بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
30 hadith
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ وَقَالَ ‏ "‏ شَغَلَتْنِي أَعْلاَمُ هَذِهِ فَاذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَائْتُونِي بِأَنْبِجَانِيِّهِ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported:The Apostle of Allah (ﷺ) prayed in a garment which had designs over it, so he (the Holy Prophet) said: Take it to Abu Jahm and bring me a plain blanket from him, because its designs have distracted me
سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے زہری سے ، انھوں نعروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے بیل بوٹوں والی ایک منقش چادر میں نماز پڑھی اور فرمایا : ’’ اس کے بیل بوٹوں نے مجھے مشغول کر دیا تھا ، اسے ابو جہم کے پاس لے جاؤ اور ( اس کے بدلے ) مجھے انبجانی چادر لا دو ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، يَقُولُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:When the prayer commences, there is no prayer but the obligatory one
(شعبہ کی بجائے ) شبابہ نے ورقاء سے یہی روایت اسی سند کے ساتھ بیان کی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ‏"‏ ‏.‏
It is reported on the authority of Anas b. Malik that the Messenger of Allah said:None of you is a believer until I am dearer to him than his child, his father, and the whole of mankind
قتادہ نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی شخص ( اس وقت تک ) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد ، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْجُمُعَةَ فَقَرَأَ بَعْدَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ ‏{‏ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ‏}‏ - قَالَ - فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّكَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِهِمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏.‏
Ibn Abu Rafi' said:Marwan appointed Abu Huraira as his deputy in Medina and he himself left for Mecca. Abu Huraira led us in the Jumu'a prayer and recited after Surah Jumu'a in the second rak'ah:" When the hypocrites came to thee" (Surah 63). I then met Abu Huraira as he came back and said to him: You have recited two surahs which 'Ali b. Abu Talib used to recite in Kufah. Upon this Abu Huraira said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting these two in the Friday (prayer)
سلیمان جو ہلال ( تمیمی ) کے بیٹے ہیں ، انھوں نے جعفر ( صادق ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے ابو رافع ( مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے عبیداللہ ) سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : مروان نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا اور خود مکہ چلا گیا ۔ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں جمعے کی نماز پڑھائی اور ( پہلی رکعت میں ) سورہ جمعہ پڑھنے کے بعد دوسری رکعت میں إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ پڑھی اور کہا : جب ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعے کی نماز سے فارغ ہوئے تو میں ان کے پاس جاپہنچا اور ان سے کہا : آپ نے وہ دو سورتیں پڑھی ہیں جو علی ابن طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے ۔ ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعے کے دن یہ سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، - رَضِيعِ عَائِشَةَ - عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ مِائَةً كُلُّهُمْ يَشْفَعُونَ لَهُ إِلاَّ شُفِّعُوا فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهِ شُعَيْبَ بْنَ الْحَبْحَابِ فَقَالَ حَدَّثَنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
A'isha reported Allah's Apostle (ﷺ) saying:If a company of Muslims numbering one hundred pray over a dead person, all of them interceding for him, their intercession for him will be accepted
اسلام بن ابی مطیع نے ایوب سے انھوں نے ابو قلابہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دودھ شریک بھا ئی عبداللہ بن یزید سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روا یت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" کو ئی بھی ( مسلمان ) مرنے والا جس کی نماز جناز ہ مسلمانو کی ایک جماعت جن کی تعداد سو تک پہنچی ہو ادا کرے وہ سب اس کی سفارش کریں تو اس کے بارے میں ان کی سفارش قبول کر لی جا تی ہے ۔ ( سلام نے ) کہا میں نے یہ حدیث شعیب بن حجاب کو بیان کی تو انھوں نے کہا مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَامَ أَيْضًا حَتَّى كُنَّا رَهْطًا فَلَمَّا حَسَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّا خَلْفَهُ جَعَلَ يَتَجَوَّزُ فِي الصَّلاَةِ ثُمَّ دَخَلَ رَحْلَهُ فَصَلَّى صَلاَةً لاَ يُصَلِّيهَا عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ قُلْنَا لَهُ حِينَ أَصْبَحْنَا أَفَطِنْتَ لَنَا اللَّيْلَةَ قَالَ فَقَالَ ‏"‏ نَعَمْ ذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَخَذَ يُوَاصِلُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَأَخَذَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُوَاصِلُونَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا بَالُ رِجَالٍ يُواصِلُونَ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي أَمَا وَاللَّهِ لَوْ تَمَادَّ لِيَ الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالاً يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
