بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
31 hadith
أَخْبَرَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported the Messenger of Allah (ﷺ) saying:When the supper is brought and the prayer begins, one, should first take food
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ جب رات کا کھا نا آ جائے اور نماز کے لیے تکبیر ( بھی ) کہہ دی جائے تو پہلے کھانا کھا لو
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِرَجُلٍ يُصَلِّي وَقَدْ أُقِيمَتْ صَلاَةُ الصُّبْحِ فَكَلَّمَهُ بِشَىْءٍ لاَ نَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَحَطْنَا نَقُولُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ لِي ‏ "‏ يُوشِكُ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ أَرْبَعًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكٍ ابْنُ بُحَيْنَةَ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ وَقَوْلُهُ عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ خَطَأٌ ‏.‏
Abdullah b. Malik b. Buhaina reported:The Messenger of Allah (ﷺ) happened to pass by a person who was busy in praying while the (Fard of the) dawn prayer had commenced. He said something to him, which we do not know what it was. When we turned back we surrounded him and said: What is it that the Messenger of Allah (ﷺ) said to you? He replied: He (the Holy Prophet) had said to me that he perceived as if one of them was about to observe four (rak'ahs) of the dawn prayer. Qa'nabi reported that 'Abdullah b. Malik b. Buhaina narrated it on the authority of his father. (Abu'l-Husain Muslim said): His assertion that he has narrated this hadith on the authority of his father is not correct
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا ہمیں ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث سنائی ۔ انھوں نے حفص بن عاصم سے اور ا نھوں نے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہاتھا جب صبح کی نماز کے لئے اقامت کہی جاچکی تھی آپ نے کسی چیز کے بارے میں اس سے گفتگو فرمائی ہم نہ جان سکے کہ وہ کیا تھی جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اسے گھیرلیا ہم پوچھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟اس نے بتایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" لگتا ہے کہ تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعات پڑھنے لگے گا ۔ "" قعنبی نے کہا : عبداللہ بن مالک ابن بحینہ نے رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی ۔ ابو الحسین مسلم ؒ ( مولف کتاب ) نے کہا : قعنبی کا اس حدیث میں "" عَنْ أَبِيهِ "" ( والد سے روایت کی ) کہنا درست نہیں ۔ ( عبداللہ کے والد صحابی مالک صحابی تو ہیں لیکن ان سے کوئی حدیث مروی نہیں)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لاَ يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessing be upon him) observed:He will not enter Paradise whose neighbour is not secure from his wrongful conduct
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس کی ایذا رسانی سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں ، وہ جنت میں نہیں جائے گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated by Ibrahim b Muhammad b. al-Muntashir with the same chain of transmitters
ابو عوانہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے اسی سند کے ساتھ ( اسی کے مانند ) ر وایت کی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِجَنَازَةٍ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَتَمُّ ‏.‏
This hadith has been narrated through another chain of transmitters
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا ۔ ۔ ۔ اس کے بعد انھوں نے انس سے عبد العزیز کی ( سابقہ ) حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی البتہ عبد العزیز کی حدیث زیادہ مکمل ہے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ - وَلاَ يَقْبَلُ اللَّهُ إِلاَّ الطَّيِّبَ - إِلاَّ أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If anyone gives as Sadaqa the equivalent of a date from that (earning) earned honestly, for Allah accepts that which is lawful, the Lord would accept it with His Right Hand, and even if it is a date, it would foster in the Hand of the lord, as one of you fosters his colt, till it becomes bigger than a mountain
سعید بن یسار سے روا یت ہے کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی شخص پا کیزہ مال سے کو ئی صدقہ نہیں کرتا اور اللہ تعا لیٰ پا کیزہ مال ہی قبول فر ما تا ہے مگر وہ رحمٰن اسے اپنے دا ئیں ہا تھ میں لیتا ہے چا ہے وہ کھجور کا ایک دا نہ ہو تو وہ اس رحمٰن کی ہتھیلی میں پھلتا پھولتا ہے حتیٰ کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جا تا ہے بالکل اسی طرح جس طرح تم میں سے کو ئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پا لتا ہے ۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ إِحْدَى نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ‏.‏ ثُمَّ تَضْحَكُ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) said that the Messenger of Allah (ﷺ) kissed one of his wives while he was fasting, and then she ('A'isha) smiled (as she narrated)
