بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
29 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَحَفْصٌ، وَوَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Anas by another chain of transmitters
ابن نمیر ، حفص اور وکیع نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے واسطے سے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی جس طرح ابن عیینہ نے زہر ی سے اور انھوں نےحضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے بیان کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الْغَدَاةِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَا فُلاَنُ بِأَىِّ الصَّلاَتَيْنِ اعْتَدَدْتَ أَبِصَلاَتِكَ وَحْدَكَ أَمْ بِصَلاَتِكَ مَعَنَا ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Sarjis reported:A person entered the mosque, while the Messenger of Allah (ﷺ) was leading the dawn prayer. He observed two rak'ahs in a corner of the mosque, and then joined the Messenger of Allah (ﷺ) in prayer. When the Messenger of Allah (ﷺ) had pronounced salutations (he had concluded the prayer), he said: O, so and so, which one out of these two prayers did you count (as your Fard prayer), the one that you observed alone or the prayer that you observed with us?
حضرت عبداللہ بن سرجس ( المزنی حلیف بنی مخزوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : ایک آدمی مسجد میں آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، اس نے مسجد کے ایک کونے میں دو رکعتیں پڑھیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہوگیا ، جب ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا : " اے فلاں! تو نے دو نمازوں میں سے کون سی نماز کو شمار کیا ہے؟اپنی اس نماز کو جو تم نے اکیلے پڑھی ہے یا اس کو جو ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِي جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ ‏"‏ ‏.‏
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed:He who believes in Allah and the Last Day does not harm is neighbour, and he who believes in Allah and the Last Day shows hospitality to his guest and he who believes in Allah and the Last Day speaks good or remains silent
ابوحصین نے ابوصالح سے اور انہو ں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ پہنچائے ، اور جوشخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے ، او رجوشخص اللہ اور قیامت پر یقین رکھتا ہے ، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُخَوَّلِ، بْنِ رَاشِدٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏{‏ الم * تَنْزِيلُ‏}‏ السَّجْدَةُ وَ ‏{‏ هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ‏}‏ وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ سُورَةَ الْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ ‏.‏
Ibn Abbas reported:The Apostle of Allah (ﷺ) used to recite in the morning prayer on Friday Surah" Alif-Lam-Mim, Tanz'il ul-Sajda" (Surah xxxii.): Surely there came over the man a time" (Surah lxxvii) and he used to recite in Jumu'a prayer Surahs Jumu'a and al-Munafiqin
عبدہ بن سلیمان نے سفیان سے روایت کی ، انھوں نے مخول بن راشد سے ، انھوں نے مسلم البطین سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اورانھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن فجر کی نماز میں الم ﴿﴾ تَنزِيلُ الْكِتَابِ السجدہ اور هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ‌ پڑھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کی نماز میں سورہ جمعہ اورسورہ منافقون پڑھتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ‏ "‏ يَسْتَرِيحُ مِنْ أَذَى الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
In the hadith transmitted by Yahya b. Sa'id on the authority of Qatada (the words are):(The believing servant) finds relief from the troubles of the world and its hardships and (gets into) the Mercy of Allah
یحییٰ بن سعید اور عبد الرزاق نے عبد اللہ بن سعید سے انھوں نے محمد بن عمرو سے انھوں نے کعب بن مالک کے بیٹے ( معبد ) سے انھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( سابقہ حدیث کے مانند ) روایت بیان کی اور یحییٰ کی حدیث میں ہے : " وہ ( مومن بندہ ) اللہ کی رحمت میں آکر دنیا کی اذیت اور تکان سے آرام حاصل کر لیتا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، ح وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ ‏"‏ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ فَيَضَعُهَا فِي حَقِّهَا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ ‏"‏ فَيَضَعُهَا فِي مَوْضِعِهَا ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a change of words. In the hadith transmitted Rauh (the words are):" Out of the honest earning and its spending at what is its (due) right" ; and in the hadith transmitted by Sulaiman (the words are):" And its spending at its proper place