Anas (Allah be pleased with him) reported The Messenger of Allah (ﷺ) was observing prayer during Ramadan. I came and stood by his side. Then another man came and he stood likewise till we became a group. When the Messenger of Allah (ﷺ) perceived that we were behind him, he lightened the prayer. He then went to his abode and observed such (a long) prayer (the like of which) he never observed with us. When it was morning we said to him:Did you perceive us during the night? Upon this he said: Yes, it was this (realisation) that induced me to do that which I did. He (the narrator) said: The Messenger of Allah (ﷺ) began to observe Saum Wisal at the end of the month (of Ramadan), and some persons among his Companions began to observe this uninter- rupted fast, whereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: What about such persons who observe uninterrupted fasts? You are not like me. By Allah. if the month were lengthened for me, I would have observed Saum Wisal, so that those who act with an exaggeration would (have been obliged) to abandon their exaggeration
زہیر بن حرب ابو نضر ہاشم بن قاسم سلیمان ثابت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے تو میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو کی جانب کھڑا ہوگیا یہاں تک کہ ہماری ایک جماعت بن گئی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس فرمایاکہ میں آپ کے پیچھے ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تخفیف شروع فرمادی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہوئے ۔ آپ نے ایک ایسی نماز پڑھی جیسی نماز آپ ہمارے ساتھ نہیں پڑھتے تھے جب صبح ہوئی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا رات آپ کو ہمارا علم ہوگیا تھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اسی وجہ سے وہ کام کیا جو میں نے کیا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے روزے رکھنے شروع فرمادیئے وہ مہینہ کے آخر میں تھے آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے بھی کچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کردیئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ صوم وصال کیوں رکھ رہے ہیں؟تم لوگ میر ی طرح نہیں ہو اللہ کی قسم! اگر یہ مہینہ لمبا ہوتا تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضد چھوڑ دیتے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلِ خَمْسِ فَوَاسِقَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority Zuhri with the same chain of transmitters that she (A'isha) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) commanded to kill five harmful things in the state of lhram or otherwise. The rest of the hadith is the same
ہمیں عبد الرزاق نے خبر دی ( کہا ) ہمیں معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حل و حر م میں پانچ موذی ( جانوروں ) کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ پھر ( عبد الرزاق ) نے یزید بن زریع کے مانند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي، عُثْمَانَ ح وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، ح وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏.‏ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ وَإِسْنَادِهِ ‏.‏ وَاتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامٍ وَشَيْبَانَ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ‏.‏
This hadith has been narrated through another chain of transmitters
اس ‌سند ‌سے ‌بھی ‌مذكورہ ‌بالا ‌حدیث ‌اسی ‌طرح ‌مروی ‌ہے
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Amr reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The whole world is a provision, and the best object of benefit of the world is the pious woman
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے ، وہ تمہارے لیے کسی ایک طریقے پر ہرگز سیدھی نہیں رہ سکتی ، اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو ( اسی طرح ) فائدہ اٹھا لو گے کہ اس میں کجی رہے گی اور اگر تم اسے سیدھا کرنے چلو گے تو اسے توڑ ڈالو گے ، اور اسے توڑنا اس کی طلاق ہے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً، تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَكُونُ فِي شَرِّ بَيْتِهَا فِي أَحْلاَسِهَا - أَوْ فِي شَرِّ أَحْلاَسِهَا فِي بَيْتِهَا - حَوْلاً فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعَرَةٍ فَخَرَجَتْ أَفَلاَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏"‏ ‏.‏
Zainab bint Umm Salama (Allah be pleased with her) reported on the authority of her mother that a woman lost her husband. (As her eyes were ailing) they (her kith and kin) entertained fear about her eyes, so they came to Allah's Apostle (ﷺ) and sought permission for the use of collyrium, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:One among you used to spend one year in a dungeon dressed in worst clothes. (And at the end of this period) she threw dung at the dog which happened to pass that way and then she came out (of her 'Idda). Can't she (wait) even for four months and ten days?