علی بن حجر ، سفیان ، ہشام بن عروہ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کا بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مسکرپڑیں ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَتْ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهَا فَاسِقٌ لاَ حَرَجَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ الْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ‏"‏ ‏.‏
Hafsa, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported Allah's Messenger (ﷺ) having said this:There are five beasts, all of them are vicious and harmful and there is no sin for one who kills them (and these are): scorpion, crow, kite, rat and voracious dog
یو نس نے ابن شہاب کے واسطے سے خبر دی کہا : مجھے سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ؒ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جانوروں میں سے پانچ ہیں جو سب کے سب مو ذی ہیں انھیں قتل کرنے والے پر کو ئی گنا ہ نہیں ۔ بچھو ، کوا ، چیل چو ہا اور کا ٹنے والا کتا ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ وَإِذْنُهَا سُكُوتُهَا ‏"‏ ‏.‏
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A woman who has been previously married (Thayyib) has more right to her person than her guardian. And a virgin should also be consulted, and her silence implies her consent
قتیبہ بن سعید نے کہا : ہمیں سفیان نے زیاد بن سعد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن فضل سے روایت کی ، انہوں نے نافع بن جبیر کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے خبر دیتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے شادی شدہ زندگی گزاری ہو وہ اپنے بارے میں اپنے والی کی نسبت زیادہ حق رکھتی ہے ، اور کنواری سے اس کی مرضی پوچھی جائے اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ فَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا وَكَسْرُهَا طَلاَقُهَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:Woman has been created from a rib and will in no way be straightened for you; so if you wish to benefit by her, benefit by her while crookedness remains in her. And if you attempt to straighten her, you will break her, and breaking her is divorcing her
ابوعاصم نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ اسی کے مانند
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَتْ لَمَّا أَتَى أُمَّ حَبِيبَةَ نَعِيُّ أَبِي سُفْيَانَ دَعَتْ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْ بِهِ ذِرَاعَيْهَا وَعَارِضَيْهَا وَقَالَتْ كُنْتُ عَنْ هَذَا غَنِيَّةً سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏"‏‏.‏
Zainab bint Abu Salama reported that when the news of the death of Abu Safyan came to Umm Habiba she sent for yellow (perfume) on the third day and rubbed it on her forearms and on her cheeks and said:I had in fact no need of it, but I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: It is not permissible for the women believing in Allah and the Hereafter to abstain from adornment beyond three days except (at the death of) husband (in which case she must abstain from adornment) for four months and ten days
زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : جب ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس ( ان کے والد ) ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر آئی تو انہوں نے تیسرے دن زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں اور رخساروں پر ہلکا سا لگایا اور کہا : مجھے اس کی ضرورت نہ تھی ، ( مگر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا : " کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو ، حلال نہیں کہ وہ ( کسی مرنے والے پر ) تین دن سے زیادہ سوگ منائے ، سوائے شوہر کے ، وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا ‏.‏
Zaid b. Thabit reported that Allah's Messenger (ﷺ) give concession in case of 'ariyya transactions according to which the members of the household give dry dates according to a measure and then eat fresh dates (in exchange for it)
سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی کہا : مجھے نافع نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے بارے میں رخصت دی ( عریہ یہ ہے ) کہ گھر والے ( اپنی طرف سے دیے گئے درخت کے پھل کا ) خشک کھجور کے حوالے سے اندازہ لگا کر اسے لے لیں تاکہ وہ تازہ کھجور کھا سکیں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غُلاَمًا لَنَا حَجَّامًا فَحَجَمَهُ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ أَوْ مُدٍّ أَوْ مُدَّيْنِ وَكَلَّمَ فِيهِ فَخُفِّفَ عَنْ ضَرِيبَتِهِ ‏.‏
Humaid reported Anas (Allah be pleased with him) having said this:Allah's Apostle (ﷺ) called for young cupper belonging to us. He capped him and he (the Holy Prophet) commanded that he should be paid one sa' or one mudd or two mudds (of wheat). It was said (that charges were high) and a reduction was made in the charges