روح بن قاسم اور سلیما ن بن بلال دو نوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ ( مذکور ہ با لا ) حدیث بیان کی ، روح کی حدیث میں ہے ۔ من الكسب الطيب فيضعها في حقها ( حلال کمائی سے صدقہ کرتا ہے پھر اس کو وہاں لگا تا ہے جہاں اس کا حق ہے ) اور سلیمان کی حدیث میں ہے فيضعها في موضعها ( اور اسے اس کی جگہ پر خرچ کرتا ہے)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْلِكُ إِرْبَهُ
A'isha reported:Allah's Messenger (ﷺ) used to kiss me while observing fast; and who among you can control his desire as the Messenger of Allah (ﷺ) could control his desire
۔ ابو بکر بن ابی شیبہ ، علی بن مسہر ، عبیداللہ بن عمر ، قاسم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔ اور تم میں سے کون ہے جو اپنے جذبات کو قابو میں کرسکے جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ا پنے جذبات پر کنٹرول تھا ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ مَا يَقْتُلُ الرَّجُلُ مِنَ الدَّوَابِّ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ حَدَّثَتْنِي إِحْدَى نِسْوَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الْعَقُورِ وَالْفَارَةِ وَالْعَقْرَبِ وَالْحُدَيَّا وَالْغُرَابِ وَالْحَيَّةِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الصَّلاَةِ أَيْضًا ‏.‏
Zaid b. Jubair reported:A person asked Ibn 'Umar which beast a Muhrim could kill, whereupon he said: One of the wives of Allahs Apostle (ﷺ) told me: He (the Holy Prophet) commanded to kill voracious dog, rat, scorpion, kite, crow, and snake (and this is allowed) likewise in prayer
ابو عوانہ نے زید بن جبیر سے حدیث سنا ئی کہا ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : ایک آدمی احرا م کی حا لت میں کو ن سے جا نور کو قتل کر سکتا ہے ؟انھوں نے کہا : مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ نے بتا یا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( احرا م کی ھا لت میں ) باولے کتے ، چوہے ، بچھو ، چیل ، کوے اور سانپ کو مارنے کا حکم دیتے تھے ۔ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) فر ما یا : اور نماز میں بھی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِسِتِّ سِنِينَ وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ ‏.‏ قَالَتْ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَوُعِكْتُ شَهْرًا فَوَفَى شَعْرِي جُمَيْمَةً فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبِي فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي فَأَخَذَتْ بِيَدِي فَأَوْقَفَتْنِي عَلَى الْبَابِ ‏.‏ فَقُلْتُ هَهْ هَهْ ‏.‏ حَتَّى ذَهَبَ نَفَسِي فَأَدْخَلَتْنِي بَيْتًا فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ ‏.‏ فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلاَّ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضُحًى فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Allah's Messenger (ﷺ) married me when I was six years old, and I was admitted to his house at the age of nine. She further said: We went to Medina and I had an attack of fever for a month, and my hair had come down to the earlobes. Umm Ruman (my mother) came to me and I was at that time on a swing along with my playmates. She called me loudly and I went to her and I did not know what she had wanted of me. She took hold of my hand and took me to the door, and I was saying: Ha, ha (as if I was gasping), until the agitation of my heart was over. She took me to a house, where had gathered the women of the Ansar. They all blessed me and wished me good luck and said: May you have share in good. She (my mother) entrusted me to them. They washed my head and embellished me and nothing frightened me. Allah's Messenger (, may peace be upon him) came there in the morning, and I was entrusted to him
