بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
30 hadith
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ وَلاَ يَعْجَلَنَّ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When the supper is served to any one of you and the prayer also begins. (in such a case) first take supper, and do not make haste (for prayer) till you have (taken the food)
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے سامنے شام کا کھانا رکھا جائے ادھر نماز کھڑی ہو تو پہلے کھانا کھا لے اور نماز کے لئے جلدی نہ کرے جب تک کھانے سے فارغ نہ ہو ۔ “
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، - أَوْ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ‏.‏ وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُسْلِمٌ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى يَقُولُ كَتَبْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ كِتَابِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ ‏.‏ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ يَحْيَى الْحِمَّانِيَّ يَقُولُ وَأَبِي أُسَيْدٍ ‏.‏
Abu Usaid reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:When any one of you enters the mosque, he should say:" O Allah! open for me the doors of Thy mercy" ; and when he steps out he should say: 'O Allah! I beg of Thee Thy Grace." (Imam Muslim said: I heard Yahya saying: I transcribed this hadith from the compilation of Sulaiman b. Bilal)
(یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں سلمان بن بلال نے ربعیہ بن عبدالرحمان سے خبر دی ، انھوں نے عبدالملک بن سعید سے ، اور انھوں نے حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ یا حضرت ابو اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہوتو کہے "" اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ "" اے اللہ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔ اور جب مسجد سے نکلے تو کہے "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ "" اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتاہوں ۔ "" امام مسلم ؒ نے کہا : میں نے یحییٰ بن یحییٰ س سنا ، وہ کہتے تھے ، میں نے یہ حدیث سلیمان بن بلال کی کتاب سے لکھی ہے ، انھوں نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے ۔ کہ یحییٰ حمانی شک کے بغیر ) "" وأبي أسيداور ابو اسید "" سے کہتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي حَصِينٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ ‏"‏ ‏.‏
Another hadith similar to one narrated (above) by Abu Husain is also reported by Abu Huraira with the exception of these words:He (the Prophet) said: He should do good to the neighbour
اعمش نے ابو صالح سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا ...... آگے ابو حصین کی روایت کے مانند ہے ، البتہ اعمش نے ( وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے کے بجائے ) یہ الفاظ کہے ہیں : ’’ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏
A hadith like this has been narrated by Sufyan with the same chain of transmitters
عبداللہ بن نمیر اور وکیع دونوں نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ ‏.‏
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) gave the people news of the death of Negus on the day he died, and he took them out to the place of prayer and observed four takbirs
امام مالکؒ نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دن نجاشی فوت ہوئے ، لوگوں کو ان کی وفات کی اطلاع دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کے ساتھ باہر جنازہ گاہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چارتکبیریں کہیں ۔
Narrated by Abu Huraira
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ عَنْ سُهَيْلٍ ‏.‏
Narrated Abu Huraira:This hadith has been transmitted through another chain the same as the narration of Ya'qub from Suhail
ہشا م بن سعد نے زید بن اسلم سے انھوں نے ابو صالح سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روا یت کی جس طرح سہیل سے یعقوب کی حدیث ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها ح . وَحَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَلَكِنَّهُ أَمْلَكُكُمْ لإِرْبِهِ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Allah's Messenger (ﷺ) used to kiss (his wives) while fasting and embraced (them) while fasting; but he had the greatest mastery over his desire among you
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، یحییٰ ، ابو معاویہ ، اعمش ، ابراہیم ، اسود ، علقمہ ، سید عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی ازواج مطہرات کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور روزہ کی حالت میں ان سے بغلگیر ہوجایا کرتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو تم میں سے سب سے زیادہ اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھنے والے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Five are the beasts for killing which there is no sin for the Muhrim: crows, kites, scorpions, rats and wild dogs