شعبہ نے ہمیں حمید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ایک پچھنے لگانے والے غلام کو بلایا اس نے آپ کو پچھنے لگائے تو آپ نے اسے ایک صاع ، ایک مد یا دو مد دینے کا حکم دیا اور اس کے متعلق ( اس کے مالکوں سے ) بات کی تو اس کے محصول میں کمی کر دی گئی ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا مِنْ مَمْلُوكٍ فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِهِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters (and the words are):" He who emancipates a portion in a slave, he should (secure full) freedom for him from his property
عبیداللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، آپ نے فرمایا : " جس نے غلام ( کی ملکیت ) میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو وہ اسی کے مال سے ( پورا ) آزاد ہو جائے گا
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْعَرِقَةِ ‏.‏ رَمَاهُ فِي الأَكْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ يَعُودُهُ مِنْ قَرِيبٍ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلاَحَ فَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ فَقَالَ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَاهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فَأَيْنَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدٍ قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ ‏.‏
It has been narrated on the authority of A'isha who said:Sa'd was wounded on the day of the Battle of the Ditch. A man from the Quraish called Ibn al-Ariqah shot at him an arrow which pierced the artery in the middle of his forearm. The Messenger of Allah (ﷺ) pitched a tent for him in the mosque and would inquire after him being in close proximity. When he returned from the Ditch and laid down his arms and took a bath, the angel Gabriel appeared to him and he was removing dust from his hair (as if he had just returned from the battle). The latter said: You have laid down arms. By God, we haven't (yet) laid them down. So march against them. The Messenger of Allah (ﷺ) asked: Where? He pointed to Banu Quraiza. So the Messenger of Allah (may peace he upon him) fought against them. They surrendered at the command of the Messenger of Allah (ﷺ), but he referred the decision about them to Sa'd who said: I decide about them that those of them who can fight be killed, their women and children taken prisoners and their properties distributed (among the Muslims)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : خندق کے دن حضرت سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے ، انہیں قریش کے ایک آدمی نے ، جسے ابن عرقہ کہا جاتا تھا ، تیر مارا ۔ اس نے انہیں بازو کی بڑی رگ میں تیر مارا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا ، آپ قریب سے ان کی تیمارداری کرنا چاہتے تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے واپس ہوئے ، اسلحہ اتارا اور غسل کیا تو ( ایک انسان کی شکل میں ) جبریل علیہ السلام آئے ، وہ اپنے سر سے گردوغبار جھاڑ رہے تھے ، انہوں نے کہا : آپ نے اسلحہ اتار دیا ہے؟ اللہ کی قسم! ہم نے نہیں اتارا ، ان کی طرف نکلیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " کہاں؟ " انہوں نے بنوقریظہ کی طرف اشارہ کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جنگ کی ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر اتر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فیصلہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا ، انہوں نے کہا : میں ان کے بارے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ جنگجو افراد کو قتل کر دیا جائے اور یہ کہ بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے اموال تقسیم کر دیے جائیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا فَمَا تَأْمُرُنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ فَجَذَبَهُ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ وَقَالَ ‏ "‏ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Alqama b. Wai'l al-Hadrami who learnt the tradition from his father. The latter said:Salama b. Yazid al-ju'afi asked the Messenger of Allah (ﷺ): Prophet of Allah, what do you think if we have rulers who rule over us and demand that we discharge our obligations towards them, but they (themselves) do not discharge their own responsibilities towards us? What do you order us to do? The Messenger of Allah (ﷺ) avoided giving any answer. Salama asked him again. He (again) avoided giving any answer. Then he asked again-it was the second time or the third time-when Ash'ath b. Qais (finding that the Prophet was unnecessarily being pressed for answer) pulled him aside and said: Listen to them and obey them, for on them shall he their burden and on you shall be your burden
