بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
31 hadith
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا قُرِّبَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا صَلاَةَ الْمَغْرِبِ وَلاَ تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When the supper is brought before you, and it is also the time to say prayer, first take food before saying evening prayer and do not hasten (to prayer, leaving aside the food)
عمرو ( بن حارث ) نے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب رات کا کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا ( بھی ) وقت ہو جائے تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کھانے کی ابتدا کرو اور ( نماز کے لیے ) اپنا رات کا کھانا چھوڑ نے میں عجلت نہ کرو ۔ ‘ ‘ ( اس زمانے میں رات کا کھانا مغرب کے قریب ہی کھا یا جاتا تھا ۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ أُقِيمَتْ صَلاَةُ الصُّبْحِ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يُصَلِّي وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ فَقَالَ ‏ "‏ أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا ‏"‏ ‏.‏
Ibn Buhaina reported:The dawn prayer had commenced when the Messen- ger of Allah (ﷺ) saw a person observing prayer, whereas the Mu'adhdhin had pronounced the Iqama. Upon this he (the Holy Prophet) remarked: Do you say four (rak'ahs) of Fard in the dawn prayer?
ابو عوانہ نے سعد بن ابراہیم سے ، انہوں نے حفص بن عاصم سے ، اورانہوں نے حضرت ( عبداللہ ) ابن بحینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : صبح کی نماز کی اقامت ( شروع ) ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جبکہ موذن اقامت کہہ رہا ہے تو آپ نے فرمایا : " کیا تم صبح کی چار رکعتیں پڑھو گے؟
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ‏"‏ ‏.‏
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:He who believes in Allah and the Last Day should either utter good words or better keep silence; and he who believes in Allah and the Last Day should treat his neighbour with kindness and he who believes in Allah and the Last Day should show hospitality to his guest
ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے ۔ اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے ۔ اور جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَسْأَلُهُ أَىَّ شَىْءٍ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ سِوَى سُورَةِ الْجُمُعَةِ فَقَالَ كَانَ يَقْرَأُ ‏{‏ هَلْ أَتَاكَ‏}‏
Dahhak b. Qais wrote to Nu'man b. Bashir asking him what the Messenger of Allah (ﷺ) recited on Friday besides Surah Jumu'a He said that he recited:" Has there reached..." (Surah lxxxviii)
عبیداللہ بن عبداللہ نے کہا : ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخط لکھ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کے دن سورہ جمعہ کے علاوہ ( اور ) کون سی سورت پڑھی؟انھوں نے جواب دیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ پڑھا کرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو، بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ ‏"‏ مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلاَدُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ ‏"‏ ‏.‏
Qatada b. Rib'i reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Whenever a bier passed before him, he said: He is the one to find relief and the one with (the departure of him) other will find relief. They said: Apostle of Allah, who is al-Mustarih and al-Mustarah? Upon this he said: The believing servant finds relief from the troubles of the world, and in the death of a wicked person, the people, towns, trees and animals find rellef
امام مالک بن انس نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے ، انھوں نے معبد بن کعب بن مالک سے اور انھوں نے حضرت قتادہ بن ربعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فر ما یا : " آرام پانے والا ہے یا اس سے آرام ملنے والا ہے ۔ انھوں ( صحابہ ) نے پو چھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آرام پانے والا یا جس سے آرام ملنے والا ہے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فر ما یا : " بندہ مومن دنیا کی تکا لیف سے آرام پا تا ہے اور فاجر بندے ( کے مرنے ) سے لو گ شہر درخت اور حیوانات آرام پاتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ إِلاَّ أَخَذَهَا اللَّهُ بِيَمِينِهِ فَيُرَبِّيهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ قَلُوصَهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No one gives Sadaqa of a date out of his honest earning, but Allah accepts it with His Right Hand, and then fosters it as one of you fosters the colt or a young she-camel, till it becomes like a mountain or even greater
یعقوب بن عبد الرحمٰن القاری نے سہیل سے انھوں نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " کو ئی شخص اپنی پا کیزہ کما ئی سے ایک کھجور بھی خرچ نہیں کرتا مگر اللہ اسے اپنے دا ہنے ہا تھ سے قبول کرتا ہے اور اسے اس طرح پالتا ہے جس طرح تم میں سے کو ئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پا لتا ہے حتیٰ کہ وہ ( کھجور ) پہا ڑ کی طرح یا اس سے بھی بڑی ہو جا تی ہے ۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
Sufyan reported:I said to 'Abd al-Rahman b. Qasim: Have you heard from your father narrating from 'A'isha (Allah be pleased with her) that he kissed her while observing fast? He ('Abd al-Rahman b. Qasim) kept silence for a short while and then said:" Yes