معاذ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے حمید بن نافع سے اکٹھی دو حدیثیں بیان کیں ، سرمہ لگانے کے بارے میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک اور بیوی کی حدیث ، البتہ انہوں نے ان کا نام ، زینب نہیں لیا ۔ ۔ ۔ ( باقی حدیث ) محمد بن جعفر کی ( سابقہ ) حدیث کی طرح ( بیان کی)
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ وَلاَ تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ سَوَاءً ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not buy the fruit until their condition is clear, and do not buy the fresh dates. A hadith like this has been reported by Ibn 'Umar through another chain of transmitters
ابن شہاب سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" پھل ( پکنے ) کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے مت خریدو اور نہ خشک کھجور کے عوض ( درخت پر لگا ) پھل خریدو ۔ "" ابن شہاب نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ بن عمرو نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، بالکل اسی کے مانند
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ، خُصَيْفَةَ أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ وَفَدَ عَلَيْهِمْ سُفْيَانُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ الشَّنَئِيُّ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Sufyan b. Abu Zuhair al-Shana'i
اسماعیل نے ہمیں یزید بن خصفیہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے سائب بن یزید نے خبر دی کہ ان کے پاس سفیان بن ابی زہیر شنئي ( قبیلہ شنوءہ سے تعلق رکھنے والے ) آئے اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ اسی کے مانند
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ قُوِّمَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ قِيمَةَ عَدْلٍ لاَ وَكْسَ وَلاَ شَطَطَ ثُمَّ عَتَقَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ مُوسِرًا ‏"‏ ‏.‏
Salim b. 'Abdullah reported on the authority of his father that Allah's Apostle (ﷺ) said:He who emancipates a slave (shared) by him and another one, his full price may be justly assessed from his wealth, neither less nor more, and he (the slave) would be emancipated if he (the partner) would be solvent enough (to forgo the amount of his share)
عمرو نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے اپنے اور کسی دوسرے کے درمیان مشترک غلام کو آزاد کیا تو کمی بیشی کے بغیر اس کے مال میں سے ( غلام کی ) منصفانہ قیمت لگائی جائے گی ، پھر اگر وہ خوش حال ہوا تو وہ اس کے مال سے اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ح وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Zubair with the same chain of transmitters
سفیان ثوری اور معقل بن عبیداللہ دونوں نے ابوزبیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ، أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ، رَبِّ الْكَعْبَةِ الصَّائِدِيِّ قَالَ رَأَيْتُ جَمَاعَةً عِنْدَ الْكَعْبَةِ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الأَعْمَشِ ‏.‏
It has been narrated on the authority of 'Abd Rabb al-Ka'ba as-Sa'idl who said:I saw a group of people near the Ka'ba.... Then he narrated the tradition as narrated by A'mash
عامر نے عبدالرحمان بن عبد رب الکعبہ صائدی سے روایت کی ، کہا : میں نے کعبہ کے پاس ایک مجمع دیکھا ، پھر اعمش کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ جَعْفَرٍ كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ ‏.‏
This hadith is narrated on the authority of Abu Ya'fur with the same chain of transmitters, and he mentioned seven expeditions
شعبہ نے ابو یعفور سے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی اور انھوں نے " سات غزوات " کہا ۔
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ، عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ النَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ ‏.‏
It is reported on the authority of Jabir and Ibn Umar that Allah's Messenger (ﷺ) forbade (the preparation) of Nabidh in hollow stump and varnished jar and gourd
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَأَلْفَاظُهُمْ، مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، يَقُولُ أَمَرْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَسَارٍ مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ أَنْ يَسْأَلَ ابْنَ عُمَرَ، - قَالَ - وَأَنَا جَالِسٌ، بَيْنَهُمَا أَسَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ شَيْئًا قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Muhammad b. 'Abbad b. Ja'far reported:I ordered Muslim b. Yasar, the freed slave of Nafi' b. 'Abd al-Harith, while I was sitting between them, that he should ask Ibn 'Umar if he had heard anything from Allah's Messenger (ﷺ) pertaining to one who trails his lower garment out of pride. He said: I heard him (the Holy Prophet) as saying: Allah will not look toward him on the Day of Resurrection
ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے محمد بن عباد بن جعفر سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے نافع بن عبد الحارث کے غلام مسلم بن یسار سے کہا کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کریں کہا : اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا تھا ( انھوں نے سوال کیا : ) کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کو ئی بات سنی جو تکبر سے اپنی ازارگھیسٹتا ہے؟ انھوں نے کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا تھا : " قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں فر ما ئے گا