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے علقمہ بن وائل حضرمی سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا : اللہ کے نبی! آپ کیسے دیکھتے ہیں کہ اگر ہم پر ایسے لوگ حکمران بنیں جو ہم سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور ہمارے حق ہمیں نہ دیں تو اس صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے اس سے اعراض فرمایا ، اس نے دوبارہ سوال کیا ، آپ نے پھر اعراض فرمایا ، پھر جب اس نے دوسری یا تیسری بار سوال کیا تو اس کو اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کھینچ لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سنو اور اطاعت کرو کیونکہ جو ذمہ داری ان کو دی گئی اس کا بار ان پر ہے اور جو ذمہ داری تمہیں دی گئی ہے ، اس کا بوجھ تم پر ہے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ رَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِهِ يَخْذِفُ فَقَالَ لَهُ لاَ تَخْذِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَكْرَهُ - أَوْ قَالَ - يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ فَإِنَّهُ لاَ يُصْطَادُ بِهِ الصَّيْدُ وَلاَ يُنْكَأُ بِهِ الْعَدُوُّ وَلَكِنَّهُ يَكْسِرُ السِّنَّ وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ ‏.‏ ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ فَقَالَ لَهُ أُخْبِرُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَكْرَهُ أَوْ يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ ثُمَّ أَرَاكَ تَخْذِفُ لاَ أُكَلِّمُكَ كَلِمَةً كَذَا وَكَذَا ‏.‏
Ibn Buraida reported that Abdullah b. al-Mughaffal saw a person from amongst his companions throwing small pebbles, whereupon he said:Don't throw pebbles. for Allah's Messenger (ﷺ) did not like it, or he forbade flinging of pebbles since neither the game is taken thereby, nor an enemy defeated. but it may break a tooth or put out an eye. He, afterwards, again saw him flinging pebbles, and said to him: I inform you that the Messenger of Allah (ﷺ) did not approve or he forbade flinging of pebbles, but if I see you again flinging pebbles. I will not speak with you
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں کہمس نے ابن بریدہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو کنکر سے ( کسی چیز کو ) نشانہ بناتے ہوئے دیکھا تو کہا : کنکر سے نشانہ مت بناؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے ۔ یا کہا ۔ کنکر مارنے سے منع فرماتے تھے ، کیونکہ اس کے ذریعے سے نہ کوئی شکار مارا جاسکتا ہے ۔ نہ دشمن کو ( پیچھے ) دھکیلا جاسکتاہےیہ ( صرف ) دانت توڑتاہے یا آنکھ پھوڑتا ہے ۔ اس کے بعد انھوں نے اس شخص کو پھر کنکر مارتے دیکھا تو اس سے کہا : میں تمھیں بتاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے یا ( کہا : ) آپ اس سے منع فرماتے تھے ، پھر میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم کنکر مار رہے ہو!میں اتنا اتنا ( عرصہ ) تم سے ایک جملہ تک نہ کہوں گا ( بات تک نہ کروں گا)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ ‏.‏
This hadith is reported on the authority of Jabir b. Abdullah that Nabidh was prepared for him in a big bowl of stone
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُسْتَخْلَفُ عَلَى الْمَدِينَةِ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters and in the hadith transmitted on the authority of Ibn ja'far (the words are):Marwan had made Abu Huraira as his deputy. and in the hadith transmitted on the authority of Ibn Muthanna (the words are). Abu Huraira was the Governor of Medina
محمد بن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ۔ اور ابن مثنیٰ نے کہا : ہمیں ابن ابی عدی نے حدیث سنائی ، ان دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ابن جعفر کی روایت میں ہے : مروان ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی غیر حاضری میں مدینہ کا ( قائم مقام ) حاکم بنا یا کرتا تھا ۔ اور ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ( حاکم کی غیرحاضر ی میں ) مدینہ کا حاکم بنا یا جا تا تھا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِجَارِيَةٍ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَأَى بِوَجْهِهَا سَفْعَةً فَقَالَ ‏ "‏ بِهَا نَظْرَةٌ فَاسْتَرْقُوا لَهَا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي بِوَجْهِهَا صُفْرَةً ‏.‏
Umm Salama, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported that Allah's Messenger (ﷺ) said to a small girl in the house of Umm Salama that he had been seeing on her face black stains and told her that that was due to the infiluence of an evil eye, and he asked that she should be cured with the help of incantation (hoping) that her face should become spotles
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں ایک لڑکی کے بارے میں جس کے چہرے ( کے ایک حصے ) کا رنگ بدلا ہوا دیکھا فرما یا : " اس کو نظر لگ گئی ہے اس کو دم کراؤ ۔ " آپ کی مراد اس کے چہرے کی پیلا ہٹ سے تھی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ أَىْ قَوْمِ أَسْلِمُوا فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ ‏.‏ فَقَالَ أَنَسٌ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلاَّ الدُّنْيَا فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الإِسْلاَمُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا ‏.‏
