days of Jahiliyya. Whoso attacks my Ummah (indiscriminately) killing the righteous and the wicked of them, sparing not (even) those staunch in faith and fulfilling not his promise made with those who have been given a pledge of security - he has nothing to do with me and I have nothing to do with him
۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲؐ نے فرمایا جو شخص حاکم کی اطاعت سے باہر ہوجاوے اور جماعت کا ساتھ چھوڑ دے پھر وہ مرے تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہوگی اور جو شخص اندھے جھنڈے کے تلے لڑے ( جس لڑائی کی درستی شریعت سے صاف صاف ثابت نہ ہو ) غصہ ہو قوم کے لحاظ سے یا بلاتا ہو قوم کی طرف یا مدد کرتا ہو قوم کی او رخدا کی رضامندی مقصود نہ ہو پھر مارا جاوے تو اس کا مارا جانا جاہلیت کے زمانے کا سا ہوگا اور جو شخص ( میری امت پر ) دست درازی کرے اور اچھے اور بروں کو ان میں کے قتل کرے اور مومن کو بھی نہ چھورے اور جس سے عہد ہوا ہو اس کا عہد پورا نہ کرے تو وہ مجھ سے علاقہ نہیں رکھتا او رمیں اس سے تعلق نہیں رکھتا ( یعنی وہ مسلمان نہیں ہے ) ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters
ثقفی نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ، بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الأَشْرِبَةِ فِي ظُرُوفِ الأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ أَنْ لاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " .
Ibn Buraida, on the authority of his father, reported Allah's Messenger (may Peace be upon him) as saying:I had forbidden you from the drinking (and preparation of) Nabidh in the vessels made out of leather, but (now) you may drink in all vessels, but you do not drink an intoxicant
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ " . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira but with a slight variation of wording:While there was a man who strutted in his two mantles
معمر نے ہمام بن منبہ سے خبر دی کہا : یہ اھادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں سنا ئیں ، پھر انھوں نے کچھ اھادیث سنائیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ایک شخص دوچادروں میں اتراتا ہوا جا رہا تھا " پھر اسی کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ لِي خَالٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرُّقَى - قَالَ - فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى وَأَنَا أَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ . فَقَالَ " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ " .
Jabir b. 'Abdullah reported I had a maternal uncle who treated the sting of the scorpion with the help of incantation. Allah's Messenger (ﷺ) forbade incantation. He came to him and said:Allah's Messenger, you forbade to practise incantation, whereas I employ it for curing the sting of the scorpion, whereupon he said: He who amongst you is capable of employing it as a means to do good should do that
وکیع نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میرے ایک ماموں تھے وہ بچھوکے کا ٹے پردم کرتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عمومی طور ہر طرح کے ) دم کرنے سے منع فر ما یا ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو ئے اور کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے دم کرنے سے منع فرما دیا ہے ۔ میں بچھو کے کاٹے سے دم کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے جو کو ئی اپنے بھا ئی کو فا ئدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ایسا کرے ۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، كِلاَهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ، - وَاللَّفْظُ لِشَيْبَانَ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وُلِدَ لِيَ اللَّيْلَةَ غُلاَمٌ فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ " . ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو سَيْفٍ فَانْطَلَقَ يَأْتِيهِ وَاتَّبَعْتُهُ فَانْتَهَيْنَا إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ قَدِ امْتَلأَ الْبَيْتُ دُخَانًا فَأَسْرَعْتُ الْمَشْىَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا أَبَا سَيْفٍ أَمْسِكْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَأَمْسَكَ فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالصَّبِيِّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ . فَقَالَ أَنَسٌ لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلاَ نَقُولُ إِلاَّ مَا يَرْضَى رَبُّنَا وَاللَّهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ " .
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:A child was born into me this night and I named him after the name of my father Ibrihim. He then sent him to Umm Saif, the wife of a blacksmith who was called Abu Saif. He (the Holy Prophet) went to him and I followed him until we reached Abu Saif and he was blowing fire with the help of blacksmith's bellows and the house was filled with smoke. I hastened my step and went ahead of Allah's Messenger (ﷺ) and said: Abu Saif, stop it, as there comes Allah's Messenger (may peace he upon him). He stopped and Allah's Apostle (ﷺ) called for the child. He embraced him and said what Allah had desired. Anas said: I saw that the boy breathed his last in the presence of Allah's Messenger (ﷺ). The eyes of Allah's Messenger (ﷺ) shed tears and he said: Ibrahim, our eyes shed tears and our hearts are filled with grief, but we do not say anything except that by which Allah is pleased. O Ibrahim, we are grieved for you
ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" آج رات میرا ایک بیٹا پیداہوا ہے جس کا نام میں نے اپنے والد کے نام پر ابرا ہیم رکھا ہے ۔ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو ابو سیف نامی لوہار کی بیوی ام سیف رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد کر دیا ، پھر ( ایک روز ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کے پاس جا نے کے لیے چل پڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا ہم ابو سیف کے پاس پہنچے وہ بھٹی پھونک رہا تھا ۔ گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا ۔ میں تیزی سے چلتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے ہوگیا اور کہا : ابو سیف!رک جاؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں ، وہ رک گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو منگوا بھیجا ، آپ نے اسے اپنے ساتھ لگالیا اور جو اللہ چاہتا تھا ، آپ نے فرمایا ( محبت وشفقت کے بول بولے ۔ ) تو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے اس بچے کو دیکھا ، وہ رسول اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کی آنکھوں ) کے سامنے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر رہا تھا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" آنکھیں آنسوبہارہی ہیں اور دل غم سے بھر ا ہواہے لیکن ہم اس کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے جس سے ہمارا پروردگار راضی ہو ، اللہ کی قسم!ابراہیم!ہم آپ کی ( جدائی کی ) وجہ سے سخت غمزدہ ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي طُهُورِهِ إِذَا تَطَهَّرَ وَفِي تَرَجُّلِهِ إِذَا تَرَجَّلَ وَفِي انْتِعَالِهِ إِذَا انْتَعَلَ .
A'isha reported:The Messenger of Allah (way peace be upon him) loved to start from the right-hand side for performing ablution, for combing (the hair) and wearing the shoes
ابو احوص نے اشعث سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب وضو فرماتے تو وضو میں ، جب آپ کنگھی کرتے تو کنگھی کرنے میں اور جب آپ جوتا پہنتے تو جوتا پہننے میں دائیں طرف سے آغاز کرنا پسند فرماتے تھے ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلاً يُعَلِّمْنَا السُّنَّةَ وَالإِسْلاَمَ . قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَقَالَ " هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ " .
Anas reported that the people of Yemen came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:Send with us a person who should teach us Sunnah and al-Islam, whereupon he (the Holy Prophet) caught hold of the hand of Ubaida and said: He is a man of trust of this Umma
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ یمن کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انھوں نے کہا : ہمارے ساتھ ایک شخص بھیجیے جو ہمیں سنت اور اسلام کی تعلیم دے ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فر ما یا : یہ اس امت کے امین ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَأَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَابْنُ، إِدْرِيسَ وَأَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا " .
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A believer is like a brick for another believer, the one supporting the other
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایک عمارت کے مانند ہے ، جس کی ایک ( اینٹ ) دوسری ( اینٹ ) کو مضبوط کرتی ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي الطَّحَّانَ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا إِذَا أَخَذْنَا مَضْجَعَنَا أَنْ نَقُولَ . بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَقَالَ " مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا " .
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) used to command us that as we go to our bedo, we should utter the words (as mention- ed above) and he also said (these words):" From the evil of every animal, Thou hast hold upon its forelock (Thou bast full control over it)
خالد طحان نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم اپنے بستروں پر لیٹیں تو یہ دعا کریں ، جریر کی حدیث کے مانند ( اور خالد طحان نے " ہر اس چیز کے شر سے " کے بجائے ) کہا : " ہر اس جاندار کے شر سے ( تیری پناہ چاہتا ہوں ) جسے تو نے اس کی پیشانی سے پکڑا ہوا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْلاَ أَنْ لاَ تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " .
Anas reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:If you were not (to abandon) the burying of the dead (in the grave), I would have certainly supplicated Allah that He should make you listen the torment of the grave
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم ( مردوں کو ) دفن نہ کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تم کو عذاب قبر ( کی آوازیں ) سنوائے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ، بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - كِلاَهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مِنْ خُلَفَائِكُمْ خَلِيفَةٌ يَحْثُو الْمَالَ حَثْيًا لاَ يَعُدُّهُ عَدَدًا " . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حُجْرٍ " يَحْثِي الْمَالَ " .
