حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ لَهُ خَمِيصَةٌ لَهَا عَلَمٌ فَكَانَ يَتَشَاغَلُ بِهَا فِي الصَّلاَةِ فَأَعْطَاهَا أَبَا جَهْمٍ وَأَخَذَ كِسَاءً لَهُ أَنْبِجَانِيًّا .
A'isha reported:The Apostle of Allah (way peace be upon him) had a garment which had designs upon it and this distracted him in prayer. He gave it to Abu Jahm and took a plain garment in its place which is known anbijaniya
(ابن شہاب زہری کے بجائے ) ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک منقش چادر تھی جس پر بیل بوٹے بنے ہوئے تھے ، نماز میں آپ کا خیال اس کی طرف چلا جاتا تھا ، آپ نے وہ ابو جہم کو دے دی اور اس کی ( بیل بوٹوں کے بغیر سادہ ) انبجانی چادر اس سے لے لی ۔ ( یہ چادر آذر بیجان کے ایک شہر انبجان کی طرف منسوب تھی ۔)
وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ . قَالَ حَمَّادٌ ثُمَّ لَقِيتُ عَمْرًا فَحَدَّثَنِي بِهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
This hadith has been narrated by Abu Huraira with another chain of transmitters. Hammad (one of the narrators) said:I then met 'Amr (the other narrator) and he narrated it to me, but it was not transmitted directly from the Messenger of Allah (ﷺ)
(روح کی بجائے ) عبدالرزاق نے خبر دی کہ ہمیں زکریا بن اسحاق نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح خبر دی ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِجَارِهِ - أَوْ قَالَ لأَخِيهِ - مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ " .
It is narrated on the authority of Anas that the Prophet (may peace blessings be upon him) observed:By Him in whose Hand is my life, no, bondsman (truly) believes till he likes for his neighbour, or he (the Holy Prophet) said: for his brother, whatever he likes for himself
حسن معلم نے قتادہ سے اور انہوں ن حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے پڑوسی کے لیے ( یا فرمایا : اپنے بھائی کے لیے ) وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، - عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ، سَالِمٍ مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى} وَ { هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ} قَالَ وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ يَقْرَأُ بِهِمَا أَيْضًا فِي الصَّلاَتَيْنِ
Nu'man b. Bashir reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite on two 'Ids and in Friday prayer:" Glorify The name of Thy Lord, the Most High" (Surah lxxxvii.), and:" Has there come to thee the news of the overwhelming event" (lxxxviii.). And when the 'Id and Jumu'a combined on a day he recited these two (surah) in both the prayers
(جریر نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت نعمان بن بشیر کے آزاد کردہ غلام حبیب بن سالم سے اور انھوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعے میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اور ) هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ پڑھتے ۔ کہا : اور اگر عید اور جمعہ ایک ہی دن اکھٹے ہوجاتے تو آپ یہی دو سورتیں دونوں نمازوں میں پڑھتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ " . وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ " . قَالَ عُمَرُ فِدًى لَكَ أَبِي وَأُمِّي مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ . وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ " .
Anas b. Malik reported:There passed a bier (being carried by people) and it was lauded in good terms. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. And there passed a bier and it was condemned in bad words. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. 'Umar said: May my father and mother be ransom for you! There passed a bier and it was praised in good terms, and you said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. And there passed a bier and it was condemned in bad words, and you said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. Upon this the Messenger of Allah (way peace be upon him) said: He whom you praised in good terms, Paradise has become certain for him, and he whom you condemned in bad words, Hell has become certain for him. You are Allah's witnesses in the earth, you are Allah's witnesses in the earth, you are Allah's witnesses in the earth
عبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی صفت بیان کی گئی اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی ، اس کے بعد ایک اور جنازہ گزرا تو اس کی بری صفت بیان کی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی اس پرحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں! ایک جنازہ گزرا اور اس کی اچھی صفت بیان کی گئی تو آپ نے فر ما یا : " واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی ۔ ایک اور جنازہ گزرا اور اس کی بری صفت بیان کی گئی تو آپ نے فر ما یا واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی " ( اس کا مطلب کیا ہے؟ ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس کی تم لو گوں نےاچھی صفت بیان کی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے بری صفت بیان کی اس کے لیے آگ واجب ہو گئی تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو ۔
وَحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ - وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَقِيءُ الأَرْضُ أَفْلاَذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الأُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَيَجِيءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ فِي هَذَا قَتَلْتُ . وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي . وَيَجِيءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ فِي هَذَا قُطِعَتْ يَدِي ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلاَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenaer (ﷺ) as saying:The earth will vomit long pieces of its liver like columns of gold and silver, and the murderer will come and say: It was for this that I committed murder. The breaker of family ties will come and say: It was for this that I broke the family ties; and the thief will come and say: It is for this that my hands were cut off. They will then leave it and will not take anything out of it
ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے اور چا ندی کے ستونوں کی صورت میں اگل دے گی تو قاتل آئے گا اور کہے گا کیا اس کی خا طر میں قتل کیا تھا ؟رشتہ داری تو ڑنے والا آکر کہے گا : کیا اس کے سبب میں نے قطع رحمی کی تھی ؟ چور آکر کہے گا : کیا اس کے سبب میرا ہا تھ کا ٹا گیا تھا ؟پھر وہ اس مال کو چھوڑ دیں گے ۔ اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدَةَ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ نَهَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ . فَقَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ . قَالَ " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
A'isha (Allah be pleased with her) said:The Apostle of Allah (ﷺ) forbade them (his Companions) to observe Saum Wisal out of mercy for them. They said: You (Holy Prophet) yourself observe it. Upon this he said: I am not like you. My Lord feeds me and provides me drink
اسحاق بن ابراہیم ، عثمان بن ابی شیبہ ، عبدہ بن سلیمان ، ہشام بن عروہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو شفقت کے طور پر وصال کے روزوں سے منع فرمایا صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ کیونکہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَمْسٌ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحَرَمِ وَالإِحْرَامِ الْفَارَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " . وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ " فِي الْحُرُمِ وَالإِحْرَامِ " .
Salim reported on the authority of his father (Allah be pleased with them) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Five are the (beasts) which if one kills them in the precincts of the Ka'ba or in the state of lhram entail no sin: rat, scorpion, crow, kite and voracious dog. In another version the words are:" as a Muhrim and in the state of lhram
زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے انھوں نے زہری سے انھوں نے سالم سے انھوں نے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" پانچ ( موذی جا نور ) ہیں جو انھیں حرم میں اور احرا م کی حالت میں مار دے اس پر کو ئی گناہ نہیں ۔ چو ہا ، بچھو ، کوا چیل اور کا ٹنے والا کتا ۔ ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں کہا : حرمت والے مقامات میں اور احرا م کی حا لت میں ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قُلْتُ لِمَالِكٍ حَدَّثَكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " . قَالَ نَعَمْ .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:A woman without a husband has more right to her person than her guardian, and a virgin's consent must be asked from her, and her silence implies her consent
سعید بن منصور اور قتیبہ بن سعید نے کہا : ہم سے امام مالک نے حدیث بیان کی ۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا : کیا آپ کو عبداللہ بن فضل نے نافع بن جبیر کے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس عورت کا شوہر نہ رہا ہو وہ اپنے ولی کی نسبت اپنے بارے میں زیادہ حق رکھتی ہے ، اور کنواری سے اس کے ( نکاح کے ) بارے میں اجازت لی جائے اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے " ؟ تو امام مالک نے جواب دیا : ہاں
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ سَوَاءً .
A hadith like this is reported by another chain of narrators
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے عمران بن ابی انس سے حدیث سنائی ، انہوں نے عمر بن حکم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے ۔ اگر اسے اس کی کوئی عادت ناپسند ہے تو دوسری پسند ہو گی ۔ " یا آپ نے غيره ( اس کے سوا کوئی اور ) فرمایا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ، بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ .
Zaid b. Thabit (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (may peace he upon him) having given concession in case of 'ariyya for selling dry dates (with) fresh dates after measuring them out
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ والے کو اجازت دی کہ وہ اسے ( اس پر موجود پھل کو ) مقدار کا اندازہ کرتے ہوئے خشک کھجور کے عوض بیچ لے
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ وَلاَ تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ " .
Rumaid reported that Anas b. Malik (Allah be pleased with him) has asked about the earnings of a cupper. Then (the above-mentioned hadith was reported but with this addition) that he said:The best treatment which you get is cupping. or aloeswood and do not torture your children by pressing their uvula
مروان فزاری نے ہمیں حمید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا ۔ ۔ ۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا ، مگر انہوں نے کہا : " بلاشبہ سب سے افضل جس کے ذریعے سے تم علاج کراؤ ، پچھنے لگوانا اور عود بحری ( کا استعمال ) ہے اور تم اپنے بچوں کو گلا دبا کر ( مَل کر ) تکلیف نہ دو ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا قَالَ " يَضْمَنُ " .
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:In case the slave is owned by two persons, and one of them emancipates him, he will guarantee (his full freedom)
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نضر بن انس سے ، انہوں نے بشیر بن نہیک سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے دو آدمیوں کے مشترکہ غلام کے بارے میں جن میں سے ایک ( اپنا حصہ ) آزاد کر دیتا ہے ، فرمایا : " وہ ( دوسرے کا ) ضامن ہے ۔ ( کہ اس کے حصے کی قیمت اسے مل جائے گی)
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ " . وَقَالَ مَرَّةً " لَقَدْ حَكَمْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ " .
Through the same chain of transmitters Shu'ba has narrated the same tradition in which he says that the Messenger of Allah (ﷺ) said (to Sa'd):You have adjudged according to the command of God. And once he said: you have adjudged by the decision of a king
عبدالرحمان بن مہدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنی حدیث میں کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔ " اور ایک بار فرمایا : " تم نے ( حقیقی ) بادشاہ ( اللہ ) کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بِوَرِكِهَا أَوْ فَخِذَيْهَا .
This hadith has been transmitted on the authority of Yahya with a slight change of wording
یحییٰ بن یحییٰ اور خالد بن حارث دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، یحییٰ کی حدیث میں : " اس کا پچھلا حصہ یا اس کی دونوں رانوں " کے الفاظ ہیں ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَرَأَى، رَجُلاً يَجُرُّ إِزَارَهُ فَجَعَلَ يَضْرِبُ الأَرْضَ بِرِجْلِهِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَحْرَيْنِ وَهُوَ يَقُولُ جَاءَ الأَمِيرُ جَاءَ الأَمِيرُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنْظُرُ إِلَى مَنْ يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .
Abu Huraire reported that he saw a person whose lower garment bad been trailin. and he was striking the ground with his foot (conceitedly). He was the Amir of Bahrain and it was being said:Here comes the Amir, here comes the Amir. He (Abu Huraira) reported that Allah's Messenger (ﷺ) said: Allah will not look toward him who trails his lower garment out of pride
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، اور انھوں نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہو ئے دیکھا اس شخص نے زمین پر پاؤں مار مار کہنا شروع کر دیا : امیر آگئے امیرآگئے ۔ وہ ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بحرین کے امیر تھے ۔ ( یہ دیکھ کر ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا " جو شخص اتراتے ہو ئے زمین پر اپنی ازار گھسیٹتا ہے اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہ فرمائے گا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ، بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، - وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ - كِلاَهُمَا عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ . وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ .
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) granted him sanction to use incantation (as a cure) for the, influence of an evil eye, the sting of the scorpion and small pustules
(سفیان اور حسن بن صالح دونوں نے عاصم انھوں نے یوسف بن عبد اللہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد زہریلے ڈنگ جلد نکلنے والے دانوں میں دم کرنے کی اجا زت دی ۔ اور سفیا ن کی روایت میں یو سف بن عبد اللہ کے بجائے ) یو سف بن عبد اللہ بن حارث ( سے مروی ) ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الإِسْلاَمِ شَيْئًا إِلاَّ أَعْطَاهُ - قَالَ - فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لاَ يَخْشَى الْفَاقَةَ .