مالک نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " پانچ ( موذی جا نور ایسے ) ہیں کہ احرا م باندھنے والے پر انھیں قتل کر دینے میں کو ئی گنا ہ نہیں ہے کہ کوا ، چیل ، چوہا اور کاٹنے والا کتا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، - هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ - عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Allah's Apostle (ﷺ) married me when I was six years old, and I was admitted to his house when I was nine years old
ابو معاویہ اور عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت می انہوں نے کہا کہ رسۃل اللہ ﷺ نے میرے ساتھ نکاح کیا جب میں چھ سال کی تھی اور میرے ساتھ گھر بسایا جب میں نو سال کی تھی
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Huraira (Allah be pleased with him)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دنیا متاع ( کچھ وقت تک کے لیے فائدہ اٹھانے کی چیز ) ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَابْنِ دِينَارٍ وَزَادَ ‏ "‏ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏"‏ ‏.‏
Safiyya bint Abu 'Ubaid reported that she heard Hafsa daughter of Umar (Allah be pleased with them), (and) wife of Allah's Prophet (ﷺ), narrating a hadith like this from Allah's Apostle (ﷺ), and she made this addition:" She should abstain from adorning herself (in case of the death of her husband) for four months and ten days
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں : میں نے نافع سے سنا ، وہ صفیہ بنت ابوعبید سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہی تھیں ۔ ۔ ۔ جس طرح لیث اور ابن دینار کی حدیث ہے ۔ اور یہ اضافہ کیا : " وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے گی
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى الْعَرِيَّةُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخَلاَتِ لِطَعَامِ أَهْلِهِ رُطَبًا بِخَرْصِهَا تَمْرًا ‏.‏
Zaid b Thabit (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) gave concession in case of al-'ariyya transactions (for exchanging dates) for dates with measure. Yahya said:'Ariyya implies that a person should buy fresh dates on the tree for his family to eat against a measure of dry dates
لیث نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کو ( اس سے حاصل ہونے والی ) خشک کھجور کی مقدار کے اندازے سے فروخت کرنے کی اجازت دی ۔ یحییٰ نے کہا : عریہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے گھر والوں کی خوراک کے لیے کھجور کا تازہ پھل ( اس سے حاصل ہونے والی ) خشک کھجور کے اندازے کے عوض خرید لے ۔ ( یہ تعریف تازہ پھل لینے والے کے نقطہ نظر سے ہے ۔ مفہوم ایک ہی ہے)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى أَبُو هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُعَرِّضُ بِالْخَمْرِ وَلَعَلَّ اللَّهَ سَيُنْزِلُ فِيهَا أَمْرًا فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا شَىْءٌ فَلْيَبِعْهُ وَلْيَنْتَفِعْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا لَبِثْنَا إِلاَّ يَسِيرًا حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَرَّمَ الْخَمْرَ فَمَنْ أَدْرَكَتْهُ هَذِهِ الآيَةُ وَعِنْدَهُ مِنْهَا شَىْءٌ فَلاَ يَشْرَبْ وَلاَ يَبِعْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ بِمَا كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَسَفَكُوهَا ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) addressing in Medina. He said: O people, Allah is giving an indication (of the prohibition) of wine. and He is probably soon going to give an order about it. So he who has anything of it with him should sell that, and derive benefit out of it. He (the narrator) said: We waited for some time that Allah's Apostle (ﷺ) said: Verily Allah, the Exalted, has forbidden wine. So who hears this verse and he has anything of it with him, he should neither drink it nor sell it. He (the narrator) said: The people then brought whatever they had of it with them on the streets of Medina and spilt that