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، شَدَّادٍ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنِي أَنْ أَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ ‏.‏
A'isha reported:Allah's Messenger (may peace he upon him) commanded me that I should make use of incantation for curing the influence of an evil eye
سفیان نے معبد بن خالد سے ، انھوں نے عبد اللہ بن شداد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تھے کہ وہ نظر بد سے دم کرالوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لاَ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported:It never happened that Allah's Messenger (ﷺ) was asked for anything and he said: No
ابو بکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن منکدر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کو ئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے فرما یا ہو ۔ نہیں ،
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قُلْتُ لِسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ سَمِعْتَ الزُّهْرِيَّ، يَذْكُرُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلاَ تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلاَ تَسْتَدْبِرُوهَا بِبَوْلٍ وَلاَ غَائِطٍ وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
Abu Ayyub reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said: Whenever you go to the desert, neither turn your face nor turn your back towards the Qibla while answering the call of nature, but face towards the east or the west. Abu Ayyub said: When we came to Syria we found that the latrines already built there were facing towards the Qibla. We turned our faces away from them and begged forgiveness of the Lord. He said: Yes
زہیر بن حرب اور ابن نمیر دونوں نے کہا ، ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی ، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی ( الفاظ انہی کے ہیں ) کہا : میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا : کیا آپ نے زہری سے سنا کہ انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے حضرت ابوایوب سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم قضائے حاجت کی جگہ پر آؤ تو نہ قبلے کی طرف منہ کرو اور نہ اس کی طرف پشت کرو ، پیشاب کرنا ہو یا پاخانہ ، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا کرو ۔ ‘ ‘ ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ہم شام گئے تو ہم نے بیت الخلا قبلہ رخ بنے ہوئے پائے ، ہم اس سے رخ بدلتے اور اللہ سے معافی طلب کرتے تھے ؟ ( سفیان نے ) کہا : ہاں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الأُطُمِ الَّذِي فِيهِ النِّسْوَةُ يَعْنِي نِسْوَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ فِي هَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُرْوَةَ فِي الْحَدِيثِ وَلَكِنْ أَدْرَجَ الْقِصَّةَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ‏.‏
Abdullah b. Zubair reported:When it was the Day of the Battle of the Ditch I and 'Umar b. Salama were in the fort in which there were women, i. e. the wives of Allah's Apostle (ﷺ) ; the rest of the hadith is the same
ابو اسامہ نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قلعے میں تھے جس میں عورتیں یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تھیں اس کے بعد ابن مسہر کی اسی سند کے ساتھ روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث ( کی سند ) میں عبد اللہ بن عروہ کا ذکر نہیں کیا لیکن ( ان کا بیان کیا ہوا سارا ) قصہ اس روایت میں شامل کردیا جو ہشام نے اپنے والد سے اور انھوں نے ( عبد اللہ ) ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Salim reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) said:A Muslim is the brother of a fellow-Muslim. He should neither commit oppression upon him nor ruin him, and he who meets the need of a brot'ier, Allah would meet big needs, and he who relieved a Muslim from hardship Allah would relieve him from the hardships to which he would be put on the Day of Resurrection, and he who did not expose (the follies of a Muslim) Allah would conceal his follies on the Day of Resurrection
سالم نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرتا ہے ، نہ اسے ( ظالموں کے ) سپرد کرتا ہے ۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے ۔ جو کسی مسلمان سے اس کی ایک تکلیف دور کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف دور کرتا ہے ۔ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس ( کے عیبوں ) کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ - قَالَ سَمِعْتُ حُصَيْنًا، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ مَنْصُورًا أَتَمُّ حَدِيثًا وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُصَيْنٍ ‏ "‏ وَإِنْ أَصْبَحَ أَصَابَ خَيْرًا ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of al-Bara' b. 'Azib with a slight variation of wording and there is this addition in the hadith transmitted on the authority of Husain:" In case you get up in the morning, you will get up with bliss