ابو اسامہ نے ہشام سے ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ چھ برس کی عمر میں نکاح کیا اور جب میں نو برس کی تھی تو میرے ساتھ گھر بسایا ۔ کہا : ہم ( ہجرت کے بعد ) مدینہ آئے تو میں ایک مہینہ بخار میں مبتلا رہی ۔ ( اور میرے سر کے بال جھڑ گئے ، جب صحت یاب ہوئی تو ) پھر میرے بال ( اچھی طرح سے اگ آئے حتیٰ کہ ) گردن سے نیچے تک کی چٹیا بن گئی ۔ ( ان دنوں ایک روز میری والدہ ) ام رومان رضی اللہ عنہ میرے پاس آئیں جبکہ میں جھولے پر ( جھول رہی ) تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں ، انہوں نے مجھے زور سے آواز دی ، میں ان کے پاس گئی ، مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ مجھ سے کیا چاہتی ہیں ۔ انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے دروازے پر لاکھڑا کیا ، ( سانس پھولنے کی وجہ سے ) میرے منہ سے ھہ ھہ کی آواز نکل رہی تھی ، حتیٰ کہ جب میری سانس ( چڑھنے کی کیفیت ) چلی گئی تو وہ مجھے ایک گھر کے اندر لے آئیں تو ( غیر متوقع طور پر ) وہاں انصار کی عورتیں ( جمع ) تھیں ، وہ کہنے لگیں ، خیر وبرکت پر اور اچھے نصیب پر ( آئی ہو ۔ ) تو انہوں ( میری والدہ ) نے مجھے ان کے سپرد کر دیا ۔ انہوں نے میرا سر دھویا ، اور مجھے بنایا سنوارا ، پھر میں اس کے سوا کسی بات پر نہ چونکی کہ اچانک چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ۔ اور ان عورتوں نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ غَيْرَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A believing man should not hate a believing woman; if he dislikes one of her characteristics, he will be pleased with another
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں ، ان میں ایک یہ تھی : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کھانا خراب نہ ہوتا اور گوشت بدبودار نہ ہوتا اور اگر حواء علیہا السلام نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی
وَحَدَّثَنَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ، اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ نَافِعٍ، بِإِسْنَادِ حَدِيثِ اللَّيْثِ ‏.‏ مِثْلَ رِوَايَتِهِ ‏.‏
A hadith like this is transmitted on the authority of Nafi
عبداللہ بن دینار نے نافع سے لیث کی حدیث کی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت بیان کی
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَالْعَرِيَّةُ النَّخْلَةُ تُجْعَلُ لِلْقَوْمِ فَيَبِيعُونَهَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا ‏.‏
Yahya b. Sa'id reported this hadith with the same chain of transmitters but with this change:'Ariyya implies that date-palm trees should be donated to the people and then they sell it with a measure of dry dates
ہشیم نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، البتہ انہوں نے کہا : عریہ سے وہ کھجور کا درخت مراد ہے جو لوگوں کو ( بطور عطیہ ) دیا جاتا ہے ۔ وہ ( درخت پر لگے پھل کو ) اندازے کے بقدر خشک کھجوروں کے عوض فروخت کر دیتے ہیں
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ - قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ، الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَجَمَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَجْرَهُ وَكَلَّمَ سَيِّدَهُ فَخَفَّفَ عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ وَلَوْ كَانَ سُحْتًا لَمْ يُعْطِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported:The slave of Banu Bayada cupped Allah's Apostle (ﷺ) and he gave him his wages, and talked to his master and he reduced the charges, and if this earning was unlawful Allah's Apostle (ﷺ) would not have given it
شعبی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بنو بیاضہ کے ایک غلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو پچھنے لگائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی اجرت دی اور آپ نے اس کے مالک سے بات کی تو اس نے اس کے محصول میں کچھ تخفیف کر دی اور اگر یہ ( اجرت ) حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو نہ دیتے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ أَبِي، عَرُوبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عِيسَى ‏ "‏ ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated through another chain of transmitters (and the words are):" He will be required to work (in order to secure freedom) for that por- tion in which he has not been emancipated, without overburdening him
علی بن مسہر ، محمد بن بشر اور عیسیٰ بن یونس سب نے ابن ابی عروبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور عیسیٰ کی حدیث میں ہے : " اسے کسی مشقت میں ڈالے بغیر ، اس شخص کے حصے ( کی ادائیگی ) کے لیے کام لیا جائے گا جس نے آزاد نہیں کیا
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَعْدًا، قَالَ وَتَحَجَّرَ كَلْمُهُ لِلْبُرْءِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنْ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ أُجَاهِدَ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صلى الله عليه وسلم وَأَخْرَجُوهُ اللَّهُمَّ فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَىْءٌ فَأَبْقِنِي أُجَاهِدْهُمْ فِيكَ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَافْجُرْهَا وَاجْعَلْ مَوْتِي فِيهَا ‏.‏ فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ - وَفِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ - إِلاَّ وَالدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ فَإِذَا سَعْدٌ جُرْحُهُ يَغِذُّ دَمًا فَمَاتَ مِنْهَا ‏.‏