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ مدینہ میں خطبہ دے رہے تھے ، آپ نے فرمایاؒ " لوگو! اللہ تعالیٰ شراب ( کی حرمت ) کے بارے میں اشارہ فرما رہا ہے اور شاید اللہ تعالیٰ جلد ہی اس کے بارے میں کوئی ( قطعی ) حکم نازل کر دے ۔ جس کے پاس اس ( شراب ) میں سے کچھ موجود ہے وہ اسے بیچ دے اور اس سے فائدہ اٹھا لے ۔ " کہا : پھر ہم نے تھوڑا ہی عرصہ اس عالم میں گزارا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے یقینا شراب کو حرام کر دیا ہے ، جس شخص تک یہ آیت پہنچے اور اس کے پاس اس ( شراب ) میں سے کچھ ( حصہ باقی ) ہے تو نہ وہ اسے پیے اور نہ فروخت کرے ۔ " کہا : لوگوں کے پاس جو بھی شراب تھی وہ اسے لے کر مدینہ کے راستے میں نکل آئے اور اسے بہا دیا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ، بْنِ حُصَيْنٍ ‏.‏ أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَدَعَا بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَزَّأَهُمْ أَثْلاَثًا ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً وَقَالَ لَهُ قَوْلاً شَدِيدًا ‏.‏
Imran b. Husain reported that a person who had no other property emancipated six slaves of his at the time of his death. Allah's Messenger (ﷺ) called for them and divided them into three sections, cast lots amongst them, and set two free and kept four in slavery; and he (the Holy Prophet) spoke severely of him
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابومہلب سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کیے اور اس کے پاس ان کے سوا اور کوئی مال نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور تین گروپوں میں تقسیم کیا ، پھر ان کے درمیان قرعہ ڈالا ، اس کے بعد دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی برقرار رکھا اور آپ نے اسے سرزنش کی
وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَانْفَجَرَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَمَازَالَ يَسِيلُ حَتَّى مَاتَ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ فَذَاكَ حِينَ يَقُولُ الشَّاعِرُ أَلاَ يَا سَعْدُ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ فَمَا فَعَلَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ لَعَمْرُكَ إِنَّ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ غَدَاةَ تَحَمَّلُوا لَهُوَ الصَّبُورُ تَرَكْتُمْ قِدْرَكُمْ لاَ شَىْءَ فِيهَا وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِيَةٌ تَفُورُ وَقَدْ قَالَ الْكَرِيمُ أَبُو حُبَابٍ أَقِيمُوا قَيْنُقَاعُ وَلاَ تَسِيرُوا وَقَدْ كَانُوا بِبَلْدَتِهِمْ ثِقَالاً كَمَا ثَقُلَتْ بِمَيْطَانَ الصُّخُورُ
This tradition has been narrated by Hishim through the same chain of transmitters with a little difference in the wording. He said:(His wound) began to bleed that very night and it continued to bleed until he died. He has made the addition that it was then that (a non-believing) poet said: Hark, O Sa'd, Sa'd of Banu Mu'adh, What have the Quraiaa and Nadir done? By thy life! Sa'd b. Mu'adh>br> Was steadfast on the morn they departed. You have left your cooking-pot empty, While the cooking-pot of the people is hot and boiling. Abu Hubab the nobleman has said, O Qainuqa', do not depart. They were weighty in their country just aa rocks are weighty in Maitan
عبدہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے کہا : اسی رات سے خوب بہنے لگا اور مسلسل بہتا رہا حتی کہ وہ وفات پا گئے ۔ اور انہوں نے حدیث میں یہ اضافہ کیا ، کہا : یہی وقت ہے جب ( ایک کافر ) شاعر کہتا ہے : اے سعد! بنو معاذ کے ( گھرانے کے ) سعد! وہ کیا تھا جو بنو قریظہ نے کیا اور ( وہ کیا تھا جو ) بنونضیر نے کیا؟ تمہاری زندگی کی قسم! بنو معاذ کا سعد ، جس صبح ان لوگوں نے سزا برداشت کی ، خوب صبر کرنے والا تھا ۔ تم ( اوس کے ) لوگوں نے اپنی ہڈیاں اس طرح چھوڑیں کہ ان میں کچھ باقی نہ بچا تھا جبکہ قوم ( بنو خزرج ) کی ہانڈیاں گرم تھیں ، ابل رہی تھیں ( انہوں نے اپنے حلیف بنو نضیر کا ساتھ دیا تھا ۔ ) ایک کریم انسان ابوحباب ( رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول ) نے کہا تھا : ( بنو ) قینقاع! مقیم رہو ، مت جاو ۔ وہ لوگ اپنے شہر میں بہت وزن رکھتے تھے ( باوقعت تھے ) جس طرح جبلِ میطان کی چٹانیں بہت وزن رکھتی ہیں
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ حَسَّانَ - حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ سَلاَّمٍ، عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ، قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ فَجَاءَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَنَحْنُ فِيهِ فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قُلْتُ هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ كَيْفَ قَالَ ‏"‏ يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لاَ يَهْتَدُونَ بِهُدَاىَ وَلاَ يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ قَالَ ‏"‏ تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلأَمِيرِ وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ وَأُخِذَ مَالُكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ ‏"‏ ‏.‏