Anas 'b. Malik reported that a person requested Allah's Apostle (ﷺ) to give him a very large flock and he gave that to him. He came to his tribe and said:O people, embrace Islam. By Allah, Muhammad donates so much as if he did not fear want. Anas said that the person embraced Islam for the sake of the world but later he became Muslim until Islam became dearer to him than the world and what it contains
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوپہاڑوں کے درمیان ( چرنے والی ) بکریاں مانگیں ، آپ نے وہ بکریاں اس کو عطا کر دیں پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا : میری قوم اسلام لے آؤ ، کیونکہ اللہ کی قسم!بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ بھی نہیں رکھتے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : بے شک کو ئی آدمی صرف دنیا کی طلب میں بھی مسلمان ہو جا تا تھا ، پھر جو نہی وہ اسلام لا تا تھا تو اسلام اسے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَقِيتُ عَلَى بَيْتِ أُخْتِي حَفْصَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدًا لِحَاجَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ ‏.‏
Abdullah b. Umar said:I went up to the roof of the house of my sister Hafsa and saw the Messenger of Allah (ﷺ) relieving himself facing Syria. with his back to the Qibla
یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ سے ، انہوں نے اپنے چچا واسع بن حبان سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں مسجد میں نماز پڑھ رہاتھا اور عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اپنی پست قبلے کی طرف لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔ جب میں نے اپنی نماز پوری کر لی تو اپنا پہلو بدل کر ان کی طرف منہ کر لیا تو عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : کچھ لوگ کہتے ہیں : جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو ، جو بھی ہو ، قبلے کی طرف اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھو ۔ عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : حالانکہ میں گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسو ل اللہ ﷺ کودیکھا کہ قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر بیت المقدس کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَعَبْدَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ أَبَوَاكَ وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ‏.‏
Hisham reported on the authority of his father ('Urwa b. Zubair) that A'isha said:BY Allah, both fathers of yours are amongst those who have been men. tioned in this verse:" Those who responded to the call of Allah and the Messenger after the misfortune had fallen upon thein
(ابن نمیر اور عبدہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد عروہ ) سے حدیث بیان کی کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے فر ما یا : اللہ کی قسم! تمھا رے دو والد ( والد زبیراور نانا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے ( اُحد میں ) زخم کھا لینے کے بعد ( بھی ) اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلا وے پر لبیک کہا تھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْلِي لِلظَّالِمِ فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ‏}‏
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah, the Exalted and Glorious, grants respite to the oppessor. But when He lays Hand upon him, He does not then let him off. Re (the Holy Prophet) then recited this verse:" Such is the chastisement of thy Lord when He chastises the towns (inhabited by) wrongdoing persons. Surely, His punishment is painful, severe" (xi)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دے دیتا ہے اور جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو پھر جانے نہیں دیتا ۔ " پھر آپ نے ( یہ آیت ) پڑھی : " اور جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو آپ کے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے ( کہ کوئی بچ نہیں سکتا ۔ ) بےشک اس کی گرفت سخت دردناک ہے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي، إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً ‏.‏ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏ "‏ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of al-Bara' b. 'Azib that Allah's Messenger (ﷺ) commanded a person (in these words) and there is no mention of this:" if you get up in the morning you would get up with a bliss
شعبہ نے ابواسحٰق سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا ، اسی کے مانند ، اور انہوں نے " اگر تم نے ( زندہ حالت میں ) صبح کی تو خیر حاصل کرو گے " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَفَطَّرَ رِجْلاَهُ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَقَالَ ‏ "‏ يَا عَائِشَةُ أَفَلاَ أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported that when Allah's Messenger (ﷺ) occupied himself in prayer, he observed such a (long) qiyam (posture of standing in prayer) that his feet were swollen. A'isha said:Allah's Messenger you do this (in spite of the fact) that your earlier and later sins have been pardoned for you? Thereupon, he said. A'isha should I not prove myself to be a thanksgiving servant (of Allah)?