It has been narrated on the authority of 'A'isha that Sa'd's wound became dry and was going to heal when he prayed:O God, surely Thou knowest that nothing is dearer to me than that I should fight for Thy cause against the people who disbeliever Your Messenger (ﷺ) and turned him out (from his native place). If anything yet remains to be decided from the war against the Quraish, spare my life so that I may fight against them in Thy cause. O Lord, I think Thou hast ended the war between us and them. If Thou hast done so, open my wound (so that it may discharge) and cause my death thereby. So the wound begin to bleed from the front part of his neck. The people were not scared except when the blood flowed towards them, and in the mosque along with Sa'd's tent was the tent of Banu Ghifar. They said: O people of the tent, what is it that is coming to us from you? Lo! it was Sa'd's wound that was bleeding and he died thereof
ابن نمیر نے ہشام سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ، جب ان کا زخم بھر رہا تھا ، ( تو دعا کرتے ہوئے ) کہا : اے اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے تیرے راستے میں ، اس قوم کے خلاف جہاد سے بڑھ کر کسی کے خلاف جہاد کرنا محبوب نہیں جنہوں نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور نکالا ۔ اگر قریش کی جنگ کا کوئی حصہ باقی ہے تو مجھے زندہ رکھ تاکہ میں تیرے راستے میں ان سے جہاد کروں ۔ اے اللہ! میرا خیال ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی ختم کر دی ہے ۔ اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی واقعی ختم کر دی ہے تو اس ( زخم ) کو پھاڑ دے اور مجھے اسی میں موت عطا فرما ، چنانچہ ان کی ہنسلی سے خون بہنے لگا ، لوگوں کو ۔ ۔ اور مسجد میں ان کے ساتھ بنو غفار کا خیمہ تھا ۔ ۔ اس خون نے ہی خوفزدہ کیا جو ان کی طرف بہہ رہا تھا ۔ انہوں نے پوچھا : اے خیمے والو! یہ کیا ہے جو تمہاری جانب سے ہماری طرف آ رہا ہے؟ تو وہ سعد رضی اللہ عنہ کا زخم تھا جس سے مسلسل خوب بہہ رہا ہے ، چنانچہ وہ اسی ( کیفیت ) میں فوت ہو گئے
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ، جَابِرٍ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، يَقُولُ كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمَا دَخَنُهُ قَالَ ‏"‏ قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَرَى إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ ‏"‏ تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلاَ إِمَامٌ قَالَ ‏"‏ فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Hudhaifa b. al-Yaman who said:People used to ask the Messenger of Allah (ﷺ) about the good times, but I used to ask him about bad times fearing lest they overtake me. I said: Messenger of Allah, we were in the midst of ignorance and evil, and then God brought us this good (time through Islam). Is there any bad time after this good one? He said: Yes. I asked: Will there be a good time again after that bad time? He said: Yes, but therein will be a hidden evil. I asked: What will be the evil hidden therein? He said: (That time will witness the rise of) the people who will adopt ways other than mine and seek guidance other than mine. You will know good points as well as bad points. I asked: Will there be a bad time after this good one? He said: Yes. (A time will come) when there will be people standing and inviting at the gates of Hell. Whoso responds to their call they will throw them into the fire. I said: Messenger of Allah, describe them for us. He said: All right. They will be a people having the same complexion as ours and speaking our language. I said: Messenger of Allah, what do you suggest if I happen to live in that time? He said: You should stick to the main body of the Muslims and their leader. I said: If they have no (such thing as the) main body and have no leader? He said: Separate yourself from all these factions, though you may have to eat the roots of trees (in a jungle) until death comes to you and you are in this state