Musa b. Anas reported on the authority of his father:It never happened that Allah's Messenger (ﷺ) was asked anything for the sake of Islam and he did not give that. There came to him a person and he gave him a large flock (of sheep and goats) and he went back to his people and said: My people, embrace Islam, for Muhammad gives so much charity as if he has no fear of want
موسیٰ بن انس نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام ( لا نے ) پر جوبھی چیز طلب کی جا تی آپ وہ عطا فر ما دیتے ، کہا : ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہاڑوں کے درمیان ( چرنے والی ) بکریاں اسے دے دیں ، وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا : میری قوم !مسلمان ہو جاؤ بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلاَتِي انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ مِنْ شِقِّي فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ نَاسٌ إِذَا قَعَدْتَ لِلْحَاجَةِ تَكُونُ لَكَ فَلاَ تَقْعُدْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَلاَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - وَلَقَدْ رَقِيتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلاً بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ .
Wasi' b. Habban reported:I was offering my prayer in the mosque and Abdullah b. Umar was sitting there reclining with his back towards the Qibla. After completing my prayer. I went to him from one side. Abdullah said: People say when you go to the latrine, you should neither turn your face towards the Qibla nor towards Bait-ul-Maqdis. 'Abdullah said (farther): I went up to the roof of the house and saw the Messenger of Allah (ﷺ) squatting on two bricks for relieving himself with his face towards Bait-al-Maqdis
محمد بن یحییٰ بن حبان اپنے چچا واسع بن حبان سے اور وہ حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نےکہا : میں اپنی بہن ( ام المومنین ) حفصہ ؓ کے گھر ( کی چھت ) پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ رسو ل اللہ ﷺ اپنی قضائے حاجت کےلیے بیٹھے تھے ، شام کی طرف رخ ، قبلے کی جانب پشت کیے ہوئے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُهَيْلِ، بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عَلَى جَبَلِ حِرَاءٍ فَتَحَرَّكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْكُنْ حِرَاءُ فَمَا عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ " . وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رضى الله عنهم .
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) was on the mountain of Hira' that it stirred; thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:Hira! be calm, for there is none upon you but a Prophet, a Siddiq, a Shahid, and there were upon it Allah's Prophet (ﷺ), Abu Bakr, 'Umar, Uthman, 'Ali, Talha, Zubair, Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased witli them)
یحییٰ بن سعید نے سہیل بن ابی صالح سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہ حراء پر تھے ۔ وہ ہلنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ٹھہرجا ، تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے سوااور کو ئی نہیں ۔ " اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور ( آپ کے ساتھ ) حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:“Rights will certainly be restored to those entitled to them on the Day of Resurrection, (to the point that) even the hornless sheep will lay claim upon the horned one.”
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن تم سب حقداروں کے حقوق ان کو ادا کرو گے ، حتی کہ اس بکری کا بدلہ بھی جس کے سینگ توڑ دیے گئے ہوں گے ، سینگوں والی بکری سے پورا پورا لیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ، عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِرَجُلٍ " يَا فُلاَنُ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ " . بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ . فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا " .
This hadith has been transmitted on the authority of al-Bara' b. 'Azib that Allah's Messenger (ﷺ) said to a person:O, so and so, as you go to your bed; the rest of the hadith is the same but with this variation of wording that he said:" Thine Apostle whom Thou sent." If you die that night you would die on Fitra and if you get up in the morning you would get up with a bliss
ابو احوص نے ابواسحٰق سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : " اے فلاں! جب تم اپنے بستر پر لیٹنے لگو ۔ ۔ ۔ " اس کے بعد عمرو بن مرہ کی حدیث کے مانند ہے ۔ ( مگر ابو احوص نے منصور کی روایت کی طرح ) یہ الفاظ کہے : " ( اور میں ایمان لایا ) تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا ، پھر اگر تم اس رات مر گئے تو ( عین ) فطرت پر مرو گے اور اگر تم نے ( زندہ حالت میں ) صبح کر لی تو خیر ( و بھلائی ) حاصل کرو گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى وَرِمَتْ قَدَمَاهُ قَالُوا قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ . قَالَ " أَفَلاَ أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
This hadith has been transmitted on the authority of Mughira b. Shu'ba and the words are:Allah's Apostle (ﷺ) kept standing in prayer (for such long hours) that his feet were swollen. They (his Companions) said: Verily, Allah has pardoned for thee the earlier and the later of thine sins. Thereupon he said: Should I not prove myself to be a grateful servant (of Allah)?