حُصین بن سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ، مگر منصور نے زیادہ مکمل حدیث بیان کی اور حصین کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : " اگر یہ ( کہنے والا ) صبح کرے گا تو خیر حاصل کرے گا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، بْنُ الْمُطَّلِبِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏ "‏ وَأَبْشِرُوا ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Musa b. `Uqba with the same chain of transmitters and he did not make a mention of:"Be happy
عبد العزیز بن مطلب نے ہمیں موسیٰ بن عقبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور " خوش خبری ( کی امید ) رکھو " ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي غَسَّانَ وَابْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ ‏"‏ أَلاَ إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلاَلٌ وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا وَإِنَّ اللَّهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلاَّ بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَقَالَ إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لاَ يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُرَيْشًا فَقُلْتُ رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً قَالَ اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ وَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْكَ وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً مِثْلَهُ وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ ‏.‏ قَالَ وَأَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلاَثَةٌ ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ - قَالَ - وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ الضَّعِيفُ الَّذِي لاَ زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعًا لاَ يَتْبَعُونَ أَهْلاً وَلاَ مَالاً وَالْخَائِنُ الَّذِي لاَ يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إِلاَّ خَانَهُ وَرَجُلٌ لاَ يُصْبِحُ وَلاَ يُمْسِي إِلاَّ وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ ‏"‏ ‏.‏ وَذَكَرَ الْبُخْلَ أَوِ الْكَذِبَ ‏"‏ وَالشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو غَسَّانَ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏
Iyad b. Him-ar reported that Allah's Messenger (ﷺ), while delivering a sermon one day, said:Behold, my Lord commanded me that I should teach you which you do not know and which He has taught me today. (He has instructed thus): The property which I have conferred upon them is lawful for them. I have created My servants as one having a natural inclination to the worship of Allah but it is Satan who turns them away from the right religion and he makes unlawful what has been declared lawful for them and he commands them to ascribe partnership with Me, although he has no justification for that. And verily, Allah looked towards the people of the world and He showed hatred for the Arabs and the non-Arabs, but with the exception of some remnants from the People of the Book. And He (further) said: I have sent thee (the Holy Prophet) in order to put you to test and put (those to test) through you. And I sent the Book to you which cannot be washed away by water, so that you may recite it while in the state of wakefulness or sleep. Verily, Allah commanded me to burn (kill) the Quraish. I said: My Lord, they would break my head (like the tearing) of bread, and Allah said: You turn them out as they turned you out, you fight against them and We shall help you in this, you should spend and you would be conferred upon. You send an army and I would send an army five times greater than that. Fight against those who disobey you along with those who obey you. The inmates of Paradise are three: One who wields authority and is just and fair, one who Is truthful and has been endowed with power to do good deeds. And the person who is merciful and kind hearted towards his relatives and to every pious Muslim, and one who does not stretch his hand in spite of having a large family to support. And He said: The inmates of Hell are five: the weak who lack power to (avoid evil), the (carefree) who pursue (everything irrespective of the fact that it is good or evil) and who do not have any care for their family or for their wealth. And those dishonest whose greed cannot be concealed even in the case of minor things. And the third. who betray you. morning and evening, in regard to your family and your property. He also made a mention of the miser and the liar and those who are in the habit of abusing people and using obscene and foul language. Abu Ghassan in his narration did not make mention of" Spend and there would be spent for you