It his been narrated through a different chain of transmitters, on the authority of Hudhaifa b. al-Yaman who said:Messenger of Allah, no doubt, we had an evil time (i. e. the days of Jahiliyya or ignorance) and God brought us a good time (i. e. Islamic period) through which we are now living Will there be a bad time after this good time? He (the Holy Prophet) said: Yes. I said: Will there be a good time after this bad time? He said: Yes. I said: Will there be a bad time after good time? He said: Yes. I said: How? Whereupon he said: There will be leaders who will not be led by my guidance and who will not adopt my ways? There will be among them men who will have the hearts of devils in the bodies of human beings. I said: What should I do. Messenger of Allah, if I (happen) to live in that time? He replied: You will listen to the Amir and carry out his orders; even if your back is flogged and your wealth is snatched, you should listen and obey
حذیفہ بن الیمان رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے میں نے عرض کیا یارسول اﷲؐ! ہم برائی میں تھے پھر اﷲ تعالیٰ نے بھلائی دی اب اس کے بعد بھی کچھ برائی ہے؟ آپ نے فرمایا۔ میں نے کہا پھر اس کے بعد بھلائی ہے آپ نے فرمایا ہاں میں نے کہا پھر اس کے بعد برائی؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ میں نے کہا کیسے؟ آپ نے فرمایا میرے بعد وہ لوگ حاکم ہوں گے جو میری راہ پر نہ چلیں گے، میری سنت پر عمل نہیں کریں گے او ران میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل شیطان کے سے او ربدن آدمیوں کے سے ہوں گے۔ میں نے عرض کیا یارسول اﷲؐ! اس وقت میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا اگر تو ایسے زمانہ میں ہو تو سن اور مان حاکم کی بات کو اگرچہ وہ تیرے پیٹھ پھوڑے اور تیرا مال لے لے پر اس اس کی بات سنے جا اور اس کا حکم مانتا رہ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ قَرِيبًا، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ - قَالَ - فَنَهَاهُ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهَا لاَ تَصِيدُ صَيْدًا وَلاَ تَنْكَأُ عَدُوًّا وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَعَادَ ‏.‏ فَقَالَ أُحَدِّثُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهُ ثُمَّ تَخْذِفُ لاَ أُكَلِّمُكَ أَبَدًا ‏.‏
Sa'id b. Jubair reported that. a near one of 'Abdullah b. Mughaffal threw pebbles. He prohibited him (to do so). He said that Allah's Messenger (ﷺ) had prohibited the throwing of pebbles by saying:It does not catch the game, nor does it inflict defeat on the enemy, but breaks the tooth and puts the eye out. He (the near one of Abdullah b. Mughadal) again repeated it (the act of throwing of pebbles) whereupon he said: I narrate to you that Allah's Messenger (may peace be upon hish) disliked and prohibited throwing of pebbles, but I see you again throwing pebbles; I (would therefore) not speak with you
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کسی قریبی شخص نے کنکر سے نشانہ لگایا ۔ انھوں نے اس کو منع کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر کے ساتھ نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ نہ کسی جانور کو شکارکرتاہے ، نہ دشمن کو ہلاک کرتاہے ، البتہ یہ دانت توڑتاہے ۔ اور آنکھ پھوڑتا ہے ۔ " ( سعیدنے ) کہا : اس شخص نے دوبارہ یہی کیا تو حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں نے تم کو حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور تم پھر کنکر ماررہے ہو!میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ يَمْشِي فِي بُرْدَيْهِ قَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ فَخَسَفَ اللَّهُ بِهِ الأَرْضَ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There was a person who walked with pride because of his (fine) mantles and well pleased with his personality. Allah made him sink in the earth and he would go on sinking in that until the Day of Resurrection
عرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ایک شخص اکڑتا ہوا اپنی دو چادروں میں چلا جا رہا تھا اپنے آپ پر اترارہا تھا اللہ تعا لیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جا ئے گا ۔
وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَرْقِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ أَرْقِي ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
سعید بن یحییٰ اموی کے والد نے کہا : ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی کی مثل روایت بیان کی مگر انھوں نے کہا : لو گوں میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں اس کو دم کردوں؟اور ( صرف ) : " دم کردوں " نہیں کہا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَاءَ أَبَا بَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دَيْنٌ أَوْ كَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported:When Allah's Apostle (ﷺ) died, there came to Abfi Bakr wealth from al-'Ala' b. al-Hadrami. Abu Bakr said: He to whom Allah's Apostle (ﷺ) owed any debt or held out any promise should come to us; the rest of the hadith is the same
ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے محمد بن علی سے خبر دی ، انھو ں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز کہا : مجھے محمد بن منکدر نے ( بھی ) جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبردی تھی ، انھوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو ئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ( بحرین کے گورنر ) حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے مال آیا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جس شخص کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کو ئی قرض ہو یا آپ کی طرف سے کسی کے ساتھ وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے ۔ ( آگے ) ابن عیینہ کی حدیث کی مانند ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَتَنَفَّسَ فِي الإِنَاءِ وَأَنْ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَأَنْ يَسْتَطِيبَ بِيَمِينِهِ ‏.‏
Aba Qatada reported:The Messenger of Allah (way peace be upon him) forbade (us) to breathe into the venel, to touch the penis with the right hand and to wipe after relieving with right hand
ایوب نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے ، انہو ننے ( اپنے والد ) حضرت ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے منع فرمایاکہ کوئی برتن میں سانس لے یا اپنی شرم گاہ کو اپنا دائیاں ہاتھ لگائے یا اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ‏"‏ ‏.‏
Anas reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:For every Umma there is a man of trust and the man of trust of this Umma is Abu 'Ubaida b. Jarrah
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہر امت کا ایک امین ہو تا ہے اور اے امت! ہمارے امین ابو عبیدہ ابن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ الْقَوَدَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ فِي رِوَايَتِهِ عَمْرٌو قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported that a person from the emigrants struck the back of an Ansari. He came to Allah's Apostle (ﷺ) and asked for compensation. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said:Leave it. for it is something disgusting. Ibn Mansur said that in the narration transmitted on the authority of Amr (these words are also found):" I heard Jabir
اسحٰق بن ابراہیم ، اسحٰق بن منصور اور محمد بن رافع نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ابن رافع نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی جبکہ دوسرے دونوں نے کہا : خبر دی ۔ ۔ عبدالرزاق نے کہا : ہمیں معمر نے ایوب سے خبر دی ، انہوں نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے بدلہ دلوانے کی درخواست کی ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری کاروائی کے بعد ) لوگوں سے کہا : "" اس ( چیخ و پکار اور فساد انگیزی ) کو چھوڑ دو ، یہ ایک کریہہ اور بدبودار ( ھرکت ) ہے ۔ "" ابن منصور نے اپنی روایت میں عمرو سے روایت کرتے ہوئے صراحت کی کہ عمرو نے کہا : میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، قَالَ كَانَ أَبُو صَالِحٍ يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَىْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَىْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَىْءٌ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ يَرْوِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Suhail reported that Abu Salih used to command us (in these words):When any one of you intends to go to sleep, he should lie on the bed on his right side and then say:" O Allah. the Lord of the Heavens and the Lord of the Earth and Lord of the Magnificent Throne, our Lord, and the Lord of evervthina, the Splitter of the grain of corn and the datestone (or fruit kernal), the Revealer of Torah and Injil (Bible) and Criterion (the Holy Qur'an), I seek refuge in Thee from the evil of every- thing Thou art to sieze by the forelock (Thou hast perfect control over it). O Allah, Thou art the First, there is naught before Thee, and Thou art the Last and there is naught after Thee, and Thou art Evident and there is nothing above Thee, and Thou art Innermost and there is nothing beyond Thee. Remove the burden of debt from us and relieve us from want." Abu Salih used to narrate it from Abu Huraira who narrated it from Allah's Apostle (ﷺ)