سفیان نے ہمیں زیاد بن علاقہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا ( اتنا لمبا ) قیام کیا کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے ۔ انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلےتمام گناہ معافکردیے ہیں ( پھر اس قدر مشقت کیوں؟ ) تو آپ نے فرمایا : " کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، - صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ - حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ ذَاتَ يَوْمٍ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ قَالَ يَحْيَى قَالَ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ .
This hadith has been transmitted on the authority of 'Iyad b. Himar that Allah's Messenger (ﷺ) gave an address one day. The rest of the hadith is the same
ہمیں یحییٰ بن سعید نے دستوائی ( کپڑے بیچنے ) والے ہشام سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں قتادہ نے مطرف سے اور انھوں نے حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا پھر حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں کہا : یحییٰ نے کہا : شعبہ نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے کہا : انھوں ( قتادہ ) نے کہا : میں نے اس حدیث میں ( جو بیان ہوا وہ خود ) مطرف سے سنا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ ذُلْفَ الآنُفِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Last Hour would not come until you fight with a people wearing shoes of hair and the Last Hour would not come until you fight with a people having small eyes and broad snub noses
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے اس ( کی سند ) کونبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ یہاں تک کہ تم اس قوم سے جنگ کروگے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم چھوٹی آنکھوں اور چھوٹی ناک والی قوم سے جنگ کرو گے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خُلِقَتِ الْمَلاَئِكَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ " .
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:The Angels were born out of light and the Jinns were born out of the spark of fire and Adam was born as he has been defined (in the Qur'an) for you (i. e. he is fashioned out of clay)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے اور جنوں کو آگ کے شعلے سے اورآدم علیہ السلام کو اس ( مادے ) سے پیدا کیا گیا ہے جس کو تمہارے لئے جان کیا گیا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ - خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّ هَذَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَقَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ هِنْدًا لَوْ سَمِعَتْ بِهَذِهِ الْفُتْيَا وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَتَبْكِي لأَنَّهَا كَانَتْ لاَ تُصَلِّي .
A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ) reported:Umm Habiba b. Jahsh who was the sister-in-law of the Messenger of Allah (ﷺ) and the wife of 'Abd al-Rahman b. Auf, remained mustahada for seven years, and she, therefore, asked for the verdict of Shari'ah from the Messenger of Allah (ﷺ) about it The Messenger of Allah (ﷺ) said: This is not menstruation, but (blood from) a vein: so bathe yourself and offer prayer. 'A'isha said: She took a bath in the wash-tub placed in the apartment of her sister Zainab b. Jahsh, till the redness of the blood came over the water. Ibn Shihab said: I narrated it to Abu Bakr b. 'Abd al-Rahman b. al-Harith b. Hisham about it who observed: May Allah have mercy on Hinda! would that she listened to this verdict. By Lord, she wept for not offering prayer
(لیث کے بجائے ) عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ بن زبیر اورعمرہ بنت عبدالرحمن سے ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ عائشہ ؓ سے روایت کی کہ ام حبیبہ بنت جحش رسول اللہ ﷺ کی خواہر نسبتی کو ، جو ( ام المومنین زینب بن جحش کی بہن اور ) عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں ، سات سال تک استحاضہ کا عارضہ لاحق رہا ۔ انہو ں نے ا س کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ حیض ( کا خون ) نہیں بلکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ، لہٰذا تم غسل کرو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘ عائشہ ؓ نے کہا : وہ اپنی بہن زینب بن جحش ؓ کے حجرے میں ایک بڑے تشت ( ٹب ) میں غسل کرتیں تو پانی پر خون کی سرخی غالب آ جاتی ۔ ابن شہاب نے کہا : میں یہ حدیث ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث کوسنائی تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ ہند پر رحم فرمائے! کاش وہ بھی یہ فتویٰ سن لیتیں ۔ اللہ کی قسم ! وہ اس بات پر روتی رہتی تھیں کہ استحاضے کی وجہ سے وہ نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ ابْنِ شِهَابٍ .
Abu Huraira said:I heard from the Messenger of Allah (ﷺ) the hadith like one transmitted by Malik, but he made no mention of the words of Shihab
۔ ( مالک کے بجائے ) یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ... ( آگے ) مالک کی مذکورہ بالا روایت کی طرح ہے ، البتہ یونس نے ابن شہاب کا قول بیان نہیں کیا ۔