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو ( بہت لمبا ) قیام کرتے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ایسا کرتے ہیں ۔ حالانکہ آپ کے اگلےپچھلے تمام گناہوں کی مغفرت کی ( یقین دہانی کرائی ) جاچکی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !کیا میں ( اللہ تعالیٰ کا ) شکرگزار بندہ نہ بنوں؟
وَحَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ مَطَرٍ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ خَطِيبًا فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ وَزَادَ فِيهِ ‏"‏ وَإِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَىَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لاَ يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَلاَ يَبْغِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ وَهُمْ فِيكُمْ تَبَعًا لاَ يَبْغُونَ أَهْلاً وَلاَ مَالاً ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ فَيَكُونُ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَاللَّهِ لَقَدْ أَدْرَكْتُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْعَى عَلَى الْحَىِّ مَا بِهِ إِلاَّ وَلِيدَتُهُمْ يَطَؤُهَا ‏.‏
Iyad. b. Himar reported tbat, while Allah's Messenger (ﷺ) was delivering an address, he stated that Allah commanded me The rest of the hadith is the same, and there is an addition in it:" Allah revealed to me that we should be humble amongst ourselves and none should show pride upon the others, And it does not behove one to do so, and He also said: There are among you people to follow not caring a bit for their family and property. Qatada said: Abu Abdullah, would this happen? Thereupon he said: Yes. By Allah, I found this in the days of ignorance that a person grazed the goat of a tribe and did not find anyone but their slave-girl (and he did not spare her) but committed adultery with her
مطر نے کہا : مجھے قتادہ نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو قبیلہ مجاشع سے تھے ، روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے ۔ اس کے بعد قتادہ سے ہشام کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی اور اس میں مزید یہ کہا : اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کی ہے کہ تم سب تواضع اختیار کرو حتی کہ کو ئی شخص دوسرے پر فخر نہ کرے اور کوئی شخص دوسرے پر زیادتی نہ کرے ۔ " انھوں نے اس حدیث میں کہا : وہ تم میں ( برائی کے کاموں میں دوسروں کے ) پیچھے لگنے والے ہیں والوں اور مال کے بھی متلاشی نہیں ( کہ کما کر دوسروں سے مستغنیٰ ہو جا ئیں ۔ ) تو میں ( قتادہ ) نے ( مطرف سے ) کہا : ابو عبد اللہ تو ( اب ) یہی ہوا کرے گا؟ انھوں نے کہا : ہاں ، اللہ !میں نے جاہلیت کے زمانے میں انھیں دیکھا ( ایسا ہوتا تھا ) کہ ایک شخص پورے قبیلے کی بکریاں چراتا تھا ۔ اسے ان کی ایک کنیز کے سوا کچھ نہیں ملتا تھا جس سے مجامعت کرتا تھا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ قَوْمًا وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ يَلْبَسُونَ الشَّعَرَ وَيَمْشُونَ فِي الشَّعَرِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Last Hour would not come until the Muslims fight with the Turks-a people whose faces would be like hammered shields wearing clothes of hair and walking (with shoes) of hair
سہیل کے والد ( ابو صالح ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ یہاں تک کہ مسلمان ترکوں سے جنگ کریں گے یہ ایسی قوم ہے جن کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے ۔ یہ لوگ بالوں کا لباس پہنتے ہوں گے ۔ بالوں ( کےجوتوں ) میں چلتے ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ، سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لاَ يُدْرَى مَا فَعَلَتْ وَلاَ أُرَاهَا إِلاَّ الْفَأْرَ أَلاَ تَرَوْنَهَا إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الإِبِلِ لَمْ تَشْرَبْهُ وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّاءِ شَرِبَتْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ كَعْبًا فَقَالَ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا ‏.