ابو غسان مسمعی محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار بن عثمان نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ ابو غسان اور ابن مثنیٰ کے ہیں دونوں نے کہا : معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث بیان کی انھوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیرسے اور انھوں نے حضرت عیاض بن حمادمجاشعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا : " سنو!میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمھیں ان باتوں کی تعلیم دوں جو تمھیں معلوم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے آج مجھے ان کا علم عطا کیا ہے ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ) ہر مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ( اس کی قسمت میں لکھا ) حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو ( حق کے لیے ) یکسو پیدا کیا پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انھیں ان کے دین سے دور کھینچ لیا اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا انھوں نے اسے ان کے لیے حرام کر دیا اور ان ( بندوں ) کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ شرک کریں جس کے لیے میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تھی ۔ اور اللہ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو اہل کتاب کے ( کچھ ) بچے کھچے لوگوں کے سوا باقی عرب اور عجم سب پر سخت ناراض ہوا اور ( مجھ سے ) فرمایا : میں نے آپ کو اس لیے مبعوث کیا کہ میں آپ کی اور آپ کے ذریعے سے دوسروں کی آزمائش کروں اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی دھو ( کر مٹا ) نہیں سکتا ، آپ سوتے ہوئے بھی اس کی تلاوت کریں گے اور جاگتے ہوئے بھی اور اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش کو ( ان کے معبودوں اور ان آباء واجداد کے شرک اور گناہوں پر عار دلاتے ہوئے انھیں ) جلاؤں میں نے کہا : میرے رب وہ میرے سر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے روٹی کی طرح کر دیں گے ۔ تو ( اللہ نے ) فرمایا : آپ انھیں باہر نکالیں جس طرح انھوں نے آپ کو باہر نکالا اور ان سے لڑائی کریں ہم آپ کو لڑوائیں گےاور ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کریں آپ پر خرچ کیا جائے گا اور آپ لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکربھیجیں گے اور جو لوگ آپ کے فرماں بردار ہیں ان کے ذریعے سے نافرمانوں کے خلاف جنگ کریں ۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : اہل جنت تین ( طرح کے لوگ ) ہیں ایسا سلطنت والا جو عادل ہے صدقہ کرنے والا ہے اسے اچھائی کی توفیق دی گئی ہے ۔ اور ایسا مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دل ہے اور وہ عفت شعار ( برائیوں سے بچ کر چلنے والا ) جو عیال دارہے ، ( پھر بھی ) سوال سے بچتاہے ۔ فرمایا : " اور اہل جہنم پانچ ( طرح کے لوگ ) ہیں وہ کمزور جس کے پاس ( برائی سے ) روکنے والی ( عقل عفت ، حیا ، غیرت ) کوئی چیز نہیں جوتم میں سے ( برے کاموں میں دوسروں کے ) پیچھے لگنے والے لوگ ہیں ( حتیٰ کہ ) گھر والوں اور مال کے پیچھے بھی نہیں جاتے ( ان کی بھی پروا نہیں کرتے ) اور ایسا خائن جس کا کو ئی بھی مفاد چاہے بہت معمولی ہو ۔ ( دوسروں کی نظروں سے ) اوجھل ہوتا ہےتووہ اس میں ( ضرور ) خیانت کرتاہے ۔ اور ایسا شخص جو صبح شام تمھارے اہل وعیال اور مال کے بارے میں تمھیں دھوکادیتا ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل یا جھوٹ کا بھی ذکر فرمایا ۔ " اور بدطینت بد خلق ۔ " اور ابو غسان نے اپنی حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا : " آپ خرچ کریں تو عنقریب آپ پر خرچ کیا جا ئے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Last Hour would not come unless you fight with people whose faces are like hammered shields and the Last Hour would not come until you would fight against those wearing the shoes of hair
سفیان نے زہری سے ، انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے اور انھوں نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کروگے ۔ جن کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہو ں گے ۔ اور قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے جنگ کروگے جن کے جوتے بالوں ( اون ) کے ہوں گے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ ‏"‏ ‏.‏
The son of Abu Said al-Khudri reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) said. When one of you yawns while engaged in prayer, he should try to restrain so far as it lies in his power, since it is the Satan that enter therein
سفیان نے سہیل بن ابی صالح سے انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی شخص کو نماز میں جمائی آئے تو وہ جتنا اس کے بس میں ہواس کو روکے کیونکہ شیطان اندر داخل ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ وَإِسْنَادِهِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ عَنْ جَرِيرٍ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَسَدٍ وَهِيَ امْرَأَةٌ مِنَّا ‏.‏ قَالَ وَفِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ زِيَادَةُ حَرْفٍ تَرَكْنَا ذِكْرَهُ ‏.‏
The hadith narrated by Waki' and with its chain of narrators has been transmitted on the authority of Hisham b. 'Urwa, but in the hadith narrated by Qutaiba on the authority of Jarir, the words are:" There came Fatimah b. Abu Hubaish, b. 'Abd al-Muttalib b. Asad, and she was a woman amongst us," and in the hadith of Hammid b. Zaid there is an addition of these words:" We abandoned mentioning him
ہشام نے عروہ کے ( شاگرد وکیع کے بجائے ) دوسرے شاگرد وں ابو معاویہ ، جریر ، نمیر اور حماد بن زید کی سندوں سے بھی جو وکیع کی حدیث کی طرح اسی سندسے مروی ہے ، البتہ قتیبہ سے جریر کی روایت کے الفاظ یوں ہیں : فاطمہ بنت ابی حبیش بن عبدالمطلب بن اسد آئیں جو ہمارے خاندان کی ایک خاتون ہیں ۔ امام مسلم نے کہا : حماد بن زید کی حدیث میں ایک حرف زائد ہے جسے ہم نے ذکر نہیں کیا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ سُمَىٍّ ‏.‏
A hadith like this is narrated by Abu Huraira by another chain of transmitters
۔ سہیل نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے ( مذکورہ بالا راوی ) سمی کی حدیث کے مانند روایت کی ۔