جریر نے سہیل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ( میرے والد ) ابوصالح ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص سونے کا ارادہ کرے تو بستر پر دائیں کروٹ لیٹے ، پھر دعا کرے : اے اللہ! اے آسمانوں کے رب اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے رب ، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب ، دانے اور گٹھلیوں کو چیر ( کر پودے اور درخت اگا ) دینے والے! تورات ، انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے ، اے اللہ! تو ہی اول ہے ، تجھ سے پہلے کوئی شے نہیں ، اے اللہ! تو ہی آخر ہے ، تیرے بعد کوئی شے نہیں ہے ، تو ہی ظاہر ہے ، تیرے اوپر کوئی شے نہیں ہے ، تو ہی باطن ہے ، تجھ سے پیچھے کوئی شے نہیں ہے ، ہماری طرف سے ( ہمارا ) قرض ادا کر اور ہمیں فقر سے غنا عطا فرما ۔ وہ اس حدیث کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ ( آگے ) اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُنَا كُلَّ يَوْمِ خَمِيسٍ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نُحِبُّ حَدِيثَكَ وَنَشْتَهِيهِ وَلَوَدِدْنَا أَنَّكَ حَدَّثْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ ‏.‏ فَقَالَ مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ إِلاَّ كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ ‏.‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الأَيَّامِ كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا ‏.‏
Shaqiq b. Wi'il reported that 'Abdullah used to give us sermon on every Thursday. A person said:Abu 'Abd al-Rahman, we love your talk and so we yearn (to listen to you) and earnestly desire that you should deliver us lecture every day. Thereupon he said: There is nothing to hinder me in giving you talk (every day) but the fact that you may be bored. Allah's Messenger (ﷺ) did not deliver sermons on certain days (fearing that we might be bored)
منصور نے شیقق ابو وائل سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ہمیں ہر جمعرات کے دن وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے تو ایک شخص نے کہا : ابو عبد الرحمٰن !ہمیں آپ کی باتیں ( بہت ) پسند ہیں اور ہم ان کی طرف شدید رغبت رکھتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہر روز ہمیں احادیث بیان فرمایا کریں ۔ انھوں نے کہا : مجھے اس کے علاوہ تمھیں احادیث بیان کرنے سے صرف یہ ناپسندیدگی مانع ہے کہ میں تمھیں اکتاہٹ کا شکار نہ کردوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ ہم پر اکتاہٹ طاری ہو جائے کچھ ( خاص ) دنوں میں ہی ہمیں وعظ و نصیحت سے نواازاکرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ وَأَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَلَمْ أَشْهَدْهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ حَدَّثَنِيهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ - قَالَ كَذَا كَانَ يَقُولُ الْجُرَيْرِيُّ - فَقَالَ ‏"‏ مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الأَقْبُرِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَتَى مَاتَ هَؤُلاَءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَاتُوا فِي الإِشْرَاكِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَلَوْلاَ أَنْ لاَ تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ ‏"‏ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ فَقَالَ ‏"‏ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالَ ‏"‏ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri reported:I did not hear this hadith from Allah's Apostle (ﷺ) directly but it was Zaid b. Thabit who narrated it from him. As Allah's Apostle (ﷺ) was going along with us towards the dwellings of Bani an-Najjar, riding upon his pony, it shied and he was about to fall. He found four, five or six graves there. He said: Who amongst you knows about those lying in the graves? A person said: It is I. Thereupon he (the Holy Prophet) said: In what state did they die? He said: They died as polytheists. He said: These people are passing through the ordeal in the graves. If it were not the reason that you would stop burying (your dead) in the graves on listening to the torment in the grave which I am listening to, I would have certainly made you hear that. Then turning his face towards us, he said: Seek refuge with Allah from the torment of Hell. They said: We seek refuge with Allah from the torment of Hell. He said: Seek refuge with Allah from the torment of the grave. They said: We seek refuge with Allah from the torment of the grave. He said: Seek refuge with Allah from turmoil, its visible and invisible (aspects), and they said: We seek refuge with Allah from turmoil and its visible and invisible aspects and he said: Seek refuge with Allah from the turmoil of the Dajjal, and they said We seek refuge with Allah from the turmoil of the Dajjal