حذیفہ بن الیمان رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے لوگ رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم سے بھلی باتوں کو پوچھا کرتے اور میں بری بات کو پوچھتا اس ڈر سے کہ کہیں برائی میں نہ پڑجاؤں۔ میں نے عرض کیا یارسول اﷲؐ! ہم جاہلیت اور برائی میں تھے پھر اﷲ نے ہم کو یہ بھلائی دی ( یعنی اسلام ) اب اس کے بعد بھی کچھ برائی ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں لیکن اس میں دھبہ ہے۔ میں نے کہا وہ دھبہ کیسا؟ آپ نے فرمایا ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت پر نہیں چلیں گے او رمیرے طریقہ کے سوا اور راہ پر چلیں گے، ان میں اچھی باتیں بھی ہوں گی اور بری بھی۔ میں نے عرض کیا پھر اس کے بعد برائی ہوگی؟ آپ نے فرمایا ہاں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو جہنم کے دروازے کی طرف لوگوں کو بلاویں گے، جو ان کے بات مانے گا اس کو جہنم میں ڈال دیں گے۔ میں نے کہا یا رسول اﷲؐ! ان لوگوں کا حال ہم سے بیان فرمائیے؟ آپ نے فرمایا ان کا رنگ ہمارا ساہی ہوگا اور ہماری ہی زبان بولیں گے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اﷲؐ! اگر اس زمانہ کو میں پاؤں تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہ اور ان کے امام کے ساتھ رہ۔ کہا اگر جماعت اور امام نہ ہوں؟ آپ نے فرمایا تو سب فرقوں کو چھوڑ دے اور اگرچہ ایک درخت کی جڑ دانت سے چباتا رہے مرتے دم تک۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْخَذْفِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ وَقَالَ إِنَّهُ لاَ يَنْكَأُ الْعَدُوَّ وَلاَ يَقْتُلُ الصَّيْدَ وَلَكِنَّهُ يَكْسِرُ السِّنَّ وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ إِنَّهَا لاَ تَنْكَأُ الْعَدُوَّ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ تَفْقَأُ الْعَيْنَ ‏.‏
Abdullah b. Mughaffal reported that Allah's Messenger (ﷺ) prohibited throwing of pebbles. Ibn Ja'far reported (in the narration transmitted by him) that he (the Holy Prophet) said:It neither inflicts defeat to the enemy nor kills the game but breaks the tooth and puts the eye out. This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Mahdi with a slight variation of wording
محمد بن جعفر اورعبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے انھوں نے عقبہ بن صہیان سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر مارنے سے منع فرمایا ۔ ابن جعفر نے اپنی روایت میں یہ بیا ن کیا کہ آپ نے فرمایا؛ " یہ نہ دشمن کو ہلاک کرتاہے ، نہ شکار مارتا ہے ، بس دانت توڑتا ہے اورآنکھ پھوڑتاہے ۔ " اور ابن مہدی نے ( اپنی روایت میں ) کہا؛ " یہ ( کنکر ، روڑا ) دشمن کو ہلاک نہیں کرتا " ( انھو ں نے ) آنکھ پھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ، جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ هَذَا ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira but with a different chain of transmitters
شعبہ نے ہمیں محمد بن زیاد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ما نند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَرْخَصَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ لِبَنِي عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ لَدَغَتْ رَجُلاً مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْقِي قَالَ ‏ "‏ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Apostle (ﷺ) granted a special sanction for incantation in case of the snake poison to a tribe of 'Amr. Abu Zubair said:I heard Jabir b. 'Abdullah as saying that the scorpion stung one of us as we were sitting with Allah's Messenger (may peace upon him). A person said: Allah's Messenger, I use incantation (for curing the effect. of sting), whereupon he said: He who is competent amongst you to benefit his brother should do so
روح بن عبادہ نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمرو ( بن حزم ) کو سانپ کے ڈسنے کی صورت میں دم کرنے کی اجا زت دی ۔ ابو زبیر نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( یہ بھی ) سنا ، وہ کہتے تھے : ہم میں سے ایک شخص کو بچھو نے ڈنگ مار دیا ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہو ئے تھے ۔ کہ ایک آدمی نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں دم کردوں؟آپ نے فرما یا : " تم میں سے جو شخص اپنے بھا ئی کو فا ئدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے ایسا کرنا چا ہیے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ، بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرٍ، أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الآخَرِ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سُفْيَانُ وَسَمِعْتُ أَيْضًا، عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَزَادَ، أَحَدُهُمَا عَلَى الآخَرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا فَقُبِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ فَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ بَعْدَهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَتْ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِ ‏.‏ فَقُمْتُ فَقُلْتُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَحَثَى أَبُو بَكْرٍ مَرَّةً ثُمَّ قَالَ لِي عُدَّهَا ‏.