علی بن حجر ، ابن ابی عمر ، حضرت سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے باپ کو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے؟حضرت عبدالرحمٰن تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا ہاں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ فَقَالَ أَخْبَرَتْنِي إِحْدَى نِسْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَمَرَ - أَوْ أُمِرَ - أَنْ تُقْتَلَ الْفَارَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ ‏.‏
Zaid b. Jubair reported:A person asked Ibn Umar which beast a Muhrim could kill. Thereupon he said: One of the wives of Allah's Apostle (ﷺ) told me: He (the Holy Prophet) commanded to kill rat, scorpion, kite, voracious dog and crow
ہم سے زہیر نے بیان کیا ( کہا ) ہمیں زید بن جبیر نے حدیث سنا ئی کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا : احرا م والا کس جانور کو مار سکتا ہے ؟ انھوں نے فر ما یا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ نے خبر دی کہ آپ نے حکم دیا یا آپ کو ( اللہ کی طرف سے ) حکم دیا گیا کہ چو ہا ، بچھو ، چیل ، کا ٹنے والا کتا اور کوا قتل کر دیے جا ئیں ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏"‏ الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا ‏"‏ ‏.‏ وَرُبَّمَا قَالَ ‏"‏ وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا ‏"‏ ‏.‏
Sufyan reported on the basis of the same chain of transmitters (and the words are):A woman who has been previously married (Thayyib) has more right to her person than her guardian; and a virgin's father must ask her consent from her, her consent being her silence, At times he said: Her silence is her affirmation
ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : " جس عورت نے شادی شدہ زندگی گزاری ہو وہ اپنے بارے میں اپنے ولی کی نسبت زیادہ حق رکھتی ہے ، اور کنواری سے اس کا والد اس کے ( نکاح کے ) بارے میں اجازت لے گا ، اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے ۔ " اور کبھی انہوں نے کہا : " اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَإِذَا شَهِدَ أَمْرًا فَلْيَتَكَلَّمْ بِخَيْرٍ أَوْ لِيَسْكُتْ وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَىْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلاَهُ إِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:He who believes in Allah and the Hereafter, if he witnesses any matter he should talk in good terms about it or keep quiet. Act kindly towards woman, for woman is created from a rib, and the most crooked part of the rib is its top. If you attempt to straighten it, you will break it, and if you leave it, its crookedness will remain there. So act kindly towards women
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اگر حواء ( علیہا السلام ) نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے کبھی خیانت نہ کرتی
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ، بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ حَدَّثَتْهُ عَنْ حَفْصَةَ، أَوْ عَنْ عَائِشَةَ، أَوْ عَنْ كِلْتَيْهِمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ - أَوْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ - أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجِهَا ‏"‏ ‏.‏
Safiyya bint Abu 'Ubaid reported on the authority of Hafsa or 'A'isha (Allah be pleased with thein) or from both of them that Allah's Messenger (may peace he upon him) said:It is not permissible for a woman believing in Allah and the Hereafter (or believing in Allah and His Messenger) that she should observe mourning for the dead beyond three days except in case of her husband
لیث بن سعد نے نافع سے روایت کی کہ صفیہ بنت ابی عبید نے انہیں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یا ان دونوں سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی عورت کے لیے ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے ۔ ۔ یا فرمایا : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتی ہے ۔ ۔ حلال نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے سوا کسی بھی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
A hadith like this has been narrated on the authority of Nafi' with the same chain of transmitters
عبدالوہاب نے ہمیں کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے : مجھے نافع نے اسی سند سے اسی کے مانند خبر دی
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ وُهَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ ‏.‏
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) got himself cupped and he paid the clipper his charges and he put medicine in his nostrils
طاوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور سینگی لگانے والے کو اس کی اجرت دی اور آپ نے ناک کے ذریعے سے دوا لی ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَخَلاَصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:He who emancipates his portion in a slave, full emancipation may be secured for him out of his property (if he has money) if he has enough property to meet (the required expenses), but if he has not enough property, the slave should be put to extra labour (in order to earn money for buying his freedom), but he should not be overburdened
اسماعیل بن ابراہیم نے ابن ابی عروبہ سے ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے نضر بن انس سے ، انہوں نے بشیر بن نہیک سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " جس نے غلام ( کی ملکیت ) میں سے اپنا حصہ آزاد کیا ، اگر اس کے پاس مال ہے تو اس کی ( پوری ) آزادی اسی کے مال کے ذریعے سے ہو گی اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو کسی جبری مشقت میں ڈالے بغیر اس غلام سے ( بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لیے ) کام کروایا جائے گا