Abu Sa'id reported that Allah's Messenger (may peace he upon him) I said:There would be amongst your caliphs a caliph who would give handfuls of wealth to the people, but would not count it. In the narration transmitted on the authority of Ibn Hujr, there is a slight variation of wording
عبد الصمد بن عبد الوارث نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں داؤد نے ابو نضرہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابوسعید اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آخری زمانے میں ایک خلیفہ ہو گا جو مال تقسیم کرے گااور اس کو شمار نہیں کرے گا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلاً عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَقَالَ " وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ " . مِرَارًا " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لاَ مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ وَلاَ أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا أَحْسِبُهُ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَاكَ كَذَا وَكَذَا " .
Abd al-Rahman b. Abu Bakra reported on the authority of his father that a person praised another person in the presence of Allah's Apostle (ﷺ), whereupon he said:Woe be to thee, you have broken the neck of your friend, you have broken the neck of your friend-he said this twice. If one of you has to praise his friend at all, he should say: I think (him to be) so and Allah knows it well and I do not know the secret of the heart and Allah knows the destined end, and I cannot testify his purity against Allah but (he appears) to be so and so
یزید بن زریع نے خالد حذاء سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی نے دوسرے آدمی کی تعریف کی ، کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم پر افسوس ہے!تم نے اپنے ساتھ کی گردن کاٹ دی ، اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی ۔ " کئی بار کہا : ( پھر فرمایا : ) تم میں سے کسی شخص نے لامحالہ اپنے ساتھی کی تعریف کرنی ہوتو اس طرح کہے : میں فلاں کو ایسا سمجھتا ہوں ، اصلیت کو جاننے والا اللہ ہے ۔ اورمیں اللہ ( کے علم ) کے مقابلے میں کسی کی خوبی بیان نہیں کررہا ، میں اسے ( ایسا ) سمجھتا ہوں ۔ اگر وہ واقعی اس خوبی کو جانتا ہے ( تو کہے! ) ۔ وہ اس طرح ( کی خوبی رکھتا ) ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، ح وَحَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتْ عَائِشَةَ فَقَالَتْ أَتَقْضِي إِحْدَانَا الصَّلاَةَ أَيَّامَ مَحِيضِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ لاَ تُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ .
Mu'adha reported:A woman asked 'A'isha: Should one amongst us complete prayers abandoned during the period of menses? 'A'isha said: Are you a Haruriya? When any one of us during the time of the Messenger of Allah (ﷺ) was in her menses (and abandoned prayer) she was not required to complete them
نے یزید رشک سے ، انہوں نے معاذہ سے روایت کی کہ ایک عورت نےحضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا ایک عورت ایام حیض کی نمازوں کی قضادے کی ؟ تو عائشہ ؓ نے پوچھا : کیا توحروریہ ( خوارج میں سے ) ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں جب ہم میں سے کسی کو حیض آتا تھا تو اسے ( نمازوں کی ) قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ سَقَطَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ . وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ " .
Anas b. Malik reported:The Apostle of Allah (ﷺ) fell down from a horse and his right side was grazed. We went to him to inquire after his health when the time of prayer came. He led us in prayer in a sitting posture and we said prayer behind him sitting, and when he finished the prayer hesaid: The Imam is appointed only to be followed; so when he recites takbir, you should also recite that; when he prostrates, you should also prostrate; when he rises up, you should also rise up, and when he said" God listens to him who praises Him," you should say:" Our Lord, to Thee be the praise," and when he prays sitting, all of you should pray sitting
سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ نبیﷺ گھوڑے سے گر گئے تو آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ، ہم آپ کے ہاں آپ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے ، نماز کا وقت ہو گیا تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی ، چنانچھ ہم نے ( آپ کے اشارے پر ، حدیث 926 ۔ 928 ) آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ، پھر جب آپ نے نماز پوری کی تو فرمایا : ’’امام اسی لیے بنایا گیا کہ اس کی اقتدا کی جائے ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو ، جب وہ ( سر ) اٹھائے تو تم ( سر ) اٹھاؤ اور جب وہ سمع الله لمن حمده ( اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ) کہے تو تم ربنا لك الحمد ( اے ہمارے رب! تیری ہی لیے سب تعریف ہے ) کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