ابن علیہ نے کہا : ہمیں سعید جریری نے ابو نضرہ سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ( ابو نضرہ نے ) کہا : حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو حاضر ہوکر نہیں سنی ، بلکہ مجھےحضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کی ، انھوں نے کہا : ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنونجار کے ایک باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے ، ہم آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ بدک گیا وہ آپ کو گرانے لگا تھا ( دیکھا تو ) وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں ( ابن علیہ نے ) کہا : جریری اسی طرح کہا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ان قبروں والوں کو کو ن جانتاہے؟ "" ایک آدمی نے کہا : میں ، آپ نے فرمایا : "" یہ لو گ کب مرے تھے؟اس نے کہا : شرک ( کے عالم ) میں مرے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ لو گ اپنی قبروں میں مبتلائے عذاب ہیں اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم ( اپنے مردوں کو ) دفن نہ کرو گےتو میں اللہ سے دعا کرتا کہ قبر کے جس عذاب ( کی آوازوں ) کومیں سن رہا ہوں وہ تمھیں بھی سنادے ۔ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ انور پھیرا اور فرمایا : "" آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" ( تمام ) فتنوں سے جوان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم فتنوں سے جو ظاہر ہیں اور پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، - يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ - بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith hab been narrated by Sa'id with the same chain of transmitters
عبد الوہاب نے کہا : ہمیں سعید جریرینے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، - وَاللَّفْظُ لِشَيْبَانَ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عَجَبًا لأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ ‏"‏ ‏.‏
Suhaib reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Strange are the ways of a believer for there is good in every affair of his and this is not the case with anyone else except in the case of a believer for if he has an occasion to feel delight, he thanks (God), thus there is a good for him in it, and if he gets into trouble and shows resignation (and endures it patiently), there is a good for him in it
حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کا معاملہ عجیب ہے ۔ اس کا ہرمعاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے ۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کومیسر نہیں ۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے توشکر کرتا ہے ۔ اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو ( اللہ کی رضا کے لیے ) صبر کر تا ہے ، یہ ( ابھی ) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَكَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الدَّمَ فَقَالَ لَهَا ‏ "‏ امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي ‏"‏ ‏.‏ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ ‏.‏
A'isha, the wife of the Apostle (ﷺ), said:Umm Habiba b. Jahsh who was the spouse of Abd al- Rahman b. Auf made a complaint to the Messenger of Allah (ﷺ) about blood (which flows beyond the menstrual period). He said to her: Remain away (from prayer) equal (to the length of time) that your menstruation holds you back. After this, bathe yourself. And she washed herself before every prayer
اسحاق کے والد بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ام حبیبہ بنت جحش نے ، جو عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی بیوی تھیں ، رسول اللہ ﷺ سے خون ( استحاضہ ) کی شکایت کی تو آپ نے ان سے فرمایا : ’’جتنے دن تمہیں حیض روکتا تھا اتنے دن توقف کرو ، پھر نہالو ۔ ‘ ‘ تو وہ ہر نماز کے لیے نہایا کرتی تھیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا قَالَ الْقَارِئُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏.‏ فَقَالَ مَنْ خَلْفَهُ آمِينَ ‏.‏ فَوَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When the reciter (Imam) utters:" Not of those on whom (is Thine) wrath and not the erring ones," and (the person) behind him utters Amin and his utterance synchronises with that of the dwellers of heavens, all his previous sins would be pardoned
سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب قاری ﴿غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ کہے اور جو اس کے پیچھے ہے وہ ( بھی ) آمین کہے اور اس کا کہنا آسمان والوں کی کہی ہوئی ( آمین ) کے موافق ہو جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ ‘ ‘