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ قَالَ أَبِي فَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Hisham (who learnt it from his father) that the Messenger of Allah (ﷺ) said (to Sa'd):You have adjudged their case with the judgment of God. the Exalted and Glorified
عروہ نے کہا : مجھے بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے ان کے بارے میں اللہ عزوجل کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ فَجَذَبَهُ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated through a different chain of transmitters, on the authority of Simak who said:Ash'ath b. Qais pulled him (Salama b. Yazid) when the Messenger of Allah (ﷺ) said: Listen to them and obey them, for on them shall be the burden of what they do and on you shall be the burden of what you do
شبابہ نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور کہا : اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے اس ( پوچھنے والے ) کو کھینچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سنو اور اطاعت کرو ، جو ذمہ داری ان پر ڈالی گئی اس کا بوجھ ان پر ہے اور جو تم پر ڈالی گئی اس کا بوجھ تم پر ہے
حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Kahmas
عثمان بن عمر نے کہا : ہمیں کہمس نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی ۔
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ يُنْتَبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يَجِدُوا سِقَاءً نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَنَا أَسْمَعُ لأَبِي الزُّبَيْرِ مِنْ بِرَامٍ قَالَ مِنْ بِرَامٍ ‏.‏
Jabir reported that Nabidh was prepared for Allan's Messenger (ﷺ) in a waterskin, but if they did not find waterskin it was prepared in a big bowl of stone. One of the persons and I had heard from Abu Zubair that it was Biram (a vessel made of stone)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي قَدْ أَعْجَبَتْهُ جُمَّتُهُ وَبُرْدَاهُ إِذْ خُسِفَ بِهِ الأَرْضُ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الأَرْضِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) said that there was a person who used to walk with pride because of his thick hair and fine mantles. He was made to sink in the earth and he would go on sinking in the earth until the Last Hour would come
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیا د سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فر ما یا : " ایک شخص اپنے بالوں اور اپنی چادروں پر اتراتا ہو ا چل رہا تھا کہاچا نک اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جا ئے گا ۔
حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ رَخَّصَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لآلِ حَزْمٍ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ وَقَالَ لأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ‏"‏ مَا لِي أَرَى أَجْسَامَ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً تُصِيبُهُمُ الْحَاجَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لاَ وَلَكِنِ الْعَيْنُ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْقِيهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ ارْقِيهِمْ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Apostle (ﷺ) granted sanction to the family of Hazm for incantation (in mitigating the effect of the poison of) the snake, and, he said -to Asma' daughter of 'Umais:What is this that I see the children of my brother lean? Are they not fed properly? She said: No, but they fall under the influence of an evil eve. He said: Use incantation She recited (the words of incantation before him), whereupon he (by approving them) said: Yes, use this incantation for them
ابوعاصم نے ابن جریج سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آل ( بنو عمروبن ) حزم کو سانپ ( کے کا ٹے ) کا دم کرنے کی اجازت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فر ما یا : " کیا ہوا ہے میں نے اپنے بھا ئی ( حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے بچوں کے جسم لا غر دیکھ رہا ہوں ، کیا انھیں بھوکا رہنا پڑتا ہے؟ " انھوں نے کہا : نہیں لیکن انھیں نظر بد جلدی لگ جاتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " انھیں دم کرو ۔ " انھوں ( اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : تومیں نے ( دم کے الفاظ کو ) آپ کے سامنے پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " ( ان الفاظ سے ) ان کو دم کردو ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ صَفْوَانَ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَعْطَانِي وَإِنَّهُ لأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَىَّ فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لأَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ ‏.‏
Ibn Shihab reported that Allah's Messenger (ﷺ) went on the expedition of Victory, i. e. the Victory of Mecca, and then he went out along with the Muslims and they fought at Hunain, and Allah granted victory to his religion and to the Muslims, and Allah's Messenger (ﷺ) gave one hundred camels to Safwan b. Umayya. He again gave him one hundred camels, and then again gave him one hundred camels. Sa'id b. Musayyib said that Safwan told him:(By Allah) Allah's Messenger (ﷺ) gave me what he gave me (and my state of mind at that time was) that he was the most detested person amongst people in my eyes. But he continued giving to me until now he is the dearest of people to me