‏ فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ فَقَالَ خُذْ مِثْلَيْهَا ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:In case we get wealth from Bahrain, I would give you so much and so much; he made an indication of it with both his hands. Allah's Apostle (ﷺ) died before wealth from Bahrain came, and it fell to the lot of Abu Bakr after him. He commanded the announcer to make announcement to the effect that he to whom Allah's Apostle (ﷺ) had held out promise or owed any debt should come (to him). I came and said: Allah's Apostle (ﷺ) had said to me: In case there comes to us the wealth of Bahrain I shall give you so much, and so much. Abu Bakr took a handful (of the coins) and gave that to me once and asked me to count them I counted them as five hundred dinars and he said: Here is double of this for you
سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے روایت کی کہ انھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، ( اسی طرح ) سفیان نے ابن منکدر سے انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز عمرو سے روایت ہے ، انھوں نے محمد بن علی سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا ، اسی طرح ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ انھی کے ہیں ۔ کہا : سفیان نے کہا : میں نے محمد بن منکدر سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت جابر بن اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، سفیان نے یہ بھی کہا : میں نے عمرو بن دینار سے سنا ، وہ محمد بن علی سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ۔ ان دونوں میں سے ( بھی ) ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا ، ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو میں تجھے اتنا ، اتنا اور اتنا دوں گا اور دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا ( یعنی تین لپ بھر کر ) ۔ پھر بحرین کا مال آنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ۔ وہ مال سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آیا تو انہوں نے ایک منادی کو یہ آواز کرنے کے لئے حکم دیا کہ جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وعدہ کیا ہو ، یا اس کا قرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آتا ہو وہ آئے ۔ یہ سن کر میں کھڑا ہوا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر بحرین کا مال آئے گا تو تجھ کو اتنا ، اتنا اور اتنا دیں گے ۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک لپ بھرا پھر مجھ سے کہا کہ اس کو گن ۔ میں نے گنا تو وہ پانچ سو نکلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کا دوگنا اور لے لے ( تو تین لپ ہو گئے ) ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْخَلاَءَ فَلاَ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Qatada reported it from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said:When anyone amongst you enters the privy he should not touch his penis with his right hand
ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہو ں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے باپ ( ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی بیت الخلا میں داخل ہو تو اپنا عضو خاص اپنے دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ كَانَ أَبَوَاكَ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ‏.‏
Urwa reported:'Aisha said to me: Your fathers (Zubair and Abu Bakr) were amongst those about whom (it has been revealed):" Those who responded to the call of Allah and His Messenger after the misfortune had fallen upon them
بہی نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے فرمایا : " تمھا رے دونوں والد ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے زخم کھا نے کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلا وے پر لبیک کہا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، وَابْنُ أَبِي، عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ، عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ يَا لَلأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ ‏"‏ ‏.‏ فَسَمِعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ فَقَالَ قَدْ فَعَلُوهَا وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ ‏"‏ دَعْهُ لاَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported:We were along with Allah's Messenger (ﷺ) in an expedition that a person from amongst the emigrants struck at the back of a person from the Ansir. The Ansiri said: O Ansar! And the Muhijir said: O Emigrants! Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: What are these proclamations of the Days of Ignorance? They said: Allah's Messenger, a person from the emigrants struck at the back of an Ansari, whereupon he said: It is something disgusting. 'Abdullah b. Ubayy heard it and said: They have indeed done it. By Allah, when we would return to Medina the respectable amongst them (the Ansar) would turn away the mean (the emigrants). Thereupon 'Umar said: Permit me so that I should strike the neck of this hypocrite. But he (the Holy Prophet) said: Leave him, the people may not say that Muhammad kills his companions