‏ قُلْتُ أَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ قَالَ إِسْحَاقُ فِي رِوَايَتِهِ ‏"‏ لاَ نَدْرِي مَا فَعَلَتْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:A group of Bani Isra'il was lost. I do not know what happened to it, but I think (that it 'underwent a process of metamorphosis) and assumed the shape of rats. Don't you see when the milk of the camel is placed before them, these do not drink and when the milk of goat is placed before them, these do drink. Abu Huraira said: I narrated this very hadith to Ka'b and he said: Did you hear this from Allah's Messenger (ﷺ)? I (Abu Huraira) said: Yes. He said this again and again, and I said: Have I read Torah? This hadith has been transmitted on the authority of Ishaq with a slight variation of wording
اسحاق بن ابراہیم ، محمد بن مثنیٰ عنزی اور محمد بن عبداللہ رزی نے ہمیں ثقفی سے حدیث بیان کی ، الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں ۔ کہا : ہمیں عبدالوہاب نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں خالد نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بنی اسرائیل کی ایک امت گم ہوگئی تھی ، معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے اور مجھے اس کے سوا اور کوئی بات نظر نہیں آئی کہ وہ لوگ ( یہی ) چوہے ہیں ۔ ( انھوں نے مسخ ہوکریہ شکل اختیار کرلی ہے ) تم دیکھتے نہیں کہ جب ان کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تو ( بنی اسرائیل کی طرح ) وہ اس کو نہیں پیتے ۔ اگر ان کے لئے بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتے ہیں ۔ "" حضرت ابو ہریرۃ نے کہا : میں نے یہ حدیث کعب ( احبار ) کو سنائی تو انھوں نے کہا : کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناتھا؟میں نے کہا : انھوں نے باربار یہی کہا تو میں نے کہا : ( نہیں تو ) کیا میں تورات پڑھتا ہوں ( کہ وہاں سے بیان کروں گا؟ ) اسحاق نے اپنی روایت میں کہا : "" ہم نہیں جانتے ان کا کیابنا؟
وَحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتِ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ إِلَى قَوْلِهِ تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ ‏.‏
This hadith has been thus reported by another chain of transmitters:Umm Habiba b. Jahsh came to the Messenger of Allah (ﷺ) and she had been a mustahada for seven years, and the rest of the hadith was narrated like that of 'Amr b. al-Harith up to the words:" There came the redness of the blood over water." and nothing was narrated beyond it
ابراہیم ، یعنی ابن سعد نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی ، انہوں نے عمرہ بنت عبد الرحمن سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نےفرمایا : ام حبیبہ بنت جحش ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور وہ سات سال تک استحاضے کے عارضے میں مبتلا رہیں ۔ ابراہیم بن سعد کی باقی حدیث’’پانی پر خون کی سرخی غالب آ جاتی تھی ‘ ‘ تک عمرو بن حارث کی سابقہ روایت کی طرح ہے ، اس کے بعد کا حصہ انہوں نے ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ آمِينَ ‏.‏ وَالْمَلاَئِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ ‏.‏ فَوَافَقَ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When anyone amongst you utters Amin in prayer and the angels in the sky also utter Amin, and this (utterance of the one) synchronises with (that of) the other, all his previous sins are pardoned
ابو یونس ( سلیم بن جبیر ) نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی نماز میں آمین کہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہیں اور ایک آمین دوسری کے موافق ہو جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ ‘ ‘