یو نس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح یعنی فتح مکہ کے لیے جہاد کیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مسلمانوں کے ساتھ جو آپ کے ہمراہ تھے نکلے اور حنین میں خونریز جنگ کی ، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرما ئی ، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے ، پھر سواونٹ پھر سواونٹ ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے یہ بیان کیا کہ صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فر ما یا ، مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا ۔ پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرما تے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُمْسِكَنَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَهُوَ يَبُولُ وَلاَ يَتَمَسَّحْ مِنَ الْخَلاَءِ بِيَمِينِهِ وَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Qatada reported it from his father:The Messenger of Allah (ﷺ) said: None of you should hold penis with his right hand while urinating, or wipe himself with his right hand in privy and should not breathe into the vessel (from which he drinks)
ہمام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، ابو قتادہ نےکہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تم میں سے کوئی پیشاب کرتے وقت اپنا عضو خاص دائیں ہاتھ میں نہ پکڑے ، نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ ( پانی پیتے وقت ) برتن میں سانس لے
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ تَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَالزُّبَيْرَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Hishan through the same chain of transmitters but with this addition (that by both fathers of yours) he meant Abu Bakr and Zubair
ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا کہ وہ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد لے رہی تھیں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ اقْتَتَلَ غُلاَمَانِ غُلاَمٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَغُلاَمٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَنَادَى الْمُهَاجِرُ أَوِ الْمُهَاجِرُونَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ‏.‏ وَنَادَى الأَنْصَارِيُّ يَا لَلأَنْصَارِ ‏.‏ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ أَنَّ غُلاَمَيْنِ اقْتَتَلاَ فَكَسَعَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ قَالَ ‏"‏ فَلاَ بَأْسَ وَلْيَنْصُرِ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا إِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ فَإِنَّهُ لَهُ نَصْرٌ وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported that two young men, one from the Muhajirin (emigrants) and the other one from the Angr (helpers) fell into dispute and the Muhajir called his fellow Muhajirin, and the Ansari (the helper) called the Ansar (for help). In the meanwhile, Allah's Messenger (ﷺ) came there and said:What is this, the proclamation of the days of jahiliya (ignorance)? They said: Allah's Messenger, there is nothing serious. The two young men fell into dispute and the one struck at the back of the other. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Well, a person should help his brother whether he is an oppressor or an oppressed. If he is the oppressor he should prevent him from doing it, for that is his help; and if he is the oppressed he should be helped (against oppression)
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : دو لڑکے آپس میں لڑ پڑے ، ایک لڑکا مہاجرین میں سے تھا اور دوسرا لڑکا انصار میں سے ۔ مہاجر نے پکار کر آواز دی : اے مہاجرین! اور انصاری نے پکار کر آواز دی : اے انصار! تو ( اچانک ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے اور فرمایا : " یہ کیا زمانہ جاہلیت کی سی چیخ و پکار ہے؟ " انہوں نے عرض کی : نہیں ، اللہ کے رسول! بس یہ دو لڑکے آپس میں لڑ پڑے ہیں اور ایک نے دوسرے کی سرین پر ضرب لگائی ہے ، آپ نے فرمایا : " کوئی ( بڑی ) بات نہیں ، اور ہر انسان کو اپنے بھائی کی ، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ، مدد کرنی چاہئے ، اگر اس کا بھائی ظالم ہو تو اسے ( ظلم سے ) روکے ، یہی اس کی مدد ہے ، اور اگر مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ ‏"‏ ‏.‏ وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ ‏"‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ‏"‏ ‏.‏
Al-Bara' reported that whenever Allah's Messenger (ﷺ) went to bed, he said:" O Allah, it is with Thine Name that I live and it is with Thine Name that I die." And when he got up he used to say:" Praise is due to Allah, Who gave us life after our death (sleep) and unto Thee is resurrection
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا کرتے : " اے اللہ! میں تیرے نام سے جیتا ہوں اور تیرے نام سے وفات پاؤں گا " اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے : " اللہ کی حمد ہے جس نے ہمیں وفات دینے کے بعد زندہ کر دیا اور اسی کی طرف ( قیامت کے روز ) زندہ ہو کر جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ بَابِ عَبْدِ اللَّهِ نَنْتَظِرُهُ فَمَرَّ بِنَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ فَقُلْنَا أَعْلِمْهُ بِمَكَانِنَا ‏.‏ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي أُخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ فَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ إِلاَّ كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الأَيَّامِ مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا ‏.‏