سفیان بن عیینہ نے کہا : عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم ایک غزوے ( غزوہ مریسیع ) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، وہاں ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر ضرب لگائی ، انصاری نے کہا : اے انصار! ( آؤ ، مدد کرو ) اور مہاجر نے کہا : اے مہاجرو! ( آؤ ، مدد کرو ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ کیا زمانہ جاہلیت کی طرح کی چیخ و پکار ہے؟ "" انہوں نے کہا : یا رسول اللہ! ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری کی سرین پر مارا ہے ، آپ نے فرمایا : "" ( جب یہ اتنا چھوٹا سا معاملہ ہے تو جاہلی دور کی سی ) اس ( چیخ و پکار ) کو چھوڑو ۔ یہ ایک کریہہ اور بدبودار بات ہے ۔ "" عبداللہ بن اُبی نے یہ بات سنی تو کہنے لگا : ( اچھا! ) انہوں نے ( ایسا ) کیا ہے ، اللہ کی قسم! جب ہم مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے عزت والا اسے ، جو ذلت والا ہے ، وہاں سے نکال باہر کرے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے چھوڑئیے ، میں اس منافق کی گردن اڑاتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے رہنے دو ، کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلاً إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ عُمَرَ فَقَالَ مِنْ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ سَمِعْتُ ‏.‏
Abdullah b. 'Umar commanded a person that as he went to bed, he should say:" O Allah, Thou created my being and it is for Thee to take it to its ultimate goal. And its death and life is due to Thee, and if Thou givest it life, safeguard it; and if Thou bringst death, grant it pardon. O Allah, I beg of Thee safety." A person said to him: Did you hear it from Umar? Thereupon he said: (I have heard from one) who is better than Umar, viz. from Allah's Messenger (ﷺ). Ibn Nafi, reported this on the authority of Abdullah b. Harith but he did not make mention of this" that he heard it himself
عقبہ بن مُکرم اور ابوبکر بن نافع نے کہا : ہمیں غندر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خالد سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن حارث کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے ایک شخص سے کہا کہ جب وہ اپنے بستر پر جائے تو یہ دعا کرے : "" اے اللہ! میری جان کو تو نے پیدا کیا اور تو ہی اس کو موت دے گا ، اس جان کی موت بھی اور زندگی بھی تیرے ہی لیے ہے ، اگر تو اس کو زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرمانا اور اگر تو اس کو موت دے تو اس کی مغفرت کرنا ، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت مانگتا ہوں ۔ "" ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ان سے جو حضرت عمر سے زیادہ افضل ہیں ( میں نے یہ حدیث ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( سنی ہے ۔ ) ابن نافع نے اپنی روایت میں کہا : عبداللہ بن حارث سے روایت ہے ، یہ نہیں کہا : میں نے سنا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، ح وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى، بْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَهُ ‏.‏ وَزَادَ مِنْجَابٌ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ ابْنِ مُسْهِرٍ قَالَ الأَعْمَشُ وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah through other chains of transmitters
ابو سعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن ادریس نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں منجانب بن حارث تمیمی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن مسہر نے خبر دی ، نیز ہمیں اسحٰق بن ابراہیم اور علی بن خشرم نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، نیز ہمیں ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی ، ان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق روایت کی ۔ اور منجانب نے اپنی روایت میں مزید یہ کہا : ابن مسہر سے روایت ہے اعمش نے کہا : اور مجھے عمرو بن مرہ نے شیقق سے اور انھوں نے عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَالْجَنَّةُ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَالنَّارُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ الَّذِي تُبْعَثُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Umar reported that Allah's Apostle (ﷺ) said:When a person dies, he is shown his seat morning and evening. If he is one amongst the inmates of Paradise (he is shown his seat) in Paradise and if he is one amongst the denizens of Hell-Fire (he is shown his seat) in the Hell-Fire. Then it is said to him: That is your seat where you would be sent on the Day of Resurrection
سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو صبح و شام اس کے سامنے اس کا ٹھکاناپیش کیا جاتا ہے ۔ اگر وہ اہل جنت میں سے ہوتوجنت اور اگر اہل دوزخ میں سے ہوتو دوزخ ( اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے ) " کہا : پھر کہا جاتا ہے یہ تمھارا وہی ٹھکانا ہے جس کی طرف قیامت کے دن تجھے دوبارہ اٹھاکر لے جایا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ يُوشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لاَ يُجْبَى إِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلاَ دِرْهَمٌ ‏.‏ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ ذَاكَ قَالَ مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ يَمْنَعُونَ ذَاكَ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ يُوشِكَ أَهْلُ الشَّأْمِ أَنْ لاَ يُجْبَى إِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلاَ مُدْىٌ ‏.‏ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ ذَاكَ قَالَ مِنْ قِبَلِ الرُّومِ ‏.‏ ثُمَّ سَكَتَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا لاَ يَعُدُّهُ عَدَدًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لأَبِي نَضْرَةَ وَأَبِي الْعَلاَءِ أَتَرَيَانِ أَنَّهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالاَ لاَ ‏.‏
Abu Nadra reported:"We were in the company of Jabir b. 'Abdullah that he said it may happen that the people of Iraq may not send their qafiz and dirhams (their measures of food stuff and their money). We said: Who would be responsible for it? He said: The non-Arabs would prevent them. He again said: There is the possibility that the people of Syria may not send their dinars and mudds. We said: Who would be responsible for it? He said this prevention would be made by the Romans. He (Jabir b. Abdullah) kept quiet for a while and then reported Allah's Messenger (ﷺ) having said there would be a caliph in the last (period) of my Ummah who would freely give handfuls of wealth to the people without counting it. I said to Abu Nadra and Abu al-'Ala: Do you mean 'Umar b. 'Abd al-Aziz? They said: No (he would be Imam Mahdi)
اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں جریری سے حدیث بیان کی اور انھوں نے ابو نضرہ ہے روایت کی کہا : ہم حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے کہ انھوں نے کہا : وہ وقت قریب ہے کہ اہل عراق کے پاس کوئی قفیر ( پیمانہ ) آئے گانہ درہم ۔ ہم نے پوچھا کہاں سے؟انھوں نےکہا : عجم سے ۔ وہ اس کو روک لیں گے ۔ پھر کہا : عنقریب اہل شام کے پاس کوئی دینار آئے گا نہ مدی ( پیمانہ ) ہم نے پوچھا : کہاں سے؟انھوں نےکہا : روم کی جانب سے پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری امت کے آخر ( کے دور ) میں ایک خلیفہ ہو گا جولپیں بھر بھرکے مال دے گا اور اس کی گنتی نہیں کرے گا ۔ " ( جریری نے ) کہا : میں نے ابو نضرہ اور ابو العلاءسے پوچھا : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ عمر بن عبدالعزیزہیں؟تو دونوں نے کہا : نہیں ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيِبٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدَّمِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلآنَ دَمًا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
On the authority of 'A'isha:Umm Habiba asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the blood (which flows beyond the period of menstruation). 'A'isha said: I saw her wash-tub full of blood. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Remain away (from prayer) equal (to the length of time) that your menses prevented you. After this (after the period of usual courses) bathe yourself and offer prayer
یزید بن ابی حبیب نے جعفر سے ، انہوں نے عراک سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی ، کہا : ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ ﷺ سے خون کے بارے میں سوال کیا ۔ حضرت عائشہؓ نے بتایا : میں نے اس کا ٹب خون سے بھرادیکھا تھا ۔ تو رسول اللہ ﷺنے اس سے فرمایا : ’’تمہیں پہلے جتنا وقت حیض ( نماز سے ) روکتا تھا اتنا عرصہ رکی رہو ، پھر نہالو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
A hadith like this is transmitted by Ma'mar from Hammam b. Munabbih on the authority of Abu Huraira who reported it from the Messenger of Allah (ﷺ)
ہمام بن منبہ نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( گزشتہ حدیث ) کی طرح حدیث بیان کی ۔