Shaqiq reported:We were sitting at the door of Abdullah (b. Mas'ud) waiting for him (to come out and deliver a sermon to us). It was at this time that there happened to pass by us Yazid b. Mu'awiya an-Nakha'i. We said: Inform him ('Abdullah b. Mas'ud) of our presence here. He went in and Abdullah b. Mas'ud lost no time in coming out to us and said: I was informed of your presence here but nothing hindered me to come out to you but the fact that I did not like to bore you (by stuffing your minds with sermons) as Allah's Messenger (ﷺ) did not deliver us sermon on certain days fearing that it might prove to be boring for us
ابو معاویہ نے اعمش سے اور انھوں نے شقیق سے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتظار میں ان کے گھر کے دروازےپربیٹھےہوئے تھے کہ اتنے میں یزید بن معاویہ نخعی ہمارے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا : ان ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو ہمارے آنے کی اطلاع کردیں وہ ان کے پاس گئے تو تھوڑی ہی دیر میں حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) آگئے ۔ اور فرمایا : " مجھے تمھارے آنے کی اطلاع کردی گئی تھی اور مجھے تمھارے پاس آنے سے صرف یہ ناپسندیدگی مانع تھی کہ میں تمھاری اکتاہٹ کا سبب نہ بن جاؤں ۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے اکتا جانے کے ڈرسے صرف بعض دنوں میں ہی وعظو نصیحت سے نوازاکرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as say- ing:When any one of you dies, he is shown his seat (in the Hereafter) morning and evening; if he is amongst the inmates of Paradise (he is shown the seat) from amongst the inmates of Paradise and if he is one from amongst the denizens of Hell (he is shown the seat) from amongst the denizens of Hell, and it would be said to him: That is your seat until Allah raises you on the Day of Resurrection (and sends you to your proper seat)
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو ہر صبح و شام اس کا اصل ٹھکانا اس کے سامنے لایا جاتاہے ۔ اگر وہ جنت والوں میں سے ہے تو اہل جنت سے اور اگر وہ دوزخ والوں میں سے ہے تو دوزخ میں سے ( اس کا ٹھکانا اسے دکھایاجاتاہےاور اس سے ) کہاجاتاہے ۔ تمھاراٹھکانا ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے زندہ کر کے اس ( ٹھکانے ) تک لے جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ، بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تُقَاتِلُونَ بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ حُمْرُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الأَعْيُنِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:You shall fight in the hours to come against a nation wearing shoes made of hair and faces like hammered shields, with red complexion and small eyes
قیس بن ابی حازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت سےپہلے تم ایسی قوم سے جنگ کروگے ۔ جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے ۔ ان کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گےوہ سرخ چہروں اور چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ‏ "‏ الْفَأْرَةُ مَسْخٌ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ يُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهَا لَبَنُ الْغَنَمِ فَتَشْرَبُهُ وَيُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهَا لَبَنُ الإِبِلِ فَلاَ تَذُوقُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ كَعْبٌ أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَفَأُنْزِلَتْ عَلَىَّ التَّوْرَاةُ
Abu Huraira reported that the rat (is the result of) metamorphosis (of a group of Bani Isra'il) and the proof of this is that when the milk of goat is placed before it, it drinks it, and when the milk of the camel is placed before it, it would not taste it at all. Ka'b said:Did you hear it from Allah's Messenger (ﷺ)? Thereupon he said: Has Torah been revealed to me?
ہشام نے محمد ( بن سیرین ) سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : چوہیا مسخ شدہ ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے سامنے بکری کا دودھ رکھا جائے تو یہ پی لیتی ہے اور اس کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تو یہ اس کو منہ تک نہیں لگاتی ۔ " تو کعب ( احبار ) نے ان سے کہا : آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تو کیا مجھ پرتورات نازل ہوئی تھی؟
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ ابْنَةَ جَحْشٍ، كَانَتْ تُسْتَحَاضُ سَبْعَ سِنِينَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
The hadith has been narrated by 'A'isha through another chain of transmitters (in these words):I The daughter of jahsh had been mustabida for seven years," and the rest of the hadith is the same (as mentioned above)
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انہوں نے عمرہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی کہ بنت جحش سات سال تک استحاضے میں مبتلا رہیں ( آگے باقی ) دوسرے راویوں کی حدیث کی طرح ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ ‏.‏ وَالْمَلاَئِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ ‏.‏ فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Harare reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When anyone amongst you utters Amin and the angels In the heaven also utter Amin and (the Amin) of the one synchronises with (that of) the other, all his previous sins are pardoned
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ایک اور شاگرد اعرج کے حوالے سے روایت ہے کہ ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے ایک شخص آمین کہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہیں اور آمین دوسری کے موافق ہو جائے تو اس شخص کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں